زمرہ جات کے محفوظات: باقی صدیقی

فرد فرد

لوگ دنیا میں گھٹ کے مر جاتے
کوئی بندہ اگر خدا ہوتا

جذبۂ دل کا ہے نام آزادی
ورنہ زنداں کا در نہیں ہوتا

حاصل شور سلاسل معلوم
وہی زنداں ہے وہی گھر اپنا

جھک گئی ہے نگاہ کیوں باقیؔ
ایک تہمت ہوئی کرم نہ ہوا

پرسش غم سے بھی ان کا مقصد
پرسش غم کے سوا کیا ہو گا

خود کو جکڑا ہوا پایا ہم نے
جس جگہ یاد وہ صیاد آیا

راہبر کا طلسم جب ٹوٹا
یاد ایک ایک ہم سفر آیا

ترے جمال کی آرائشیں نہ ختم ہوئیں
مرا خیال جنوں کی حدیں بھی چھو آیا

ہواؤں کا رُخ بھی کوئی چیز ہے
سفینہ جدھر بہہ گیا، بہہ گیا

در پہ دستک کسی نے دی باقیؔ
کوئی پرسان حال آ ہی گیا

میرے ذوق نظر کا کیا ہو گا
چند پھولوں میں بٹ گئی ہے بہار

روشنی میرے مقدر میں کہاں
دور سے دیکھتا جاتا ہوں چراغ

آج تک بدگماں ہیں وہ ہم سے
آ گیا تھا ذرا جہاں کا خیال

اک خرابے کا تماشا بھی دیکھ
اک نئے شہر کی آواز بھی سن

یہ حادثے یہ الم بار ہوتے جاتے ہیں
نقاب اٹھاؤ بس اب شرح کائنات کرو

پرواز کا وقت آ گیا تھا
ہم دیکھ سکے نہ بال و پر کو

آتی نہیں دل کی بات لب تک
خاموش رہیں گے پھر بھی کب تک

اپنے گھر کی خبر نہیں باقیؔ
وہ ستارہ شناس ہیں ہم لوگ

باد خزاں کا فیض ہے یا لغزش بہار
کچھ پھول ٹوٹ کر مرے داماں میں آئے ہیں

کیا آپ سے کہہ دیا کسی نے
کس سوچ میں آپ پڑ گئے ہیں

کس طرح پہنچے کوئی منزل تک
راہ میں راہنما بیٹھے ہیں

اس طرح بھی ہے اک جہاں آباد
جس طرف آپ کی نگاہ نہیں

اپنا اپنا راستہ لیں اہل ذوق
شمع محفل اور جل سکتی نہیں

سب کو احساس سے خالی نہ سمجھ
دردمندوں کو سوالی نہ سمجھ

دل کی دیوار گر گئی شاید
اپنی آواز کان میں آئی

چراغ لالہ میں جلتا رہا ہے خون بہار
یہ اور بات کہ گلشن میں روشنی نہ ہوئی

منزلوں کی کمی نہ تھی باقیؔ
زندگانی کہیں تھمی ہوتی

رات پنگھٹ پہ کون آیا تھا
بالکل آواز تھی ترے جیسی

جب جھجک کر تری نگاہ ملی
حادثات جہاں کو راہ ملی

رات بھر ہم کروٹیں لیتے رہے
رات بھر ڈھولک کہیں بجتی رہی

دل و نگاہ کا پردہ کبھی اٹھا تو سہی
تو اپنی ذات کے مدفن سے باہر آ تو سہی

کوئی کس طرح ان کو سمجھائے
بات چھیڑو تو بات کھل جائے

اے دوست مرگ و زیست کے مابین تابہ کے
بیٹھے رہو گے تم حد فاصل بنے ہوئے

ایک دیوار کی دوری ہے قفس
توڑ سکتے تو چمن میں ہوتے

ہوئے آزاد لیکن آ رہی ہے
قفس کی بو ابھی تک بال و پر سے

بات کہہ دیتے تو اچھا ہوتا
چپ کے تو سینکڑوں پہلو نکلے

خوشبو ہم تک آ نہ سکی
پھول کچھ اتنی دور کھلے

اتنے گل بھی نہیں ہیں گلشن میں
جتنے کانٹے چبھو لئے ہم نے

دیکھ کر رنگ تیری محفل کے
زخم آنکھوں میں آ گئے دل کے

جانے وہ چپ رہے ہیں کیوں ورنہ
بات کرنے کے سو بہانے تھے

اس طرح اٹھے تری محفل سے
جیسے ہم بھول کے آ بیٹھے تھے

پرسش حال بھی رہنے دیجے
اس تکلف کی ضرورت کیا ہے

ہم نے افسانہ کر دیا ہے رقم
آگے سب کچھ فسانہ خواں تک ہے

عشق اب اپنی حفاظت خود کرے
حسن اپنے آپ سے بیگانہ ہے

یوں آج خموش ہے زمانہ
جیسے کوئی بات ہو گئی ہے

محبت تھی تری پہلی نظر تک
اب آگے دشمنی ہی دشمنی ہے

اک نظر تیری مرا دل بن گئی
میرے سینے میں تو کوئی دل نہ تھا

صبح امید کا خیال نہ پوچھ
ہم نے سوچا ہے رات بھر کیا کیا

ہر سوچ کا راستہ ہے مسدود
مجبور کا اختیار ہیں ہم

گردش دنیا ہے آئنہ بدست
کس قدر حیراں نظر آتے ہیں ہم

کیا رنگ حیات پوچھتے ہو
کچھ لوگ ہیں اور کچھ مکاں ہیں

تارے درد کے جھونکے بن کر آتے ہیں
ہم بھی نیند کی صورت اڑتے جاتے ہیں

کہاں کا زاد سفر خود کو چھوڑ آئے
تمہاری راہ میں ایسے بھی موڑ آئے ہیں

تم ظلمتوں میں دل کی کرن پھینکتے رہو
اس گھر کی روشنی کا مدار آگ پر سہی

کلی تمہارا تبسم، صبا تمہارا خیال
تمہارے سامنے کیا ذکر رنگ و بو کرتے

گونجتی تھی کہیں صدائے جرس
قافلے دل سے رات بھر گزرے

کھائیں کیوں دہر کا غم دیوانے
اور دنیا میں ہیں کم دیوانے

انقلابات کے آئنے میں
صورت راہنما دیکھی ہے

وقت کے اڑتے ہوئے لمحوں میں
آج کی بات بھی فرسودہ ہے

کدھر گئی وہ محبت، کہاں گیا وہ سکوں
کوئی تو پوچھتا یہ بات شہر والوں سے

تیری رحمت کا سہارا مل گیا
ورنہ بندہ تو کسی قابل نہ تھا

آئنہ بن گئی شفق باقیؔ
یاد آیا دم سحر کیا کیا

جلتی ہے جو شہر شہر باقیؔ
اس آگ کا اک شرار ہیں ہم

روشنی راہوں کی یاد آنے لگی
دور منزل سے ہوئے جاتے ہیں ہم

جاتی نہیں تیرگی دلوں کی
رستے تو مثل کہکشاں ہیں

جب انداز بہاروں کے یاد آتے ہیں
ہم کاغذ پر کیا کیا پھول بناتے ہیں

کوئی تو محفل گل کی بہار دیکھے گا
کلی کلی پہ لہو ہم نچوڑ آئے ہیں

ہونٹوں پہ مہر بن گئیں ان کی عنایتیں
راز درون خانہ کی مجھ کو خبر سہی

ہر ایک آدمی اڑتا ہوا بگولا تھا
تمہارے شہر میں ہم کس سے گفتگو کرتے

منزلوں دل نے لی نہ انگڑائی
حادثے کیا دم سفر گزرے

سنگ منزل کی طرح بیٹھ گئے
چل کے دو چار قدم دیوانے

دل ٹھہرتا نہیں ہے سینے میں
جانے کیا بات ہونے والی ہے

مقتل زیست میں سب کا دامن
اپنے ہی خون سے آلودہ ہے

باقی صدیقی

جیسا وہ کہتے ہیں ویسا کہیے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 261
دل کے ہر داغ کو غنچہ کہیے
جیسا وہ کہتے ہیں ویسا کہیے
جذب دل کے کوئی معنی نہ رہے
کس سے عجز لب گویا کہیے
کوئی آواز بھی آواز نہیں
دل کو اب دل کی تمنا کہیے
اتنا آباد کہ ہم شور میں گم
اتنا سنسان کہ صحرا کہیے
ہے حقیقت کی حقیقت دنیا
اور تماشے کا تماشا کہیے
لوگ چلتی ہوئی تصویریں ہیں
شہر کو شہر کا نقشہ کہیے
خون دل حاصل نظارہ ہے
نگہ شوق کو پردا کہیے
شاخ جب کوئی چمن میں ٹوٹے
اسے انداز صبا کا کہیے
دیدہ ور کون ہے ایسا باقیؔ
چشم نرگس کو بھی بینا کہیے
باقی صدیقی

یہ جنس ہے گراں مگر ارزاں خریدئیے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 260
جاں دے کے اک تبسم جاناں خریدئیے
یہ جنس ہے گراں مگر ارزاں خریدئیے
نظروں کے سامنے ہیں شب غم کے مرحلے
کچھ خون ہے تو صبح درخشاں خریدئیے
یوں بھی نہ کھل سکا نہ کوئی زندگی کا راز
دل دے کے کیوں نہ دیدہ حیراں خریدئیے
مرنا ہے تو نظر رکھیں اپنے مآل پر
جینا ہے تو حیات کا ساماں خریدئیے
جو کہہ سکیں تو کیجئے یہ کاروبار زیست
جو کہہ رہا ہے یہ دل ناداں خریدئیے
جو روح کو حیات دے، دل کو سکون دے
یہ بھیڑ دے کے ایک وہ انساں خریدئیے
زخموں کی تاب ہے نہ تبسم کا حوصلہ
ہم کیا کریں گے آپ گلستاں خریدئیے
کرنا پڑے ہے جس کے لئے غیر کا طواف
وہ غم نہ لیجئے نہ وہ ارماں خریدئیے
باقیؔ اسی میں حضرت انساں کی خیر ہے
سارا جہان دے کے اک ایماں خریدئیے
باقی صدیقی

یا ہم شریک دیدہ حیراں نہیں رہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 259
شام و سحر کے رنگ نمایاں نہیں رہے
یا ہم شریک دیدہ حیراں نہیں رہے
پانی کی موج بن گیا انساں کا ہر لباس
عریاں ہوئے ہم اتنے کہ عریاں نہیں رہے
کیوں لفظ بے صدا ہوئے، کیوں حرف بجھ گئے
کیا ہم کسی فسانے کا عنواں نہیں رہے
باقیؔ قدم قدم پہ لہو مانگتے ہیں لوگ
اب مرحلے حیات کے آساں نہیں رہے
باقی صدیقی

