زمرہ جات کے محفوظات: دیوانِ ناصر

ناصر کاظمی کا شعری مجموعہ ’’دیوانِ ناصر‘‘ جو ۱۹۷۳ میں شائع ہوا

متفرق اشعار

یہ آئنہ تری خاطر سنبھال کر رکھا

جو دل دُکھا بھی تو ہونٹوں نے پھول برسائے

خوشی کو ہم نے شریکِ ملال کر رکھا

……

ہم سبو گھر سے نکلتے ہی نہیں اب ناصر

میکدہ رات گئے اب بھی کھلا ہوتا ہے

………

اہلِ خرد کے ماضی و حال

چند کتابیں چند خیال

دُکھ کی دُھوپ میں یاد آئے

تیرے ٹھنڈے ٹھنڈے بال

………

ترے بغیر بھی خالی نہیں مری راتیں

ہے ایک سایہ مرے ساتھ ہمنشیں کی طرح

………

قصے تری نظر نے سنائے نہ پھر کبھی

ہم نے بھی دل کے داغ دکھائے نہ پھر کبھی

اے یادِ دوست آج تو جی بھر کے دل دُکھا

شاید یہ رات ہجر کی آئے نہ پھر کبھی

……

چاند نکلا تھا مگر رات نہ تھی پہلی سی

یہ ملاقات، ملاقات نہ تھی پہلی سی

رنج کچھ کم تو ہوا آج ترے ملنے سے

یہ الگ بات کہ وہ بات نہ تھی پہلی سی

۱۳ اپریل ۱۹۶۴

………

آپ کیوں رُک گئے چلتے چلتے

آپ کو میں نے بلایا تو نہ تھا

۱۸ اپریل ۱۹۷۱

………

میں تو بیتے دِنوں کی کھوج میں ہوں

تو کہاں تک چلے گا میرے ساتھ

۱۹۶۴

………

چین سے بیٹھنے نہیں دیتی

موسمِ یاد کی اُداس ہوا

………

پھیلتی جاتی ہے ناصر رنجِ ہستی کی رِدا

اور سمٹتے جا رہے ہیں پاؤں پھیلانے کو ہم

……

تمام عمر یونہی ہم نے دُکھ اُٹھایا ہے

زیادہ خرچ کیا اور کم کمایا ہے

……

چار گھڑی یاروں کا میلہ، پھر خاموشی

پہروں تنہا بیٹھ کے رونا پھر خاموشی

اس سے تو ہم سوئے ہی رہتے صبح نہ ہوتی

نیند اُڑا کر اُڑ گئی چڑیا، پھر خاموشی

۱۹۶۳

………

ہوا بھی چل رہی ہے اور جاگتی ہے رات بھی

کوئی اگر کہے تو ہم سنائیں دل کی بات بھی

۲۰ جنوری ۱۹۶۷

………

میں دیکھتا ہوں تو بس دیکھتا ہی رہتا ہوں

وہ آئنے میں بھی اپنے ہی رنگ چھوڑ گیا

۲۱ جون ۱۹۶۷

………

یوں تو اے ہم سخنو بات نہیں کہنے کی

بات رہ جائے گی یہ رات نہیں رہنے کی

۱ فروری ۱۹۶۷

………

نالہِ آخر شب کس کو سناؤں ناصر

نیند پیاری ہے مرے دور کے فن کاروں کو

۱۹۵۵

………

کہیں کہیں کوئی روشنی ہے

جو آتے جاتے سے پوچھتی ہے

کہاں ہے وہ اجنبی مسافر

کہاں گیا وہ اُداس شاعر

۳۰ دسمبر ۱۹۷۱

ناصر کاظمی

وہ کشتیاں چلانے والے کیا ہوئے

وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے
وہ کشتیاں چلانے والے کیا ہوئے
وہ صبح آتے آتے رہ گئی کہاں
جو قافلے تھے آنے والے کیا ہوئے
میں اُن کی راہ دیکھتا ہوں رات بھر
وہ روشنی دِکھانے والے کیا ہوئے
یہ کون لوگ ہیں مرے اِدھر اُدھر
وہ دوستی نبھانے والے کیا ہوئے
وہ دل میں کھبنے والی آنکھیں کیا ہوئیں
وہ ہونٹ مسکرانے والے کیا ہوئے
عمارتیں تو جل کے راکھ ہو گئیں
عمارتیں بنانے والے کیا ہوئے
اکیلے گھر سے پوچھتی ہے بے کسی
ترا دِیا جلانے والے کیا ہوئے
یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا
زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے
ناصر کاظمی

سخن کدہ مری طرزِ سخن کو ترسے گا

زباں سخن کو سخن بانکپن کو ترسے گا
سخن کدہ مری طرزِ سخن کو ترسے گا
نئے پیالے سہی تیرے دَور میں ساقی
یہ دَور میری شرابِ کہن کو ترسے گا
مجھے تو خیر وطن چھوڑ کر اماں نہ ملی
وطن بھی مجھ سے غریب الوطن کو ترسے گا
انہی کے دم سے فروزاں ہیں ملتوں کے چراغ
زمانہ صحبتِ اربابِ فن کو ترسے گا
بدل سکو تو بدل دو یہ باغباں ورنہ
یہ باغ سایہِ سرو و سمن کو ترسے گا
ہوائے ظلم یہی ہے تو دیکھنا اِک دن
زمین پانی کو سورج کرن کو ترسے گا
ناصر کاظمی

عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ

گئے دِنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ
عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ
بس ایک موتی سی چھب دکھا کر بس ایک میٹھی سی دُھن سنا کر
ستارئہ شام بن کے آیا برنگِ خوابِ سحر گیا وہ
خوشی کی رُت ہو کہ غم کا موسم نظر اُسے ڈھونڈتی ہے ہر دم
وہ بوئے گل تھا کہ نغمہِ جاں مرے تو دل میں اُتر گیا وہ
نہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اداس برکھا
یونہی ذرا سی کسک ہے دل میں جو زخم گہرا تھا بھر گیا وہ
کچھ اب سنبھلنے لگی ہے جاں بھی بدل چلا دَورِ آسماں بھی
جو رات بھاری تھی ٹل گئی ہے جو دن کڑا تھا گزر گیا وہ
بس ایک منزل ہے بوالہوس کی ہزار رستے ہیں اہلِ دل کے
یہی تو ہے فرق مجھ میں اس میں گزر گیا میں ٹھہر گیا وہ
شکستہ پا راہ میں کھڑا ہوں گئے دِنوں کو بلا رہا ہوں
جو قافلہ میرا ہمسفر تھا مثالِ گردِ سفر گیا وہ
مرا تو خوں ہو گیا ہے پانی ستمگروں کی پلک نہ بھیگی
جو نالہ اُٹھا تھا رات دل سے نہ جانے کیوں بے اثر گیا وہ
وہ میکدے کو جگانے والا وہ رات کی نیند اُڑانے والا
یہ آج کیا اس کے جی میں آئی کہ شام ہوتے ہی گھر گیا وہ
وہ ہجر کی رات کا ستارہ وہ ہم نفس ہم سخن ہمارا
سدا رہے اس کا نام پیارا سنا ہے کل رات مر گیا وہ
وہ جس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر سفر کیا تو نے منزلوں کا
تری گلی سے نہ جانے کیوں آج سر جھکائے گزر گیا وہ
وہ رات کا بے نوا مسافر وہ تیرا شاعر وہ تیرا ناصر
تری گلی تک تو ہم نے دیکھا تھا پھر نہ جانے کدھر گیا وہ
ناصر کاظمی

کہ انتخابِ سخن ہے یہ اِنتخابوں میں

رقم کریں گے ترا نام اِنتسابوں میں
کہ انتخابِ سخن ہے یہ اِنتخابوں میں
مری بھری ہوئی آنکھوں کو چشمِ کم سے نہ دیکھ
کہ آسمان مقید ہیں ان حبابوں میں
ہر آن دل سے اُلجھتے ہیں دو جہان کے غم
گھرا ہے ایک کبوتر کئی عقابوں میں
ذرا سنو تو سہی کان دھر کے نالہِ دل
یہ داستاں نہ ملے گئی تمھیں کتابوں میں
نئی بہار دِکھاتے ہیں داغِ دل ہر روز
یہی تو وصف ہے اس باغ کے گلابوں میں
پون چلی تو گل و برگ دف بجانے لگے
اُداس خوشبوئیں لو دے اُٹھیں نقابوں میں
ہوا چلی تو کھلے بادبانِ طبعِ رسا
سفینے چلنے لگے یاد کے سرابوں میں
کچھ اِس ادا سے اُڑا جا رہا ہے ابلقِ رنگ
صبا کے پاؤں ٹھہرتے نہیں رکابوں میں
بدلتا وقت یہ کہتا ہے ہر گھڑی ناصر
کہ یادگار ہے یہ وقت اِنقلابوں میں
ناصر کاظمی

آئے ہیں اِس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں

کچھ یادگارِ شہرِ ستمگر ہی لے چلیں
آئے ہیں اِس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں
یوں کس طرح کٹے گا کڑی دُھوپ کا سفر
سر پر خیالِ یار کی چادر ہی لے چلیں
رنجِ سفر کی کوئی نشانی تو پاس ہو
تھوڑی سی خاکِ کوچہِ دلبر ہی لے چلیں
یہ کہہ کے چھیڑتی ہے ہمیں دل گرفتگی
گھبرا گئے ہیں آپ تو باہر ہی لے چلیں
اِس شہرِ بے چراغ میں جائے گی تو کہاں
آ اے شبِ فراق تجھے گھر ہی لے چلیں
ناصر کاظمی

لگی ہے آگ کہیں رات سے کنارے پر

دُھواں سا ہے جو یہ آکاش کے کنارے پر
لگی ہے آگ کہیں رات سے کنارے پر
یہ کالے کوس کی پرہول رات ہے ساتھی
کہیں اماں نہ ملے گی تجھے کنارے پر
صدائیں آتی ہیں اُجڑے ہوئے جزیروں سے
کہ آج رات نہ کوئی رہے کنارے پر
یہاں تک آئے ہیں چھینٹے لہو کی بارش کے
وہ رن پڑا ہے کہیں دُوسرے کنارے پر
یہ ڈھونڈتا ہے کسے چاند سبز جھیلوں میں
پکارتی ہے ہوا اب کسے کنارے پر
اس اِنقلاب کی شاید خبر نہ تھی اُن کو
جو ناؤ باندھ کے سوتے رہے کنارے پر
ہیں گھات میں ابھی کچھ قافلے لٹیروں کے
ابھی جمائے رہو مورچے کنارے پر
بچھڑ گئے تھے جو طوفاں کی رات میں ناصر
سنا ہے اُن میں سے کچھ آ ملے کنارے پر
ناصر کاظمی

یہ سفر ہے میلوں کا

دیس سبز جھیلوں کا
یہ سفر ہے میلوں کا
راہ میں جزیروں کی
سلسلہ ہے ٹیلوں کا
کشتیوں کی لاشوں پر
جمگھٹا ہے چیلوں کا
رنگ اُڑتا جاتا ہے
شہر کی فصیلوں کا
دیکھ کر چلو ناصر
دشت ہے یہ فیلوں کا
ناصر کاظمی

میری زِندگی ہے تو

غم ہے یا خوشی ہے تو
میری زِندگی ہے تو
آفتوں کے دَور میں
چَین کی گھڑی ہے تو
میری رات کا چراغ
میری نیند بھی ہے تو
میں خزاں کی شام ہوں
رُت بہار کی ہے تو
دوستوں کے درمیاں
وجہِ دوستی ہے تو
میری ساری عمر میں
ایک ہی کمی ہے تو
میں تو وہ نہیں رہا
ہاں مگر وہی ہے تو
ناصر اِس دیار میں
کتنا اجنبی ہے تو
ناصر کاظمی

