زمرہ جات کے محفوظات: شامِ شہریاراں

وہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیالِ روزِ جزا گیا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 26
وہ بُتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوفِ خدا گیا
وہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیالِ روزِ جزا گیا
جو نفس تھا خارِ گلُو بنا، جو اُٹھے تھے ہاتھ لہُو ہوئے
وہ نَشاطِ آہِ سحر گئی، وہ وقارِ دستِ دُعا گیا
جو طلب پہ عہدِ وفا کیا، تو وہ قدرِ رسمِ وفا گئی
سرِ عام جب ہوئے مُدّعی، تو ثوابِ صدق و وفا گیا
فیض احمد فیض

کس پر نہ کھُلا راز پریشانیِ دل کا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 25
کس شہر نہ شُہرہ ہُوا نادانیِ دل کا
کس پر نہ کھُلا راز پریشانیِ دل کا
آؤ کریں محفل پہ زرِ زخم نمایاں
چرچا ہے بہت بے سر و سامانیِ دل کا
دیکھ آئیں چلو کوئے نگاراں کا خرابہ
شاید کوئی محرم ملے ویرانیِ دل کا
پوچھو تو ادھر تیر فگن کون ہے یارو
سونپا تھا جسے کام نگہبانیِ دل کا
دیکھو تو کدھر آج رُخِ بادِ صبا ہے
کس رہ سے پیام آیا ہے زندانیِ دل کا
اُترے تھے کبھی فیض وہ آئینۂ دل میں
عالم ہے وہی آج بھی حیرانیِ دل کا
فیض احمد فیض

