زمرہ جات کے محفوظات: موجِ خیال

باصِر کاظمی کی غزل ۔ از پروفیسر مشکور حسین یاد

پروفیسر مشکور حسین یاد

باصِر کاظمی کی شاعری میں عوام کی روزمرّہ زندگی کے بارے میں زیادہ باتیں ہیں اور ایسی زبان اور ایسے انداز میں ہیں کہ جن کو آج کے ادب ناپسند عوام بھی سمجھ سکتے ہیں اور سمجھتے ہیں… ایسی آسان زبان جس میں معنی کی گہرائی اس انداز سے پیدا ہوئی ہو جس میں عام معمولی پڑھا لکھا آدمی بھی غوطہ لگا سکے۔یعنی جہاں زبان کی سادگی کو نظر انداز کر کے عام آدمی بھی مفہوم کی طرف متوجہ ہو جائے… خالصتہَ باصِر کے اسلوبِ کی مثال ملاحظہ کیجیے:

دل چھوٹی چھوٹی باتوں پہ جلتا ہے اِس لیے

ہوتے ہیں اصل بات سے ہم لوگ بے خبر

لوگ جب مِلتے ہیں کہتے ہیں کوئی بات کرو

جیسے رکھی ہوئی ہوتی ہو مِرے ہات پہ بات

کیا کیا وہ ہمیں سنا گیا ہے

رہ رہ کے خیال آ رہا ہے

اِک بات نہ کہہ کے آج کوئی

باتوں میں ہمیں ہرا گیا ہے

یہ ناصِر کاظمی کا اسلوب تو قطعی نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ باصِر اپنے اسلوبِ خاص سے ہٹتا بھی ہے تو کمال دکھاتا ہے یعنی عام آدمی کو بڑی حد تک اِس تجربہ میں شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے:

کچھ دکھائی نہیں دیتا ترے سودائی کو

دل کے بجھتے ہی یہ کیا ہو گیا بینائی کو

مگر اس کے اسلوب میں معنی خیزی کا کمال بھی دیکھیے۔ بڑی عام سی بات ہے:

ہے جس کا انتظار وہ ممکن ہے آ ہی جائے

تھوڑی سی دیر کے لیے بارش رکی تو ہے

اب آپ اس شعر کے ایک لفظ بارش سے جتنے چاہے معانی نکال سکتے ہیں۔ لیکن باصِر جیسے جیسے آگے بڑھتا ہے یعنی دوسرے دور سے تیسرے میں داخل ہوتا ہے تو اپنے خاص اسلوب کی طرف زیادہ متوجہ نظر آتا ہے:

ہم کو اپنا شہر یاد آتا نہ شاید اِس قدر

کیا کریں رہتا ہے تیرے شہر کا موسم خراب

باصِرؔ تمہیں یہاں کا ابھی تجربہ نہیں

بیمار ہو پڑے رہو، مر بھی گئے تو کیا

بدنام ہے نادانی میں لیکن اِسی دل نے

میرے تو کئی بِگڑے ہوئے کام سنوارے

کہا ہم نے کہ ہو تم بے مروّت

کہا ہم بے مروّت ہی سہی، تو

باصِر عام طورپر شاعرانہ حربے استعمال نہیں کرتابلکہ کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ جان بوجھ کر بڑے بڑے شاعروں کو اور بڑی بڑی قسم کی شاعری کو دور سے اپنا ٹھینگا دکھا رہا ہے اور اس طرح یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ خالص شاعری میں حربے استعمال نہیں ہوا کرتے۔ یعنی خالص شاعری کو کسی طرح کے حربوں کی ضرورت نہیں البتہ بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے…باصِر کے دو چار شعر اور سن لیجیے:

کتنا کام کریں گے

اب آرام کریں گے

ویسے تو وہ دوست ہیں سبھی کے

کام آتے ہیں پر کسی کسی کے

زخم تمہارے بھر جائیں گے تھوڑی دیر لگے گی

بے صبری سے کام لیا تو اور بھی دیر لگے گی

اللہ ایسے موقعے مجھے بار بار دے

جتنا ادھار ہے مرے سر سے اتار دے

پڑا ہے آج ہمیں ایک مطلبی سے کام

خدا کرے کہ اُسے ہم سے کام پڑ جائے

برا ہرگز نہیں اُس کا رویّہ

مگر کچھ حوصلہ افزا نہیں ہے

…اب ذرا باصِر کاظمی کاشعر زندگی کے تماشے کے بارے میں سنیے۔ کسی طمطراق اور طنطنے کے بغیر باصِر زندگی کو ایک عام آدمی کی طرح بھی دیکھتا ہے اوراُس کو اِس پر غور و فکر کے لیے بھی اکسا رہا ہے لیکن کسی شورو غوغا کے ساتھ نہیں:

دیکھتے ہی دیکھتے کیا ہو گئی ہے زندگی

ہاں مگر حیراں نہ ہو اے دل یہی ہے زندگی

موجِ خیال پڑھتے وقت مجھے بار بار قرآنِ پاک کی سورہ شعرا کی آخری آیات یاد آتی رہیں جن میں پہلی بات تو یہ کہی گئی ہے کہ شعراکی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں کیونکہ شعرا اپنے اشعار میں جو چاہتے ہیں بلا ضرورت بیان کر دیتے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ و ہ جو کہتے ہیں کرتے نہیں۔وہی بات کہ شعرا کی شاعری میں حقائق کا اظہار اس طرح نہیں ہوتاجس سے عام آدمی صحیح معنی میں مستفید ہو سکے۔ غالباَ باصِر کے لاشعور میں یا شعور میں یہ بات کچھ زیادہ ہی مضبوطی کے ساتھ جاگزیں ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ ایسی شاعری کرے جس سے ہر آدمی مستفید ہو سکے… باصِر خواہ مخواہ کے وہم و گمان کی وادیوں میں بھٹکتا نہیں پھرتابلکہ اپنے بظاہر دھیمے لہجے میں ظلم و ستم کے خلاف آواز ہی بلند کرتا رہا ہے۔

( مطبوعہ ’علامت‘، مئی 1999ئ)

باصر کاظمی

متفرق اشعار

1997

سُورج کا یہ رنگ نہ تھا جو وقتِ شام ہُوا ہے

دیکھو کیسا سَرکش گھوڑا کیسا رام ہُوا ہے

اِنصاف اگر کہیں ہے کچھ

جنّت کا نشاں وہیں ہے کچھ

آ جائیں گے دیکھنے تمہیں ہم

کہنا تو ہمیں نہیں ہے کچھ

ستمبر

حاضری کے واسطے سرکار کا دفتر کھُلا

کتنے چکّر کاٹنے کے بعد یہ چکّر کھُلا

دسمبر

2000

سب حسینوں کا حُسن تجھ میں ہے

اور تِرا حُسن سب حسینوں میں

12 ۱کتوبر

2001

جو منافع نہ مِل سکا باصِرؔ

اُس کو نقصان کیوں سمجھتے ہو

3دسمبر

2003

کھُلتے ہی نہیں کسی صورت

وہ ہونٹ بھی سُرخ فیتے ہیں

ہیں سارے کے سارے آدم خور

شہروں میں جو شیر چیتے ہیں

جنوری

یوں بھی کم تھی اُس کے آنے کی اُمید

اب تو ویسے بھی اندھیرا ہو گیا

28جنوری

نقصان پر جو میرے افسوس کر رہے ہیں

میں جانتا ہوں کتنا اندر سے خوش ہوئے ہیں

9مارچ

نیند میں بھی بھٹک نہیں سکتا

روز کا راستہ ہے یہ میرا

3اپریل

جس نے ماں باپ کو دیا ہو دُکھ

اُس نے اولاد سے نہ پایا سُکھ

4دسمبر

2004

گئے خط بے اثر سارے

اُسے بھیجوں گا اب سی وی

4اپریل

نکل گیا ہے مِری زندگی سے وہ شاید

کئی دنوں سے مِرے خواب میں نہیں آیا

10جون

وہاں جانے سے کیا ڈرنا

جہاں سب جائیں گے اک دن

غلط سمجھے ہیں جو ہم کو

بہت پچھتائیں گے اک دن

13جولائی

جن دنوں روتا تھا تیری یاد میں

رو رہا ہوں اُن دنوں کی یاد میں

3ستمبر

2005

کیا مشورہ کوئی دے اب ایسے آدمی کو

جانے دیا ہو جس نے گھر آئی لکشمی کو

10جولائی

اب آ کے دیکھتے ہیں شجر ہیں وہ سایہ دار

جاتے ہوئے جو بیج یہاں بو گئے تھے ہم

19ستمبر

شفا ہوتی دوا سے معجزہ ایسا تو کیا ہوتا

مگر بیمار کچھ دِن اور جی لیتا تو کیا ہوتا

ابھی اُس کے نہ مِلنے پر عداوت ہے زمانے کو

کسی تدبیر سے وہ ہم کو مِل جاتا تو کیا ہوتا

دسمبر

ہے اِتنا کچھ جہاں دل میں ہمارے ناخداؤں کے

خیالِ خلق بھی ہوتا اگر خوفِ خدا ہوتا

دسمبر

اب آ کے دیکھتے ہیں شجر ہیں وہ سایہ دار

جاتے ہوئے جو بیج یہاں بو گئے تھے ہم

19دسمبر

2006

کسی سبب سے جو وہ دے سکیں نہ میرا ساتھ

نہیں ہے اِس میں بُرا ماننے کی کوئی بات

سلوک اُس کا ترے ساتھ ٹھیک ہے باصِرؔ

کوئی تو ہو جو بتائے تجھے تِری اوقات

16فروری

گزر گئی ہے اِسی کاہلی میں عُمر تمام

یہ سوچتے رہے بس اب کریں گے کل سے کام

یہ سوچ کر کہ مِلے گا ضرور اب کے جواب

نجانے لِکھّے ہیں خط کتنی بار اپنے نام

نومبر

گو شاعری پڑھنے کا اُسے شوق بہت ہے

کیا کیجیے اِس کا کہ وہ بدذوق بہت ہے

دسمبر

ایک دشمن کی کمی تھی باصِرؔ

وہ بھی اِک دوست نے پوری کر دی

8دسمبر

2007

جب چاہیے ہو ملتی ہے تازہ ہَوا مجھے

شاید کبھی لگی تھی کسی کی دعا مجھے

5جولائی

باصر کاظمی

اچانک مہرباں ہونے کا مطلب

کہاں ملتے تھے ہم سے آپ اِس ڈھب
اچانک مہرباں ہونے کا مطلب
بتایا ہی نہیں ہم کو کسی نے
وہ آئے تھے ہمارے شہر میں؟ کب؟
چلو ہوتا رہا اب تک گزارا
کریں گے بات ہم اُن سے مگر اب
اگرچہ عشق نے اندھا کیا ہے
نظر میں ہیں تمہاری حرکتیں سب
ہمیں معلوم ہو جاتا ہے باصرِؔ
کیا دل سے کسی نے یاد جب جب
باصر کاظمی

اُن سے ہمیں جب جہاں ملاؤ

کیا کہتے ہو کب کہاں ملاؤ
اُن سے ہمیں جب جہاں ملاؤ
میں کب سے ہوں گوش بر آواز
لفظوں سے کبھی زباں ملاؤ
سَر آنکھوں پہ اختلاف لیکن
اک بار تو ہاں میں ہاں ملاؤ
کچھ یاد دلائیں آپ کو ہم
آنکھیں تو ہماری جاں ملاؤ
اب زخم ہمارے بھر گئے ہیں
ناوک سے ذرا کماں ملاؤ
باصر کاظمی

بے صبری سے کام لیا تو اور بھی دیر لگے گی

زخم تمہارے بھر جائیں گے تھوڑی دیر لگے گی
بے صبری سے کام لیا تو اور بھی دیر لگے گی
یوں بے حال نہ ہو اے دل بس آتے ہی ہوں گے وہ
کل بھی دیر لگی تھی اُن کو آج بھی دیر لگے گی
سیکھ لیا ہے میں نے اپنے آپ سے باتیں کرنا
فکر نہیں اُن کو آنے میں کتنی دیر لگے گی
صاحب آج تو اپنا کام کرا کے جائیں گے ہم
ساری شرطیں پوری ہیں پھر کیسی دیر لگے گی
کون رکے اب اُس کے در پر شام ہوئی گھر جائیں
اتنا ضروری کام نہیں ہے جتنی دیر لگے گی
اِتنی دیر میں کچھ کے کچھ ہو جائیں گے حالات
خط لکھنے سے خط ملنے تک جتنی دیر لگے گی
مارگزیدہ کون بچا ہے باصرِؔ شکر کرو تم
ٹھیک بھی ہو جاؤ گے لیکن خاصی دیر لگے گی
باصر کاظمی

اب آرام کریں گے

کتنا کام کریں گے
اب آرام کریں گے
تیرے دیے ہوئے دُکھ
تیرے نام کریں گے
کون بچا ہے جسے وہ
زیرِ دام کریں گے
اہلِ درد ہی آخر
خوشیاں عام کریں گے
رات بھی دن جیسی ہے
کب آرام کریں گے
نوکری چھوڑ کے باصرِؔ
اپنا کام کریں گے
باصر کاظمی