پھر بھی ہم ملنے کے ارماں میں رہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 258
وہ رگ دل میں رگ جاں میں رہے
پھر بھی ہم ملنے کے ارماں میں رہے
نیند کانٹوں پہ بھی آ جاتی ہے
گھر کہاں تھا کہ بیاباں میں رہے
رنگ دنیا پہ نظر رکھتے تھے
عمر بھر دیدۂ حیراں میں رہے
بُعد اتنا کہ تصور بھی محال
قرب ایسا کہ رگ جاں میں رہے
عمر بھر نور سحر کو ترسے
دو گھڑی تیرے شبستاں میں رہے
قافلے صبح کے گزرے ہوں گے
ہم خیال شب ہجراں میں رہے
کس قیامت کی تپش ہے باقیؔ
کون میرے دل سوزاں میں رہے
باقی صدیقی

جب تک کہ نظر نظر رہی ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 257
ہر بات سے باخبر رہی ہے
جب تک کہ نظر نظر رہی ہے
مت دیکھ کہ ہے کہاں زمانہ
یہ سوچ کہ کیا گزر رہی ہے
یا بات میں بھی اثر نہیں تھا
یا کام نظر بھی کر رہی ہے
دیکھو تو ہے زخم زخم سینہ
کہنے کو کلی نکھر رہی ہے
حالات کا انتظار باقیؔ
وہ زلف ابھی سنور رہی ہے
باقی صدیقی

زیست ہر بات پہ کیوں چیں بہ جبیں ہوتی ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 256
لہر حالات کی اک زیر زمیں ہوتی ہے
زیست ہر بات پہ کیوں چیں بہ جبیں ہوتی ہے
زندگی بھی تو الجھتی ہے سیاست کی طرح
شعلہ ہوتا ہے کہیں آگ کہیں ہوتی ہے
روشنی رنگ بدلتی ہے تمنا کی طرح
ہم بھٹک جاتے ہیں منزل تو وہیں ہوتی ہے
فاصلہ بھی ہے نگاہوں کے لئے اک جادو
ہاتھ جو آ نہ سکے چیز حسیں ہوتی ہے
بیٹھے بیٹھے چمک اٹھتی ہیں نگاہیں باقیؔ
دور کی شمع کہیں اتنی قریں ہوتی ہے
باقی صدیقی

دل میں جب کوئی بات ہوتی ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 255
ہر نظر ایک گھات ہوتی ہے
دل میں جب کوئی بات ہوتی ہے
شمع بجھتی ہے، زلف کھلتی ہے
تب کہیں رات، رات ہوتی ہے
حسن سرشار، عشق وا رفتہ
کس سے ایسے میں بات ہوتی ہے
زیست لے بیٹھتی ہے اپنے گلے
غم سے جب کچھ نجات ہوتی ہے
بے رخی، اختلاف، روکھا پن
یوں بھی کیا کوئی بات ہوتی ہے
زخم کھا کر نظر جب اٹھتی ہے
حاصل کائنات ہوتی ہے
غم کا احساس تک نہیں باقیؔ
یوں بھی غم سے نجات ہوتی ہے
باقی صدیقی

کیا کوئی ان کی خبر آئی ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 254
ڈوب کر نبض ابھر آئی ہے
کیا کوئی ان کی خبر آئی ہے
غمزدہ غمزدہ، لرزاں لرزاں
لو شب غم کی سحر آئی ہے
کیا کوئی اپنا ستم یاد آیا
آنکھ کیوں آپ کی بھر آئی ہے
کیا محبت سے تعلق تجھ کو
یہ بلا بھی مرے سر آئی ہے
آپ کے اٹھتے ہی ساری دنیا
لغزشیں کھاتی نظر آئی ہے
زندگی کتنی کٹھن راہوں سے
باتوں باتوں میں گزر آئی ہے
ٹمٹمانے لگے یادوں کے چراغ
شب غم دل میں اتر آئی ہے
ہر لرزتے ہوئے تارے میں ہمیں
اپنی تصویر نظر آئی ہے
ایک برسا ہوا بادل جیسے
لو شب غم کی سحر آئی ہے
میرے چہرے پہ تبسم کی طرح
اک شکن اور ابھر آئی ہے
میری قسمت میں نہیں کیا باقیؔ
جو خوشی غیر کے گھر آئی ہے
باقی صدیقی

پہلی سی وہ اب صورت بازار نہیں ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 253
دل جنس محبت کا خریدار نہیں ہے
پہلی سی وہ اب صورت بازار نہیں ہے
ہر بار وہی سوچ وہی زہر کا ساغر
اس پر یہ ستم جرات انکار نہیں ہے
کچھ اٹھ کے بگولوں کی طرح ہو گئے رقصاں
کچھ کہتے رہے راستہ ہموار نہیں ہے
دل ڈوب گیا لذت آغوش سحر میں
بیدار ہے اس طرح کہ بیدار نہیں ہے
یہ سر سے نکلتی ہوئی لوگوں کی فصیلیں
دل سے مگر اونچی کوئی دیوار نہیں ہے
دم سادھ کے بیٹھا ہوں اگرچہ مرے سر پر
اک شاخ ثمر دار ہے تلوار نہیں ہے
دم لو نہ کہیں دھوپ میں چلتے رہو باقیؔ
اپنے لئے یہ سایہ اشجار نہیں ہے
باقی صدیقی

جانے یہ سلسلہ کہاں تک ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 252
آپ تک ہے نہ غم جہاں تک
جانے یہ سلسلہ کہاں تک ہے
اشک شبنم ہوں یا تبسم گل
ابھی ہر راز گلستاں تک ہے
ان کی پرواز کا ہے شور بہت
گرچہ اپنے ہی آشیاں تک ہے
پھول ہیں اس کے باغ ہے اس کا
دسترس جس کی باغباں تک ہے
پوچھتے ہیں وہ حال دل باقیؔ
یہ بھی گویا مرے بیاں تک ہے
باقی صدیقی

زندگی کا کوئی انداز تو ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 251
نہ سہی ساز غم ساز تو ہے
زندگی کا کوئی انداز تو ہے
کچھ گریزاں ہے صبا ہی ورنہ
بوئے گل مائلِ پرواز تو ہے
بن سکے سرخیٔ روداد حیات
خون دل اتنا پس انداز تو ہے
لب خاموش بھی بول اٹھے ہیں
کچھ نہ کچھ وقت کا اعجاز تو ہے
میری آمد نہ گراں گزری ہو
اس خموشی میں کوئی راز تو ہے
کس توقع پہ صدا دیں باقیؔ
در ارباب کرم باز تو ہے
باقی صدیقی

اس خانماں خراب کو گھر کی تلاش ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 250
میری فغاں کو باب اثر کی تلاش ہے
اس خانماں خراب کو گھر کی تلاش ہے
شبنم! تیرے ان آئنہ خانوں کی خیر ہو
میرے چمن کو برق و شرر کی تلاش ہے
بیٹھا ہوا ہوں غیر کے در پر شکستہ پا
کس مہ سے میں کہوں ترے در کی تلاش ہے
جس کی ضیا ہو دسترس شام غم سے دور
دنیا کو ایک ایسی سحر کی تلاش ہے
باقیؔ ہے ٹوٹنے کو اب امید کا طلسم
اک آخری فریب نظر کی تلاش ہے
باقی صدیقی

فسانے ہو چکے اب کام کی ضرورت ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 249
علاجِ تلخیٔ ایام کی ضرورت ہے
فسانے ہو چکے اب کام کی ضرورت ہے
مری حیات بھی صدمے اٹھا نہیں سکتی
تری نظر کو بھی آرام کی ضرورت ہے
غم جہاں کا تصور بھی جرم ہے اب تو
غم جہاں کو نئے نام کی ضرورت ہے
نظام کہنہ کی باتیں نہ کر کہ اب ساقی
نئی شراب، نئے جام کی ضرورت ہے
ترے لبوں پہ زمانے کی بات ہے باقیؔ
تجھے بھی کیا کسی الزام کی ضرورت ہے
باقی صدیقی

دل ترے درد کے سوا کیا ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 248
کیا بتاؤں کہ مدعا کیا ہے
دل ترے درد کے سوا کیا ہے
دور تاروں کی انجمن جیسے
زندگی دیکھنے میں کیا کیا ہے
ہر قدم پر نیا تماشا ہو
اور دنیا کا مدعا کیا ہے
کوئی لائے پیام فصل بہار
ہم نہیں جانتے صبا کیا ہے
درد کی انتہا نہیں کوئی
ورنہ عمر گریز پا کیا ہے
آپ بیٹھے ہیں درمیاں ورنہ
مرگ و ہستی میں فاصلہ کیا ہے
نہ رہا جب خلوص ہی باقیؔ
پھر روا کیا ہے ناروا کیا ہے
باقی صدیقی

یہ کیسا جال سا پھیلا ہوا ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 247
ترا غم ہر طرف چھایا ہوا ہے
یہ کیسا جال سا پھیلا ہوا ہے
خوشی ہے دے فریب زندگانی
کہ تجھ پر اعتبار آیا ہوا ہے
ازل سے ہے پریشاں زندگانی
یہ عقدہ کس کا الجھایا ہوا ہے
دلوں میں فاصلہ اتنا نہیں ہے
زمانہ درمیاں آیا ہوا ہے
بہانے لاکھ ہیں جینے کے باقیؔ
مگر دل ہے کہ گھبرایا ہوا ہے
باقی صدیقی

یقیں کتنا ہی پختہ ہو گماں تک ساتھ دیتا ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 246
خیال سود احساس زیاں تک ساتھ دیتا ہے
یقیں کتنا ہی پختہ ہو گماں تک ساتھ دیتا ہے
بدلتے جا رہے ہیں دمبدم حالات دنیا کے
تمہارا غم بھی اب دیکھیں کہاں تک ساتھ دیتا ہے
خیال ناخدا پھر بھی مسلط ہے زمانے پر
کہاں کوئی بھلا سیل رواں تک ساتھ دیتا ہے
زمانے کی حقیقت خود بخود کھُل جائے گی باقیؔ
چلا چل تو بھی وہ تیرا جہاں تک ساتھ دیتا ہے
باقی صدیقی

