زمرہ جات کے محفوظات: اذیت

افتخار فلک کا مجموعۂ کلام اذیت

دشت دشت گھومیے آبلے شکاریے

استخارہ کیجیے راستے شکاریے
دشت دشت گھومیے آبلے شکاریے
دل پہ حکمرانی کا ایک ہی طریقہ ہے
مسکرا کے ماریے، مار کے شکاریے
روک ٹوک ہوتی ہے، روک ٹوک چھوڑیے
ہونٹ کاٹ کھائیے، ذائقے شکاریے
احترام کاہے کا، احتیاط کس لیے؟
خودغرض خداؤں کو ہانکیے، شکاریے
جانے کتنے سال سے منتظر ہوں باخدا
ہاتھ پاؤں باندھیے، آئیے شکاریے!!
کوئی فائدہ نہیں حجتی! لڑائی کا
بحث کو سمیٹیے! فاصلے شکاریے
افتخار فلک

صاحب! نوادرات کی شکلیں دکھائیے

ملبے سے جو ملی ہیں وہ لاشیں دکھائیے!
صاحب! نوادرات کی شکلیں دکھائیے!
ہم لوگ بےبصر ہیں مگر بدنظر نہیں
عینک اتاریے! ہمیں آنکھیں دکھائیے!
دنیا کما کے سو گئے جو بےچراغ لوگ
ان کو مرا خیال ہے قبریں دکھائیے!
جو دیکھنے سے باز نہیں آ رہے انھیں
محشر کے دن کی آخری قسطیں دکھائیے!
میں ہوں فلک غلامِ علیؐ یاعلیؐ مدد
مجھ کو مرے امام! سبیلیں دکھائیے!
افتخار فلک

سُخن کی ہندہ ، مِرا کلیجا چبا رہی ہے

نئی روایت کا ناک نقشہ بنا رہی ہے
سُخن کی ہندہ ، مِرا کلیجا چبا رہی ہے
شجر پہ بیٹھے ہوئے پرندے اُڑا رہی ہے
ہوا درختوں کو ناچ گانا سِکھا رہی ہے
بڑے بزرگوں سے سُن رکھا ہے زمین زادی
مسافرانِ عدم کی حیرت بڑھا رہی ہے
ہماری قبروں پہ رونے والا کوئی نہیں ہے
ہماری قبروں کو دھوپ تکیہ بنا رہی ہے
سفید جوڑے میں سج سنور کر وہ شاہ زادی
خدائے حُسن و جمال کا دل لُبھا رہی ہے
زمیں خموشی سے چل رہی ہے فلکؔ اُٹھائے
مگر یہ ہجرت قدم قدم پر رُلا رہی ہے
افتخار فلک

ہوا، آنکھیں دِکھانے آ گئی ہے

ہرے پیڑوں کو ڈھانے آ گئی ہے
ہوا، آنکھیں دِکھانے آ گئی ہے
یہ کیسی عارفانہ موت آئی
زمیں چادر چڑھانے آ گئی ہے
پرندے، بن سنور کر جا رہے ہیں
یہ دنیا کس دہانے آ گئی ہے
نمازِ حق ادا کرتے ہیں ، آؤ!
اذاں ہم کو بُلانے آ گئی ہے
محبت اِستخارہ کر چُکی جب
ہمیں کیوں آزمانے آ گئی ہے؟
جنابِ من! اُٹھیں اور اُٹھ کے دیکھیں
شبِ ہجراں رُلانے آ گئی ہے
رِدائے میرؔ اُوڑھے سو گئے کیا؟
غزل تم کو جگانے آ گئی ہے
افتخار فلک

زندگی دشواریوں میں محو ہے

موت کی تیاریوں میں محو ہے
زندگی دشواریوں میں محو ہے
بچنا بیلوں کا بہت مشکل ہے اب
لومڑی مکاریوں میں محو ہے
کیا بنے گا میرے پاکستان کا
ہر کوئی غداریوں میں محو ہے
بےغرض بےکار بیٹھا ہے یہاں
خود نما خودداریوں میں محو ہے
قصر ڈھایا جا چکا لیکن ابھی
بارشہ درباریوں میں محو ہے
مر گیا تو کیا ہوا مرنا ہی تھا!
کون آہ و زاریوں میں محو ہے؟؟
سُن! زمیں کرب و بلا بننے لگی
اور تو دلداریوں میں محو ہے!!
یا خدا ! چشمِ نفس کو کیا ہوا؟
کھڑکیوں الماریوں میں محو ہے
چھوڑ دے پیچھا فلک کا ، وہ اگر
عورتوں بےچاریوں میں محو ہے،
افتخار فلک

یہاں جتنی سہولت ہے اذیّت ہے

انا زادوں سے نسبت ہے، اذیّت ہے
یہاں جتنی سہولت ہے اذیّت ہے
خردمندی اِسی میں ہے اُٹھا لے جا
تجھے میری ضرورت ہے اذیّت ہے
ترے پیچھے چلے جانا چلے آنا
بڑی کافر طبیعت ہے اذیّت ہے
بلا کا بدگُماں ہے وہ، مگر پھر بھی
مجھے اُس سے محبّت ہے اذیّت ہے
اُٹھا کر پھینک دے ساری کتابوں کو
اگر اُن میں نصیحت ہے ، اذیّت ہے
ابھی باہر پڑا رہنے دے سردی میں
ابھی مجھ میں تمازت ہے اذیّت ہے
فلک تجھ سے کہا تھا نا! محبّت میں
اذیّت ہے ۔ اذیّت ہے ۔ اذیّت ہے
افتخار فلک

مرے قد کو گھٹایا جا رہا ہے

مجھے شیشہ دِکھایا جا رہا ہے
مرے قد کو گھٹایا جا رہا ہے
مرا ویران مے خانہ گِرا کر
مجھے مسجد میں لایا جا رہا ہے
میں باغی ہو گیا ہوں اس لیے بھی
مجھے پارا پِلایا جا رہا ہے
نہ جانے کس خوشی میں شہر کے سب
ملنگوں کو نچایا جا رہا ہے
بتا اے جوتشی! کس کس حسیں کو
مرے پیچھے لگایا جا رہا ہے
یہ کیسا فائدہ ہے جس کی خاطر
ہمیں خود سے لڑایا جا رہا ہے
چراغاں کا بہانہ کر کے یارو!
مرے گھر کو جلایا جا رہا ہے
افتخار فلک

