زمرہ جات کے محفوظات: نظم

ایک بھیانک سپنا

رات خواب میں دیکھا

لاش اک اٹھائے میں

جا رہا تھا دنیا سے

اور اس کے سینے پر

تشنہ سی، ادھوری سی

ایک نظم لکھی تھی

یاور ماجد

اظہار

میرے پہلو سے درد لپٹے ہیں

اور مری روح ہے بہ نوک خار

جس طرف جاؤں روک لے مجھ کو

ایک بے در، مہیب سی دیوار

دِل کے صحرا سے کر گئے ہجرت

خواب کے سب پرند افق کے پار

دِل کے ارمان ہیں سبھی گھائل

جاں بہ لب ہیں جو تشنۂ اظہار

’’اے شہنشاہِ آسماں اورنگ

اے جہاندارِ آفتاب آثار‘‘

تیری آزاد ان فضاؤں میں

گھٹ گئی روح خون میں ہے فشار

اے شہنشاہ، بانیِ تقدیر

اے جہاندار، مالک و مختار

گر تری ہو رضا جو تو چاہے

جلتے صحراؤں میں کھلیں گلزار

ہو نگاہِ کرم ادھر بھی ایک

ہو عطا مجھ کو ایک تختۂ دار

یاور ماجد

یقین

میں غرقِ مئے خواب رہا اور کئی غم

پلتے رہے آنگن میں پنپتے رہے پیہم

خواہش تھی اجالوں کی مگر تلخیِ حالات

دامن میں اتر آئی فقط رات! فقط رات

پروردۂ آغوشِ گماں ایک یقیں ہے

دنیا مرے ہر خواب کی دنیا میں کہیں ہے

یاور ماجد

تمنّا

بھٹک چکا ہوں میں رستے سے بےخیالی میں

غزال جیسے کسی دشتِ خشک سالی میں

میں رہ کی دھول ہوں بس ٹھوکریں ہیں قسمت میں

مرے چمن میں خزاں کی رتیں ہیں قسمت میں

کٹھن سفر ہے تو تشنہ مری امیدیں ہیں

بس ایک سر ہے مقابل کئی چٹانیں ہیں

بھٹک چکا ہوں مرا ہر قدم ہے بے معنی

مجھ ایسے رند پہ تیرا کرم ہے بے معنی

اس اپنے سائے کو مجھ پر سمٹنے سے روکو

ہُما!۔۔۔ مجھے نہ تمنا کی آنکھ سے دیکھو

یاور ماجد

آوارگی

بس ایک نقطہ

بس ایک محور

بس ایک گردِش

غُلام پیکر،

اُداس عالم میں شش جہت پر محیط دھڑکن

بس ایک مرکز

اور ایک مرکز گُریز قوّت۔۔۔۔۔

غُلام گردش کبھی جو چھوٹے

حصارِ خواہش کبھی جو ٹُوٹے

تلاشِ منزل جو پر سمیٹے

تو سائے محور کے بڑھتے بڑھتے

نئے سرابوں کو ڈھونڈتے ہیں

وہ دیکھتے ہیں

اک اور گردش۔۔۔۔۔

اک اور مرکز۔۔۔۔۔

پھر ایک مرکز گریز قو ت

یاور ماجد

دیکھ اے دِل

دیکھ اے دِل!

زندگی کے آئینہ خانے میں جتنے عکس ہیں

سب ہی محو رقص ہیں!

اور تو مایوسیوں کے بحر میں کیوں غرق ہے

دیکھ اے دِل!

چرخِ نیلی فام پر یہ رقص کرتی بدلیاں

کتنے ارمانوں کا رس چھلکا رہی ہیں

ٹولیاں چڑیوں کی اڑتی آ رہی ہیں

دور تک کوہِ تمنا پر ہرے اشجار ہیں

اور تجھ کو کس قدر آزار ہیں

بول اے نخچیرِ ظلمت!!

ہر طرف ہی نور ہے

تو بکھرتی روشنی سے دور ہے!

کس قدر مجبور ہے!!

یاور ماجد

ادھوری موت

ابھی ابھی جو دھواں سا فضا میں بکھرا ہے

ابھی ابھی جو صدائیں اٹھی ہیں ماتم کی

جلی ہے کیا کوئی خواہش، کوئی خیال جلا

کسی کے لب پہ نہ پہنچا، کوئی سوال جلا

نجانے کتنی تمنائیں جل کے زندہ ہیں

بدل کے جسم ہواؤں میں ڈھل کے زندہ ہیں

یاور ماجد

مامتا کے نام

ان گنت بار ایسا ہوا

درد کا کوئی جھونکا مجھے اپنے قدموں کی جاگیر سے

عاق سا کر گیا

گرتے گرتے مجھے اک حسیں لمس نے اپنے ہاتھوں میں لے کر

بڑے پیار سے

تھام کر

چوم کر

اپنی آغوش میں لے لیا

یاور ماجد

حدود بندی

تمھارا کہنا تھا

یوں نہ ہو گا

کہ تم بھی آخر سبھی کے مانند اسی روش پر نکل پڑو گے

کہ جس پہ چلتے تمام دنیا کی عمر بیتی

جو اک ندی تھی

وہ ایک دریا میں ضم ہوئی ہے

تمھاری پہچان گُم گئی ہے

تمھارا کہنا تھا

تم ہو خوشبو!

اِک ایسی خوشبو جو تا قیامت ہوا کے کندھوں پہ

اور انا کے گھنے گھنیرے سے گلستانوں میں ہی رہے گی

کہو ناں!

تم ہی تو کہہ رہے تھے

کہ کوئی سمجھوتا تم کبھی بھی نہیں کرو گے!

مگر ہوا کے بس اِک تھپیڑے سے

اور زمانے کے اِک طمانچے سے تھک گئے ہو!

تم اپنی محفل سے آخرِ شب سرک گئے ہو!

نئے مکاں کی حدود بندی قبول کر لو!

یاور ماجد

لمحوں کی آبشار

میں کب جانتا تھا کہ ساعت کی دھڑکن اٹل ہے،

یہ لمحہ ابھی جو گزرنے کو ہے

جانے کب کا گزر بھی چکا اور،

گزر بھی رہا ہے

نجانے یہ کتنے زمانوں میں جا کر کہیں ختم ہو گا۔۔

خبر کیا کہ لمحوں کی یہ آبشار،

آبشارِ بقا ہے،

فنا ہے، کہ کیا ہے؟

یہ لمحہ جو جانے کہاں سے مرے قدموں میں آ پڑا ہے

مجھے کیا خبر اس کے پاتال میں کیا گڑا ہے

خبر کیا یہیں سے مجھے خود تلک آ پہنچنے کا رستہ ملے؟

یاور ماجد

یہاں سے شہر کو دیکھو

فضا میں گرد ہے اور آسماں پر زرد چادر ہے

صدا اندر صدا اِک خوف بستا ہے

تخیّل در تخیّل سہم سے سمٹی ہوئی سوچیں

حرارت کا حوالہ ڈھونڈنے کو ہر شکم کی آگ رقصاں ہے

سمندر سے اٹھے طوفان ساحل بستیوں کو کھا رہے ہیں

ہوا کے سنسنانے کی صدا کا ساز بھی نوحے سنانے لگ پڑا ہے

ہوس اور حرص کی بڑھتی نمی نے ہر نِجَس پیکر نفس کو

جو یہ زنگ آلود سا اِک رنگ بخشا ہے

وہ ہر چہرے سے ظاہر ہے!

مرے پنچھی!

تمھارے ان پروں پر یہ سفیدی دودھ جیسی ہے

اسے میلا نہ ہونے دو!

کہیں خوشبوؤں میں بستے گلابی گلستاں کی راہ کو جاؤ

خدا کے دہر کو دیکھو!

نہ تم اس شہر کو دیکھو!

یاور ماجد

اِک ویران سڑک

یہ ویراں چپ چاپ سڑک جس سمت چلی ہے

کیا معلوم اس رستے پر

اس ویراں سنساں رستے پر

کیسی کیسی بپتاؤں کے نقش گھڑے ہیں

اس پر جو پتے ہیں سارے زرد پڑے ہیں

کیا معلوم ان سوکھی سوکھی شاخوں پر

کتنے پرندے اڑتے تھے

اور کتنے گلہری رہتے تھے

جانے ایسے تنہا رستوں پر چلنے کا کیا حاصل ہے

اس ویراں چپ چاپ سڑک کی

جانے کون سی منزل ہے

یاور ماجد

تسلسل

زخمی آوازیں، وہی الفاظ دہرائے ہوئے

پھر وہی سوچوں کے گھاؤ، شور زخمائے ہوئے

مسخ کر دیتے ہیں انساں کا شعور!

رحمت یزداں ملے جو انتہائے شوق سے

جگمگا اٹھتی ہے قسمت بن کے نورِ کوہِ طور

تتلیاں خوابوں کی، مٹھی میں اگر آ جائیں تو

رنگ پھیلیں سوچ کے روزن سے آتی دھوپ میں

لیکن ایسی انتہائے شوق بھی،

دسترس نا دسترس کے درد سے

دِل کو تڑپاتی رہے

سلسلے ٹوٹیں تو پھر کب جڑ سکیں

جاتے پنچھی کب گھروں کو مڑ سکیں

یاد کا ققنس مگر زندہ رہے

آگ میں جل کر ملے پھر زِندگی

خاک میں مل کر جلے پھر زِندگی

منجمد ہو جائیں سب برفیلے طوفانوں کے بیچ

اور لمحے میں بدل جائے کبھی سارا سماں

فرطِ قحطِ نم کبھی جنگل کے جنگل دے اجاڑ

اور کبھی بارش نہ تھم پائے اجڑ جائے جہاں!

وقت کی چکّی میں زندہ بے یقینی ہی رہے

یہ تسلسل خواب کا جاری رہے

یاور ماجد

پیغام -۲

پلکوں پر چنچل چنچل سپنے آ جاتے ہیں

جب آکاش پہ کالے کالے بادل چھاتے ہیں

سپنوں کی بارش میں ترا آنچل لہراتا ہے

اور بادل کی اوٹ میں چندا بھی شرماتا ہے

دل کے آنگن میں جب آ کر پنچھی گاتے ہیں

تیری میٹھی یاد کے سارے سُر بندھ جاتے ہیں

شام ڈھلے جب شہر کنارے سورج سوتا ہے

اک جادُو سا شہرِ طرب میں سب پر ہوتا ہے

اور مرا دل تنہا تنہا بیٹھا روتا ہے

یاور ماجد

پیغام۔ ۱

اسے کہنا۔۔۔۔

کہ پھر سے گلستاں میں

بہار آنے لگی ہے۔۔۔۔۔

اسے کہنا۔۔۔۔۔

کہ برسوں سے اِس اُجڑے آشیاں میں

صبا نے جھانک کر دیکھا،

چٹکنے لگ پڑے غنچے

اسے کہنا۔۔

کہ پھر سے راہ پیما ہیں نگاہیں

اور اِک اقرار کو ترسی ہوئی آنکھیں

تصور میں اسی کو۔۔۔

بس اسی کو دیکھتی ہیں

یاور ماجد

وہی سحر ہے

یہی سحر تھی

یہی پرندے،

انہی درختوں

پہ بیٹھے نغمے۔۔ سنا رہے تھے

یہی وہ دُھن تھی

جو گا رہے تھے

صبا سے اٹھکیلیوں میں مصروف

نرم پتے مری ہی غزلیں سنا رہے تھے

وہی سحر ہے

وہی پرندے

انہی درختوں پہ بیٹھے

کل والی دھن ابھی بھی سنا رہے ہیں

وہی شجر ہیں

وہی ہیں پتے

وہی ہیں اٹھکیلیاں صبا کی

مگر!!

