زمرہ جات کے محفوظات: نینا عادل

وقت کے پاس گروی رکھی آنکھ سے

وقت کے پاس گروی رکھی آنکھ سے

آئینہ دیکھ کر کو ن مسرور ہو!

کون متروک لفظوں سے نظمیں لکھے

کون حرفِ ستائش پہ ممنون ہو

ہو تفکر کہاں کس جگہ خیمہ زن؟

جب تنابیں زمیں کی ہیں اکھڑی ہوئی

کیسے شبدوں میں سمٹے خلاوں کا غم

رات اور دن کے بوسیدہ زندان میں

کون بجھتے ستاروں سے محظوظ ہو

کیوں تخیل کی بازی گری میں رہیں

میرا امکان بن کر مری بے بسی

شام بے گھر ہے اور بادلوں کا فضا میں ٹھکانہ نہیں

نقش بر آب ہے موج انفاس کی

ایک بیتے ہوئے خواب کے سائے میں

جھیلتی ہے مجھے میری موجودگی

نینا عادل

ہمیں اب کوچ کرنا ہے

شفق پھوٹی چھلکتے سات رنگوں سے کٹورا بھر گیا دن کا

زمیں مٹیالے ہاتھوں کی حرارت تاپنے جاگی

مرے بچے! ہمیں اب لوٹنا ہو گا

گھنے پیڑوں کے سائے میں

جہاں بھیڑوں کے ریوڑ کو قناعت چست رکھتی ہے

جہاں مچھلی بھی کائی بھوک سے زیادہ نہیں کھاتی

گلہری کے لیے اخروٹ کا چھلکا بھی کافی ہے

درختوں پر جہاں پنچھی بسیرا کرتے ہیں، قبضہ نہیں کرتے

جہاں ہے بر لبِ موجِ ہوا اک لحنِ آزادی

متاعِ روحِ آزادی

نشاطِ اصلِ آزادی

جہاں پھولوں کو بے پردا بھی کھلنے کی ہے آزادی

ہمیں ان سبزہ زاروں کی طرف اب کوچ کرنا ہے

مرے بچے! جہاں ہم آن نکلے ہیں یہ منڈی تاجروں کی ہے

یہاں چہکار چڑیوں کی، چمکتے تتلیوں کے پر کوئی قیمت نہیں رکھتے

سمندر کا کنارہ، سیپیاں، دم توڑتی لہریں

بھگوتی ہی نہیں پلکیں!

منافع پر نظر رکھتی ہیں کاروبار کی آنکھیں

دھڑکتے پانیوں کی لَے نہیں سنتے ہیں بیوپاری

یہاں تہذیب کی، تاریخ کی اور تخت کی قیمت

فقط اک کھوٹا سکہ ہے

یہاں انسان کیا شئے ہے خدا بے مول بکتا ہے

تو اس سے پیشتر سودا ہمارا طے کیا جائے

ہمارا کل اثاثہ کوڑیوں کے دام بک جائے

ہمیں اب کوچ کرنا ہے!!

نینا عادل

نطشے کا مغرب جانتا ہے

شام ڈھلے جن آ جاتے ہیں ایک کنواری لڑکی پر

پھر تنگ نائے میں دیر تلک لوبان کی خوشبو اٹھتی ہے

درگاہوں کی قبروں سے اٹھتا ہے اگر بتّی کا دھواں

سلگے ہوئے سگریٹ بجھتے ہیں جلتے ہوئے ذہنوں کے اندر

چشمہ رکھا ہے سستا سا کچھ جنسی کتابوں کے اوپر

نالی کے گندے پانی پر منڈلاتے رہتے ہیں مچھر

اور چونٹیاں چنگیری کی باسی روٹی پر اک لائن میں

طاقت سے زیادہ بوجھ اٹھائے سیدھ میں چلتی جاتی ہیں

ساڑھی کے میلے پلّو سے ناداری کی بو اٹھتی ہے

آنکھوں کے گدلے گنگا میں اک آس کا دیپک جلتا ہے

اور خوف کی بے رنگ چابی سے معبد کا تالا کھلتا ہے

نطشے کا مغرب جانتا ہے

[دھن کن فقراء میں بٹتا ہے]

مشرق کا خدا کیوں زندہ ہے

نینا عادل

میں تیری نظم نہیں ہوں

گماں نہ کر!

کہ تو مجھے مصرعوں میں ڈھال سکتا ہے

مجھ میں پھیلے ہوئے صحرا کی ریت سمیٹ سکتا ہے

یا مر ی آنکھ کے دریا کو لفظ کے کوزے میں قید کر سکتا ہے

تو چاہے عمر بھرمرے رنگ چن چن کر من پسند تصاویر بناتا رہے

اور اپنے ادھ کچرا خیالات کی داد پاتا رہے

مگر اے کم ہنر! میری تصویر کے بے شمار رنگ ترے تصّور سے ماورا ہیں

مجھے افسوس نہیں! کہ تو اپنے بھائی کی طرح جنگِ عظیم دوم میں دشمن کے کام نہ آسکا

تری دانشوری پلاسی کی شرمناک شکست میں دشمنوں کو نیست ونابود کر دینے کا کوئی اعلی منصوبہ بنانے سے قاصر رہی

اور تری نام نہاد فیاضی بوسنیا کے بدترین قحط میں دم توڑ گئی

مجھے قطعاً افسوس نہیں کہ تری دولت تری احتیاجات کی تشفی کر سکی نہ تری سیاست انسانی اغراض کی تسکین کا ذریعہ بن

سکی

نہ تیرا خدا تجھے امان دے سکا

اور نہ ہی تری محبت ترے ادھورے پن کی تکمیل کر سکی

میں

ازل سے تیری ادھ کچرا نظمیں سننے کی عادی ہوں

یہ جانتے ہوئے بھی کہ تو مجھ سے اپنی ناتمامی کا انتقام نہیں لے سکتا

اور تا ابد مجھے نظم نہیں کر سکتا

نینا عادل

میں ایک مہاجر کی بیٹی ہوں

میں ایک مہاجر کی بیٹی ہوں

میرے ابو جب کام پر جاتے

تو ان کے واپس لوٹ آنے تک

صحن میں دھول اڑاتی مٹی سانسوں میں خدشے بھرتی تھی

امی خود بھی چپ چپ رہتیں، ہم بھی شور نا کرنے پاتے

گھر کی دیواروں پر لکھی خوف کی بھاشا پڑھ سکتی تھی

میں ایک مہاجر کی بیٹی ۔۔۔

پانچ نمبر کی پھولوں والی ایک گلی میں

کالج کے اک اسٹوڈنٹ کی لاش پڑی ہے! دہشت گرد ہے

میرے سہیلی کے ہاتھوں میں اس کا خط ہے، جس پہ لکھا ہے!

’’زندہ رہا تو عشق کروں گا‘‘

بیچ صدر میں ۔۔۔ بندوقوں کی تڑ تڑ تڑ میں

میں کالج کے ڈیسک کے اوپر کھرچ کھرچ کر لکھ آئی تھی

میں ایک مہاجر کی بیٹی ہوں ۔

میرے دادا دکن سے اخبار، کتابیں اور مصلّہ لائے تھے

اور میری دادی! ساڑھی، خاموشی اور آنسو ۔۔۔

ان کے چہرے کی جھریوں میں جذب اداسی اور ہجرت

میں اپنی ہری رگوں میں، شریانوں میں اور جسم کے ہر خلیے میں سمو چکی ہوں

میں نے کراچی کی گلیوں سے عشق کیا ہے

مجھ میں میرا کل زندہ ہے، مجھ میں میرا ٓج بپا ہے

میں ایک مہاجر کی بیٹی ہوں اورمیرے بچوں کا ورثہ ہے

جنگ بقا کی ۔۔۔

نینا عادل

محبت میں

محبت میں عبادت کا ایک وقت مقرر ہے

کسی مجذوب لمحے میں آنسووں سے بے ارادہ غسل کرنے کا

کسی نام کی تسبیح ہزاروں بار پڑھنے کا

سپردگی کا، بھینٹ چڑھنے کا

خود اپنے ہاتھ سے اپنے لہو کو سرد کرنے کا

کسی بجھتی ہوئی رنجور شب میں

دیے کی آتشیں لو کے بھڑکنے کا

تڑپنے کا

روح کے گمنام پنچھی کا بدن کی بدنما، بے دام نجاست سے نکلنے کا

محبت میں طہارت کا!!