چِراغِ شب طمانچے کھا رہا ہے

ہوا نے سانحہ روکا ہوا ہے
چِراغِ شب طمانچے کھا رہا ہے
جسے میں یاد کر کے رو رہا ہوں
اُسے تیرا خدا بھی جانتا ہے
محبت انتقاماً مر گئی کیوں؟
دعاے مغفرت کی اِلتجا ہے
کوئی ظلِّ الٰہی کو بتائے
عدو، ملکہ کا دیوانہ ہوا ہے
نمازیں پڑھنے والوں کا رویّہ
محلّے کی مساجد میں پڑا ہے
فلکؔ زادوں کی نیندیں اُڑ رہی ہیں
مرے ہاتھوں میں سورج آ گیا ہے
افتخار فلک

اور عقل و آگہی پہ بار ہے

عشق رنگ و نور کا مینار ہے
اور عقل و آگہی پہ بار ہے
وصل تکمیلِ فغاں ہے دوستاں!
ہجر رقصِ نیزہ و تلوار ہے
آنکھ پردوں میں چھُپا قاتل کوئی
دل حریصِ بارگاہِ یار ہے
شور کا شر کھولتا گہرا کنواں
چپ دعاے بخت کا اظہار ہے
رات تہذیبِ نظر کی کافری
دن کہیں لیٹا ہوا بیمار ہے
جسم کاغذ پر لکھا حرفِ غلط
رُوح کوئی خارجی کردار ہے
زندگی سرسبز پیڑوں کی دھمال
موت سورج کے گلے کا ہار ہے
جیت جشنِ دل فریبی ہے فلکؔ!
ہار لوحِ تربتِ اغیار ہے
افتخار فلک

مرے کمرے میں گہری خامشی ہے

فضائے جان و دل بہتر ہوئی ہے
مرے کمرے میں گہری خامشی ہے
بہت سادہ، بہت معصوم ہے وہ
اسے میری محبت جانتی ہے
مرے پاؤں ہری شاخوں سے باندھو
مری آنکھوں نے دنیا دیکھ لی ہے
چراغوں کی صفیں سیدھی کراؤ
اندھیری شب ابھی سو کر اٹھی ہے
کسی طوفان کی آمد ہے پیارے
مجھے میری چھٹی حس کہہ رہی ہے
قد و قامت قیامت ہے سنا ہے
مجھے ملنے کی جلدی ہو رہی ہے
خدا، عورت، کتابیں گھر پرندے
مری پانچوں سے گہری دوستی ہے
افتخار فلک

جہاں ، جہاں ، جہاں کھُلا، صراطِ مُستقیم سے

خدائے مہرباں کھُلا صراطِ مُستقیم سے
جہاں ، جہاں ، جہاں کھُلا، صراطِ مُستقیم سے
میں چل پڑا تو حد ہوئی، ہر اک جگہ مدد ہوئی
قدیم آسماں کھُلا صراطِ مُستقیم سے
نظر کی پیش گوئیاں ہیں آج بھی عُروج پر
عُروج، جاں بہ جاں کھُلا صراطِ مُستقیم سے
ترا حُصول انتہائے معرفت ہے یا خدا!
فرازِ کُن فکاں کھُلا، صراطِ مُستقیم سے
بسر کیا گیا یہاں حیاتِ بے ثبات کو
ثبات بعد ازاں کھُلا صراطِ مُستقیم سے
بُتوں کو چھوڑنا پڑا، مجھے یہ کھولنا پڑا
خدائے دِلبراں کھُلا صراطِ مُستقیم سے
افتخار فلک

مُسکرا کر ہمیں مِلا کیجے

آپ برہم نہ یوں ہوا کیجے
مُسکرا کر ہمیں مِلا کیجے
خوب صورت اگر دِکھائی دیں
ہم پہ پتھّر اُٹھا لیا کیجے
حُسن حیرت کا پیش خیمہ ہے
اِس عقیدے پہ سر دُھنا کیجے
ہم تکلّف کو بھول جاتے ہیں
آپ بھی دل ذرا بڑا کیجے
یہ ہے دنیا یہاں شکاری ہیں
اپنے اندر ہی اب اُڑا کیجے
سب درختوں پہ بُور آنے لگے
یار! ایسی کوئی دُعا کیجے
بات کرنا اگر نہیں آتا
خامشی کو ہرا بھرا کیجے
افتخار فلک

چور عہدِ سامری کے جل پری تک آ گئے

روشنی کی ڈور تھامے زندگی تک آ گئے
چور عہدِ سامری کے جل پری تک آ گئے
واعظانِ خوش ہوس کی جِھڑکیاں سُنتے ہوئے
لاشعوری طور پر ہم سرخوشی تک آ گئے
ڈھول پیٹا جا رہا تھا اور خالی پیٹ ہم
ہنستے گاتے تھاپ سنتے ڈھولچی تک آ گئے
واہموں کی ناتمامی کا علاقہ چھوڑ کر
کچھ پرندے ہاتھ باندھے سبزگی تک آ گئے
بھائی بہنوں کی محبت کا نشہ مت پوچھیے
بےتکلّف ہو گئے تو گُدگُدی تک آ گئے
چاکِ تُہمت پر گُھمایا جا رہا تھا عشق کو
جب ہمارے اشک خوابِ خودکُشی تک آ گئے
گالیاں بکنے لگے ، غُصّے ہوئے ، لڑنے لگے
رقص کرتے کرتے ہم بھی خودسری تک آ گئے
اے حسیں لڑکی! تمھارے حُسن کے لذّت پرست
کافری سے سر بچا کر شاعری تک آ گئے
افتخار فلک