اُس کو ہونا ہی تھا خفا سو ہوا

یہ تو سب ٹھیک ہے بُرا تو ہوا
اُس کو ہونا ہی تھا خفا سو ہوا
میں بھی دنیا میں دل لگاتا ہوں
بھول جا تو بھی آج تک جو ہوا
آنے والے دنوں کی فکر کرو
چلو اب تک تو جو ہوا سو ہوا
شاعری پر گمان جادو کا
کیا عجب ہے اگر کسی کو ہوا
گھر میں ہر چند کچھ نہیں باصرِؔ
سَر چھپانے کا آسرا تو ہوا
باصر کاظمی

مجھے بھی عشق کا سودا نہیں ہے

خیال اُس کو اگر میرا نہیں ہے
مجھے بھی عشق کا سودا نہیں ہے
بُرا ہرگز نہیں اُس کا رویہ
مگر کچھ حوصلہ افزا نہیں ہے
تمہاری مہربانی تم نے پوچھا
ہمارا حال کچھ اچھا نہیں ہے
جو اُن کے جی میں آئے گی کریں گے
کسی کا زور تو چلتا نہیں ہے
پرانی بات اُن سے کیا کریں اب
انہیں کچھ یاد تو رہتا نہیں ہے
بُرا کہتا تو ہوں میں اُن کو باصرؔ
کبھی اُن کا بُرا چاہا نہیں ہے
باصر کاظمی

اُس نے اُتنا ہی مجھ کو خوار کیا

میں نے جتنا کسی سے پیار کیا
اُس نے اُتنا ہی مجھ کو خوار کیا
سَرسَری اُس نے کوئی کام کہا
ہم نے اعصاب پر سوار کیا
حاکمِ وقت ہی سہی باصرِؔ
وقت نے کس کا انتظار کیا
باصر کاظمی

یہ الگ بات بے سبب نہ ہوئی

مہرباں وہ نگاہ کب نہ ہوئی
یہ الگ بات بے سبب نہ ہوئی
پاس بیٹھا رہا وہ اور ہمیں
بات کرنے کی بھی طلب نہ ہوئی
کھو دیا اُس نے آخری موقع
صلح اُس سے ہماری اب نہ ہوئی
آج بارش ہوئی تو کیا باصرِؔ
جب زمیں جل رہی تھی تب نہ ہوئی
باصر کاظمی

ساتھ وہ یارِ خوش فضا بھی تھا

موسمِ ابر کا مزا بھی تھا
ساتھ وہ یارِ خوش فضا بھی تھا
ایک تو چارہ گَر مِلے ناقِص
کچھ مرا درد لادوا بھی تھا
اک تو ویسے ہی بدمزاج ہے وہ
اور اُس روز کچھ خفا بھی تھا
اب تو جینے کی بھی نہیں ہمت
کبھی مرنے کا حوصلہ بھی تھا
تو کچھ اپنا خیال کر باصرؔ
اُس نے جاتے ہوئے کہا بھی تھا
باصر کاظمی

مِری دعا ہے کہ وہ خوش رہے جہاں بھی رہے

کہاں ملے گا وہ مجھ سے اگر یہاں بھی رہے
مِری دعا ہے کہ وہ خوش رہے جہاں بھی رہے
دلِ خراب یہ خواہش تِری عجب ہے کہ وہ
سِتم بھی کم نہ کرے اور مہرباں بھی رہے
ابھی زمین پہ جنت نہیں بنی یارو
جہاں کے قصے سُناتے ہو ہم وہاں بھی رہے
رہا ہمیشہ ہی سامان مختصر اپنا
مسافروں کی طرح ہم رہے جہاں بھی رہے
جو ساتھ چلنے کے بھی مستحق نہ تھے باصرِؔ
کچھ ایسے لوگ یہاں میرِ کارواں بھی رہے
باصر کاظمی

کہتا ہے دل کہ آج نکل جا کسی طرف

بادل ہے اور پھول کھِلے ہیں سبھی طرف
کہتا ہے دل کہ آج نکل جا کسی طرف
تیور بہت خراب تھے سنتے ہیں کل ترے
اچھا ہُوا کہ ہم نے نہ دیکھا تِری طرف
جب بھی مِلے ہم اُن سے اُنہوں نے یہی کہا
بس آج آنے والے تھے ہم آپ کی طرف
اے دل یہ دھڑکنیں تِری معمول کی نہیں
لگتا ہے آ رہا ہے وہ فِتنہ اِسی طرف
خوش تھا کہ چار نیکیاں ہیں جمع اُس کے پاس
نکلے گناہ بیسیوں اُلٹا مِری طرف
باصرِؔ عدو سے ہم تو یونہی بدگماں رہے
تھا اُن کا اِلتفات کسی اور ہی طرف
باصر کاظمی

دشمنی جس کی دوستی جیسی

پھر ہمیں جستجو ہوئی اُس کی
دشمنی جس کی دوستی جیسی
سامنے اُس کی سَرد مہری کے
کیا ہمارے مزاج کی گرمی
چھیڑنا چاہتے ہو دُکھتی رگ
بات ہو جائے گی بہت لمبی
ابھی تو صبح کا اُجالا تھا
ہو گئی شام کس قدر جلدی
تِیر تو بعد میں چلا باصرِؔ
تم نے پہلے ہی جان دے ڈالی
باصر کاظمی

رہ رہ کے خیال آ رہا ہے

کیا کیا وہ ہمیں سُنا گیا ہے
رہ رہ کے خیال آ رہا ہے
اک بات نہ کہہ کے آج کوئی
باتوں میں ہمیں ہرا گیا ہے
تم خوش نہیں ہو گے ہم سے مِل کے
آ جائیں گے ہم ہمارا کیا ہے
ہم لاکھ جواز ڈھونڈتے ہوں
جو کام بُرا ہے وہ بُرا ہے
کیا فائدہ فائدے کا یارو
نقصان میں کیا مضائقہ ہے
تم ٹھیک ہی کہہ رہے تھے اُس دن
کچھ ہم نے بھی اِن دنوں سُنا ہے
جتنی ہے تری نگاہ قاتل
اُتنی ترے ہاتھ میں شِفا ہے
دوشاخہ ہے میرے ذہن میں کیوں
جب سامنے ایک راستا ہے
کہنے کو ہَرا بھرا ہے لیکن
اندر سے درخت کھوکھلا ہے
خوش کرنے کو جو کہی تھی تُو نے
باصرِؔ اُسی بات پر خفا ہے
باصر کاظمی

ذرا ملال نہ ہو تُو نہ گَر کہے کچھ بھی

ہمارے ساتھ زمانہ کیا کرے کچھ بھی
ذرا ملال نہ ہو تُو نہ گَر کہے کچھ بھی
وہ اور وقت تھے جب انتخاب ممکن تھا
کریں گے اہلِ ہُنر کام اب ملے کچھ بھی
نہیں ہے وقت مِرے پاس ہر کسی کے لیے
مری بَلا سے وہ ہوتے ہوں آپ کے کچھ بھی
جو میرا حق ہے مجھے وہ تو دیجیے صاحب
طلب کیا نہیں میں نے جناب سے کچھ بھی
ذرا سی بات پہ تیرا یہ حال ہے باصرِؔ
ابھی تو میں نے بتایا نہیں تجھے کچھ بھی
باصر کاظمی

یہی بہتر کہ اُٹھا رکھوں ملاقات پہ بات

خط میں کیا کیا لکھوں یاد آتی ہے ہر بات پہ بات
یہی بہتر کہ اُٹھا رکھوں ملاقات پہ بات
رات کو کہتے ہیں کل بات کریں گے دن میں
دن گزر جائے تو سمجھو کہ گئی رات پہ بات
اپنی باتوں کے زمانے تو ہوا بُرد ہوئے
اب کیا کرتے ہیں ہم صورتِ حالات پہ بات
لوگ جب ملتے ہیں کہتے ہیں کوئی بات کرو
جیسے رکھی ہوئی ہوتی ہو مِرے ہات پہ بات
مِل نہ سکنے کے بہانے اُنہیں آتے ہیں بہت
ڈھونڈ لیتے ہیں کوئی ہم بھی ملاقات پہ بات
دوسروں کو بھی مزا سننے میں آئے باصرِؔ
اپنے آنسو کی نہیں کیجیے برسات پہ بات
باصر کاظمی

اُسے پتا نہیں شاید کہ میں گیا تو گیا

وہ اپنے شہر سے جانے کی رہ دکھا تو گیا
اُسے پتا نہیں شاید کہ میں گیا تو گیا
مَنا بھی لیتے ہیں رُوٹھے ہوؤں کو ہم لیکن
بِلا سبب کوئی ہم سے ہُوا خفا تو گیا
یہ سوچتا ہوں کہ اب اُٹھ کے کس طرح جاؤں
میں آج بھُولے سے محفل میں تیری آ تو گیا
کبھی سزا بھی ملے گی اُسے مگر فی الحال
یہی بہت ہے بُرے کو بُرا کہا تو گیا
باصر کاظمی

جیسا لکھنا چاہا ویسا لِکھا ہے

کم لِکھا ہے لیکن جتنا لِکھا ہے
جیسا لکھنا چاہا ویسا لِکھا ہے
اب پڑھنے والے بھی تھوڑا غور کریں
لکھنے والوں نے تو کیا کیا لِکھا ہے
ٹھیک ہی سمجھے میری پریشانی کو تم
اُس نے پھر کچھ ایسا ویسا لِکھا ہے
ہم لِکھ لِکھ ہلکان ہوئے اور وہ بولے
ہاں تم نے بھی اچھا خاصا لِکھا ہے
باصرِؔ تیرا حال اسی نے کیا ہے غیر
جس نے خود کو تیرا اپنا لِکھا ہے
باصر کاظمی

آنکھ میں نم زیادہ ہوتا ہے

جن دنوں غم زیادہ ہوتا ہے
آنکھ میں نم زیادہ ہوتا ہے
کچھ تو حَساس ہم زیادہ ہیں
کچھ وہ برہم زیادہ ہوتا ہے
دردِ دل کا بھی کوئی ٹھیک نہیں
خود بخود کم زیادہ ہوتا ہے
سب سے پہلے اُنہیں جھُکاتے ہیں
جن میں دم خم زیادہ ہوتا ہے
قیس پر ظلم تو ہُوا باصرِؔ
پھر بھی ماتم زیادہ ہوتا ہے
باصر کاظمی

کچھ ہوائے مشکبو کچھ ہم سبُو نے کر دیا

کچھ تو رُسوا اپنی طرزِ گفتگو نے کر دیا
کچھ ہوائے مشکبو کچھ ہم سبُو نے کر دیا
کیسے کیسے ناقصوں کی بات سننی پڑ گئی
کیا سُبک سَر ہم کو زخمِ چارہ جو نے کر دیا
شہر بھر میں ایک ہی تو رہ گیا تھا ہوش مند
سنتے ہیں اُس کو بھی دیوانہ کسو نے کر دیا
دو قدم چلنا تھا مشکل اُس اندھیرے میں مگر
راہ کو روشن چراغِ آرزو نے کر دیا
اُس نے تو باصرِؔ یونہی پوچھی تھی تیری خیریت
حالِ دل کہہ کر ہمیں شرمندہ تُو نے کر دیا
باصر کاظمی

لائے گی شاخِ بید بھی اِس باغ کی ثمر

ہم آبیاری خونِ جگر سے کریں اگر
لائے گی شاخِ بید بھی اِس باغ کی ثمر
بولیں گے جب ملے گا کوئی ہم نوا اِنہیں
بیٹھے ہوئے ہیں مُرغ جو منقار زیرِ پر
دل چھوٹی چھوٹی باتوں پہ جلتا ہے اس لیے
ہوتے ہیں اصل بات سے ہم لوگ بے خبر
وہ لوگ مدرسوں میں سِکھانے لگے زباں
جو عِلم کو عِلَم کہیں اور صبر کو صَبَر
باصِر نے تجربوں سے نہ سیکھا کوئی سبق
ہوتا نصیحتوں کا بھلا اس پہ کیا اثر
باصر کاظمی

گھر سے بے گھر بھی ہوئے اور نہ ملی منزل بھی

بحر پُر شور ہے نزدیک نہیں ساحل بھی
گھر سے بے گھر بھی ہوئے اور نہ ملی منزل بھی
ہم ابھی کچھ نہیں کہتے کہ جدائی ہے نئی
بھول جانا تجھے آسان بھی ہے مشکل بھی
اُس کی رحمت پہ بھروسا تو بجا ہے لیکن
یہ نہ بھولو کہ وہ قہار بھی ہے عادل بھی
باصر کاظمی

اگرچہ اب تو کسی بات کا نہیں افسوس

اُس ایک بات کا اب تک گیا نہیں افسوس
اگرچہ اب تو کسی بات کا نہیں افسوس
یہ دل کے زخم جو اب شرمسار کرتے ہیں
بہت پرانے ہیں پر لادوا نہیں، افسوس
چُنا تھا دیدہ و دانستہ رستۂ دشوار
کسی مقام پہ ہم نے کہا نہیں افسوس
فنا کے ڈر سے ہم اہلِ جفا سے آن ملے
زمانہ مونسِ اہلِ وفا نہیں افسوس
پھر اُس کے در پہ نظر آ رہے ہو باصرِؔ آج
تمہارا کام ابھی تک ہوا نہیں افسوس
باصر کاظمی