آج اِک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیال

۔ ۱۔

آج اِک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیال

مدھ بھرا حرف کوئی، زہر بھرا حرف کوئی

دل نشیں حرف کوئی، قہر بھرا حرف کوئی

حرفِ اُلفت کوئی دلدارِ نظر ہو جیسے

جس سے ملتی ہے نظر بوسۂ لب کی صورت

اتنا روشن کہ سرِ موجۂ زر ہو جیسے

صحبتِ یار میں آغازِ طرب کی صورت

حرفِ نفرت کوئی شمشیرِ غضب ہو جیسے

تا ابَد شہرِ ستم جس سے تبہ ہو جائیں

اتنا تاریک کہ شمشان کی شب ہو جیسے

لب پہ لاؤں تو مِرے ہونٹ سیہ ہو جائیں

۔۲۔

آج ہر سُر سے ہر اک راگ کا ناتا ٹوٹا

ڈھونڈتی پھرتی ہے مطرب کو پھر اُس کی آواز

جوششِ درد سے مجنوں کے گریباں کی طرح

چاک در چاک ہُوا آج ہر اک پردۂ ساز

آج ہر موجِ ہوا سے ہے سوالی خلقت

لا کوئی نغمہ، کوئی صَوت، تری عمر دراز

نوحۂ غم ہی سہی، شورِ شہادت ہی سہی

صورِ محشر ہی سہی، بانگِ قیامت ہی سہی

فیض احمد فیض

درِ اُمید کے دریوزہ گر

پھر پھُرَیرے بن کے میرے تن بدن کی دھجّیاں

شہر کے دیوار و در کو رنگ پہنانے لگیں

پھر کف آلودہ زبانیں مدح و ذَم کی قمچیاں

میرے ذہن و گوش کے زخموں پہ برسانے لگیں

پھر نکل آئے ہوَسناکوں کے رقصاں طائفے

درد مندِ عشق پر ٹھٹھّے لگانے کے لیے

پھر دُہل کرنے لگے تشہیرِ اخلاص و وفا

کشتۂ صدق و صفا کا دل جلانے کے لیے

ہم کہ ہیں کب سے درِ اُمّید کے دریوزہ گر

یہ گھڑی گُزری تو پھر دستِ طلب پھیلائیں گے

کوچہ و بازار سے پھر چُن کے ریزہ ریزہ خواب

ہم یونہی پہلے کی صورت جوڑنے لگ جائیں گے

فیض احمد فیض

کچھ عشق کیا کچھ کام کیا

وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے

جو عشق کو کام سمجھتے تھے

یا کام سے عاشقی کرتے تھے

ہم جیتے جی مصروف رہے

کچھ عشق کیا، کچھ کام کیا

کام عشق کے آڑے آتا رہا

اور عشق سے کام اُلجھتا رہا

پھر آخر تنگ آ کر ہم ہے

دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا

فیض احمد فیض

پھر آج کس نے سخن ہم سے غائبانہ کیا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 21
یہ کس خلش نے پھر اس دل میں آشیانہ کیا
پھر آج کس نے سخن ہم سے غائبانہ کیا
غمِ جہاں ہو، رخِ یار ہو کہ دستِ عدو
سلوک جس سے کیا ہم نے عاشقانہ کیا
تھے خاکِ راہ بھی ہم لوگ قہرِ طوفاں بھی
سہا تو کیا نہ سہا اور کیا تو کیا نہ کیا
خوشا کہ آج ہر اک مُدّعی کے لب پر ہے
وہ راز جس نے ہمیں راندۂ زمانہ کیا
وہ حیلہ گر جو وفا جُو بھی ہے جفا خُو بھی
کِیا بھی فیض تو کس بُت سے دوستانہ کیا
فیض احمد فیض

لینن گراڈ کا گورستان

سرد سِلوں پر

زرد سِلوں پر

تازہ گرم لہو کی صورت

گلدستوں کے چھینٹے ہیں

کتبے سب بے نام ہیں لیکن

ہر اک پھول پہ نام لکھا ہے

غافل سونے والے کا

یاد میں رونے والے کا

اپنے فرض سے فارغ ہو کر

اپنے لہو کی تان کے چادر

سارے بیٹے خواب میں ہیں

اپنے غموں کا ہار پرو کر

امّاں اکیلی جاگ رہی ہے

لینن گراڈ 1976ء

فیض احمد فیض

دشتِ اُمّید میں گرداں ہیں دوانے کب سے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 19
حسرتِ دید میں گزراں ہیں زمانے کب سے
دشتِ اُمّید میں گرداں ہیں دوانے کب سے
دیر سے آنکھ پہ اُترا نہیں اشکوں کا عذاب
اپنے ذمّے ہے ترا فرض نہ جانے کب سے
کس طرح پاک ہو بے آرزو لمحوں کا حساب
درد آیا نہیں دربار سجانے کب سے
سر کرو ساز کہ چھیڑیں کوئی دل سوز غزل
"ڈھونڈتا ہے دلِ شوریدہ بہانے کب سے”
فیض احمد فیض

جو دل دکھا ہے بہت زیادہ

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 18
تجھے پکارا ہے بے ارادہ
جو دل دکھا ہے بہت زیادہ
ندیم ہو تیرا حرفِ شیریں
تو رنگ پر آئے رنگِ بادہ
عطا کرو اک ادائے دیریں
تو اشک سے تر کریں لبادہ
نہ جانے کس دن سے منتظِر ہے
دلِ سرِ رہ گزر فتادہ
کہ ایک دن پھر نظر میں آئے
وہ بامِ روشن، وہ در کشادہ
وہ آئے پُرسش کو پھر سجائے
قبائے رنگیں، ادائے سادہ
فیض احمد فیض

یہ تیغ اپنے لہو میں نیام ہوتی رہی

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 17
ہمیں سے اپنی نوا ہم کلام ہوتی رہی
یہ تیغ اپنے لہو میں نیام ہوتی رہی
مقابلِ صفِ اعداء جسے کیا آغاز
وہ جنگ اپنے ہی دل میں تمام ہوتی رہی
کوئی مسیحا نہ ایفائے عہد کو پہنچا
بہت تلاش پسِ قتلِ عام ہوتی رہی
یہ برہمن کا کرم، وہ عطائے شیخِ حرم
کبھی حیات کبھی مَے حرام ہوتی رہی
جو کچھ بھی بن نہ پڑا، فیض لُٹ کے یاروں سے
تو رہزنوں سے دعا و سلام ہوتی رہی
فیض احمد فیض

موری اَرج سُنو

"موری ارج سُنو دست گیر پیر”

"مائی ری، کہوں کاسے میں

اپنے جیا کی پیر”

"نیا باندھو رے،

باندھو رے کنارِ دریا”

"مورے مندر اب کیوں نہیں آئے”