فرازِ آدمیّت کا ستارا ہاتھ لگ جائے

لگے ہاتھوں خدائی استعارہ ہاتھ لگ جائے
فرازِ آدمیّت کا ستارا ہاتھ لگ جائے
کئی عشّاق پیڑوں کی طبیعت صاف ہو جائے
پرندوں کے پروں کو گر ہمارا ہاتھ لگ جائے
مجھے کوزہ گری کا فن ودیعت ہو رہا ہو جب
دعا کیجے اُسی لمحے یہ گارا ہاتھ لگ جائے
غزل سے نعت کی جانب سفر آسان ہو جائے
وِلائے پنج تن کا گر سہارا ہاتھ لگ جائے
میں اک دم شاد ہو جاؤں نویدِ زندگی پاؤں
مجھے قسمت سے گر جاناں تمہارا ہاتھ لگ جائے
فلکؔ محجور ہونے تک حریمِ ناز کا نقشہ
مرے اک اک حواری کے دوبارہ ہاتھ لگ جائے
افتخار فلک

اے مرے رہ نما! پِلا پانی

آج تو زہر بھی لگا پانی
اے مرے رہ نما! پِلا پانی
گھر کے دالان سے گزرتے ہوئے
عکس اپنا گِرا گیا پانی
اب مرے چار سُو پرندے ہیں
آنکھ سے اِس قدر بہا پانی
جب کسی پیڑ نے دُہائی دی
دشت نے چیخ کر کہا، پانی!
ہاں مری آخری ضرورت ہے
ٹھنڈا، میٹھا، ہرا بھرا پانی
اب کوئی معجزہ نہیں ہو گا
کرتبی! شوق سے بنا پانی
خیمۂ تشنگی میں بچّوں کو
دور سے دیکھتا رہا، پانی
افتخار فلک

جڑیں کاٹتے ہیں وبال آسمانی

تہِ خاک خواب و خیال آسمانی
جڑیں کاٹتے ہیں وبال آسمانی
مرے من پہ طاری مرے تن پہ جاری
محبت زمینی، دھمال آسمانی
ہمیں گرمئ روز و شب سے بچا لے
زمیں پر بچھا! برشگال آسمانی
پریشان ہو کر نہ دیکھو مجھے تم
نہیں دے رہا میں مثال آسمانی
زمیں بوس ہونے کو تیار ہوں میں
کہاں تک چلے گا تو چال آسمانی؟
قدم ڈولنے تک خبرگیر لمحے
مرے دل سے کانٹا نکال آسمانی!
شبِ قدر کے قدرداں جانتے ہیں
فلک تیرا جاہ و جلال آسمانی
افتخار فلک

زہر کیسا لگا، ہو چکی خودکشی

اے زمانے بتا، کیا ہوئی خودکشی
زہر کیسا لگا، ہو چکی خودکشی؟
سُرخروئی کے درجے کو پہنچی ہوئی
ہائے! ہائے! مری آخری خودکشی
ایک بھی کام دل سے نہیں ہو سکا
زندگی، شاعری، کافری، خودکشی
بھوک نے چاٹ لی وقفۂ شور میں
برتنوں میں سجائی گئی خودکشی
چار بچّوں کی ماں کیا کرے گی، جسے
کم سِنی میں ملی کاغذی خودکشی
سارہؔ، ثروتؔ، شکیبؔ اور میرے لیے
لا کوئی مدھ بھری مذہبی خودکشی
عشق نے جو کیا حال، مت پوچھیے
کر گئے ہوش میں شیخ جی خودکشی
روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں
روز کرتا ہوں میں داخلی خودکشی
پیڑ، پودے فلکؔ چیخنے لگ گئے
سب پرندوں نے جب سوچ لی خودکشی
افتخار فلک

صاحبا! خاک نشینوں کو فراغت کیسی

کربلا نقش ہے سینوں میں ، اذیّت کیسی
صاحبا! خاک نشینوں کو فراغت کیسی
میں نہ یوسفؑ نہ مسیحائی کے فن میں یکتا
پھر یہ کم بخت مرے نام کی شہرت کیسی؟
میرؔ سے، جونؔ سے نسبت کا اثر ہے صاحب!
میں اگر شعر سناتا ہوں تو حیرت کیسی؟
اِس سے صحرا کی جلالت میں کمی آتی ہے
ساتھ لائے ہو مرے یار یہ وحشت کیسی؟
مذہبِ حُسن و محبت کے شفا خانوں پر
مے کشو! جام اُٹھانے کی اجازت کیسی؟
میں فلکؔ زاد، بلا نوش تری مرضی پر
آسماں چھوڑ کے آتا ہوں تو عجلت کیسی؟
افتخار فلک

جب گونگے اشجار ٹھکانے لگتے ہیں

اسرار و آثار ٹھکانے لگتے ہیں
جب گونگے اشجار ٹھکانے لگتے ہیں
دیواروں کو خواب سنانے والے لوگ
آنکھوں کے اُس پار ٹھکانے لگتے ہیں
آزادی آسان کہاں ہے پہلے تو
لاشوں کے انبار ٹھکانے لگتے ہیں
ہائے محبت! تیری خاطر جیتے جی
کیسے کیسے یار ٹھکانے لگتے ہیں
لوگ تامّل میں مر جاتے ہیں لیکن
ھم ایسے بےکار ٹھکانے لگتے ہیں
افتخار فلک

یعنی روشن مزید ہوتے ہیں

آگ سے مُستفید ہوتے ہیں
یعنی روشن مزید ہوتے ہیں
سب روایت سے دُھل کے آتے ہیں
شعر جتنے جدید ہوتے ہیں
کیا یہ کم ہے کہ عشق کرنے پر
منھ پہ تھپڑ رسید ہوتے ہیں
یار! غازی نہیں ہوا کرتے
عشق میں سب شہید ہوتے ہیں
آپ کو دیکھ کر جو ہکلائیں
آپ کے زٙر خرید ہوتے ہیں
شعر کہنے میں احتیاط میاں!
لوگ انور سدید ہوتے ہیں
ہم تڑپتے ہیں اور وہ ہنس ہنس کر
محوِ گُفت و شُنید ہوتے ہیں
دیں بچاتے ہیں بیچ دیتے ہیں
مولوی بھی یٙزید ہوتے ہیں
یہ جو فتوا لگا ہے کافر کا
ایسے فتوے مُفید ہوتے ہیں
کچھ تو ہوتے ہیں پکّے پکّے مرد
اور کچھ رن مُرید ہوتے ہیں
وقت بھرتا ہے دھیرے دھیرے انھیں
زخم جتنے شدید ہوتے ہیں
ایسی سوچوں سے دور رہتے ہیں
ذہن جن سے پلید ہوتے ہیں
افتخار فلک