یہ سب کچھ ہی کل کی صبح سے مختلف ہے

کہ آج تیری حسین دھڑکن کا ایک نغمہ

مری سماعت پہ منکشف ہے

یاور ماجد

آج کا نقاد

یہ کیا ہے؟

کوئی سبزی ہے؟ خود کو کہتی ہے پھل؟

کیا کہا؟۔۔۔ سیب ہے؟

آؤ اس کو ذرا اپنی تنقید کی بھٹی میں ڈال کر دیکھ لیں

ذرا دیکھتے ہیں یہ پھل ہے یا سبزی یا آلو کہ پیاز

بڑے رنگ ہیں واہ۔۔

لیکن ہر اک مستند پھل تو پیلا ہی دیکھا ہے

مثلاً دُسہری، یا چونسہ، یا سندھڑی

یہ سبزی، یا بُوٹی یا جو شے بھی ہے، گول ہے۔۔۔

مستند پھل مگر بیضوی ہوتے ہیں

کیا دُسہری یا سندھڑی کبھی گول دیکھے گئے؟

کاٹ کر دیکھتے ہیں کہ اندر ہے کیا

اس میں تو کوئی گٹھلی نہیں، اس میں تو ڈھیر سے بیج ہیں

اور بیجوں پہ داڑھی نہیں

جیسے چونسہ، دُسہری یا سندھڑی کی گٹھلی پہ نورانی داڑھی بھلی لگتی ہے

اس کے بیجوں میں یہ اک کمی لگتی ہے

اب بھی یہ سیب کہتا ہے پھل ہے؟ ؟

سنو بھائی! سچ پوچھو تو میری تنقید میں اس کو پھل کہنا جائز نہیں۔

یہ ابھی ارتقا کے مراحل میں ہے

۔۔۔۔۔ گو کہ مستقبل اس کا خوش آئند ہے

یاور ماجد

دعا — بددعا

24 جولائی 2008

اُداس چہرے

نڈھال بانہیں

تھکن میں لپٹی ہوئی نگاہیں

یہ پیلے پیلے فلک سے ہر دم

برستے شعلے

ہر ایک چہرے سے دیکھو ہر دم

عجب اُداسی برس رہی ہے

شکستہ دِل ہے

شکستہ پا ہے

ہر ایک دھڑکن

ہر اک قدم بھی

خدائے برتر

خدائے عالم۔۔۔

اب اس تڑپتے ہوئے جہاں پر

ذرا سا ہو جائے کچھ کرم بھی

کرخت چہرے

لپکتی بانہیں

ہوس میں لتھڑی ہوئی نگاہیں

یہ دھول مٹی میں لپٹی سڑکیں

شکار گاہیں

ہر ایک چہرے سے دیکھو کیسی

عجیب وحشت برس رہی ہے

حریص دِل ہیں

رئیس زادے

یہ گرگ سارے

یہاں کے جم بھی

خدائے برتر

خدائے عالم۔۔۔

اب اس پنپتی شکار گہ میں

کوئی تو بازو کرو قلم بھی

یاور ماجد

بے بسی

ہوا چلتی ہے

گرتے پات گہرے پانیوں میں

ناؤ کے جیسے کہیں ہجرت کو جاتے ہیں

شجر نوحے سناتے ہیں

ہوا دھیرے سے چلتی ہے

ستارے ٹمٹماتے ہیں

کہیں سے چاند کا پرتو

کہیں سے روشنی کی لو

کبھی پانی پہ پڑتی ہے

تو گویا آسماں کی جھلملاتی بے بدل تصویر بنتی ہے

مگر جب بھی کوئی پتا ہوا میں اڑتے اڑتے

پانیوں میں گر کے اپنی آخری ہجرت پہ جاتا ہے

تو سارے عکس بھی گویا فلک سے گر کے آئینے کے جیسے ٹوٹ جاتے ہیں

کنارے پر کھڑا جگنو اداسی سے

خموشی سے

یہ سب کچھ دیکھتا جاتا ہے

کر کچھ بھی نہیں سکتا

یاور ماجد

خوف

اچانک ہی جھٹکے سے میرے بدن کی ہر اک پور میں جیسے کہرام اٹھا

کچھ ایسا لگا جیسے میں اک گڑھے میں کفن اوڑھ کر سو رہا تھا

مگر دھیرے دھیرے پھسلنے لگا ہوں۔۔۔

میں گرنے لگا ہوں

میں گرتا چلا جا رہا ہوں

میں گرتا ہی

گرتا ہی

گرتا چلا جا رہا ہوں

میں گرتے ہوئے اور تیزی سے گرتا چلا جا رہا ہوں

مرے ہاتھ شل ہیں

مرے پاؤں؟

وہ تو یہ سمجھو کہ ہیں ہی نہیں ہیں

مرے بازوؤں میں ذرا دم نہیں ہے

بدن سن ہے،

اور کانوں میں سائیں سائیں

اور اک خوف سا ہے

جو خوں بن کے میری رگوں میں رواں ہے

توازن بھی گویا کوئی چیز ہو گی؟؟

کہاں ہے؟

اور اک کالا سایہ مرے پیچھے پیچھے گرا آ رہا ہے

اور اس کالے سائے کے چہرے پہ آنکھیں

بٹن جیسی آنکھیں

مجھے گھورتی ہیں

اور اس کا دَہَن۔۔۔۔

اس کا خونی دَہَن

چیختا آ رہا ہے

مرے جسم میں، میری پوروں میں جتنی بھی طاقت بچی ہے

اسے جمع کر کے

میں کوشش میں ہوں۔۔ چیخ ماروں۔۔

میں اس کالے سائے کو جو میرے سر چڑھ گیا ہے

اتاروں۔۔

مگر میری آواز ہی گم ہوئی ہے

اچانک کسی کھائی سے ٹن ٹنن ٹن ٹنن کی بہت تیز آواز

کانوں تو کیا

روح تک چھید کرنے لگی ہے

میں کیا دیکھتا ہوں

میں بستر پہ چادر کو مضبوطی سے تھام کر

پیٹ کے بل پڑا ٹن ٹنن ٹن سے بجتے الارم کو دیکھے چلا جا رہا ہوں

گرا جا رہا ہوں

یاور ماجد

بالِشتیے

کُرسیوں پر

میز کے چاروں طرف

بیٹھے ہوئے بالِشتیے

سگرٹیں سُلگائے

اپنی عینکوں کے

ملگجے شیشوں سے

اِک دُوجے کو تکتے

چائے کی چینک سے

کپ میں چُسکیاں بھرتے ہوئے

اور چھلکتی چائے کپ سے چاٹ کر

ڈونگرے برسا رہے ہیں داد کے اک بات پر

اور زیرِ لب

سرگوشیوں میں گالیاں بھی بڑبڑاتے جا رہے ہیں

اِن کے اک اک حرف، اک اک بات میں ایقان ہے

۔۔۔۔اور اک اندھا اعتماد

جیسے دُنیاؤں کے خالق نے

انہی کے مشورے سے

زندگی ترتیب دی

گالیوں کے، داد کے اور قہقہوں کے دور میں

چائے کے کپ میں اٹھے طوفاں کے بڑھتے شور میں

پنڈلیوں سے بانس باندھے

اپنا اپنا قد چھپا کر

سب کی پَستہ قامتی کو ماپتے بالِشتیے

اونچی آوازوں میں پورے زور سے

بات ہر اک دوسرے کی کاٹتے بالِشتیے

چائے کے کپ چاٹتے بالِشتیے

یاور ماجد

خزاں نہ جائے

ہزار راتوں کی بات چھوڑو

کہ ہم تو صدیوں سے اِک تصوّر کو جسم دینے کو رو رہے ہیں!

ہمارے دِل میں جو بے نہایت سی آرزو ہے

یہ جستجو ہے

جسے ابھی تک نجانے کتنی ہی حسرتیں ہیں

مگر وہ لمحہ!

کہ جب سبھی خواہشیں سنور کر،

بس ایک حسرت کے برف پیکر

میں ڈھل کے ماتم کا رنگ اوڑھیں!

تو ایک عالم پہ زنگ چھوڑیں!

بہار خوابوں کے گلستاں سے ہمیں بلائے!

خزاں نہ جائے!

یاور ماجد

ہمیں مجرم نہیں کہنا

وہی ہیں فاصلے اور قافلے پھر بھی رواں ہیں

انہی میں گم کہیں لمحوں کے، برسوں اور صدیوں کے گماں ہیں

یہ ہم جو ایک بوسیدہ عمارت کے کھنڈر سے پھول چننے جا رہے تھے

ہمارا خواب تھا!

ہم دہر کو خوشبو سے بھرنا چاہتے تھے!

مگر ہم ہڈیوں کی راکھ لے آئے

یہ ہم جو خواب کے دریا سے اِک جھرنا۔۔۔۔۔

بس اِک چھوٹا سا جھرنا چاہتے تھے

جو ہمارے دشت کی بے آب مٹی کو ذرا نم آشنا کر دے

مگر جانے کہاں سے لُو کا ہم طوفان لے آئے

کبھی بھی ہم نے لمبے فاصلوں سے سرخیاں دیکھیں

تو ہم اس سمت کو لپکے

مگر رستوں کے پیچ و خم میں ہی اتنا سمے بیتا

کہ ہم چہرے پہ زردی اور پیلاہٹ لپیٹے لوٹ آئے

وہی ہیں فاصلے قدموں کے منزل سے

وہی ہے راکھ چہرے پر،

وہی لُو کے تھپیڑے ہیں

وہی زردی میں لپٹی نیم وا آنکھیں

شکستہ دِل میں تھوڑا اور جی لینے کی خواہش بھی

مگر عمرِ معین کی بچی پونجی تو بس چند ایک لمحے ہے

یہ سچ ہے ہم کبھی بھی عشق کے معیار پر پورے نہیں اترے

مگر ایسا نہیں کرنا

ہمیں مجرم نہیں کہنا

کہ ہم کوہ مصائب پار کرنے سے کبھی منکر نہیں ٹھیرے

خدایا!!