اس صورت سے

عرض سناتے

درد بتاتے

نیّا کھیتے

مِنّت کرتے

رستہ تکتے

کتنی صدیاں بیت گئی ہیں

اب جا کر یہ بھید کھُلا ہے

جس کو تم نے عرض گزاری

جو تھا ہاتھ پکڑنے والا

جس جا لاگی ناؤ تمھاری

جس سے دُکھ کا دارُو مانگا

تورے مندر میں جو نہیں آیا

وہ تو تُمھیں تھے

وہ تو تُمھیں تھے

فیض احمد فیض

تم اپنی کرنی کر گزرو

اب کیوں اُس دن کا ذکر کرو

جب دل ٹکڑے ہو جائے گا

اور سارے غم مِٹ جائیں گے

جو کچھ پایا کھو جائے گا

جو مل نہ سکا وہ پائیں گے

یہ دن تو وہی پہلا دن ہے

جو پہلا دن تھا چاہت کا

ہم جس کی تمنّا کرتے رہے

اور جس سے ہر دم ڈرتے رہے

یہ دن تو کئی بار آیا

سو بار بسے اور اُجڑ گئے

سو بار لُٹے اور بھر پایا

اب کیوں اُس دن کا ذکر کرو

جب دل ٹکڑے ہو جائے گا

اور سارے غم مِٹ جائیں گے

تم خوف و خطر سے در گزرو

جو ہونا ہے سو ہونا ہے

گر ہنسنا ہے تو ہنسنا ہے

گر رونا ہے تو رونا ہے

تم اپنی کرنی کر گزرو

جو ہو گا دیکھا جائے گا

فیض احمد فیض

بہار آئی

بہار آئی تو جیسے یک بار

لَوٹ آئے ہیں پھر عدم سے

وہ خواب سارے، شباب سارے

جو تیرے ہونٹوں پہ مر مٹے تھے

جو مٹ کے ہر بار پھر جیے تھے

نِکھر گئے ہیں گلاب سارے

جو تیری یادوں سے مُشکبو ہیں

جو تیرے عُشّاق کا کہو ہیں

اُبل پڑے ہیں عذاب سارے

ملالِ احوالِ دوستاں بھی

خمارِ آغوشِ مہ وشاں بھی

غُبارِ خاطر کے باب سارے

ترے ہمارے

سوال سارے جواب سارے

بہار آئی تو کھِل گئے ہیں

نئے سرے سے حساب سارے

فیض احمد فیض

یہ موسِمِ گُل گرچہ طرب خیز بہت ہے

یہ موسِمِ گُل گرچہ طرب خیز بہت ہے

احوالِ گُل و لالہ غم انگیز بہت ہے

خوش دعوتِ یاراں بھی ہے یلغارِ عدو بھی

کیا کیجیے دل کا جو کم آمیز بہت ہے

یوں پیرِ مغاں شیخِ حرم سے ہوئے یک جاں

میخانے میں کم ظرفیِ پرہیز بہت ہے

اک گردنِ مخلوق جو ہر حال میں خم ہے

اک بازوئے قاتل ہے کہ خوں ریز بہت ہے

کیوں مشعلِ دل فیض چھپاؤ تہِ داماں!

بُجھ جائے گی یُوں بھی کہ ہوا تیز بہت ہے

فیض احمد فیض

ڈھاکہ سے واپسی پر

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مُلاقاتوں کے بعد

پھر بنیں گے آشنا کتنی مداراتوں کے بعد

کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار

خون کے دھبّے دھُلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

تھے بہت بے درد لمحے ختمِ دردِ عشق کے

تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد

دل تو چاہا پر شکستِ دل نے مہلت ہی نہ دی

کچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعد

اُن سے جو کہنے گئے تھے فیض جاں صدقہ کیے

اَن کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد

فیض احمد فیض

تم آشنا تھے تو تھیں آشنائیاں کیا کیا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 11
نہ اب رقیب نہ ناصح نہ غم گسار کوئی
تم آشنا تھے تو تھیں آشنائیاں کیا کیا
جُدا تھے ہم تو میسّر تھیں قربتیں کتنی
بہم ہوئے تو پڑی ہیں جدائیاں کیا کیا
پہنچ کے در پہ ترے کتنے معتبر ٹھہرے
اگرچہ رہ میں ہوئیں جگ ہنسائیاں کیا کیا
ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز مندی سے
بتوں نے کی ہیں جہاں میں خدائیاں کیا کیا
ستم پہ خوش کبھی لطف و کرم سے رنجیدہ
سکھائیں تم نے ہمیں کج ادائیاں کیا کیا
فیض احمد فیض

