زمرہ جات کے محفوظات: ہوائے طرب

باصِر کاظمی ۔ از انور شعور

باصِر کاظمی سے میری پہلی نظر کی محبت ہے، وہ بھی اُسے دیکھے بغیر۔ شاعری پسند کرنے کے لئے شاعر کودیکھنا ضروری بھی نہیں ہوتا۔ میر کو ہم نے کہاں دیکھا ہے، غالب کو کہاں دیکھا ہے۔ اور کبھی کبھی تو ممدوح کو نہ دیکھنا ہی مداح کے حق میں بہتر ثابت ہوتا ہے۔

پچیس تیس برس قبل کا ذکر ہے، کسی رسالے میں باصِر کی غزل پڑھنے کا موقع ملا۔ حیرت بھی ہوئی، مسرت بھی۔ یہ تعارفی غزل ہی تیر بہ ہدف نکلی اور میں بے اختیار واہ کہہ اُٹھا۔ اُس وقت مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ مانوس اجنبی، باصِر سلطان کاظمی کون ہے مگر کچھ ایسا لگا کہ ہوائے دشت سے بوئے رفاقت آتی ہے۔ پھر مختلف اوقات میں اُس کی کچھ اور غزلیں دیکھیں ، نقش گہرا ہوتا گیا۔ آجکل اکثر نئے شعرا کو پڑھ کر با لعموم ضیاعِ وقت پر افسوس ہوتا ہے اور خیال آتا ہے کہ ایں دفتربے معنی غرقِ مئے ناب اولی۔ اِس کے بر عکس باصِر کو پڑھ کر بہت فرحت حاصل ہوتی ہے اور سوچتا ہوں کہ یہ کلام نظر سے نہ گذرا ہوتاتو میرے مطالعے میں کوئی کمی، کوئی تشنگی رہ جاتی۔

بدقسمتی سے ہمارا دور شعر گوئی کے حوالے سے بہ وجوہ دورِ غلط گویاں ہو کے رہ گیا ہے۔ دیگر فنون کی طرح شاعری بھی ایک باقاعدہ فن ہے لیکن افسوس، اب یہ فن سیکھنے کا رواج نہیں رہا۔ ہر مبتدی، ہر نو آموز کو مطالعے، مشق اور اصلاح وغیرہ کے جھنجٹ میں پڑے بغیر براہِ راست پیدائشی شاعر کہلانے کا خبط ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجموعے بے حساب شائع ہو رہے ہیں لیکن بیشتر کی حالت نا قابلِ تبصرہ ہوتی ہے یعنی ناقص الاول، ناقص الاوسط، ناقص الآخر۔ خود رو پودوں کی تراش خراش نہ ہو تو جنگل باغ میں تبدیل نہیں ہو سکتا۔ کوئی بھی تحریر اچھی بری تو بعد میں ہو گی پہلے صحیح تو ہو۔ مانا کہ فطرت کے خزانے میں بھی عموماًپھول کم ہوتے ہیں ، گھاس پھوس کی بہتات ہوتی ہے اور اکثر یہی عالم شاعری میں بھی رہا ہے لیکن عمدہ تخلیقات کی اتنی قلت پہلے نہیں تھی، گویا جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی۔

شکر ہے کہ باصِر اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی بھیڑ کی طرح بر خود غلط اور ’بے اُستادا‘ نہیں ہے۔ اُس نے فن کی طرف بھی خاطر خواہ توجہ دی ہے۔ لہذا مکمل اور بے عیب شعر کہنا اُس کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔ اِس اعتبار سے آسانی کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے بیشتر ہمعصروں سے قطعی منفرد ہے لیکن میں یہاں یہ لفظ استعمال نہیں کروں گا کیونکہ شاید اردو شاعری میں ہر لحاظ سے منفرد کہلانے کا حق صرف علامہ اقبال کو ہے۔

فن سے بے بہرہ لوگوں کا ذکر آیا ہے تو یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ موجودہ زمانے میں ایک سِرے سے دوسرے سِرے تک سبھی غلط سلط، انٹ شنٹ بَک رہے ہوں ، بہت سے لوگ درست شعر بھی کہہ رہے ہیں مگر ان مشاق حضرات میں زیادہ تر ایسے ہیں جن کے شعروں میں مزہ نہیں ہوتا، رَس نہیں ہوتا۔ یہاں یاد آیا، غالب نے اپنے ایک شاگرد کو ایک خط میں کچھ اِس قسم کی رائے بھیجی تھی کہ میاں ، تمہاری غزل میں کوئی عیب نہیں ہے، مگر جس طرح کوئی عیب نہیں ہے، اِس طرح کوئی خوبی بھی نہیں ہے۔ پس نتیجہ یہ نکلاکہ تخلیقی ادب کی ایک شرط، اور غالباً اولین شرط یہ بھی ہے کہ اس میں لُطف ہونا، رَس ہونا ضروری ہے، وہ خشک اور سپاٹ ہرگز نہیں ہونا چاہئے۔ ایک بار باتوں باتوں میں باصِر کے ذکر پر ڈاکٹر فاطمہ حسن کہہ رہی تھیں کہ آپ کو دراصل باصِر کاظمی کے پرفیکشن نے متاثر کیا ہے۔ بے شک انہوں نے ٹھیک کہا، واقعی مجھے باصِر کے پرفیکشن نے متاثر کیا ہے کیونکہ فی زمانہ یہ ایک نادر صفت ہو گئی ہے۔ نیز جو کلام پرفیکٹ نہ ہو، وہ دریا بُرد ہو جاتا ہے، ادب کی’ آبِ حیات‘ میں شامل نہیں ہوتا، یا شامل نہیں ہونا چاہئے۔

باصِر کاظمی اپنے گھر کا روشن چراغ ہے۔ اُس نے ناصِر کاظمی کا فرزند ہونے ہی پر اکتفا نہیں کیابلکہ اُس کا حقیقی وارث بن کے دکھایا ہے۔ وہ چاہتا تو اپنے نامور باپ کے ادبی ترکے پر بھی اچھی خاصی آسودہ زندگی گزار سکتا تھا لیکن یہ بات اُس کی خطر پسند طبیعت کو کہاں سازگار آ سکتی تھی۔ اس کے بجائے اُس نے دشوار سمت چُنی اور بسم اللہ کہہ کے قدم اُٹھادیا۔ اور پھر اِس راہ میں جو سب پہ گزرتی ہے، وہ گزری یعنی پہلے پدر خراب ہوا پھر پسر خراب۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پسر نسبتاً زیادہ ’خراب ‘ ہوا یعنی غزل کے ساتھ ساتھ اُس نے نظم اور نثر میں بھی طبع آزمائی کی اور تینوں اصناف میں معرکے کی تحریریں پیش کیں ۔ مثال کے طور پر اُس کا لاجواب ڈرامہ ’بساط‘ ملاحظہ کر لیجئے۔ غزل میں بھی اُس نے ناصِر کاظمی کے رنگ سے ہٹ کر اپنا ڈھنگ نکالا ہے۔ اُسے غزل میں نئے اور غیر روایتی الفاظ کھپانے کا سلیقہ آتا ہے، اس لئے اُس کے اسلوب میں ایک ندرت پیدا ہو گئی ہے۔ اِس ندرت کی شہادت میں اِن دو غزلوں کا حوالہ دینا چاہوں گا:

کر لیا دن میں کام آٹھ سے پانچ

اب چلے دورِ جام آٹھ سے پانچ

اگرچہ کچھ نہیں اوقات ایک ہفتے کی

جو سوچئے تو ہیں یہ دس ہزار ایک منٹ

اب ناصِر کاظمی اپنے گھرانے میں اکیلے نہیں رہے۔ آج وہ ہوتے تو دیکھتے کہ زندگی اور وقت نے اُن کی یہ دعا پوری کر دی ہے:

عمر بھر کی نوا گری کا صلہ

اے خدا کوئی ہم نوا ہی دے

یہ چند سطریں میں نے صرف ثواب کی خاطر لکھی ہیں ع گر قبول افتد زہے ۔ ۔ ۔ اردو ادب کے مشاہیر باصِر کی تحریروں کا تحریری اعتراف کر چکے ہیں ۔ میری کیا مجال کہ اُن کے سامنے لب کشائی کرنے کی جرات کروں ۔ ویسے بھی مشک کی خوشبو اپنے اظہار کے لئے عطار کے لفظوں کی محتاج کہاں ہوتی ہے۔ اجازت دیجئے، اور باصِر کے چند اشعار دیکھئے:

اِس کاروبارِ عشق میں ایسی ہے کیا کشش

پہلے پدر خراب ہوا پھرپسر خراب

اِسقدر ہجر میں کی نجم شماری ہم نے

جان لیتے ہیں کہاں کوئی ستارا کم ہے

اب تجھے کھو کے خیال آتا ہے

تجھ کو پایا تھا بہت کچھ کھو کر

کتنی ہی بے ضرر سہی تیری خرابیاں

باصِر خرابیاں تو ہیں پھر بھی خرابیاں

چل دیے یوں صنم کدے سے ہم

جیسے مل جائے گا خدا باہر

آشنا درد سے ہونا تھا کسی طور ہمیں

تو نہ ملتا تو کسی اور سے بچھڑے ہوتے

عادتیں اور حاجتیں باصِربدلتی ہیں کہاں

رقص بِن رہتا نہیں طاؤس بَن کوئی بھی ہو

(دنیا زاد، کتابی سلسلہ54، دسمبر2017، مرتبہ آصف فرخی، کراچی)

باصر کاظمی

ویلینٹائن ۔ کیرل این ڈفی

ایک سرخ گلاب یا ساٹن کا بنا ہوا دل نہیں ۔

میں تمہیں ایک پیاز دیتی ہوں ۔

یہ خاکی کاغذ میں لپٹا ہوا چاند ہے۔

یہ روشنی دے گا

جیسے محبت کو احتیاط سے بے لباس کیا جائے۔

یہ لو۔

یہ تمہیں آنسوئوں سے اندھا کر دے گا

ایک عاشق جیسا۔

یہ تمہارے عکس کو

غم کی لرزتی ہوئی تصویر بنا دے گا۔

میں راست گو ہونے کی کوشش کر رہی ہوں ۔

ایک خوبصورت کارڈ یا کِسوگرام

باصر کاظمی

سگریٹ (نظم سے اقتباس) ۔ جون ایش

سگریٹ ایک جذبے کی طرح ہے کہ یہ اندر تک اتارا جاتا ہے

اور جسم کی تمام خالی جگہوں کو معمور کرتا محسوس ہوتا ہے،

تاآنکہ،بے شک، یہ جل کے ختم ہو جائے، اور بجھا دیا جائے

پستے کے چھلکوں میں ، یا جو بھی کچرا

قریب ہو، اور ہو سکتاہے جذبہ آثار چھوڑ جائے

جو وقت کے ساتھ بڑھ کے شدیدہو جائیں : وہ جس نے لطف اٹھایاہے

ممکن ہے کئی برس بعد مر جائے، ایک گمنام

ہوٹل یا ہسپتال کے کمرے میں ، ایک سٹینڈ،

بُری تصویر یا خالی مرتبان کی خالی نظروں کے نیچے،

اُس لمحے کو یکسر بھولتے ہوئے، جس نے اعلان کیا تھا

اُس کی موت کے آغاز کا۔

باصر کاظمی

ایک دفعہ کا ذکر ہے ۔ گبریل اوکارا

ایک دفعہ کا ذکر ہے، اے پسر،

وہ دل سے ہنستے تھے

اور اپنی آنکھوں سے ہنستے تھے:

لیکن اب وہ صرف اپنے دانتوں سے ہنستے ہیں ،

جبکہ ان کی برف سی سرد آنکھیں

میرے سائے کے پیچھے کچھ ڈھونڈتی ہیں ۔

بے شک ایک وقت تھا

جب وہ دل سے ہاتھ ملاتے تھے:

مگر وہ وقت جا چکا، اے پسر،

اب وہ بے دلی سے ہاتھ ملاتے ہیں

جس اثنامیں ان کے بائیں ہاتھ تلاشی لیتے ہیں

میری خالی جیبوں کی ۔

’اپنا گھر سمجھو‘! ’پھر آنا‘:

وہ کہتے ہیں ، اور جب میں آتا ہوں

دوبارہ اور محسوس کرتا ہوں

اپنے گھر جیسا، ایک بار، دوبار،

تیسری بار نہیں آئے گی ۔۔

کیونکہ اس کے بعد میں دروازوں کو خود پر بند پاتا ہوں ۔

چنانچہ میں نے بہت کچھ سیکھا ہے ، اے پسر،

میں نے بہت سے چہرے پہننا سیکھ لیے ہیں

ملبوسات کی طرح۔۔ گھر کا چہرہ،

دفتر کا چہرہ، گلی کا چہرہ، میزبانی کا چہرہ،

پارٹی کا چہرہ، اپنی تمام مناسبت رکھتی ہوئی مسکراہٹوں کے ساتھ

ایک آویزاں تصویر کی مسکراہٹ کی طرح۔

اور میں نے بھی سیکھ لیا ہے

صرف اپنے دانتوں سے ہنسنا

اور بے دلی سے ہاتھ ملانا۔

میں نے ’الوداع‘ کہنا بھی سیکھ لیا ہے،

جب میرا مطلب ہوتا ہے ’جان چھوٹی‘:

یہ کہنا کہ’ آپ سے مل کے خوشی ہوئی‘،

خوش ہوئے بغیر؛ اور کہنا کہ

’آپ سے بات کرنا اچھا لگا‘، بیزار ہونے کے بعد۔

لیکن میرا یقین کر، فرزند۔

میں ہونا چاہتا ہوں جو میں کبھی تھا

جب میں تجھ ایسا تھا۔ میں چاہتا ہوں

ان تمام بے صدا کرنے والی باتوں کو بھلا دینا۔

سب سے بڑھ کے، میں دوبارہ سیکھنا چاہتا ہوں

کیسے ہنستے ہیں ، کیونکہ آئینے میں میرا قہقہہ

صرف میرے دانت دکھاتا ہے جیسے ایک سانپ کے عیاں زہری دانت!

پس مجھے دکھا، اے پسر،

کیسے ہنستے ہیں ؛ مجھے دکھا کیسے

میں ہنسا کرتا تھا اور مسکراتا تھا

کبھی جب میں تیرے جیسا تھا۔

باصر کاظمی

مہاجر کا اداس نغمہ۔ ڈبلیو ایچ اوڈن

فرض کرو اِس شہر میں ایک کروڑ لوگ ہیں ،

کچھ حویلیوں میں رہتے ہیں ، کچھ جھونپڑیوں میں :

تاہم، ہمارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، پیارے، ہمارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

کبھی ہمارا ایک ملک تھا اور ہمارا خیال تھا کہ وہ اچھا ہے،

نقشے میں دیکھواور وہ تمہیں وہاں مل جائے گا:

اب ہم وہاں نہیں جا سکتے، پیارے، اب ہم وہاں نہیں جا سکتے۔

گاؤں کے قبرستان میں ایک پرانا سدا بہار درخت لگا ہوا ہے،

ہر بہار میں اس پر نئے پھول آتے ہیں :

پرانے پاسپورٹ ایسا نہیں کر سکتے، پیارے، پرانے پاسپورٹ ایسا نہیں کر سکتے۔

قونصل نے میز پر ہاتھ مارا اور کہا،

’’اگر تمہارے پاس کوئی پاسپورٹ نہیں ہے تم سرکاری طور پر مردہ ہو‘‘:

لیکن ہم ابھی تک زندہ ہیں ، پیارے، لیکن ہم ابھی تک زندہ ہیں ۔

میں کمیٹی کے پاس گیا؛ انہوں نے مجھے کرسی پیش کی؛

مجھے نرمی سے کہا کہ اگلے سال واپس چلے جاؤ:

لیکن ہم آج کہاں جائیں گے، پیارے، لیکن ہم آج کہاں جائیں گے؟

میں ایک عام جلسے میں گیا؛ مقرر کھڑا ہوا اور بولا:

’’اگر ہم انہیں آنے دیں ، وہ ہماری روزی روٹی چرا لیں گے‘‘:

وہ تمہاری اور میری بات کر رہا تھا، پیارے، وہ تمہاری اور میری بات کر رہا تھا۔

مجھے لگا کہ میں نے آسمان میں رعد کو گرجتے سنا؛

وہ ہٹلر تھا یورپ پر، کہہ رہا تھا، ’’انہیں مرنا ہے‘‘:

اُس کے ذہن میں ہم تھے، پیارے، اُس کے ذہن میں ہم تھے۔

ایک پوڈل کتے کو جیکٹ میں دیکھاجو پِن سے بند کی گئی تھی،

ایک دروازہ کھُلتے دیکھااور ایک بلی کو اندرآنے دیتے ہوئے:

لیکن وہ جرمن یہودی نہیں تھے، پیارے، لیکن وہ جرمن یہودی نہیں تھے۔

میں ایک بندرگاہ پہ گیا اور پشتے پہ کھڑا ہوا،

مچھلیوں کو تیرتے دیکھا گویا کہ وہ آزاد تھیں :

صرف دس فٹ دور، پیارے، صرف دس فٹ دور۔

ایک جنگل سے گزرا، درختوں پہ پرندوں کو دیکھا؛

اُن میں کوئی سیاستدان نہیں تھا اور وہ چین سے گا رہے تھے:

وہ انسانی نسل نہیں تھے، پیارے، وہ انسانی نسل نہیں تھے۔

میں نے خواب میں ایک ہزار منزلہ عمارت دیکھی،

ایک ہزار کھڑکیاں اور ایک ہزار دروازے:

ان میں ہمارا ایک بھی نہیں تھا، پیارے، ان میں ہمارا ایک بھی نہیں تھا۔

میں برف باری میں ایک بڑے میدان میں کھڑا تھا؛

دس ہزار سپاہی اِدھر اُدھر مارچ کر رہے تھے:

تمہیں اور مجھے ڈھونڈتے ہوئے، پیارے، تمہیں اور مجھے ڈھونڈتے ہوئے۔

باصر کاظمی

I Shall Return – Claude McKay

میں دوبارہ واپس آؤں گا۔ میں واپس آؤں گا

ہنسنے اور محبت دینے اور حیران آنکھوں سے دیکھنے

سنہری دوپہر میں جنگل کی بھٹیوں کوجلتے،

اپنا نیلا-سیاہ دھواں نیلمی آسمان کو بھیجتے۔

میں واپس آؤں گا ندیوں کے کنارے مٹرگشت کرنے

جو خمیدہ گھاس کی بھوری پتیوں کو بھگوتی ہیں ،

اور ایک بار پھر اپنے ہزاروں خوابوں کو پورا کرنے

جو میں نے پہاڑی دروں سے بہہ کر آنے والے پانیوں کے دیکھے تھے۔

میں واپس آؤں گا وائلن اور بانسری کو سننے

جن پر گاؤں میں رقص ہوتا ہے، محبوب شیریں دھنوں کو سننے

جو دیسی زندگی میں نہاں گہرائیوں کو متحرک کرتی ہیں ،

اور دھندلائی ہوئی دھنوں کے بھٹکے ہوئے نغمے سننے۔

میں واپس آؤں گا۔ میں دوبارہ واپس آؤں گا

اپنے ذہن کے سالہاسال کے دردکو مٹانے ۔

باصر کاظمی

ٹونی او ۔ گمنام

ویران اور بنجر برف میں

ایک آواز پکاری؛

’تم کہاں جا رہے ہو، ٹونی او!

تم آج صبح کہاں جا رہے ہو؟‘

’میں جا رہا ہوں جہاں شراب کے دریا ہیں ،

پہاڑی روٹی اور شہدہیں ؛

وہاں سب ملوک اور ملکائیں جانوروں کی نگرانی کرتے ہیں ،

اور ساری دولت غریبوں کے پاس ہے۔‘

باصر کاظمی

بات چیت ۔ ڈی ایچ لارنس

میری خواہش ہے، جب آپ لوگوں کے نزدیک بیٹھیں ،

وہ یہ ضروری نہ سمجھیں کہ بات کریں

اور لفظوں کی ہلکی اور سرد ہوا بھیجیں

جو آپ کی گردن پہ اور کانوں میں اُترے

اور آپ کے اندر خنکی پہنچائے۔

باصر کاظمی

متعدد حویلیاں ۔ ڈی ایچ لارنس

جب درخت پر اپنا توازن برقرار رکھنے کے لیے ایک پرندہ اپنی دُم ہلاتا ہے

وہ کہیں زیادہ خوشی محسوس کرتا ہے، ڈھیروں دولت پانے کے مقابلے میں

یا اپنے لیے ایسا گھونسلا بنانے کی نسبت جس میں غسل خانہ ہو۔۔

لوگ کیوں اِس طرح خوش نہیں ہو سکتے؟

باصر کاظمی

فرصت ۔ ڈبلیو ایچ ڈیوس

یہ کیا زندگی ہے اگر، فکر میں گھرے،

ہمارے پاس وقت نہ ہو کہ رکیں اور دیکھیں ؟

وقت نہ ہو کہ درختوں کے نیچے کھڑے ہوں

اور دیکھیں دیر تک بھیڑوں اور گایوں کی طرح۔

وقت نہ ہو کہ دیکھیں ، جب ہم جنگل سے گزریں ،

جہاں گلہریاں گھاس میں اخروٹ چھپاتی ہیں ۔

وقت نہ ہو کہ دیکھیں ، دن کی کھلی روشنی میں ،

ستاروں سے بھری ندیاں ، جیسے رات کو آسمان۔

وقت نہ ہو کہ پلٹیں حُسن کی نگاہ کی طرف،

اور اُس کے پاوئں دیکھیں ، وہ کیسے ناچ سکتے ہیں ۔

وقت نہ ہو کہ انتظار کریں جب تک اُس کے ہونٹ

اُس مسکراہٹ کو نہال کرسکیں جو اُس کی آنکھوں نے شروع کی تھی۔

یہ ایک کنگال زندگی ہے اگر، فکر میں گھرے

ہمارے پاس وقت نہ ہو کہ رکیں اور دیکھیں ۔

باصر کاظمی

’باغبان‘ سے چار نظمیں ۔ رابندر ناتھ ٹیگور

— 1 —

قاری، تم کون ہوجو اب سے سو سال بعد میری نظمیں پڑھ رہے ہو؟

میں تمہیں بہار کی اِس دولت سے ایک بھی پھول، اُس بادل سے ایک بھی سنہری کرن نہیں بھیج سکتا۔

اپنے دروازے کھولو اور باہر دیکھو۔

اپنے پروان چڑھتے ہوئے باغ سے سو سال قبل مٹ گئے پھولوں کی معطر یادیں جمع کرو۔

اپنے دل کی خوشی میں شاید تم اُس زندہ خوشی کو محسوس کر سکوجو ایک بہار کی صبح نغمہ سرا ہوئی، اپنی پُر مسرت آواز کو سو برس دور بھیجتے ہوئے۔

— 2 —

میرے دل کو، جو طائر بیابان ہے، تمہاری آنکھوں میں اپنا آسمان مل گیا ہے۔

یہ صبح کا پنگوڑا ہیں ، ستاروں کی سلطنت ہیں ۔

میرے گیت ان کی گہرائیوں میں کھو گئے ہیں ۔

مجھے اِس آسمان میں تیرنے دو، اِ س کی غیر آباد وسعت میں ۔

مجھے اِس کے بادلوں میں راستہ بنانے دو، اور اِس کی دھوپ میں پر پھیلانے دو۔

— 3 —

اِیسی نگاہ سے تم کیوں مجھے شرمندہ کرتے ہو؟

میں ایک بھکاری بن کے نہیں آیا۔

میں تمہارے صحن کی بیرونی حد پر، باغ کی باڑھ سے باہر، کچھ دیر کے لیے ٹھہرا تھا۔

اِیسی نگاہ سے تم کیوں مجھے شرمندہ کرتے ہو؟

میں نے تمہارے باغ سے ایک بھی گلاب نہیں لیا، ایک پھل نہیں توڑا۔

میں نے راستے میں سائبان تلے عاجزی سے پناہ لی، جہاں ہراجنبی مسافر ٹھہر سکتا ہے۔

میں نے ایک بھی گلاب نہیں توڑا۔

ہاں ، میرے پاؤں تھکے ہوئے تھے، اور بارش کی بوچھاڑ گر رہی تھی۔

ہوائیں بانس کی جھونکے کھاتی شاخوں میں چیخ اٹھیں ۔

بادل آسمان پہ دوڑ رہے تھے جیسے ہار کے بھاگ رہے ہوں ۔

میرے پاؤں تھکے ہوئے تھے۔

مجھے معلوم نہیں تم نے میرے بارے میں کیا خیال کیا تھا یا تمہیں دروازے پر کس کا انتطار تھا۔

بجلی کے کوندے تمہاری آنکھوں کو چوندھیا رہے تھے۔

مجھے کیسے پتہ چلتا کہ میں جہاں اندھیرے میں کھڑا تھا تمہیں نظر آسکتا تھا؟

مجھے معلوم نہیں تم نے میرے بارے میں کیا خیال کیا تھا۔

دن ختم ہو گیا ہے اور بارش ایک لمحے کے لئے رک چکی ہے۔

میں تمہارے باغکی بیرونی حد پر، درخت کا سایا چھوڑ رہا ہوں اور گھاس کی یہ نشست ۔

اندھیرا ہو چکا ہے؛ اپنا دروازہ بند کر لو؛ میں اپنی راہ لیتا ہوں ۔

دن ختم ہو چکاہے۔

— 4 —

چراغ کیوں بجھ گیا؟

میں نے اسے ہوا سے بچانے کے لیے اپنی چادر سے ڈھک دیا تھا، اِس لیے چراغ بجھ گیا۔

پھول کیوں مرجھا گیا؟

میں نے اسے بیقرار محبت سے اپنے سینے کے ساتھ بھینچ لیا تھا، اِس لیے پھول مرجھا گیا۔

ندی کیوں سوکھ گئی؟

میں نے اپنے استعمال کے لیے اس پر ایک ڈیم بنا دیا تھا، اِس لیے ندی سوکھ گئی۔

بربط کا تار کیوں ٹوٹ گیا؟

میں نے اس سے ایسا سُر نکالنے کی کوشش کی جو اس کے اختیار سے باہر تھا، اِس لیے بربط کا تار ٹوٹ گیا۔