ایک وقت مقرر ہے

اور یہ وقت ہے جب شیطانیت اپنی بقا کے واسطے ہزاروں داؤ چلتی ہے

وہ سارے داؤ! جن کے سبب ایک بارگاہِ دل مقتل میں بدل جائے

طلب کی دہلیز پر رکھے مہکتے سرخ پھولوں سے لہو کی تیز بُو آئے

نینا عادل

مال روڈ سے گزرتے ہوئے اک نظم

اس رستے پر دو جسموں کا اک سایہ تھا!

اور دو روحوں کا اک مسلک!

گونج رہا تھا اس رستے پر حرف کا پہلا سنّاٹا

دھڑکن کی تسبیح مسلسل اسم انوکھے پڑھتی تھی

رسوائی کی شوخ ہوائیں بے باکی سے رقصاں تھیں

اس رستے پر گہرے بادل دھوپ کرن سے لڑتے تھے

خواب کے پنچھی انجانی سمتوں میں اڑانیں بھرتے تھے!

پھولوں نے خوشبوکا منتر پھونک دیا تھا سینوں پر!

اس رستے پر تم تھے (شاید خود سے ناواقف)

اس رستے پر میں تھی! اور میں تم میں شامل تھی

زادِ سفر میں ایک تھکن تھی، ایک دکھن اور ایک یقیں!!

ہر قلب سرائے ہوتا ہے اور نے ہی گزر گہہ ہر رستہ

کچھ رستوں سے لوٹ بھی جائیں، دور نہیں جا سکتے ہم

کچھ منظر بن جاتے ہیں نادیدہ حصہ آنکھوں کا

کچھ لمحوں کی قید ہمیشہ دل کو کاٹنی پڑتی ہے

نینا عادل

کھیل جاری رہے

بے جھجک، بے خطر

بے دھڑک وار کر

میری گردن اُڑا

اور خوں سے مرے کامیابی کے اپنی نئے جام بھر

چھین لے حسن و خوبی، انا، دلکشی

میرے لفظوں میں لپٹا ہوا مال وزر

میری پوروں سے بہتی ہوئی روشنی

میرے ماتھے پہ لکھے ہوئے سب ہنر

تجھ سے شکوہ نہیں

اے عدو میرے میں تیری ہمدرد ہوں

تیری بے چہرگی مجھ کو بھاتی نہیں

تجھ سے کیسے کہوں!!

تجھ سے کیسے کہوں! قتل کرنا مجھے تیرے بس میں نہیں

(اور ہو بھی اگر، تیری کم مائیگی کا مداوا نہیں )

ہاں مگر تیری دل جوئی کے واسطے

میری گردن پہ یوں تیرا خنجر رہے

(تیری دانست میں )

کھیل جاری رہے

نینا عادل

قبر

شہزادہ لپٹتا ہے مجھ سے اور

دور کہیں

چڑیا کو سانپ نگلتا ہے

سانسوں میں گھلتی ہیں سانسیں

اور زہر اترتا جاتا ہے

لمحات کے نیلے قطروں میں

کانوں میں مرے رس گھولتا ہے شبدوں کا ملن اور ۔۔۔ من بھیتر

اک چیخ سنائی دیتی ہے

جلتی پوروں میں کانپتی ہے

بے مایہ لمس کی خاموشی

اس کے ہاتھوں سے لکھتی ہوں میں عشق بدن کی مٹی پر

اس کی آنکھوں کے گورستاں میں دیکھتی ہوں اک قبر نئی

اور شہزادے کے سینے پر سر رکھ کر سو جاتی ہوں

نینا عادل

فسونِ خواب

بہ رنگ کیف و سرشاری حدیثِ دل کہو ہمدم!

ہمہ تن گوش ہے ساعت

شرابِ شب اترتی ہے بہت آہستہ آہستہ

سفالِ خواب میں مدھم

تمھیں اس پل اجازت ہے

کہو! یوں خلوتِ جاں میں بلوریں چوڑیاں چھن چھن چھنکتی شور کرتی ہیں

مرا دل ڈول جاتا ہے

وفورِ حسن میں لپٹی تمھاری عنبریں زلفیں ۔۔۔

دھڑکنا بھول جاتا ہے

کہو! کاجل سیہ کاجل دھنک رنگوں کا میلہ ہے

کہو! پوریں خیالوں کی سنہری جلد میں جلتے دیوں پر رقص کرتی ہیں

صراحی دار گردن پر دمکتی نقرئی مالا ۔۔۔ تمھارے کان کی بالی ۔۔۔ یہ جادوگر!

یہ عشوہ گر

طلب کی بے زبانی کو عطا کرتے ہیں گویائی

تمھیں اس پل اجازت ہے

کہو یوں بھید کے جیسے سرکتا رات کا آنچل ہوا میں سرسراتا ہے

ستارا شوق کا میری نظر میں جھلملاتا ہے

کہو! کہ موسمِ گل ہے، گلابوں کی قطاروں میں دمکتے شبنمی لمحے

تمھارے لمس کے پیاسے

بہر موجِ نفس ٹھہرا سکوتِ شوق کاموسم تمھیں آواز دیتا ہے

تمنا گیت کی صورت لبوں پر گنگناتی ہے

محبت بے محابا ایک لمحے کو ترستی ہے

تمنا بے خبر! غافل ۔۔۔

فسونِ خواب کی مدّت بہت تھوڑی بہت کم ہے

نینا عادل

عشق

ہوا ہو ایملی تم اور!

ہواؤں کو تو ساری داستاں معلوم ہوتی ہے

وہ مٹی خاص ہوتی ہے کہ جس پہ عشق کی بارش برستی ۔۔۔

جذب ہوتی ہے

جہاں بے داغ سبزہ پھوٹتا ہے نرم،

پاکیزہ

جہاں پرآرزو کی باوضو کلیاں چٹکتی ہیں

ہوا تو چھو کے خوشبو کا بدن محسوس کرتی ہے

ہوا کا لمس تو گم گشتہ جوہر ڈھونڈ لیتا ہے

مقدّس عشق کی مٹی! ستودہ اور

خوابیدہ

کسی کا رنگ جب اپنی تہوں میں گھول لیتی ہے

چھڑایا جا نہیں سکتا، مٹایا جا نہیں جا سکتا

ہوا ہو جانتی ہو تم یہ ساری رنگ آمیزی

یہ مٹی اک دفعہ منسوب ہو جائے کسی سے گر

تو بیچی جا نہیں سکتی، خریدی جا نہیں سکتی

حضورِ عشق میں رکھ کر قدم دل سیکھ لیتا ہے

سرِ تسلیم خم کرنا

یہاں اک پل کی غفلت، اک ذرا سی جنبشِ ابرو

زمینوں آسمانوں میں دراڑیں ڈال دیتی ہے

غرض کا بیج اس مٹی میں بویا جا نہیں سکتا

ہوا ہو جانتی ہومیری فطرت

بھید میرے تم

نینا عادل

شہد ہے وقت کے نقرئی جار میں ۔۔۔ گیت

شہد ہے وقت کے نقرئی جار میں

ذائقے دار ہے رات کی امرِتی

فصل گندم کی تیار ہے!

بھوک ہے

من کی وحشی دِواروں سے چمٹی ہوئی زرد رُو اشتہا!

سبز ہونے کو بے تاب ہے بے طرح

سر پٹکتی ہے سانسوں میں پیاسی ہوا

آؤ نا، آؤ نا

آؤ نا ۔۔۔ ۔

لاؤ نانِ جویں خلوتِ خاص میں

خواب کی سرخ مئے اور چھلکاؤ نا!

آؤ نا

آس کے باغ میں ناچتا ہے مگن مور آواز کا

دھن دھنا دھن دھنا، دھن دھنا دھن دھنا

آؤ نا، آؤ نا

کتنی منہ زور ہے چاہ تکمیل کی

چاٹتی ہے لہو بے طر ح تشنگی

اس دھندلکے میں لپٹا ہوا اک یقیں!