ہم تو مجبور تھے اس دل سے

ہم تو مجبور تھے اس دل سے کہ جس میں ہر دم

گردشِ خوں سے وہ کُہرام بپا رہتا ہے

جیسے رندانِ بلا نوش جو مل بیٹھیں بہم

میکدے میں سفرِ جام بپا رہتا ہے

سوزِ خاطر کو ملا جب بھی سہارا کوئی

داغِ حرمان کوئی، دردِ تمنّا کوئی

مرہمِ یاس سے مائل بہ شِفا ہونے لگا

زخمِ اُمّید کوئی پھر سے ہرا ہونے لگا

ہم تو مجبور تھے اس دل سے کی جس کی ضد پر

ہم نے اُس رات کے ماتھے پہ سحر کی تحریر

جس کے دامن میں اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہ تھا

ہم نے اُس دشت کو ٹھہرا لیا فردوس نظیر

جس میں جُز صنعتِ خونِ سرِ پا کچھ بھی نہ تھا

دل کو تعبیر کوئی اور گوارا ہی نہ تھی

کلفتِ زیست تو منظور تھی ہر طور مگر

راحتِ مرگ کسی طور گوارا ہی نہ تھی

فیض احمد فیض

چلو پھر سے مسکرائیں

چلو پھر سے مسکرائیں

چلو پھر سے دل جلائیں

جو گزر گئی ہیں راتیں

اُنہیں پھر جگا کے لائیں

جو بسر گئی ہیں باتیں

اُنہیں یاد میں بُلائیں

چلو پھر سے دل لگائیں

چلو پھر سے مسکرائیں

کسی شہ نشیں پہ جھلکی

وہ دھنک کسی قبا کی

کسی رگ میں کسمسائی

وہ کسک کسی ادا کی

کوئی حرف بے مروّت

کسی کُنجِ لب سے پھُوٹا

وہ چھنک کے شیشۂ دل

تہِ بام پھر سے ٹوٹا

یہ مِلن کی نامِلن کی

یہ لگن کی اور جلن کی

جو سہی ہیں وارداتیں

جو گُزر گئی ہیں راتیں

جو بِسر گئی ہیں باتیں

کوئی ان کی دھُن بنائیں

کوئی ان کا گیت گائیں

چلو پھر سے مسکرائیں

چلو پھر سے دل جلائیں

فیض احمد فیض

اے شام مہرباں ہو

اے شام مہرباں ہو

اے شامِ شہرِ یاراں

ہم پہ مہرباں ہو

دوزخی دوپہر ستم کی

بے سبب ستم کی

دوپہر درد و غیظ و غم کی

بے زباں درد و غیظ و غم کی

اس دوزخی دوپہر کے تازیانے

آج تن پر دھنک کی صورت

قوس در قوس بٹ گئے ہیں

زخم سب کھُل گئے ہیں

داغ جانا تھا چھٹ گئے ہیں

ترے توشے میں کچھ تو ہو گا

مرہمِ درد کا دوشالہ

تن کے اُس انگ پر اُڑھا دے

درد سب سے سوا جہاں ہو

اے شام مہرباں ہو

اے شامِ شہرِ یاراں

ہم پہ مہرباں ہو

دوزخی دشت نفرتوں کے

بے درد نفرتوں کے

کرچیاں دیدۂ حسد کی

خس و خاشاک رنجشوں کے

اتنی سنسان شاہراہیں

اتنی گنجان قتل گاہیں

جن سے آئے ہیں ہم گزر کر

آبلہ بن کے ہر قدم پر

یوں پاؤں کٹ گئے ہیں

رستے سمٹ گئے ہیں

مخملیں اپنے بادلوں کی

آج پاؤں تلے بچھا دے

شافیِ کربِ رہرواں ہو

اے شام مہرباں ہو

اے مہِ شبِ نگاراں

اے رفیقِ دلفگاراں

اس شام ہمزباں ہو

اے شام مہرباں ہو

اے شام مہرباں ہو

اے شامِ شہریاراں

ہم پہ مہرباں ہو

فیض احمد فیض

سجاد ظہیر کے نام

نہ اب ہم ساتھ سیرِ گُل کریں گے

نہ اب مل کر سرِ مقتل چلیں گے

حدیثِ دلبراں باہم کریں گے

نہ خونِ دل سے شرحِ غم کریں گے

نہ لیلائے سخن کی دوست داری

نہ غم ہائے وطن پر اشکباری

سنیں گے نغمۂ زنجیر مل کر

نہ شب بھر مل کے چھلکائیں گے ساغر

بنامِ شاہدِ نازک خیالاں

بیادِ مستیِ چشمِ غزالاں

بنامِ انبساطِ بزمِ رنداں

بیادِ کلفتِ ایّامِ زنداں

صبا اور اُس کا اندازِ تکلّم

سحر اور اُس کا آغازِ تبسّم

فضا میں ایک ہالہ سا جہاں ہے

یہی تو مسندِ پیرِ مغاں ہے

سحر گہ اب اُسی کے نام ساقی

کریں اتمامِ دورِ جام ساقی

بساطِ بادہ و مینا اُٹھا لو

بڑھا دو شمعِ محفل بزم والو

پیو اب ایک جامِ الوداعی

پیو اور پی کے ساغر توڑ ڈالو

(دہلی)