ہم کو اب تیری گواہی کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔

ہمیں پھر سے تباہی کی ضرورت ہے

یاور ماجد

بوجھ

یہ میں ہوں

پاتال میں گڑا ہوں

وہ تُو ہے

ہر دم فلک کی جانب رواں دواں ہے

یہ میں ہوں

جس نے تجھے نکھارا

تجھے سنوارا

ترے لیے سب نشیلی راتوں کی نیند چھوڑی

ترے لیے سارے خواب چھوڑے

وہ خواب جن میں

تمام دنیا کی روشنی تھی

ہر ایک جنت کی تازگی تھی

بہار جن میں رچی بسی تھی

یہ میری آنکھیں

یہ زرد آنکھیں

یہ آنکھیں جن میں

ہزار راتوں کی تیرگی ہے

یہ میں ہوں

تیرے عظیم دولت سرا کو

اپنے مہین کندھوں پہ جانے کب سے لیے کھڑا ہوں

یہ میں

جو پاتال میں گڑا ہوں

یاور ماجد

خاک بَسَر جاگے

صبح لیتی ہے انگڑائیاں گاؤں میں

پھر اُجالا ہوا پُرفشاں گاؤں میں

کل تلک جھاڑ جھنکار‘ گرد و غبار

آج پھل پھول پُھلواریاں گاؤں میں

ہر قدم پر اُگے ہیں ستاروں کے کھیت

ہر گلی بن گئی کہکشاں گاؤں میں

صاف شفّاف روشن خنک راستے

اُجلے اُجلے معطّر مکاں گاؤں میں

فصلِ گندم کے خوشے جواہر نگار

موتیوں کی کمی اب کہاں گاؤں میں

کُوبکُو خوشبوؤں کے حسیں قافلے

سُو بہ سُو دُودھ کی ندّیاں گاؤں میں

زندگی مانگتی ہے زمیں سے خراج

کوئی ذرّہ نہیں رائیگاں گاؤں میں

عزم و اخلاص کی زندہ تصویر ہیں

شوخ بانکے سجیلے جواں گاؤں میں

رہٹ گاتا ہے پائل کی جھنکار پر

رقص کرتی ہیں پنہاریاں گاؤں میں

شہر کی پُر تصنّع فضاؤں سے دُور

میری منزل ہے جنّت نشاں گاؤں میں

شکیب جلالی

بادل

پورب سے آئے ہیں بادل

گنگا جل لائے ہیں بادل

رنگ ہے ان کا کاہی کاہی

پھیلی ہے ہر سمت سیاہی

چلتے ہیں یہ ہلکے ہلکے

رنگ برنگے روپ بدل کے

نظریں جب بھی اٹھاتے ہیں ہم

اک نئی صورت پاتے ہیں ہم

شیر کبھی بن جاتے ہیں یہ

ہم کو خوب ڈراتے ہیں یہ

شکل کبھی ہوتی ہے ان کی

موٹے تازے گھوڑے جیسی

دھیرے دھیرے نقش بدل کر

ہاتھی بن جاتے ہیں اکثر

جب یہ آتے ہیں مستی میں

دوڑ لگاتے ہیں مستی میں

یہ اُس کو چھونے جاتا ہے

وہ اُس کے پیچھے آتا ہے

کھیل ہی کھیل میں لڑ جاتے ہیں

یہ آپس میں غرّاتے ہیں

ایک پہ اک چڑھ کر آتا ہے

برقی کوڑے لہراتا ہے

پھر یہ اپنی سُونڈ اٹھا کر

جھاگ اُڑاتے ہیں دنیا پر

جن کو ہم بارش کہتے ہیں

جو دریا بن کر بہتے ہیں

شکیب جلالی

صبح

صبح سویرے اٹھتا ہوں

روز اندھیرے اٹھتا ہوں

اُٹھ کر سیر کو جاتا ہوں

ٹھنڈی ہوائیں کھاتا ہوں

پُھول اُسی دم کھلتے ہیں

غنچے آنکھیں ملتے ہیں

شبنم بکھری ہوتی ہے

کلیوں کا منھ دھوتی ہے

باغ مُعطّر ہوتا ہے

دل کش منظر ہوتا ہے

بلبل گیت سناتی ہے

کوئل شور مچاتی ہے

ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں

سب کو پنکھا جھلتی ہیں

ڈالی ڈالی ہلتی ہے

دل کو فرحت ملتی ہے

جسم میں چُستی آتی ہے

آنکھ بھی ٹھنڈک پاتی ہے

دن بھر جی خوش رہتا ہے

ہر غم ہنس کے سہتا ہے

جو کوئی اس دم سوتا ہے

اس نعمت کو کھوتا ہے

شکیب جلالی

عیدِ وطن

اس طَوراب کے گزری ہے اہلِ چمن کی عید

جیسے وطن سے دور غریبُ الوطن کی عید

دستِ جمیل رنگِ حنا کو ترس گئے

بوئے سَمن کو ڈھونڈتی ہے پیرَہَن کی عید

عارض ہیں زخم زخم تو آنکھیں لَہو لَہو

دیکھی نہ ہو گی دوستو اس بانکپن کی عید

گُل رنگ قہقہوں کی فصیلوں سے دور دور

نالہ بہ لب گزر گئی غُنچہ دہن کی عید

اے ساکنانِ دشتِ جنوں کس نشے میں ہو

شعلوں کی دَسترَس میں ہے سَرو و سَمن کی عید

شکیب جلالی

گیت

بہاروں کی ملکہ یہ بھونروں کی رانی

گلابی ادائیں ‘ شگفتہ جوانی

’’کوئی سن لے اَمرت نگر کی کہانی‘ ‘

یہ پیاسی امنگیں ‘ یہ نیناں رسیلے

’’مدُھرتا کے رسیا مدُھرتا کو پی لے‘ ‘

یہ گل رنگ مکھڑا کہ چندا لجائے

شگوفوں کو ڈھانکے، پَھبَن کو چھپائے

’’کوئی مجھ کو دیکھے مرے گیت گائے‘ ‘

یہ پیاسی امنگیں ‘ یہ نیناں رسیلے

’’مدُھرتا کے رسیا مدُھرتا کو پی لے‘ ‘

یہ پھولوں کی مالا‘ یہ بانہوں کے جُھولے

یہ رنگین کونپل شفق جیسے پُھولے

’’کوئی ان میں مچلے کوئی ان کو چُھولے‘ ‘

یہ پیاسی اُمنگیں یہ نیناں رسیلے

’’مدُھرتا کے رسیا مدُھرتا کو پی لے‘ ‘

اُمنگوں پہ غالب ہے صیّاد کا ڈر

مگر گنگناتا ہے پیروں کا زیور

’’کوئی دل میں آئے زمانے سے چُھپ کر‘ ‘

یہ پیاسی اُمنگیں ‘ یہ نیناں رسیلے

’’مدُھرتا کے رسیا مدُھرتا کو پی لے‘ ‘

شکیب جلالی

شہیدِ اعظم

نہ زلزلوں سے ہراساں ، نہ آندھیوں سے ملول

مثالِ کوہ تھے دشتِ بلا میں سبطِ رسولؐ

وہ زخمِ پاے مبارک، وہ برچھیاں ‘ وہ ببُول

وہ العَطَش کی صدائیں ‘ وہ تپتی ریت‘ وہ دُھول

شہید خاک پہ تڑپیں ‘ رِدائیں چھن جائیں

یہ امتحاں بھی گوارا‘ وہ امتحاں بھی قبول!