پوچھ مت اپنی زباں ہم نے سنبھالی کس طرح

اتنے کڑوے دور میں شیریں مقالی کس طرح
پوچھ مت اپنی زباں ہم نے سنبھالی کس طرح
حُسن و خوبی اک طرف اُس پر وفا بھی ختم ہے
ہم کو بہلاتا ہے محبوبِ خیالی کس طرح
ہو گیا دل کے مکاں میں اک حسیں آ کر مکیں
فکر یہ ہے اب کرائیں اِس کو خالی کس طرح
پاؤں رکھنا بھی جہاں کل تک نہ تھا زیبا اُنہیں
وقت نے لا کر بنایا ہے سوالی کس طرح
ہو گئے بے حال جو تیرے تغافل کے سبب
کس طرح ہو گی مگر ان کی بحالی کس طرح
کر گئے اپنا جگر چھلنی تِری یادوں کے تِیر
اب ہوائے غم کو روکے گی یہ جالی کس طرح
گلشنِ جاں میں ہوائے شعر پھر سے چل پڑی
جھومتی ہے پتی پتی ڈالی ڈالی کس طرح
جس کے من میں ہر گھڑی رہتا ہو تجھ سا جلوہ گَر
اُس کی باتوں میں نہ ہو روشن خیالی کس طرح
مدتیں درکار ہیں باصرِؔ حصولِ صبر کو
ایک دن میں تم نے یہ دولت کما لی کس طرح
باصر کاظمی

اوروں کے تو کیا ہوں گے وہ اپنے نہیں ہوتے

ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتے
اوروں کے تو کیا ہوں گے وہ اپنے نہیں ہوتے
مِل اُن سے کبھی جاگتے ہیں جن کے مقدر
تیری طرح ہر وقت وہ سوئے نہیں ہوتے
جو دن میں پھرا کرتے ہیں ہشیار و خبردار
وہ میری طرح رات کو جاگے نہیں ہوتے
ہم اُن کی طرف سے کبھی ہوتے نہیں غافل
رشتے وہی پکے ہیں جو پکے نہیں ہوتے
اغیار نے مدت سے جو روکے ہوئے تھے کام
اب ہم بھی یہ دیکھیں گے وہ کیسے نہیں ہوتے
ناکامی کی صورت میں مِلے طعنۂ نایافت
اب کام مرے اتنے بھی کچے نہیں ہوتے
شب اہلِ ہوس ایسے پریشان تھے باصرِؔ
جیسے مہ و انجم کبھی دیکھے نہیں ہوتے
باصر کاظمی

جانتے بھی ہو مزاج اِس کا بہت قہری ہے

یہ جو شیریں دہن و نرم نگہ شہری ہے
جانتے بھی ہو مزاج اِس کا بہت قہری ہے
دل میں خوں جب سے ہوا کم نہیں رو سکتے ہم
یہ زمیں آنکھوں کی بارانی نہیں نہری ہے
اِن دنوں ہے مرا صیاد عجب مشکل میں
باغ کی تازہ ہوا میری دوا ٹھہری ہے
موج میں آئے تو میٹھا بھی بہت ہے لیکن
طیش میں ہو تو مِرا یار بہت زہری ہے
کیا خبر ٹھیک نہ ہو زندگی بھر یہ باصرِؔ
تم کو اندازہ نہیں چوٹ بہت گہری ہے
باصر کاظمی

یہ ندی بعد مدت کچھ بہی تو

کہانی آنسوؤں نے کچھ کہی تو
یہ ندی بعد مدت کچھ بہی تو
کہا ہم نے کہ ہو تم بے مروت
کہا ہم بے مروت ہی سہی تو
تری ہی نذر کرنے کو ہے یہ جاں
اگر اغیار سے کچھ بچ رہی تو
ہمیں محفوظ کر رکھا ہے جس نے
یہی دیوار جب سر پر ڈہی تو
تمہاری بات سے میں متفق ہوں
ابھی میں کہہ رہا تھا کچھ یہی تو
جہالت ہی سے بچ جاؤ تو جانیں
بہت مشکل ہے باصرِؔ آگہی تو
باصر کاظمی

جس کی نظر اُٹھے اُسے کرتے ہیں اشارے

ہر ایک کو خوش فہمی میں رکھتے ہیں ستارے
جس کی نظر اُٹھے اُسے کرتے ہیں اشارے
مجنوں سے کہو کٹ چکی اک عُمر جنوں میں
باقی کسی معقول طریقے سے گزارے
بدنام ہے نادانی میں لیکن اِسی دل نے
میرے تو کئی بگڑے ہوئے کام سنوارے
کر دیں نہ کہیں ہم کو جوانی میں ہی معذور
ہم جن کو سمجھتے ہیں بڑھاپے کے سہارے
یوں تو کبھی کم آب نہ تھا آنکھوں کا دریا
سیلاب وہ آیا ہے کہ بے بس ہیں کنارے
سچ ہے کہ گُل و لالہ میں ٹھنڈک ہے تجھی سے
یہ نور ہے کس کا مگر اے چاند ہمارے
بیکار سے پتھر ہیں چمکتے ہیں جو شب کو
پوشیدہ ہیں دن میں تِری قسمت کے ستارے
باصر کاظمی

کوئی زباں دراز کوئی بے زبان ہے

لاکھوں میں کوئی کوئی یہاں خوش بیان ہے
کوئی زباں دراز کوئی بے زبان ہے
جتنے بھی تِیر تھے تِرے ترکش میں چل چکے
مدت سے تیرے ہاتھ میں خالی کمان ہے
مجھ سے زیادہ خود پہ وہ کرنے لگا ستم
جانا ہے جب سے اُس نے مِری اُس میں جان ہے
اکثر رہی ہے میرے تخیل کی سیر گاہ
وہ سَر زمین جس کے تلے آسمان ہے
کچھ تو یہ دل بھی ہو گیا کم ہمتی کا صید
اور کچھ بدن میں پچھلے سفر کی تکان ہے
ایسے پڑے ہوئے ہیں لبوں پر ہمارے قفل
ہم بھول ہی گئے ہیں کہ منہ میں زبان ہے
باصرِؔ کچھ اپنے آپ میں رہنے لگا ہے مست
اے حُسنِ بے خیال ترا امتحان ہے
باصر کاظمی

تھی ورنہ جانے کب سے طبیعت بھری ہوئی

اچھا ہوا کہ بات بہت سرسری ہوئی
تھی ورنہ جانے کب سے طبیعت بھری ہوئی
پَل میں نکال پھینکنا دل کے مکین کو
ایسی تو آج تک نہ کوئی بے گھری ہوئی
اب انتظار کیجیے اگلی بہار کا
ہے شاخ کون سی جو خِزاں میں ہری ہوئی
رہتا ہے کارواں سے الگ میرِ کارواں
اے اہلِ کارواں یہ عجب رہبری ہوئی
ہر بار تم کو اُس کا کہا ماننا پڑے
باصرِؔ یہ دوستی تو نہیں نوکری ہوئی
باصر کاظمی

اب شاعری کو چاہیے اک دوسرا دماغ

اس فکرِ روزگار میں سب کھَپ گیا دماغ
اب شاعری کو چاہیے اک دوسرا دماغ
اب کوئی بات ٹھیک سے رہتی نہیں ہے یاد
وہ دل کہاں چلا گیا اور کیا ہُوا دماغ
اُٹھا جو یہ سوال کہ ثالث کسے بنائیں
میں نے کہا کہ دل سہی اُس نے کہا دماغ
تھا دل تو چیز کیا صفِ مژگاں کے سامنے
اس معرکے میں شکر یہ ہے بچ گیا دماغ
باصرِؔ یہ آدمی بھی ہے کتنی عجیب چیز
اِتنے سے اِس کے سَر میں ہے کتنا بڑا دماغ
باصر کاظمی

اب کے برف بہت پگھلی ہے خیر مناؤ شہروں کی

تم بھی دیکھ رہے ہو صورت دریاؤں اور نہروں کی
اب کے برف بہت پگھلی ہے خیر مناؤ شہروں کی
جانے اِن میں سے کب کوئی اپنا کام دِکھا جائے
دل میں اک دکان لگی ہے رنگ برنگے زہروں کی
کوئی کام کی بات کرے تو ہم سو بار سنیں ورنہ
بہتر ہے بہرے بن جائیں اک نہ سنیں بے بہروں کی
آخر ہم کو بھی اک دن دریا میں اترنا ہے باصرؔ
سو اِن روزوں دیکھ رہے ہیں کیا صورت ہے لہروں کی
باصر کاظمی

ہاں مگر حیراں نہ ہو اے دل یہی ہے زندگی

دیکھتے ہی دیکھتے کیا ہو گئی ہے زندگی
ہاں مگر حیراں نہ ہو اے دل یہی ہے زندگی
اپنا اپنا تجربہ ہے اپنی اپنی سوچ ہے
زندگی بھی موت ہے اور موت بھی ہے زندگی
تو عبث بیزار ہے یک رنگیِ ایام سے
دیکھ آنکھیں کھول کے ہر دم نئی ہے زندگی
کہہ رہا تھا کتنی حسرت سے کوئی کیا فائدہ
اب کہ آنکھیں بند ہوتی ہیں کھلی ہے زندگی
کام جتنے ہیں ترے ذمے سبھی ہو جائیں گے
اِتنی جلدی کیا پڑی باصرِؔ ابھی ہے زندگی
باصر کاظمی

ظالم کا بس چلے تو سدا رات ہی رہے

جور و ستم کی اُس کے سیاہی چھپی رہے
ظالم کا بس چلے تو سدا رات ہی رہے
چاہی تھی زندگی کے لیے کوئی آرزو
اب آرزو یہی ہے کہ بس زندگی رہے
اب چاہے دربدر ہی پھریں ہم تمام عمر
کافی ہے یہ کہ دل میں تمہارے کبھی رہے
یہ اور بات ہے کہ ہمیں کو سزا ملی
گرچہ شریکِ جرمِ تمنا سبھی رہے
باصر کاظمی

ڈرتا ہوں دوسروں کے عمل دخل سے بہت

اُمّیدِ انتظام تو ہے عقل سے بہت
ڈرتا ہوں دوسروں کے عمل دخل سے بہت
مت بدگمان ہو جو تجھے دیکھتا ہوں میں
مِلتی ہے تیری شکل کسی شکل سے بہت
قسمت شبِ فِراق کی یونہی نہیں کھلی
شکوے ہیں عاشقوں کو شبِ وصل سے بہت
جن کی اَدائے حُسن کی اب شہر میں ہے دھُوم
پہنچا ہے اُن کو فیض تِری نقل سے بہت
دیکھا دلِ خموش نے تختہ اُلٹ دیا
لینے لگے تھے کام ذرا عقل سے بہت
باصر کاظمی

احساس ہی رہا نہیں کچھ ہست و بُود کا

دل اِس قدر شکار ہُوا ہے جمود کا
احساس ہی رہا نہیں کچھ ہست و بُود کا
ہے کونسا زیاں کہ نہ ہو جس میں کوئی سُود
اور یوں زیاں ثمر نہیں کس نخلِ سُود کا
سوچو تو ہے دکھاوا چھپانے کا ایک ڈھنگ
اور پردہ داری حیلہ ہے ذوقِ نمود کا
سنتے ہیں کر لیا ہے کسی زُلف نے اسیر
منکر سدا رہا جو رسوم و قیود کا
دل کی کلی جو بند ہے باصِر تو کیا کریں
ہے کس کے اختیار میں لمحہ کشود کا
باصر کاظمی

جینے کی دوا پائی اُسی زہر میں ہم نے

کھینچا تھا کبھی غم جو تِرے شہر میں ہم نے
جینے کی دوا پائی اُسی زہر میں ہم نے
جانا یہ بالآخر کہ نبھانا نہیں ممکن
وہ عہد کیا ہو گا کسی لہر میں ہم نے
جو اِتنی کٹھن رات کی کاوش کا ثمر تھی
اُس صبح کو دیکھا نہیں دوپہر میں ہم نے
ہے کونسا گوشہ جو نظر میں نہیں اپنی
اک عُمر گزاری ہے اِسی شہر میں ہم نے
گھبرا گئے بس تم تو کنارے ہی پہ باصرِؔ
ہاں تیرنا سیکھا تھا اِسی نہر میں ہم نے
باصر کاظمی

کچھ وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں سَر بھی گئے تو کیا

ہم جیسے تیغِ ظلم سے ڈر بھی گئے تو کیا
کچھ وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں سَر بھی گئے تو کیا
اُٹھتی رہیں گی درد کی ٹیسیں تمام عُمر
ہیں زخم تیرے ہاتھ کے بھر بھی گئے تو کیا
ہیں کونسا بہار کے دن اپنے منتظر
یہ دن کسی طرح سے گزر بھی گئے تو کیا
ہم تو اِسی طرح سے پھریں گے خراب حال
یہ شعر تیرے دل میں اُتر بھی گئے تو کیا
باصِرؔ تمہیں یہاں کا ابھی تجربہ نہیں
بیمار ہو پڑے رہو مَر بھی گئے تو کیا
باصر کاظمی