اک گماں!!

نظم ہو؟ گیت ہو؟ جوئے تخلیق ہو؟

تلخ لذّت میں ڈوبا ہوا حرف ہو؟

جو بھی ہو!!

پاٹنا ہے تمھیں ایک اندھا خلا

آؤ نا ۔۔۔ ۔

آؤ نا ۔۔۔ ۔

نینا عادل

سکھی پی رین گھر آئے ۔۔۔ ۔۔۔ ۔ گیت

سکھی نرجل گھمس انگنا گھٹا برسی، سمے بدلا

سکھی من کے اندھیروں میں جلے دیپک، بدن اجلا

نہ پگھلا جھمکے بالی کا، مہادھن رات کا پگھلا

لگی مہندی، چڑھے کنگن، بندھی جھانجر، کھُلا جوڑا

سَرَت اگنی میں جل اٹّھے ملن کی، دو برن سائے

سکھی پی رین گھر آئے

سکھی آکار پیتم کا! ہو جیوں اوتار پربھو کا!

دھلے سب پاپ سیوک کے، موہے مکتی ملی دیوا

جپوں نس دن، بنی داسی، شری کے نام کی مالا

کرے کاہے سلونی اور کسی کرتار کی سیوا

وہی اک دیوتا ساگر میں نیّا پار لنگھائے

سکھی پی رین گھر آئے

سکھی ری پیاسے ہونٹوں کو لگا امرت بھرا پیالہ

پیا کے نمر ہاتھوں نے موہے بانہوں میں یوں جکڑا

کبھی چٹکی بھری گالھو، کبھی پلّو مورا کھینچا

لکھی سنگت کے شبدوں سے سجل سنجوگ کی بپتا

کہاں توڑے سے ٹوٹے جب لگن کی گانٹھ پڑ جائے

سکھی پی رین گھر آئے

سکھی پی رین گھر آئے ۔۔۔ ۔۔

نینا عادل

رت جگے کے اداس منظر میں

رت جگے کے اداس منظر میں

اُس کی خوشبو ہے اس کی آہٹ ہے

اُس کے انفاس کی تھکاوٹ ہے

خواب کے قفل کھولتی ہوں میں

اس کی آواز اوڑھتی ہوں میں

کیسی بے خود ہیں ساعتیں توبہ!

اُس کے لہجے کی لکنتیں توبہ!!

میری بالی سے کھیلتا ہے وہ

میرا تعویز کھینچتا ہے وہ

بے ادب شوق کے اجالے میں

دور تک بس میرے تصور میں

اُس کا سایہ ہے، اس کی باتیں ہیں

اُس کی دھڑکن ہے، اُس کی سانسیں ہیں

کیوں مگر خواب کے دھندلکے میں

اُس کی صورت نظر نہیں آتی

میری بے تاب دھڑکنیں اس کو

چھونا چاہیں تو چھو نہیں پاتیں ۔۔۔

نینا عادل

ڈر

کیسے نکلے گا جیتے جی دل سے ڈر کا کانٹا صاحب

کب خوف کی وحشی گلیوں میں بھٹکی ہوئی ساعت لوٹے گی؟

کب اندیشوں کے سانپ میرے پیڑوں سے لپٹنا چھوڑیں گے؟

سہمے ہوئے شبدوں کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھی ہوں

کیسے بتلاؤں کیوں مجھ کو دن کے زہریلے ہاتھوں سے!

شاموں کے سرخ آسیبوں سے، راتوں کی بے دل آنکھوں سے!

اور آس کے آٹھوں پہروں سے!

ڈر لگتا ہے

خوابوں کے رن میں پڑے ہوئے خواہش کے ادھورے جسموں سے

اور مان کی روح میں گڑے ہوئے تر پنجوں سے

جانی پہچانی آنکھوں میں پنہاں انجانی وحشت سے

رشتوں کے مذبح خانوں سے

بندھن کے زندہ لاشوں سے

ڈر لگتا ہے

اس جسم کی دیواروں میں ہے ڈر کا خستہ گارا صاحب

شیشے میں رقصاں سایوں سے، سانسوں اور آوازوں سے

پل پل میں بدلتے رنگوں سے! ڈر لگتا ہے

۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ نیلی پڑ جاتی ہوں صاحب

چہرے کی پیلی رنگت کو کب تک میں چھپاؤں غازے میں؟

نینا عادل

دھروٹ

ایک پرانے بکسے میں

بوسیدہ کپڑوں کے نیچے

کاغذ کے پرزوں کے پیچھے

تعویزوں، تاگوں کے بھیتر

دھات کے میلے ڈبے میں

مٹتے ہوئے فوٹو کے اندر

سرخ سنہرے گوٹے کی

رنگین ستاروں والی جو

ریشم کی ساڑھی ہوتی ہے

ایک ابھاگن بڑھیا کو

وہ جان سے پیاری ہوتی ہے

نینا عادل

خواب ہو تم

یہ دھڑکتی ہوئی ساعتوں کے لئے

رنگ بھرتے ہیں جذبوں کا انفاس میں

بس گھڑی دو گھڑ ی

تشنگی اوس پیتی ہے گلزار سے

خوشبوئیں جا لپٹتی ہیں اشجار سے

عارضی طور پر

ہے مِرے علم میں

ریت راہی کے پیروں کا کوئی نشاں

دیر تک اپنے دامن میں رکھتی نہیں

خواب ہیں پل دو پل کا حسیں آسرا

جانتی ہُوں مگر ۔۔۔ ۔!!

خواب ہو تم مِرا

خواب ہو تم مِرا

نینا عادل

چار دیواری میں چنی ہوئی عورت

بند کے اُس طرف خود اُگی جھاڑیوں میں لگی رس بھری بیریاں خوب تیار ہیں

پر مرے واسطے ان کو دامن میں بھر لینا ممکن نہیں

اے خدا! جگنوؤں، قمقموں اور ستاروں کی پاکیزہ تابندگی

وہ جگہ، سو رہی ہے جہاں پر چناروں کے اونچے درختوں سے نتھر ی ہوئی جانفزا چاندنی

۔۔۔ خوشبوئیں خیمہ زن ہیں جہاں رات دن

میری اُن سرحدوں تک رسائی نہیں

اور پچھم کی چنچل سریلی ہوا میرے آنگن سے ہو کر گزرتی نہیں

میں کہ بارش کے قطروں سے نتھرے ہوئے سبز پتّوں کے بوسوں سے محروم ہوں

ان کواڑوں کی پرلی طرف دیر سے بند پھاٹک پہ ٹھہرے ہوئے اجنبی

آس اور بے کلی

حرف اور ان کہی

کچھ نہیں

میں نے کچھ بھی تو دیکھا نہیں

میرے کمرے کی سیلن، گھٹن اور خستہ دِواروں کے پیارے خدا

اور کچھ نا سہی

تو مجھے اک گنہ کی اجازت ملے

نینا عادل

جوالا مکھی

ناگہاں

آتشیں لو بھڑکنے لگی سبز پتّوں تلے

تلملاتی، غضب ناک اور ۔۔۔ مشتعل

آگ

یکلخت بے تاب ہو کر اٹھی

آن کی آن میں

بیل بوٹے، شجر ۔۔۔

پھول، پتّے، ثمر ۔۔۔

راکھ کاڈھیر ہونے لگے اس طرح

سرخ شعلے نگلنے لگے گھونسلے

(گھونسلوں میں پڑے گوشت کے لوتھڑے)