وہ زمانے سے دور ہوتا ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 245
جو تمہارے حضور ہوتا ہے
وہ زمانے سے دور ہوتا ہے
اپنی اپنی وفاؤں پر سب کو
تھوڑا تھوڑا غرور ہوتا ہے
بے رُخی کا گلہ کریں نہ کریں
دل کو صدمہ ضرور ہوتا ہے
بخش دیجے تو کوئی بات نہیں
آدمی سے قصور ہوتا ہے
مئے الفت کی بات کیا باقیؔ
اور ہی کچھ سرور ہوتا ہے
باقی صدیقی

اس طرح بھی جواب ملتا ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 244
آب مانگو، سراب ملتا ہے
اس طرح بھی جواب ملتا ہے
سینکڑوں گردشوں کے بعد کہیں
ایک جام شراب ملتا ہے
یا مقدر کہیں نہیں ملتا
یا کہیں محو خواب ملتا ہے
جتنا جتنا خلوص ہو جس کا
اتنا اتنا عذاب ملتا ہے
غم کی بھی کوئی حد نہیں باقیؔ
جب ملے بے حساب ملتا ہے
باقی صدیقی

منزل پہ چراغ سر منزل کا دھواں ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 243
احساس سفر داغ سفربن کے عیاں ہے
منزل پہ چراغ سر منزل کا دھواں ہے
لازم ہے رہیں اہل چمن گوش بر آواز
اب میری فغاں ہی مرے ہونے کا نشاں ہے
فریاد کی اب کوئی ضرورت نہیں باقیؔ
اب حال مرا رنگ زمانہ سے عیاں ہے
باقی صدیقی

دور ابھی ایک شمع جلتی ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 242
دیکھئے رات کیسے ڈھلتی ہے
دور ابھی ایک شمع جلتی ہے
آرزو چیت بے کلی ساون
تیری نظرو ں سے رت بدلتی ہے
سبز خوشے تری خبر لائے
اب طبیعت کہاں سنبھلتی ہے
دل کی کشتی کا اعتبار نہیں
تیری آواز پر یہ چلتی ہے
تیری چپ کا علاج کیا باقیؔ
بات سے بات تو نکلتی ہے
باقی صدیقی

تشنۂ شوق ہر اک پہلو ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 241
زیست پر میں ہوں گراں یا تو ہے
تشنۂ شوق ہر اک پہلو ہے
خشک پتوں پہ سرشک شبنم
اور کیا حاصل رنگ و بو ہے
وقت منہ دیکھ رہا ہے سب کا
کوئی غافل کوئی حالہ جو ہے
جانے کب دیدۂ تر تک پہنچے
دل بھی اک جلتا ہوا آنسو ہے
زخم بھر جائیں گے بھرتے بھرتے
زندگی سب سے بڑا جادو ہے
کس کی آمد ہے چمن میں باقیؔ
اجنبی اجنبی سی خوشبو ہے
باقی صدیقی

کوئی تو بات ہونے والی ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 240
دل دھڑکتا ہے جام خالی ہے
کوئی تو بات ہونے والی ہے
غم جاناں ہو یا غم دوراں
زیست ہر حال میں سوالی ہے
حادثہ حادثے سے روکا ہے
آرزو آرزو سے ٹالی ہے
ٹوٹ کر دل ہے اس طرح خاموش
ہم نے گویا مراد پا لی ہے
کیا زیاں کا گلہ کریں باقیؔ
کچھ طبیعت ہی لا ابالی ہے
باقی صدیقی

روز کچھ بار سفر بڑھ جائے ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 239
روز دل پر اک نیا زخم آئے ہے
روز کچھ بار سفر بڑھ جائے ہے
کوئی تا حد تصور بھی نہیں
کون یہ زنجیر در کھڑکائے ہے
تیرے افسانے میں ہم شامل نہیں
بات بس اتنی سمجھ میں آئے ہے
وسعت دل تنگی جاں بن گئی
زخم اک تازیست پھیلا جائے ہے
جھوم جھوم اٹھی صبا کے دھیان میں
کتنی مشکل سے کلی مرجھائے ہے
زندگی ہر رنگ میں ہے اک فریب
آدمی ہرحال میں پچھتائے ہے
گاہ صحرا سے ملے پانی کی موج
گاہ دریا بھی ہمیں ترسائے ہے
میری صورت تو کبھی ایسی نہ تھی
آئنہ کیوں دیکھ کر شرمائے ہے
باقیؔ اس احساس کا کوئی علاج
دل وہیں خوش ہے جہاں گھبرائے ہے
باقی صدیقی

اڑتی ہوئی گرد پر نطر ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 238
کیسا رستہ ہے کیا سفر ہے
اڑتی ہوئی گرد پر نطر ہے
ڈسنے لگی فاختہ کی آواز
کتنی سنسان دوپہر ہے
آرام کریں کہ راستہ لیں
وہ سامنے اک گھنا شجر ہے
خود سے ملتے تھے جس جگہ ہم
وہ گوشۂ عافیت کدھر ہے
ایسے گھر کی بہار معلوم
جس کی بنیاد آگ پر ہے
باقی صدیقی

جہاں ہر آشنا بھی اجنبی ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 237
جنون عشق کی منزل وہی ہے
جہاں ہر آشنا بھی اجنبی ہے
انہی مجبوریوں نے مارا ڈالا
کہ تیری ہر خوشی میری خوشی ہے
ابھی ہے ان کے آنے کی توقع
ابھی راہوں میں کچھ کچھ روشنی ہے
مری بربادیوں کا پوچھنا کیا
تری نظروں کی قیمت بڑھ گئی ہے
جہاں ان کا سوال آیا ہے باقیؔ
وہاں اپنی کمی محسوس کی ہے
باقی صدیقی

کس حال میں قافلہ رواں ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 236
آواز جرس ہے یا فغان ہے
کس حال میں قافلہ رواں ہے
اٹھتے اٹھتے اٹھیں گے پردے
صدیوں کا غبار درمیاں ہے
کس کس سے بچائے کوئی دل کو
ہر گام پہ ایک مہرباں ہے
ہر چند زمیں زمیں ہے لیکن
تم ساتھ چلو تو آسماں ہے
ضو صبح کی چھو رہی ہے دل کو
ہر چند کہ رات درمیاں ہے
ہم ہوں کہ ہو گرد راہ باقیؔ
منزل ہے اسی کی جو رواں ہے
باقی صدیقی

جام ہے، مے ہے، رسن ہے، دار ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 235
اہل دل فرمائیں کیا درکار ہے
جام ہے، مے ہے، رسن ہے، دار ہے
خار کو کوئی کلی کہتا نہیں
نرم ہو،نازک ہو پھر بھی خار ہے
کچھ کہیں تو آپ ہوتے ہیں خفا
چپ رہیں تو زندگی دشوار ہے
لوریاں دیتی رہی دنیا بہت
پھر بھی جو بیدار تھا، بیدار ہے
کاش ہوتے اتنے اچھے آپ بھی
جتنی اچھی آپ کی گفتار ہے
کل کہاں تھی آج ہے باقیؔ کہاں
زندگی کتنی سبک رفتار ہے
باقی صدیقی

تیرے جلوے یہاں وہاں دیکھے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 234
دشت دیکھے ہیں گلستاں دیکھے
تیرے جلوے یہاں وہاں دیکھے
اس کو کہتے ہیں تیرا لطف و کرم
خشک شاخوں پہ آشیاں دیکھے
جو جہاں کی نظر میں کانٹا تھے
ہم نے آباد وہ مکاں دیکھے
دوستوں میں ہے تیرے لطف کا رنگ
کوئی کیوں بغض دشمنان دیکھے
جو نہیں چاہتا اماں تیری
مانگ کر غیر سے اماں دیکھے
تیری قدرت سے ہے جسے انکار
اٹھکے وہ صبح کا سماں دیکھے
یہ حسیں سلسلہ ستاروں کا
کوئی تا حد آسماں دیکھے
ایک قطرہ جہاں نہ ملتا تھا
ہم نے چشمے وہاں رواں دیکھے
کس نے مٹی میں روح پھونکی ہے
کوئی یہ ربط جسم و جاں دیکھے
دیکھ کر بیچ و تاب دریا کا
یہ سفینے پہ بادباں دیکھے
جس کو تیری رضا سے مطلب ہے
سود دیکھے نہ وہ زیاں دیکھے
باقی صدیقی

اہل غم جانے تجھ کو کیا سمجھے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 233
بات کو جرم ناسزا سمجھے
اہل غم جانے تجھ کو کیا سمجھے
اپنے دعوے کو کیا غلط کہتے
تیری نفرت کو بھی ادا سمجھے
چھوڑئیے بھی اب آئینے کا خیال
دیکھ پائے کوئی تو کیا سمجھے
اک ستارہ فلک سے ٹوٹا تھا
ہم جسے صبح کی ضیا سمجھے
اس کے غم کا علاج کیا باقیؔ
جو محبت ہی کو دوا سمجھے
باقی صدیقی

لوگ اب بھولتے جاتے ہیں مجھے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 232
تیرے افسانے سناتے ہیں مجھے
لوگ اب بھولتے جاتے ہیں مجھے
قمقمے بزم طرب کے جاگے
رنگ کیا کیا نظر آتے ہیں مجھے
میں کسی بات کا پردہ ہوں کہ لوگ
تیری محفل سے اٹھاتے ہیں مجھے
زخم آئنہ بنے جاتے ہیں
حادثے سامنے لاتے ہیں مجھے
نیند بھی ایک ادا ہے تیری
رات بھر خواب جگاتے ہیں مجھے
تیرے کوچے سے گزرنے والے
کتنے اونچے نظر آتے ہیں مجھے
ان کے بگڑے ہوئے تیور باقیؔ
زیست کی یاد دلاتے ہیں مجھے
باقی صدیقی

لوگ اپنے دئیے جلانے لگے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 231
داغ دل ہم کو یاد آنے لگے
لوگ اپنے دئیے جلانے لگے
کچھ نہ پا کر بھی مطمئن ہیں ہم
عشق میں ہاتھ کیا خزانے لگے
یہی رستہ ہے اب یہی منزل
اب یہیں دل کسی بہانے لگے
خود فریبی سی خود فریبی ہے
پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے
اب تو ہوتا ہے ہر قدم پہ گماں
ہم یہ کیسا قدم اٹھانے لگے
اس بدلتے ہوئے زمانے کا
تیرے قصے بھی کچھ پرانے لگے
رُخ بدلنے لگا فسانے کا
لوگ محفل سے اٹھ کے جانے لگے
ایک پل میں وہاں سے ہم اٹھے
بیٹھنے میں جہاں زمانے لگے
اپنی قسمت سے ہے مفر کس کو
تیر پر اڑ کے بھی نشانے لگے
ہم تک آئے نہ آئے موسم گل
کچھ پرندے تو چہچہانے لگے
شام کا وقت ہو گیا باقیؔ
بستیوں سے شرار آنے لگے
باقی صدیقی