کام تھوڑا تھا گفتگو تھی بہت

دل میں ہر چند آرزو تھی بہت
کام تھوڑا تھا گفتگو تھی بہت
سنگِ منزل یہ چھیڑتا ہے مجھے
آ تجھے میری جستجو تھی بہت
اے ہوس دیکھ داغ داغ جگر
تو بھی مشتاقِ رنگ و بُو تھی بہت
بڑھ گئی اُن سے مل کے تنہائی
روح جویائے ہم سبو تھی بہت
اک تِری ہی نگاہ میں نہ جچے
شہر میں ورنہ آبرو تھی بہت
باصر کاظمی

بڑا مہنگا پڑا یارانۂ دل

خوب تھا رہتے جو بیگانۂ دل
بڑا مہنگا پڑا یارانۂ دل
ایک وہ جس کا ہے دل دیوانہ
ایک میں ہوں کہ ہوں دیوانۂ دل
خاک تو پہلے بھی اُڑتی تھی مگر
تجھ سے آباد تھا ویرانۂ دل
آج وہ گھر ہے کھنڈر سا ویراں
جس پہ تحریر تھا کاشانۂ دل
اک ذرا لہر اٹھی اور چھلکا
کیا بھرا رہتا تھا پیمانۂ دل
ابھی باقی ہے طلب آنکھوں میں
ہے ادھورا ابھی افسانۂ دل
جس قدر پی سکو پی لو باصرِؔ
بند ہونے کو ہے میخانۂ دل
باصر کاظمی

تیرے دل کی برف نے دیکھا نہیں ہے آفتاب

چشمِ کم سے دیکھتا ہے کیوں مِری چشمِ پُر آب
تیرے دل کی برف نے دیکھا نہیں ہے آفتاب
یوں گزرتی جا رہی ہے زندگی کی دوپہر
دل میں اک امیدِ کاذب اور آنکھوں میں سراب
خود سَری اُس تُند خو کی جاتے جاتے جائے گی
ایک ہی دن میں کبھی آتا نہیں ہے انقلاب
تم نے ہم کو کیا دیا اور ہم سے تم کو کیا مِلا
مِل گئی فرصت کبھی تو یہ بھی کر لیں گے حساب
ہم کو اپنا شہر یاد آتا نہ شاید اِس قدر
کیا کریں رہتا ہے تیرے شہر کا موسم خراب
ایک خط لکھ کر سمجھنا فرض پورا ہو گیا
واہ باصرِؔ جی تمہارا بھی نہیں کوئی جواب
باصر کاظمی

باصرؔ تمہارے یار نے اچھا نہیں کیا

چھوٹا سا ایک کام ہمارا نہیں کیا
باصرؔ تمہارے یار نے اچھا نہیں کیا
رہتی رہی ہے کوئی نہ کوئی کمی ضرور
ایسا نہیں کیا کبھی ویسا نہیں کیا
دو چار بار دیکھ لو خود جا کے اُس کے پاس
کچھ بے سبب تو ہم نے کنارا نہیں کیا
کہتے رہے ہو تم اُسے ہمدرد و غم گُسار
اور اُس نے بات کرنا گوارا نہیں کیا
گر تھیں نگاہ میں مِری کوتاہیاں تو ٹھیک
اغیار نے تو کوئی اشارہ نہیں کیا
حیراں ہوں لوگ کہتے ہیں کیوں اُس کو چارہ گر
جس نے کسی مریض کو اچھا نہیں کیا
دن رات ہم کو قرض چکانے کی فکر ہے
گو اُس نے واپسی کا تقاضا نہیں کیا
ہوتے جو آج اُن کی نگاہوں میں سرفراز
ہم نے تو کوئی کام بھی ایسا نہیں کیا
باصر کاظمی

اب تِرے جی میں جو آئے سو کر

ہم الگ بیٹھ رہے چُپ ہو کر
اب تِرے جی میں جو آئے سو کر
اب تجھے کھو کے خیال آتا ہے
تجھ کو پایا تھا بہت کچھ کھو کر
کیا بُرا ہے مجھے اچھا ہونا
کوئی تدبیر اگر ہے تو کر
تم نے کیا کر لیا رہ کر بیدار
ہم نے تو عمر گنوا دی سو کر
آج تک تم نہیں سنبھلے باصرِؔ
کھائی تھی کِس کی گلی میں ٹھوکر
باصر کاظمی

واقف نہیں ہیں شاید اپنے بُرے بھلے سے

جو لوگ اُس گلی میں پھرتے ہیں منچلے سے
واقف نہیں ہیں شاید اپنے بُرے بھلے سے
شکوہ کیا نہ ہم نے پوچھا نہ حال تم نے
ڈرتے رہے ہیں شاید ہم ایک دوسرے سے
وہ بات ہی نہیں جب تو بات کیا کریں گے
رُک بھی گیا اگر وہ باصرِؔ ترے کہے سے
باصر کاظمی

کہیں ہُما نہ گزر جائے میرے سَر پَر سے

کچھ اِس لیے بھی نِکلتا نہیں ہوں میں گھر سے
کہیں ہُما نہ گزر جائے میرے سَر پَر سے
وہ جس کے پاؤں تلے پائمال تھے کہسار
گِرا تو حیف اُلجھ کر ذرا سے پتھر سے
گَلے کا ہار ہیں جو آج کل رسن ہوں گے
ہمارے زخم ہی اچھے زر و جواہر سے
یہ اور بات کہ ظلمت کدے میں سب کچھ ہے
میں بے نیاز نہیں مہر و ماہ و اختر سے
کرم چلا تو ہے باصِرؔ کی اشک شوئی کو
خبر نہیں ہے کہ پانی گزر چکا سَر سے
باصر کاظمی

اور لمبی خیال کی گھڑیاں

مختصر ہیں وصال کی گھڑیاں
اور لمبی خیال کی گھڑیاں
آپ تھے ہم تھے اور تنہائی
وہ بھی تھیں کیا کمال کی گھڑیاں
آگ بھڑکا گئیں مرے دل کی
موسمِ برشگال کی گھڑیاں
چڑھتے سورج تُو اب تو آنکھیں کھول
سر پہ آئیں زوال کی گھڑیاں
ہر نیا سال ہم سے کہتا ہے
خوب تھیں پچھلے سال کی گھڑیاں
باصر کاظمی

جینے کا اپنے پاس بہانہ یہی تو ہے

کیا زندگی ہے اپنی مگر زندگی تو ہے
جینے کا اپنے پاس بہانہ یہی تو ہے
ہم بھی سکوں سے سوئیں گے آئے گی وہ بھی رات
بھر جائے گا کبھی نہ کبھی زخم ہی تو ہے
ہے جس کا انتظار وہ ممکن ہے آ ہی جائے
تھوڑی سی دیر کے لیے بارش رُکی تو ہے
باصرِؔ کہاں سے لائیں اب اُس کو ترے لیے
یہ بات ہی بہت ہے کہ محفل جمی تو ہے
باصر کاظمی

اظہارِ حال کرنے کا دل نے جگر کیا

کیا تیری ایک نیم نگہ نے نڈر کیا
اظہارِ حال کرنے کا دل نے جگر کیا
اب بھی اگرچہ روز نکلتا ہے آفتاب
دن تھا وہی جو ساتھ تمہارے بسر کیا
تُو نے تو خیر ہم کو بلانا تھا کیا مگر
ہم نے بھی دیکھ کر ترے تیور حذر کیا
تھے تیرے پاس قطعِ تعلق کے سو جواز
ہم نے بھی ترکِ عشق کسی بات پر کیا
اب کے چلی ہوائے حقیقت کچھ ایسی تیز
نخلِ گمان آن میں بے برگ و بر کیا
تُو نے بھی جاں کھپائی ہے باصرِؔ ہمارے ساتھ
جا اپنے ساتھ ہم نے تجھے بھی امر کیا
باصر کاظمی

یہ انجمن ہے راز کی باتیں یہاں نہیں

اے جذبِ دل سمجھ مرے منہ میں زباں نہیں
یہ انجمن ہے راز کی باتیں یہاں نہیں
بلبل کے بعد پوچھتی پھرتی ہے یہ صبا
اتنے بڑے چمن میں کوئی خوش بیاں نہیں
ہر لمحہ دل سے آتی ہے امید کی صدا
دنیا میں کوئی بات بعید از گماں نہیں
ساری صدائیں میری صدا کی ہیں بازگشت
اہلِ چمن میں کون مرا ہم زباں نہیں
شکوے کا کیا جواز ہے باصرِؔ تمہارے پاس
وہ مہرباں ہی کب تھے جو اب مہرباں نہیں
باصر کاظمی

دل کے بجھتے ہی یہ کیا ہو گیا بینائی کو

کچھ دکھائی نہیں دیتا ترے سودائی کو
دل کے بجھتے ہی یہ کیا ہو گیا بینائی کو
ہاں مری پرسشِ احوال کو آئیں کیونکر
جانتے ہیں وہ مرے زخم کی گہرائی کو
اب نہ وہ سایہ نہ وہ دھوپ نہ پہلی سی چمک
کھا گئی کس کی نظر باغ کی رعنائی کو
کیا کریں ذکر مریضوں کی شفایابی کا
خود مسیحا بھی ترستے ہیں مسیحائی کو
باصر کاظمی

ورنہ ہونی تھی کہاں مجھ سے یہ خارا شکنی

شعر کہلاتی ہے مجھ سے تِری شیریں سخنی
ورنہ ہونی تھی کہاں مجھ سے یہ خارا شکنی
تُو نے جس طرح بھی دیکھا مجھے یہ کیا کم ہے
میری تصویر تری آنکھ کے پردے پہ بنی
خوش ہوئے ایک ادا پر تو کیا دِل اِنعام
ہم تہی دست حقیقت میں ہیں کِس درجہ غنی
دھیان رہتا ہے سدا غم کدہء خلوت کا
راس کِس طرح سے آئے ہمیں خوش انجمنی
لاکھ آسائشیں پردیس مہیّا کر دے
ہے غریب الوطنی پھر بھی غریب الوطنی
باصر کاظمی

دانستہ کھڑا تھا میں ذرا سا پرے ہٹ کر

ڈرتا تھا نہ رہ جاؤں کہیں تجھ سے لپٹ کر
دانستہ کھڑا تھا میں ذرا سا پرے ہٹ کر
ہم ہی اُسے آواز نہ دے پائے وگرنہ
اُس نے تو بڑے پیار سے دیکھا تھا پلٹ کر
اب ڈھونڈنا دشوار ہے اُن کو سرِ محفل
بیٹھے تو وہ ہوں گے کسی گوشے میں سمٹ کر
باصرؔ دلِ ضدی کو تو سمجھانا ہے آخر
نرمی سے نہ مانے تو ذرا ڈانٹ ڈپٹ کر
باصر کاظمی

خوب معلوم ہیں یہ ساری خرافات اُسے

کیا سناؤں میں بھلا دل کی حکایات اُسے
خوب معلوم ہیں یہ ساری خرافات اُسے
آج تک ایک ہی بات اُس سے ہوئی ہے اپنی
وہ بھی یہ بات کہ منظور نہیں بات اُسے
کیا جو دن رات برستی رہیں آنکھیں اپنی
اک تماشے سے زیادہ نہیں برسات اُسے
واعظو جس پہ گزرتی ہو قیامت ہر روز
کیا ڈرائے گا بھلا روزِ مکافات اُسے
زندگی بھر تو رہا خوگرِ آتش باصرِؔ
کیسے خوش آئیں گے فردوس کے باغات اُسے
باصر کاظمی

چاند سی شکل تری مُوجبِ طغیانی ہے

بحرِ دل میں یہ جو کیفیتِ ہیجانی ہے
چاند سی شکل تری مُوجبِ طغیانی ہے
یہ شب و روز تو ہر روز بدلتے ہیں رنگ
اور کچھ بات ہے جو باعثِ حیرانی ہے
اب تو تجھ پر بھی کسی اور کا ہوتا ہے گماں
کس قدر دیر میں صورت تِری پہچانی ہے
در و دیوار سے قائم تھا بھرم غربت کا
آج بے پردہ مری بے سروسامانی ہے
بے خودی پر ہی کھُلا کرتے ہیں اسرارِ جہاں
ہوش کہتے ہو جسے تم وہی نادانی ہے
میں جو مغموم ہُوا دل یہ پکارا باصرِؔ
میرے ہوتے تجھے کاہے کی پریشانی ہے
باصر کاظمی

رہا نہ دل ہی سلامت تو کیوں رہیں آنکھیں

بلا سے گر شبِ ہجراں میں جل بجھیں آنکھیں
رہا نہ دل ہی سلامت تو کیوں رہیں آنکھیں
یہ ربطِ تارِ نگہ تو بہت ہی بودا ہے
نجانے ہم سے وہ کس وقت پھیر لیں آنکھیں
بجا کہ نظریں ہی ٹھہری ہیں اب زباں لیکن
وہ سامنے ہی نہ آئیں تو کیا کریں آنکھیں
اُتر گئی ہیں رگ وپے میں یوں تِری نظریں
کوئی بھی نقش بنانے لگوں بنیں آنکھیں
لگی ہے آنکھ ہماری ترے تصور میں
تری ہی شکل مقابل ہو جب کھلیں آنکھیں
یہ معجزہ بھی دکھاتی ہے جستجو اکثر
کہ کان دیکھنے لگ جائیں اور سنیں آنکھیں
تمام عمر بھی گر ڈھونڈتے پھرو باصرِؔ
کہاں ملیں گی جو ہیں اپنے دھیان میں آنکھیں
باصر کاظمی