زمینِ کرب و بلا تجھ کو یاد تو ہو گی

لُہو میں ڈوب کے نکھری تھی داستانِ حُسینؑ

ہزار ظلم و تشدّد کی آندھیاں آئیں

کسی طرح نہ مٹا دہر سے نشانِ حُسینؑ

لَبوں پہ کلمہِ حق ہے دلوں میں ذوقِ جہاد

جہاں میں آج بھی رہتے ہیں ترجمانِ حُسینؑ

اگر حُسینؑ نہ دیتے سراغِ منزلِ حق

زمانہ کُفر کی وادی میں سو گیا ہوتا

جہاں پہ چھاگئے ہوتے فنا کے سنّاٹے

شعورِ زیست اندھیروں میں کھو گیا ہوتا

شکیب جلالی

شعلہِ دل

کبھی کبھی تو سرِ راہ دیکھ کر ہم کو

تمھارے سر سے بھی آنچل سرک ہی جاتا ہے

تمھاری عنبریں زُلفوں کی تیز لپٹوں سے

ہمارا سینہِ ویراں مہک ہی جاتا ہے

کوئی تو بات ہے جو ہم کو مُلتفت پآ کر

بصد غرور کبھی مسکرا بھی دیتی ہو

اداے خاص سے لہرا کے، رقص فرما کے

ہمارے شعلہِ دل کو ہوا بھی دیتی ہو

کبھی بہ پاسِ تقدّس، ہماری نظروں سے

اُلجھ کے ٹوٹ گئی ہے تمھاری انگڑائی

قسم خدا کی بتاؤ بوقتِ آرایش

حضورِ آئنہ تم کو حیا نہیں آئی

ہماری شورشِ جذبات کے تخاطب پر

تمھارے ہونٹ یقینا پھڑکنے لگتے ہیں

وُفورِ شوق کی رِم جِھم سے شوخ سینے میں

کبھی کبھی تو کئی دل دھڑکنے لگتے ہیں

اب اپنے نیم تغافل سے باز آجاؤ

تمھیں غرور ہی لازم ہے سرکشی تو نہیں

ہمارے ذوقِ طلب کے جواب میں حائل

ذرا سی شرم و حیا ہے ستم گری تو نہیں

نظر ملا کے محبّت کا اعتراف کرو

جو کرسکو تو حقیقت سے انحراف کرو

شکیب جلالی

غازی کا ترانہ

میں غازی ہوں مجھے عزم و یقیں کا شہر کہتے ہیں

مرے ہر وار کو دشمن خدا کا قہر کہتے ہیں

مجھے شعلوں کا دریا‘ بجلیوں کی نہر کہتے ہیں

سدا بڑھتا ہوں آگے پیٹھ دکھلانا نہیں آتا

میں غازی ہوں قضا سے مجھ کو گھبرانا نہیں آتا

عُقابی ہیں مری آنکھیں چمک جن میں شراروں کی

مرے ہی بازوؤں میں ہے صلابت کوہ ساروں کی

مری ہیبت سے لرزاں ہیں فضائیں کارزاروں کی

سدا بڑھتا ہوں آگے پیٹھ دکھلانا نہیں آتا

میں غازی ہوں قضا سے مجھ کو گھبرانا نہیں آتا

مری تکبیر کے آگے بموں کی گھن گرج کیا ہے

وہ ٹینکوں کی قطاریں لے کے آجائیں حرج کیا ہے

میں ہوں خیبرشکن‘ میرے یے دیوارِ کَج کیا ہے

سدا بڑھتا ہوں آگے پیٹھ دکھلانا نہیں آتا

میں غازی ہوں ‘ قضا سے مجھ کو گھبرانا نہیں آتا

پسینہ جس جگہ میرا گرے بارُود بُجھ جائے

اگر چاہوں قمر کی مشعلِ بے دُود بُجھ جائے

بدن کی خاک جھاڑوں آتشِ نمرود بُجھ جائے

سدا بڑھتا ہوں آگے پیٹھ دکھلانا نہیں آتا

میں غازی ہوں قضا سے مجھ کو گھبرانا نہیں آتا

ستونِ آہنی ہو کر ہَوا کی چال رکھتا ہوں

رگ و پَے میں رواں اک شعلہِ سیّال رکھتا ہوں

فرشتوں کی کمک اور آسماں کی ڈھال رکھتا ہوں

سدا بڑھتا ہوں آگے پیٹھ دکھلانا نہیں آتا

میں غازی ہوں قضا سے مجھ کو گھبرانا نہیں آتا

میں اعدا کو فنا کر کے ہی اب شمشیر ڈالوں گا

اگر بھاگے گا دشمن پاؤں میں زنجیر ڈالوں گا

میں پربت کاٹ ڈالوں گا سمندر چیر ڈالوں گا

سدا بڑھتا ہوں آگے پیٹھ دکھلانا نہیں آتا

میں غازی ہوں قضا سے مجھ کو گھبرانا نہیں آتا

شہادت زندگی کا میری اصلِ مُدّعا ٹھہری

مرے مقصد کی سچّائی مری وجہِ بقا ٹھہری

متاعِ خلد میری جاں نثاری کا صلہ ٹھہری

سدا بڑھتا ہوں آگے پیٹھ دکھلانا نہیں آتا

میں غازی ہوں قضا سے مجھ کو گھبرانا نہیں آتا

شکیب جلالی

الجیریا کے نام

کاکل ترے زرکار تھے

عارض شگوفہ زار تھے

ابر و اپی تلوار تھے

اے خستہِ تیغِ جفا

الجیریا … الجیریا

پاؤں میں تیرے بیڑیاں

چہرے پہ زخموں کے نشاں

دل میں گڑی ہیں سُولیاں

اب ہے سماں ہی دوسرا

الجیریا … الجیریا

تشنہ دَہاں تیرے سُبو

ارزاں ہے جِنس آبرو

مقتل سجے ہیں چار سُو

ہر اک ستم تجھ پر رَوا

الجیریا … الجیریا

بپھرا ہوا ہے سیلِ خُوں

صحرا بہ صحرا لالہ گوں

لرزاں ہے کوہِ بے سُتوں

بندِ مصائب تا کجا؟

الجیریا … الجیریا

پچھلا پَہَر ہے رات کا

ٹوٹیں گے تارے جا بجا

جلتی رہے شمعِ وفا

چمکے گا سورج دیکھنا

الجیریا … الجیریا

شکیب جلالی

سراب

……… 1 ………

مدتوں کنجِ قفس میں ہم نے

آشیانے کے لیے خواب بُنے

چاندنی رات کی مہکاروں میں

گنگنانے کے لیے خواب بُنے

اپنے تاریک شَبستانوں کو

جگمگانے کے لیے خواب بُنے

……… 2………

بزمِ ہستی میں اندھیرا ہی رہا

ماہ پَاروں کا فُسوں ٹوٹ گیا

جن سے غنچوں نے ہنسی مانگی تھی

ان بہاروں کا فُسوں ٹوٹ گیا

یا تو گرداب سے ابھرے ہی نہ تھے

یا کِناروں کا فُسوں ٹوٹ گیا

……… 3 ………

تُند موجوں سے اَماں مل نہ سکی

تیز دھاروں میں بھٹکتے ہی رہے

سایہِ گُل کے طلب گار تھے ہم

خارزاروں میں بھٹکتے ہی رہے

رہ نماؤں کا کرم کیا کہیے

رہ گزاروں میں بھٹکتے ہی رہے

……… 4 ………

تلخیِ زیست وہی ہے اب تک

وہی غم ہیں ‘ وہی تنہائی ہے

جب بھی فنکار نے لَب کھولے ہیں

ایک زنجیر سی لہرائی ہے

صبحِ آزادیِ گلشن تو نہیں

شبِ غم بھیس بدل آئی ہے

شکیب جلالی

بہ یادِ قائدِ اعظم

کفِ صبا پہ مہکتا ہوا گلاب تھا وہ

رَوش رَوش تری خوشبو سے مُشک بار ہوئی

کرن کرن ترے پَرتو سے تاب دار ہوئی

کفِ صبا پہ مہکتا ہوا گلاب تھا وہ

نگارِ موسمِ گُل کی جبیں کا داغ ہیں ہم

ہمیں سے لالہ و گُل کی قبا رفُو نہ ہوئی

ہمیں سے زحمتِ تائیدِ رنگ و بُو نہ ہوئی

نگارِ موسمِ گُل کی جبیں کا داغ ہیں ہم

مہ و نجوم کے جَھرنوں پہ نوحہ خواں ہوتے

تجھے جو خضر سمجھتے تو ہم یہاں ہوتے؟

شکیب جلالی

فریادی

کوئی نہیں ہے جو بُجھتی آنکھوں میں زندگی کے دیے جلادے

کوئی نہیں ہے جو دل کے دریا میں حسرتوں کے کنول کھلا دے

لبوں کی پگڈنڈیوں پہ آہوں کے گرم رَو قافلے رواں ہیں

کٹیلی آنکھیں لہُو لہُو ہیں ‘ ہلالی ابرُو دھواں دھواں ہیں

نظر پہ پَت جَھڑکی زردیوں کے مُہیب سایے بہت گراں ہیں

چمکتے تاروں کی آبِ جُو میں دُھلے ہوئے سائباں کہاں ہیں

نکیلی پلکوں کی سُولیوں پر حنائی اشکوں کے سرد لاشے

نہ جانے کب سے ٹنگے ہوئے ہیں نہ جانے کب تک ٹنگے رہیں گے

سمے کے جنگل میں شب کی ناگن لپکتی پھرتی ہے پَھن اٹھائے

سُلگتے داغوں کی روشنی کو کہیں یہ ڈس کر چلی نہ جائے

قدم قدم پر ستارے ٹوٹیں رَوش رَوش پر ہوا ڈرائے

اُجاڑ راہوں میں دل کی دھڑکن کسے پکارے‘ کسے بلائے

کوئی نہیں ہے جو بُجھتی آنکھوں میں زندگی کے دیے جلادے

کوئی نہیں ہے جو دل کے دریا میں حسرتوں کے کنول کھلادے

شکیب جلالی

غمِکوہکن

چار سُو آگ تھی نفرت کی لگائی ہوئی آگ

ہاں وہ آتش کدہِ‘ غیر سے لائی ہوئی آگ

جس نے کعبوں کو‘ کنشتوں کو بَھسَم کر ڈالا

جسم اور رُوح کے رشتوں کو بَھسَم کر ڈالا

میں نے اس آگ کو گُل زار بنانے کے لیے

دامنِ گُل کو شراروں سے بچانے کے لیے

دیدہِ شوق میں اشکوں کے سمندر پالے

قلبِ نادار میں داغوں کے نگینے ڈھالے

نہ ہوئے پر نہ ہوئے سرد جہنم کے شرار

مسکراتے رہے ذہنوں میں دھو ئں کے مینار

درمیانِ دل و جاں آگ کی دیوار رہی

زندگی کس کے لیے برسرِ پیکار رہی؟

شکیب جلالی

اے سرزمینِ الجزائر

چپّے چپّے سے اُبلتے ہوئے خُوں کے چشمے

تیری مظلومیِ بے حد کا پتہ دیتے ہیں

کتنے جابر ہیں نئے دور کے سلطاں زادے

تیری معصوم اُمنگوں کو سزا دیتے ہیں

جب بھی جولانیاں کرتا ہے ترا عزمِ جمیل

تیرے گرد اک نئی دیوار اٹھا دیتے ہیں

آگ محرومی کی روشن ہے جو تیرے دل میں

اپنے دامن سے اسے اور ہوا دیتے ہیں

—–

اس سے پہلے بھی یوں ہی جھلسے گئے دیدہ و دل

جسم روندے گئے تپتے ہوئے صحراؤں میں

تشنگی کاسہ بدست آئی تو شبنم نہ ملی

زہر گھولا گیا بہتے ہوئے دریاؤں میں

گرمیِ شوق نے جب انجمن آرائی کی

فصد کھولی گئی تیروں کی گھنی چھاؤں میں

خوں چکاں لاشوں پہ تعمیر ہوئے راج محل

روز اوّل سے یہی رسم ہے آقاؤں میں

خسرو و جَم نے تشدّد کا سہارا ڈھونڈا

ورنہ انسان تھے وہ کیسے خدائی کرتے؟

—–

چِلچلاتی ہوئی دھوپوں میں بھٹکتے پھرتے

سایہِ زُلف میں کیوں نغمہ سرائی کرتے؟

ان کی لغزش بھی سرِ راہ اُچھالی جاتی

لوگ ہر گام پہ انگشت نمائی کرتے!

دانے دانے پہ تھی محنت کش و جمہور کی مُہر

اپنی نسلوں کے لیے خاک کمائی کرتے

—–

یہ ہے وہ موڑ مگر رَہ گزرِ ہستی کا

کہ بہکتے ہوئے قدموں کو سنبھلنا ہو گا

ملک گیری کا تصوّر ہے لہو میں غلطاں

مُسکراتی ہوئی اقدار پہ چلنا ہو گا

امنِ عالم خس و خاشاک کا خرمن ہی تو ہے

سر اٹھاتے ہوئے شعلے کو کُچلنا ہو گا

کوئی ذرّہ ہو کہ صحرا‘ کوئی پتّھر کہ پہاڑ

تودہِ برف کے مانند پگھلنا ہو گا

شکیب جلالی

عید

اونچے محلوں میں پائل چھنکاتی ہے عید

میری گلی میں آتے ہوئے شرماتی ہے عید

پاس آئی تو جیسے مٹّی بن جائے گی

دُور ہی دُور سے اپنی چَھب دکھلاتی ہے عید

جلتے زخموں میں اور آگ سی بھردیتی ہے

دُکھی دلوں کو اور دُکھی کرجاتی ہے عید

تن پر اُجلے کپڑے اور نہ جھولی میں لعل

ہم کنگالوں سے کیا لینے آتی ہے عید

زرّیں کنگن کیسے پہنائیں خوشیوں کو

من کو نت نئی سوچوں میں اُلجھاتی ہے عید

شکیب جلالی

موجِ خرامِ عید

عید آئی تو یاد آنے لگے

دُور کے چاند‘ روشنی کے داغ

پیار کے پُھول‘ دوستی کے داغ

ہجر کے گیت‘ خامُشی کے داغ

نِت نئے زخم مُسکرانے لگے

زخم ناداریِ گُلستاں کے

زخم پُرکاریِ نگہباں کے

زخم غم خواریِ بیاباں کے

سیکڑوں تیِر اک رگِ جاں ہے

عِید بھی کیا بہار ساماں ہے

شکیب جلالی

شعورِ آزادی

بہشتِ شوق میں ڈھالیں گے خاکدانِ وطن

تلاشِ حُسن میں گرداں ہیں عاشقانِ وطن

دھواں دھواں ہی سہی کوچہِ بتانِ وطن

جبیں کے پاس تو ہے سنگِ آستانِ وطن

عیاں ہیں خونِ شہیداں کی عظمتوں کے نقُوش

زبانِ لالہ و گُل پر ہے داستانِ وطن

نسیمِ صبح کے جھونکے ذرا سہارا دے

اُبھر رہے ہیں اندھیروں سے خستگانِ وطن

وہ منتہیٰ نہ سہی کوئی سنگِ میل سہی

کسی مقام پہ پہنچا تو کاروانِ وطن

ہر ایک کُنج یہاں قابلِ نظارہ ہے

بس ایک گوشے پہ کیوں کیجیے گمانِ وطن

ہجومِ تشنہ لَباں دیکھتا ہے حسرت سے

غریقِ بادہ و ساغر ہیں خواجگانِ وطن

ہوا چلے تو فضائیں دمکنے لگتی ہیں

تہی نہیں ہے شراروں سے خاکدانِ وطن

اسے جسارت بے جا نہیں تو کیا کہیے

جنوں سے آنکھ ملاتے ہیں خسروانِ وطن

سدا دبی نہ رہے گی ضمیر کی آواز

یہ ایک مات بھی کھائیں گے شاطرانِ وطن

ابھی تو اور بڑھے گا شعورِ آزادی!