فیض احمد فیض

پاؤں سے لہو کو دھو ڈالو

ہم کیا کرتے کس رہ چلتے

ہر راہ میں کانٹے بکھرے تھے

ان رشتوں کے جو چھوٹ گئے

ان صدیوں کے یارانوں کے

جو اک اک کرکے ٹوٹ گئے

جس راہ چلے، جس سمت گئے

یوں پاؤں لہو لہان ہوئے

سب دیکھنے والے کہتے تھے

یہ کیسی ریت رچائی ہے

یہ مہندی کیوں لگائی ہے

وہ کہتے تھے، کیوں قحط وفا

کا ناحق چرچا کرتے ہو

پاؤں سے لہو کو دھو ڈالو

یہ راہیں جب اٹ جائیں گی

سو رستے ان سے پھوٹیں گے

تم دل کو سنبھالو جس میں ابھی

سو طرح کے نشتر ٹوٹیں گے

فیض احمد فیض

مرے درد کو جو زباں ملے

مرا درد نغمۂ بے صدا

مری ذات ذرۂ بے نشاں

مرے درد کو جو زباں ملے

مجھے اپنا نام و نشاں ملے

مری ذات کا جو نشاں ملے

مجھے راز نظم جہاں ملے

جو مجھے یہ راز نہاں ملے

مری خامشی کو بیاں ملے

مجھے کائنات کی سروری

مجھے دولت دو جہاں ملے

فیض احمد فیض

اشک آباد کی شام

جب سورج نے جاتے جاتے

اشک آباد کے نیلے افق سے

اپنے سنہری جام

میں ڈھالی

سرخئ اول شام

اور یہ جام

تمہارے سامنے رکھ کر

تم سے کیا کلام

کہا پرنام

اٹھو

اور اپنے تن کی سیج سے اٹھ کر

ایک شیریں پیغام

ثبت کرو اس شام

کسی کے نام

کنار جام

شاید تم یہ مان گئیں اور تم نے

اپنے لب گلفام

کیے انعام

کسی کے نام

کنار جام

یا شاید

تم اپنے تن کی سیج پہ سج کر

تھیں یوں محو آرام

کہ رستہ تکتے تکتے

بجھ گئی شمع شام

اشک آباد کے نیلے افق پر

غارت ہو گئی شام

فیض احمد فیض

ہم سے جتنے سخن تمہارے تھے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 2
ہم نے سب شعر میں سنوارے تھے
ہم سے جتنے سخن تمہارے تھے
رنگ و خوشبو کے، حسن و خوبی کے
تم سے تھے جتنے استعارے تھے
تیرے قول و قرار سے پہلے
اپنے کچھ اور بھی سہارے تھے
جب وہ لعل و گہر حساب کیے
جو ترے غم نے دل پہ وارے تھے
میرے دامن میں آگرے سارے
جتنے طشت فلک میں تارے تھے
عمر جاوید کی دعا کرتے
فیض اتنے وہ کب ہمارے تھے
فیض احمد فیض

جس روز قضا آئے گی

کس طرح آئے گی جس روز قضا آئے گی

شاید اس طرح کہ جس طور کبھی اولِ شب

بے طلب پہلے پہل مرحمت بوسۂ لب

جس سے کھلنے لگیں ہر سمت طلسمات کے در

اور کہیں دور سے انجان گلابوں کی بہار

یک بیک سینۂ مہتاب کو تڑپانے لگے

شاید اس طرح کہ جس طور کبھی آخر شب

شاید اس طرح کہ جس طور تہِ نوک سناں

کوئی رگ واہمۂ درد سے چلانے لگے

اور قزاق سناں دست کا دھندلا سایہ

از کراں تابہ کراں دہر پہ منڈلانے لگے

جس طرح آئے گی جس روز قضا آئے گی

خواہ قاتل کی طرح ائے کہ محبوب صفت

دل سے بس ہو گی یہی حرف ودع کی صورت

للہ الحمد بانجام دلِ دل زدگاں

کلمۂ شکر بنام لبِ شیریں دہناں

فیض احمد فیض