باصر کاظمی

خوش آدمی ۔ جون ڈرائڈن

خوش ہے وہ آدمی، اورصرف وہی خوش ہے،

جو ’آج‘ کو اپنا کہہ سکتا ہے؛

وہ جو، ’ اندر سے محفوظ‘ ، کہہ سکتا ہے،

اے ’کَل‘، برے سے برا کرگزر، کیونکہ میں ’آج‘ جی چکا ہوں ۔

باصر کاظمی

شب بخیر ۔ فرانسس کوارلز

اب تم اپنی آنکھیں بند کر لو، اور چین سے آرام کرو؛

تمہاری روح خاصی محفوظ ہے؛ تمہارا جسم قائم؛

وہ جو تم سے محبت کرتا ہے، جس نے تمہیں رکھا ہے

اور تمہاری پاسبانی کرتا ہے، کبھی نہیں سوتا، کبھی نہیں سوتا۔۔۔۔

باصر کاظمی

نظموں کے تراجم کے حوالے سے ایک ضروری نوٹ

میں نے درج ذیل نظموں میں سے بیشتر کے منظوم تراجم بھی کیے لیکن وہ قدرے مصنوعی اور بے تاثیر لگے۔ اِس کے علاوہ،وزن پورا کرنے کے لیے کچھ ایسے الفاظ استعمال کرنا پڑ رہے تھے جو زائد تھے اور اصل متن سے بھی دور کر رہے تھے۔ بعض اوقات نثر کی موسیقی نظم کی غنائیت سے زیادہ موثر ہوتی ہے۔ اس کی ایک انتہائی مثال یہ ہے کہ انجیل اور قرآن کے منظوم تراجم پڑھتے وقت مسلسل ایسا لگتا ہے جیسے کوئی انسان ہم سے مخاطب ہے جبکہ نثری تراجم کی خواندگی میں بہت سے مقامات پر غیبی آواز سنائی دیتی محسوس ہوتی ہے۔

باصر کاظمی

اختیار نہ کیا گیا راستہ ۔ رابرٹ فراسٹ

زرد جنگل میں دو راستے ہو رہے تھے جدا،

اور افسوس دونوں پہ چلنا تو ممکن نہ تھا

مجھ کو ہونا تھا بس ایک ہی کامسافر، میں دیکھا کیا

دیر تک ایک کو حدِ امکان تک

وہاں تک جہاں ہو رہا تھا وہ خم کھا کے جنگل میں گُم؛

میں نے پھر دوسرے کو چُنا،وہ جو اُتنا ہی خوش رنگ تھا،

پُر کشش بھی زیادہ تھا شاید،

کہ تھی اُس پہ گھاس اور وہ قدموں کی طالب تھی؛

گو اُس جگہ آمدورفت سے

دونوں یکساں ہی پامال تھے،

اور اُس صبح دونوں پہ تھے

راہگیروں کے قدموں سے محفوظ پتے ۔

میں نے پہلے کو چھوڑا کسی اور دن کے لیے!

گو کہ معلوم تھاکیسے اک راہ سے دوسری رہ نکلتی ہے،

اور واپسی کتنی دشوار ہوتی ہے۔

میں بیاں کر رہا ہوں گا اک آہ بھر کے

کہیں آج سے سالہا سال بعد:

ایک جنگل میں دو راستے ہو رہے تھے جدا، اور میں ۔۔

میں نے وہ چُن لیا جس پہ کم آمدورفت رہتی رہی،

اور اِسی بات نے فرق ڈالا تمام۔

باصر کاظمی

گِرو، پتو، گرو ۔ ایملی برونٹے

گِرو، پتو، گرو ۔ ایملی برونٹے

(Fall، leaves، fall – Emily Bronte )

گِرو، پتو، گرو؛ مُرجھاؤ پھولو؛

کرو دن چھوٹے راتیں لمبی؛

خوش کرتاہے مجھ کو،

خزاں کے پیڑ کاہر ایک پتہ لہلہاکے نیچے آتا۔

جہا ں کھِلتا گلاب اُس جا

کھِلیں گے برف کے جب ہار تو میں مسکراؤں گی؛

میں گاؤں گی زوالِ شب

جب اک دِل گیر تردن لے کے آئے گا۔

باصر کاظمی

دو کشتیوں کے سوار

تم نے کہا:

’’تم دوہری شہریت والے

دو کشتیوں کے سوار ہو،

ایک پاؤں ایک میں

دوسرا دوسری میں

گرو گے۔‘‘

سنو، تم بھی دو کشتیوں کے سوار ہو

فرق؟

تم خود تو اپنی کشتی میں سوار ہو

لیکن تمہارے اثاثے، کاروبار، اولاد

ہماری کشتی میں ،

کیونکہ تم سمجھتے ہو

یہ زیادہ محفوظ ہے۔

اِدھر ہمارے جسم ہماری کشتی میں ہیں

لیکن ہمارا دل تمہاری کشتی میں ۔

اس کی حفاظت کرنا۔

باصر کاظمی

’شاہی محل ‘کے ایک ملازم کی نجی گفتگو

اگرچہ شکوہ مناسب نہیں زباں کے لیے

تڑپ رہا ہے مرا نطق اِس بیاں کے لیے

جہاں سب اپنے ہوں موجود گر وہاں نہ کہوں

سنبھال رکھوں میں یہ بات پھر کہاں کے لیے

ملا ہمیں کہ رعایا بھی چاہیے تھی کچھ

’’بنا ہے ’ملک ‘تجمل حسین خاں کے لیے‘‘

باصر کاظمی

وادی الملوک کے ایک کارکن کی عرض داشت

مالک اگرچہ تُو ہے

رازق بھی تُو مِرا ہے

لیکن تِرا یہ بندہ

اکثر یہ سوچتا ہے

یہ کیا کہ رزق میرا

فرعون سے جڑا ہے

یا مقبرے بنا کے

یا مقبرے دکھا کے

(۔ مصرکی وادی الملوک میں (انقلاب سے تین ہفتے قبل))

باصر کاظمی

ایک ڈیم فول کو نصیحت

اک پیرِ خرد مندہوا مجھ سے مخاطب:

خوش ہو کہ طبیعت بڑی حساس ہے تیری

سب درد زمانے کے ترے درد بنے ہیں

قسمت سے ملی ہے تجھے یہ نعمتِ گریہ

ہر درد مگر لائقِ گریہ نہیں ہوتا

کر سکتے ہیں روشن بھی ترے کُلبے کو یہ اشک

اور غرق بھی ہو سکتا ہے سب کچھ ترا اِن میں

2010

باصر کاظمی

انکم ٹیکس

انہوں نے پوچھا کہ جو کمایا کدھر سے آیا کدھر گیا وہ

کہا بتائیں گے کیسے آیا مگر نہ پوچھو جدھر گیا وہ

کمائی محنت کی راس آئی کبھی غریبی نہ پاس آئی

بغیر محنت کے جو بھی پایا جدھر سے آیا اُدھر گیا وہ

بہت سمجھتا تھا خود کو شاطِر تمہارا نادان دوست باصِرؔ

ذرا سے اک فائدے کی خاطر بڑا سا نقصان کر گیا وہ

باصر کاظمی

این۔ آر۔ او

ایسا ہی نام تھا کچھ

ہم نے کبھی پڑھا تھا

ہاں یاد آ گیا اب

اور کیسا یاد آیا

وہ بادشاہِ روما

نیرو تھا نام جس کا

تم بھی تو جانتے ہو

نیروجو کر رہا تھا

جب روم جل رہا تھا

دیکھو تو کیسے کیسے قانون ہیں ہمارے

جن کے بنانے والے قارون ہیں ہمارے

(این۔ آر۔ او(National Reconciliation Ordinance): اِس حکم نامے کے تحت حکومتِ پاکستان نے ’ملک اور قوم کے اعلی مفاد‘ میں متعدد خاص لوگوں کے خلاف قائم کردہ مقدمات واپس لے لیے۔یہ مقدمات مختلف سنگین نوعیت کے الزامات،بالخصوص مالی بدعنوانیوں کے الزامات ،کے تحت قائم کیے گئے تھے۔)

باصر کاظمی

حفظِ ماتقدم

کہا اک بھیڑ نے کچھ میمنوں سے

مرے پیارو، ہمیشہ ساتھ ریوڑ کے رہو۔

تمہارے دائیں بائیں آگے پیچھے کوئی ہو

جو ڈھال کی صورت محافظ ہو۔

چراگاہوں سے باہر

جگمگاتے راستے تم کو بلائیں گے،

چمکتی لہلہاتی خستہ ہریالی لُبھائے گی،

تمہارے دل کو کھینچے گی۔

تم اپنے پاؤں اپنے ہاتھ میں رکھنا۔

نہ ہونے کو نہ ہو کچھ بھی

مگر ہونے کو ہو سکتا ہے کچھ بھی۔

سنو، ایسے کسی انجان رستے پر،

کسی بے دھیان لمحے میں ،

اچانک بھیڑئے کر دیں اگرحملہ،

دلِ دہشت زدہ میں ایک دہلاتی ہوئی خواہش

بصد حسرت امڈتی ہے،

رگوں میں سنسناتی ہے،

یہ کہتی ہے کہ ہائے!