یہ راہگزر بھی دیکھ لیں گے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 230
خورشید و قمر بھی دیکھ لیں گے
یہ راہگزر بھی دیکھ لیں گے
تاروں کا طلسم ٹوٹنے دو
انوار سحر بھی دیکھ لیں گے
جلتا ہوا آشیاں تو دیکھیں
ٹوٹے ہوئے پر بھی دیکھ لیں گے
یہ نیت ناخدا رہی تو
اک روز بھنور بھی دیکھ لیں گے
قانون خدا بھی ہم نے دیکھا
ترمیم بشر بھی دیکھ لیں گے
آغوش صدف کھلی تو باقیؔ
ہم آب گہر بھی دیکھ لیں گے
باقی صدیقی

اﷲ رے حادثے سفر کے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 229
منزل کے رہے نہ رہگزر کے
اﷲ رے حادثے سفر کے
وعدہ نہ دلاؤ یاد ان کا
نادم ہیں ہم اعتبار کر کے
خاموش ہیں یوں اسیر جیسے
جھگڑے تھے تمام بال و پر کے
کیا کم ہے یہ سادگی ہماری
ہم آ گئے کام رہبر کے
یوں موت کے منتظر ہیں باقیؔ
مل جائے گا چین جیسے مر کے
باقی صدیقی

ہم بہت خوش ہیں آپ سے مل کے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 228
تھے ہی کیا اور مرحلے دل کے
ہم بہت خوش ہیں آپ سے مل کے
اور اک دل نواز انگڑائی
راز کھلنے لگے ہیں محفل کے
لاؤ طوفاں میں ڈال دیں کشتی
کون کھائے فریب ساحل کے
رنگ و بو کے مظاہرے کب تک
پھول تنگ آ گئے ہیں کھل کھل کے
اڑ رہا ہے غبار سا باقیؔ
چھپ نہ جائیں چراغ منزل کے
باقی صدیقی

دیکھو ہمیں بام سے اتر کے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 227
ہم ذرے ہیں خاک رہگزر کے
دیکھو ہمیں بام سے اتر کے
چپ ہو گئے یوں اسیر جیسے
جھگڑے تھے تمام بال و پر کے
اے باد سحر نہ چھیڑ ہم کو
ہم جاگے ہوئے ہیں رات بھر کے
شبنم کی طرح حیات کے خواب
کچھ اور نکھر گئے بکھر کے
جب ان کو خیال وضع آیا
انداز بدل گئے نظر کے
طوفاں کو بھی ہے ملال ان کا
ڈوبی ہیں جو کشتیاں اُبھر کے
حالات بتا رہے ہیں باقیؔ
ممنون نہ ہوں گے چارہ گر کے
باقی صدیقی

کچھ نہ کچھ نذر جہاں کرنا پڑے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 226
دل کا یا جی کا زیاں کرنا پڑے
کچھ نہ کچھ نذر جہاں کرنا پڑے
دل کو ہے پھر چند کانٹوں کی تلاش
پھر نہ سیر گلستاں کرنا پڑے
حال دل ان کو بتانے کے لئے
ایک عالم سے بیاں کرنا پڑے
پاس دنیا میں ہے اپنی بھی شکست
اور تجھے بھی بدگماں کرنا پڑے
ہوشیار اے جذب دل اب کیا خبر
تذکرہ کس کا کہاں کرنا پڑے
اب تو ہر اک مہرباں کی بات پر
ذکر دور آسماں کرنا پڑے
زیست کی مجبوریاں باقیؔ نہ پوچھ
ہر نفس کو داستاں کرنا پڑے
باقی صدیقی

تصویر کا رُخ ایک ہی رہتا ہے سامنے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 225
اپنی نظر کے دام سے نکلے نہ ہم کہیں
تصویر کا رُخ ایک ہی رہتا ہے سامنے
سر پھوڑتا کہ دل کا سکوں دیکھتا کوئی
دیوار سامنے کبھی سایہ ہے سامنے
ہے موت کا خیال بھی کس درجہ دلخراش
اور صورت حیات بھی کیا کیا ہے سامنے
یہ خار ہے کہ تیرِ غم زندگی کوئی
یہ پھول ہے کہ اپنی تمنا ہے سامنے
باقی صدیقی

دنیا بقدر خون تمنا ہے سامنے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 224
قطرہ ہے سامنے کہیں دریا ہے سامنے
دنیا بقدر خون تمنا ہے سامنے
اک آن میں حیات بدلتی ہے اپنا رنگ
اک دور کی طرح کوئی آتا ہے سامنے
آنکھوں میں ہے کھچی ہوئی تصویر خون دل
ہم دیکھتے نہیں وہ تماشا ہے سامنے
ہم ڈھونڈنے لگے کوئی دل عافیت مقام
ہر چند تیرے شہر کا نقشہ ہے سامنے
اٹھیں تو راستہ نہ دے بیٹھیں تو بار ہو
کچھ اس طرح اک آدمی بیٹھا ہے سامنے
جوش جنوں سے ربط وہ باقیؔ نہیں مگر
کیا دل کا اعتبار کہ صحرا ہے سامنے
باقی صدیقی

کارواں اک آ کے ٹھہرا سامنے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 223
آ گیا ہر رنگ اپنا سامنے
کارواں اک آ کے ٹھہرا سامنے
کہہ نہیں سکتے محبت میں سراب
دیر سے ہے ایک دریا سامنے
کٹ رہا ہے رشتہ قلب و نظر
ہو رہا ہے اک تماشا سامنے
دل ہے کچھ نا آشنا، کچھ آشنا
تو ہے یا اک شخص تجھ سا سامنے
فاصلہ در فاصلہ ہے زندگی
سامنے ہم ہیں نہ دنیا سامنے
کس نے دیکھا ہے لہو کا آئنہ
آدمی پردے میں سایہ سامنے
اپنے غم کے ساتھ باقیؔ چل دئیے
ہے سفر شام و سحر کا سامنے
باقی صدیقی

دیکھتے دیکھتے ٹوٹے ہیں ستارے کتنے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 222
نذر دنیا ہوئے ارمان ہمارے کتنے
دیکھتے دیکھتے ٹوٹے ہیں ستارے کتنے
چل دئیے چھوڑ کے احباب ہمارے کتنے
وقت نے چھین لئے دل کے سہارے کتنے
موج وحشت نے سفینے کو ٹھہرنے نہ دیا
راہ آئے ہیں مری رہ میں کنارے کتنے
رکھ لیا ہم نے تری مست نگاہی کا بھرم
بے خودی میں بھی ترے کام سنوارے کتنے
جیتنے والے محبت میں بہت ہیں باقیؔ
دیکھنا یہ ہے کہ اس کھیل میں ہارے کتنے
باقی صدیقی

آئنہ ساتھ دے تو نظر آئنہ بنے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 221
قطرے کی آرزو سے گہرا آئنہ بنے
آئنہ ساتھ دے تو نظر آئنہ بنے
منزل کے اعتبار سے اٹھتا ہے ہر قدم
رہرو بقدر ذوق سفر آئنہ بنے
ہم بھی مثال گردش دوراں ہیں بے مقام
پتھر ادھر بنے تو ادھر آئنہ بنے
ہر زخم دل میں زیست نے دیکھا ہے اپنا عکس
ہم آئنہ نہیں تھے مگر آئنہ بنے
ملتی ہے دل کو محفل انجم سے روشنی
آنکھوں میں شب کٹے تو سحر آئنہ بنے
ساحل کی خامشی کا فسوں ٹوٹنے لگے
دریا کا اضطراب اگر آئنہ بنے
باقیؔ کسی پہ راز چمن کس طرح کھلے
جب ٹوٹ کر نہ شاخ شجر آئنہ بنے
باقی صدیقی

کون کرتا ہے کرم دیوانے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 220
کس توقع جئیں ہم دیوانے
کون کرتا ہے کرم دیوانے
پاسِ حالات بجا ہے لیکن
ہو نہ جائیں کہیں ہم دیوانے
اس زمانے میں وفا کا دعویٰ
خود پہ کرتے ہیں ستم دیوانے
زندگی تلخ ہوئی جاتی ہے
کھو نہ دیں اپنا بھرم دیوانے
چونک چونک اٹھے خرد کے بندے
جب بھی مل بیٹھے بہم دیوانے
ڈھونڈتے پھرتے ہیں عنواں کوئی
کر کے افسانہ رقم دیوانے
کھا گئے قحط جنوں میں باقیؔ
بیچ کر لوح و قلم دیوانے
باقی صدیقی

عظمت عشق بڑھا دی ہم نے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 219
رسم سجدہ بھی اٹھا دی ہم نے
عظمت عشق بڑھا دی ہم نے
جب کوئی تازہ شگوفہ پھوٹا
کی گلستاں میں منادی ہم نے
آنچ صیاد کے گھر تک پہنچی
اتنی شعلوں کو ہوا دی ہم نے
جب چمن میں نہ کہیں چین ملا
در زنداں پہ صدا دی ہم نے
دل کو آنے لگا بسنے کا خیال
آگ جب گھر کو لگا دی ہم نے
اس قدر تلخ تھی روداد حیات
یاد آتے ہی بھلا دی ہم نے
حال جب پوچھا کسی نے باقیؔ
اک غزل اپنی سنا دی ہم نے
باقی صدیقی

صبر کا جام پی لیا ہم نے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 218
دل کا ہر زخم سی لیا ہم نے
صبر کا جام پی لیا ہم نے
کیسے انسان، کیسی آزادی
سر پہ الزام ہی لیا ہم نے
لو بدل دو حیات کا نقشہ
اپنی آنکھوں کو سی لیا ہم نے
حادثات جہاں نے راہ نہ دی
آپ کا نام بھی لیا ہم نے
اور کیا چاہتے ہیں وہ باقیؔ
خون دل تک تو پی لیا ہم نے
باقی صدیقی