ایسی غفلت نہیں کروں گا میں

خواب رُخصت نہیں کروں گا میں
ایسی غفلت نہیں کروں گا میں
مُردہ بھائی کا گوشت اُف اللّہ!
یار! غِیبت نہیں کروں گا میں
اچھّے لوگوں سے معذرت میری
اب سیاست نہیں کروں گا میں
جان دے دوں گا اے یزیدِ وقت!
تیری بیعت نہیں کروں گا میں
جلتے خِیموں کا ذکر کرتے ہوئے
غم تِلاوت نہیں کروں گا میں
بات کیسے بڑھے گی بگڑے گی؟
جب شکایت نہیں کروں گا میں
لوگ مارے گئے اگر میرے
پھر رعایت نہیں کروں گا میں
کام سارے کروں گا مرضی کے
بس! محبّت نہیں کروں گا میں
دل سے چاہے نکال دو مجھ کو
دل سے ہجرت نہیں کروں گا میں
تجھ پہ مرتا ہوں بات سچّی ہے
پھر بھی مِنّت نہیں کروں گا میں
اُس نے میرے وطن کو گالی دی
کیسے غیرت نہیں کروں گا میں!!
افتخار فلک

ہم جو ناچار خودکشی کرلیں

در و دیوار خودکشی کرلیں
ہم جو ناچار خودکشی کرلیں
پھر نہ کہنا مذاق تھا پیارے!
واقعی! یار! خودکشی کرلیں؟؟
کام کرنا ہی شرط ہے تو پھر
کیوں نہ اس بار خودکشی کرلیں!
جن چراغوں کو موت کا ڈر ہے
وہ سرِ دار خودکشی کرلیں
اس سے پہلے کہ سامعیں سوئیں
اہم کردار خودکشی کرلیں
جو ہیں ناداں وہ زندگی جھیلیں
اور سمجھدار خودکشی کرلیں
میں تو کہتا ہوں "جوش” کی مانیں
سب قلمکار خودکشی کرلیں
افتخار فلک

دشت میں عشق کی ہچکیاں رہ گئیں

قیس کے نام کی تختیاں رہ گئیں
دشت میں عشق کی ہچکیاں رہ گئیں
سب دکانوں پہ وحشت کی تجویز پر
تِیر، چاقو، تبر، برچھیاں رہ گئیں
میں میاں بخشؒ سے مل کے رویا بہت
میرے سینے میں کچھ عرضیاں رہ گئیں
روزِ اوّل سے میں خُوبرو تھا، مجھے
مصر میں ڈھونڈتی لڑکیاں رہ گئیں
فن قلندر بناتا رہا، مُرشدی!
عِلم کے ہاتھ میں ڈِگریاں رہ گئیں
خود پرستی کے متروک ابواب میں
تیرے قصّے، مری مستیاں رہ گئیں
کوئی بھی وقت پر گھر نہیں جا سکا
سب دھری کی دھری تیزیاں رہ گئیں
منہ پہ چیچک کے دانوں کی بہتات تھی
گھر میں محفوظ یوں بیٹیاں رہ گئیں
افتخار فلک

کہ کارِبےکار و بےقراری میں لگ گیا ہوں

حضور! شہرت کی آب کاری میں لگ گیا ہوں
کہ کارِبےکار و بےقراری میں لگ گیا ہوں
میں نفسیاتی ضیافتوں کا شکار ہو کر
ترے تقرب کی آب یاری میں لگ گیا ہوں
یہ دنیاداری مجھے گوارا نہیں پرندو
مرے مریدو! میں خاکساری میں لگ گیا ہوں
زمیں کی ساری غلیظ رسموں سے ہاتھ کرکے
زہے فراغت کہ شرمساری میں لگ گیا ہوں
غریب ہوتی ہوئی محبت مجھے منا لے
برائے حجت میں اشکباری میں لگ گیا ہوں
افتخار فلک

اپنے چاند ستاروں میں آ بیٹھا ہوں

کچھ آوارہ یاروں میں آ بیٹھا ہوں
اپنے چاند ستاروں میں آ بیٹھا ہوں
آتے جاتے دیکھ رہے ہیں لوگ مجھے
بےزاری! بازاروں میں آ بیٹھا ہوں
سیکھ رہا ہوں سارے گُر مکّاری کے
کچھ دن سے زر داروں میں آ بیٹھا ہوں
دِل کی کالک دھُل جائے گی لمحوں میں
مولاؑ کے حُب داروں میں آ بیٹھا ہوں
موت مری تصویر اُٹھائے پِھرتی ہے
جب سے میں بیماروں میں آ بیٹھا ہوں
میں جنگل میں رہنے والا سبز نظر
عُریانی کے غاروں میں آ بیٹھا ہوں
افتخار فلک

میں ست رنگی پھول بنانے والا ہوں

کوزہ گر کا ہاتھ بٹانے والا ہوں
میں ست رنگی پھول بنانے والا ہوں
دشمن کو بےکار سمجھنے والوں کو
دشمن کے اوصاف بتانے والا ہوں
چاک گریباں دیوانوں کی دعوت پر
وحشت کی تحریک چلانے والا ہوں
ایک اذیت زندہ رہنے والی ہے
میں جس کو تحریر میں لانے والا ہوں
گھر کی دیواروں سے کہنا سو جائیں
میں پہرے پر خواب بٹھانے والا ہوں
ہے کوئی ایسا جو میری امداد کرے
میں شہروں میں امن اگانے والا ہوں
افتخار فلک