ابھی تو خواب سے چونکے ہیں ساکنانِ وطن

شکیب جلالی

طلوعِ سحر

فروغِ سُنبل و ریحاں کا وقت آپہنچا

اُٹھو کہ جشنِ بہاراں کا وقت آپہنچا

پگھل رہے ہیں گراں بار شب کدوں کے ستون

طلوعِ مہرِ درخشاں کا وقت آپہنچا

کوئی حسین سی تعبیر ڈھونڈ کر لاؤ

شکستِ خوابِ پریشاں کا وَقت آپہنچا

شبِ فراق کٹھن تھی مگر تمام ہوئی

وصالِ مہر جبیناں کا وقت آپہنچا

چلو چلو کہ بگولوں کا رقص ختم ہوا

طوافِ کوُچہِ جاناں کا وقت آپہنچا

دلوں کے داغ چھپاؤ‘ ہنسی کو عام کرو

شکستِ کُلفتِ دَوراں کا وقت آپہنچا

مرے رفیقو! ہنسو اور خوب کُھل کے ہنسو

نمایش لب و دنداں کا وقت آپہنچا

صنم کدوں کے درو بام سر بہ سجدہ ہیں

عُروجِ حضرتِ انساں کا وقت آپہنچا

نشانِ عظمتِ جمہور پھر بلند کرو

زوالِ سطوتِ شاہاں کا وقت آپہنچا

شکیب جلالی

انتظارِ بہار

کہاں سے آئی کدھر کو گئی نگارِ بہار

کہ گُلستاں میں ابھی تک ہے انتظارِ بہار

شگوفہ زار ہی مہکے نہ کو نپلیں پُھوٹیں

چمن میں پھر بھی منائی ہے یادگارِ بہار

یہی ہے قافلہِ رنگ و بُو کا حُسنِ خرام

کہ چُھپ گئی ہے بگولوں میں رہ گزارِ بہار

نہ چہچہے‘ نہ ترنّم‘ نہ زمزمے‘ نہ سرود‘

یہ بات کیا ہے کہ گُم صُم ہیں نغمہ کارِ بہار

کسی رَوش میں کوئی پُھول کِھل گیا تو کیا

قفس سے دشت و جبل تک ہو رہ گزارِ بہار

خزاں کی رات کٹھن ہے تو جاگ کر کاٹو

کہ زیرِ دار ہی سوتے ہیں جاں نثارِ بہار

شکیب جلالی

جوالا مکھی

کروٹیں خود بھی بدلتا ہے جہاں کا محور

جب زمیں گردشِ ایّام سے تھک جاتی ہے

جسم چھل جاتا ہے دھرتی کا رگڑ کھا کھا کر

لاکھ سنگین سہی جلد مَسک جاتی ہے

………………

سنگ اَندام شگافوں سے دھواں رِستا ہے

بطنِ گیتی سے بُخارات اُبل پڑتے ہیں

ملگجی دُھند سی آفاق پہ چھا جاتی ہے

تیرہ انداز گھٹاؤں سے شرر جھڑتے ہیں

………………

ایک بجلی سی تڑپتی ہے زمیں کے اندر

چادرِ خاک بہر سِمت سمٹ جاتی ہے

شعلے اٹھنے کے لیے راہ بنا لیتے ہیں

کوہساروں کے چٹخنے کی صدا آتی ہے

………………

زلزلوں کی وہ گراں بار بھیانک ضربیں

گنبدِ عرش کی بُنیاد ہلا دیتی ہیں

پنجہِ قہر کی مضبوط کمندیں اکثر

ایک جھٹکے سے پہاڑوں کو گرالیتی ہیں

………………

کچّی دھاتوں کے جراثیم لیے دامن میں

آتشیں لاوے کا سیلاب اُمنڈ آتا ہے

پھیل جاتے ہیں بہر سمت رقیق انگارے

کُرہِ ارض حرارت سے پگھل جاتا ہے

………………

خُوں اُگلتی ہیں فضائیں تو زمیں روتی ہے

آہِ مظلوم میں تاثیر یہی ہوتی ہے

شکیب جلالی

سلام

دلوں میں درد سا اُٹّھا‘ لیا جو نامِ حسینؑ

مثالِ برق تڑپنے لگے غلامِ حسینؑ

لَبِ فرات جو پیاسے رہے امامِ حسینؑ

خدا نے بھر دیا آبِ بقا سے جامِ حسینؑ

رضا و صبر میں ان کا جواب کیا ہو گا

کہ جب بھی تیر لگا‘ ہنس دیے امامِ حسینؑ

غرورِ تیرگیِ شب کو توڑنے کے لیے

تمام رات دہکتے رہے خیامِ حسینؑ

فنا کا ہاتھ وہاں تک پہنچ نہیں سکتا

اَبَد کی لَوح پہ کَندہ رہے گا نامِ حسینؑ

کسی شہید کا خوں رایگاں نہیں جاتا

جہانِ نو کے یزیدو! سنو، پیامِ حسینؑ

شکیب جلالی

عظمتِ آدم

آغوش میں ماہ پارے پالے ہم نے

گھر گھر میں نئے دِیپ اُجالے ہم نے

تاریک خرابوں کو نیا نُور دیا

ظُلمات سے آفتاب ڈھالے ہم نے

—–

جب جوش میں خوابیدہ اُمنگ آتی ہے

تیزابیِ خورشید کو شرماتی ہے

بپھری ہوئی نظروں کی تمازت کی قسم

پتّھر کی چٹان موم ہوجاتی ہے

—–

فانُوس کی لَو میں جھلملاتے ہیں کبھی

تاروں کی جبیں کو جگمگاتے ہیں کبھی

آنکھوں میں نُور بن کے رہتے ہیں ہم

سُورج کی کِرن میں مُسکراتے ہیں کبھی

—–

ہر رنج کو ہنس کے ٹال جاتے ہیں ہم

ناکامیوں پر بھی مُسکراتے ہیں ہم

اللہ کی قدرت کے تو قائل ہیں مگر

اپنی تقدیر خود بناتے ہیں ہم

—–

نظروں میں نیا زمانہ ڈَھلتا ہے حُضور

آغوش میں انقلاب پَلتا ہے حُضور

حالات کے سانچے مجھے کیا بدلیں گے

ماحول مِرے جَلو میں چلتا ہے حضور

شکیب جلالی

خانہ بدوش

یہ جنگل کے آہو، یہ صحرا کے راہی

تصنّع کے باغی، دلوں کے سپاہی

فقیری لبادے تو انداز شاہی

یہ اکھڑ ‘ یہ انمول‘ بانکے سجیلے

یہ خانہ بدوشوں کے چنچل قبیلے

مصائب سے کھیلے حوادث کے پالے

ہیں روشن جبیں ‘ گو ہیں پاؤں میں چھالے

یہ پیتے ہیں ہنس ہنس کے تلخی کے پیالے

کہ جیسے کوئی مَدھ بھرا جام پی لے

یہ خانہ بدوشوں کے چنچل قبیلے

طلب آشیاں کی نہ فِکرِ قفس ہے

نہ دولت کی پروا‘ نہ زر کی ہوس ہے

زباں میں گھلاوٹ نگاہوں میں رس ہے

ہیں جینے کے انداز میٹھے رسیلے

یہ خانہ بدوشوں کے چنچل قبیلے

زمانے کو چھوڑا صداقت نہ کھوئی

محبّت ہی کاٹی، محبّت ہی بوئی

نہ حاکم ہے کوئی، نہ محکوم کوئی

اُصولوں کے بندھن مگر ڈھیلے ڈھیلے

یہ خانہ بدوشوں کے چنچل قبیلے

ہے پھولوں کا بستر کبھی بَن میں ڈیرا

نہ تفریق کوئی‘ نہ تیرا نہ میرا

جہاں سب نے چاہا وہیں پر بسیرا

وہ صحرا کے گُل بن‘ وہ وادی کے ٹیلے

یہ خانہ بدوشوں کے چنچل قبیلے

ہر اک اپنی اپنی جگہ پر مگن ہے

نہ دیوارِ زنداں نہ حدِّ چمن ہے

یہاں بھی وطن ہے وہاں بھی وطن ہے

کوئی اِن سے تعلیمِ آوارگی لے

یہ خانہ بدوشوں کے چنچل قبیلے

شکیب جلالی

آفتاب ہو تم

سَحر کدے کا تقدّس قمر کی آب ہو تم

ہجومِ نُور ہو‘ شعلہ ہو‘ آفتاب ہو تم

یہ روشنی کا تمّوج‘ یہ شوخیوں کے شرار

نگارِ برق ہے رقصاں کہ بے نقاب ہو تم

ہے گوشہ گوشہ منوّر تو کُنج کُنج نکھار

دیارِ حسن ہو تم وادي شباب ہو تم

صبا کا لَوچ گُلوں کی پَھبن خمیر میں ہے

چمن کی رُوح بہاروں کا انتخاب ہو تم

نظر کہ جامِ صبوحی‘ چلن کہ مستیِ رقص

حریمِ بادہ ہو تم‘ پیکرِ شراب ہو تم

نَفَس نَفَس میں ترنّم کی جَوت جاری ہے

غزل کا شعر ہو تم نغمہ و رُباب ہو تم

یہ نغمگی‘ یہ بہاریں ‘ یہ رنگ و نُور‘ یہ رُوپ

خدائے حسن کی تصویرِ کامیاب ہو تم

یہ شورشیں ‘ یہ تکلّف‘ یہ لغزشیں ‘ یہ خرام

بہر ادا یہ حقیقت ہے لاجواب ہو تم

نہیں نہیں کہ حقیقت گراں بھی ہوتی ہے

سَحر شکار اُمنگوں کا کوئی خواب ہو تم

شکیب جلالی

کھنڈر

بادِ خزاں سے گلشنِ ہستی ہے ہم کنار

ویرانیوں کا رقص ہے اب ڈھل چکی بہار

کلیاں جُھلس چکی ہیں ‘ خزاں کا نُزول ہے

پُر ہَول خامشی ہے‘ بگولے ہیں ‘ دُھول ہے

وہ کج رَوی ہے اور نہ اب وہ غرور و ناز

گُنبد زمیں پہ بیٹھ گئے ہیں بصد نیاز

ابرو میں وہ تناؤ نہ آنکھوں میں کوئی رَس

محراب ہے نہ طاق نہ سینے پہ وہ کَلَس

نقش و نگار مسخ تو چہرے پر جھرّیاں

ہل کی اَنی سے پڑ گئیں کھیتوں میں دھاریاں

ہے یہ بدن پہ کھال کا سمٹا ہوا غلاف

ڈالے ہیں زلزلے نے عمارت میں کیا شگاف

نیلی رَگوں کے جسم پہ بکھرے ہیں جال سے

جیسے کہ رینگتے ہوئے کیڑوں کے سلسلے

ہر دم کمالِ ضُعف سے یوں کانپتا ہے سر

جیسے لرز رہا ہو سفینہ بہاؤ پر

خشکی جمی ہوئی لبِ سادہ پہ اس طرح

روغن اتر رہا ہو دریچے کا جس طرح

آنکھوں کی پُتلیوں پہ پپوٹوں کے سائباں

جیسے کسی مکان کی دربستہ کھڑکیاں

بینائی پر ہے دُھند کا پردہ پڑا ہوا

جیسے کہ رَوزنوں پہ ہو جالا تنا ہوا

بکھرے ہوئے یہ بال‘ یہ اُلجھی ہوئی لَٹیں

جیسے کسی درخت کی سُوکھی ہوئی جڑیں

ماتھا ہے ملگجی سا کہ پگھلا ہوا ہے رانگ

ٹوٹی ہوئی کڑی ہے کوئی یا شکستہ مانگ

سبزہ ہے رُخ پہ یا کہ ہے کانٹوں کی کوئی باڑ

بازو ہیں نیم وَا کہ ہیں اترے ہوئے کواڑ

اعصابِ مُردہ‘ جسم کا ہر حصّہ بے سَکت

آغوش جس طرح کوئی بیٹھی ہوئی سی چھت

یوں ضُعف سے درازیِ قامت ہے سَرنِگوں

بارہ دری کا جیسے خمیدہ سا اک ستوں

پُشت آبلہ نما تو کمر نصف دائرہ

مینار گویا اپنے ہی قدموں پہ آگرا

سینے پہ زندگی کے شکستہ سے بام و در

ڈھانچا ہے ہڈّیوں کا کہ اُجڑا ہوا نگر

کیا کیا نہ ظلم و جَور حَسیں جسم پر ہوئے

اُف وہ محل‘ جو وقت سے پہلے کھنڈر ہوئے

شکیب جلالی

زنجیریں

دم بخود سارے شگوفے تھے مہک سے محروم

نکہتِ گُل کی پھواروں پہ کڑے پہرے تھے

چمپئی بیل کی سیّال نمُو پر قدغن

سرو و سوسن کی قطاروں پہ کڑے پہرے تھے

غم کے تاریک لبادوں میں سمن زار اسیر

تیرگی پوش چناروں پہ کڑے پہرے تھے

گیت محبوس عنادل کے لبوں پر تالے

اس گھڑی زمزمہ کاروں پہ کڑے پہرے تھے

پھر ہوا شور کہ وہ طوق و سِلاسل ٹوٹے

تیرہ و تار دریچوں سے اُجالے پھوٹے

اک مسرّت کی کرن تیر گئی گلشن میں

اب شعاعِ گُل و انجم پہ کوئی قید نہیں

لالہِ وقت کے ہونٹوں پہ ستارے ابھرے

پھول سمجھے کہ تبسّم پہ کوئی قید نہیں

بند کلیوں کے چٹکنے کی کھنک لہرائی

جس طرح اذنِ تکلّم پہ کوئی قید نہیں

گھنگھرو باندھ کے پاؤں میں صبا اٹھلائی

جس طرح رقص و ترنّم پہ کوئی قید نہیں

لیکن افسوس کہ زنجیر صدا دیتی ہے

ہر اُبھرتی ہوئی آواز دبا دیتی ہے

شکیب جلالی

ہلالِ عید

یہ ہلالِ عید ہے قوسِ افق پر ضَو فگن

نیلگوں خیمے میں یا بیٹھی ہے کوئی سیم تَن

پُر تکلّف موڑ ہو جس طرح، جُوے شیر میں

یا ذرا خم آگیا ہو شاہدِ تنویر میں

مانگ ہو افشاں کی جیسے سنگِ مرمر کی کماں

جیسے انگشتِ سلیماں پر انگوٹھی کا نشاں

جس طرح برقاب خنجر، جیسے چاندی کی کٹار

یا کسی معصوم دوشیزہ کے سینے کا اُبھار

اس قدر نازک ادا جیسے کلائی حُور کی

اس قدر شفاف جیسے قاش ہو بِلُّور کی

نُورِ پیغامِ مسرّت ہر کرن سے ضَوفشاں

مطلعِ انوارِ عشرت ہیں زمین و آسماں

جس کو دیکھو آج اسی کو اشتیاقِ دید ہے

کوئی البیلی دُلھن ہے یا ہلالِ عید ہے

شکیب جلالی

نیا سویرا

جہانِ نو کے خداؤ نئی کرن پھوٹی

پرانے دیپ بجھاؤ نئی کرن پھوٹی

ہوا میں رُک نہ سکیں گی روایتی شمعیں

اب آفتاب جلاؤ نئی کرن پھوٹی

وہ پَو پھٹی وہ اُجالے کے نرم تیر چلے

وہ شب میں پڑگئے گھاؤ نئی کرن پھوٹی

سیاہیوں کا کفن چاک ہو گیا دیکھو

طلوعِ صبح مناؤ نئی کرن پھوٹی

شفق کے کھیت میں وہ روشنی کے پھول کِھلے

خزاں کو آگ لگاؤ نئی کرن پھوٹی

افق پہ چھا گئے زرکار و سیم گوں ڈورے

دلوں کے چاک ملاؤ نئی کرن پھوٹی

شفق بدوش رو پہلی سحر کی خوش رنگی

نظر نظر میں رچاؤ نئی کرن پھوٹی

پگھل رہا ہے دھواں دھار سطوتوں کا غرور

دہک اٹھا ہے الاؤ نئی کرن پھوٹی

شکار ہو نہ سکے گی جنوں کی زرتابی

خرد کے جال بچھاؤ نئی کرن پھوٹی

وہی جو تیرگیِ شب میں ظلم ڈھاتے تھے

اب ان کو پیار سکھاؤ نئی کرن پھوٹی

مرا پسینا جبینِ سَحر کا جُھومر ہے

مرا لہو نہ بہاؤ نئی کرن پھوٹی

جہاں سے حرص و ہَوس کا غُبار چَھٹ جائے

وفا کی دھوم مچاؤ نئی کرن پھوٹی

عیُوب پوش سیاہی کے سُودخوروں میں

متاعِ علم لُٹاؤ نئی کرن پھوٹی

ہر ایک فرد ہر انساں کا احترام کرے

اک ایسی رِیت بناؤ نئی کرن پھوٹی

نئی حیات جنم دن منا رہی ہے آج

نئے اصول بناؤ نئی کرن پھوٹی

شکیب جلالی

اس نے کہا

بھرے جہاں میں کہیں پیار مجھ کو مل نہ سکا

وفا سی شَے کا طلب گار مجھ کو مل نہ سکا

قدم قدم پہ بِکی ہے مری متاعِ شباب

قدم قدم پہ متاعِ شباب بیچوں گی

گراں ہیں دوش پہ زُلفوں کے عنبریں سایے!

یہ ریشمیں سے مُعطّر سحاب بیچوں گی

لطافتِ لَب و رُخسار ہے مری دشمن

بہارِ غنچہ و فصلِ گُلاب بیچوں گی

نہ راس آئی مجھے چاندنی وفاؤں کی

بطورِ خاص شبِ ماہتاب بیچوں گی

مرے جنوں نے بڑی تلخیاں خریدی ہیں

نظر کے جام‘ لبوں کی شراب بیچوں گی

مرا غُرور ہے آج انتقام آمادہ!

بدن کا لَوچ‘ نگاہوں کی آب بیچوں گی

قسم ہے مجھ کو تقدّس مآب مَریمؑ کی!

بڑے خُلوص سے شرم و حجاب بیچوں گی!

حیا نصیب شگوفوں کو لُوٹنے والو!!

بہارِ زیست کا میں انتخاب بیچوں گی!

کھنکتے سِکّوں نے جب تک تمھارا ساتھ دیا

میں اپنا حُسن‘ جوانی‘ شباب بیچوں گی

حیا فروش ہوں ‘ جاؤ میں نیک نام نہیں !

مری نظر میں تمھارا بھی کچھ مقام نہیں !