کاش اُن کتوں کی سُن لیتے

جو دن بھر بھونکتے تھے۔

باصر کاظمی

ایک دوست کی حق تلفی پر

گویا کہ جدا سب سے ترا ساز ہے پیارے

اعزاز نہ ملنا بھی تو اعزاز ہے پیارے

ہوتی ہے تری بات نمایاں سرِ محفل

ہر چند کہ دھیمی تری آواز ہے پیارے

ہم جانتے ہیں تیرے ارادوں کو بخوبی

پہچانتے ہیں جو ترا انداز ہے پیارے

تو دوست ہے چپکے سے بتا دیتے ہیں تجھ کو

جو حرف زمانے کے لیے راز ہے پیارے

ہوتے نظر آتے ہیں جہاں راستے مسدود

تیرے لیے اک باب نیا باز ہے پیارے

کچھ آج ہی اونچا نہیں سر فخر سے اپنا

تجھ پر تو ہمیشہ سے ہمیں ناز ہے پیارے

باصر کاظمی

ایک مکالمہ

شاعر: ان کی تنقید سدِ راہِ شوق

ان کی تعریف ایک زریں طوق

بیشتر میرے عہد کے نقاد

بددیانت، بخیل یا بدذوق

نقاد: طبعِ موزوں تو اک عنایت ہے

یہ بتا تیری کیا ریاضت ہے

صِرف تعریف چاہتا ہے تُو

تیرا مقصد حصولِ شہرت ہے

2011

باصر کاظمی

متفرق اشعار

1997

سُورج کا یہ رنگ نہ تھا جو وقتِ شام ہُوا ہے

دیکھو کیسا سَرکش گھوڑا کیسا رام ہُوا ہے

اِنصاف اگر کہیں ہے کچھ

جنّت کا نشاں وہیں ہے کچھ

آ جائیں گے دیکھنے تمہیں ہم

کہنا تو ہمیں نہیں ہے کچھ

ستمبر

حاضری کے واسطے سرکار کا دفتر کھُلا

کتنے چکّر کاٹنے کے بعد یہ چکّر کھُلا

دسمبر

2000

سب حسینوں کا حُسن تجھ میں ہے

اور تِرا حُسن سب حسینوں میں

12 ۱کتوبر

2001

جو منافع نہ مِل سکا باصِرؔ

اُس کو نقصان کیوں سمجھتے ہو

3دسمبر

2003

کھُلتے ہی نہیں کسی صورت

وہ ہونٹ بھی سُرخ فیتے ہیں

ہیں سارے کے سارے آدم خور

شہروں میں جو شیر چیتے ہیں

جنوری

یوں بھی کم تھی اُس کے آنے کی اُمید

اب تو ویسے بھی اندھیرا ہو گیا

28جنوری

نقصان پر جو میرے افسوس کر رہے ہیں

میں جانتا ہوں کتنا اندر سے خوش ہوئے ہیں

9مارچ

نیند میں بھی بھٹک نہیں سکتا

روز کا راستہ ہے یہ میرا

3اپریل

جس نے ماں باپ کو دیا ہو دُکھ

اُس نے اولاد سے نہ پایا سُکھ

4دسمبر

2004

گئے خط بے اثر سارے

اُسے بھیجوں گا اب سی وی

4اپریل

نکل گیا ہے مِری زندگی سے وہ شاید

کئی دنوں سے مِرے خواب میں نہیں آیا

10جون

وہاں جانے سے کیا ڈرنا

جہاں سب جائیں گے اک دن

غلط سمجھے ہیں جو ہم کو

بہت پچھتائیں گے اک دن

13جولائی

جن دنوں روتا تھا تیری یاد میں

رو رہا ہوں اُن دنوں کی یاد میں

3ستمبر

2005

کیا مشورہ کوئی دے اب ایسے آدمی کو

جانے دیا ہو جس نے گھر آئی لکشمی کو

10جولائی

اب آ کے دیکھتے ہیں شجر ہیں وہ سایہ دار

جاتے ہوئے جو بیج یہاں بو گئے تھے ہم

19ستمبر

شفا ہوتی دوا سے معجزہ ایسا تو کیا ہوتا

مگر بیمار کچھ دِن اور جی لیتا تو کیا ہوتا

ابھی اُس کے نہ مِلنے پر عداوت ہے زمانے کو

کسی تدبیر سے وہ ہم کو مِل جاتا تو کیا ہوتا

دسمبر

ہے اِتنا کچھ جہاں دل میں ہمارے ناخداؤں کے

خیالِ خلق بھی ہوتا اگر خوفِ خدا ہوتا

دسمبر

اب آ کے دیکھتے ہیں شجر ہیں وہ سایہ دار

جاتے ہوئے جو بیج یہاں بو گئے تھے ہم

19دسمبر

2006

کسی سبب سے جو وہ دے سکیں نہ میرا ساتھ

نہیں ہے اِس میں بُرا ماننے کی کوئی بات

سلوک اُس کا ترے ساتھ ٹھیک ہے باصِرؔ

کوئی تو ہو جو بتائے تجھے تِری اوقات

16فروری

گزر گئی ہے اِسی کاہلی میں عُمر تمام

یہ سوچتے رہے بس اب کریں گے کل سے کام

یہ سوچ کر کہ مِلے گا ضرور اب کے جواب

نجانے لِکھّے ہیں خط کتنی بار اپنے نام

نومبر

گو شاعری پڑھنے کا اُسے شوق بہت ہے

کیا کیجیے اِس کا کہ وہ بدذوق بہت ہے

دسمبر

ایک دشمن کی کمی تھی باصِرؔ

وہ بھی اِک دوست نے پوری کر دی

8دسمبر

2007

جب چاہیے ہو ملتی ہے تازہ ہَوا مجھے

شاید کبھی لگی تھی کسی کی دعا مجھے

5جولائی

باصر کاظمی

اور مجھے تجھ سے ایک کام بھی ہے

جی بھی کرتا ہے تجھ سے ملنے کو
اور مجھے تجھ سے ایک کام بھی ہے
لطفِ مے سے ہم آشنا ہیں مگر
یہ مضر ہی نہیں حرام بھی ہے
سر بلندی کی آرزو کے ساتھ
دل میں کچھ خوفِ انہدام بھی ہے
باصر کاظمی

جس قیمت پر چاہیے ہم کو اُس قیمت پہ نہیں ملتی

جس کو دوائے دل کہتے ہیں یہ تو نہیں کہ نہیں ملتی
جس قیمت پر چاہیے ہم کو اُس قیمت پہ نہیں ملتی
باور کر لو سچ کہتا ہوں تم سے ملتی ہے اک شکل
آئینہ دیکھو اور بتاؤ ملتی ہے کہ نہیں ملتی
کالے بادل حائل ہو جاتے ہیں ورنہ دھوپ مری
سورج سے تو آ جاتی ہے لیکن چھت پہ نہیں ملتی
عزت چاہتے ہو باصِرؔ تو یاد رکھو میری یہ بات
نیت جب تک ٹھیک نہ ہو جاں دے کر بھی یہ نہیں ملتی
باصر کاظمی

بس یہی ایک سبب ہے کہ جو کم لکھتے ہیں

شعر لکھواتے ہیں جب خود کو تو ہم لکھتے ہیں
بس یہی ایک سبب ہے کہ جو کم لکھتے ہیں
شور کرتا ہے رگ وپے میں سخن اک مدت
تب کہیں جا کے اٹھاتے ہیں قلم لکھتے ہیں
بولتے ہیں کہ عنایت ہے یہ تیری یارب
اور جب تک ہے ترا ہم پہ کرم لکھتے ہیں
باصر کاظمی

باصِر سنوار سکتے نہیں اپنے کام لوگ

جب تک نہ اپنے ہاتھ میں لیں انتظام لوگ
باصِر سنوار سکتے نہیں اپنے کام لوگ
کیا خاص لوگ ہوتے ہیں اور کیسے عام لوگ
اُن کی طرف سے بھاڑ میں جائیں تمام لوگ
یا تو گھٹا دیا اُسے یا پھر بڑھا دیا
کب دے سکے کسی کو بھی اُس کا مقام لوگ
باصر کاظمی

قفس میں ہوتے ہیں آزاد گلستاں میں اسیر

مزاج اپنا غلامی سے یہ بنا ہے کہ ہم
قفس میں ہوتے ہیں آزاد گلستاں میں اسیر
ہدف ہے گرچہ نشانے پہ ایک مدت سے
میں کیا کروں کہ مرا تیر ہے کماں میں اسیر
نہ کر سکا جو فراہم قفس مجھے صیاد
تو کر دیا مجھے میرے ہی آشیاں میں اسیر
رہا تو کر انہیں پھر دیکھ معجزے باصِرؔ
جو قوتیں ہیں تری خاکِ ناتواں میں اسیر
باصر کاظمی