بڑی دیر میں تجھے دیکھ کر یہ لگا کہ تو کوئی اور ہے

کوئی اور ہے نہیں تو نہیں مرے رُوبرو کوئی اور ہے
بڑی دیر میں تجھے دیکھ کر یہ لگا کہ تو کوئی اور ہے
یہ گناہگاروں کی سر زمیں ہے بہشت سے بھی سوا حسیں
مگر اس دیار کی خاک میں سببِ نمو کوئی اور ہے
جسے ڈھونڈتا ہوں گلی گلی وہ ہے میرے جیسا ہی آدمی
مگر آدمی کے لباس میں وہ فرشتہ خو کوئی اور ہے
کوئی اور شے ہے وہ بے خبر جو شراب سے بھی ہے تیز تر
مرا میکدہ کہیں اَور ہے مرا ہم سبو کوئی اور ہے
ناصر کاظمی

ٹھنڈی رات جزیروں کی

جنت ماہی گیروں کی
ٹھنڈی رات جزیروں کی
سبز سنہرے کھیتوں پر
پھواریں سرخ لکیروں کی
اس بستی سے آتی ہیں
آوازیں زنجیروں کی
کڑوے خواب غریبوں کے
میٹھی نیند امیروں کی
رات گئے تیری یادیں
جیسے بارش تیروں کی
مجھ سے باتیں کرتی ہے
خاموشی تصویروں کی
ان وِیرانوں میں ناصر
کان دبی ہے ہیروں کی
ناصر کاظمی

ناکام ہوں کہ کام نہیں آپ سے مجھے

شکوہ بہ طرزِ عام نہیں آپ سے مجھے
ناکام ہوں کہ کام نہیں آپ سے مجھے
کہتا سلوک آپ کے ایک ایک سے مگر
مطلوب انتقام نہیں آپ سے مجھے
اے منصفو حقائق و حالات سے الگ
کچھ بحثِ خاص و عام نہیں آپ سے مجھے
یہ شہرِ دل ہے شوق سے رہیے یہاں مگر
اُمیدِ انتظام نہیں آپ سے مجھے
فرصت ہے اور شام بھی گہری ہے کس قدر
اِس وقت کچھ کلام نہیں آپ سے مجھے
ناصر کاظمی

یہ ہمسفر مرے کتنے گریز پا نکلے

بنے بنائے ہوئے راستوں پہ جا نکلے
یہ ہمسفر مرے کتنے گریز پا نکلے
چلے تھے اَور کسی راستے کی دُھن میں مگر
ہم اتفاق سے تیری گلی میں آ نکلے
غمِ فراق میں کچھ دیر رو ہی لینے دو
بخار کچھ تو دلِ بے قرار کا نکلے
نصیحتیں ہمیں کرتے ہیں ترکِ الفت کی
یہ خیرخواہ ہمارے کدھر سے آ نکلے
یہ خامشی تو رگ و پے میں رچ گئی ناصر
وہ نالہ کر کہ دلِ سنگ سے صدا نکلے
ناصر کاظمی

کتنے گھروں کا حق چھینا ہے

چند گھرانوں نے مل جل کر
کتنے گھروں کا حق چھینا ہے
باہر کی مٹی کے بدلے
گھر کا سونا بیچ دیا ہے
سب کا بوجھ اُٹھانے والے
تو اس دُنیا میں تنہا ہے
میلی چادر اوڑھنے والے
تیرے پاؤں تلے سونا ہے
گہری نیند سے جاگو ناصر
وہ دیکھو سورج نکلا ہے
ناصر کاظمی

رات بھر پھرتا ہے اس شہر میں سایا کوئی

کیا لگے آنکھ کہ پھر دل میں سمایا کوئی
رات بھر پھرتا ہے اس شہر میں سایا کوئی
فکر یہ تھی کہ شبِ ہجر کٹے گی کیوں کر
لطف یہ ہے کہ ہمیں یاد نہ آیا کوئی
شوق یہ تھا کہ محبت میں جلیں گے چپ چاپ
رنج یہ ہے کہ تماشا نہ دِکھایا کوئی
شہر میں ہمدمِ دیرینہ بہت تھے ناصر
وقت پڑنے پہ مرے کام نہ آیا کوئی
ناصر کاظمی

دل تجھے بھی بھلائے جاتا ہے

شوق کیا کیا دِکھائے جاتا ہے
دل تجھے بھی بھلائے جاتا ہے
اگلے وقتوں کی یادگاروں کو
آسماں کیوں مٹائے جاتا ہے
سوکھتے جا رہے ہیں گل بوٹے
باغ کانٹے اُگائے جاتا ہے
جاتے موسم کو کس طرح روکوں
پتہ پتہ اُڑائے جاتا ہے
حال کس سے کہوں کہ ہر کوئی
اپنی اپنی سنائے جاتا ہے
کیا خبر کون سی خوشی کے لیے
دل یونہی دِن گنوائے جاتا ہے
رنگ پیلا ہے تیرا کیوں ناصر
تجھے کیا رنج کھائے جاتا ہے
ناصر کاظمی

ہمارا کیا ہے بھلا ہم کہاں کے کامل تھے

کہاں گئے وہ سخنور جو میرِ محفل تھے
ہمارا کیا ہے بھلا ہم کہاں کے کامل تھے
بھلا ہوا کہ ہمیں یوں بھی کوئی کام نہ تھا
جو ہاتھ ٹوٹ گئے ٹوٹنے کے قابل تھے
حرام ہے جو صراحی کو منہ لگایا ہو
یہ اور بات کہ ہم بھی شریکِ محفل تھے
گزر گئے ہیں جو خوشبوئے رائگاں کی طرح
وہ چند روز مری زِندگی کا حاصل تھے
پڑے ہیں سایہِ گل میں جو سرخرو ہو کر
وہ جاں نثار ہی اے شمع تیرے قاتل تھے
اب اُن سے دُور کا بھی واسطہ نہیں ناصر
وہ ہم نوا جو مرے رتجگوں میں شامل تھے
ناصر کاظمی

اب سجے گی انجمن بسنت آ گئی

کنج کنج نغمہ زن بسنت آ گئی
اب سجے گی انجمن بسنت آ گئی
اُڑ رہے ہیں شہر میں پتنگ رنگ رنگ
جگمگا اُٹھا گگن بسنت آ گئی
موہنے لبھانے والے پیارے پیارے لوگ
دیکھنا چمن چمن بسنت آ گئی
سبز کھیتیوں پہ پھر نکھار آ گیا
لے کے زرد پیرہن بسنت آ گئی
پچھلے سال کے ملال دل سے مٹ گئے
لے کے پھر نئی چبھن بسنت آ گئی
ناصر کاظمی

آگ جلتی رہے رات ڈھلتی رہے

برف گرتی رہے آگ جلتی رہے
آگ جلتی رہے رات ڈھلتی رہے
رات بھر ہم یونہی رقص کرتے رہیں
نیند تنہا کھڑی ہاتھ ملتی رہے
برف کے ہاتھ پیانو بجاتے رہیں
جام چلتے رہیں مے اُچھلتی رہے
ناصر کاظمی

وہ روشنی تھی کہ صورت نظر نہ آتی تھی

شعاعِ حسن ترے حسن کو چھپاتی تھی
وہ روشنی تھی کہ صورت نظر نہ آتی تھی
کسے ملیں کہاں جائیں کہ رات کالی ہے
وہ شکل ہی نہ رہی جو دِیے جلاتی تھی
وہی تو دِن تھے حقیقت میں عمر کا حاصل
خوشا وہ دِن کہ ہمیں روز موت آتی تھی
ذرا سی بات سہی تیرا یاد آجانا
ذرا سی بات بہت دیر تک رُلاتی تھی
اُداس بیٹھے ہو کیوں ہاتھ توڑ کر ناصر
وہ نے کہاں ہے جو تاروں کی نیند اُڑاتی تھی
ناصر کاظمی

اب تو آ جا کہ رات بھیگ چلی

سو گئی شہر کی ہر ایک گلی
اب تو آ جا کہ رات بھیگ چلی
کوئی جھونکا چلا تو دل دھڑکا
دل دھڑکتے ہی تیری یاد آئی
کون ہے تو کہاں سے آیا ہے
کہیں دیکھا ہے تجھ کو پہلے بھی
تو بتا کیا تجھے ثواب ملا
خیر میں نے تو رات کاٹ ہی لی
مجھ سے کیا پوچھتا ہے میرا حال
سامنے ہے ترے کتاب کھلی
میرے دل سے نہ جا خدا کے لیے
ایسی بستی نہ پھر بسے گی کبھی
میں اسی غم میں گھلتا جاتا ہوں
کیا مجھے چھوڑ جائے گا تو بھی
ایسی جلدی بھی کیا، چلے جانا
مجھے اِک بات پوچھنی ہے ابھی
آ بھی جا میرے دل کے صدر نشیں
کب سے خالی پڑی ہے یہ کرسی
میں تو ہلکان ہو گیا ناصر
مدتِ ہجر کتنی پھیل گئی
ناصر کاظمی

تو اجنبی ہے مگر شکل آشنا سی ہے

جبیں پہ دُھوپ سی آنکھوں میں کچھ حیا سی ہے
تو اجنبی ہے مگر شکل آشنا سی ہے
خیال ہی نہیں آتا کسی مصیبت کا
ترے خیال میں ہر بات غم رُبا سی ہے
جہاں میں یوں تو کسے چین ہے مگر پیارے
یہ تیرے پھول سے چہرے پہ کیوں اُداسی ہے
دلِ غمیں سے بھی جلتے ہیں شادمانِ حیات
اسی چراغ کی اب شہر میں ہوا سی ہے
ہمیں سے آنکھ چراتا ہے اس کا ہر ذرّہ
مگر یہ خاک ہمارے ہی خوں کی پیاسی ہے
اُداس پھرتا ہوں میں جس کی دُھن میں برسوں سے
یونہی سی ہے وہ خوشی بات وہ ذرا سی ہے
چہکتے بولتے شہروں کو کیا ہوا ناصر
کہ دِن کو بھی مرے گھر میں وہی اُداسی ہے
ناصر کاظمی

دم بدم کوئی صدا ہے دل میں

پھر لہو بول رہا ہے دل میں
دم بدم کوئی صدا ہے دل میں
تاب لائیں گے نہ سننے والے
آج وہ نغمہ چھڑا ہے دل میں
ہاتھ ملتے ہی رہیں گے گل چیں
آج وہ پھول کھلا ہے دل میں
دشت بھی دیکھے چمن بھی دیکھا
کچھ عجب آب و ہوا ہے دل میں
رنج بھی دیکھے خوشی بھی دیکھی
آج کچھ درد نیا ہے دل میں
چشمِ تر ہی نہیں محوِ تسبیح
خوں بھی سرگرمِ دُعا ہے دل میں
پھر کسی یاد نے کروٹ بدلی
کوئی کانٹا سا چبھا ہے دل میں
پھر کسی غم نے پکارا شاید
کچھ اُجالا سا ہوا ہے دل میں
کہیں چہرے کہیں آنکھیں کہیں ہونٹ
اِک صنم خانہ کھلا ہے دل میں
اُسے ڈھونڈا وہ کہیں بھی نہ ملا
وہ کہیں بھی نہیں یا ہے دل میں
کیوں بھٹکتے پھریں دل سے باہر
دوستو شہر بسا ہے دل میں
کوئی دیکھے تو دِکھاؤں ناصر
وسعتِ ارض و سما ہے دل میں
ناصر کاظمی

یہ رنگِ خوں ہے گلوں پر نکھار اگر ہے بھی

یہ رنگِ خوں ہے گلوں پر نکھار اگر ہے بھی
’’حنائے پائے خزاں ہے بہار اگر ہے بھی‘‘
یہ پیش خیمہِ بیدادِ تازہ ہو نہ کہیں
بدل رہی ہے ہوا سازگار اگر ہے بھی
لہو کی شمعیں جلاؤ قدم بڑھائے چلو
سروں پہ سایہِ شب ہائے تار اگر ہے بھی
ابھی تو گرم ہے میخانہ جام کھنکاؤ
بلا سے سر پہ کسی کا ادھار اگر ہے بھی
حیاتِ درد کو آلودئہ نشاط نہ کر
یہ کاروبار کوئی کاروبار اگر ہے بھی
یہ امیتازِ من و تو خدا کے بندوں سے
وہ آدمی نہیں طاعت گزار اگر ہے بھی
نہ پوچھ کیسے گزرتی ہے زِندگی ناصر
بس ایک جبر ہے یہ اختیار اگر ہے بھی
ناصر کاظمی