سکوتِ شب کو کھٹک رہا ہوں، بہت برا ہوں

میں خود پسندی میں مبتلا ہوں، بہت برا ہوں
سکوتِ شب کو کھٹک رہا ہوں، بہت برا ہوں
مرے تعاقب میں نامرادی کا جِن لگا ہے
ہزار سالوں سے گھر پڑا ہوں، بہت برا ہوں
کئی حسینوں نے معذرت کے خطوط بھیجے
مگر میں پھر بھی لگا ہوا ہوں، بہت برا ہوں
نمک حرامی کروں گا دنیا کو چھوڑ دوں گا
تری محبت پر تھوکتا ہوں، بہت برا ہوں
تمام حوریں مری محبت سے باز آئیں
میں جنّتی ہوں مگر برا ہوں، بہت برا ہوں
مرے حواری، مری محبت کو عام کریو
میں ربِ غربت پہ مر مٹا ہوں، بہت برا ہوں
فلک نے رستہ دکھا دیا تو چلے چلیں گے
اسی بہانے تو لاپتہ ہوں، بہت برا ہوں
افتخار فلک

میں اک پاؤں پہ پورا ناچتا ہوں

پکڑ کر ہاتھ تیرا ناچتا ہوں
میں اک پاؤں پہ پورا ناچتا ہوں
خدائےحسن کو چھونے سے پہلے
میں کمرے میں اکیلا ناچتا ہوں
فرشتے آسماں سے جھانکتے ہیں
میں رنج و غم میں ایسا ناچتا ہوں
خدا جانے میں کتنا تھک چکا ہوں؟
خدا جانے میں کیسا ناچتا ہوں؟؟
مرا بھی ذکر محفل میں ہوا تھا
تو کیا اب میں بھی اچھا ناچتا ہوں!!!
افتخار فلک

یا کہیں بیٹھ کے رو لوں تو ہرا ہو جاؤں

روشنی آنکھوں پہ باندھوں تو ہرا ہو جاؤں
یا کہیں بیٹھ کے رو لوں تو ہرا ہو جاؤں
دشت کی دست درازی سے پریشاں ہو کر
پیڑ کے سائے میں بیٹھوں تو ہرا ہو جاؤں
سبز تعویز اتارے ہوئے مدت گزری
اب ترے حکم سے پہنوں تو ہرا ہو جاؤں
رات آفات کے جنگل میں گزاری میں نے
دن ترے ساتھ گزاروں تو ہرا ہو جاؤں
ہجر میں اور تو کچھ بھی نہیں ہوتا مجھ سے
میں تری یاد میں ناچوں تو ہرا ہو جاؤں
موت کی مشق مشقت سے مبرا ہے فلک
بسترِ مرگ پہ لیٹوں تو ہرا ہو جاؤں
افتخار فلک

دل ابھی پائمال مت کریو

وقفِ رنج و ملال مت کریو
دل ابھی پائمال مت کریو!
زخم دامن سمیٹ لیتے ھیں
دیکھیو! تم دھمال مت کریو!
کریو دشمن کو لاجواب تو یوں
اس سے کوئی سوال مت کریو!
میں ابھی بزدلوں میں بیٹھا ہوں
میرا گریہ بحال مت کریو!
دھیرے دھیرے ہی چھوڑیو ھم کو
ایک دم انتقال مت کریو!!!
افتخار فلک

آپ کو نوکری مُبارک ہو

دشت کی سروری مُبارک ہو
آپ کو نوکری مُبارک ہو
خوف کھاویں گے اب تو دشمن بھی
سانپ سے دوستی مُبارک ہو
قافلہ آسماں سے گزرے گا
رہ نما! رہبری مُبارک ہو
یار! کیا دِل رُبا خبر دی ہے
خیر ہو! پیشگی مُبارک ہو
مشکلیں ٹل گئیں قرینے سے
المدد یا علیؑ مُبارک ہو
افتخار فلک

آخ تھو! اس قدر بےبسی! آخ تھو

مسئلوں میں گھری زندگی، آخ تھو
آخ تھو! اس قدر بےبسی! آخ تھو
بھائیو! صبر سے، ہوش سے کام لو
اور مل کر کہو! عاشقی! آخ تھو
دوستوں کی محبت بڑی چیز ہے
دوستوں سے دغا! دشمنی! آخ تھو
چھوڑنے کا نہیں چاہے دنیا کہے
دل بری آخ تھو! شاعری آخ تھو!
بک گیا چار پیسوں کے لالچ میں تو
تجھ پہ مذہب شکن مولوی، آخ تھو!
اتنی آساں نہیں جتنی لگتی ہے یہ
چاہے آساں بھی ہو، خودکشی؟ آخ تھو
منھ بھی کڑوا ہوا، دل بھی میلا ہوا
باتیں سن کے تری شیخ جی! آخ تھو
افتخار فلک

کہ دشتِ سود و زیاں سے آگے اُتار مجھ کو

بساطِ خورشیدِ جاں سے آگے اُتار مجھ کو
کہ دشتِ سود و زیاں سے آگے اُتار مجھ کو
پڑاؤ میرا یہیں کہیں ہے میں جانتا ہوں
سو بے نشاں کے نشاں سے آگے اُتار مجھ کو
کسے خبر ہے کہاں کہاں سے یہ چھیل ڈالے
بدن کے کوہِ گراں سے آگے اُتار مجھ کو
میں ارتقا کی اک ایک حد کو پھلانگ جاؤں
کبھی تو اِس کہکشاں سے آگے اُتار مجھ کو
عجب نہیں ہے کہ عشق کی موت مارا جاؤں
تُو کوچۂ مہ وشاں سے آگے اُتار مجھ کو
میں دوستوں کی عنایتوں سے ڈرا ہوا ہوں
فلکؔ صفِ دشمناں سے آگے اُتار مجھ کو
افتخار فلک