شکیب جلالی

جشن بہاراں

بساطِ رنگ بچھاؤ بہار آئی ہے

حریمِ وقت سجاؤ بہار آئی ہے

نظر کے ساتھ شفق رنگ مے کا دور چلے

فضا کو مست بناؤ بہار آئی ہے

فضا کی تشنہ لَبی پر مٹھاس بِکھرا دو

رسیلے گیت سناؤ بہار آئی ہے

کوئی خوشی کا فسانہ کوئی ہنسی کی بات

لَبوں سے پھول گراؤ بہار آئی ہے

صبا کے ساتھ ملا ہے پیامِ بیداری

کَلی کَلی کو جگاؤ بہار آئی ہے

نگارِ باغ کی دوشیزگی نکھر جائے

کَلی کو پھول بناؤ بہار آئی ہے

سَحر کا رنگ، ستاروں کا نور پگھلا کر

رخِ چمن پہ پھیلاؤ بہار آئی ہے

نئی دُھنیں ہوں ، نئے ساز ہوں ، نئی تانیں

پرانے گیت نہ گاؤ بہار آئی ہے

غمِ خزاں کا چمن میں کوئی نشاں نہ ملے

اِک ایسا جشن مناؤ بہار آئی ہے

یہیں پہ جنتِ قلب و نظر کی ہو تشکیل

یہیں پہ خلد بساؤ بہار آئی ہے

شکیب جلالی

مُجرم

یہی رستہ مری منزل کی طرف جاتا ہے

جس کے فُٹ پاتھ فقیروں سے اَٹے رہتے ہیں

خَستہ کپڑوں میں یہ لپٹے ہوئے مریل ڈھانچے

یہ بھکاری کہ جنھیں دیکھ کےِگھن آتی ہے

ہڈّیاں جسم کی نکلی ہوئی، پچکے ہوئے گال

میلے سر میں جوئیں ‘ اعضا سے ٹپکتا ہوا کوڑھ

رُوح بیمار‘ بَدن سُست‘ نگاہیں پَامال

ہاتھ پھیلائے پڑے رہتے ہیں روگی انسان

چند بیواؤں کے مدقوق سے پیلے چہرے

کچھ ہَوس کار نگاہوں میں اُترجاتے ہیں

جن کے افلاس زدہ جسم‘ ڈھلکتے سینے

چند سکّوں کے عوض شب کو بِکا کرتے ہیں

شدّتِ فاقہ سے روتے ہوئے ننّھے بچّے

ایک روٹی کے نوالے سے بہل جاتے ہیں

یا سرِ شام ہی سوجاتے ہیں بُھوکے پیاسے

ماں کی سُوکھی ہوئی چھاتی کو دبا کر منہ میں

چند بد زیب سے، شہرت زدہ انسان اکثر

اپنی دولت و سخاوت کی نمایش کے لیے

یا کبھی رحم کے جذبے سے حرارت پا کر

چار چھ پیسے انھیں بخش دیا کرتے ہیں

کیا فقط رحم کی حق دار ہیں ننگی روحیں ؟

کیوں یہ انسانوں پہ انسان ترس کھاتے ہیں ؟

کیوں انھیں دیکھ کے احساسِ تہی دستی سے

اکثر اوقات میں کترا کے نکل جاتا ہوں ؟

یہی رستہ مری منزل کی طرف جاتا ہے؟

شکیب جلالی

دلاسے

یہ لرزتے ہوئے حسیں آنسو

میرے عزمِ سفر میں حائل ہیں

مجھ میں اب ضبطِ غم کی تاب نہیں

میرے قلب و جگر بھی گھایل ہیں

ہجر کو ہجر کیوں سمجھتی ہو

صرف احساس پر ہے غم کا مدار

میں نے دیکھا ہے حوصلوں کے طفیل

ہو گئے ہیں اَلَم نشاط آثار

جب کوئی شے ہی پائدار نہیں

دُکھ کے لمحے بھی بیت جائیں گے

غم کا انجام مُسکراہٹ ہے

پھر خوشی کے زمانے آئیں گے

لذّتِ درد بڑھتی رہتی ہے

زخم ہر بار کُھل کے سِلنے میں

مستقل قُرب میں وہ بات کہاں

جو مزا ہے بچھڑ کے ملنے میں

یوں نہ ضائع کرو خدا کے لیے

اپنے اشکوں کے سیم پاروں کو

ان کو صرفِ خوشی بھی ہونا ہے

پونچھ لو قیمتی ستاروں کو

تم سے ملنے کے واسطے ہر دم

اپنے دل میں خلش سی پاؤں گا

جانِ من اس قدر اُداس نہ ہو

میں بہت جلد لوٹ آؤں گا

شکیب جلالی

پیامِ اقبال

……… 1 ………

بانسری پر کوئی دُھن چھیڑ کے کھوجا اس میں

مدھ بھری تان میں ہر گیت سناتا ہوا چل

راہ کی خُشک فضاؤں میں ترنّم گونجے

خواب آلود نظاروں کو جگاتا ہوا چل

بَربَطِ زیست پہ ہر گیت سُناتا ہوا چل

تجھ کو جانا ہے بہت دور‘ بہت دور ابھی

……… 2 ………

قافلے سے جو بچھڑ جائے مسافر کوئی

تیرے گیت اس کے لیے بانگِ درا بن جائیں

جب کوئی راہ بھٹکنے لگے منزل کے قریب

تیرے قدموں کے نشاں راہ نما بن جائیں

نقشِ پا سے رہِ منزل کو سجاتا ہوا چل

تجھ کو جانا ہے بہت دور‘ بہت دور ابھی

……… 3 ………

آبشاروں کے ترنّم ہی میں کھو جائے نہ تُو

راہ کی مست بہاروں کی تمنّا مت کر

جو کہ منزل کو بھلانے کی تجھے دعوت دیں

ایسے پُرکار نظاروں کی تمنّا مت کر

تشنگی صرف نگاہوں کی بُجھاتا ہوا چل

تجھ کو جانا ہے بہت دور‘ بہت دور ابھی

……… 4 ………

اس قدر تیز نہ چل جلد ہی تھک جائے گا

تھک کے رُک جانا تری شان کے شایاں بھی نہیں

پھر تُو کچھ دیر کہیں بیٹھ کے سستائے گا

اور سُستانا تری شان کے شایاں بھی نہیں

ایک رفتار سے قدموں کو بڑھاتا ہوا چل

تجھ کو جانا ہے بہت دور‘ بہت دور ابھی

……… 5 ………

منزلیں خود ترے قدموں کی تمنّائی ہیں

جُستجو میں ہیں تری خود ہی نشانِ منزل

پست ہمّت نہ بن اُمیّد سے مایوس نہ ہو

مل ہی جائیں گے کبھی خود ہی نشانِ منزل

ناامیدی کی چٹانوں کو ہٹاتا ہوا چل

تجھ کو جانا ہے بہت دور‘ بہت دور ابھی

……… 6 ………

دُور تک کوئی مسافر ہے نہ کوئی راہی

کس جگہ تیرے عزائم تجھے لے آئے ہیں

ہیں قدم تیرے ابھی زیرِ افق ہی شاید

کیسے بے رنگ دُھندلکے سے یہاں چھائے ہیں

عزمِ راسخ کے چراغوں کو جلاتا ہوا چل

تجھ کو جانا ہے بہت دور‘ بہت دور ابھی

……… 7 ………

تجھ کو آغوش میں لینے کو ہے بے تاب قمر

منتظر تیرے ابھی تک ہیں افق کے جادے

کون کہتا ہے کہ وہ تیری گزرگاہ نہیں

تیری منزل ہے ستاروں کے جہاں سے آگے

پرتوِ نور ہے تو عرش پہ چھاتا ہوا چل

تجھ کو جانا ہے بہت دور‘ بہت دور ابھی

شکیب جلالی

منقبت

ہو کہکشاں سے سوا کیوں نہ خاکِ کو ئے علیؑ

جما لِ آ یہء حق ہے جمالِ رو ئے علیؑ

علی ؑکے دستِ تصرّف میں کبریا کی رضا

وہ کبر یا کا عدو ہے جو عدوئے علیؑ

رسول نے جو سنی ہفت آسماں سے پرے

وہ گفتگو ئے خدا تھی کہ گفتگو علیؑ

نثار با غِ جنا ں تجھ پہ اے دیا رِ نجف

کہ تیری خا ک سے آتی ہے مجھ کو بو ئے علیؑ

امیرِ وقت کو کیا آ پڑی کو مشکل

کہ ہو رہی ہے مدینے میں جستجو ئے علی ؑ

قضا نے وار کیا بھی تو پشتِ سر پہ کیا

کسے مجال تھی آتا جو رُو بہ رُو ئے علیؑ

نہ شاہِ کشورِ نغمہ نہ تاج وارِ سخن

مگر شکیبؔ کو کہیے گدا ئے کو ئے علیؑ

شکیب جلالی

شہادتِ حق

واہمہ ہے کہ خدا؟

ذہن اُلجھے تو الجھتا ہی چلا جاتا ہے

چاند خاموش ستارے چپ ہیں

دل جو دھڑکے تو دھڑکتا ہی چلا جاتا ہے

ہاں مگر

واقعہِ کرب و بلا

تیرے مظلوم سجیلے کردار

دجلہِ خوں میں نہائے ہوئے بے باک سوار

درِ احساس پہ دیتے ہیں صدا

ہم نے ڈھونڈا ہے اُسے

پردہِ سنگِ نظر کے اُس پار

ہم نے پایا ہے اُسے

صفتِ رنگ کے پیراہن میں

اِک حقیقت کی طرح جلوہ نما

برق اد ا قَفسِ رنگ کے زندانی تجھے کیا معلوم

واہمے پر بھی کوئی جان دیا کرتا ہے؟

شکیب جلالی

چونکتے سایوں کی آواز

حسرتو! غم سے بے خبر گزرو

اس سمندر کی بے کرانی میں

موج در موج سیکڑوں گرداب

بنتے رہتے ہیں مٹتے رہتے ہیں

ایسے گرداب دیکھ کر جن کو

تیرگی اک نہنگ کی صورت

چار سُو ناچتی نظر آئے

اور ساحل کا راستہ نہ ملے!