تیری گلی گلی کی خیر اے مرے دل رُبا وطن

تو ہے دلوں کی روشنی تو ہے سحر کا بانکپن
تیری گلی گلی کی خیر اے مرے دل رُبا وطن
وہ تو بس ایک موج تھی آئی اِدھر اُدھر گئی
آنکھوں میں ہے مگر ابھی رات کے خواب کی تھکن
پھر وہی دشتِ بے اماں پھر وہی رنجِ رائِگاں
دل کو جگا کے سو گئی تیرے خیال کی کرن
آیا گیا نہ میں کہیں صبح سے شام ہو گئی
جلنے لگے ہیں ہاتھ کیوں ٹوٹ رہا ہے کیوں بدن
کس سے کہوں کوئی نہیں سو گئے شہر کے مکیں
کب سے پڑی ہے راہ میں میت شہرِ بے کفن
میکدہ بجھ گیا تو کیا رات ہے میری ہمنوا
سایہ ہے میرا ہم سبو چاند ہے میرا ہم سخن
دل ہے مرا لہو لہو تاب نہ لا سکے گا تو
اے مرے تازہ ہمنشیں تو مرا ہم سبو نہ بن
ناصر کاظمی

عمرِ رفتہ کی رہگزر ہے یہ

دل میں آؤ عجیب گھر ہے یہ
عمرِ رفتہ کی رہگزر ہے یہ
سنگِ منزل سے کیوں نہ سر پھوڑوں
حاصلِ زحمتِ سفر ہے یہ
رنجِ غربت کے ناز اُٹھاتا ہوں
میں ہوں اب اور دردِ سر ہے یہ
ابھی رستوں کی دُھوپ چھاؤں نہ دیکھ
ہمسفر دُور کا سفر ہے یہ
دِن نکلنے میں کوئی دیر نہیں
ہم نہ سو جائیں اب تو ڈر ہے یہ
کچھ نئے لوگ آنے والے ہیں
گرم اب شہر میں خبر ہے یہ
اب کوئی کام بھی کریں ناصر
رونا دھونا تو عمر بھر ہے یہ
ناصر کاظمی

چھتوں پہ گھاس ہوا میں نمی پلٹ آئی

یہ خوابِ سبز ہے یا رُت وہی پلٹ آئی
چھتوں پہ گھاس ہوا میں نمی پلٹ آئی
کچھ اس ادا سے دُکھایا ہے تیری یاد نے دل
وہ لہر سی جو رگ و پے میں تھی پلٹ آئی
تری ہنسی کے گلابوں کو کوئی چھو نہ سکا
صبا بھی چند قدم ہی گئی پلٹ آئی
خبر نہیں وہ مرے ہمسفر کہاں پہنچے
کہ رہگزر تو مرے ساتھ ہی پلٹ آئی
کہاں سے لاؤ گے ناصر وہ چاند سی صورت
گر اِتفاق سے وہ رات بھی پلٹ آئی
ناصر کاظمی

آج دیکھا انہیں اُداس بہت

کل جنھیں زِندگی تھی راس بہت
آج دیکھا انہیں اُداس بہت
رفتگاں کا نشاں نہیں ملتا
اُگ رہی ہے زمیں پہ گھاس بہت
کیوں نہ روؤُں تری جدائی میں
دِن گزارے ہیں تیرے پاس بہت
چھاؤں مل جائے دامنِ گل کی
ہے غریبی میں یہ لباس بہت
وادیٔ دل میں پاؤں دیکھ کے رکھ
ہے یہاں درد کی اُگاس بہت
سوکھے پتوں کو دیکھ کر ناصر
یاد آتی ہے گل کی باس بہت
ناصر کاظمی

پچھلے پہر یوں چلے اندھیری جیسے گرجیں شیر

ایک نگر میں ایسا دیکھا دِن بھی جہاں اندھیر
پچھلے پہر یوں چلے اندھیری جیسے گرجیں شیر
ہوا چلی تو پنکھ پنکھیرو بستی چھوڑ گئے
سونی رہ گئی کنگنی، خالی ہوئے منڈیر
بچپن میں بھی وُہی کھلاڑی بنا ہے اپنا میت
جس نے اُونچی ڈال سے توڑے زرد سنہری بیر
یارو تم تو ایک ڈگر پر ہار کے بیٹھ گئے
ہم نے تپتی دُھوپ میں کاٹے کڑے کوس کے پھیر
اب کے تو اس دیس میں یوں آیا سیلاب
کب کی کھڑی حویلیاں پل میں ہو گئیں ڈھیر
ناصر کاظمی

چل ساتھی کہیں اور چلیں

کب تک بیٹھے ہاتھ ملیں
چل ساتھی کہیں اور چلیں
اب کس گھاٹ پہ باندھیں ناؤ
اب یہ طوفاں کیسے ٹلیں
اب یہ مانگیں کون بھرے
اب یہ پودے کیسے پھلیں
جگ جگ جئیں مرے ساتھی
جلنے والے اور جلیں
تجھ کو چین ملے ناصر
تیرے دُکھ گیتوں میں ڈھلیں
ناصر کاظمی

ملا نہیں تو کیا ہوا وہ شکل تو دِکھا گیا

دیارِ دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا
ملا نہیں تو کیا ہوا وہ شکل تو دِکھا گیا
وہ دوستی تو خیر اب نصیبِ دُشمناں ہوئی
وہ چھوٹی چھوٹی رنجشوں کا لطف بھی چلا گیا
جدائیوں کے زخم دردِ زِندگی نے بھر دیے
تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی صبر آ گیا
پکارتی ہیں فرصتیں کہاں گئیں وہ صحبتیں
زمیں نگل گئی انہی ں کہ آسمان کھا گیا
یہ صبح کی سفیدیاں یہ دوپہر کی زردیاں
اب آئنے میں دیکھتا ہوں میں کہاں چلا گیا
یہ کس خوشی کی ریت پر غموں کو نیند آ گئی
وہ لہر کس طرف گئی یہ میں کہاں سما گیا
گئے دِنوں کی لاش پر پڑے رہو گے کب تلک
الم کشو اُٹھو کہ آفتاب سر پہ آ گیا
ناصر کاظمی

جو مل گیا ہے میں اُس سے زیادہ کیا کرتا

اب اُن سے اور تقاضائے بادہ کیا کرتا
جو مل گیا ہے میں اُس سے زیادہ کیا کرتا
بھلا ہوا کہ ترے راستے کی خاک ہوا
میں یہ طویل سفر پا پیادہ کیا کرتا
مسافروں کی تو خیر اپنی اپنی منزل تھی
تری گلی کو نہ جاتا تو جادہ کیا کرتا
تجھے تو گھیرے ہی رہتے ہیں رنگ رنگ کے لوگ
ترے حضور مرا حرفِ سادہ کیا کرتا
بس ایک چہرہ کتابی نظر میں ہے ناصر
کسی کتاب سے میں اِستفادہ کیا کرتا
ناصر کاظمی

رات کا جادُو بکھر کر رہ گیا

صبح کا تارا اُبھر کر رہ گیا
رات کا جادُو بکھر کر رہ گیا
ہمسفر سب منزلوں سے جا ملے
میں نئی راہوں میں مر کر رہ گیا
کیا کہوں اب تجھ سے اے جوئے کم آب
میں بھی دریا تھا اُتر کر رہ گیا
ناصر کاظمی

ہوتے ہیں غمِ دل کے بیاں اور طرح کے

قصے ہیں خموشی میں نہاں اور طرح کے
ہوتے ہیں غمِ دل کے بیاں اور طرح کے
تھی اور ہی کچھ بات کہ تھا غم بھی گوارا
حالات ہیں اب درپے جاں اور طرح کے
اے راہروِ راہِ وفا دیکھ کے چلنا
اس راہ میں ہیں سنگِ گراں اور طرح کے
کھٹکا ہے جدائی کا نہ ملنے کی تمنا
دل کو ہیں مرے وہم و گماں اور طرح کے
پر سال تو کلیاں ہی جھڑی تھیں مگر اب کے
گلشن میں ہیں آثارِ خزاں اور طرح کے
دُنیا کو نہیں تاب مرے درد کی یارب
دے مجھ کو اسالیبِ فغاں اور طرح کے
ہستی کا بھرم کھول دیا ایک نظر نے
اب اپنی نظر میں ہیں جہاں اور طرح کے
لشکر ہے نہ پرچم ہے نہ دَولت ہے نہ ثروت
ہیں خاک نشینوں کے نشاں اور طرح کے
مرتا نہیں اب کوئی کسی کے لیے ناصر
تھے اپنے زمانے کے جواں اور طرح کے
ناصر کاظمی

میرے حق میں بھی کچھ سنا ہی دے

جرمِ انکار کی سزا ہی دے
میرے حق میں بھی کچھ سنا ہی دے
شوق میں ہم نہیں زیادہ طلب
جو ترا نازِ کم نگاہی دے
تو نے تاروں سے شب کی مانگ بھری
مجھ کو اِک اشکِ صحبگاہی دے
تو نے بنجر زمیں کو پھول دیے
مجھ کو اِک زخمِ دل کشا ہی دے
بستیوں کو دیے ہیں تو نے چراغ
دشتِ دل کو بھی کوئی راہی دے
عمر بھر کی نواگری کا صلہ
اے خدا کوئی ہم نوا ہی دے
زرد رُو ہیں ورق خیالوں کے
اے شبِ ہجر کچھ سیاہی دے
گر مجالِ سخن نہیں ناصر
لبِ خاموش سے گواہی دے
ناصر کاظمی

وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے

نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے
وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے
جس دُھوپ کی دل میں ٹھنڈک تھی وہ دُھوپ اُسی کے ساتھ گئی
ان جلتی بلتی گلیوں میں اب خاک اُڑاؤں کس کے لیے
وہ شہر میں تھا تو اُس کے لیے اَوروں سے بھی ملنا پڑتا تھا
اب ایسے ویسے لوگوں کے میں ناز اُٹھاؤں کس کے لیے
اب شہر میں اُس کا بدل ہی نہیں کوئی ویسا جانِ غزل ہی نہیں
ایوانِ غزل میں لفظوں کے گلدان سجاؤں کس کے لیے
مدت سے کوئی آیا نہ گیا سنسان پڑی ہے گھر کی فضا
اِن خالی کمروں میں ناصر اب شمع جلاؤں کس کے لیے
ناصر کاظمی

ساتھ مرے اک دُنیا جاگے

ایسا بھی کوئی سپنا جاگے
ساتھ مرے اک دُنیا جاگے
وہ جاگے جسے نیند نہ آئے
یا کوئی میرے جیسا جاگے
ہوا چلی تو جاگے جنگل
ناؤ چلے تو ندیا جاگے
راتوں میں یہ رات اَمر ہے
کل جاگے تو پھر کیا جاگے
داتا کی نگری میں ناصر
میں جاگوں یا داتا جاگے
ناصر کاظمی

غم کی میعاد بڑھا جاؤ کہ کچھ رات کٹے

درد کم ہونے لگا آؤ کہ کچھ رات کٹے
غم کی میعاد بڑھا جاؤ کہ کچھ رات کٹے
ہجر میں آہ و بکا رسمِ کہن ہے لیکن
آج یہ رسم ہی دُہراؤ کہ کچھ رات کٹے
یوں تو تم روشنیٔ قلب و نظر ہو لیکن
آج وہ معجزہ دِکھلاؤ کہ کچھ رات کٹے
دل دُکھاتا ہے وہ مل کر بھی مگر آج کی رات
اُسی بے درد کو لے آؤ کہ کچھ رات کٹے
دم گھٹا جاتا ہے افسردہ دلی سے یارو
کوئی افواہ ہی پھیلاؤ کہ کچھ رات کٹے
میں بھی بیکار ہوں اور تم بھی ہو ویران بہت
دوستو آج نہ گھر جاؤ کہ کچھ رات کٹے
چھوڑآئے ہو سرِشام اُسے کیوں ناصر
اُسے پھر گھر سے بلا لاؤ کہ کچھ رات کٹے
ناصر کاظمی