اب شہر میں کم بناتے ہیں

سامان جو ہم بناتے ہیں
اب شہر میں کم بناتے ہیں
ہوتے ہیں لغت میں پتھر لفظ
ہیرا انہیں ہم بناتے ہیں
جو ہاتھ قلم اُٹھاتے تھے
ہیہات وہ بم بناتے ہیں
رکھ دیتے ہیں توڑ کے جو باصِرؔ
ہم کو وہی غم بناتے ہیں
باصر کاظمی

بلندیوں کے امین زینے کو ڈھونڈتا ہوں

عمارتوں میں نہاں دفینے کو ڈھونڈتا ہوں
بلندیوں کے امین زینے کو ڈھونڈتا ہوں
وہ جس کی خاطر ہمارے آبا نے کی تھی ہجرت
میں اپنے شہروں میں اُس مدینے کو ڈھونڈتا ہوں
جو لائے گھر میں مرے گہر ہائے رزقِ طیب
ہمیشہ محنت کے اُس پسینے کو ڈھونڈتا ہوں
دُکھے نہ دشمن کا دل بھی میرے سخن سے باصِرؔ
میں بات کرنے کے اُس قرینے کو ڈھونڈتا ہوں
باصر کاظمی

نقصان ہے نقصان ہے نقصان ہے نقصان

جس راہ پر بھی ہم چلے اُس سے یہی آئی صدا
نقصان ہے نقصان ہے نقصان ہے نقصان
جتنی بلندی دیکھنی تھی دیکھ لی آگے تو بس
ڈھلوان ہے ڈھلوان ہے ڈھلوان ہے ڈھلوان
تقدیر مجبوری نہیں یہ تو کسی بھی چیز کا
امکان ہے امکان ہے امکان ہے امکان
ذوقِ سخن اتنا بڑھا اپنا کہ اب تو ہر طرف
دیوان ہے دیوان ہے دیوان ہے دیوان
گو بادشاہت کا مخالف ہوں مگر ٹیپو مرا
سلطان ہے سلطان ہے سلطان ہے سلطان
باصِرؔ سے ہوتی ہے خطا یہ سوچ کے کر درگذر
نادان ہے نادان ہے نادان ہے نادان
باصر کاظمی

اب تھوڑی سی پِلا کافی

دورِ جام رہا کافی
اب تھوڑی سی پِلا کافی
کچھ خاموشی ہے درکار
دن بھر شور رہا کافی
دل کے دکھ کا مداوا مے
دردِ سر کی دوا کافی
میرا بائی کا بھجن سنا
بلہے شاہ کی گا کافی
مِل گئی دنیا ہی میں ہمیں
باصِر سزا جزا کافی
باصر کاظمی

نہ مل سکیں جو کہیں سے تو خود بنا خبریں

مقابلہ ہے کہ ہیں کس کے پاس کیا خبریں
نہ مل سکیں جو کہیں سے تو خود بنا خبریں
ہے میرے پاس خدا کا دیا ہوا سب کچھ
اگر مرے لیے لانا ہے کچھ تو لا خبریں
سنی سنائی پہ کرتا نہیں یقین کوئی
سنانی چھوڑ مرے دوست اب دکھا خبریں
دیا نہ دھیان کسی نے کھلا نہ در کوئی
نگر نگر لیے پھرتی رہی ہوا خبریں
ہوئی کسی کی توجہ نہ جس عمارت پر
اُسی کے ملبے میں بکھری ہیں جا بجا خبریں
باصر کاظمی

سہل اُس نے ہی کی مری مشکل

آزمانے کو جس نے دی مشکل
سہل اُس نے ہی کی مری مشکل
زندگی تو اِسی طرح سے ہے
کبھی آسان اور کبھی مشکل
میرے معمول کے ملاقاتی
کوئی چھوٹی کوئی بڑی مشکل
جو تمہارے لیے سہولت ہے
وہ ہمارے لیے بنی مشکل
چھوڑ آیا تھا میں جسے پیچھے
سامنے ہے مرے وہی مشکل
یوں تو آرام ہر طرح کا ہے
رات سونے میں کچھ ہوئی مشکل
باصر کاظمی

سن کر نہ رہ سکے ہم للکار قافیے کی

ہر چند رہگزر تھی دشوار قافیے کی
سن کر نہ رہ سکے ہم للکار قافیے کی
دن کا سکون غارت راتوں کی نیند غائب
سر پر لٹک رہی ہے تلوار قافیے کی
ہم اس کو باندھتے کیا جکڑا ہے اس نے ہم کو
اب دیکھتے ہیں صورت ناچار قافیے کی
اِس آس پر کہ شاید ہو جائے تنگ ہم پر
کرتے رہے خوشامد اغیار قافیے کی
تازہ ہوا چلی اور اک لہر دل میں اٹھی
روکے نہ رک سکی پھر یلغار قافیے کی
پایا سراغِ مضموں گاہے ردیف میں بھی
لازم نہ تھی سماجت ہر بار قافیے کی
دشتِ خیال میں پھر کیا کیا کھُلے مناظر
کچھ دیر کو ہٹی تھی دیوار قافیے کی
جب شعر کا سفینہ بحرِ غزل میں ڈولا
اُس وقت کام آئی پتوار قافیے کی
مغرب کی ہو کہانی یا مشرقی روایت
اونچی رہی ہمیشہ دستار قافیے کی
کچھ شعر کام کے بھی اِس میں نکالے ہم نے
وہ کہتے تھے زمیں ہے بیکار قافیے کی
پھر اور کوئی نغمہ بھائے نہ اُس کو باصِرؔ
جو ایک بار سن لے جھنکار قافیے کی
باصر کاظمی

جبکہ ہر بات میں پوشیدہ ہو امکانِ غزل

کیا بیاں کیجیے اب وسعتِ دامانِ غزل
جبکہ ہر بات میں پوشیدہ ہو امکانِ غزل
آپ ہم لاکھ بگاڑا کریں اس کی صورت
کوئی قوت ہے پُراسرار نگہبانِ غزل
قطب تھا اُن میں کوئی اور ولی تھا کوئی
دیکھنے میں تو وہ تھے محض ثنا خوانِ غزل
چاہیے شعر کو اب بھی وہی سودا وہی درد
توسنِ طبع وہی اور وہی میدانِ غزل
میرِ محفل تھا وہ ملتی نہیں کچھ اُس کی نظیر
اُس کے دم سے ہوا بھرپور گلستانِ غزل
آتشِ عشق نے دی جرأتِ اظہار مجھے
شجرِ غم کا ثمر ہے مرا دیوانِ غزل
کام گو بند نہیں کوئی بھی غالب کے بغیر
نام سے اُس کے ہی روشن ہے خیابانِ غزل
ناسخ و ذوق و ظفر، مومن و حالی و امیر
ان کے پھولوں سے مہکتا ہے گلستانِ غزل
راہ شاعر کو دکھاتا ہے وہی داغِ فراق
آج بھی ہجر کا سامان ہے سامانِ غزل
سفرِ فکر میں اقبال رہا میرا انیس
اُس نے سیراب کیا میرا بیابانِ غزل
لخت ہائے جگرِ وحشی کو معمولی نہ جان
کوئی یاقوتِ غزل ہے کوئی مرجانِ غزل
عمر بھر ہم کو وفا پیشہ اُسی نے رکھا
ہم نے باندھا تھا لڑکپن میں جو پیمانِ غزل
فیض پایا ہے کئی چشموں سے یوں تو باصِرؔ
مدرسہ میرا ہے ناصِر کا دبستانِ غزل
باصر کاظمی

گولیاں چل رہی ہیں تڑ تڑ تڑ

جل رہے ہیں مکان دھڑ دھڑ دھڑ
گولیاں چل رہی ہیں تڑ تڑ تڑ
شاخِ زیتون جس کے ہاتھ میں ہے
اصل میں ہے وہی فساد کی جڑ
چند چھینٹے پڑے تھے بارش کے
شہر میں ہر طرف ہوا کیچڑ
دیکھتے ہی اُسے، ہوا محسوس
مجھ سے پھر ہو گئی کہیں گڑبڑ
آزمائش میں آ گئے باصِرؔ
پھر کسی بات کی ہوئی ہے پکڑ
باصر کاظمی

کہا انہوں نے کہ ہو تم تو کام سے فارغ

ہوا میں جونہی دعا و سلام سے فارغ
کہا انہوں نے کہ ہو تم تو کام سے فارغ
قضا کو سونپ کے بستی کے انتظامی امور
جو منتظم تھے ہوئے انتظام سے فارغ
تھے منتظر مرے دو اور بھی ضروری کام
ہوا نہ تھا میں ابھی ایک کام سے فارغ
وہ جن کو ہونا تھا رخصت بڑی خموشی سے
کیے گئے ہیں بڑی دھوم دھام سے فارغ
کہانی قیس کی سننے سے پہلے وہ بولے
مجھے تو لگتا ہے یہ شخص نام سے فارغ
مرے لیے کوئی مصروفیت نہیں باقی
کیا گیا ہوں کچھ اِس اہتمام سے فارغ
باصر کاظمی