بس دھواں رہ گیا دور تک راہ میں

اور بدلتا گیا ایک جنگل ہرا! دیکھتے دیکھتے

سرمگیں خاک میں

سبز منظر کوئی یوں جلا آنکھ میں

نینا عادل

تو رقص کر

مرے قریب رک چکی ہے نبضِ کا ئنات بھی
ہے پرتوِ ممات اب یہ رشتۂ حیات بھی
رہا عجیب التواء کہ جاں بلب ہے ہر صدی
جمود کا شکار ہے الم مرا، خوشی مری
خیال ہیں نہ خواب ہیں جمال ہے نہ روشنی
تمدن و طریق بن گئی ہے پارسائی بھی
یہ جبر ہے کہ بندگی؟ یہ عیب ہے کہ زندگی؟
بہار ڈھونڈتی پھرے نشاطِ رنگ و بو یہاں
یہ طرز یہ چلن مٹا! کہ ہم نہیں فرشتگاں
فنونِ جاوداں جو رنگ ِروح کو نکھار دیں
وہ ہنر وہ آگ دے! وہ جبیں وہ آستاں
بقا کا ساز چھیڑ دے! یہ دن فنا کے پھیر دے
ہے بے ثمر یہ مستقل تو ارضِ دل کو خیر دے
یہ بحرِ موج جھومتی ہے دیکھ اضطراب میں
تھی کن فکاں کی جو صدا وہ تھی اسی حباب میں
پئے دوامِ زیست ہے یہ ناچتا ہوا لہو
یہ کہکشاں کا وصف ہے خلائے بے حساب میں
تو رقص کر کہ جاگنے لگے یہ خطۂ زمیں
کھلے وہ بابِ دل ربا جو فکرپہ کھلا نہیں
تو رقص کر جلو میں لے کہ دو جہان ہم نشیں
یہ سلسلہ دھمال کا ازل سے ہے رکا نہیں
تو رقص کر کہ دھڑکنوں کا زیرو بم لگے حسیں
ہو وجد و کیف وہ عطا وہ حظ جو کھوکھلا نہیں
تو رقص کر کہ گھنگروؤں سے آشنا ہو یہ زمیں
ہرا ہو فرشِ آگہی جو دور تک ہرا نہیں
تو رقص کر کہ آس کا دیا کوئی جلے کہیں
وہ داغِ دل بھی دھل رہے جو مدّتوں دھلا نہیں
تو رقص کر کہ فجر کا، زوالِ شب کا ہو یقیں
ملے یونہی ولے خدا جو آج تک ملا نہیں

تکمیل

’’تمھیں ثابت کرنا ہو گا کہ تم ہو‘‘! اس نے مجھے جھنجوڑا

’’مگر میں یہ ثابت نہیں کر سکتی‘‘ میں نے احتجاج کیا

اُس نے مجھے مٹھی میں بھر کر زمیں پر بکھیر دیا اور خوشی سے چلایا! ’’تم سبزہ ہی سبزہ ہو، رنگ ہی رنگ‘‘

’’ٹھہرو ذرا سوچو! مجھے جلد خزاں کے نادیدہ ہاتھ معدوم کر دیں گے ۔۔۔ ۔۔۔ تم یہ ثابت نہیں کر سکو گے کہ میں ہوں ‘‘

اس نے گھبر ا کر مجھے پھر سمیٹ لیا اور زرا توقف کے بعد فضا میں اچھال دیا اور پُر جوش ہو کر بولا

’’دیکھا تم روشنی ہی روشنی ہو‘‘

’’ہاں مگر تاریکی مجھے نگلنے کو بیتاب ہے! میں نے کہا تھا نا میں خود کو ثابت کرنے سے قاصر ہوں ‘‘

اس نے ہراساں ہو کر مجھے مٹھی میں جکڑ لیا ۔۔۔ ۔۔۔ ناتمامی کے درد سے میری آنکھیں چھلک پڑیں

اس نے مجھے بہنے کے لیے نشیب میں چھوڑ دیا اور مسکرایا

’’دیکھا تم مایہ ہی مایہ ہو‘‘

’’مجھے وقت کی تیز دھوپ جلد خشک کر دے گی‘‘میں نے دہائی دی

وہ غصے سے کانپنے لگا ۔۔۔ ۔۔ پھر مجھے سامنے رکھ کر گڑگڑایا

’’خود کو ثابت کروخدارا، نہیں تو میں مٹ جاوں گا! ہماری تکمیل ضروری ہے‘‘

’’ناگزیر ہے‘‘! میں نے تائید کی

آؤ میں تمھیں زیب تن کر لوں! نہیں تو ہم تصدیق کے حق سے محرو م ہو جائیں گے، ہم کبھی ثابت نہ ہو سکیں گے‘‘

’’ہاں ہمیں اپنی تصدیق کرنی ہو گی‘‘اس نے مجھ میں ضم ہوتے ہوئے کہا

۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔اور پھر ہم نے دیکھا ۔۔۔ رنگ ۔۔۔ روشنی ۔۔۔ سبزہ ۔۔۔ مایہ ۔۔۔ حسن اور حیرت سب ہمارے بطون کی

جاگیریں تھیں

باہر تو صرف دھواں تھا

نینا عادل

تری آواز

تری آواز کا خوش ذائقہ

اور رس بھرا شربت

مری رگ رگ میں اک تعویذ جیسے گھول دیتا ہے

شفا بیمار لمحوں کو عطا کرتا ہے! ساحر ہے

تری آواز کا مرہم

کہ جیسے برف باری میں ٹھٹھرتی خوبرو لڑکی

سلگتی آگ ملتے ہی لہو کی گرم موجوں میں نئی اک زندگی پائے

مسیحا ہے تری آواز کی ہلکی گلابی، کاسنی رنگت

کبھی ہے جامنی گہری ۔۔۔ صحیفوں کی طرح حتمی

کبھی ہے نیلگوں ایسی

کہ جیسے فجر کے وقت آسماں محوِ تلاوت ہو

ہے شدھ ایسا تری آواز کا نتھرا ہو زم زم

ہوا اس بہتے چشمے سے وضو کرتی ہے آ آ کر

تری آواز کے ان نقرئی سکّوں کا دھن اکثر

مری مفلس سیہ راتوں کی قسمت پھیر دیتا ہے

ہزاروں در نہاں اس جل ترنگ سے دل پہ کھلتے ہیں

مجھے دنیا کی ہر زنجیر سے آزاد کرتی ہے

تری آواز کی قدرت

نینا عادل

آئی وش

کاش میں پلومیریا ہوتی

شفاف اور بے داغ پھول

دن میں دھوپ نہاتی اور رات بھر چاند کی کرنوں سے اٹکھیلیاں کرتی

میرا کوئی مذہب ہوتا، نہ زبان، نہ فرقہ، نہ رواج

کاش میں زمینوں، پانیوں، فضاؤں اور ذہنوں کو کاٹنے والے سازشیوں کے قبیل سے نہ ہوتی

میں بھی عصبیت، وطنیت اور تعصب سے پاک

باوضو آنکھوں کے لیے ایک تحفہ ہوتی

بطور اشرف المخلوق اس خوبصورت سیّارے کی تباہی کا باعث بننے کے بجائے

میں ایک بے ضرر پلومیریا ہوتی

جس کی تخیلق کا واحد مقصد

کائنات کے حسن میں اضافہ کرنا

مسّرت باٹنا، فرحت اورتازگی بخشنا

اور ہوا کی ہتھیلی پر خوشبو کی نظم لکھ کر

رخصت ہو جانا ہوتا ۔۔۔

نینا عادل

اے مرے شبد

اے مرے شبد، مرے بھید، مہادھن میرے

رات میں خوشبو تری! نیند میں بوسہ تیرا ۔۔۔

ٹھنڈ میں آگ تری تاپوں، کھِلوں

جی اٹّھوں!

اپنے آنسو ترے ہاتھوں کے کٹورے میں رکھوں

دیر تک تجھ سے لپٹ کر یونہی روتی جاؤں

اے مرے شبد! ترے معنی کی ست رنگ گرہ

کبھی سلجھاؤں

کبھی انگلی میں الجھا بیٹھوں

گم رہوں تجھ میں کہیں، تجھ میں کہیں کھو جاؤں

اے مرے شبد! مرے عشق، مرے افسانے

شام گل رنگ کرے، خواب کو دو چند کرے

تیری بارش میں نکھرتا ہوا سبزہ میرا

مانگ آشاؤں کی بھرتی ہوئی اس دنیا میں

اور کوئی بھی نہیں، کوئی نہیں

تو میرا!! ۔

نینا عادل

آگ کے شکریہ کے ساتھ ۔۔۔ ۔۔ ایک نظم

مقدس گناہوں میں بھیگی ہوئی

آگ تاپی نہ ہوتی اگر چند پل

زوس کے تنگ ریفریجریٹر میں ٹھٹھرے ہوئے ماس کا پارسا لوتھڑا بن کے رہ جاتی!

