زمرہ جات کے محفوظات: گیت

چلو پھر سے مسکرائیں

چلو پھر سے مسکرائیں

چلو پھر سے دل جلائیں

جو گزر گئی ہیں راتیں

اُنہیں پھر جگا کے لائیں

جو بسر گئی ہیں باتیں

اُنہیں یاد میں بُلائیں

چلو پھر سے دل لگائیں

چلو پھر سے مسکرائیں

کسی شہ نشیں پہ جھلکی

وہ دھنک کسی قبا کی

کسی رگ میں کسمسائی

وہ کسک کسی ادا کی

کوئی حرف بے مروّت

کسی کُنجِ لب سے پھُوٹا

وہ چھنک کے شیشۂ دل

تہِ بام پھر سے ٹوٹا

یہ مِلن کی نامِلن کی

یہ لگن کی اور جلن کی

جو سہی ہیں وارداتیں

جو گُزر گئی ہیں راتیں

جو بِسر گئی ہیں باتیں

کوئی ان کی دھُن بنائیں

کوئی ان کا گیت گائیں

چلو پھر سے مسکرائیں

چلو پھر سے دل جلائیں

فیض احمد فیض

جب تیری سمندر آنکھوں میں

یہ دُھوپ کنارا، شام ڈھلے

مِلتے ہیں دونوں وقت جہاں

جو رات نہ دن ، جو آج نہ کل

پل بھر کو امر ،پل بھر میں دھواں

اِس دھوپ کنارے، پل دو پل

ہونٹوں کی لپک

باہوں کی چھنک

یہ میل ہمارا ، جھوٹ نہ سچ

کیوں زار کرو، کیوں دوش دھرو

کس کارن، جھوٹی بات کرو

جب تیری سمندر آنکھوں میں

اس شام کا سورج ڈوبے گا

سُکھ سوئیں گے گھر دَر والے

اور راہی اپنی رہ لے گا

(لندن سے)

فیض احمد فیض

کاہے کو بیاہی بدیس ۔ گیت

کاہے کو بیاہی بدیس رے لکھی بابل مورے

کاہے کو بیاہی بدیس

بھائیوں کو دیے محلے دو محلے ہم کو دیا پردیس

کاہے کو بیاہی بدیس ، رے بابل!

کاہے کو بیاہی بدیس

ہم تو ہیں بابل تیرے کھونٹے کی گائیاں

جد ہانکے ، ہنک جائیں

ہم تو ہیں بابل تیرے بیلے کی کلیاں

گھر گھر مانگی جائیں

ہم تو ہیں بابل تیرے پنجرے کی چریاں

بھور بھئے اڑ جائیں

ٹاکوں بھری میں نے گڑیاں جو چھوڑیں

چھوٹا سہیلی کا ساتھ

کوٹھے تلے سے پالکی نکلی

بیرن نے کھائے پشاد

ڈولی کا پردہ اٹھا کر جو دیکھا

آیا پیا کا دیس

کاہے کو بیاہی بدیس ، رے بابل!

کاہے کو بیاہی بدیس؟

امیر خسرو

میں تو پیا سے نین لڑا آئی رے ۔ گیت

میں تو پیا سے نین لڑا آئی رے

گھر ناری کنواری کہے سو کرے

میں تو پیا سے نین لڑا آئی رے

سوہنی صورتیا ، موہنی مورتیا

میں تو ہریزے کے پیچھے سما آئی

گھر ناری کنواری کہے سو کرے

میں تو پیا سے نین لڑا آئی رے

امیر خسرو

موہے اپنے ہی رنگ میں رنگ لے ۔ گیت

موہے اپنے ہی رنگ میں رنگ لے

تو تو صاحب میرا محبوب الٰہی

موہے اپنے ہی رنگ میں رنگ لے

ہماری چنریا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیا کی پگڑیا

وہ تو دونوں بسنتی رنگ دے

جو کچ مانگے رنگ کی رنگائی

مورا جوبن گروی رکھ لے

آن پڑی دربار تمہارے

موری لاج شرم سب رکھ لے

موہے اپنے ہی رنگ میں رنگ لے

امیر خسرو

سب سکھیوں میں چادر میری میلی ۔ گیت

سب سکھیوں میں چادر میری میلی

دیکھیں ہنس ہنس ناری

اب کے بہار چادر میریرنگ دے

پیا رکھ لے لاج ہماری

صدقہ باب گنج شکر کا

رکھ لے لاجک ہماری

قطب فریدل آئے براتی

خسرو راج دلاری

کوئی ساس کوئی نند سے جھگڑے

ہم کو آس تمہاری

رکھ لے لاج ہماری نظام

رکھ لے لاج ہماری

امیر خسرو

ز حالِ مسکیں مکن تغافل دُرائے نیناں بنائے بتیاں ۔ گیت

ز حالِ مسکیں مکن تغافل دُرائے نیناں بنائے بتیاں

کہ تابِ ہجراں ندارم اے جاں نہ لے ہو کاہے لگائے چھتیاں

شبانِ ہجراں دراز چوں زلف و روزِ وصلت چوں عمرِ کوتاہ

سکھی! پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

یکایک از دل دو چشم جادو بصد فریبم ببردِ تسکیں

کسے پڑی ہے جو جا سناوے پیارے پی کو ہماری بتیاں

چوں شمعِ سوزاں، چوں ذرہ حیراں، ہمیشہ گریاں، بہ عشق آں ما

نہ نیند نیناں، نہ انگ چیناں، نہ آپ آویں، نہ بھیجیں پتیاں

بحقِّروزِ وصالِ دلبر کہ دادِ ما را غریب خسرو

سپیت من کے ورائے راکھوں جو جائے پاؤں پیا کی کھتیاں

امیر خسرو

جب یار دیکھا نین پھر دل کی گئی چنتا اتر ۔ گیت

جب یار دیکھا نین پھر دل کی گئی چنتا اتر

ایسا نہیں کوئی عجب، راکھے اسے سمجھائے کر

جب آنکھ سے اوجھل بھیا، تڑپن لگا میرا جِیا

حقّا الہٰی کیا کیا، آنسو چلے بھر لائے کر

توں تو ہمارا یار ہے ، تجھ پر ہمارا پیار ہے

تجھ دوستی بسیار ہے ، اِک شب ملو تم آئے کر

جاناں طلب تیری کروں ، دیگر طلب کس کی کروں

تیری جو چنتا دل دھروں ، اک دن ملو تم آئے کر

میرا جو من تم نے لیا ، تم نے اُٹھا غم کو دیا

غم نے مجھے ایسا کیا جیسا پتنگا آگ پر

خسرو کہے باتاں غضب ، دل میں نہ لاوے کچھ عجب

قدرت خدا کی یہ عجب ، جب جیو دیا گل لائے کر

امیر خسرو