کیا نہ اُس نے مرا انتطار ایک منٹ

ہزار کہتا رہا میں کہ یار ایک منٹ
کیا نہ اُس نے مرا انتطار ایک منٹ
میں جانتا ہوں کہ ہے یہ خمار ایک منٹ
اِدھر بھی آئی تھی موجِ بہار ایک منٹ
پتا چلے کہ ہمیں کون کون چھوڑ گیا
ذرا چھٹے تو یہ گرد و غبار ایک منٹ
ابد تلک ہوئے ہم اُس کے وسوسوں کے اسیر
کیا تھا جس پہ کبھی اعتبار ایک منٹ
اگرچہ کچھ نہیں اوقات ایک ہفتے کی
جو سوچئے تو ہیں یہ دس ہزار ایک منٹ
پھر آج کام سے تاخیر ہو گئی باصِرؔ
کسی نے ہم سے کہا بار بار ایک منٹ
باصر کاظمی

اب چلے دورِ جام آٹھ سے پانچ

کر لیا دن میں کام آٹھ سے پانچ
اب چلے دورِ جام آٹھ سے پانچ
چاند ہے اور آسمان ہے صاف
رہیے بالائے بام آٹھ سے پانچ
اب تو ہم بن گئے ہیں ایک مشین
اب ہمارا ہے نام آٹھ سے پانچ
شعر کیا شاعری کے بارے میں
سوچنا بھی حرام آٹھ سے پانچ
کچھ خریدیں تو بھاو پانچ کے آٹھ
اور بیچیں تو دام آٹھ سے پانچ
وہ ملے بھی تو بس یہ پوچھیں گے
کچھ ملا کام وام آٹھ سے پانچ
صحبتِ اہلِ ذوق ہے باصِرؔ
اب سناؤ کلام آٹھ سے پانچ
باصر کاظمی

ہے دستورِ زمانہ بادشاہت

رواج و رسمِ دنیا بادشاہت
ہے دستورِ زمانہ بادشاہت
کہو کیا چاہیے؟ پوچھا گیا جب
کہا سب نے کہ آقا بادشاہت
چھپانے کے لیے کچھ، گاہے گاہے
دکھاتی ہے تماشا بادشاہت
اگر محکوم ہی رہنا تھا ہم کو
تو کیا جمہوریت کیا بادشاہت
بہت بھاگے تھے باصِرؔ آمروں سے
ملی دنیا میں ہر جا بادشاہت
باصر کاظمی

بختِ خوابیدہ غنیمت ہے کہ بیدار ہوں میں

گو بیاباں میں ہوں اور بے بس و بے یار ہوں میں
بختِ خوابیدہ غنیمت ہے کہ بیدار ہوں میں
شانِ مصروفیت آوارگی میں بھی تھی کچھ
گھر میں ہر چند کہ مصروف ہوں بیکار ہوں میں
اُسی طوفان کی اک لہر مری ناؤ بنی
تم اُدھر ڈھونڈ رہے ہو مجھے اِس پار ہوں میں
مٹ گئے سینکڑوں اقرار حمایت کے تری
آج بھی گونج رہا ہے جو وہ انکار ہوں میں
میرے بارے میں کبھی فرض نہ کر لینا کچھ
سرِ تسلیم کبھی ہوں کبھی تلوار ہوں میں
باصر کاظمی

اپنی بات کرو گے

جب بھی بات کرو گے
اپنی بات کرو گے
آج تو میں سمجھا تھا
میری بات کرو گے
مجھ کو پتا ہے اب تم
کس کی بات کرو گے
جیسی صحبت ہو گی
ویسی بات کرو گے
جب بولو گے باصِرؔ
الٹی بات کرو گے
باصر کاظمی

خون جتنا بھی رگوں میں ہو وہ ایندھن بن جائے

آتشِ شوق سے جب دل کوئی گلخن بن جائے
خون جتنا بھی رگوں میں ہو وہ ایندھن بن جائے
مل گیا ہے تمہیں قسمت سے جو سونا سا خیال
دل میں رکھو اسے جب تک نہ یہ کندن بن جائے
درگزر کرنا جفاؤں کو تری میرے لیے
سہل ہو جائے جو تو دوست سے دشمن بن جائے
ہو عنایت مجھے وہ تیز تخیل یارب
جس سے زندان کی دیوار میں روزن بن جائے
خوب ہیں پھول جو دو چار کھِلے ہیں باصِرؔ
چار چھ اور بھی ایسے ہوں تو گلشن بن جائے
باصر کاظمی

کسی گنتی کسی شمار میں تھے

گو کہ پیچھے بہت قطار میں تھے
کسی گنتی کسی شمار میں تھے
سو بلاؤں سے ہم رہے محفوظ
اک پُراسرار سے حصار میں تھے
خوش ہوا ہوں غموں سے مل کے یوں
جیسے یہ میرے انتظار میں تھے
تین میں ہیں نہ اب وہ تیرہ میں
جو کبھی پہلے تین چار میں تھے
اب وہ سارے خزاں میں ہیں باصِرؔ
رنگ جتنے کبھی بہار میں تھے
باصر کاظمی

ٹھیک رکھتے ہیں جو حساب کتاب

اُن پہ لاتی نہیں عذاب کتاب
ٹھیک رکھتے ہیں جو حساب کتاب
کبھی سورج کی آب و تاب کتاب
ہے کبھی سایہء سحاب کتاب
لکھ رہا ہوں میں آجکل واعظ
تیری تقریر کا جواب کتاب
آپ ہی نے تو کی تھی فرمائش
لیجیے پیش ہے جناب کتاب
ہم سے باصِرؔ کبھی پڑھی نہ گئی
جو ہوئی شاملِ نصاب کتاب
باصر کاظمی

دیوارِ تعصب میں کہاں ہونی تھی جنبش

کرتے رہے کر سکتے تھے ہم جتنی بھی کوشش
دیوارِ تعصب میں کہاں ہونی تھی جنبش
زنداں کی سلاخوں سی ہیں پانی کی یہ تاریں
صیاد سے کچھ کم نہیں ہر وقت کی بارش
لازم نہیں پیدل چلوں یا دوڑ لگاؤں
ہیں گھر کے مرے کام ہی اچھی بھلی ورزش
مانا کہ علاج اس کے سوا کچھ نہیں لیکن
کیا دل کے بدلنے سے بدل جائے گی خواہش
کوتاہیاں اپنی تو دکھائی نہیں دیتیں
ہر بات میں آتی ہے نظر غیر کی سازش
کچھ سنگِ گراں مایہ ہمیں بھی ملے باصِرؔ
سچ ہے کہ اکارت نہیں جاتی کوئی کاوش
باصر کاظمی

روزی ہے تیرے رزق میں اس کے نصیب کی

منعم نہ ہاتھ کھینچ مدد سے غریب کی
روزی ہے تیرے رزق میں اس کے نصیب کی
حیران کن تھی چُپ بھی تمہاری مرے لیے
بولے ہو اب تو بات بھی تم نے عجیب کی
سامانِ عیش دیکھ کے بزمِ نشاط میں
رہتی ہے یاد کس کو نصیحت طبیب کی
کب تک کرو گے اہلِ سیاست پہ اعتبار
یارو کبھی سنو کسی شاعر ادیب کی
ہو جن کی سب توجہ سمندر کے اُس طرف
اُن کو صدا سنائی نہ دے گی قریب کی
سینہ بہ سینہ کرتی ہے یہ ہر طرف سفر
حق بات کو نہیں ہے ضرورت نقیب کی
باصِرؔ بلا مقابلہ وہ منتخب ہوا
میری شکستہ پائی ہے محسن رقیب کی
باصر کاظمی

دوستو آگے چڑھائی ہے بہت

تم نے گو ہمت دلائی ہے بہت
دوستو آگے چڑھائی ہے بہت
کہہ رہی ہے آج بھی نہرِ فرات
ساتھ ہو تو ایک بھائی ہے بہت
روز اک تازہ امید اک تازہ رنج
ہم کو غربت راس آئی ہے بہت
اے خرد اب کچھ مرے دل کی بھی سوچ
اِس نے بھی آفت مچائی ہے بہت
بیٹھتا ہے شیخ کب رندوں کے پاس
اُس کو زعمِ پارسائی ہے بہت
دیس کی کایا پلٹنے کے لیے
ذوق ہو تو اک دہائی ہے بہت
باصر کاظمی