جی میں ہیں کیسے کیسے پھول

ہنستے گاتے روتے پھول
جی میں ہیں کیسے کیسے پھول
اور بہت کیا کرنے ہیں
کافی ہیں یہ تھوڑے پھول
وقت کی پھلواری میں نہیں
دامن میں ہیں اَیسے پھول
اس دھرتی کی رَونق ہیں
میرے کانٹے تیرے پھول
کیسے اندھے ہیں وہ ہاتھ
جن ہاتھوں نے توڑے پھول
اُن پیاسوں پر میرا سلام
جن کی خاک سے نکلے پھول
ایک ہری کونپل کے لیے
میں نے چھوڑے کتنے پھول
اُونچے اُونچے لمبے پیڑ
ساوے پتے پیلے پھول
مٹی ہی سے نکلے تھے
مٹی ہو گئے سارے پھول
مٹی کی خوشبو لینے
نیل گگن سے اُترے پھول
چادر اوڑھ کے شبنم کی
نکلے آنکھیں ملتے پھول
شام ہوئی اب گلیوں میں
دیکھو چلتے پھرتے پھول
سونا جسم سفید قمیص
گورے ہاتھ سنہرے پھول
کچی عمریں کچے رنگ
ہنس مکھ بھولے بھالے پھول
آنکھ آنکھ میں بھیگی نیند
ہونٹ ہونٹ سے جھڑتے پھول
گورے گورے ننگے پیر
جھلمل جھلمل کرتے پھول
جیسا بدن ویسا ہی لباس
جیسی مٹی وَیسے پھول
مہک اُٹھی پھر دل کی کتاب
یاد آئے یہ کب کے پھول
شام کے تارے تو ہی بتا
آج کدھر سے گزرے پھول
کانٹے چھوڑ گئی آندھی
لے گئی اچھے اچھے پھول
دھیان میں پھرتے ہیں ناصر
اچھی آنکھوں والے پھول
ناصر کاظمی

دیکھو اور آنکھ کھول کر دیکھو

حسن کہتا ہے اِک نظر دیکھو
دیکھو اور آنکھ کھول کر دیکھو
سن کے طاؤسِ رنگ کی جھنکار
ابر اُٹھا ہے جھوم کر دیکھو
پھول کو پھول کا نشاں جانو
چاند کو چاند سے اُدھر دیکھو
جلوئہ رنگ بھی ہے اِک آواز
شاخ سے پھول توڑ کر دیکھو
جی جلاتی ہے اوس غربت میں
پاؤں جلتے ہیں گھاس پر دیکھو
جھوٹی امید کا فریب نہ کھاؤ
رات کالی ہے کس قدر دیکھو
نیند آتی نہیں تو صبح تلک
گردِ مہتاب کا سفر دیکھو
اِک کرن جھانک کر یہ کہتی ہے
سونے والو ذرا اِدھر دیکھو
خمِ ہر لفظ ہے گلِ معنی
اہلِ تحریر کا ہنر دیکھو
ناصر کاظمی

دل کی افسردگی کچھ کم تو ہوئی ہم نفسو شکر کرو

چہرہ افروز ہوئی پہلی جھڑی ہم نفسو شکر کرو
دل کی افسردگی کچھ کم تو ہوئی ہم نفسو شکر کرو
آؤ پھر یادِ عزیزاں ہی سے میخانہِ جاں گرم کریں
دیر کے بعد یہ محفل تو جمی ہم نفسو شکر کرو
آج پھر دیر کی سوئی ہوئی ندی میں نئی لہر آئی
دیر کے بعد کوئی ناؤ چلی ہم نفسو شکر کرو
رات بھر شہر میں بجلی سی چمکتی رہی ہم سوئے رہے
وہ تو کہیے کہ بلا سر سے ٹلی ہم نفسو شکر کرو
درد کی شاخِ تہی کا سہ میں اشکوں کے نئے پھول کھلے
دل جلی شام نے پھر مانگ بھری ہم نفسو شکر کرو
آسماں لالہِ خونیں کی نواؤں سے جگر چاک ہوا
قصرِ بیداد کی دیوار گری ہم نفسو شکر کرو
ناصر کاظمی

تیرا درد چھپا رکھا ہے

دل میں اَور تو کیا رکھا ہے
تیرا درد چھپا رکھا ہے
اِتنے دُکھوں کی تیز ہوا میں
دل کا دِیپ جلا رکھا ہے
دُھوپ سے چہروں نے دُنیا میں
کیا اندھیر مچا رکھا ہے
اس نگری کے کچھ لوگوں نے
دُکھ کا نام دوا رکھا ہے
وعدئہ یار کی بات نہ چھیڑو
یہ دھوکا بھی کھا رکھا ہے
بھول بھی جاؤ بیتی باتیں
اِن باتوں میں کیا رکھا ہے
چپ چپ کیوں رہتے ہو ناصر
یہ کیا روگ لگا رکھا ہے
ناصر کاظمی

رات بھر چاند کے ہمراہ پھرا کرتے تھے

کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کر تے تھے
رات بھر چاند کے ہمراہ پھرا کرتے تھے
جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سو جاتی ہیں
اِن مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے
کر دیا آج زمانے نے انہی ں بھی مجبور
کبھی یہ لوگ مرے دُکھ کی دَوا کرتے تھے
دیکھ کر جو ہمیں چپ چاپ گزر جاتا ہے
کبھی اُس شخص کو ہم پیار کیا کرتے تھے
اِتفاقاتِ زمانہ بھی عجب ہیں ناصر
آج وہ دیکھ رہے ہیں جو سنا کرتے تھے
ناصر کاظمی

ناؤ چل رہی ہے

رات ڈھل رہی ہے
ناؤ چل رہی ہے
برف کے نگر میں
آگ جل رہی ہے
لوگ سو رہے ہیں
رُت بدل رہی ہے
آج تو یہ دھرتی
خوں اُگل رہی ہے
خواہشوں کی ڈالی
ہاتھ مل رہی ہے
جاہلوں کی کھیتی
پھول پھل رہی ہے
ناصر کاظمی

یہ وہی دیار ہے دوستو جہاں لوگ پھرتے تھے رات بھر

کہیں اُجڑی اجڑی سی منزلیں کہیں ٹوٹے پھوٹے سے بام و در
یہ وہی دیار ہے دوستو جہاں لوگ پھرتے تھے رات بھر
میں بھٹکتا پھرتا ہوں دیر سے یونہی شہر شہر نگر نگر
کہاں کھو گیا مرا قافلہ کہاں رہ گئے مرے ہم سفر
جنھیں زِندگی کا شعور تھا اُنہیں بے زری نے بچھا دیا
جو گراں تھے سینہِ خاک پر وہی بن کے بیٹھے ہیں معتبر
مری بیکسی کا نہ غم کرو مگر اپنا فائدہ سوچ لو
تمھیں جس کی چھاؤں عزیز ہے میں اُسی درخت کا ہوں ثمر
یہ بجا کہ آج اندھیر ہے ذرا رُت بدلنے کی دیر ہے
جو خزاں کے خوف سے خشک ہے وہی شاخ لائے گی برگ و بر
ناصر کاظمی

رات نیند آ گئی درختوں میں

گا رہا تھا کوئی درختوں میں
رات نیند آ گئی درختوں میں
چاند نکلا اُفق کے غاروں سے
آگ سی لگ گئی درختوں میں
مینہ جو برسا تو برگ ریزوں نے
چھیڑ دی بانسری درختوں میں
یہ ہوا تھی کہ دھیان کا جھونکا
کس نے آواز دی درختوں میں
ہم اِدھر گھر میں ہو گئے بے چین
دُور آندھی چلی درختوں میں
لیے جاتی ہے موسموں کی پکار
اجنبی اجنبی درختوں میں
کتنی آبادیاں ہیں شہر سے دُور
جا کے دیکھو کبھی درختوں میں
نیلے پیلے سفید لال ہرے
رنگ دیکھے سبھی درختوں میں
خوشبوؤں کی اُداس شہزادی
رات مجھ کو ملی درختوں میں
دیر تک اُس کی تیز آنکھوں سے
روشنی سی رہی درختوں میں
چلتے چلتے ڈگر اُجالوں کی
جانے کیوں مڑ گئی درختوں میں
سہمے سہمے تھے رات اہلِ چمن
تھا کوئی آدمی درختوں میں
ناصر کاظمی

خالی رستہ بول رہا ہے

میں ہوں رات کا ایک بجا ہے
خالی رستہ بول رہا ہے
آج تو یوں خاموش ہے دنیا
جیسے کچھ ہونے والا ہے
کیسی اندھیری رات ہے دیکھو
اپنے آپ سے ڈر لگتا ہے
آج تو شہر کی روِش روِش پر
پتوں کا میلہ سا لگا ہے
آؤ گھاس پہ سبھا جمائیں
میخانہ تو بند پڑا ہے
پھول تو سارے جھڑ گئے لیکن
تیری یاد کا زخم ہرا ہے
تو نے جتنا پیار کیا تھا
دُکھ بھی مجھے اتنا ہی دیا ہے
یہ بھی ہے ایک طرح کی محبت
میں تجھ سے، تو مجھ سے جدا ہے
یہ تری منزل وہ مرا رستہ
تیرا میرا ساتھ ہی کیا ہے
میں نے تو اِک بات کہی تھی
کیا تو سچ مچ رُوٹھ گیا ہے
ایسا گاہک کون ہے جس نے
سکھ دے کر دُکھ مول لیا ہے
تیرا رستہ تکتے تکتے
کھیت گگن کا سوکھ چلا ہے
کھڑکی کھول کے دیکھ تو باہر
دیر سے کوئی شخص کھڑا ہے
ساری بستی سو گئی ناصر
تو اب تک کیوں جاگ رہا ہے
ناصر کاظمی

سونے نہیں دیتیں مجھے شب بھر تری یادیں

چھپ جاتی ہیں آئینہ دِکھا کر تری یادیں
سونے نہیں دیتیں مجھے شب بھر تری یادیں
تو جیسے مرے پاس ہے اور محوِ سخن ہے
محفل سی جما دیتی ہیں اکثر تری یادیں
میں کیوں نہ پھروں تپتی دوپہروں میں ہراساں
پھرتی ہیں تصوّر میں کھلے سر تری یادیں
جب تیز ہوا چلتی ہے بستی میں سرِ شام
برساتی ہیں اطراف سے پتھر تری یادیں
ناصر کاظمی

کیسے گزرے گا یہ سفر خاموش

کارواں سُست راہبر خاموش
کیسے گزرے گا یہ سفر خاموش
تجھے کہنا ہے کچھ مگر خاموش
دیکھ اور دیکھ کر گزر خاموش
یوں ترے راستے میں بیٹھا ہوں
جیسے اک شمعِ رہگزر خاموش
تو جہاں ایک بار آیا تھا
ایک مدت سے ہے وہ گھر خاموش
اُس گلی کے گزرنے والوں کو
تکتے رہتے ہیں بام و در خاموش
اُٹھ گئے کیسے کیسے پیارے لوگ
ہو گئے کیسے کیسے گھر خاموش
یہ زمیں کس کے اِنتظار میں ہے
کیا خبر کیوں ہے یہ نگر خاموش
شہر سوتا ہے رات جاگتی ہے
کوئی طوفاں ہے پردہ در خاموش
اب کے بیڑا گزر گیا تو کیا
ہیں ابھی کتنے ہی بھنور خاموش
چڑھتے دریا کا ڈر نہیں یارو
میں ہوں ساحل کو دیکھ کر خاموش
ابھی وہ قافلے نہیں آئے
ابھی بیٹھیں نہ ہم سفر خاموش
ہر نفس اِک پیام تھا ناصر
ہم ہی بیٹھے رہے مگر خاموش
ناصر کاظمی

درد کی خامشی کا سخن پھول ہے

درد کانٹا ہے اس کی چبھن پھول ہے
درد کی خامشی کا سخن پھول ہے
اُڑتا پھرتا ہے پھلواریوں سے جدا
برگِ آوارہ جیسے پون پھول ہے
اس کی خوشبو دکھاتی ہے کیا کیا سمے
دشتِ غربت میں یادِ وطن پھول ہے
تختہِ ریگ پر کوئی دیکھے اسے
سانپ کے زہر میں رس ہے پھن پھول ہے
میری لے سے مہکتے ہیں کوہ و دَمن
میرے گیتوں کا دِیوانہ پن پھول ہے
ناصر کاظمی