میں نا جیتی نا مرتی پرومیتھئیس

اور فرشتوں کی مانند، وجدان پر میرے بھی، عمر بھر بھید گندم کا کھلتا نہیں

آہنی قفل ازلی روایت کے گر میں نہیں توڑتی

کچھ پرندے نہ آزاد ہوتے کبھی

برف ہوتیں مگر خون کی گرم امواج میں تیرتی سرمئی، سرخ اور نقرئی مچھلیاں

کوئے احساس میں کوئی بجلی کبھی کوندتی ہی نہیں دور تک

اک حقیقت کا بے تاب دل چیرنے

کس طرح پھرچناروں سے لپٹی ہوئی سرد تن چاندنی دھوپ بنتی دسمبر میں میرے لیے؟

میں کراچی کے ساحل پہ چلتے ہوئے کیسے گنگا کی لہروں پہ رکھتی قدم؟

کیسے دریاؤں کے دیوتا کی طرح، سوکھی فصلوں کو کرتی تراوٹ عطا؟

کیسے منٹو کے صفحات میں منتشر ’’نیک بو‘‘ سونگھتی؟

[کیسے ناپاک عورت کا سر چومتی]

کیوں ترس کھاتی معصوم دکھ اور فریبِ مسلسل پہ میں، فلورنٹائن کے؟

ان گنت کہکشائیں نہیں کھول پاتیں وہ اسرار جو، کھولتا ہے بدن پر اک آزاد پل

میری آزاد سانسوں کی خالص فضا، میری سنجیدگی

حرف کی یہ طہارت!

پرومیتھئیس باخدا

کچھ مقدس گناہوں سے مشروط ہے

نینا عادل

آخرِشب

کوئی دستک مسلسل ہے، کہیں ہے مستقل آہٹ

ہوا کا شور ہے شاید

کبھی محسوس ہوتا ہے سنہرے خشک پتوں میں سے گزرا سانپ کا جوڑا

پرندہ کوئی سہما ہے

فضا میں سرسراہٹ ہے

مرے اندر بھٹکتی ہے کوئی آواز یا! شاید

بلاتیں ہیں مجھے اِس دم بچھڑنے والوں کی یادیں

وہ جن پر زندگی اک خوف کی صورت مسلّط تھی

کبھی کے ہار کے اس زندگی سے روٹھ بیٹھے جو!

کبھی لگتا ہے یوں جیسے کسی تاریک بستی میں

چلی آندھی!

قضا آئی

اجل شاید مری کھڑکی تلک ۔۔۔ بستر تلک آئی

ستارے ڈوبنے کو ہیں

اندھیرا بین کرتا ہے

خدارا ۔۔۔ نیند کا غلبہ

دیے کی لو بھڑکتی ہے

بجھاکر آخری لمحہ

نینا عادل

اپریل بہار کا استقبال کرتا ہے

فروغِ شادابیِٔ چمن کو مہکتی مٹی سے پھوٹ نکلا ہے نرم سبزہ

حریصِ تخلیق نم زمیں نے گلوں سے دامن اداس بیلوں کے بھر دیے ہیں

عجیب رت ہے! کہ بوڑھی شاخوں میں سانس لیتا ہے سبز جوبن

خیالوں، خوابوں کی رہگزر پرچٹک رہی ہیں ہزار کلیاں

نگاہِ دل کے گزیدہ گوشے رہینِ نکہت

فضا کی پوروں میں جاگ اٹھی ہے بھینی خوشبو، ہوا کے ہاتھوں میں روشنی کے جڑاؤ کنگن

ہوا کے پیروں میں رقص کرنے لگے ہیں گھنگرو

پرندے رنگین شام اوڑھے شفق کی سرخی سے کھیلتے ہیں

دمکتے پانی میں غسل کرتے ہیں چاند تارے

نہاتی کلیوں کی بے لباسی کو کتنی حیرت سے دیکھتا ہے

نفیس پتّوں کی شال اوڑھے گھنیرا جنگل

گلاب کے سرخ پیرہن پر، سفید پھولوں کی پتیوں پر!

سماعتِ شب میں ثبت کرتی ہے اوس یوں جلترنگ نغمے

کہ گیت وہ جو ازل سے بے کل فضا میں گم تھے

اترنے لگتے ہیں دھڑکنوں کی حسین لے پر، محبتوں کے امین بن کر

ملن کی ایسی صبیح ساعت میں حسن دیتا ہے آپ دستک

تمھارے درپر ۔۔۔

نینا عادل

آپ بیتی

لکھو بے دل ہواؤ شام کی مغموم سرخی سے

گزر گاہوں کی ویرانی، گھروں کی نے نوائی اور بازاروں کی خاموشی

لکھو جب دھوپ ملتی ہے بدن پر سانولی لڑکی

بھرے چھابے میں خوابوں کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں

لکھو جب جھیل میں ہلکورے لیتی کشتیوں میں جال بے مقصد مچھیروں سے الجھتے ہیں

کناروں پر بنے بے دم گھروندے ٹوٹ جاتے ہیں

بوقتِ عصر اٹھتا ہے دھواں محصور جنگل سے

بھٹکتی پھر رہی ہوں جیسے روحیں سبز پیڑوں میں

لکھو مزدور اپنے رات دن چُنتے ہیں اینٹوں میں

سہاگن آس کا سرمہ نہیں بھرتی ہے آنکھوں میں

منڈیروں پر رکھے کونڈوں میں پانی سوکھ جاتا ہے

رسوئی سے نہیں اب اٹھتی خوشبو گرم روٹی کی

پروں میں چھپ کے موروں کے وبائیں رقص کرتی ہیں

لکھو بے دل ہواؤ شام کی مغموم سرخی سے

مرے شہروں کا، قصبوں کا مرے صحراؤں کا نوحہ

بسی ہے خون کی بو کوہساروں، ریگزاروں میں

لکھو بارود بھرتا جا رہا ہے کچے ذہنوں میں

کتابیں، بچے، بستے، پیرہن سب خاک آلودہ

لکھو نسلوں کے مستقبل کو جس نے پھونک ڈالا ہے

نہیں کی نذرِ آتش آپ بیتی وہ بزرگوں نے

نینا عادل

ایک چھالہ ہے دل پھوڑنے کے لیے

نینا عادل ۔ غزل نمبر 25
غم سے رشتہ نیا جوڑنے کے لیے
ایک چھالہ ہے دل پھوڑنے کے لیے
میں وہی بت ہوں جس کو تراشا گیا!
مدتوں دوستو! توڑنے کے لیے
اور تو اس کہانی میں کچھ بھی نہیں
ایک ورق ہے مگر، موڑنے کے لیے
اُس سے پوچھو کہ، میں، درمیاں میں کہیں
کوئی رستہ ہوں کیا؟ چھوڑنے کے لیے
حوصلہ دیدنی ہے مرے خواب کا
ایک مٹھی زمیں، دوڑنے کے لیے
نینا عادل