عالمِ غیب سے ہوتا ہے اشارہ مجھ کو

دستِ خالی سے اڑانا ہے پرندہ مجھ کو
عالمِ غیب سے ہوتا ہے اشارہ مجھ کو
چابکِ آہ و فغاں راس نہیں آیا تا
رخشِ احساس نے کر دینا ہے بوڑھا مجھ کو
آج اک پل کو لگا، یوسفِ دوراں ہوں میں
اجنبی ہاتھ نے پیچھے سے جو کھینچا مجھ کو
مر تو سکتا ہوں مگر بھاگ نہیں سکتا میں
کر دیا آگ نے اس درجہ سیانا مجھ کو
میں وہیں خاک ہوا، خاک سے پھر خاک ہوا
کوزہ گر نے جہاں جلدی میں گھمایا مجھ کو
اے درختانِ ثمر بار اگر بار نہ ہو
میں مروں تو ہرے پتوں پہ سلانا مجھ کو
کون ؟ وہ خواجہ سرا؟؟ یار انہیں رہنے دو
سب تماشائی سمجھتے رہے اندھا مجھ کو
افتخار فلک

کروں گا داستاں کوئی نئی رقم، برادرم

روا روی میں اٹھ گیا مرا قلم، برادرم
کروں گا داستاں کوئی نئی رقم، برادرم
جلوسِ دلبراں چلا، زمین کانپنے لگی
شعورِ عشق نے کہا، اٹھا علم، برادرم
خدا کرے زمین پر زمین زاد خوش رہیں
خدا کرے خدا کا ہو نیا جنم، برادرم
بے ہیں بےضمیر ہیں۔۔ یہی کہا ناں! آپ نے؟
تو پھر اٹھیں کریں ہمارا سر قلم، برادرم
گلہ ضرور کیجیے، مگر خفا نہ جایئے
ہماری بات تو سنیں، برادرم، برادرم!
افتخار فلک

اے مرے دِل رُبا! عشق کی بات کر

دِل پریشان ہے چل کوئی بات کر!
اے مرے دِل رُبا! عشق کی بات کر!
آج مجھ میں سما! میری بانہوں میں آ!
میں اکیلا ہوں نیلم پری! بات کر!
بات کرتے ہوئے آج اُس نے کہا
چھوڑ رنجش پُرانی نئی بات کر!
میں چلا جاؤں گا یہ نگر چھوڑ کر
مختصر ہی سہی اجنبی! بات کر!
آخری بار میری طرف دیکھ لے
آخری بار مجھ سے مِری بات کر!
یوں نہ باتیں بنا دُشمنِ جان و دل
تیرے دِل میں ہے جو ، بس وہی بات کر!
میں براے سخن! آگیا ہوں یہاں
سُن مِری ان سُنی! ان کہی بات کر!
افتخار فلک

جسے ضروری نہیں ہے کوئی اداے حیرت

ہماری حیرت وہ آئنہ ہے خداے حیرت
جسے ضروری نہیں ہے کوئی اداے حیرت
دھمال کرنے کو تم عقیدت سمجھ رہے ہو
نہیں او بھائی نہیں ، یہ ہے ابتداے حیرت
اگر کہیں تو تماش بینوں میں بانٹ دیں ہم
ہمارے کشکول میں پڑی ہے دواے حیرت
شگفتگی نامراد ٹھہرے تو نوچ ڈالیں
مرے قبیلے کے پست فطرت رداے حیرت
سنا ہے مجھ سے کلام کرنے کو آ رہے ہیں
درخت سارے ، پرند بوڑھے براےحیرت
نمودِ شامِ وصال تیری نزاکتوں سے
مہک رہی ہے کئی دنوں سے فضاے حیرت
جنہیں قدامت پسند ہونے پہ فخر ہے وہ
بتاؤ ، کیسے کریں گے آخر دعاے حیرت؟؟
افتخار فلک

ہم سے ہو گا نہیں یہ سِتم ، معذرت

دم بہ دم دل لگی دم بہ دم معذرت!
ہم سے ہو گا نہیں یہ سِتم ، معذرت!
رقص فرما ہیں یاں شیخ بھی، رِند بھی
اے خُدا! اے خُدا! مُحترم ، معذرت!
ہاتھ باندھے ہوئے تھے انا نے اگر
کیسے لکھتا مِرا پھر قلم ، معذرت!
سر پِھرے عشق سے سامنا ہے مِرا
زندگی تجھ سے اب ہر قدم معذرت!
صاحبا! دلبرا! اِک نظر اِس طرف
اب نہ ہو گی مِری آنکھ نٙم، معذرت!
چال کوئی بھی جب کارگر نہ ہوئی
یاد آئی مجھے ایک دم معذرت!
شب بہ خیر آج کوئی نہ بولے مجھے
آج کی رات ہے پُر الم، معذرت!!
سب مداری ہیں کوئی معزّز نہیں
حاکم و اہلِ دیں یک قلم معذرت!
افتخار فلک

پلکیں بھگو رہے تھے مرے سامنے درخت

سرسبز ہو رہے تھے مرے سامنے درخت
پلکیں بھگو رہے تھے مرے سامنے درخت
گلشن بہار و بخت سے مہکا دیا گیا
جب ہوش کھو رہے تھے مرے سامنے درخت
دیکھا ہے میں نے آج بڑے انہماک سے
بیدار ہو رہے تھے مرے سامنے درخت
اِس خوابِ دل گداز کی تعبیر تو بتا
کل شام رو رہے تھے مرے سامنے درخت
پنچھی تمام رات مجھے گھورتے رہے
جنگل میں سو رہے تھے مرے سامنے درخت
افتخار فلک

سخی! محبت زدہ عقیدہ تری محبت

مرا تصوّف، مرا عقیدہ، تری محبت
سخی! محبت زدہ عقیدہ تری محبت
نمازِ مغرب قضا ہوئی تو ضمیر بولا!
کہ ہائے غافل! ترا عقیدہ، تری محبت
مری عقیدت سبھی عقیدوں سے ایک جیسی
مگر ہے سب سے جُدا عقیدہ تری محبت
تری قسم دے کے کہہ رہا ہوں مرے لئے تو
فنا صدی کا بقا عقیدہ، تری محبت
تری عطا پہ میں خوش ہوں میرے کریم مولا!
ہے لا اِلٰہ جڑا عقیدہ تری محبت
ذلیل دنیا نے ساتھ چھوڑا تو کام آئے
قدم، قدم پر ترا عقیدہ تری محبت
افتخار فلک