کہو اے مکینو کہاں ہو یہ کیسا مکاں ہے

زمیں چل رہی ہے کہ صبحِ زوالِ زماں ہے
کہو اے مکینو کہاں ہو یہ کیسا مکاں ہے
پریشان چیزوں کی ہستی کو تنہا نہ سمجھو
یہاں سنگ ریزہ بھی اپنی جگہ اِک جہاں ہے
کبھی تیری آنکھوں کے تل میں جو دیکھا تھا میں نے
وُہی ایک پل محملِ شوق کا سارباں ہے
کہیں تو مرے عشق سے بدگماں ہو نہ جائے
کئی دِن سے ہونٹوں پہ تیرے نہیں ہے نہ ہاں ہے
خدا جانے ہم کس خرابے میں آ کر بسے ہیں
جہاں عرضِ اہلِ ہنر نکہتِ رائیگاں ہے
جہانوں کے مالک زمانوں سے پردہ اُٹھا دے
کہ دل اِن دِنوں بے نیازِ بہار و خزاں ہے
ترے فیصلے وقت کی بارگاہوں میں دائم
ترے اِسم ہر چار سو ہیں مگر تو کہاں ہے
خمارِ غریبی میں بے غم گزرتی ہے ناصر
درختوں سے بڑھ کر مجھے دھوپ کا سائباں ہے
ناصر کاظمی

تو ایک بار تو مل، سب گلے مٹا دُوں گا

جو گفتنی نہیں وہ بات بھی سنا دُوں گا
تو ایک بار تو مل، سب گلے مٹا دُوں گا
مجال ہے کوئی مجھ سے تجھے جدا کر دے
جہاں بھی جائے گا تو میں تجھے صدا دُوں گا
تری گلی میں بہت دیر سے کھڑا ہوں مگر
کسی نے پوچھ لیا تو جواب کیا دُوں گا
مری خموش نگاہوں کو چشمِ کم سے نہ دیکھ
میں رو پڑا تو دلوں کے طبق ہلا دُوں گا
یونہی اداس رہا میں تو دیکھنا اِک دِن
تمام شہر میں تنہائیاں بچھا دُوں گا
بہ پاسِ صحبتِ دیرینہ کوئی بات ہی کر
نظر ملا تو سہی میں تجھے دُعا دُوں گا
بلاؤں گا نہ ملوں گا نہ خط لکھوں گا تجھے
تری خوشی کے لیے خود کو یہ سزا دُوں گا
وہ درد ہی نہ رہا ورنہ اے متاعِ حیات
مجھے گماں بھی نہ تھا میں تجھے بھلا دُوں گا
ابھی تو رات ہے کچھ دیر سو ہی لے ناصر
کوئی بلائے گا تو میں تجھے جگا دُوں گا
ناصر کاظمی

جانے کیا اضطراب میں دیکھا

شعلہ سا پیچ و تاب میں دیکھا
جانے کیا اضطراب میں دیکھا
گل کدوں کے طلسم بھول گئے
وہ تماشا نقاب میں دیکھا
آج ہم نے تمام حسنِ بہار
ایک برگِ گلاب میں دیکھا
سر کھلے، پا برہنہ، کوٹھے پر
رات اُسے ماہتاب میں دیکھا
فرصتِ موسمِ نشاط نہ پوچھ
جیسے اِک خواب، خواب میں دیکھا
ناصر کاظمی

زِندگی تو ہی بتا کیسے جیا چاہیے

دل کے لیے درد بھی روز نیا چاہیے
زِندگی تو ہی بتا کیسے جیا چاہیے
میری نوائیں الگ، میری دُعائیں الگ
میرے لیے آشیاں سب سے جدا چاہیے
نرم ہے برگِ سمن، گرم ہے میرا سخن
میری غزل کے لیے ظرف نیا چاہیے
سر نہ کھپا اے جرس، مجھ کو مرا دل ہے بس
فرصتِ یک دو نفس مثلِ صبا چاہیے
باغ ترا باغباں ، تو ہے عبث بدگماں
مجھ کو تو اے مہرباں ، تھوڑی سی جا چاہیے
خوب ہیں گل پھول بھی تیرے چمن میں مگر
صِحنِ چمن میں کوئی نغمہ سرا چاہیے
ہے یہی عینِ وفا دل نہ کسی کا دُکھا
اپنے بھلے کے لیے سب کا بھلا چاہیے
بیٹھے ہو کیوں ہار کے سائے میں دیوار کے
شاعرِو، صورت گرو کچھ تو کیا چاہیے
مانو مری کاظمی تم ہو بھلے آدمی
پھر وُہی آوارگی کچھ تو حیا چاہیے
ناصر کاظمی

بھیس جدائی نے بدلا ہے

تو ہے یا تیرا سایا ہے
بھیس جدائی نے بدلا ہے
دل کی حویلی پر مدت سے
خاموشی کا قفل پڑا ہے
چیخ رہے ہیں خالی کمرے
شام سے کتنی تیز ہوا ہے
دروازے سر پھوڑ رہے ہیں
کون اس گھر کو چھوڑ گیا ہے
تنہائی کو کیسے چھوڑوں
برسوں میں اِک یار ملا ہے
رات اندھیری ناؤ نہ ساتھی
رستے میں دریا پڑتا ہے
ہچکی تھمتی ہی نہیں ناصر
آج کسی نے یاد کیا ہے
ناصر کاظمی

کہنے کو سب کچھ اپنا ہے

اِس دُنیا میں اپنا کیا ہے
کہنے کو سب کچھ اپنا ہے
یوں تو شبنم بھی ہے دریا
یوں تو دریا بھی پیاسا ہے
یوں تو ہیرا بھی ہے کنکر
یوں تو مٹی بھی سونا ہے
منہ دیکھے کی باتیں ہیں سب
کس نے کس کو یاد کیا ہے
تیرے ساتھ گئی وہ رونق
اب اِس شہر میں کیا رکھا ہے
بات نہ کر صورت تو دِکھا دے
تیرا اس میں کیا جاتا ہے
دھیان کے آتشدان میں ناصر
بجھے دِنوں کا ڈھیر پڑا ہے
ناصر کاظمی

اِک دبستانِ ہنر کھولیں گے

اہلِ دل آنکھ جدھر کھولیں گے
اِک دبستانِ ہنر کھولیں گے
وہیں رُک جائیں گے تاروں کے قدم
ہم جہاں رختِ سفر کھولیں گے
بحرِ ایجاد خطرناک سہی
ہم ہی اب اس کا بھنور کھولیں گے
کنج میں بیٹھے ہیں چپ چاپ طیور
برف پگھلے گی تو پر کھولیں گے
آج کی رات نہ سونا یارو
آج ہم ساتواں در کھولیں گے
ناصر کاظمی

سونے پر ہے بھاری مٹی

پیارے دیس کی پیاری مٹی
سونے پر ہے بھاری مٹی
کیسے کیسے بوٹے نکلے
لال ہوئی جب ساری مٹی
دُکھ کے آنسو سکھ کی یادیں
کھارا پانی کھاری مٹی
تیرے وعدے میرے دعوے
ہو گئے باری باری مٹی
گلیوں میں اُڑتی پھرتی ہے
تیرے ساتھ ہماری مٹی
ناصر کاظمی

نقشے کبھی اس اُجڑے ہوئے گھر کے تو دیکھو

دل بھی عجب عالم ہے نظر بھر کے تو دیکھو
نقشے کبھی اس اُجڑے ہوئے گھر کے تو دیکھو
اے دیدہ ور و دیدئہ پرنم کی طرف بھی
مشتاق ہو لعل و زر و گوہر کے تو دیکھو
بے زادِ سفر جیب تہی شہر نوردی
یوں میری طرح عمر کے دِن بھر کے تو دیکھو
کہتے ہیں غزل قافیہ پیمائی ہے ناصر
یہ قافیہ پیمائی ذرا کر کے تو دیکھو
ناصر کاظمی

نہ سنو تم تو کیا کہے کوئی

کب تلک مدعا کہے کوئی
نہ سنو تم تو کیا کہے کوئی
غیرتِ عشق کو قبول نہیں
کہ تجھے بے وفا کہے کوئی
منّتِ ناخدا نہیں منظور
چاہے اس کو خدا کہے کوئی
ہر کوئی اپنے غم میں ہے مصروف
کس کو درد آشنا کہے کوئی
کون اچھا ہے اِس زمانے میں
کیوں کسی کو برا کہے کوئی
کوئی تو حق شناس ہو یارب
ظلم کو ناروا کہے کوئی
وہ نہ سمجھیں گے اِن کنایوں کو
جو کہے برملا کہے کوئی
آرزُو ہے کہ میرا قصّہِ شوق
آج میرے سوا کہے کوئی
جی میں آتا ہے کچھ کہوں ناصر
کیا خبر سن کے کیا کہے کوئی
ناصر کاظمی

جو زخم دل کو ملے تھے وہ بھرتے جاتے ہیں

تری نگاہ کے جادُو بکھرتے جاتے ہیں
جو زخم دل کو ملے تھے وہ بھرتے جاتے ہیں
ترے بغیر وہ دِن بھی گزر گئے آخر
ترے بغیر یہ دِن بھی گزرتے جاتے ہیں
لیے چلو مجھے دریائے شوق کی موجو
کہ ہمسفر تو مرے پار اُترتے جاتے ہیں
تمام عمر جہاں ہنستے کھیلتے گزری
اب اُس گلی میں بھی ہم ڈرتے ڈرتے جاتے ہیں
میں خواہشوں کے گھروندے بنائے جاتا ہوں
وہ محنتیں مری برباد کرتے جاتے ہیں
ناصر کاظمی

کچھ تو بتا کیا بات ہوئی ہے

آج تجھے کیوں چپ سی لگی ہے
کچھ تو بتا کیا بات ہوئی ہے
آج تو جیسے ساری دُنیا
ہم دونوں کو دیکھ رہی ہے
تو ہے اور بے خواب دریچے
میں ہوں اور سنسان گلی ہے
خیر تجھے تو جانا ہی تھا
جان بھی تیرے ساتھ چلی ہے
اب تو آنکھ لگا لے ناصر
دیکھ تو کتنی رات گئی ہے
ناصر کاظمی

اس چمن کی ہے آبرو ہم سے

جلوہ ساماں ہے رنگ و بو ہم سے
اس چمن کی ہے آبرو ہم سے
درس لیتے ہیں خوش خرامی کا
موجِ دریا و آبِ جو ہم سے
ہر سحر بارگاہِ شبنم میں
پھول ملتے ہیں باوضو ہم سے
ہم سے روشن ہے کارگاہِ سخن
نفسِ گل ہے مشک بؤ ہم سے
شب کی تنہائیوں میں پچھلے پہر
چاند کرتا ہے گفتگو ہم سے
شہر میں اب ہمارے چرچے ہیں
جگمگاتے ہیں کاخ و کو ہم سے
ناصر کاظمی

ہوا کہیں کی ہو سینہ فگار اپنا ہے

کسی کا درد ہو دل بیقرار اپنا ہے
ہوا کہیں کی ہو سینہ فگار اپنا ہے
ہو کوئی فصل مگر زخم کھل ہی جاتے ہیں
سدا بہار دلِ داغدار اپنا ہے
بلا سے ہم نہ پیئیں میکدہ تو گرم ہوا
بقدرِ تشنگی رنجِ خمار اپنا ہے
جو شاد پھرتے تھے کل آج چھپ کے روتے ہیں
ہزار شکر غمِ پائیدار اپنا ہے
اسی لیے یہاں کچھ لوگ ہم سے جلتے ہیں
کہ جی جلانے میں کیوں اختیار اپنا ہے
نہ تنگ کر دلِ محزوں کو اے غمِ دُنیا
خدائی بھر میں یہی غم گسار اپنا ہے
کہیں ملا تو کسی دن منا ہی لیں گے اُسے
وہ زُود رنج سہی پھر بھی یار اپنا ہے
وہ کوئی اپنے سوا ہو تو اس کا شکوہ کروں
جدائی اپنی ہے اور انتظار اپنا ہے
نہ ڈھونڈ ناصرِ آشفۃ حال کو گھر میں
وہ بوئے گل کی طرح بے قرار اپنا ہے
ناصر کاظمی