ہے بھی تو مجھے پتا نہیں ہے

نینا عادل ۔ غزل نمبر 24
خوابوں کا کوئی سرا نہیں ہے
ہے بھی تو مجھے پتا نہیں ہے

سانسوں میں کسک ہے اجنبی سی
اس نے تو ابھی چھوا نہیں ہے

تا دور غبار اڑ رہا ہے
ہونے کو تو کچھ ہوا نہیں ہے

پھر رات کی سر زمیں ہے میں ہوں
اور ہاتھ میں پھر دیا نہیں ہے

اک خواب کی لَو ہے چشمِ تر میں
تصویر میں کچھ نیا نہیں ہے

بیدار ہیں شہر کی ہوائیں
وہ شخص ابھی گیا نہیں ہے

صحرا میں گھٹا برس رہی ہے
یہ وقت مگر مرا نہیں ہے

میں وقت سے چل رہی ہوں آگے
تا دور کوئی صدا نہیں ہے

سرشار ہوں شعر کہہ کے نیناؔ
کچھ اور اگر صلہ نہیں ہے

نینا عادل

بھیگ رہے ہیں اُس بارش میں اب تک جو برسی نئیں ہے

نینا عادل ۔ غزل نمبر 23
ہم ایسا تو اور کوئی خوابوں کا قیدی بھی نئیں ہے
بھیگ رہے ہیں اُس بارش میں اب تک جو برسی نئیں ہے
بھید سمندر کھول رہا ہے اک نازک سی لڑکی پر
کتنی موجیں ٹوٹ رہی ہیں پیروں میں، گنتی نئیں ہے
لَو دکھلاتی اُس کی آنکھیں بولیں دھیمے لہجے میں
دیکھ بجھائی جا سکتی ہے آگ ابھی بھڑکی نئیں ہے
جانے کیسے میں اور وہ اک دوجے میں گھُل گئے دونو!
سچ پوچھو تو اپنی اُس سے ایسی کوئی بنتی نئیں ہے
آنگن میں بیٹھی بڑھیائیں سوچ کے یہ کانپ اٹھتی ہیں!
چلتی ہے جب تیز ہو ا تو روکے سے رکتی نئیں ہے
پتھّر ہو گئے رم جھم نیناں، دور کہیں اُو بسنے والے
شور مچاتے دریا میں اب اک قطرہ پانی نئیں ہے
نینا عادل

اک کمی سی ہے، کیوں ہے؟

نینا عادل ۔ غزل نمبر 22
بے کلی سی ہے! کیوں ہے؟
اک کمی سی ہے، کیوں ہے؟
آہ کی طوالت بھی
عارضی سی ہے، کیوں ہے؟
کوزہ گر مری مٹی
بھربھری سی ہے، کیوں ہے؟
ہر کہانی اندر سے اندر سے
ان کہی سی ہے! کیوں ہے؟
تیرے قرب کی ساعت
اجنبی سی ہے! کیوں ہے؟
حرف کے مناروں میں
روشنی سی ہے! کیوں ہے؟
دشت کی ہو ا نیناؔ
ساحلی سی ہے، کیوں ہے؟
نینا عادل

اک بھلی بات کو یعنی کہ برا سمجھو گے

نینا عادل ۔ غزل نمبر 21
مسکرانے کو مرے میری خطا سمجھو گے
اک بھلی بات کو یعنی کہ برا سمجھو گے
مجھ کو، پرسش نا کروں گی تو کہو گے کافر
خود کو احوال جو پوچھوں تو خدا سمجھو گے
لاکھ پھرتے ہیں یہاں ’’اہل کرم‘‘ تم جیسے
خاک سمجھو گے اگر خود کو جدا سمجھو گے
آنکھ میلی ہے، زباں سستی ہے، سوچیں گروی
تم مرے حرف کی تقدیس کو کیا سمجھو گے
نینا عادل

اور سبھی ہو گئے دیکھتے دیکھتے

نینا عادل ۔ غزل نمبر 20
اجنبی ہو گئے دیکھتے دیکھتے!
اور سبھی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
جن میں کوئی کمی ہی نہیں تھی وہ دن
اک کمی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
آپ تک جانے والے سبھی راستے
داخلی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
شاعری پہلا الزام تھی ذات پر
پھر کئی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
رنگ جتنے بھرے میں نے تصویر میں
سرمئی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
سرسری ایک کردار تھے ہم کبھی
مرکزی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
اور لوگوں کے جیسے کہاں آپ تھے
آپ بھی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
اِن نگاہوں میں تھے جو ہزاروں سخن
اَن کہی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
اُس کی صحبت میں گزرے ہوئے سارے پل
شاعری ہو گئے دیکھتے دیکھتے
ہم مہا شبد کا اولیں بھید تھے
روشنی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
نینا عادل

ہمیں اب تو خدایا نیند آئے

نینا عادل ۔ غزل نمبر 19
تھمے یہ شور سارا نیند آئے
ہمیں اب تو خدایا نیند آئے
صداؤں کے گھنے جنگل سے نکلوں
کروں خود میں بسیرا، نیند آئے
نہ دیکھوں خواب میں کوئی دوبارہ
اگر مجھ کو دوبارہ نیند آئے
سناؤ نا کوئی جھوٹی کہانی
بنے کوئی بہانہ نیند آئے
مری بنتی نہیں اپنے خدا سے
پڑھوں جب بھی سپارہ نیند آئے
کہاں ڈھونڈوں بھلا دو پل سکوں کے
ترے پہلو میں جب نہ نیند آئے
تھکن سے چور ہیں بے خواب لمحے
ملے کوئی اشارہ نیند آئے
نینا عادل

سایہ بیماری مرا، اس میں شفا بھی تیری

نینا عادل ۔ غزل نمبر 18
میں ترا درد، ترا مرض، دوا بھی تیری
سایہ بیماری مرا، اس میں شفا بھی تیری
اک اشارہ جو ترے حق میں کیا جائے تو
بوئے گل، رنگِ چمن، موجِ صبا بھی تیری
خواب میں تجھ کو محبت کی بشارت ہو گی
یہ صلہ بھی ہے بیک وقت سزا بھی تیری
عمر بھر تجھ سے ہوا چاہتی ہے جو سر زد!!
در گزر کر دی گئی ہے وہ خطا بھی تیری
اے دیے! بجھتے ہوئے دیکھا گیا تھا تجھ کو
تیرے انکار میں شامل تھی رضا بھی تیری
ہاتھ رکھتے ہوئے اک دل پہ کہا جاتا ہے
چھین لی جائے گی تجھ سے یہ جگہ بھی تیری
نینا عادل

جان لے لے گی یہ خوش گمانی مری

نینا عادل ۔ غزل نمبر 17
آپ کے دل پہ ہے حکمرانی مری
جان لے لے گی یہ خوش گمانی مری
عشق ریشم کا دھاگہ تھا کھلتا گیا
درد بُنتا گیا رائیگانی مری
میں ترا گھر بنانے میں مصروف تھی
مجھ پہ ہنستی رہی بے مکانی مری
چشم در چشم پڑھیے فسانے مرے
خواب در خواب لکھیے کہانی مری
آہ کہتی نہیں تھی مرا واقعہ
اشک کرتے نہ تھے ترجمانی مری
اک زمیں زاد سے اِس زمیں پر رہی
گفتگو مستقل آسمانی مری
اور نیناؔ رہے نا رہے کچھ مگر!
حرف میرے رہیں گے نشانی مری
نینا عادل

تیرا کاسہ بھرتے بھرتے خالی ہو بیٹھا کوئی!!

نینا عادل ۔ غزل نمبر 16
اورے سوالی بول سخی ہو گا اس کے جیسا کوئی؟
تیرا کاسہ بھرتے بھرتے خالی ہو بیٹھا کوئی!!
جانے جی میں آئی کیا! خود پاؤں میں ڈال لیا پھندا
تجھ کو پنچھی جال بچھاتے دیکھتا رہتا تھا کوئی!
من بھیتر جلتی بتیاں اور جاگنے لگتی تھیں رتیاں
دھیمے سروں میں گیت ملن کے ایسے گاتا تھا کوئی
اے قصّہ گو! ساری کتھائیں تیری سن لی ہیں ہم نے
تجھ سے بڑھ کر جھوٹا ہے اور نا تجھ سا سچا کوئی!
اس کے محل میں گونج رہا تھا جب مقتل کا سناٹا!!
شہزادی کے ماتھے پر کیا تم نے بل دیکھا کوئی؟
سوچا کرتا پھینک دوں اک کھائی میں مسافت اور ساماں
گٹھری اٹھائے روز و شب کی اتنا تھک جاتا کوئی
سب کو بھول کے دو سائے یوں اک دوجے میں سمٹ گئے
جیسے خواب ہو جگ سارا، جیسے جیون سپنا کوئی
نینا عادل