دوسروں کو مِل گیا جو تھا مری تقدیر میں

مجھ سے غفلت ہو گئی شاید کہیں تدبیر میں
دوسروں کو مِل گیا جو تھا مری تقدیر میں
رشک سے آنکھوں نے بھی حلقے بنائے اپنے گرد
جب سے دل رہنے لگا ہے خانۂ زنجیر میں
کس قدر باتیں ہوا پر خرچ ہوتی ہیں مگر
بات رہتی ہے وہی آ جائے جو تحریر میں
جانبِ دشتِ فنا کچھتے چلے جاتے ہیں لوگ
وقت نے باندھا ہے سب کو ایک ہی زنجیر میں
میں رعایت کا نہیں طالب مگر اے زندگی
کوئی نسبت چاہیے تقصیر اور تعزیر میں
دل کو اُکسایا ہے جب سے خواہشِ تعمیر نے
جل رہا ہوں آتشِ اندیشۂ تعمیر میں
آیتیں تو ٹھیک ہی پڑھنی تھیں واعظ نے مگر
مدعا اپنا بھی شامل کر دیا تفسیر میں
من کو ایسی بھا گئی ہے اک تصور کی چمک
آنکھ کا جی ہی نہیں لگتا کسی تصویر میں
ہم کو بیداری نے باصرِؔ یہ سزا دی نیند کی
خواب میں پایا تھا جو کچھ کھو دیا تعبیر میں
باصر کاظمی

اب ہے وہی اپنا معمول

تھا جو کبھی اک شوقِ فضول
اب ہے وہی اپنا معمول
کیسی یاد رہی تجھ کو
میری اک چھوٹی سی بھول
غم برگد کا گھنا درخت
خوشیاں ننھے ننھے پھول
اب دل کو سمجھائے کون
بات اگرچہ ہے معقول
آنسو خشک ہوئے جب سے
آنگن میں اُڑتی ہے دھول
تم ہی بدل جاؤ باصرِؔ
کیوں بدلیں دنیا کے اصول
باصر کاظمی

ستانے آ گئے موسم سہانے

پھر اُس کا ذکر چھیڑا ہے صبا نے
ستانے آ گئے موسم سہانے
تصور میں پھر اُس کی شکل چمکی
جسے دیکھے ہوئے گزرے زمانے
ذرا دیکھو تو کیا حالات بدلے
نئے لگنے لگے قصے پرانے
ہماری آنکھ کے تارے تھے جو لوگ
وہی آ کر آنکھیں لگے دکھانے
میں اکثر سوچتا رہتا ہوں باصرؔ
یہ کیا دنیا بنائی ہے خدا نے
باصر کاظمی

اور بھلا کیا چاہوں میں

تجھ کو دیکھ رہا ہوں میں
اور بھلا کیا چا ہوں میں
دنیا کی منزل ہے وہ
جس کو چھوڑ چکا ہوں میں
تُو جب سامنے ہوتا ہے
اور کہیں ہوتا ہوں میں
اور کسی کو کیا پاؤں
خود کھویا رہتا ہوں میں
ختم ہوئیں ساری باتیں
اچھا اب چلتا ہوں میں
باصر کاظمی

رہتی ہے مری بات بہت عرصہ دہن میں

مِلتا ہے عجب لطف مجھے ضبطِ سخن میں
رہتی ہے مری بات بہت عرصہ دہن میں
اُبھرے وہ کہاں جھیل سی آنکھوں میں جو ڈوبے
نکلے نہ کبھی گِر گئے جو چاہِ ذقن میں
لے جانے لگی پستی کی جانب ہمیں اب زیست
ہونے لگی محسوس کشش دار و رسن میں
کیا جانیے کس لمحے چلا جائے تہِ خاک
انسان تو جیتا بھی ہے گویا کہ کفن میں
نامے کی ضرورت ہے نہ محتاجیِ قاصد
تُو یاد تو کر آؤں گا میں چشم زدن میں
اب موسمِ گُل آپ نمٹ لے گا خزاں سے
ہم چین سے بیٹھیں گے کسی کُنجِ چمن میں
تم قدر تو کرتے نہیں اربابِ ہُنر کی
کیوں جان کھپائے بھلا کوئی کسی فن میں
اورں کی زمیں راس نہیں آئے گی باصرؔ
آرام ملے گا تمہیں اپنے ہی وطن میں
باصر کاظمی

موت کی جیب سے بھی زیست کا ساماں نکلا

موجب رنگِ چمن خونِ شہیداں نکلا
موت کی جیب سے بھی زیست کا ساماں نکلا
ٹھوکریں کھائی ہیں اتنی کہ اب اپنے دل سے
شوقِ آوارگیِ دشت و بیاباں نکلا
ہم بہت خوش تھے کہ جاگ اٹھی ہے اپنی قسمت
آنے والا کسی ہمسائے کا مہماں نکلا
ہے عجب بات کہ جس رستے پہ ہم چل نکلے
گھوم پھر کر وہ سرِ کوچہء جاناں نکلا
بے حسی نے جو کبھی فرصتِ غم دی ہم کو
ایک سیلاب نہفتہ تہِ مژگاں نکلا
چارہ گر خطرۂ جاں کہتے تھے جس کو باصرِؔ
وہی غم باعثِ آرامِ رگِ جاں نکلا
باصر کاظمی

ہاتھ سے چاہے زندگی جائے

بات جو دل میں ہے کہی جائے
ہاتھ سے چاہے زندگی جائے
دل سے جانا تری محبت کا
جیسے آنکھوں سے روشنی جائے
شوق کہتا ہے مجھ کو پر لگ جائیں
اور طبیعت کہ بس گری جائے
خامشی بے سبب نہیں اپنی
ہے کوئی جس سے بات کی جائے
اس قدر بھی قریب مت آؤ
کہ جدائی نہ پھر سہی جائے
باصر کاظمی

لوگ مٹی میں رُلے جاتے ہیں کیا ہیرا سے

خوف آنے لگا یارب ہمیں اِس دنیا سے
لوگ مٹی میں رُلے جاتے ہیں کیا ہیرا سے
یا تو اک لمحے میں ہو جائے طبیعت بیزار
اور لگ جائے تو بھرتا نہیں جی دنیا سے
اُس کو ماضی میں بھی آرام کی صُورت نہ ملی
جس نے منہ پھیر لیا آئینہء فردا سے
تم بہت دیر سے بیکار ہو اے قلب و جگر
آؤ ملواؤں تمہیں ایک غمِ تازہ سے
اب جو چھایا ہے تو پھر کھُل کے برس ابرِ خیال
کھیت اشعار کے مدت سے پڑے ہیں پیاسے
چین سے بیٹھے ہو اک گوشہء تنہائی میں
اور کیا چاہیے باصرِؔ تمہیں اس دنیا سے
باصر کاظمی

جبھی تو تیرے نہ ملنے کا کچھ ملال نہ تھا

میں جانتا ہوں کہ ملنا ترا محال نہ تھا
جبھی تو تیرے نہ ملنے کا کچھ ملال نہ تھا
مجھے تو صرف ترا پیار کھینچ لایا ہے
یہاں رقیب بھی ہوں گے مجھے خیال نہ تھا
خود اپنے آپ سے میں نے شکست کھائی تھی
مری شکست میں تیرا کوئی کمال نہ تھا
خراب حال بہر حال کوئی حال تو ہے
وہ دن بھی یاد ہیں جب اپنا کوئی حال نہ تھا
اُسی کے ہو گئے جس راستے پہ چل نکلے
سدا سے اپنی طبیعت میں اعتدال نہ تھا
گِلہ فضول ہے مُرجھا گیا جو نخلِ عشق
جو اِس زمین میں اُگتا یہ وہ نہال نہ تھا
باصر کاظمی

چاند خود محوِ چاندنی ہے آج

یوں فضا آئنہ بنی ہے آج
چاند خود محوِ چاندنی ہے آج
جس سے ملنے کو میں ترستا تھا
اُس نے خود مجھ سے بات کی ہے آج
کتنی مدت کے بعد لوگوں نے
کوئی سچی خبر سنی ہے آج
ایک بھی آشیاں نہیں محفوظ
آگ کچھ اِس طرح لگی ہے آج
آنکھ دھندلا گئی تو غم کیسا
دلِ پرشوق تو وہی ہے آج
صاف ظاہر ہے تیری صورت سے
تیری نیت بدل گئی ہے آج
باصر کاظمی

بکھر کر رہ گئیں لہریں ہوا کی

عجب صورت بنی میری صدا کی
بکھر کر رہ گئیں لہریں ہوا کی
ہمارے جرم آپ اپنی سزا ہیں
اضافی ہے سزا روزِ جزا کی
کوئی پیماں نہیں باندھا تھا لیکن
تِری باتوں میں خوشبو تھی وفا کی
عجب سی اک تڑپ تھی میرے دل میں
تری آنکھوں میں شوخی تھی حیا کی
شناساؤں سے جی گھبرا گیا ہے
ضرورت ہے کسی نا آشنا کی
نہیں ملتے اگر وہ تم سے باصرِؔ
کچھ اُن کی اور کچھ مرضی خدا کی
باصر کاظمی

تو اپنا غم کچھ کم کر لے

ہم کو بھی شریکِ غم کر لے
تو اپنا غم کچھ کم کر لے
چاہت کا چراغ نہیں چھپتا
جتنا چاہے مدھم کر لے
شاید کوئی راہ نکل آئے
آ کچھ باتیں باہم کر لے
تُو کون ہے جو تیرے آگے
دنیا اپنا سر خم کر لے
یوں کب تک سوچے گا باصرِؔ
جو کرنا ہے یک دم کر لے
باصر کاظمی

ایک اک لمحے کی خبر رکھو

وقت کی راہ پر نظر رکھو
ایک اک لمحے کی خبر رکھو
یہ کہیں اور کام آئیں گے
آنسوؤں کو سنبھال کر رکھو
آج تو وہ ضرور آئے گا
یہ پیالے ابھی سے بھر رکھو
ہم بھی آہوں کو روک لیں اپنی
تم بھی دل میں کسی کا ڈر رکھو
ساتھ ہم بھی چلیں اگر باصرِؔ
چاندنی رات میں سفر رکھو
باصر کاظمی

لب ابھی آشنائے نالہ نہیں

یہ نہیں ہے کہ دل شکستہ نہیں
لب ابھی آشنائے نالہ نہیں
مجھ سے ہر بات کی توقع رکھ
آدمی ہوں کوئی فرشتہ نہیں
کھائے ہیں اِس قدر فریب کہ اب
اعتبارِ حواسِ خمسہ نہیں
یہ بھی اب کے بھری بہار میں دیکھ
باغ میں کوئی گُل شگفتہ نہیں
داغِ ماضی چراغِ فردا ہے
یادگارِ چراغِ کشتہ نہیں
کس طرح مان لوں کہ دل کی گھٹن
کسی طوفاں کا پیش خیمہ نہیں
دائمی روگ ہے جسے لگ جائے
عشق دو چار دن کا قصہ نہیں
اپنے دل میں پناہ لے باصرِؔ
اِس سے محفوظ کوئی قلعہ نہیں
باصر کاظمی

اگر ستارہ نہیں کوئی اشک پارا دے

ترس گئی مری بینائی کچھ اجالا دے
اگر ستارہ نہیں کوئی اشک پارا دے
شبِ سیاہ مجھے انتظارِ صبح نہیں
جو ہو سکے تو مرا چاند مجھ کو لوٹا دے
جو درد حاصلِ ہستی تھا وہ تو چھین لیا
اب اُس کے بدلے میں تو چاہے ساری دنیا دے
بلا رہا ہے وہ خوابوں کے چاند سے مجھ کو
ردائے تیرگی ہٹ سامنے سے رستا دے
کیا ہے تلخی دوراں نے اِس قدر بے حس
کوئی خبر نہیں ایسی جو مجھ کو چونکا دے
باصر کاظمی

وہ درد پھر سے جگا کر گزر گیا کوئی

جو سو چکا تھا نئے موسموں کی چھاؤں میں
وہ درد پھر سے جگا کر گزر گیا کوئی
خیالِ حُسن بھی گویا کہ نشہء مے تھا
ذرا سی دیر میں دل سے اتر گیا کوئی
تجھے یہ فخر کہ تُو راز ہی رہا لیکن
مجھے یہ رنج کہ کیوں بے خبر گیا کوئی
رہِ حیات میں کتنے سکون سے باصرِؔ
پکار موت کی سن کر ٹھہر گیا کوئی
باصر کاظمی

کِس کو ڈھونڈ رہا ہے تو

ویرانوں میں اے جگنو
کِس کو ڈھونڈ رہا ہے تو
اُن بے معنی باتوں کے
اب کیا کیا نکلے پہلو
خون جلایا ساری رات
پائے مٹھی بھر آنسو
کتنی تازہ ہے اب تک
بیتے لمحوں کی خوشبو
مدت میں جا کر پایا
تیری یادوں پر قابو
باصرِؔ اتنے غموں کے ساتھ
کیسے خوش رہتا ہے تو
باصر کاظمی