دیا سا رات بھر جلتا رہا ہے

ترے آنے کا دھوکا سا رہا ہے
دیا سا رات بھر جلتا رہا ہے
عجب ہے رات سے آنکھوں کا عالم
یہ دریا رات بھر چڑھتا رہا ہے
سنا ہے رات بھر برسا ہے بادل
مگر وہ شہر جو پیاسا رہا ہے
وہ کوئی دوست تھا اچھے دِنوں کا
جو پچھلی رات سے یاد آ رہا ہے
کسے ڈھونڈو گے ان گلیوں میں ناصر
چلو اب گھر چلیں دِن جا رہا ہے
ناصر کاظمی

جیسے بلقیس سلیماں کے محل میں آئے

یوں ترے حسن کی تصویر غزل میں آئے
جیسے بلقیس سلیماں کے محل میں آئے
جبر سے ایک ہوا ذائقہِ ہجر و وصال
اب کہاں سے وہ مزا صبر کے پھل میں آئے
ہمسفر تھی جہاں فرہاد کے تیشے کی صدا
وہ مقامات بھی کچھ سیرِ جبل میں آئے
یہ بھی آرائشِ ہستی کا تقاضا تھا کہ ہم
حلقہِ فکر سے میدانِ عمل میں آئے
ہر قدم دست و گریباں ہے یہاں خیر سے شر
ہم بھی کس معرکہِ جنگ و جدل میں آئے
زِندگی جن کے تصوّر سے جلا پاتی تھی
ہائے کیا لوگ تھے جو دامِ اجل میں آئے
ناصر کاظمی

کچھ کہو یارو یہ بستی ہے کہ ویرانہ کوئی

کوئی صورت آشنا اپنا نہ بیگانہ کوئی
کچھ کہو یارو یہ بستی ہے کہ ویرانہ کوئی
صبح دم دیکھا تو سارا باغ تھا گل کی طرف
شمع کے تابوت پر رویا نہ پروانہ کوئی
خلوتوں میں روئے گی چھپ چھپ کے لیلائے غزل
اس بیاباں میں نہ اب آئے گا دِیوانہ کوئی
ہمنشیں خاموش، دیواریں بھی سنتی ہیں یہاں
رات ڈھل جائے تو پھر چھیڑیں گے افسانہ کوئی
ناصر کاظمی

تو نے وعدہ کیا تھا یاد تو کر

تیری مجبوریاں درست مگر
تو نے وعدہ کیا تھا یاد تو کر
تو جہاں چند روز ٹھہرا تھا
یاد کرتا ہے تجھ کو آج وہ گھر
ہم جہاں روز سیر کرتے تھے
آج سنسان ہے وہ راہگزر
تو جو ناگاہ سامنے آیا
رکھ لیے میں نے ہاتھ آنکھوں پر
ناصر کاظمی

بچا لیے تھے جو آنسو برائے شامِ فراق

چراغ بن کے وہی جھلملائے شامِ فراق
بچا لیے تھے جو آنسو برائے شامِ فراق
کدھر چلے گئے وہ ہم نوائے شامِ فراق
کھڑی ہے در پہ مرے سر جھکائے شامِ فراق
پلک اُٹھاتے ہی چنگاریاں برستی ہیں
بچھی ہے آگ سی کیا زیرِپائے شامِ فراق
یہ رینگتی چلی آتی ہیں کیا لکیریں سی
یہ ڈھونڈتی ہے کسے سائے سائے شامِ فراق
کبھی یہ فکر کہ دن کو بھی منہ دِکھانا ہے
کبھی یہ غم کہ پھر آئے نہ آئے شامِ فراق
وہ اشکِ خوں ہی سہی دل کا کوئی رنگ تو ہو
اب آ گئی ہے تو خالی نہ جائے شامِ فراق
بجھی بجھی سی ہے کیوں چاند کی ضیا ناصر
کہاں چلی ہے یہ کاسہ اُٹھائے شامِ فراق
ناصر کاظمی

بیِتے لمحوں کی جھانجھن

ساری رات جگاتی ہے
بیِتے لمحوں کی جھانجھن
لال کھجوروں نے پہنے
زرد بگولوں کے کنگن
چلتا دریا، ڈھلتی رات
سن سن کرتی تیز پون
ہونٹوں پر برسوں کی پیاس
آنکھوں میں کوسوں کی تھکن
پہلی بارش، میں اور تو
زرد پہاڑوں کا دامن
پیاسی جھیل اور دو چہرے
دو چہرے اور اِک درپن
تیری یاد سے لڑتا ہوں
دیکھ تو میرا پاگل پن
ناصر کاظمی

اب اُس پیڑ کے پتے جھڑتے جاتے ہیں

ہم جس پیڑ کی چھاؤں میں بیٹھا کرتے تھے
اب اُس پیڑ کے پتے جھڑتے جاتے ہیں
ایک انوکھی بستی دھیان میں بستی ہے
اُس بستی کے باسی مجھے بلاتے ہیں
میں تو آنکھیں بند کیے بیٹھا ہوں مگر
دل کے دروازے کیوں کھلتے جاتے ہیں
تو آنکھوں سے اوجھل ہوتا جاتا ہے
دُور کھڑے ہم خالی ہاتھ ہلاتے ہیں
جب بھی نئے سفر پر جاتا ہوں ناصر
پچھلے سفر کے ساتھی دھیان میں آتے ہیں
ناصر کاظمی

کہو تو کیوں نہ ابھی سے کچھ اہتمام کریں

تم آگئے ہو تو کیوں انتظارِ شام کریں
کہو تو کیوں نہ ابھی سے کچھ اہتمام کریں
خلوص و مہر و وفا لوگ کر چکے ہیں بہت
مرے خیال میں اب اور کوئی کام کریں
یہ خاص و عام کی بیکار گفتگو کب تک
قبول کیجیے جو فیصلہ عوام کریں
ہر آدمی نہیں شائستہِ رموزِ سخن
وہ کم سخن ہو مخاطب تو ہم کلام کریں
جدا ہوئے ہیں بہت لوگ ایک تم بھی سہی
اب اتنی بات پہ کیا زِندگی حرام کریں
خدا اگر کبھی کچھ اختیار دے ہم کو
تو پہلے خاک نشینوں کا انتظام کریں
رہِ طلب میں جو گمنام مر گئے ناصر
متاعِ درد اُنہی ساتھیوں کے نام کریں
ناصر کاظمی

تونے جو دیکھا سنا کیا میں نے دیکھا ہے نہ پوچھ

موسمِ گلزارِ ہستی اِن دنوں کیا ہے نہ پوچھ
تونے جو دیکھا سنا کیا میں نے دیکھا ہے نہ پوچھ
ہاتھ زخمی ہیں تو پلکوں سے گلِ منظر اُٹھا
پھول تیرے ہیں نہ میرے باغ کس کا ہے نہ پوچھ
رات اندھیری ہے تو اپنے دھیان کی مشعل جلا
قافلے والوں میں کس کو کس کی پروا ہے نہ پوچھ
جو ترا محرم ملا اس کو نہ تھی اپنی خبر
شہر میں تیرا پتا کس کس سے پوچھا ہے نہ پوچھ
ناصر کاظمی

کیا چیز زندہ بند ہے دل کے رباب میں

بدلی نہ اس کی رُوح کسی اِنقلاب میں
کیا چیز زندہ بند ہے دل کے رباب میں
لفظوں میں بولتا ہے رگِ عصر کا لہو
لکھتا ہے دستِ غیب کوئی اس کتاب میں
تو ڈھونڈتی ہے اب کسے اے شامِ زندگی
وہ دِن تو خرچ ہو گئے غم کے حساب میں
خوش وقتیوں میں تم جنہیں بھولے ہوئے ہو آج
وہ یاد آئیں گے تمھیں حالِ خراب میں
یارانِ زُود نشہ کا عالم یہ ہے تو آج
یہ رات ڈوب جائے گی جامِ شراب میں
نیندیں بھٹکتی پھرتی ہیں گلیوں میں ساری رات
یہ شہر چھپ کے رات کو سوتا ہے آب میں
یہ آج راہ بھول کے آئے کدھر سے آپ
یہ خواب میں نے رات ہی دیکھا تھا خواب میں
ناصر کاظمی

سچ ہے یارو خطا ہمیں سے ہوئی

زِندگی بھر وفا ہمیں سے ہوئی
سچ ہے یارو خطا ہمیں سے ہوئی
دل نے ہر داغ کو رکھا محفوظ
یہ زمیں خوشنما ہمیں سے ہوئی
ہم سے پہلے زمینِ شہرِ وفا
خاک تھی کیمیا ہمیں سے ہوئی
کتنی مردم شناس ہے دُنیا
منحرف بے حیا ہمیں سے ہوئی
کون اُٹھاتا شبِ فراق کے ناز
یہ بلا آشنا ہمیں سے ہوئی
بے غرض کون دل گنواتا ہے
تیری قیمت ادا ہمیں سے ہوئی
ستمِ ناروا تجھی سے ہوا
تیرے حق میں دُعا ہمیں سے ہوئی
سعیِٔ تجدیدِ دوستی ناصر
آج کیا بارہا ہمیں سے ہوئی
ناصر کاظمی

ابر گرجا گلِ باراں چمکے

پھر نئی فصل کے عنواں چمکے
ابر گرجا گلِ باراں چمکے
آنکھ جھپکوں تو شرارے برسیں
سانس کھینچوں تو رگِ جاں چمکے
کیا بگڑ جائے گا اے صبحِ جمال
آج اگر شامِ غریباں چمکے
اے فلک بھیج کوئی برقِ خیال
کچھ تو شامِ شبِ ہجراں چمکے
پھر کوئی دل کو دُکھائے ناصر
کاش یہ گھر کسی عنواں چمکے
ناصر کاظمی

اے دل قفسِ جاں میں ذرا اور پھڑک لے

جب تک نہ لہو دیدئہ انجم سے ٹپک لے
اے دل قفسِ جاں میں ذرا اور پھڑک لے
ذرّے ہیں ہوس کے بھی زرِ نابِ وفا میں
ہاں جنسِ وفا کو بھی ذرا چھان پھٹک لے
پھر دیکھنا اُس کے لبِ لعلیں کی ادائیں
یہ آتشِ خاموش ذرا اور دہک لے
گونگا ہے تو لب بستوں سے آدابِ سخن سیکھ
اندھا ہے تو ہم ظلم رسیدوں سے چمک لے
ناصر سے کہے کون کہ اللہ کے بندے
باقی ہے ابھی رات ذرا آنکھ چھپک لے
ناصر کاظمی

عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی

آج تو بے سبب اُداس ہے جی
عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی
جلتا پھرتا ہوں میں دوپہروں میں
جانے کیا چیز کھو گئی میری
وہیں پھرتا ہوں میں بھی خاک بسر
اس بھرے شہر میں ہے ایک گلی
چھپتا پھرتا ہے عشق دُنیا سے
پھیلتی جا رہی ہے رُسوائی
ہم نشیں کیا کہوں کہ وہ کیا ہے
چھوڑ یہ بات نیند اُڑنے لگی
آج تو وہ بھی کچھ خموش سا تھا
میں نے بھی اُس سے کوئی بات نہ کی
ایک دم اُس کے ہونٹ چوم لیے
یہ مجھے بیٹھے بیٹھے کیا سوجھی
ایک دم اُس کا ہاتھ چھوڑ دیا
جانے کیا بات درمیاں آئی
تو جو اِتنا اُداس ہے ناصر
تجھے کیا ہو گیا بتا تو سہی
ناصر کاظمی