یہی رستہ تھا صبا کا پہلے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 217
سفر گل کا پتا تھا پہلے
یہی رستہ تھا صبا کا پہلے
کبھی گل سے،کبھی بوئے گل سے
کچھ پتا ملتا تھا اپنا پہلے
زندگی آپ نشاں تھی اپنا
تھا نہ رنگین یہ پردا پہلے
اس طرح روح کے سناٹے سے
کبھی گزرے تھے نہ تنہا پہلے
اب تو ہر موڑ پہ کھو جاتے ہیں
یاد تھا شہر کا نقشہ پہلے
لوگ آباد تو ہوتے تھے مگر
اس قدر شور کہاں تھا پہلے
دور سے ہم کو صدا دیتا تھا
تیری دیوار کا سایہ پہلے
اب کناروں سے لگے رہتے ہیں
رُخ بدلتے تھے یہ دریا پہلے
ہر نظر دل کا پتا دیتی تھی
کوئی چہرہ تھا نہ دھندلا پہلے
دیکھتے رہتے ہیں اب منہ سب کا
بات کرنے کا تھا چسکا پہلے
ہر بگولے سے الجھ جاتی تھی
رہ نوردی کی تمنا پہلے
یوں کبھی تھک کے نہ ہم بیٹھے تھے
گرچہ دشوار تھا رستہ پہلے
اب تو سینے کا ہے چھالا دنیا
دور سے شور سنا تھا پہلے
جوئے شیر آتی ہے دل سے باقیؔ
خود پہ ہی پڑتا ہے تیشہ پہلے
باقی صدیقی

فریب خوردہ تھے ہر مہرباں کے ساتھ چلے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 216
نہ اپنے دل کے نہ اپنی زباں کے ساتھ چلے
فریب خوردہ تھے ہر مہرباں کے ساتھ چلے
کتاب دور جہاں کے وہ لفظ ہیں ہم لوگ
ہر اک فسانے ہر اک داستاں کے ساتھ چلے
وہ پی کے ہوش میں آئے کہ ہوش کھو بیٹھے
کھچ ایسے قصّے مئے ارغواں کے ساتھ چلے
کہاں کا سود کہ اپنا خیال بھی نہ رہا
زیاں کی فکر میں ہم ہر زیاں کے ساتھ چلے
یہ رُخ بھی کش مکش زندگی کا دیکھا ہے
جہاں کی بات نہ کی اور جہاں کے ساتھ چلے
ہمارے خون سے ابھریں چمن کی دیواریں
ہمارے قصّے بہار و خزاں کے ساتھ چلے
کچھ اس طرح بھی کیا ہم نے طے سفر باقیؔ
نشان بن کے ہر اک بے نشاں کے ساتھ چلے
باقی صدیقی

ساقی کا خون پی لیں جورندوں کا بس چلے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 215
الٹی بساط میکدہ، جام ہوس چلے
ساقی کا خون پی لیں جورندوں کا بس چلے
ممکن ہے آ ملے کوئی گم گشتہ راہرو
تھوڑی سی دور اور صدائے جرس چلے
کیوں چھا رہی ہے بزم جہاں پر فسردگی
دو دن تو اور ساغر سوز نفس چلے
اے خالق بہار یہ کیسی بہار ہے
ہم اک تبسم گل تر کو ترس چلے
ہر سمت ہیں بہار پہ پہرے لگے ہوئے
باد صبا چلے تو قفس تا قفس چلے
یا اس طرح کسی کو پیام سفر نہ دے
یا ہم کو ساتھ لے کے صدائے جرس چلے
باقیؔ یہ اختلاف یہ نفرت یہ حادثے
ہم تو نہ ہوں جہاں میں جو دنیا کا بس چلے
باقیؔ وہی تپش ہے وہی رنگ و بو کی پیاس
کہنے کو جھوم جھوم کے بادل برس چلے
باقی صدیقی

کچھ مہرباں جدا ہوئے کچھ مہرباں ملے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 214
غم اور خوشی کے راستے آ کر جہاں ملے
کچھ مہرباں جدا ہوئے کچھ مہرباں ملے
جن کے طفیل بزم تمنا میں رنگ تھا
وہ لوگ تجھ کو گردش دوراں کہاں ملے
راہوں پہ آج ان کا تصور بھی ہے گراں
منزل کے پاس کل جو ہمیں کارواں ملے
اہل نظر سے دل کی مہم سر نہ ہو سکی
کچھ سرنگوں ملے ہیں تو کچھ سرگراں ملے
روداد شوق تشنۂ اظہار ہی رہی
ملنے کو ہم خیال ملے، ہم زباں ملے
خوں رو رہے تھے کل جو بہاروں کی یاد میں
وہ آج بے نیاز غم گلستاں ملے
باقیؔ نہ تھی اگرچہ فریب وفاکی تاب
پھر بھی رُکے نقوش محبت جہاں ملے
باقی صدیقی

جہاں نے میکدوں کے نام بدلے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 213
نہ مے بدلی نہ مے کے جام بدلے
جہاں نے میکدوں کے نام بدلے
وہی گلشن، وہی گلشن کے انداز
فقط صیاد بدلے، دام بدلے
جو ہم بدلے تو کوئی بھی نہ بدلا
جو تم بدلے تو صبح و شام بدلے
بدلنے کو ہیں میخواروں کی نظریں
بلا سے رُخ نہ دور جام بدلے
فضائے زیست باقیؔ خاک بدلی
نہ دل بدلا نہ دل کے کام بدلے
باقی صدیقی

منزل جلی، مقام جلے، کارواں جلے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 212
جوش جنوں میں زیست کے سارے نشاں جلے
منزل جلی، مقام جلے، کارواں جلے
اہل ستم پہ اہل ستم کا ستم نہ پوچھ
اک آستاں کے بدلے کئی آستاں جلے
فصل بہار میں جو نکالے گئے ندیم
ان کی بلا سے باغ جلے، باغباں جلے
مجبوریوں کا نام ہی شاید ہے بےکسی
نظروں کے سامنے بھی کئی آشیاں جلے
باقیؔ ستمگروں کی ادائے ستم نہ پوچھ
زنداں وہیں بنائے نشیمن جہاں جلے
باقی صدیقی

کہاں ہیں زمانے کا غم کھانے والے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 211
تباہی کے بادل ہیں لہرانے والے
کہاں ہیں زمانے کا غم کھانے والے
غم زندگی سے نظر تو ملائیں
غم عشق پر ناز فرمانے والے
زمانہ کسی کا ہوا ہے نہ ہو گا
ارے او فریب وفا کھانے والے
نظر اے فقیر سر راہ پر بھی
طواف حرم کے لئے جانے والے
چلو جام اک اور پی آئیں باقیؔ
ابھی جاگتے ہوں گے میخانے والے
باقی صدیقی

ہم ترے واسطے مقتل میں تھے جانے والے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 210
ڈر کے حالات سے دامن کو بچانے والے
ہم ترے واسطے مقتل میں تھے جانے والے
خندہ گل کی حقیقت یہ کبھی ایک نظر
اے بہاروں کی طرح راہ میں آنے والے
وقت کے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں
آئنہ گردش دوراں کو دکھانے والے
ختم ہنگامہ ہوا جب تو کھڑا سوچتا ہوں
آپ ہی چور نہ ہوں شور مچانے والے
غیر کے وصف کو بھی عیب کریں گے ثابت
تنگ دل اتنے کبھی تھے نہ زمانے والے
کوئی بات آ گئی کیا ان کی سمجھ میں باقیؔ
کس لئے چپ ہیں ہنسی میری ارانے والے
باقی صدیقی

قدم قدم پہ ملیں گے سنبھالنے والے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 209
بھٹک نہ جائیں رہ نو نکالنے والے
قدم قدم پہ ملیں گے سنبھالنے والے
شب فراق کا احساس ہی نہ مٹ جائے
شب فراق کو ہنس ہنس کے ٹالنے والے
بہار بزم میں تحلیل ہو گیا ہوں میں
کہاں ہیں بزم سے مجھ کو نکالنے والے
غم حیات کی منزل ارے معاذ اﷲ
سنبھل سکے نہ جہاں کو سنبھالنے والے
نہ بھول جائیں کہیں اپنے آپ کو باقیؔ
خوشی کو ٹالیں مصیبت کو ٹالنے والے
باقی صدیقی

ہم ہوا میں بسر کریں کیسے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 208
اعتبار نظر کریں کیسے
ہم ہوا میں بسر کریں کیسے
تیرے غم کے ہزار پہلو ہیں
بات ہم مختصر کریں کیسے
رُخ ہوا کا بدلتا رہتا ہے
گرد بن کر سفر کریں کیسے
خود سے آگے قدم نہیں جاتا
مرحلہ دل کا سر کریں کیسے
ساری دنیا کو ہے خبر باقیؔ
خود کو اپنی خبر کریں کیسے
باقی صدیقی

روئی صبا لپٹ کے ہر اک شاخسار سے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 207
اٹھا نقاب جب رُخ صبح بہار سے
روئی صبا لپٹ کے ہر اک شاخسار سے
شاخوں میں تھی دبی ہوئی شاید خزاں کی آگ
گلشن بھڑک اٹھا ہے نسیم بہار سے
گزرے ہوئے دنوں کے تصور سے فائدہ
کیا روشنی ملے گی چراغ مزار سے
روداد گلستاں کو نیا رنگ دے گیا
رستا رہا ہے خون جو زخم بہار سے
باقیؔ کبھی جلی تھیں محبت کی بستیاں
راہوں میں اڑ رہے ہیں ابھی تک شرار سے
باقی صدیقی

آپ گئے ہیں جب سے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 206
روٹھ گیا دل سب سے
آپ گئے ہیں جب سے
پہروں سونے والے
جاگ رہے ہیں کب سے
تاریکی، سناٹا
توبہ ایسی شب سے
کون وفا کا پیکر!
ہم واقف ہیں سب سے
غم ہی غم دیکھا ہے
آنکھ کھلی ہے جب سے
ہم مجرم ہیں لیکن
بات تو کیجے ڈھب سے
کیا لینا، کیا دینا
ہنس کر ملئے سب سے
بات کرو کچھ باقیؔ
چپ بیٹھے ہو کب سے
باقی صدیقی

ہم کچھ بھی نہ کہہ سکے یقیں سے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 205
ظاہر تھا وہ غم تری ’’نہیں‘‘ سے
ہم کچھ بھی نہ کہہ سکے یقیں سے
روداد حیات کیا سنائیں
ہے یاد مگر کہیں کہیں سے
جیسے یہ تیری ہی رہگزر ہے
ہم بیٹھ گئے ہیں کس یقیں سے
رستے سے ہے گر پلٹ کےآنا
بہتر ہے پلٹ چلو یہیں سے
جذبات میں بہہ گئے ہیں باقیؔ
واقف تھے نہ ہم دل حزیں سے
باقی صدیقی

ہم ہیں واقف قلب دشت انداز سے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 204
خار چن لے گا بہار ناز سے
ہم ہیں واقف قلب دشت انداز سے
تیرے قصّوں نے پریشاں کر دیا
ہم نہ تھے مانوس ہر آواز سے
یہ ابھرتے ڈوبتے چہرے تو دیکھ
آشنا سے، غیر سے، دمساز سے
دام گلشن تک تو باقیؔ آ گئی
بات چل کر حسرت پرواز سے
باقی صدیقی