شکیب جلالی

رات کے پچھلے پہر

شام ہی سے تھی فضا میں کسی جلتے ہوئے کپڑے کی بساند

اور ہوا چلتی تھی جیسے

اس کے زخمی ہوں قدم

دیدہِ مہر نے انجانے خطر سے مڑ کر

جاتے جاتے بڑی حسرت سے کئی بار زمیں کودیکھا

لیکن اس سبز لکیر

اس درختوں کی ہری باڑ کے پار

کچھ نہ پایا۔ کوئی شعلہ نہ شرار

اورپھر رات کے تنور سے ابلا پانی

تیرگیوں کا سیہ فواراہ

دیکھتے دیکھتے تصویر ہر اک چیز کی دھندلانے لگی

دور تک کالے سمندر کی ہمکتی لہریں

ہانپتے سینوں کے مانند کراں تابہ کراں پھیل گئیں

اور جب رات پڑی

سسکیاں بن گئیں جھونکوں کی صدا

دم بخود ہو گئے اس وقت درو بام

جیسے آہٹ کسی طوفاں کی سُنا چاہتے ہوں

آنکھیں مل مل کے چراغوں کی لوؤں نے دیکھا

لیکن اس سبز لکیر

اس درختوں کی ہری باڑ کے پار

کچھ نہ پایا۔ کوئی شعلہ نہ شرار

رات کے پچھلے پہر

ناگہاں نیند سے چونکی جو زمین

اس کی ہونٹوں پہ تھی غم ناک کراہ‘

کرب انگیز کراہ

اس کے سینے پہ رواں

بوٹ لوہے کے گمکتے ہوئے بوٹ

جس طرح کانچ کی چادر پہ لڑھکتی ہوئی پتھر کی سلیں

ہر قدم ایک نئی چیخ جنم لیتی تھی

خاک سے دادِ ستم لیتی تھی

شکیب جلالی

مبارک وہ ساعت

میں بھٹکا ہوا اِک مسافر

رہ و رسمِ منزل سے نا آشنائی پہ نازاں

تعاقب میں اپنی ہی پرچھائیوں کے رواں تھا

مرے جسم کا بوجھ دھرتی سنبھالے ہوئے تھی

مگر اس کی رعنائیوں سے مجھے کوئی دل بستگی ہی نہیں تھی

کبھی راہ چلتے ہوئے خاک کی رُوح پرور کشش

میں نے محسوس کی ہی نہیں تھی

میں آنکھوں سے بینا تھا لیکن

مرے چار سُو چادریں آئنوں کی طرح تھیں

کہ جن کے لیے میرا پر تو ہی تھا ایک زندہ حقیقت

کسی دوسرے کو گوارانہ تھی اس میں شرکت

میں کانوں سے بہرہ نہیں تھا

مگر جس طرح کہنہ گنبد میں چمگادڑوں کے بھٹکنے کی آواز گونجتی نہیں ہے

کھلے آسماں کے پرندوں کی چہکار اندر پہنچتی نہیں ہے

اسی طرح میرا بھی ذوقِ سماعت رسا تھا فقط اپنی ہی دھڑکنوں تک

بس اپنے لہو کی سُبک آہٹوں تک

میں بھٹکا ہوا اک مسافر

مری راہ پرمٹ چکے تھے سفر کے اشارات سارے

فراموشیوں کی گھنی دھند میں کھو چکے تھے جہت کے نشانات سارے

رہ و رسمِ منزل سے میں آشنا ہی نہیں تھا

کروڑوں مرے ہم سفر تھے

مگرمیں اکیلا

کروڑوں کی اس بھیڑمیں بھی اداس اور اکیلا

تعاقب میں اپنی ہی پرچھائیوں کے رواں تھا

میں شاید ہمیشہ یونہی اپنی پرچھائیوں کے تعاقب میں حیران پھرتا

اگر روشنی مجھ پہ چمکی نہ ہوتی

مبارک وہ ساعت کہ جب موت اور تیرگی کے گھنے سائباں کے تلے

روشنی مجھ پہ چمکی

مرے دل پہ دھرتی نے اور اس کے ارفع مظاہر نے اپنی محبت رقم کی

مبارک وہ ساعت کہ جب برق کے کوڑے لہراتی

لوہے کی چیلوں سے اور

آتشیں تیر برساتے فولاد کے پَر درندوں سے مُڈھ بھیڑ میں

میں نے دیکھے

مرے ساتھیوں کے جگر میں ترازو ہیں جوتیر

ہُوا ہوں میں خود ان کا نخچیر

جو قطرہ لہو کا گرا ان کے تن سے

بہا ہے وہ میرے بدن سے

مبارک وہ ساعت کہ جب میں نے جانا

مری دھڑکنوں میں کروڑوں دلوں کی صدا ہے

مری روح میں مشترک’’گرچہ قالب جداہے‘ ‘

شکیب جلالی

آنکھیں پُرنم

آنکھیں پُرنم

آنچ ہے مدّھم

زخمی تارے

آنکھ کا مرہم

غم کے بادل

چھم چھم‘ چھم چھم

ننھا سا دل

دنیا کا غم

ہار

کوئی پکارے

ہم ہیں تمھارے

ناؤ شکستہ

دُور کنارے

گرتے آنسو

ٹوٹے تارے

باغ الاؤ

پھول شرارے

چاند کی کشتی

نیل کے دھارے

دل کی دھڑکن

شعر ہمارے

کوئی جیتا ؟

ہم جب ہارے

شکیب جلالی

نذرِ وطن

……… 1 ………

ارضِ پاک‘ اے وطن

مہرو ماہ سے حسیں ترے گلاب و یاسمن

تیرے پھول پھول پر فدا شفق کا بانکپن

ایک برگ کے عوض نہ لوں بہارِ صد چمن

تجھ میں خُلد کی پَھبَن

ارضِ پاک‘ اے وطن

……… 2 ………

ارضِ پاک‘ اے وطن

تیری خاک کیمیا تری گھٹائیں زرفشاں …

تیرے سنگ وخِشت بھی جواہرات سے گراں

زندگی ہیں قوم کی تری سنہری کھیتیاں

تو متاعِ جان و تن

ارضِ پاک‘ اے وطن

……… 3 ………

ارضِ پاک‘ اے وطن

علم و فن کا بوستاں ‘ لطافتوں کی سرزمیں

دینِ حق کا پاسباں ‘ صداقتوں کا تُوامیں

بے کسوں کے واسطے تو اک منارہِ یقیں

حُرّیت تراچلن

ارضِ پاک‘ اے وطن

……… 4 ………

ارضِ پاک‘ اے وطن

حفظِ امن کے لیے جوان سر بکف

غیر کی مجال کیا جو بڑھ سکے تری طرف

آندھیوں کی راہ میں ہیں کوہسار صف بہ صف

تو شکستِ اَہر مَن

ارضِ پاک‘ اے وطن

شکیب جلالی

کالا پتّھر

میرا چہرہ آئینہ ہے

آئینے پر داغ جو ہوتے

لُہو کی برکھا سے میں دھوتا

اپنے اندر جھانک کے دیکھو

دل کے پتّھر میں کالک کی کتنی پَرتیں جمی ہوئی ہیں

جن سے ہرنتھرا ستھرا منظرکجلا سا گیا

دریا سُوکھ گئے ہیں شرم کے مارے

کوئلے پر سے کالک کون اتارے!!

شکیب جلالی

ساتھی

میں اس کو پانا بھی چاہوں

تو یہ میرے لیے ناممکن ہے

وہ آگے آگے تیز خرام

میں اس کے پیچھے پیچھے

اُفتاں خیزاں

آوازیں دیتا

شور مچاتا

کب سے رواں ہوں

برگِ خزاں ہوں !

جب میں اُکتا کر رک جاؤں گا

وہ بھی پل بھر کو ٹھہر کر

مجھ سے آنکھیں چار کرے گا

پھر اپنی چاہت کا اقرار کرے گا

پھر میں

منہ موڑ کے

تیزی سے گھر کی جانب لوٹوں گا

اپنے نقشِ قدم روندوں گا

اب وہ دل تھام کے

میرے پیچھے لپکتا آئے گا

ندی نالے

پتھر پَربَت پھاند تا آجائے گا

میں آگے آگے

وہ پیچھے پیچھے

دونوں کی رفتار ہے اک جیسی

پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے

وہ مجھ کو

یا میں اس کو پالوں

شکیب جلالی

روشنیوں کے دشمن

روشنیوں کے دشمن ادھر آرہے ہیں

ڈھانپ دو قمقمے

لالٹینوں پہ مل دو سیاہی کا زہر

روشنیوں پہ مَنڈھ دو اندھیرے کے بوجھل غلاف

کھڑکیوں سے نہ نکلے اُجالے کی مدّھم سی لہر

رَوزنوں سے بھی جھانکے نہ کوئی سجیلی کرن

آرہے ہیں ادھر روشنیوں کے دشمن

روشنیوں کے دشمن

اُجالوں کے قاتل‘

شکیب جلالی

تنہا ستارہ

وہ میری شمعِ رخ مہ جبیں

خوشبوؤں کی مکیں

آج مجھ سے بہت دُور ہے

اتنی ہی دُور جتنا یہ تنہا ستارا

نیلگوں شام کے دشت میں

مگر اس کے چہرے کی کرنیں مری چشمِ حیراں سے اوجھل نہیں ہیں

شکیب جلالی

آس

اک صحرا‘

جس کے ذرّے چُنتے چُنتے

میری اُنگلیاں شل ہوجائیں گی

ایک سمندر‘

جس کے جُرعے پیتے پیتے

میری سانس اُکھڑ جائے گی

شکیب جلالی

بنامِ اہلِ چمن

چمن میں ‘ اہلِ چمن! فکرِ رنگ و بُو تو کرو

بجھے بجھے سے شگوفوں کو شعلہ رُو تو کرو

ابھی سے جشنِ بہاراں ! ابھی سے شغلِ جُنوں

کلی کلی کو گلستاں میں سُرخ رُو تو کرو

یہیں پہ لالہ و گُل کا ہجوم دیکھو گے

خلوصِ دل سے بہاروں کی آرزو توکرو

یہ کیا کہ گوشہِ صحرا میں تھک کے بیٹھ گئے

اگر قیام کرو‘ نزدِ آبِ جُو تو کرو

گھنیری چھاؤں کی وادی یہیں کہیں ہو گی

کڑکتی دھوپ میں سایے کی جستجو تو کرو

بلندیوں کے مکینو‘ بہت اُداس ہیں ہم

زمیں پہ آ کے کبھی ہم سے گفتگو تو کرو

تمھیں بھی علم ہو‘ اہلِ وفا پہ کیا گزری

تم اپنے خونِ جگر سے کبھی وضو تو کرو

نہیں ہے ریشم و کمخواب کی قبا‘ نہ سہی

ہمارے دامنِ صَد چاک کو رُفو تو کرو

نگارِ صبحِ گریزاں کی تابشوں کو کبھی

ہمارے خانہِ ظلمت کے رُو برو تو کرو

طلوعِ مہرِ درخشاں ابھی کہاں یارو

سیاہیوں کے افق کو لہو لہو تو کرو

شکیب جلالی

عید کی بھیک

حضور! آپ مرے مائی باپ‘ اَن داتا

حضور! عید کا دن روز تو نہیں آتا

حضور! آج تو نذرِ علیؑ‘ نیازِ رسولؐ

حضور! آپ کے گھر میں ہو رحمتوں کا نزول

حضور! آج ملے جان و مال کی خیرات

حضور! آپ کے اہل و عیال کی خیرات

حضور! احمدِؐ مُرسل کی آلؑ کا صدقہ

حضور! فاطمہؑ زہرا کے لال کا صدقہ

حضور! آپ کی اولاد و آبرو کی خیر

حضور! آپ کے بیٹے کی اور بہو کی خیر

حضور! آپ کے بچے جییں ‘ پھلیں پُھولیں

حضور! آپ عزیزوں کی ہر خوشی دیکھیں

حضور! آپ کو مَولا سدا سُکھی رکھے

حضور! آپ کی جھولی خدا بھری رکھے

حضور! نامِ خدا کارِ خیر فرمائیں

حضور! آپ کے دل کی مُرادیں برآئیں

حضور! آج گداگر کو بھیک مل جائے

حضور! کب سے کھڑا ہوں میں ہاتھ پھیلائے

حضور! آنے‘ دو آنے کی بات ہی کیا ہے

حضور! آنکھیں چُرانے کی بات ہی کیا ہے

حضور! میری صداؤں پہ غور تو کیجیے

فقیر یہ نہیں کہتا‘ گلے لگا لیجے

شکیب جلالی

خداوندانِ جمہُور سے!

عُروسِ صبح سے آفاق ہم کنار سہی

شکستِ سلسلہِ قیدِ انتظار سہی

نگاہِ مہرِ جہاں تاب کیوں ہے شرمندہ

شفق کا رنگ شہیدوں کی یادگار سہی

بکھرتے خواب کی کڑیوں کو آپ چُن دیجے

کیا تھا عہد جو ہم نے وہ پائدار سہی

ہجومِ لالہ و ریحاں سے داد چاہتے ہیں

یہ چاک چاک گریباں گلے کا ہار سہی

گِنے جوزخمِ رگِ جاں ‘ شریکِ جشنِ حیات

پیے جو ساغرِ زہراب بادہ خوار سہی

چمن میں رنگِ طرب کی کوئی کمی نہ رہے

ہمارا خونِ جگر غازہِ بہار سہی

تھکن سے چُور ہیں پاؤں ‘ کہاں کہاں بھٹکیں

ہر ایک گام نیا حُسنِ رہ گزار سہی

سُکوں بدوش کنارا بھی اب اُبھر آئے

سفینہ ہاے دل و جاں بھنور کے پار سہی

شکیب جلالی

ہمارا دَور

گُلوں میں حُسن‘ شگوفوں میں بانکپن ہو گا

وہ وقت دُور نہیں جب چمن چمن ہو گا

جہاں پہ آج بگولوں کا رقص جاری ہے

وہیں پہ سایہِ شمشاد و نسترن ہو گا

فضائیں زرد لَبادے اُتار پھینکیں گی

عروسِ وقت کا زَرکار پیرہن ہو گا

نسیمِ صبح کے جھونکے جواب دہ ہو ں گے

کسی کلی کا بھی ماتھا جو پُر شکن ہو گا

نئے اصول نئی منزلیں تراشیں گے

یہ قافلہ مہ و انجم میں خیمہ زَن ہو گا

بڑے سُکون سے تعمیرِ زندگی ہو گی

کہیں یزید‘ نہ آزر‘ نہ اہرمن ہو گا

بُتانِ عصر کے خالق کو باخبر کردو

نئے زمانے کا ہر فرد بُت شکن ہو گا

دُکھے دلوں کی خراشیں جو کرسکے محسوس

اک ایسا صاحبِ دل صدرِ انجمن ہو گا

ہمارا دَور مساوات لے کے آئے گا

ہمارے دَور میں ہر آدمی مگن ہو گا

شکیب جلالی

اِنفرادیت پرست

ایک انساں کی حقیقت کیا ہے

زندگی سے اسے نسبت کیا ہے

آندھی اُٹھے تو اُڑا لے جائے

موج بپھرے تو بہا لے جائے

ایک انساں کی حقیقت کیا ہے

ڈگمگائے تو سہارا نہ ملے

سامنے ہو پہ کنا را نہ ملے

ایک انساں کی حقیقت کیا ہے

کُند تلوار قلم کر ڈالے

سرد شعلہ ہی بھسم کر ڈالے

زندگی سے اسے نسبت کیا ہے

ایک انساں کی حقیقت کیا ہے

شکیب جلالی

گریزپا

دھیرے دھیرے گررہی تھیں نخلِ شب سے چاندنی کی پتّیاں

بہتے بہتے اَبر کا ٹکڑا کہیں سے آگیا تھا درمیاں

مِلتے مِلتے رہ گئی تھیں مخملیں سبزے پہ دو پرچھائیاں

جس طرح سپنے کے جُھولے سے کوئی اندھے کنویں میں جاگرے

ناگہاں کَجلا گئے تھے شرمگیں آنکھوں کے نُورانی دِیے

جس طرح شورِ جَرَس سے کوئی واماندہ مسافر چونک اُٹھے

یک بیک گھبرا کے وہ نکلی تھی میرے بازوؤں کی قید سے

لب سُلگتے رہ گئے تھے ‘ چِھن گیا تھا جام بھی

اور میری بے بسی پر ہنس پڑی تھی چاندنی

آج تک احساس کی چلمن سے الجھا ہے یہ مبہم سا سوال

اُس نے آخر کیوں بُنا تھا بہکی نظروں سے حَسیں چاہت کا جال؟

شکیب جلالی

جہت کی تلاش

یہاں درخت کے اُوپر اُگا ہوا ہے درخت

زمین تنگ ہے (جیسے کبھی فراخ نہ تھی)