کیا عجب نکلے جو پانی کی جگہ خاک سے خون

گر برستا ہی رہا اِس طرح افلاک سے خون
کیا عجب نکلے جو پانی کی جگہ خاک سے خون
میرے زخموں کو میسر نہیں مرہم پٹی
پونچھتا رہتا ہوں بس اپنی ہی پوشاک سے خون
جیسے دریا سے نکلتی ہوں بہت سی نہریں
ایسے بہتا ہے مرے دامنِ صد چاک سے خون
کیا ہوا ہے مرے اندر کہ ہوا ہے جاری
میری آنکھوں سے مرے منہ سے مری ناک سے خون
اتنا تڑپی ہے یہ مے خواروں کی محرومی پر
مے نہیں آج ٹپکتا ہے رگِ تاک سے خون
پھر شبِ ہجر مرے شہر پہ ہے سایہ فگن
آج پھر چاہیے اِس کو کسی بے باک سے خون
باصر کاظمی

پیچھا نہ اس کے بعد بھی چھوڑیں گے دور تک

اعمالِ کج کریں گے تعاقب قبور تک
پیچھا نہ اس کے بعد بھی چھوڑیں گے دور تک
کچھ اور جاگ لینے دے اے شامِ زندگی
سونا ہے اس کے بعد تو صبحِ نشور تک
اپنا وہی سوال تھا اُس کا وہی جواب
کیا کیا نہ کوہ دیکھے ہمالہ سے طور تک
گذرے گا کیسے کیسے مدارج سے کیا خبر
لمبا سفر ہے خاک کے ذرے کا نور تک
غافل ہیں اِس قدر کہ گذرتا ہے یہ گمان
ہم کو جگا نہ پائے گی آوازِ صور تک
باصِرؔ کہاں ہیں روز کے وہ ہمسفر مرے
خالی پڑی ہوئی ہے سڑک دور دور تک
باصر کاظمی

اِس میں لگ جائے گا جگر پورا

چاہتے ہو اگر ہنر پورا
اِس میں لگ جائے گا جگر پورا
یا تو ہو جائیں اِس میں پورے غرق
یا کریں عشق سے حذر پورا
جانتا ہوں کہ خیر خواہ ترے
تجھ کو رکھتے ہیں باخبر پورا
مشورہ اُس مشیر سے مت کر
ہو جو آدھا اِدھر اُدھر پورا
پھول خوشبو سے بھر گئے باصِرؔ
چاند چمکا ہے رات بھر پورا
باصر کاظمی

ہم بھی کب اپنا بھلا سوچتے ہیں

کیا جو اغیار برا سوچتے ہیں
ہم بھی کب اپنا بھلا سوچتے ہیں
سوچتے ہیں کہ نہ سوچیں گے کچھ
سوچتے بھی ہیں تو کیا سوچتے ہیں
سوچتا ہوں کہ مرے بارے میں
وہ نہیں سوچتے یا سوچتے ہیں
زندگی گزری بنا کچھ سوچے
ہے یہ اب اس کی سزا سوچتے ہیں
میں دعا دیتا ہوں اُن کو باصِرؔ
جو مرے دکھ کی دوا سوچتے ہیں
باصر کاظمی

دیکھو جو ہوئے لوگوں کے نقصان مری جان

اک دل کے زیاں پر ہو پریشان مری جان
دیکھو جو ہوئے لوگوں کے نقصان مری جان
جانا کہ یہی ہوں گے مری جان کے درپے
کہتے نہیں تھکتے جو مری جان مری جان
جنت پہ اگر حق ہے تو بس تیرا ہے واعظ
اپنا تو کوئی دین نہ ایمان مری جان
اک عمر گزاری اسے آنکھوں سے لگاتے
اب کھول کے بھی دیکھ لو قرآن مری جان
اوروں کی شکایت جو کیا کرتے ہو باصِرؔ
کچھ آپ ہی بن جاؤ جو انسان مری جان
باصر کاظمی

گر مے پہ ہے پابندی کچھ اُس کا بدل آئے

معمول میں رندوں کے ساقی نہ خلل آئے
گر مے پہ ہے پابندی کچھ اُس کا بدل آئے
مایوس نہیں کرتا میں تجھ کو مگر اے دل
جو آج نہیں آیا مشکل ہے وہ کل آئے
چاہا بھی کہ ہو جائیں کچھ اہلِ ہوس جیسے
پر جو اُنہیں آتے ہیں ہم کو نہ وہ چھل آئے
شاید یہی بہتر ہے ہو جائیں ہمیں سیدھے
قبل اِس کے کہ ماتھے پر اُس شوخ کے بَل آئے
تم دیکھ تو لو آ کر بیمار کو اپنے، پھر
چاہے یہ شفا پائے یا اِس کی اجل آئے
باصر کاظمی

شاطِر ہے تو اگر تو اب چل کوئی چال مختلف

کرنا ہے گر مجھے شکار لا کوئی جال مختلف
شاطِر ہے تو اگر تو اب چل کوئی چال مختلف
تیرے یہ سارے شعبدے میرے لیے نہیں نئے
کر کے دکھا کبھی مجھے کوئی کمال مختلف
لگتے ہیں یہ جو کامیاب ہیں جیسے آب پر حباب
پیشِ نگہ انہیں نہ رکھ ڈھونڈ مثال مختلف
جن کو ملیں بلندیاں دیکھیں اُنہوں نے پستیاں
ہوتی ہے ہر دفعہ مگر وجہِ زوال مختلف
تو نے کہی سُنی سُنائی مجھ سے سُنی سُنائی سُن
چاہے اگر نئے جواب پوچھ سوال مختلف
میری بہار اور خزاں میرے لہو میں ہے نہاں
مریخ و ارض سے مرے ہیں ماہ و سال مختلف
ایسی چلی دمِ سحر شام تلک کیا نہال
بادِ صبا سے تھی بہت موجِ خیال مختلف
باصر کاظمی

اظہار کچھ ہوا بھی تو ابہام رہ گئے

ہم کامیاب ہو کے بھی ناکام رہ گئے
اظہار کچھ ہوا بھی تو ابہام رہ گئے
آزاد ہو کے جونہی کھُلے میرے بال و پر
مجھ پر کھُلا کہ پاؤں تہِ دام رہ گئے
میں دے سکا نہ ان کو کسی تجربے کی آنچ
افسوس کچھ خیال مرے خام رہ گئے
کرتی رہی زباں مری بے دست و پا مجھے
باتوں میں عمر بیت گئی کام رہ گئے
میں راہ دیکھتا رہا یاروں کی صبح تک
باصِرؔ بھرے بھرائے مرے جام رہ گئے
باصر کاظمی

ہم ہی کریں گے اُن سے کسی روز جا کے بات

بیٹھے رہیں گے وہ تو ہمیشہ دبا کے بات
ہم ہی کریں گے اُن سے کسی روز جا کے بات
کچھ بھی نکال سکتے ہیں مطلب وہ بات کا
کرتا ہوں اِس لیے میں بہت بچ بچا کے بات
پیچیدہ ہو گئے ہیں ہمارے تعلقات
کرنی پڑی ہے مجھ کو گھما کے پھرا کے بات
اک ہم کہ لے کے بیٹھ گئے ایک لفظ کو
اک وہ کہ چل دیے جو ہنسی میں اُڑا کے بات
کہتا ہوں دل کی بات گھٹا کر رقیب سے
کرتا ہے وہ جو آگے بڑھا کے چڑھا کے بات
وہ جو بنی ہوئی ہے رکاوٹ سی درمیاں
ملنا ہو اب ہمیں تو ملیں وہ ہٹا کے بات
مطلوب واعظوں کو ہیں شاید ہمارے اشک
ہنسنے کی بھی وہ کرتے ہیں اکثر رُلا کے بات
باصِرؔ بیانِ سادہ کو پایا ہے بے اثر
کیجے ذرا سنوار کے قدرے بنا کے بات
باصر کاظمی

گھر کا ہر فرد چل دیا باہر

ایک دروازہ کیا کھُلا باہر
گھر کا ہر فرد چل دیا باہر
دیکھ یخ بستہ ہے ہوا باہر
اِس طرح ایک دم نہ جا باہر
چل دیے یوں صنم کدے سے ہم
جیسے مل جائے گا خدا باہر
ایک تجھ سے رہے ہمیشہ دور
ورنہ کیا کچھ نہیں ملا باہر
گھر میں آ کر سکوں ملا باصِرؔ
کس قدر تیز تھی ہوا باہر
باصر کاظمی

ارادہ حمد کہنے کا تھا

لفظِ حمد لکھا۔

خیال آیا کہ اس سے پہلے

حرفِ میم یا حرفِ الف لکھ دوں

تو اُس کا نام بن جائے

وہ جس کا نام لینا اک عبادت ہے۔

محمدؐ لکھ دیا ہم نے تو گویا حمد بھی کہہ دی،

پڑھیں تو چشم ودل شاداں

لکھیں تو انگلیاں نازاں

محمدؐ سے زیادہ خوبصورت نام کس کا ہے؟

باصر کاظمی