یہ میرا گھر ہے! لیکن نہیں

نینا عادل ۔ غزل نمبر 15
سب میسّر ہے لیکن نہیں
یہ میرا گھر ہے! لیکن نہیں
روز لگتا ہے ایسا ہمیں
آج محشرہے ۔۔ لیکن نہیں
اُگ رہا ہے نظر میں سراب
ایک منظر ہے لیکن نہیں
یہ محبت بھری گفتگو!
کوئی منتر ہے لیکن نہیں
دوسروں سے مرا بے وفا
لاکھ بہتر ہے! لیکن نہیں
میری گردن پہ گو رات دن
نوکِ خنجر ہے لیکن نہیں
کج ادائی پہ ما ئل کوئی
میرے اندر ہے!! لیکن نہیں
نیند کے آخری موڑ تک
خواب رہبر ہے لیکن نہیں
باب در باب وہ داستاں
لاکھ ازبر ہے!! لیکن نہیں
توڑ دے وہم کی ہر فصیل
وقت پتھر ہے لیکن نہیں
پاؤں پھیلا رہی ہے طلب
تنگ چادر ہے لیکن نہیں
کب گزرتا ہے بچپن مرا
دل معمر ہے لیکن نہیں
نینا عادل

جاوداں ہوتا ہے روحوں کا ملن، سنتے ہیں

نینا عادل ۔ غزل نمبر 14
کیف کھو دیتے ہیں صہبائے بدن، سنتے ہیں
جاوداں ہوتا ہے روحوں کا ملن، سنتے ہیں
موج بنتی ہے، بگڑتی ہے، فنا ہوتی ہے!
صبر دریا میں ہے اعصاب شکن سنتے ہیں
سنتے آئے ہیں تصور ہی شراکت کا نہیں
ایک معشوق ہے اور ایک عدن سنتے ہیں
کیوں تری یاد کے بستر سے مٹائیں شکنیں
قرب دلداروں کا ہے نیک شگن سنتے ہیں
کھڑکھڑاتے ہیں مرے صحن میں سوکھے پتّے
ان کے گیتوں کی صدا روح و بدن سنتے ہیں
ساغرِ خواب نہ ٹوٹے کسی نادانی سے
زندگی بھر نہیں جاتی یہ چبھن سنتے ہیں!
نینا عادل

میں شامل ہوں جمالِ یار تجھ میں

نینا عادل ۔ غزل نمبر 13
مری خوشبو مرے اسرار تجھ میں!
میں شامل ہوں جمالِ یار تجھ میں
مسیحائی کو جس کی عشق آیا
کوئی ایسا پڑا بیمار تجھ میں
غبارِ ذات بیٹھے گا کوئی دم
گری ہے آخری دیوار تجھ میں
فسونِ شب بھی ہے قربان جس پر
سخن ایسا ہو ا بیدار تجھ میں!
ہوائے تند اور جلتے دیے ہیں
ازل سے برسرِ پیکار تجھ میں
تجھے ہے آرزو دنیا کی لیکن
کوئی دنیا سے ہے بیزار تجھ میں
ملن کے گیت گاتی ہے ازل سے
مری پازیب کی جھنکار تجھ میں
میں ہوں وہ شبد جو معدوم ہوتا
اگر پاتا نہیں اظہار تجھ میں
اضافی ہیں مجھے یہ دین و دنیا
مرے دونوں جہاں دلدار تجھ میں
نینا عادل

اپنے اندر کے جنگل میں گم ہو جانے سے ڈرتی ہوں

نینا عادل ۔ غزل نمبر 12
ہے بال و پر میں وحشت سی، بے سمت اڑانیں بھرتی ہوں
اپنے اندر کے جنگل میں گم ہو جانے سے ڈرتی ہوں
پھر آس کا دریا بہتا ہے، پھر سبزہ اُگ اُگ آتا ہے
پھر دھوپ کنارے بیٹھی میں اک خواب کی چھاگل بھرتی ہوں
کیوں آگ دہکتی ہے مجھ میں، کیوں بارش ہوتی ہے مجھ میں
جب دھیان سے ملتی ہوں تیرے، جب تیرے من میں اترتی ہوں
کب مجھ کو رہائی ملنی تھی، ناحق جو قفس بھی توڑ دیا
بج اٹھتی ہیں زنجیریں سی یہ پاؤں جہاں بھی دھرتی ہوں
اک پھول کی پتّی کا بستر، اک اوس کے موتی کا تکیہ
تتلی کے پروں کو اوڑھ کے میں خوابوں میں آن ٹھہرتی ہوں
دل غم سے رہائی چاہتا ہے اور وہ بھی جیتے جی صاحب
پھر تجھ میں پنہ لے لیتی ہوں پھر خود سے کنارہ کرتی ہوں
ہیں ناگ کا پھن کالی راتیں، لمحہ لمحہ ڈستی جاویں
سو بار تڑپتی ہوں صاحب سو بار میں جیتی مرتی ہوں
نینا عادل

مری کتاب کا عنوان تیرے جیسا ہو

نینا عادل ۔ غزل نمبر 11
ہر ایک حرف ہو امکان! تیرے جیسا ہو
مری کتاب کا عنوان تیرے جیسا ہو
ہزار بار گوارا ہے پارسائی کو
جو میری ذات پہ بہتان تیرے جیسا ہو
کوئی سوال جو مشکل نہ ہو تیرے جیسا؟
کوئی جواب جو آسان تیرے جیسا ہو؟
میں عمر قید بصد ناز کاٹ سکتی ہوں
مرے نصیب میں زندان تیرے جیسا ہو
محبتوں کا صلہ ہو تو ہو ترے جیسا!!
محبتوں میں ہو نقصان، تیرے جیسا ہو
میں اُس کے حال پہ قربان میرے دل جو بھی
وفا کی راہ میں ہلکان تیرے جیسا ہو
مجھے قبول ہے، بارِ دگر عنایت ہو
مگر یہ شرط ہے احسان تیرے جیسا ہو
شفا بھی دیتا ہے یہ معجزہ محبت کا
کسی مریض کا ایمان تیرے جیسا ہو
نینا عادل

خوا ب ہوں ہے مجھے ٹوٹ جانے کا ڈر

نینا عادل ۔ غزل نمبر 10
بس گھڑی دو گھڑی جھلملانے کا ڈر!!
خوا ب ہوں ہے مجھے ٹوٹ جانے کا ڈر
دل سے گڑیوں کے تا عمر نکلا نہیں
کھیل کے بعد قیمت گنوانے کا ڈر
خامشی بھید کے خوف سے زرد ہے
اور باتوں کو ہے اک فسانے کا ڈر
ڈھونڈتی ہے مجھے میری ماں کی نظر
وہ شرارت وہ پٹنے پٹانے کا ڈر
جل اٹھی سر پھر ی آگ ہم میں کہیں
راکھ میں دب گیا سر اٹھانے کا ڈر
سچ تو یہ ہے کہ تو سچ سنے گا نہیں
اور اس پر ترے روٹھ جانے کا ڈر
بال وپر میں کہیں سو رہا ہے ابھی
آخری مرتبہ پھڑپھڑانے کا ڈر
نینا عادل

کچھ خدا بول رہا ہے شاید

نینا عادل ۔ غزل نمبر 9
خامشی نغمہ سرا ہے شاید
کچھ خدا بول رہا ہے شاید
کتنی زرخیز تیری مٹی ہے
تجھ کو پیڑوں کی دعا ہے شاید
عکس لرزاں ہے میرا سرتا پا
آئینہ ٹوٹ رہا ہے شاید
کب تلک خود کومٹاؤں لکھ کر
اب ورق پھٹنے لگا ہے شاید
آگ ہے تو، میں ہرا جنگل ہوں
موڈ میں اور ہوا ہے شاید
لوَ بھڑکتی ہے دیے کی بے کل
اس نے پھر یاد کیا ہے شاید
کھول کر دیکھ تو لو دروازہ
کوئی باہر ہی کھڑا ہے شاید
فاصلہ طے نا ہوا کیا کیجیے
درمیاں کوئی خلا ہے شاید
نینا عادل