رند گھبرا کے نکل آئے ہیں میخانے سے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 203
خون اخلاص کی بو آتی ہے پیمانے سے
رند گھبرا کے نکل آئے ہیں میخانے سے
تیز ہوتا ہے جنوں اور بھی سمجھانے سے
کیا توقع کرے دنیا ترے دیوانے سے
اے ابھرتی ہوئی موجوں سے الجھنے والو
ڈوب مرنا کہیں بہتر ہے پلٹ آنے سے
کیا تری انجمن آرائیاں یاد آئی ہیں
کیوں پلٹ آئے ہیں وحشی ترے ویرانے سے
آرزوؤں کے معمے نہ ہوئے حل باقیؔ
زندگی اور الجھتی گئی سلجھانے سے
باقی صدیقی

رند اٹھ جائیں نہ میخانے سے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 202
بوئے خوں آتی ہے پیمانے سے
رند اٹھ جائیں نہ میخانے سے
کوئی دنیا سے شکایت تو نہیں
کون پوچھے ترے دیوانے سے
کس کے ہنسنے کی صدا آئی ہے
دل میں چلنے لگے پیمانے سے
زندگی کا یہ معمہ باقیؔ
اور الجھا مرے سلجھانے سے
باقی صدیقی

آگے دل کی خوشی جہاں ٹھہرے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 201
ہم تو دنیا سے بدگماں ٹھہرے
آگے دل کی خوشی جہاں ٹھہرے
ہائے وہ قافلے جو لٹ کر بھی
زیر دیوار گلستاں ٹھہرے
آپ کو کارواں سے کیا مطلب
آپ تو میر کارواں ٹھہرے
زندگی چاہتی ہے ہنگامہ
اور ہم لوگ بے زباں ٹھہرے
کبھی تیری تلاش میں نکلے
کبھی بن کر ترا نشاں ٹھہرے
گردش دہر ساتھ ساتھ رہی
ہم جدھر بھی گئے، جہاں ٹھہرے
ہر قدم پر تھا اک صنم خانہ
کیا بتائیں کہاں کہاں ٹھہرے
ہر نظر سنگ راہ تھی باقیؔ
کیا بتائیں کہاں کہاں ٹھہرے
کچھ تو کج رو جہاں بھی ہے باقیؔ
اور کچھ ہم بھی قصّہ خواں ٹھہرے
باقی صدیقی

بغض دوستاں چہرے لطف دشمناں چہرے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 200
اردوگرد دیواریں اور درمیاں چہرے
بغض دوستاں چہرے لطف دشمناں چہرے
گردش زمانہ کا اک طویل افسانہ
یہ جلی جلی نظریں، یہ دھواں دھواں چہرے
نقش نقش پر برہم، داغ داغ پر خنداں
زندگی کی راہوں میں رہ گئے کہاں چہرے
قہقہوں کے ساغر میں ڈھل سکیں نہ وہ باتیں
موج لب سے پہلے ہی کر گئے بیاں چہرے
موسموں کی تلخی کا کچھ سراغ دیتے ہیں
شاخ جسم نازک پر برگ بے زباں چہرے
اک خیال دنیا کاکر گیا سکوں برہم
اک ہوا کے جھونکے سے ہو گئے عیاں چہرے
رنگ و بو کی تصویریں آئنے بدلتی ہیں
خار کی خلش چہرے، پھول کا گماں چہرے
رک گئے وہاں ہم بھی ایک دو گھڑی باقیؔ
جس جگہ نظر آئے چند مہرباں چہرے
باقی صدیقی

ہے بات یہی دل میں تو اچھا کہہ دے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 199
تو عرض تمنا کو بھی جھگڑا کہہ دے
ہے بات یہی دل میں تو اچھا کہہ دے
انصاف کتابوں میں بھلا لگتا ہے
مجرم ہے وہ مجرم جسے دنیا کہہ دے
گلشن میں بہاروں کی نہیں کوئی کمی
ہاں ہاتھ نہ کچھ آئے تو صحرا کہہ دے
تو دوش ہوا پر ہے تری بات ہے کیا
جو حادثہ ہو اس کو تماشا کہہ دے
دنیا کسی نسبت سے مجھے یاد رکھے
دشمن ہوں تو دشمن مجھے اپنا کہہ دے
یہ سوچ کے ہر بات میں کہہ دیتا ہوں
شاید تو کبھی بھول کے اچھا کہہ دے
اس شخص کی باتوں کا بھروسہ باقیؔ
جو رجم کو بھی دل کی تمنا کہہ دے
باقی صدیقی

تم نہ ہوتے تو ہم کہاں ہوتے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 198
بے نشاں رہتے بے نشاں ہوتے
تم نہ ہوتے تو ہم کہاں ہوتے
مہر و مہ کو نہ یہ ضیا ملتی
آسماں بھی نہ آسماں ہوتے
تم نے تفسیر دو جہاں کی ہے
ورنہ یہ راز کب عیاں ہوتے
تم دکھاتے اگر نہ راہ حیات
جانے کس سمت ہم رواں ہوتے
ہمیں اپنی جبیں نہ مل سکتی
اتنے غیروں کے آستاں ہوتے
ایک انسان بھی نہ مل سکتا
گرچہ آباد سب مکاں ہوتے
کھل نہ سکتی کلی مسرت کی
غم ہی غم زیب داستاں ہوتے
مقصد زندگی نہ پا سکتے
اپنی ہستی سے بدگماں ہوتے
ہمیں کوئی نہ آسرا ملتا
بے اماں ہوتے ہم جہاں ہوتے
تو نے بخشی ہے روشنی ورنہ
دیدہ و دل دھواں دھواں ہوتے
باقی صدیقی

رات بھر کیا صدائے پا سنتے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 197
سو گئے دل کا ماجرا سنتے
رات بھر کیا صدائے پا سنتے
گو خموشی نہیں غموں کا علاج
پھر بھی کیا کہتے اور کیا سنتے
کارواں بھی گریز پا نکلا
ورنہ کیا کیا شکستہ پا سنتے
غم ہستی کا روگ کیا معنی
چل کے نغمہ بہار کا سنتے
کسی کنج طرب میں دم لیتے
مرغ آزاد کی نوا سنتے
حسن سرو و سمن کے پردے ہیں
داستان غم صبا سنتے
جرس غنچۂ امید کے ساتھ
طوق و زنجیر کی صدا سنتے
گاؤں جا کر کرو گے کیا باقیؔ
شور کچھ دیر شہر کا سنتے
باقی صدیقی

ایسے بھی ہیں کچھ زخم کہ بھرنے نہیں پاتے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 196
ہم تیری محبت سے گزرنے نہیں پاتے
ایسے بھی ہیں کچھ زخم کہ بھرنے نہیں پاتے
ہر موج تمنا ہے سراب یم ہستی
ہم پیاس کے صحرا سے ابھرنے نہیں پاتے
وہ دھوپ کہ دیوار سر راہ کھڑی ہے
سائے بھی درختوں سے اترنے نہیں پاتے
اس طرح جکڑ رکھا ہے احساس وفا نے
ہم ٹوٹ تو جاتے ہیں بکھرنے نہیں پاتے
آ کر بھی صبا باغ میں لہرا نہیں سکتی
کھل کر بھی کئی پھول نکھرنے نہیں پاتے
وہ بھیڑ ہے اک گام بھی ہم چل نہیں سکتے
وہ شور ہے ہم بات بھی کرنے نہیں پاتے
ہر موج قدم دل سے گزر جاتی ہے باقیؔ
وہ تیز ہوا ہے کہ ٹھہرنے نہیں پاتے
باقی صدیقی

ہم کہاں اور ٹھکانے پاتے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 195
تیرے در تک نہیں جانے پاتے
ہم کہاں اور ٹھکانے پاتے
ہر قدم پر ہے نیا ہنگامہ
ہوش میں ہم نہیں آنے پاتے
جلوہ پردہ ہے تو پردہ جلوہ
کیا ترا بھید زمانے پاتے
تم عناں گیر جنوں ہو ورنہ
چور چور آئنہ خانے پاتے
لوگ غربت کا گلہ کرتے ہیں
ہم وطن سے نہیں جانے پاتے
درد ہوتا تو مسلسل ہوتا
دل کو ہم دل تو بنانے پاتے
غم اگر ساتھ نہ دیتا باقیؔ
دشت بھی ہم نہ بسانے پاتے
باقی صدیقی

چپ نہ ہوتے تھے مگر چپ ہو گئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 194
تار دل کے ٹوٹ کر چپ ہو گئے
چپ نہ ہوتے تھے مگر چپ ہو گئے
سوچ کر آئے تھے ہم کیا کیا مگر
رنگ محفل دیکھ کر چپ ہو گئے
کیا کبھی اس کا بھی آیا ہے خیال
کیوں ترے شوریدہ سر چپ ہو گئے
کہہ رہے تھے جانے کیا لوگوں سے وہ
مجھ کو آتا دیکھ کر چپ ہو گئے
میں نہیں گویا کسی کا ترجمان
ہمنوا یوں وقت پر چپ ہو گئے
اک اداسی بزم پر چھا جائے گی
ہم بھی اے باقیؔ اگر چپ ہو گئے
باقی صدیقی

لے غم زیست ہار مان گئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 193
بیکلی کو قرار مان گئے
لے غم زیست ہار مان گئے
آپ کے ساتھ ہی بہار گئی
آپ کا اختیار مان گئے
نہ وہ آئے نہ تو نے چین لیا
اے دل بیقرار مان گئے
اس نے جو کچھ کہا مرے حق میں
لوگ بے اختیار مان گئے
بات دشوار تھی مگر باقیؔ
مے ملی میگسار مان گئے
باقی صدیقی

تھامنا اے ضبط الفت ہم گئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 192
رک گئی برسات، ساغر تھم گئے
تھامنا اے ضبط الفت ہم گئے
کیا سمجھ سکتے وہ اسرار چمن
جو چمن میں صورت شبنم گئے
ایک عالم سرنگوں پایا گیا
جس طرف ہم لے کے تیرا غم گئے
غم کے ہیں یا ضبط غم کے ترجماں
اشک جو پلکوں پہ آ کر تھم گئے
اس کے آگے کیا ہوا باقیؔ نہ پوچھ
بارگاہ حسن تک تو ہم گئے
باقی صدیقی