ترا دل گداز ہو کس طرح یہ ترے مزاج کی لے نہیں

تو اسیرِ بزم ہے ہم سخن تجھے ذوقِ نالہِ نے نہیں
ترا دل گداز ہو کس طرح یہ ترے مزاج کی لے نہیں
ترا ہر کمال ہے ظاہری ترا ہر خیال ہے سرسری
کوئی دل کی بات کروں تو کیا ترے دل میں آگ تو ہے نہیں
جسے سن کے رُوح مہک اُٹھے جسے پی کے درد چہک اُٹھے
ترے ساز میں وہ صدا نہیں ترے میکدے میں وہ مے نہیں
کہاں اب وہ موسمِ رنگ و بو کہ رگوں میں بول اُٹھے لہو
یونہی ناگوار چبھن سی ہے کہ جو شاملِ رگ وپے نہیں
ترا دل ہو درد سے آشنا تو یہ نالہ غور سے سن ذرا
بڑا جاں گسل ہے یہ واقعہ یہ فسانہِ جم و کے نہیں
میں ہوں ایک شاعرِ بے نوا مجھے کون چاہے مرے سوا
میں امیرِ شام و عجم نہیں میں کبیرِ کوفہ و رَے نہیں
یہی شعر ہیں مری سلطنت اِسی فن میں ہے مجھے عافیت
مرے کاسہِ شب و روز میں ترے کام کی کوئی شے نہیں
ناصر کاظمی

چاند کے سب رنگ پھیکے ہو گئے

دُھوپ نکلی دِن سہانے ہو گئے
چاند کے سب رنگ پھیکے ہو گئے
کیا تماشا ہے کہ بے ایامِ گل
ٹہنیوں کے ہاتھ پیلے ہو گئے
اِس قدر رویا ہوں تیری یاد میں
آئنے آنکھوں کے دُھندلے ہو گئے
ہم بھلا چپ رہنے والے تھے کہیں
ہاں مگر حالات ایسے ہو گئے
اب تو خوش ہو جائیں اربابِ ہوس
جیسے وہ تھے ہم بھی ویسے ہو گئے
حسن اب ہنگامہ آرا ہو تو ہو
عشق کے دعوے تو جھوٹے ہو گئے
اے سکوتِ شامِ غم یہ کیا ہوا
کیا وہ سب بیمار اچھے ہو گئے
دل کو تیرے غم نے پھر آواز دی
کب کے بچھڑے پھر اِکٹھے ہو گئے
آؤ ناصر ہم بھی اپنے گھر چلیں
بند اس گھر کے دریچے ہو گئے
ناصر کاظمی

دل کی آواز سنا دی ہم نے

سرِ مقتل بھی صدا دی ہم نے
دل کی آواز سنا دی ہم نے
پہلے اِک روزنِ در توڑا تھا
اب کے بنیاد ہلا دی ہم نے
پھر سرِ صبح وہ قصہ چھیڑا
دِن کی قندیل بجھا دی ہم نے
آتشِ غم کے شرارے چن کر
آگ زِنداں میں لگا دی ہم نے
رہ گئے دستِ صبا کملا کر
پھول کو آگ پلا دی ہم نے
آتشِ گل ہو کہ ہو شعلہِ ساز
جلنے والوں کو ہوا دی ہم نے
کتنے اَدوار کی گم گشتہ نوا
سینہِ نے میں چھپا دی ہم نے
دمِ مہتاب فشاں سے ناصر
آج تو رات جگا دی ہم نے
ناصر کاظمی

اس خرابے میں یہ دِیوار کہاں سے آئی

دفعتہ دل میں کسی یاد نے لی انگڑائی
اس خرابے میں یہ دِیوار کہاں سے آئی
آج کھلنے ہی کو تھا دردِ محبت کا بھرم
وہ تو کہیے کہ اچانک ہی تری یاد آئی
نشہِ تلخیٔ ایام اُترتا ہی نہیں
تیری نظروں نے گلابی بہت چھلکائی
یوں تو ہر شخص اکیلا ہے بھری دُنیا میں
پھر بھی ہر دل کے مقدر میں نہیں تنہائی
یوں تو ملنے کو وہ ہر روز ہی ملتا ہے مگر
دیکھ کر آج اُسے آنکھ بہت للچائی
ڈوبتے چاند پہ روئی ہیں ہزاروں آنکھیں
میں تو رویا بھی نہیں ، تم کو ہنسی کیوں آئی
رات بھر جاگتے رہتے ہو بھلا کیوں ناصر
تم نے یہ دَولتِ بیدار کہاں سے پائی
ناصر کاظمی

یارو یہ کیسی ہوا ہے اب کے

پھول خوشبو سے جدا ہے اب کے
یارو یہ کیسی ہوا ہے اب کے
دوست بچھڑے ہیں کئی بار مگر
یہ نیا داغ کھلا ہے اب کے
پتیاں روتی ہیں سر پیٹتی ہیں
قتلِ گل عام ہوا ہے اب کے
شفقی ہو گئی دیوارِ خیال
کس قدر خون بہا ہے اب کے
منظرِ زخمِ وفا کس کو دِکھائیں
شہر میں قحطِ وفا ہے اب کے
وہ تو پھر غیر تھے لیکن یارو
کام اپنوں سے پڑا ہے اب کے
کیا سنیں شورِ بہاراں ناصر
ہم نے کچھ اور سنا ہے اب کے
ناصر کاظمی

میں اپنے ہاتھ کاٹ لوں تو اپنے ہونٹ سی

اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی
میں اپنے ہاتھ کاٹ لوں تو اپنے ہونٹ سی
کن بے دِلوں میں پھینک دیا حادثات نے
آنکھوں میں جن کی نور نہ باتوں میں تازگی
بول اے مرے دیار کی سوئی ہوئی زمیں
میں جن کو ڈھونڈتا ہوں کہاں ہیں وہ آدمی
وہ شاعروں کا شہر وہ لاہور بجھ گیا
اگتے تھے جس میں شعر وہ کھیتی ہی جل گئی
میٹھے تھے جِن کے پھل وہ شجر کٹ کٹا گئے
ٹھنڈی تھی جس کی چھاؤں وہ دیوار گر گئی
بازار بند راستے سنسان بے چراغ
وہ رات ہے کہ گھر سے نکلتا نہیں کوئی
گلیوں میں اب تو شام سے پھرتے ہیں پہرہ دار
ہے کوئی کوئی شمع سو وہ بھی بجھی بجھی
اے روشنیٔ دِیدہ و دل اب نظر بھی آ
دُنیا ترے فراق میں اندھیر ہو گئی
القصہ جیب چاک ہی کرنی پڑی ہمیں
گو اِبتدائے غم میں بڑی احتیاط کی
اب جی میں ہے کہ سر کسی پتھر سے پھوڑیے
ممکن ہے قلبِ سنگ سے نکلے کوئی پری
بیکار بیٹھے رہنے سے بہتر ہے کوئی دِن
تصویر کھینچیے کسی موجِ خیال کی
ناصر بہت سی خواہشیں دل میں ہیں بے قرار
لیکن کہاں سے لاؤں وہ بے فکر زندگی
ناصر کاظمی

کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی

دل میں اِک لہر سی اٹھی ہے ابھی
کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی
شور برپا ہے خانہِ دل میں
کوئی دِیوار سی گری ہے ابھی
بھری دُنیا میں جی نہیں لگتا
جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی
تو شریکِ سخن نہیں ہے تو کیا
ہم سخن تیری خامشی ہے ابھی
یاد کے بے نشاں جزیروں سے
تیری آواز آ رہی ہے ابھی
شہر کی بے چراغ گلیوں میں
زِندگی تجھ کو ڈھونڈتی ہے ابھی
سو گئے لوگ اُس حویلی کے
ایک کھڑکی مگر کھلی ہے ابھی
تم تو یارو ابھی سے اُٹھ بیٹھے
شہر میں رات جاگتی ہے ابھی
کچھ تو نازک مزاج ہیں ہم بھی
اور یہ چوٹ بھی نئی ہے ابھی
وقت اچھا بھی آئے گا ناصر
غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی
ناصر کاظمی

خاک ہو کر کہیں بکھر جائیں

شہر سنسان ہے کدھر جائیں
خاک ہو کر کہیں بکھر جائیں
رات کتنی گزر گئی لیکن
اِتنی ہمت نہیں کہ گھر جائیں
یوں ترے دھیان سے لرزتا ہوں
جیسے پتے ہوا سے ڈر جائیں
اُن اُجالوں کی دُھن میں پھرتا ہوں
چھب دکھاتے ہی جو گزر جائیں
رَین اندھیری ہے اور کنارہ دُور
چاند نکلے تو پار اُتر جائیں
ناصر کاظمی

کیسی سنسان فضا ہوتی ہے

جب ذرا تیز ہوا ہوتی ہے
کیسی سنسان فضا ہوتی ہے
ہم نے دیکھے ہیں وہ سناٹے بھی
جب ہر اِک سانس صدا ہوتی ہے
دل کا یہ حال ہوا تیرے بعد
جیسے وِیران سرا ہوتی ہے
رونا آتا ہے ہمیں بھی لیکن
اس میں توہینِ وفا ہوتی ہے
منہ اندھیرے کبھی اُٹھ کر دیکھو
کیا تر و تازہ ہوا ہوتی ہے
اجنبی دھیان کی ہر موج کے ساتھ
کس قدر تیز ہوا ہوتی ہے
غم کی بے نور گزرگاہوں میں
اِک کرن ذوق فزا ہوتی ہے
غمگسارِ سفرِ راہِ وفا
مژئہ آبلہ پا ہوتی ہے
گلشنِ فکر کی منہ بند کلی
شبِ مہتاب میں وا ہوتی ہے
جب نکلتی ہے نگار شبِ گل
منہ پہ شبنم کی ردا ہوتی ہے
حادثہ ہے کہ خزاں سے پہلے
بوئے گل، گل سے جدا ہوتی ہے
اِک نیا دَور جنم لیتا ہے
ایک تہذیب فنا ہوتی ہے
جب کوئی غم نہیں ہوتا ناصر
بے کلی دل کی سوا ہوتی ہے
ناصر کاظمی

مجھ سے اِتنی وحشت ہے تو میری حدوں سے دُور نکل

گلی گلی مری یاد بچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چل
مجھ سے اِتنی وحشت ہے تو میری حدوں سے دُور نکل
ایک سمے ترا پھول سا نازک ہاتھ تھا میرے شانوں پر
ایک یہ وقت کہ میں تنہا اور دُکھ کے کانٹوں کا جنگل
یاد ہے اب تک تجھ سے بچھڑنے کی وہ اندھیری شام مجھے
تو خاموش کھڑا تھا لیکن باتیں کرتا تھا کاجل
میں تو ایک نئی دُنیا کی دُھن میں بھٹکتا پھرتا ہوں
میری تجھ سے کیسے نبھے گی ایک ہیں تیرے فکر و عمل
میرا منہ کیا دیکھ رہا ہے، دیکھ اس کالی رات کو دیکھ
میں وہی تیرا ہمراہی ہوں ساتھ مرے چلنا ہو تو چل
ناصر کاظمی

میں بھی تیرے جیسا ہوں

اپنی دُھن میں رہتا ہوں
میں بھی تیرے جیسا ہوں
او پچھلی رُت کے ساتھی
اب کے برس میں تنہا ہوں
تیری گلی میں سارا دن
دُکھ کے کنکر چنتا ہوں
مجھ سے آنکھ ملائے کون
میں تیرا آئینہ ہوں
میرا دِیا جلائے کون
مَیں ترا خالی کمرہ ہوں
تیرے سوا مجھے پہنے کون
میں ترے تن کا کپڑا ہوں
تو جیون کی بھری گلی
میں جنگل کا رستہ ہوں
آتی رُت مجھے روئے گی
جاتی رُت کا جھونکا ہوں
اپنی لہر ہے اپنا روگ
دریا ہوں اور پیاسا ہوں
ناصر کاظمی