جی فرطِ احتیاط سے گھبرا کے رہ گیا

نینا عادل ۔ غزل نمبر 8
ہونٹوں پہ میرے نام ترا آ کے رہ گیا
جی فرطِ احتیاط سے گھبرا کے رہ گیا
شرطیں تھیں انجذاب کی اتنی کڑی کہ بس
ہر عکس آئینے سے ہی ٹکرا کے رہ گیا!
صدیاں ہوئیں کہ تیری نہیں اس نے لی خبر
معبد میں دیوتا ترا پتھرا کے رہ گیا
اس یارِ طرح دار کی خاموشیوں میں تھا
ایسا سخن کہ حرف بھی شرما کے رہ گیا
کیسا لگاؤ! کیسی محبت جہان سے!!
دل یار دوستوں سے بھی کترا کے رہ گیا
اک خواب میں بدل گئیں ساری حقیقتیں
ہر عکس ایک عکس میں دھندلا کے رہ گیا
دل نے بنایا کیا اسے مہمان ایک دن
نیناؔ وہ دلنواز ’’یہیں ‘‘ آ کے رہ گیا
نینا عادل

کسی پر دل ہمارا آ گیا تھا

نینا عادل ۔ غزل نمبر 7
گنہ کرنے کا یارا آ گیا تھا
کسی پر دل ہمارا آ گیا تھا
نہ آیا دنیا داری کا سلیقہ
مگر کرنا گزارا آ گیا تھا
تیری آواز کے دو گھونٹ پی کر
نشہ رگ رگ میں سارا آ گیا تھا
تصورتاب لا پائے نہ جس کی
بدن میں وہ شرارا آ گیا تھا
عدو کا وار اب جائے نہ خالی
کوئی غیبی اشارہ آ گیا تھا
کتابِ زیست رہ جاتی ادھوری
مگر قصہ تمھارا آ گیا تھا
رواں ہونے لگی تھی سانس نیناؔ
موافق یہ خسارہ آ گیا تھا
نینا عادل

تم نہ ملتے خدا نہیں ملتا

نینا عادل ۔ غزل نمبر 6
بندگی کا صلہ نہیں ملتا
تم نہ ملتے خدا نہیں ملتا
چاٹ لیتی ہے استخواں آتش
راکھ کو ذائقہ نہیں ملتا
پوچھ تو اپنے خالی ہاتھوں سے
کیا جہاں میں بھلا نہیں ملتا؟
خواب بھی انتقام لیتے ہیں
نیند کا در کھلا نہیں ملتا
عشق قیدی قفس سے کرتا ہے
جب کوئی آشنا نہیں ملتا
اک ترے اعتبار کا لمحہ
لاکھ سمجھیں ملا! نہیں ملتا
میں تو میں ہوں مرا تصّور بھی
خود پرستوں سے جا!، نہیں ملتا
موج ساحل پہ سر پٹکتی ہے
تشنگی کا سِرا نہیں ملتا
کیا غرض انتظارِ پیہم کو
یار ملتا ہے یا! نہیں ملتا
نینا عادل

بدن آدھی گواہی ہے شہادت روح کی لاؤ

نینا عادل ۔ غزل نمبر 5
محبت میں عبادت کا تصّور لازمی لاؤ
بدن آدھی گواہی ہے شہادت روح کی لاؤ
بدن کی آیتیں پڑھ کر فراموشی گنہ بدتر
تمھیں ایمان لانا ہے تو مجھ پر دائمی لاؤ
مری مٹی کی دہری ہجرتوں کا بانٹنے کو غم
نہیں ملتا اگر دریا تو کوئی دشت ہی لاؤ
ارے!! تم نے نہیں دیکھا ستارے ساتھ ٹوٹے تھے
اگر پھر دیکھنا چاہو تو آنکھوں میں نمی لاؤ
مقدس ہیں صحیفوں کی طرح یہ جاگتی آنکھیں
تلاوت کے لیے ان کی طہارت سرمدی لاؤ
ذرا سی موج لے کر آدمی کو ڈوب جاتی ہے
سمندر میں اترنا ہے تو کشتی نوح کی لاؤ
سبھی پہلے پہل ملتے ہیں بے حد گرم جوشی سے
ہمارے سامنے اپنا رویہ آخری لاؤ
نینا عادل

اس تشنگی میں ضم ہوئے کتنے خُمِ آسودگی

نینا عادل ۔ غزل نمبر 4
دل ہے سرودِ سرکشی، رقصِ جنوں ہے زندگی
اس تشنگی میں ضم ہوئے کتنے خُمِ آسودگی
اے یارِ من، اے دل ستاں، اس آبسالِ دہر میں
ہے آشنا تجھ سا کوئی نا کوئی تجھ سا اجنبی
وہ رات کی آغوش میں مدھم ستارہ خواب کا
کرتا ہے گاہے تیرگی، دیتا ہے گاہے روشنی
آب و ہوائے شوق وہ جس میں نہائیں بارشیں
سینکے ہے جس کو دھوپ خود، ہے آگ جس کو تاپتی
یا رقص اندر رقص ہو، یا نغمگی در نغمگی
یا بات جیسی بات ہو یا خامشی سی خامشی
دادِ ہنر کے واسطے روتا نہیں فن کار خوں
فن ہے خدا اس کے لیے، فن ہی حیات دائمی
ہم خواب زاروں میں بسے ہیں دو جہاں سے بے خبر
کیا دوستوں کی دوستی، کیا دشمنوں کی دشمنی
لفظ وبیاں کے درمیاں اک رنگِ نا تمثال میں
روحِ وفا کا کرب ہے نیناؔ ؔکی ساری شاعری
نینا عادل

گھونٹ گھونٹ بھرتے ہیں آپ جس کا ہرجانہ

نینا عادل ۔ غزل نمبر 3
زندگی چھلکتا اک آرزو کا پیمانہ
گھونٹ گھونٹ بھرتے ہیں آپ جس کا ہرجانہ
پوچھتا نہیں ہرگز حالِ دل کسی صورت
آئینے میں رہتا ہے کوئی ہم سے بیگانہ
رات کی ہتھیلی پر رینگتے ہیں اندیشے
رقص لو پہ کرتا ہے جس طرح سے پروانہ
خال خال بھاتا ہے کوئی پوجنے والا
شاذ شاذ کھلتا ہے رشکِ دل یہ بت خانہ
پیاس جھیل جاتی ہے دور تک سرابوں کو
دشت اوڑھ لیتے ہیں خامشی سے ویرانہ
نینا عادل

موت گہرا سکوت ہے ہمدم

نینا عادل ۔ غزل نمبر 2
شور موجود کا کرے گی کم
موت گہرا سکوت ہے ہمدم
ضعف کم مائیگی سے ڈرتا ہے
ہاتھ سے گر پڑے نہ دو عالم
میرے آنسو ہیں میری شادابی
فصلِ گُل مانگتی ہے مٹی نم
کس نے حسنِ سلوک یہ پایا؟
کس نے کانٹوں پہ ٹانک دی شبنم
دھڑکنیں خامشی کا نغمہ ہیں
زندگی اک لطیف زیروبم
کیوں دوں الزام یہ زمانے کو
مجھ میں خود پل رہے تھے میرے غم
آو نیناؔ شمار کرتے ہیں
راہ میں ہیں تمھاری کتنے خم
نینا عادل

تیرا چھونا، ستانا لڑنا سب

نینا عادل ۔ غزل نمبر 1
اچھا لگنے لگا ہے مجھ کو اب
تیرا چھونا، ستانا لڑنا سب
خود کو ڈھونڈے گا اور نہ پائے گا
میرے پہلو سے وہ اٹھے گا جب
بور کرنے لگے گا باغیچہ
ہم بہت گھوم لیں گے اس میں جب
اک دیا آس کا جلا لوں کیا؟
مجھ میں ہونے لگی ہے گہری شب
آپ آبِ بقا ہیں امرت ہیں
آپ پیاسے مگر ہمارے لب
سچے موتی چھپائے رکھتے ہیں
ہیں انوکھے سمندروں کے ڈھب
درد دے، کرب دے اذیّت دے
ہم سکوں مانگتے ہیں تجھ سے کب
ہم تو ہیں روشنی کے پروردہ
ہم سے کیا پوچھتے ہونام ونسب
نینا عادل