دور تک ساتھ لپٹے ہوئے کچھ سائے گئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 191
ہم تری بزم سے بازار میں جب لائے گئے
دور تک ساتھ لپٹے ہوئے کچھ سائے گئے
ہائے یہ شوق کہ ہر لب پہ تھا پیغام سفر
وائے یہ وہم کہ ہر گام پہ ٹھہرائے گئے
گرچہ ہر بزم میں اک قصہ ترا چلتا تھا
پھر بھی کچھ قصّے کسی طرح نہ دہرائے گئے
روز ہم اک نئے احساس کی تصویر بنے
روز ہم اک نئی دیوار میں چنوائے گئے
جس جگہ کھوئے ہیں اپنوں کی تمنا میں ہم
وہیں غیروں کی روایات میں ہم پائے گئے
کیا وفا کرکے ہوئے سب کی نظر میں مجرم
ایک عرصہ ترے کوچے میں نہ ہم آئے گئے
ہر قدم حلقۂ صد دام چمن تھا باقیؔ
ہار زنجیر کی صورت کبھی پہنائے گئے
باقی صدیقی

حادثات جہاں ہی کم نہ ہوئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 190
آپ کب مائلِ کرم نہ ہوئے
حادثات جہاں ہی کم نہ ہوئے
خیر ہو تیری کم نگاہی کی
ہم کبھی بے نیاز غم نہ ہوئے
آج ہی آئے سینکڑوں الزام
آج ہی انجمن میں ہم نہ ہوئے
لوح آزاد ہے قلم آزاد
پھر بھی کچھ حادثے رقم نہ ہوئے
شمع کی طرح ہم جلے باقیؔ
پھر بھی آگاہ راز غم نہ ہوئے
باقی صدیقی

شہر کچھ اور بھی ویران ہوئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 189
مرحلے زیست کے آسان ہوئے
شہر کچھ اور بھی ویران ہوئے
اس لگاؤ پہ ہے اک شخص سے لاگ
تھی نئی بات کہ حیران ہوئے
وہ نظر اٹھنے لگی دل کی طرف
حادثے اب مرے ارمان ہوئے
آپ کو ہم سے شکایت کیسی
ہم تو غافل ہوئے نادان ہوئے
دل وارفتہ کی باتیں باقیؔ
یاد کر کر کے پشیمان ہوئے
باقی صدیقی

بہت روئے مگر رونے نہ پائے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 188
وفا کے زخم ہم دھونے نہ پائے
بہت روئے مگر رونے نہ پائے
کچھ اتنا شور تھا شہر سبا میں
مسافر رات بھر سونے نہ پائے
جہاں تھی حادثہ ہر بات باقیؔ
وہیں کچھ حادثے ہونے نہ پائے
باقی صدیقی

ایک طوفاں کی ابتدا ہو جائے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 187
موج ساحل سے جب جدا ہو جائے
ایک طوفاں کی ابتدا ہو جائے
لاکھ مجبوریاں سہی لیکن
آپ چاہیں تو کیا سے کیا ہو جائے
ہم کہیں جو روا نہیں لیکن
تم کہو جو وہی روا ہو جائے
تیری رحمت پہ اس قدر ہے یقین
جب خیال آئے اک خطا ہو جائے
دل انوکھا چراغ ہے باقیؔ
جب بجھے روشنی سوا ہو جائے
باقی صدیقی

سامنے ان کے نہ بیٹھا جائے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 186
ایسے دل پر بھی کوئی کیا جائے
سامنے ان کے نہ بیٹھا جائے
اب ہے وہ زخم نظر کا عالم
تیری جانب بھی نہ دیکھا جائے
کتنی سنسان ہے راہ ہستی
نہ چلا جائے نہ ٹھہرا جائے
ہمر ہو گوش بر آواز رہو
کیا خبر کوئی خبر آ جائے
زندگی اڑتا ہوا سایہ ہے
آگے آگے ہی سرکتا جائے
آرزو دیر سے چپ ہے باقیؔ
در پہ دستک کوئی دیتا جائے
باقی صدیقی

حادثے زاد سفر لے آئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 185
سوز دل، زخم جگر لے آئے
حادثے زاد سفر لے آئے
دست گلچیں ہے کہ شاخ گل ہے
جب اٹھے اک گل تر لے آئے
ننگ ہستی ہے سکوت ساحل
کوئی طوفاں کو ادھر لے آئے
اپنی حالت نہیں دیکھی جاتی
ہم کو حالات کدھر لے آئے
تجھ سے مل کر بھی نہ تجھ کو پایا
غم بہ انداز دگر لے آئے
زندگی اس کی ہے جو دنیا کو
زندگی دے کے نظر لے آئے
دامن لالۂ گل سے باقیؔ
مل سکے جتنے شرر لے آئے
باقی صدیقی

متاع درد تو ہم راہ میں لٹا آئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 184
جنوں کی راکھ سے منزل میں رنگ کیا آئے
متاع درد تو ہم راہ میں لٹا آئے
وہ گرد اڑائی کسی نے کہ سانس گھٹنے لگی
ہٹے یہ راہ سے دیوار تو ہوا آئے
کسی مقام تمنا سے جب بھی پلٹے ہیں
ہمارے سامنے اپنے ہی نقش پا آئے
نمو کے بوجھ سے شاخیں نہ ٹوٹ جائیں کہیں
تم آؤ تو کوئی غنچہ کھلے، صبا آئے
یہ دل کی پیاس یہ دنیا کے فاصلے باقیؔ
بہت قریب سے اب تو کوئی صدا آئے
باقی صدیقی

لوگ اٹھائے ہوئے پتھر آئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 183
ہم کہیں آئنہ لے کر آئے
لوگ اٹھائے ہوئے پتھر آئے
دل کے ملبے میں دبا جاتا ہوں
زلزلے کیا مرے اندر آئے
جلوہ، جلوے کے مقابل ہی رہا
تم نہ آئنے سے باہر آئے
دل سلاسل کی طرح بجنے لگا
جب ترے گھر کے برابر آئے
جن کے سائے میں صبا چلتی تھی
پھر نہ وہ لوگ پلٹ کر آئے
شعر کا روپ بدل کر باقیؔ
دل کے کچھ زخم زباں پر آئے
باقی صدیقی

سنبھل سنبھل کے ٹھکانے مرے حواس آئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 182
کچھ اس طرح وہ مری زندگی کے پاس آئے
سنبھل سنبھل کے ٹھکانے مرے حواس آئے
تو ہی بتا کہ اسے کس طرح میں سمجھاؤں
تری شکایتیں لے کر جو میرے پاس آئے
حیات راس نہ آئی اگرچہ دل میں مرے
بدل بدل کے امیدوں کا وہ لباس آئے
کل ان کی بزم میں گزری ہے تم پہ کیا باقیؔ
کہ شاد شاد گئے اور اداس اداس آئے
باقی صدیقی

مجھے حیرت ہے تو حیرت ہی سہی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 181
وہ نظر آئنہ فطرت ہی سہی
مجھے حیرت ہے تو حیرت ہی سہی
زندگی داغ محبت ہی سہی
آپ سے دور کی نسبت ہی سہی
تم نہ چاہو تو نہیں کٹ سکتی
ایک لمحے کی مسافت ہی سہی
دل محبت کی ادا چاہتا ہے
ایک آنسو دم رخصت ہی سہی
آب حیواں بھی نہیں مجھ پہ حرام
زہر کی مجھ کو ضرورت ہی سہی
اپنی تقدیر میں سناٹا ہے
ایک ہنگامے کی حسرت ہی سہی
اس قدر شور طرب کیا معنی
جاگنے کی مجھے عادت ہی سہی
بزم رنداں سے تعلق کیسا
آپ کی میز پہ شربت ہی سہی
حد منزل ہے مقرر باقیؔ
رہرو شوق کو عجلت ہی سہی
باقی صدیقی

رہگزر ہی میں رہے راہگزر کے ساتھی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 180
چل سکے دل کے نہ ہمراہ نظر کے ساتھی
رہگزر ہی میں رہے راہگزر کے ساتھی
ہر کنارے کی طرف صورت دریا دیکھو
راستہ روک بھی لیتے ہیں سفر کے ساتھی
قافلے شور مچاتے ہوئے گزرے لیکن
اپنی دیوار سے آئے نہ اتر کے ساتھی
خشک شاخوں پہ سر شام جو آ بیٹھتے ہیں
وہی دو چار پرندے ہیں شجر کے ساتھی
چاک دامن کا گلہ کرتے رہے ہم باقیؔ
اور محفل سے اٹھے جھولیاں بھر کے ساتھی
باقی صدیقی

تو مہرباں تھا تو دنیا بھی مہرباں تھی کبھی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 179
یہی جہاں تھا، یہی گردش جہاں تھی کبھی
تو مہرباں تھا تو دنیا بھی مہرباں تھی کبھی
ترے شگفتہ شگفتہ نقوش پا کے طفیل
مری نگاہ میں ہر راہ کہکشاں تھی کبھی
مرے خیال سے تیرا غرور روشن تھا
تری نگاہ سے دنیا میری جواں تھی کبھی
ترے تبسم رنگیں سے پھول کھلتے تھے
مری حیات بہاروں کی داستاں تھی کبھی
وہ بے خودی مری، وہ تیرے قرب کا احساس
نہ آس پاس تھی دنیا نہ درمیاں تھی کبھی
کبھی کبھی مجھے باقیؔ خیال آتا ہے
وہاں کھڑی ہے مری زندگی جہاں تھی کبھی
باقی صدیقی

وہ مہرباں تھے تو ہر چیز مہرباں تھی کبھی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 178
یہی جہاں تھا، یہی گردش جہاں تھی کبھی
وہ مہرباں تھے تو ہر چیز مہرباں تھی کبھی
ترے شگفتہ شگفتہ نقوش پا کے طفیل
مری نظر میں ہر اک راہ کہکشاں تھی کبھی
مری نگاہ سے تیرا غرور روشن تھا
تری نگاہ سے دنیا مری جواں تھی کبھی
براہ راست نظر تجھ سے بات کرتی تھی
نہ آس پاس تھی دنیا نہ درمیاں تھی کبھی
کبھی کبھی مجھے باقیؔ خیال آتا ہے
وہاں نہیں ہے مری زندگی جہاں تھی کبھی
باقی صدیقی

فیصلہ اک نگاہ پر ہے ابھی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 177
فاصلہ دل کا مختصر ہے ابھی
فیصلہ اک نگاہ پر ہے ابھی
چاند شب کے گلے میں اٹکا ہے
دور ہنگامہ سحر ہے ابھی
سائے قدموں کو روک لیتے ہیں
اک دیوار ہر شجر ہے ابھی
گھر کے اندر نظر نہیں جاتی
راہ میں حسن بام و در ہے ابھی
راستے گونجتے ہیں دل کی طرح
ایک آواز ہم سفر ہے ابھی
راہ بھی گرد، منزلیں بھی گرد
ہر قدم اک نئی خبر ہے ابھی
کچھ تعلق صبا سے ہے باقیؔ
دل کے دامن میں اک شرر ہے ابھی
باقی صدیقی