کبھی تم بھی سنو یہ دھرتی کیا کچھ کہتی ہے

اِن سہمے ہوئے شہروں کی فضا کچھ کہتی ہے
کبھی تم بھی سنو یہ دھرتی کیا کچھ کہتی ہے
یہ ٹھٹھری ہوئی لمبی راتیں کچھ پوچھتی ہیں
یہ خامشیٔ آواز نما کچھ کہتی ہے
سب اپنے گھروں میں لمبی تان کے سوتے ہیں
اَور دُور کہیں کوئل کی صدا کچھ کہتی ہے
جب صبح کو چڑیاں باری باری بولتی ہیں
کوئی نامانوس اُداس نوا کچھ کہتی ہے
جب رات کو تارے باری باری جاگتے ہیں
کئی ڈوبے ہوئے تاروں کی ندا کچھ کہتی ہے
کبھی بھور بھئے کبھی شام پڑے کبھی رات گئے
ہر آن بدلتی رُت کی ہوا کچھ کہتی ہے
مہمان ہیں ہم مہمان سرا ہے یہ نگری
مہمانوں کو مہمان سرا کچھ کہتی ہے
بیدار رہو بیدار رہو بیدار رہو
اے ہم سفرو آوازِ درا کچھ کہتی ہے
ناصر آشوبِ زمانہ سے غافل نہ رہو
کچھ ہوتا ہے جب خلقِ خدا کچھ کہتی ہے
ناصر کاظمی

کوئی بھی یادگارِ رفتہ نہیں

گل نہیں مے نہیں پیالہ نہیں
کوئی بھی یادگارِ رفتہ نہیں
فرصتِ شوق بن گئی دِیوار
اب کہیں بھاگنے کا رستہ نہیں
ہوش کی تلخیاں مٹیں کیسے
جتنی پیتا ہوں اُتنا نشہ نہیں
دل کی گہرائیوں میں ڈُوب کے دیکھ
کوئی نغمہ خوشی کا نغمہ نہیں
غم بہر رنگ دل کشا ہے مگر
سننے والوں کو تابِ نالہ نہیں
مجھ سے کہتی ہے مَوجِ صبحِ نشاط
پھول خیمہ ہے پیش خیمہ نہیں
ابھی وہ رنگ دل میں پیچاں ہیں
جنھیں آواز سے علاقہ نہیں
ابھی وہ دشت منتظر ہیں مرے
جن پہ تحریر پائے ناقہ نہیں
یہ اندھیرے سلگ بھی سکتے ہیں
تیرے دل میں مگر وہ شعلہ نہیں
راکھ کا ڈھیر ہے وہ دل ناصر
جس کی دھڑکن صدائے تیشہ نہیں
ناصر کاظمی

یاد نے کنکر پھینکا ہو گا

دکھ کی لہر نے چھیڑا ہو گا
یاد نے کنکر پھینکا ہو گا
آج تو میرا دل کہتا ہے
تو اِس وقت اکیلا ہو گا
میرے چومے ہوئے ہاتھوں سے
اَوروں کو خط لکھتا ہو گا
بھیگ چلیں اب رات کی پلکیں
تو اب تھک کر سویا ہو گا
ریل کی گہری سیٹی سن کر
رات کا جنگل گونجا ہو گا
شہر کے خالی اسٹیشن پر
کوئی مسافر اُترا ہو گا
آنگن میں پھر چڑیاں بولیں
تو اب سو کر اٹھا ہو گا
یادوں کی جلتی شبنم سے
پھول سا مکھڑا دھویا ہو گا
موتی جیسی شکل بنا کر
آئنے کو تکتا ہو گا
شام ہوئی اب تو بھی شاید
اپنے گھر کو لوٹا ہو گا
نیلی دُھندلی خاموشی میں
تاروں کی دُھن سنتا ہو گا
میرا ساتھی شام کا تارا
تجھ سے آنکھ ملاتا ہو گا
شام کے چلتے ہاتھ نے تجھ کو
میرا سلام تو بھیجا ہو گا
پیاسی کرلاتی کونجوں نے
میرا دُکھ تو سنایا ہو گا
میں تو آج بہت رویا ہوں
تو بھی شاید رویا ہو گا
ناصر تیرا میت پرانا
تجھ کو یاد تو آتا ہو گا
ناصر کاظمی

کارواں پھر ملیں گے بہم صبر کر صبر کر

رہ نوردِ بیابانِ غم صبر کر صبر کر
کارواں پھر ملیں گے بہم صبر کر صبر کر
بے نشاں ہے سفر رات ساری پڑی ہے مگر
آ رہی ہے صدا دم بدم صبر کر صبر کر
تیری فریاد گونجے گی دھرتی سے آکاش تک
کوئی دِن اور سہہ لے ستم صبر کر صبر کر
تیرے قدموں سے جاگیں گے اُجڑے دِلوں کے ختن
پاشکستہ غزالِ حرم صبر کر صبر کر
شہر اُجڑے تو کیا، ہے کشادہ زمینِ خدا
اِک نیا گھر بنائیں گے ہم صبر کر صبر کر
یہ محلاتِ شاہی تباہی کے ہیں منتظر
گرنے والے ہیں اِن کے علم صبر کر صبر کر
دف بجائیں گے برگ و شجر صف بہ صف ہر طرف
خشک مٹی سے پھوٹے گا نم صبر کر صبر کر
لہلہائیں گی پھر کھیتیاں کارواں کارواں
کھل کے برسے گا ابرِ کرم صبر کر صبر کر
کیوں پٹکتا ہے سر سنگ سے جی جلا ڈھنگ سے
دل ہی بن جائے گا خود صنم صبر کر صبر کر
پہلے کھل جائے دل کا کنول پھر لکھیں گے غزل
کوئی دم اے صریرِ قلم صبر کر صبر کر
درد کے تار ملنے تو دے ہونٹ ہلنے تو دے
ساری باتیں کریں گے رقم صبر کر صبر کر
دیکھ ناصر زمانے میں کوئی کسی کا نہیں
بھول جا اُس کے قول و قسم صبر کر صبر کر
ناصر کاظمی

مہکتے میٹھے دریاؤں کا پانی

سناتا ہے کوئی بھولی کہانی
مہکتے میٹھے دریاؤں کا پانی
یہاں جنگل تھے آبادی سے پہلے
سنا ہے میں نے لوگوں کی زبانی
یہاں اِک شہر تھا شہرِ نگاراں
نہ چھوڑی وقت نے اُس کی نشانی
میں وہ دل ہوں دبستانِ اَلم کا
جسے روئے گی صدیوں شادمانی
تصوّر نے اُسے دیکھا ہے اکثر
خرد کہتی ہے جس کو لامکانی
خیالوں ہی میں اکثر بیٹھے بیٹھے
بسا لیتا ہوں اِک دنیا سہانی
ہجومِ نشہِ فکرِ سخن میں
بدل جاتے ہیں لفظوں کے معانی
بتا اے ظلمتِ صحرائے اِمکاں
کہاں ہو گا مرے خوابوں کا ثانی
اندھیری شام کے پردوں میں چھپ کر
کسے روتی ہے چشموں کی روانی
کرن پریاں اُترتی ہیں کہاں سے
کہاں جاتے ہیں رستے کہکشانی
پہاڑوں سے چلی پھر کوئی آندھی
اُڑے جاتے ہیں اوراقِ خزانی
نئی دُنیا کے ہنگاموں میں ناصر
دبی جاتی ہیں آوازیں پرانی
ناصر کاظمی

دِیوانہ ہے دِیوانے کے منہ نہ لگو تو بہتر ہے

ناصر کیا کہتا پھرتا ہے کچھ نہ سنو تو بہتر ہے
دِیوانہ ہے دِیوانے کے منہ نہ لگو تو بہتر ہے
کل جو تھا وہ آج نہیں جو آج ہے کل مٹ جائے گا
رُوکھی سوکھی جو مل جائے شکر کرو تو بہتر ہے
کل یہ تاب و تواں نہ رہے گی ٹھنڈا ہو جائے گا لہو
نامِ خدا ہو جوان ابھی کچھ کر گزرو تو بہتر ہے
کیا جانے کیا رُت بدلے حالات کا کوئی ٹھیک نہیں
اب کے سفر میں تم بھی ہمارے ساتھ چلو تو بہتر ہے
کپڑے بدل کر بال بنا کر کہاں چلے ہوکس کے لیے
رات بہت کالی ہے ناصر گھر میں رہو تو بہتر ہے
ناصر کاظمی

مگر جینے کی صورت تو رہی ہے

مسلسل بے کلی دل کو رہی ہے
مگر جینے کی صورت تو رہی ہے
میں کیوں پھرتا ہوں تنہا مارا مارا
یہ بستی چین سے کیوں سو رہی ہے
چلے دل سے اُمیدوں کے مسافر
یہ نگری آج خالی ہو رہی ہے
نہ سمجھو تم اِسے شورِ بہاراں
خزاں پتوں میں چھپ کر رو رہی ہے
ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصر
اُداسی بال کھولے سو رہی ہے
ناصر کاظمی

پھر پتوں کی پازیب بجی تم یاد آئے

پھر ساون رُت کی پون چلی تم یاد آئے
پھر پتوں کی پازیب بجی تم یاد آئے
پھر کونجیں بولیں گھاس کے ہرے سمندر میں
رُت آئی پیلے پھولوں کی تم یاد آئے
پھر کاگا بولا گھر کے سونے آنگن میں
پھر اَمرت رس کی بوند پڑی تم یاد آئے
پہلے تو میں چیخ کے رویا اور پھر ہنسنے لگا
بادل گرجا بجلی چمکی تم یاد آئے
دِن بھر تو میں دُنیا کے دھندوں میں کھویا رہا
جب دِیواروں سے دُھوپ ڈھلی تم یاد آئے
ناصر کاظمی

گو باغباں یہ کنجِ چمن مجھ سے چھِین لے

ممکن نہیں متاعِ سخن مجھ سے چھین لے
گو باغباں یہ کنجِ چمن مجھ سے چھِین لے
گر احترامِ رسمِ وفا ہے تو اے خدا
یہ احترامِ رسمِ کہن مجھ سے چھین لے
منظر دل و نگاہ کے جب ہو گئے اُداس
یہ بے فضا علاقہِ تن مجھ سے چھین لے
گل ریز میری نالہ کشی سے ہے شاخ شاخ
گُل چیں کا بس چلے تو یہ فن مجھ سے چھین لے
سینچی ہیں دل کے خون سے میں نے یہ کیاریاں
کس کی مجال میرا چمن مجھ سے چھین لے
ناصر کاظمی

تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں

نیتِ شوق بھر نہ جائے کہیں
تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں
آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد
آج کا دن گزر نہ جائے کہیں
نہ ملا کر اُداس لوگوں سے
حسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں
آرزو ہے کہ تو یہاں آئے
اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں
جی جلاتا ہوں اور سوچتا ہوں
رائگاں یہ ہنر نہ جائے کہیں
آؤ کچھ دیر رو ہی لیں ناصر
پھر یہ دریا اُتر نہ جائے کہیں
ناصر کاظمی

وہ درد اب کہاں جسے جی چاہتا بھی ہو

آرائشِ خیال بھی ہو دل کشا بھی ہو
وہ درد اب کہاں جسے جی چاہتا بھی ہو
یہ کیا کہ روز ایک سا غم ایک سی اُمید
اِس رنجِ بے خمار کی اب انتہا بھی ہو
یہ کیا کہ ایک طور سے گزرے تمام عمر
جی چاہتا ہے اب کوئی تیرے سوا بھی ہو
ٹوٹے کبھی تو خوابِ شب و روز کا طلسم
اتنے ہجوم میں کوئی چہرہ نیا بھی ہو
دِیوانگیٔ شوق کو یہ دُھن ہے اِن دِنوں
گھر بھی ہو اور بے در و دیوار سا بھی ہو
جز دل کوئی مکان نہیں دہر میں جہاں
رہزن کا خوف بھی نہ رہے در کھلا بھی ہو
ہر ذرّہ ایک محملِ عبرت ہے دشت کا
لیکن کسے دِکھاؤں کوئی دیکھتا بھی ہو
ہر شے پکارتی ہے پسِ پردئہ سکوت
لیکن کسے سناؤں کوئی ہم نوا بھی ہو
فرصت میں سن شگفتگیٔ غنچہ کی صدا
یہ وہ سخن نہیں جو کسی نے کہا بھی ہو
بیٹھا ہے ایک شخص مرے پاس دیر سے
کوئی بھلا سا ہو تو ہمیں دیکھتا بھی ہو
بزمِ سخن بھی ہو سخنِ کَرم کے لیے
طاؤس بولتا ہو تو جنگل ہرا بھی ہو
ناصر کاظمی