جو چاہیں آپ کہتے رہیں میرے باب میں

کہنا نہیں ہے جب مجھے کچھ بھی جواب میں
جو چاہیں آپ کہتے رہیں میرے باب میں
اب تو گنوا رہے ہو شب و روز خواب میں
پھر ڈھونڈتے پھرو گے جوانی خضاب میں
تھی روشنی کی جن کو ہوس راکھ ہو گئے
تھے بے خبر کہ آگ بھی ہے آفتاب میں
آنکھیں بُجھے ہوئے تو زمانہ ہوا مگر
دل کے لیے ہنوز کشش ہے سَراب میں
آؤ کہِگن سکوں گا نہ شامیں فراق کی
یہ انگلیاں تو ختم ہوئیں سب حساب میں
بیدار ہوں کہ سوئے رہیں اِس سے کیا غرض
رہنا ہے جب ہمیشہ ہمیں ایک خواب میں
ہم ہیں کہ بس سمیٹتے رہتے ہیں چاندنی
کچھ لوگ جا بسے ہیں دلِ ماہتاب میں
ہے مستقل سکون بھی اک وجہِ اضطراب
ممکن ہے کچھ سکون ملے اضطراب میں
آنکھیں بہانے ڈھونڈتی رہتی ہیں نیند کے
شاید وہ دلربا نظر آ جائے خواب میں
باصرِؔ کہاں تم اور کہاں اُس کی جستجو
بیٹھے بٹھائے پڑ گئے یہ کس عذاب میں
باصر کاظمی

ایک ناسور بن چکا ہوتا

غم اگر دل میں رہ گیا ہوتا
ایک ناسور بن چکا ہوتا
مجھ کو جلنا ہی تھا تو پھر اے دوست
میں تری رات کا دیا ہوتا
خاک میں کچھ کشش تو تھی ورنہ
پھول کیوں شاخ سے جدا ہوتا
تیرے محنت کشوں کی دنیا میں
غم نہ ہوتا تو اور کیا ہوتا
یاد بھی دل سے مٹ گئی اُس کی
نقشِ پا کچھ تو دیرپا ہوتا
آپ ہی کچھ خفا سے رہتے ہیں
کوئی کیوں آپ سے خفا ہوتا
خواہشیں ہر گھڑی یہ کہتی ہیں
کام کچھ کام کا کیا ہوتا
باصر کاظمی

پھر غلط کیا تھا جو تجھ کو ہم زباں سمجھا تھا میں

اپنے افسانے کو سب کی داستاں سمجھا تھا میں
پھر غلط کیا تھا جو تجھ کو ہم زباں سمجھا تھا میں
تُو نے آنکھیں پھیر لیں تو آج آنکھیں کھُل گئیں
تیری باتوں سے تو تجھ کو مہرباں سمجھا تھا میں
میری کوتاہی کہ میں سمجھا نہ اپنی قدر آپ
میری خوش فہمی کہ تجھ کو قدرداں سمجھا تھا میں
ہو کے شرمندہ وہ مجھ سے آج یہ کہنے لگا
انکساری کو تری عجزِ بیاں سمجھا تھا میں
آج اُسی کے نام سے روشن ہیں منزل کے چراغ
جس مسافر کے سفر کو رائگاں سمجھا تھا میں
باصر کاظمی

اب مرا تجھ سے واسطا کیا ہے

یوں کنکھیوں سے دیکھتا کیا ہے
اب مرا تجھ سے واسطا کیا ہے
کان بجتے ہیں کیوں ہر آہٹ پر
ہر گھڑی دل میں یہ صدا کیا ہے
کھو گئے ہم تو پردۂ در میں
پسِ پردہ نجانے کیا کیا ہے
آج ہر بات پر الجھتے ہو
کچھ پتا تو چلے ہُوا کیا ہے
وہ تو کہیے کہ خیریت گذری
ورنہ میں کیا مری دعا کیا ہے
کہنے والے کو دیکھتے ہیں لوگ
یہ نہیں دیکھتے کہا کیا ہے
اِس چمن کو بنانے والے نے
کیا بنایا تھا بن گیا کیا ہے
بہتری خامشی میں ہے باصرِؔ
یوں بھی کہنے کو اب رہا کیا ہے
باصر کاظمی

وہی ننھے ننھے پودے تھے گھنے درخت کل کے

دمِ صبح آندھیوں نے جنہیں رکھ دیا مسل کے
وہی ننھے ننھے پودے تھے گھنے درخت کل کے
نئے ساتھیوں کی دُھن میں تیری دوستی کو چھوڑا
کوئی تجھ سا بھی نہ پایا تِرے شہر سے نکل کے
وہی رسمِ کم نگاہی وہی رات کی سیاہی
مرے شہر کے چراغو یہاں کیا کرو گے جل کے
نئے خواب میری منزل تہِ آب میرا ساحل
تمہیں کیا ملے گا یارو مرے ساتھ ساتھ چل کے
سرِ شام آج کوئی مرے دل سے کہہ رہا ہے
کوئی چاند بھی تو نکلے کوئی جام بھی تو چھلکے
یہ جو گھر لٹا لٹا ہے یہ جو دل بجھا بجھا ہے
اِسی دل میں رہ گئے ہیں کئی آفتاب ڈھل کے
یہ مشاہدہ ہے میرا رہِ زندگی میں باصرِؔ
وہی منہ کے بَل گرا ہے جو چلا سنبھل سنبھل کے
باصر کاظمی

وہ چاندنی وہ گھر وہ ہوا یاد آ گئی

بیتے ہوئے دنوں کی فضا یاد آ گئی
وہ چاندنی وہ گھر وہ ہوا یاد آ گئی
جیسے کوئی پکار رہا ہو کہیں مجھے
یہ آدھی رات کس کی صدا یاد آ گئی
تازہ تھا زخمِ ہجر تو تدبیر کچھ نہ کی
اب لا علاج ہے تو دوا یاد آ گئی
وہ شکل دُور رہ کے بھی ہے کتنی مہرباں
جب دل نے اُس کو یاد کیا یاد آ گئی
باصرِؔ کسی سے عہدِ وفا کر رہے تھے آج
ناگاہ پھر کسی کی وفا یاد آ گئی
باصر کاظمی

جو ہو رہا ہے کچھ اس پر بھی تم نے سوچا ہے

وہ ہو رہے گا بالآخر جو ہونے والا ہے
جو ہو رہا ہے کچھ اس پر بھی تم نے سوچا ہے
افُق کی آنکھ میں پھیلی ہوئی ہے لالی سی
یہ آسمان کہاں ساری رات جاگا ہے
سنو کہ آج تمہیں یاد کے دریچوں سے
صدائے رفتہ نے اک بار پھر پکارا ہے
گزر نسیمِ سحر اِس چمن سے آہستہ
کہ پتا پتا بہاروں کے دل کا ٹکڑا ہے
بھٹکتے پھرتے ہیں ہم جس کی دُھن میں مدت سے
جو سوچیے تو وہ منزل بھی ایک رَستا ہے
مرے سفر میں کئی منزلیں پڑیں لیکن
تری گلی میں عجب طرح دل دھڑکتا ہے
وہ قافلہ تو کبھی کا گزر چکا باصرِؔ
کھڑے ہو راہ میں اب انتظار کس کا ہے
باصر کاظمی

لیکن وہ بے کلی جو اِدھر ہے اُدھر نہیں

ہر چند میرے حال سے وہ بے خبر نہیں
لیکن وہ بے کلی جو اِدھر ہے اُدھر نہیں
آوازِ رفتگاں مجھے لاتی ہے اِس طرف
یہ راستہ اگرچہِمری رہگذر نہیں
چمکی تھی ایک برق سی پھولوں کے آس پاس
پھر کیا ہُوا چمن میں مجھے کچھ خبر نہیں
کچھ اور ہو نہ ہو چلو اپنا ہی دل جلے
اتنا بھی اپنی آہ میں لیکن اثر نہیں
آتی نہیں ہے اِن سے شناسائی کی مہک
یہ میرے اپنے شہر کے دیوار و در نہیں
باصر کاظمی

یہ وہ جہاں ہے جہاں قیدِ صبح و شام نہیں

دیارِ دل میں مہ و مہر کا نظام نہیں
یہ وہ جہاں ہے جہاں قیدِ صبح و شام نہیں
میں یاد کرتا ہوں تجھ کو جو آج کل اِتنا
سبب یہ ہے کہ مجھے اور کوئی کام نہیں
یہ اور بات کہ وہ مہرباں نہیں ہم پر
وگرنہ حُسن میں اُس کے کوئی کلام نہیں
باصر کاظمی

وہ رات ہے کہ دیا بھی جلا نہیں سکتا

کہاں کی آہ و فغاں لب ہلا نہیں سکتا
وہ رات ہے کہ دیا بھی جلا نہیں سکتا
وہ نقش چھوڑ گئے زندگی میں اہلِ ہنر
فنا کا ہاتھ بھی جن کو مٹا نہیں سکتا
وہ پیڑ دیکھے ہیں میں نے سفر میں اب کے برس
زمینِ شعر میں جن کو اُگا نہیں سکتا
جو میرا دوست نہ ہو کر بھی میرے کام آیا
میں ایسے شخص کو دشمن بنا نہیں سکتا
شریکِ سازشِ دل ایسا کون تھا باصرِؔ
تُو جس کا نام بھی ہم کو بتا نہیں سکتا
باصر کاظمی

سوتے سوتے آنکھ ملی پھر

ہوا چلی اور خوب چلی پھر
سوتے سوتے آنکھ ملی پھر
ایسی بھی کیا وحشت گھر سے
پھرا کرو گے گلی گلی پھر
پروانوں کو جلانے والی
اپنی آگ میں آپ جلی پھر
کتنی بلائیں ٹل گئیں لیکن
جان پہ آئی کہاں ٹلی پھر
بات بات پر یوں مت اُلجھو
سنو گے مجھ سے بری بھلی پھر
سائے گہرے ہو گئے باصرؔ
دنیا میں اک شام ڈھلی پھر
باصر کاظمی

چھپتی پھرتی ہے صبا پھولوں میں

دُور سایہ سا ہے کیا پھولوں میں
چھپتی پھرتی ہے صبا پھولوں میں
اِتنی خوشبو تھی کہ سَر دُکھنے لگا
مجھ سے بیٹھا نہ گیا پھولوں میں
چاند بھی آ گیا شاخوں کے قریب
یہ نیا پھول کھِلا پھولوں میں
چاند میرا ہے ستاروں سے الگ
پھول میرا ہے جدا پھولوں میں
چاندنی چھوڑ گئی تھی خوشبو
دھوپ نے رنگ بھرا پھولوں میں
تتلیاں قمریاں سب اُڑ بھی گئیں
میں تو سویا ہی رہا پھولوں میں
رُک گیا ہاتھِترا کیوں باصرِؔ
کوئی کانٹا تو نہ تھا پھولوں میں
باصر کاظمی

جنہوں نے روشنی پائی مِرے پیمبرؐ سے

سدا چمکتے رہے مہر و ماہ و اختر سے

چلے جو آپؐ کے ہمراہ پا گئے منزل

نہیں چلے تو جھگڑتے رہے مقدر سے

وگرنہ مجھ کو تہی دامنی ہی زیبا ہے

کہ چاہیے مجھے خیرات ایک ہی در سے

وہ آنکھ جس کا کہ سرمہ ہو خاکِ راہِ رسولؐ

وہ ہو سکے گی نہ خیرہ زر و جواہر سے

نبیؐ کی مدح سرائی وہ قرض ہے باصرِؔ

ادا ہوا نہ کبھی جو کسی سخن ور سے

1987ئ

باصر کاظمی

دیباچہ

۔ ۱ ۔

یاں فقط ریختہ کہنے ہی نہ آئے تھے ہم

چار دن یہ بھی تماشا سا دکھایا ہم نے

میرا خیال تھا کہ شعر نہ کہنے پر تو میرا اختیار نہیں لیکن اپنا شعری مجموعہ شائع نہ کرانا شاید میرے بس میں ہے۔ لیکن جس طرح پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے اور اختیار سے مزید اختیار حاصل ہوتا ہے اسی طرح بے بسی بے بسی کو جنم دیتی ہے۔ کچھ دوستوں کی شہ، بزرگوں کی ناحوصلہ شکنی اور شاعری اور شاعری سے ملتی جلتی چیزوں سے محبت کرنے والوں کی توقعات اِن اشعار کو کتابی شکل میں لانے کے محرکات ہیں۔ جہاں تک اِس مجموعے میں ’اصلیت‘ یا ’جان‘ کا تعلق ہے تو اِس کا فیصلہ ظاہر ہے کہ وقت ہی کرے گا اور میں چاہتا ہوں کہ یہ وقت کم از کم اگلے پچاس برس تک تو نہ آئے کیونکہ ابھی مجھے دنیا میں کچھ اور کام بھی کرنے ہیں۔ سو اگر مستقبل (مستقبل قریب ہرگز نہیں) کے قارئین اِس کلام کو جان دار پائیں گے تو یہ اُن کی خوش قسمتی ہو گی اور اگر معاملہ اِس کے برعکس رہا تویہ اُن کی اور بھی زیادہ خوش قسمتی ہو گی کہ اُن کی ایک ایسے شاعر سے جان چھوٹ چکی ہو گی جو کچھ غیر شعری عوامل کی بدولت اپنے بے جان کلام کی داد پاتا رہا۔