فوج کا سالار پاؤں پڑ گیا

مرکزی کردار پاؤں پڑ گیا
فوج کا سالار پاؤں پڑ گیا
میں اُسے حیراں کھڑا تکتا رہا
جب وہ دُنیادار پاؤں پڑ گیا
میں غلط تھا اِس لیے پاؤں پڑا
اور وہ بےکار پاؤں پڑ گیا!
جب ٹھکانے لگ گئی عقلِ سلیم
لشکرِ اغیار پاؤں پڑ گیا
ایک نٙو سرباز موقع ملتے ہی
کھینچ کر تلوار ، پاؤں پڑ گیا!
یار! یہ ممکن نہیں سچ سچ بتا
واقعی!! سردار پاؤں پڑ گیا؟؟؟
کل مجھے خاطر میں جو لاتا نہ تھا
وہ بھی آخرکار پاؤں پڑ گیا
افتخار فلک

میرا مطلب ہے جھوٹا خدا بچ گیا

اک خُدا مر گیا دوسرا بچ گیا
میرا مطلب ہے جھوٹا خدا بچ گیا
سات رنگوں سے بنتا رہا یہ جہاں
رنگ آخر میں صرف اک ہرا بچ گیا
بچ بچاؤ میں کچھ بھی نہیں بچ سکا
کارواں لُٹ گیا رہ نُما بچ گیا
میں مصیبت میں تھا دوستو! دشمنو!
نام مُرشد کا جونہی لیا، بچ گیا
میری تدفین میں دیر مت کیجیو!
میرے پیچھے مرا نقشِ پا بچ گیا
معجزہ یہ نہیں جان بخشی ہوئی
سچ تو یہ ہے ترا آسرا بچ گیا
افتخار فلک

سمجھ لو اضطراب سے نکل گیا

اگر میں دشتِ خواب سے نکل گیا
سمجھ لو اضطراب سے نکل گیا
بری خبر سناؤں؟ سن سکو گے تم؟
میں حلقۂ جناب سے نکل گیا
رموزیں چھانٹنے لگا فضول میں
ارے میں کیوں حجاب سے نکل گیا!
نکل گیا وہ سایۂ امان سے
جو عشقِ بوتراب سے نکل گیا
شکست ہو گئی مرے رقیب کو
کہ پاؤں جب رکاب سے نکل گیا
خوشی منا!گلے لگا کہ آج میں
حجابِ خاک و آب سے نکل گیا
افتخار فلک

ذکر میرا شاعروں میں آ گیا

کافروں اور باغیوں میں آ گیا
ذکر میرا شاعروں میں آ گیا
روکتے ہیں یار مجھ کو عشق سے
میں یہ کیسے پاگلوں میں آ گیا؟
زخم کھاتا، خاک اُڑاتا ایک دن
میں بھی تیرے عاشقوں میں آ گیا
تُو نے میری سمت دیکھا اور پھر
نام تیرا قاتلوں میں آ گیا
یار! مجنوں کو اچانک کیا ہوا؟
چائے پینے کالجوں میں آ گیا!!
امن کا اجلاس جاری تھا ابھی
خوف اُڑ کر کِھڑکیوں میں آ گیا
افتخار فلک

میں اُسے بےفائدہ چکھتا رہا

زندگی کا ذائقہ چکھتا رہا
میں اُسے بےفائدہ چکھتا رہا
اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھ کر
رات بھر میں تٙخلیہ چکھتا رہا
شعر کہنے کی ہوس میں دوستو!
میں ردیف و قافیہ چکھتا رہا
تیرے پاؤں کے نِشاں رہبر بنے
کارواں یہ مُعجزہ چکھتا رہا
بال کھولے تُو سنورتی رہ گئی
تیری صُورت آئنہ چکھتا رہا
ماں تمہاری یاد میں بوڑھی ہوئی
باپ پیہم عارضہ چکھتا رہا
قہقہوں کے شور میں اِک مسخرہ
منھ چُھپائے حادثہ چکھتا رہا
افتخار فلک

میں پتھر کے پان بنانے والا تھا

ہر مشکل آسان بنانے والا تھا
میں پتھر کے پان بنانے والا تھا
خوابوں کی تاویل سمجھ سے باہر تھی
جب میں پاکستان بنانے والا تھا
میری موت نے رستہ روکا ورنہ میں
لیّہ کو یونان بنانے والا تھا
حق باہو، حق باہو کہہ کر ایک فقیر
باہو کو سلطان بنانے والا تھا
مجھ ایسا بہلول کہاں سے لاؤ گے
نار سے جو ناران بنانے والا تھا
شہزادی نے جس کی خاطر زہر پیا
اک دیہاتی، نان بنانے والا تھا
آپ نے میرا ہاتھ نہ تھاما ہوتا تو
میں خود کو شیطان بنانے والا تھا
دروازوں کی شاکھ بچانے کی خاطر
دیواروں کے کان بنانے والا تھا
آپ کی اک اک بات غزل میں ڈھال کے میں
آن کی آن میں تان بنانے والا تھا
افتخار فلک

پھر اُس کے بعد پرندے نے گھر بنایا تھا

شبیہِ حُجرۂ وحشت بنا کے لایا تھا
پھر اُس کے بعد پرندے نے گھر بنایا تھا
لہو کا رنگ یقینا” سفید ہے بھائی!
کہ اُس ذلیل نے ماں پر بھی ہاتھ اُٹھایا تھا
ہوا سے باندھ کے بن میں گھسیٹ لایا ہوں
مرے چِراغ نے تیرا مذاق اُڑایا تھا
میں سینہ تان کے نکلا تھا جانبِ مقتل
کئی ہزار دعاؤں کا مجھ پہ سایہ تھا
یہاں پہ رقص کا مطلب ہے زندگی پیارے!
کہ اس جگہ مرے مُرشد نے سر جھُکایا تھا
مرے پڑوس میں رہتی ہے وہ پری پیکر
سُنا ہے جس نے محبت میں زہر کھایا تھا
حیا فروش محلّے کی عورتوں نے مجھے
تمھارے نام سے چھیڑا تھا ، ورغلایا تھا
مجھے تو آج بھی لگتا ہے میں پرندہ ہوں
کہ مجھ پہ بانجھ درختوں نے حق جتایا تھا
افتخار فلک