سامنے ہے بھرا بازار ابھی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 176
دل سے باہر ہیں خریدار ابھی
سامنے ہے بھرا بازار ابھی
آدمی ساتھ نہیں دے سکتا
تیز ہے سائے کی رفتار ابھی
یہ کڑی دھوپ یہ رنگوں کی پھوار
ہے ترا شہر پُراسرار ابھی
دل کو یوں تھام رکھا ہے جیسے
بیٹھ جائے گی یہ دیوار ابھی
آنچ آتی ہے صبا سے باقیؔ
کیا کوئی گل ہے شرر بار ابھی
باقی صدیقی

کوئی ہم سے خفا تھا پہلے بھی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 175
دل قتیل ادا تھا پہلے بھی
کوئی ہم سے خفا تھا پہلے بھی
ہم تو ہر دور کے مسافر ہیں
ظلم ہم پر روا تھا پہلے بھی
دل کے صحراؤں کو بسائے کوئی
شہر تو اک بسا تھا پہلے بھی
وقت کا کوئی اعتبار نہیں
ہم نے تم سے کہا تھا پہلے بھی
ہر سہارا پہاڑ کی صورت
اپنے سر پر گرا تھا پہلے بھی
دل کو باتوں سے ناپتے ہیں لوگ
ذکر اپنا چلا تھا پہلے بھی
باقی صدیقی

ایک پردہ اٹھا تھا پہلے بھی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 174
آپ ہی آپ سامنے تھے ہم
ایک پردہ اٹھا تھا پہلے بھی
منزل دل کی جستجو معلوم
دور اک قافلہ تھا پہلے بھی
کس نے دیکھا ہے غم کا آئنہ
دل تماشا بنا تھا پہلے بھی
یہی رنگ چمن کی باتیں تھیں
یہی شور صبا تھا پہلے بھی
پھول مہکے تھے رند بہکے تھے
جشن برپا ہوا تھا پہلے بھی
زیست کے ان فسانہ خوانوں سے
اک فسانہ سنا تھا پہلے بھی
کسی در پر جھکے نہ ہم باقیؔ
اپنا رستہ جدا تھا پہلے بھی
باقی صدیقی

مرے لبوں پہ زمانے کی بات ہے پھر بھی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 173
ترے حضور ہوں، فکر حیات ہے پھر بھی
مرے لبوں پہ زمانے کی بات ہے پھر بھی
اگرچہ اس میں تری کوششیں بھی شامل ہیں
یہ کائنات مری کائنات ہے پھر بھی
کہاں حقیقت جلوہ، کہاں فریب شرار
ہزار شمعیں جلیں رات رات ہے پھر بھی
باقی صدیقی

مگر یوں زندگی ہو گی بسر بھی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 172
کرم ہے ہم پہ تیری اک نظر بھی
مگر یوں زندگی ہو گی بسر بھی
جو لے جاتی ہیں ہاتھوں پر سفینہ
انہی موجوں سے بنتے ہیں بھنور بھی
عنایت ایک تہمت بن نہ جائے
نظر کے ساتھ جھک جائے نہ سر بھی
ترے نغموں میں بھی کھویا ہوا ہوں
لگے ہیں کان دل کے شور پر بھی
چلا ہاتھوں سے دامان تمنا
ذرا اے سیل رنگ و بو ٹھہر بھی
لہو میں تر ہیں کا نٹوں کی زبانیں
کسی کو ہے گلستاں کی خبر بھی
لو اب تو دل کے سناٹے میں باقیؔ
ہوا شامل سکوت بام و در بھی
باقی صدیقی

کسی کے خون کی بو راستوں سے آنے لگی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 171
شفق کی آگ کہانی کوئی سنانے لگی
کسی کے خون کی بو راستوں سے آنے لگی
ملی ہے ایک زمانے کو روشنی جن سے
ہوائے دہر وہی مشعلیں بجھانے لگی
تھا جس خیال پہ قائم حیات کا ایواں
اسی خیال سے تلخی دلوں میں آنے لگی
سحر کے آئنے کا کوئی اعتبار نہیں
کلی تو دیکھ کے عکس اپنا مسکرانے لگی
میں اپنے دل کے بھنور سے نکل نہیں سکتا
تمہاری بات تو کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگی
گلوں کے منہ میں زمانے نے آگ رکھ دی ہے
بہار اپنا ہی خوں پی کے لڑکھڑانے لگی
نسیم گزری ہے زنداں سے اس طرح باقیؔ
شکست دل کی صدا دور دور جانے لگی
باقی صدیقی

امید اپنے سہاروں کو ساتھ لائے گی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 170
تری نظر کے اشاروں کو ساتھ لائے گی
امید اپنے سہاروں کو ساتھ لائے گی
وہی نظر مرے رستے میں بن گئی دیوار
گماں تھا جس پہ نظاروں کو ساتھ لائے گی
تری نظر ہی کا اب انتظار لازم ہے
تری نظر ہی بہاروں کو ساتھ لائے گی
بہت نحیف سہی موج زندگی پھر بھی
مچل گئی تو کناروں کو ساتھ لائے گی
تو آنے والے زمانے کا غم نہ کر باقیؔ
کہ رات اپنے ستاروں کو ساتھ لائے گی
باقی صدیقی

ایک طوفاں کی ابتدا ہو گی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 169
موج ساحل سے جب جدا ہو گی
ایک طوفاں کی ابتدا ہو گی
مجھ سے پوچھو نہ داستاں میری
میری ہر بات ناروا ہو گی
مدعا خامشی تک آ پہنچا
اب نگاہوں سے بات کیا ہو گی
دل انوکھا چراغ ہے باقیؔ
بجھ کے بھی روشنی سوا ہو گی
باقی صدیقی

کر نہ تکلیف مسکرانے کی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 168
اب نہیں تاب زخم کھانے کی
کر نہ تکلیف مسکرانے کی
ہے خبر گرم ان کے آنے کی
کون سنتا ہے اب زمانے کی
زندگی پھر نہ راہ پر آئی
دیر تھی اک فریب کھانے کی
سب کی نظروں میں ہم کھٹکنے لگے
یہ سزا ہے مراد پانے کی
تھا زمانہ بھی مہرباں باقیؔ
جب ضرورت نہ تھی زمانے کی
باقی صدیقی

پہلی سی بات اب نہیں تیرے غلام کی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 167
ہر آہ پر نظر ہے غمِ صبح و شام کی
پہلی سی بات اب نہیں تیرے غلام کی
اٹھی نہ جب نگاہ کسی تشنہ کام کی
ساقی کو پڑ گئی خم و مینا و جام کی
رکھ دو مرے غموں کو بھی دنیا کے سامنے
کڑیاں ہیں یہ بھی سلسلہ صبح و شام کی
ہر ایک معرکے میں رہا گرچہ پیش پیش
لیکن کہیں چلی نہ دلِ تیز گام کی
ان خشک وادیوں سے کوئی آشتا نہ تھا
باقیؔ ہے میرے نام سے شہرت سہام کی
باقی صدیقی

کیسی صورت ہے یہ سفر کی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 166
منزل کی خبر نہ رہگزر کی
کیسی صورت ہے یہ سفر کی
بوجھل پلکیں، اداس نظریں
فریاد ہے میری چشم تر کی
اندر سے ٹوٹتے رہے ہیں
باہر سے زندگی بسر کی
دل کے قصّے میں کیا رکھا ہے
باتیں ہیں کچھ ادھر ادھر کی
میں رات اداس ہو گیا تھا
اتنی تھی روشنی قمر کی
کچھ ہم میں نہیں بیاں کی طاقت
کچھ وقت نے بات مختصر کی
اندر کچھ اور داستاں ہے
سرخی کچھ اور ہے خبر کی
باقی صدیقی

ہے گراں خود پہ اک نظر اپنی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 165
کیا ملے گی ہمیں خبر اپنی
ہے گراں خود پہ اک نظر اپنی
دوسروں کے بھلے میں بھی اے دوست
فکر ہوتی ہے بیشتر اپنی
اک سحر ظلمت جہاں سے دور
کہہ سکیں ہم جسے سحر اپنی
کارواں ہے قریب منزل کے
اب کرے فکر راہبر اپنی
پوچھتے ہیں جہاں کی ہم باقیؔ
اور کہتا ہے چارہ گر اپنی
باقی صدیقی

اپنی ہوا میں اڑتا ہے بے پر کا آدمی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 164
جب سایہ آدمی کا پڑا سرکا آدمی
اپنی ہوا میں اڑتا ہے بے پر کا آدمی
گرتا ہے اپنے آپ پہ دیوار کی طرح
اندر سے جب چٹختا ہے پتھر کا آدمی
مٹی کی بات کرتا ہے کس اہتمام سے
سونے کی سل پہ بیٹھ کے مرمر کا آدمی
سائے کا ایک طور نہ چلمن کا ایک رنگ
دیوار کا رہا نہ کسی در کا آدمی
ہر صبح اٹھ کے زیست کی دیوار چاٹنا
باہر سے کتنا دور ہے اندر کا آدمی
باقیؔ یہ پھیلتے ہوئے رنگوں کے دائرے
باہر ہی باہر اڑتا ہے باہر کا آدمی
باقی صدیقی

بام افلاک سے اتر ساقی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 163
پھول بکھرے ہیں خاک پر ساقی
بام افلاک سے اتر ساقی
میکدہ اور مہیب سناٹا
بے رُخی اور اس قدر ساقی
تشنہ کامی سی تشنہ کامی ہے
دل میں پڑنے لگے بھنور ساقی
بجھ رہا ہے چراغ مے خانہ
رگ ساغر میں خون بھر ساقی
بار ہیں اب خزاں کے ہنگامے
فصل گل کی کوئی خبر ساقی
رند بکھرے ہیں ساغروں کی طرح
رنگ محفل پہ اک نظر ساقی
بے ارادہ چھلک چھلک جانا
جام مے ہے کہ چشم تر ساقی
اک کرن اس طرف سے گزری ہے
ہو رہی ہے کہیں سحر ساقی
توڑ کر سب حدود میخانہ
بوئے مے کی طرح بکھر ساقی
جانے کل رنگ زندگی کیا ہو
وقت کی کروٹوں سے ڈر ساقی
رات کے آخری تبسم پر
مئے باقیؔ نثار کر ساقی
باقی صدیقی