بعض لوگوں کے خیال میں یہ میری بد قسمتی ہے کہ میرا موازنہ ناصِر کاظمی سے کیا جائے گا، اپنے ہم عصروں سے نہیں،میں سمجھتا ہوں یہ میری خوش بختی ہے کہ میں مار کھاؤں گا تو ناصِر کاظمی سے۔ لیکن یہ میں نے کیا کہہ دیا۔ ٹی ایس ایلیٹ تو کہتا ہے کہ ہومر سے لے کر آج تک کے تمام شعراء ہم عصر ہیں۔ پاپا بھی میِراور لورکا کو اپنا ہم عصر کہتے تھے اور مجھے بھی نصیحت کرتے تھے کہ اگر میِر اور غالب کے سامنے بیٹھ کراپنی غزل سنانے کی ہمت کر سکو تو شعر کہنا ورنہ کوئی اور کام کرنا۔

فنِ تقریر سیکھنے لگا تو پہلا سبق یہ ملا کہ سامعین کو بے جان مجسمے جانو۔ مشاعرے میں شعر سنانے کا معاملہ بالکل اُلٹ رہا۔ سیدھے سادے، معتقد حاضرین میِرو غالب لگنے لگے۔ لیکن یہ بہت بعد کی بات ہے۔ پہلے پہل تو یہ ہوتا کہ ذرا ہوا چلی اور بادبانِ طبعِ رسا کھُلے۔ پھر جو دل میں آتا کاغذ پہ اُتر آتا اور کاغذ پاپا کی میز پر پہنچ جاتا۔ وہ مسکراتے اور رسماَ حوصلہ افزائی کے کچھ کلمات کہہ دیتے جنہیں میں شاباش سمجھتا۔ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ برخوادار سنجیدہ ہوتا جا رہا ہے تو وہ بھی سنجیدہ ہو گئے۔

پاپا داد دینے کے معاملے میں بہت فیاض تھے۔ کالجوں کے مشاعروں میں صدارت/منصفی کرتے ہوئے جب اُنہیں کسی طالب علم کا کوئی شعر پسند آجاتا تو اپنی تقریر میں اُس کا نام لے کر تعریف کرتے اور بعض اوقات کچھ نقد انعام بھی دیتے۔ بعد میں وہ شعر اپنے دوستوں کو بھی سناتے۔ لیکن اُن کی داد وتحسین کا دوسرا رُخ شیخ صلاح الدین نے اپنی کتاب ناصِر کاظمی: ایک دھیان میں بیان کیا ہے:

’’۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ناصِر کی محفل میں ایک نوجوان بیٹھا کرتا تھاجو ناصِر کی شاعری کا بہت بڑا مداح تھا اور اُس کا بہت احترام کرتا تھا۔ وہ بہت ہی شریف انسان تھا۔ اُن کو شعر کہنے کا لپکا تھا۔ اِدھر اُنہوں نے کسی کی غزل سنی اور اُن کو بھلی لگی تو اُسی زمین میں اگلے دن غزل کہہ لیتے اور سنانے کے لیے چلے آتے اور اِس طرح سناتے جیسے بہت بڑا تیر مارا ہو۔۔۔۔۔۔ میری رائے یہ تھی کہ شاعری اُن کے بس کا روگ نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بات یہ تھی کہ اُن کا تخیلی ہاضمہ بہت ہی کمزور تھا اور اُن پر کوئی ننھا منا سا شاعرچھا سکتا تھااور وہ بھرپور ہو جاتے تھے اور بہہ نکلتے تھے۔ وہ کسی تاثر، خیال، جذبے، آہنگ کی پرورش کرنا نہ جانتے تھے اور اُس میں روح پڑنے سے پہلے ہی بطن سے اُگل دیتے تھے۔ لہذا اُن کے یہاں ہر خیال، جذبہ اور آہنگ مردہ ہی پیدا ہوتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے اشخاص سے ناصِر بہت ہی خوبصورت جھوٹ بولنے کا قائل تھا جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ایسے اشخاص اپنی خود فریبی سے سیر ہو جاتے اور فن اور شاعری سے کنارہ کش ہو جاتے اور کسی دوسری قسم کی زندگی جس کے لیے وہ اہل ہوتے، اُس زندگی میں مصروف ہو جاتے۔‘‘

مجھے بچپن میں مصوری کا بھی بہت شوق تھا۔ سکول میں آٹھویں جماعت تک ڈرائینگ باقاعدہ مضمون کے طور پر سیکھی۔ بیسیوں تصویریں بنائیں۔ اگرچہ ان پر بہت شاباش بھی ملی، خاص طور سے ٹیپو سلطان کی رنگین پورٹریٹ اور قائدِ اعظم اور چرچل کے پنسل سکیچوں پر، لیکن ان میں جو کمی تھی وہ بھی صاف نظر آتی تھی۔

میرے ننھیال منٹگمری (ساہیوال) میں تھے۔ ایک بار جب حسبِ معمول چھٹیوں میں منٹگمری گئے تو میں اپنے ماموں نجم الحسن کی ڈرائنگ کے کچھ نمونے دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ ایک پنسل سکیچ تو قابلِ دید ہی نہیں، ناقابلِ فراموش بھی تھا۔ ایک لڑکی کی تصویر تھی جس کی نگاہیں کسی کی کوتاہیِ قسمت سے مژگاں ہو گئیں تھیں اور جس کی زلفِ گرہ گیر پہ ایک تتلی بھنورے کی طرح بیٹھی تھی:

صبح وہ آفت اٹھ بیٹھا تھا تم نے نہ دیکھا صد افسوس

کیا کیا فتنے سر جوڑے پلکوں کے سائے سائے گئے

ہزار کوشش کی کہ اس طرح کی کوئی تصویر بنا سکوں لیکن ؎ ایں سعادت بزورِ بازو نیست۔ شکلِ خیالی کی کوئی نقل ایسی نہ بن سکی جو میرِ مصوری کو دکھا سکتا۔ عقل نے کہا، ’یہ تیرا میدان نہیں، دخل در معقولات مت کر۔‘ سو کاغذ لپیٹا سامان سمیٹا اور مصوری کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہا۔ اگرچہ شعر کہنا شروع کر چکا تھا لیکن اُس وقت مجھے یہ خیال نہیں تھا کہ باقی عمر لفظوں سے تصویریں بناتے گذرے گی۔

شاعری کا آغاز یوں ہواتھا کہ ایک اتوار کو ریڈیو پر بچوں کے پروگرام میں ایک نظم سنی۔ اُسی زمین میں کچھ شعر لکھے گئے۔ پاپا نے دیکھے تو خوش ہوئے اور اگلی اتوار کو میں اُسی ریڈیو پروگرام میں اپنے اشعار سنا رہا تھا۔ میں اُس وقت چھٹی جماعت میں پڑھتا تھا۔

سجاد باقر رضوی صاحب کو میرے شعر کہنے کا علم ہوا تو کھِل اٹھے۔ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے کسی مصلحت یا اندیشے کے بغیر اِس سلسلے میں میری حوصلہ افزائی کی۔ مذکورہ نظم /غزل پر مجھے باقاعدہ انعام دیا۔ ایک شعر پر تو بہت ہی محظوظ ہوئے:

آپ سا بے وفا نہیں دیکھا

ہم نے طوطا اُڑا کے دیکھ لیا

باقر صاحب اورینٹل کالج میں استاد تھے۔ ساتھ لاء کالج اور اس کی دیوار کے دوسری طرف ہمارا سکول، سینٹ فرانسس ہائی سکول تھا۔ گرمیوں کی ایک دوپہر چھُٹی کے بعد میں اور میرا چھوٹا بھائی حسن بس سٹاپ کی طرف جا رہے تھے کہ باقر صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ وہ اصرار کر کے ہمیں اپنے کالج لے گئے۔ پہلے سیون اپ سے ہماری تواضع کی پھر ہمیں پروفیسر وقار عظیم کے کمرے میں لے گئے۔ہمارا تعارف کرایا اور ساتھ ہی مجھ سے اپنے شعر سنانے کو کہا۔ میں اس بات کے لیے قطعاَ تیار نہیں تھا۔ بہت کہا کہ وہ تو بچوں کے پروگرام کے لیے تھے، اور وہ تو کچھ بھی نہیں تھے، لیکن باقر صاحب کی فرمائش حکم میں تبدیل ہو گئی۔ میں نے کپکپاتی آواز میں جو چار پانچ اشعار تھے سنا دئیے۔ وقار صاحب شفقت سے مسکراتے رہے اور میرا حوصلہ بڑھاتے رہے۔

نویں جماعت میں پہنچ کر مجھے فیصلہ کرنا تھا کہ سائنس پڑھوں یا آرٹس۔ پاپا بہ تکرار کہتے کہ زمانہ سائنس کا ہے۔ چچا عنصر کی خواہش تھی کہ میں بی ایس ای انجینئرنگ کرتا، جبکہ باجی (ہم اپنی امی کو باجی کہتے ہیں) کا مدعا بس اتنا تھا کہ میں ’سیدھا سیدھا‘ ایم اے کروں ، پھر جو مرضی کروں۔ میرے نزدیک سائنس پڑھنے کا مطلب صرف ڈاکٹر یا انجینئر بننا تھا۔ اگرچہ فزیالوجی میرا پسندیدہ مضمون تھا لیکن ڈاکٹری میں جو ’خون خرابہ‘ اور’ چیر پھاڑ‘ ہوتی ہے، اس سے میری جان جاتی۔ انجینئرنگ میں کوئی ایسی بات تو نہ تھی جس سے میں بھاگتا لیکن کوئی ایسی بات بھی نظر نہ آتی جو اپنی طرف کھینچتی۔ سائنس دان بننے کا اگر ہمارے وطن میں کوئی تصور ہوتا تو میں ضرور یہ کوشش کرتا۔ سائنس سے میرے عشق کا یہ عالم تھا کہ آرٹس کے مضامین چُننے کے باوجود فزیالوجی کا بھی انتخاب کیا اور میرے جو دوست فزکس، کیمسٹری پڑھتے تھے ان کی کتابیں مستعار لے کر پڑھتا۔ میں نے اور حسن نے اپنے جیب خرچ سے پیسے بچا بچا کر گھر میں ایک چھوٹی سی لیبارٹری بنا لی۔ موجدوں کی زندگیوں اور ان کی ایجادات کے بارے میں کتابیں اکٹھی کیں۔ ’ Seven Inventors‘ جانے کتنی بار پڑھی۔ ذہن پر یہ بھوت سوار تھا کہ کچھ ایجاد کیا جائے، لیکن کیا؟ سب کچھ تو ایجاد ہو چکا تھا۔

آرٹس کا انتخاب یوں بھی آسان ہو گیا کہ اُ ن دنوں سی ایس پی افسروں کی بڑی دھاک تھی۔ پھر پاپا کے کچھ افسر دوستوں کا ہمارے ہاں آنا جانا تھا۔ مجھے اُن کی زندگی بہت اچھی لگتی۔ جینے کے لیے درکار سہولتوں کے ساتھ ساتھ انہیں شعروادب کے لیے بھی وقت میسر تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ سی ایس پی بننا بہت مشکل ہے کیونکہ بہت مقابلہ ہوتا ہے، لیکن کچھ یہ بھی کہتے کہ یہ کوئی اتنا مشکل بھی نہیں کیونکہ اس کے لیے کسی خاص علم، کسی شعبے میں مہارت درکار نہیں ہوتی۔ بس ہر چیز کے بارے میں تھوڑا تھوڑا ، اوپرا سا علم کافی ہے، وہ بھی امتحان کے دن تک۔ بعد میں چاہے وہ بھی پاس نہ رہے۔ اصل کام تو ماتحتوں نے کرنا ہوتا ہے۔ آپ کوصرف کام کرنے یا نہ کرنے کا حکم دینا ہوتا ہے۔ ’’کیا بات ہے!‘‘ میں سوچتا۔

سکول میں یہ میرا آخری سال تھا جب ٹیلیویژن پر نوجوانوں کے لیے شعروادب کا ایک پروگرام شروع ہوا۔ میں نے بیت بازی کے دو تین پروگراموں میں حصہ لیا اور ایک پروگرام میں اپنی نظم نما غزل سنائی۔ ع دُور سایا سا سا ہے کیا پھولوں میں۔ اس کے بیشتر اشعار پاپا کی اصلاح سے کسی قابل ہوئے۔ اس سے اگلے برس جب میں گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوا تو یہ غزل ’راوی‘ میں چھپی جو ایک اعزاز تھا۔ کالج میں شعرکہنے کے شوق کو گویا پر لگ گئے۔ ’مجلسِ اقبال‘ کے اجلاس بہت بھرپور ہوتے تھے اور ان میں اپنی تخلیقات پیش کرنا بہت بڑا اعزاز تھا۔ بین الکلیاتی مشاعروں میں شرکت کے لیے کالج کی ٹیمیں ملک بھر کے کالجوں میں بھیجی جاتی تھیں۔ ٹرافیاں، تمغے ایک طرف، مفت کی سیر الگ۔ سو میرا شعر کہنا جاری رہا اور پاپا اس لیے اصلاح اور حوصلہ افزائی کرتے رہے کہ یہ تخلیقی عمل میری نشوو نما میں ممد ثابت ہو گا۔ لیکن وہ میری اصل ترقی تعلیمی میدان میں دیکھنا چاہتے تھے۔