اچّھا نہیں ہے خواب کا منظر رکھا ہوا

دل کے نگار خانہ سے باہر رکھا ہوا
اچّھا نہیں ہے خواب کا منظر رکھا ہوا
بے رنگ ہو کے گر پڑا فوراً چراغِ حُسن
تھا میں نے عشق ہاتھ کے اوپر رکھا ہوا
خطرہ ہے جم نہ جائے کہیں ضبط کا غبار
ہے دل کو ہم نے اس لیے اندر رکھا ہوا
کب ہو گئے فگار مرے ہاتھ کیا خبر
پہلو میں اُس نے تھا کہیں خنجر رکھا ہوا
اِس احتیاط سے تمہیں چاہا کہ اے فلکؔ!
اب تک زباں پہ چپ کا ہے پتھّر رکھا ہوا
افتخار فلک

حیراں ہوئے بغیر اِسے مت عبورنا

آساں نہیں ہے جادۂ حیرت عبورنا
حیراں ہوئے بغیر اِسے مت عبورنا
میرے خلاف کوئی بھی بکتا رہے مگر
سیکھا ہے میں نے سرحدِ تُہمت عبورنا
صد آفریں! خیال تو اچّھا ہے واقعی
آنکھوں کو بند کرکے محبّت عبورنا
آوارگانِ عشق! ذرا احتیاط سے
وحشت کے بعد لذّتِ شہوت عبورنا!!
تعمیرِ ماہ و سال میں تاخیر کے بغیر
کس کو روا ہے عرصۂ مُہلت عبورنا؟
جُزوِ بدن بنے گا تو باہر بھی آئے گا
یہ زخم تھوڑی دیر سے حضرت! عبورنا
افتخار فلک

گونگا بہرا خالی کمرا

خالی گھر کا خالی کمرا
گونگا بہرا خالی کمرا
زندانوں سے بھی بدتر ہے
تیرا میرا خالی کمرا
ایک عزیز بچا ہے میرا
وہ بھی تنہا خالی کمرا
تیری یاد نے چوما مجھ کو
جب بھی کھولا خالی کمرا
تم کو اکثر یاد آئے گا
باتیں کرتا خالی کمرا
مجھ سے لپٹا روہا گھنٹوں
آہیں بھرتا خالی کمرا
دونوں اک جیسے لگتے ہیں
میں اور میرا خالی کمرا
یار فلک! اک بات کہیں میں
خوب ہے تیرا خالی کمرا
افتخار فلک

یہ عشق چاک گھماتے ہوئے نہیں ڈرتا

نئے چراغ بناتے ہوئے نہیں ڈرتا
یہ عشق چاک گھماتے ہوئے نہیں ڈرتا
مرے وسیلے سے جتنے بھی پیڑ روئے ہیں
انہیں میں ہِیر سناتے ہوئے نہیں ڈرتا
حضور! آپ ہی روکیں کہ میں تو پاگل ہوں
کسی سے ہاتھ ملاتے ہوئے نہیں ڈرتا
ہزار بار بتایا کہ بد شگونی ہے!
مگر وہ ہونٹ چباتے ہوئے نہیں ڈرتا
میں پیٹ کاٹ کے زندہ ہوں اور ڈرتا ہوں
تُو فن کو بیچ کے کھاتے ہوئے نہیں ڈرتا؟
عجیب شوقِ طبیعت ہے افتخار فلکؔ
کوئی بھی آنکھ لڑاتے ہوئے نہیں ڈرتا
افتخار فلک

ہوا کا ہاتھ بٹاتا ہے کھا نہیں جاتا

چراغ وقت بچاتا ہے کھا نہیں جاتا
ہوا کا ہاتھ بٹاتا ہے کھا نہیں جاتا
بزرگ پیڑ کی چھاؤں سے دور مت بیٹھو
یہ صرف ہاتھ اٹھاتا ہے کھا نہیں جاتا
یہ میرا باپ مرا آخری سہارا ہے
کما کے سب کو کھلاتا ہے کھا نہیں جاتا
چبا چبا کے نہ باتیں کرو ذرا تو کھلو
وہ سب کے درد بٹاتا ہے کھا نہیں جاتا
یہ عشق ہے سو شرارت سے کام لیتا ہے
بڑے بڑوں کو نچاتا ہے کھا نہیں جاتا
وہ سیر چشم ہے ایسا کہ بھوک لگنے پر
جنوں میں خاک اڑاتا ہے کھا نہیں جاتا
خیالِ یار کا دریا چڑھا ہوا ہے مگر
گلے لگا کے بہاتا ہے کھا نہیں جاتا
تم اس خدا پہ ہنسو گے جو روزإ اول سے
ڈرے ہوؤں کو ڈراتا ہے کھا نہیں جاتا
افتخار فلک

مِرے رقیبوں کو ڈھونڈ لاؤ ، نئے خُداؤ

میں بُھول جاؤں نہ رکھ رکھاؤ ، نئے خُداؤ!
مِرے رقیبوں کو ڈھونڈ لاؤ ، نئے خُداؤ!
مِری حِماقت پہ قہقہے کیوں لگا رہے ہو؟
قفس ہے اپنا نیا پڑاؤ ، نئے خُداؤ!
میں کُوفیوں کی طرح نہیں ہوں کہ چھوڑ جاؤں
مِری محبّت ہے سبز ناؤ! نئے خُداؤ!
غریبِ شہرِ اجل کی خاطر نئے سُروں میں
بھجن پُرانا کوئی سُناؤ ، نئے خُداؤ!
خُدا پرستوں کو بیچنے میں بقا ہے سب کی
ہمیں بھی بیچو ، شرف کماؤ ، نئے خُداؤ!
نئے خُداؤں کا اِنتخاب آج ہو رہا ہے
بتاؤ کیسے کریں چناؤ؟ نئے خُداؤ!!
میں اِس سے پہلے کہ خُودکُشی کو حیات بخشوں
مِری، محبّت سے جاں چُھڑاؤ ، نئے خُداؤ!
افتخار فلک