پاپا کو شاذ ہی کوئی شعر پسند آتا۔ جو غزل میں انہیں دکھاتا، اصلاح کے بعد اس میں باقی کچھ نہ بچتا۔ بے وزن اشعار اور خاص طور سے تلفظ کی غلطیوں پر بہت ڈانٹ پڑتی۔ ’’یہ لفظ ایسے نہیں باندھا جا سکتا،‘‘ وہ کہتے اور پھر اساتذہ کے کلام سے مثالیں دیتے جو میں اپنی ڈائری میں نوٹ کرتا۔ اشعار کی باریکیوں پر اتنی تفصیلی گفتگو کرتے کہ ہیرا تراشنے کا عمل بہت آسان دکھائی دیتا۔ مختلف شعراء کی کتابیں کھُلتیں اور کئی بار آدھی رات ہو جاتی۔ باجی آ کے یاد دلاتیں کہ اِسے صبح کالج بھی جانا ہے۔ پاپا مزید برہم ہو جاتے کہ اپنا وقت بھی برباد کرتا ہے اور میرا بھی۔ کبھی کبھار میرے کسی مصرع کو پسندیدگی کا نشان نصیب ہوتا اور اگر کوئی پورے کا پورا شعر اس کا مستحق قرار پاتا تو یہ ایک واقعہ ہوتا۔ پھر پاپاسب کچھ بھول جاتے اور باجی کو بھی بلا لیتے اور کہتے، ’’آخر میرا بیٹا ہے نا!‘‘ باجی خوش تو ہوتیں لیکن بھرپور کوشش کرتیں کہ اُن کی خوشی ظاہر نہ ہونے پائے۔ کہا کرتیں کہ گھر میں ایک شاعر بہت ہے۔ اگلے ہی لمحے پاپا حقیقت کی دنیا میں واپس آجاتے اور لاڈ سے کہتے، ’’بھاگ جا، اپنی پڑھائی پر توجہ دے۔ یہ راستہ خوشی تو دیتا ہے لیکن بے شمار دُکھ دینے کے بعد۔‘‘ اُس دور کی چند ڈائریاں میرے پاس اب بھی محفوظ ہیں اور میری زندگی کا قیمتی ترین سرمایہ وہ اشعار /مصرعے ہیں جن پر پاپا نے پسندیدگی کے نشان لگائے تھے۔ میں انہیں یہاں نقل کرنا چاہوں گا کہ انہیں کے سہارے میری یہ کتاب آپ تک پہنچ رہی ہے۔

ع ہوا چلی اور خوب چلی پھر

ع میں تری رات کا دیا ہوتا

ع وہی ننھے ننھے پودے تھے گھنے درخت کل کے

………

میں یاد کرتا ہوں تجھ کو جو آج کل اتنا

سبب یہ ہے کہ مجھے اور کوئی کام نہیں

………

جیسے کوئی پکار رہا ہو کہیں مجھے

یہ آدھی رات کس کی صدا یاد آگئی

………

تازہ تھا زخمِ ہجر تو تدبیر کچھ نہ کی

اب لاعلاج ہے تو دوا یاد آگئی

………

آوازِ رفتگاں مجھے لاتی ہے اِس طرف

یہ راستہ اگرچہ مری رہ گزر نہیں

………

اِس چمن کو بنانے والے نے

کیا بنایا تھا بن گیا کیا ہے

………

بعد موت کے روح ہماری

دنیا کو کیا پاتی ہو گی

………

سنو کہ آج تمہیں یاد کے دریچوں سے

صدائے رفتہ نے اک بار پھر پکارا ہے

………

آؤ کہ گِن سکوں گا نہ شامیں فراق کی

یہ انگلیاں تو ختم ہوئیں سب حساب میں

(یہ غزل پاپا کی وفات کے بعد مکمل ہوئی)

اِن کے علاوہ جو اشعار ’ابتدائی کلام‘ کے زیرِ عنوان شائع کیے جا رہے ہیں، پاپا کو جزوی طور پر ٹھیک لگے اور ان کی اصلاح سے بہتر ہو گئے۔

۔۲ ۔

پاپا کی وفات کے بعد میری ترجیحات یکسر بدل گئیں۔ اُن کی زندگی میں صرف برگِ نے شائع ہوئی تھی۔ دیوان، پہلی بارش، نشاطِ خواب، سُر کی چھایا، خشک چشمے کے کنارے، اُن کی ڈائریاں اور کلاسیکی شعراء کے انتخاب، سب شائع ہونا باقی تھے۔ دیوان، اورپہلی بارشکے سوا ساری کتابوں کے مسودے تیار ہونا تھے۔ ریڈیو فیچر، رسالوں کے ادارئیے، مضامین وغیرہ کا حصول اور ترتیب کافی وقت طلب کام تھا۔ ہر اتوار (ہفتہ وار تعطیل) کو ہمارے ہاں پاپا کے دوست آتے، خاص طور سے شیخ صلاح الدین، انتظار حسین، احمد مشتاق، سجاد باقر رضوی، افتخار شبیر، صلاح الدین محمود، ریاض انور اور محبوب خزاں۔ اِس طرح جو ماحول بنتا اور جو باتیں ہوتیں ان کے نتیجے میں ہمارا وقت گویا پاپا کی قربت میں گذرتا۔ اُن کی جدائی تخلیقی قوت میں تبدیل ہوتی گئی۔ شعر کہنے پر بھی طبیعت مائل ہوتی اور کچھ مختلف راہوں کی جستجو بھی رہتی۔ کتابیں پڑھنے کو تو بہت جی چاہتا لیکن غیر نصابی کتابیں۔ ذریعہء معاش کے بارے میں سوچتا تو ہر پیشہ کُل وقتی یکسوئی مانگتا نظر آتا۔ صرف کالج میں پڑھانا ہی ایسا کام لگتا جس میں کچھ فرصت میسر آسکتی تھی۔ افسری کا خیال تو دل سے کچھ یوں بھی نکل گیا کہ جن افسروں پر کبھی رشک آتا تھا اب اُن کی مجبوریاں دیکھ کے اُن پہ ترس آتا۔ گورنمنٹ کالج سٹوڈنٹس یونین کا سیکرٹری منتخب ہو جانے کے باعث اِن افسروں کے افسروں سے بھی ملاقاتیں رہنے لگیں۔ ان میں گو رنر اور وزراء سے لے کر صدرِ مملکت تک شامل تھے۔ رفتہ رفتہ اِن ’اعلی حکام‘ کی چکا چوند بھی ماند پڑتی گئی۔ پتہ چلا کہ آپ اپنے ارد گرد تبدیلی لانے کے لیے عہدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن جب عہدہ مل جاتا ہے تو وہ اُلٹا آپ کو تبدیل کر دیتا ہے۔ اب تبدیلی کی خواہش دوسروں کا دردِ سر ہوتی ہے۔ آپ تو ہر چیز کو اُسی طرح قائم و دائم دیکھنا چاہتے ہیں جیسی وہ ہے کیونکہ عہدہ آپ کو اسی لیے ملا ہوتا ہے۔

میرا سیکرٹری کا انتخاب پاپا کے انتقال سے ڈھائی ہفتے قبل ہوا۔ مجھے انتخابی مہم میں مصروف دیکھ کے وہ بہت سیخ پا ہوتے۔ ایک بار تو باقاعدہ میری پٹائی کر دی اور حسن سے کہا کہ کل سے اس کے خلاف مہم چلاؤ۔ اُن کی دوسری تشویش یہ تھی میں وقت تو ضائع کر ہی رہا تھا، ’بے عزتی‘ بھی کرواؤں گا۔ جب انہوں نے دیکھا کہ میں اپنی ’ہٹ دھرمی‘ سے باز آنے والا نہیں تو اُن کی خواہش یہ ہوتی کہ میں باعزت طریقے سے ہار جاؤں اور اِس طرح اپنی ’بھڑاس‘ نکال لینے کے بعد پڑھائی کی طرف متوجہ ہو جاؤں۔

۔ ۳ ۔

کالج میں پڑھانا اچھا تو بہت لگا لیکن کچھ خوش فہمیاں شروع ہی میں دُور ہو گئیں۔ فرصت واقعی ملتی لیکن اس کا کچھ حصہ تو ویسے ہی اِدھر اُدھر ضائع ہو جاتا اور کچھ اُن دفتروں کے چکروں میں صرف ہو جاتا جن سے بچنا چاہا تھا۔ اِن دفتروں میں حاضری سے صرف وہی لوگ مستثنیٰ ہوتے ہیں جو یہاں کام کرتے ہیں۔ میرے خیر خواہ مقابلے کا امتحان دینے لیے مجھ پر دباؤ ڈالتے رہے۔ ایک نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ’’اگر اِس بُت پرست معاشرے میں عزت کی زندگی گذارنی ہے تو امتحان پاس کر لے:

وہ ایک سجدہ جسے توُ گراں سمجھتا ہے

ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات‘‘

دوسرا انکشاف یہ ہوا کہ اگر آپ کو وقتِ مقررہ پر کسی خاص جگہ پہنچنا ہو، تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی، تو سمجھیں کہ وہ سارا دن ہی گیا۔ انسان مخلوق بھی ہے اور خالق بھی۔ بحیثیت مخلوق اِس کے لیے حدیں ضروری ہیں لیکن تخلیق کے لیے اِسے بھی ایک لامکاں چاہیے۔ شاہینِ تخیل کے شہپر کھُلتے ہی تب ہیں جب وہ چار سُو سے بے نیاز ہواور اس کی پرواز شام و سحر کی بھی پابند نہیں ہوتی۔

جبر و اختیار کی کشمکش ازل سے جاری ہے۔ کچھ کرنے کے لیے کچھ اور کرنا پڑتا ہے اور کچھ اور کرنے کے لیے کچھ اور۔ زندگی عموماَ کچھ اور کرنے میں گذر جاتی ہے، کچھ کرنے کی توفیق کم کم ہی ملتی ہے اور وہ بھی کسی کسی کو۔

۔۴۔

ستمبرئ1990 مجھے برطانیہ لے آیا۔ یہاں ’عالمی‘ مشاعروں میں شرکت کی۔ پاپا کی وجہ سے اور کچھ دوستوں کی بدولت بہت عزت ملی۔ معروف تھیٹروں میں ڈرامے دیکھے۔ پھر اللہ نے یہ سبب بھی بنایا کہ انہی تھیٹروں میں میرے ڈرامے سٹیج ہوئے۔ اور جب مجھے خیال آنے لگا کہ اب میں صرف ڈرامے لکھا کروں گا، شعر کبھی کبھار ہوا کریں گے، میری شاعری کا ایک نیا دور شروع ہوا جو اب شاید غزل تک محدود نہ رہے، اگرچہ غزل اپنی جگہ ایک لامحدود صنفِ سخن ہے۔

۔ ۵ ۔

دیباچے اِس لیے لکھے جاتے ہیں کہ وہ کتابیں شائع ہو رہی ہوتی ہیں جن کے وہ دیباچے ہونا ہوتے ہیں۔ یہ کتاب اِس لیے شائع کی جارہی ہے کہ اِس کے بغیر یہ دیباچہ شائع نہیں ہو سکتا تھا جو لکھا جا رہا ہے۔

عزیز قارئین! آپ سے جو باتیں کرنا تھیں وہ سب ہو گئیں۔ سنانے والے اشعار بھی میں سنا چکا۔ اب آ پ بے شک اِس کتاب کو یہیں بند کر دیں۔ کم از کم اتنا ضرور کریں کہ یہ جو غزلیں اگلے صفحے سے شروع ہو رہی ہیں اِن کا مطالعہ کسی اگلی نشست تک ملتوی کر دیں۔ پھر شاید آپ انہیں بھول ہی جائیں یا کوئی آپ سے یہ کتاب عاریتاَ لے جائے، یا اگر آپ خود یہ کسی سے مانگ کر لائے ہیں تو وہ اِسے واپس لینے آجائے (یعنی ممکن ہے وہ کوئی نومشق شاعر ہو کیونکہ عام طور سے کہنہ مشق شاعر دوسروں کی تو کیا اپنی شاعری بھی نہیں پڑھتے)۔ ایسی صورت میں آپ اُسے یہ نہ کہیں کہ آپ نے یہ کتاب پوری نہیں پڑھی اور اِسے مزید کچھ عرصہ اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں۔ اُس کی امانت اُسے فوراَ لوٹا دیں ۔۔۔ اور میری طرف سے یہ شعر سنا دیں:

اے میرؔ شعر کہنا کیا ہے کمالِ انساں

یہ بھی خیال سا کچھ خاطر میں آ گیا ہے

باصِر سلطان کاظمی

10مارچ 1997

باصر کاظمی