ہَوا کا کال پڑا ہے‘ نمی بھی عام نہیں

سمندروں کو بِلو کر‘ فضاؤں کو مَتھ کر

جنم دیے ہیں اگر چند ابر کے ٹکڑے

جھپٹ لیا ہے اُنھیں یوں دراز شاخوں نے

کہ نیم جان تنے کو ذرا خبر نہ ہوئی

جڑیں بھی خاک تلے ایک ہی لگن میں رواں

نہ تیرگی سے مَفَر ہے‘ نہ روشنی کا سوال

زمیں میں پاؤں دھنسے ہیں ‘ فضا میں ہات بلند

نئی جہت کا لگے اب درخت میں پیوند

شکیب جلالی

اِندمال

شام کی سیڑھیاں کتنی کرنوں کا مقتل بنیں

بادِمسموم نے توڑ کر کتنے پتّے سپردِ خزاں کر دیے

بہہ کے مشکیزہِ اَبر سے کتنی بوندیں زمیں کی غذا بن گئیں

غیر ممکن تھا ان کا شمار

تھک گئیں گننے والے ہر اک ہاتھ کی اُنگلیاں

’’ان گنت‘ ‘ کہہ کے آگے بڑھا وقت کاکارواں

ان گنت تھے مرے زخمِ دل

ٹوٹی کرنوں ‘ بکھرتے ہوئے زرد پتّوں ‘ برستی ہوئی بوندیوں کی طرح

اور مرہم بھی ناپَید تھا

لیکن اس روز دیکھا جو اک طفلِ نوزائیدہ کا خندہِ زیرِلَب

زخمِ دل مُندمل ہو گئے سب کے سب!

شکیب جلالی

فردیات

اِظہارِ آرزُو سے، رَوَیّے بَدَل گئے
حِدَّت بڑھی تو سائے بھی گرمی میں ڈھَل گئے
﴿۔۔۔﴾
جب بھی ہم تم سے مِل کے آتے ہیں
پھول، شاخوں پہ کھِل کے آتے ہیں
﴿۔۔۔﴾
حیرَت ہے، وہی فَردِ مَحاسِن ہے کَم و بیش
اَسمائے اِلٰہی میں مَگَر "ماں” نہیں مِلتا
﴿۔۔۔﴾
کیا زُعم ہے گویا کہ ہُوئی راہِ فَنا بَند
بیٹھا ہُوں کِیے فَخر سے مُٹّھی میں ہَوا بَند
﴿۔۔۔﴾
مَنظَرِ جَذب و فَنا یُوں نَظَر آتا ہے مُجھے
آئینہ بھی تِری تَصویر دِکھاتا ہے مجھے
﴿۔۔۔﴾
سُراغ پا نَہ سَکے کوئی میرے غَم کا کبھی
مِٹاتا جاتا ہُوں نقشِ قَدَم بھی ہاتھ کے ہاتھ
﴿۔۔۔﴾
تُجھ کو نعم البدل کی خواہش ہے
آ مرے دل سے اپنے دل کو بدل
﴿۔۔۔﴾
دامنِ درد کو گلزار بنا رکھا ہے
آؤ اِک دن دلِ پُر خوں کا ہنر تو دیکھو
﴿۔۔۔﴾
دَستَک بھی کیا کرے کوئی دَر کھولتا نہیں
زِندہ ہے سارا شہر مَگَر بولتا نہیں
﴿۔۔۔﴾
ہجومِ ہَمسَفَراں تھا کہ ایک میلا تھا
فرازِ دار سے دیکھا تَو میں اکیلا تھا
﴿۔۔۔﴾
ہے اَزَل سے پَردَہ دارِعِزَّت و نامُوسِ عِشق
بَن کے چَشمِ مُنتَظِر ہَر زَخمِ دِل اَندَر کُھلا
﴿۔۔۔﴾
گِھرا ہُوا میں شَبِ کَربَلائے عَصر میں ہُوں
ذَرا چراغ بُجھا دُوں کہ کُچھ نَظَر آئے
﴿۔۔۔﴾
بارانِ سَنگ ہے شَجَرِ میوہ دار پَر
بے بَرگ و بار سُوکھے شَجَر خیریَت سے ہیں
﴿۔۔۔﴾
خواہانِ دوستی سے یہ پہلے ہی پُوچھ لو
ترکِ تَعَلُّقات کا کیا اِنتظام ہے
﴿۔۔۔﴾
وقارِ عِشق کو مِلتی نہ گر اَنا ہم سے
ہَر اِک حَسین بَزعمِ خُود اِک خُدا ہوتا
﴿۔۔۔﴾
میں انتقام اندھیروں سے لوں گا جی بھر کے
ہر ایک بزم سے نکلوں گا روشنی کر کے
﴿۔۔۔﴾
میں جیسے کرتا ویسے ہی تُو احترام کر
لَوحِ مَزار! جُھک، اُنہیں جُھک کر سلام کر
﴿۔۔۔﴾
دَشت کی طَرَف بھاگا کہہ کے ایک سَودائی
کِس بَلا کا مَجمَع ہے کِس غَضَب کی تنہائی
﴿۔۔۔﴾
دَورِ جہل میں اِس کو حَق نہیں ہے جینے کا
پِھریہ جی رَہی ہے کیوں آگَہی سے لَڑتاہُوں
﴿۔۔۔﴾
ہَم وہ طَبیِب ہیں کہ مَرَض کُچھ عِلاج کُچھ
کَرنا عِلاجِ کور تھا، مَنظَر بَدَل دِیا
﴿۔۔۔﴾
ضَمِیرِ عَصر کا یہ جَشنِ مَرگ ہے، وَرنہ
بھَرے جَہاں میں کِسی نے تَو کُچھ کَہا ہوتا
﴿۔۔۔﴾
نَظَر و نُطق و سَماعَت سے گَواہی لیں گے
ہَم بھَلا کیوں سَنَدِ ظِلِّ اِلٰہی لیں گے
﴿۔۔۔﴾
بِیا بَخَلوَتَم اَفشائے راز خُواہَم کَرد
دِلَم بَہ سِحرِ نگاہِ تو باز خُواہَم کَرد
﴿۔۔۔﴾
تُم ذَرا میرے سامنے بیٹھو
میں خَلاؤں سے ہو کے آتا ہُوں
﴿۔۔۔﴾
میں، تَصَوُّر میں سَجائے آشیاں
رو رَہا ہُوں ہاتھ میں تِنکے لیے
﴿۔۔۔﴾
کِس ہَوا میں ہو مِیاں؟ پُوچھتی ہے وَقت کی گَرد
کِس کا نَقشِ کَفِ پا میں نے سَدا رَکّھا ہے؟
﴿۔۔۔﴾
مُصحَفِ رُخ پَہ مَیکَدہ آنکھَیں
تُم تَو دَیر و حَرَم اُٹھا لائے!
﴿۔۔۔﴾
حَرف کیا؟ لَفظ اُور معانی کیا؟
"زیر” گر ہو گیا "زَبَر” اِک دِن
﴿۔۔۔﴾
کیا کہیے مجھ میں کون تھا کَل محوِ گُفتُگو
کیا کیا کُھلے ہیں راز شکستِ اَنا کے بعد
﴿۔۔۔﴾
میں پُر خلوص محبّت کا دِل سے قائل ہُوں
کوئی بَتائے تَو لیکن، کہاں سے مِلتی ہے؟
﴿۔۔۔﴾
یہ مَزاروں پَہ دَھماکوں کے بَہانے کَب تَک
اَب کِیے جائیں گے تَعمِیر بَہانوں کے مَزار
﴿۔۔۔﴾
ایک وہ زمانہ تھا موت سے یہ عاجز تھی
موت اب کھلونا ہے زندگی کے ہاتھوں میں
﴿۔۔۔﴾
یہ سَب مَسائلِ مَوت و حَیات و کفر و حَق
خُدا کے ہاتھ میں کچھ اِختیار ہے کہ نہیں؟
﴿۔۔۔﴾
مُمکِن ہے اِتّفاق سے اُٹّھی ہووہ نَظَر
دِل ہے کہ لے اُڑا اُسے کیا کیا سَمَجھ لِیا
﴿۔۔۔﴾
فِکرِ تَعبیر بعد میں کرنا
پہلے آنکھوں میں خواب تَو لاؤ
﴿۔۔۔﴾
دادِ سخن کے شور میں خاموش اِک نظر
حُسنِ غزل کی ہے کہ ہے حُسنِ طلب کی داد
﴿۔۔۔﴾
ہَر نَئے صَدمے پَہ ضاؔمن اِک غَلَط فہمی ہُوئی
لوگ کہتے تھے کہ صَبر آجائے گا، کَب آئے گا؟
﴿۔۔۔﴾
اِک آندھیوں کا رَفیق، ایک بَرق کا ہَمراز
یہ باغباں مِرا گُلشَن جَلا کے چھوڑیں گے
﴿۔۔۔﴾
سکھا دیا ہے بہت کچھ فریبِ منزل نے
سو اب جنوں کو کوئ نقشِ پا پسند نہیں
﴿۔۔۔﴾
ذَرَّہِ خاکِ وَطَن! وَجہِ محبّت مَت پُوچھ
تُجھ میں اسلاف کے پوشیدہ بَدَن ڈُھونڈتا ہُوں
﴿۔۔۔﴾
بارانِ سنگ ہے شَجَرِ میوہ دار پر
بے برگ و بار سوکھے شَجَر خیریت سے ہیں
﴿۔۔۔﴾
بادِ صَبا پہ، خاروں پہ، موسم پہ، اِتّہام
واقف اَگرچہ سَب ہیں کہ صیّاد کون ہے
﴿۔۔۔﴾
جو دَورِ خانہ بَدوشی تھا اِن کا، خَتم ہُوا
ہَر ایک دَرد و اَلَم اَب مِری پَناہ میں ہے
﴿۔۔۔﴾
گردشِ دَوراں پر دو مختلف اشعار
چُپکے سے اَپنی جان بَچا کَر نِکَل گئی
میں پِھر رَہا تھا گَردِشِ دَوراں کے آس پاس
ہِمَّت نہیں ہے اِس میں کہ یہ مجھ کو ڈھونڈ لے
میں رہ رَہا ہُوں گَردِشِ دَوراں کے آس پاس
﴿۔۔۔﴾
مُنہ جو چھپائے پِھرتا ہوں دیوار و در سے میں
ڈرتا ہوں بات کرتے ہوئے اپنےگھر سے میں
﴿۔۔۔﴾
دل و نظر کے مسائل خرَد کے بس میں نہیں
معاملاتِ جنوں ہیں، جنوں سے بات کرو
﴿۔۔۔﴾
نقش بَر آب جِس کو سمجھے ہم
نقش وہ آبِ چشمِ نَم میں ہے
﴿۔۔۔﴾
جمالِ ظرف بہ حَدِّ کمال ہے اُس کا
میں جو بھی سوچُوں وہ پہلے خیال ہے اُس کا
﴿۔۔۔﴾
جادَہِ جستجو پَہ رَہ منزلِ آگہی نہ پُوچھ
ہو گا سفَر تمام کب؟ ایسے سوال بھی نہ پُوچھ
ضامن جعفری

ایک زلزلہ زدہ کی فریاد

وہ مرا نورِ نظر لختِ جگر واپس کر
زندگی بھر کی ریاضت کا ثمر واپس کر
کیسا اِنصاف ہے یہ ماؤں سے تو بچوں کو
کھیلتا چھین لے، پھر خون میں تر واپس کر
جوڑ دے تیری مشیّت سے جو دل ٹوٹے ہیں
اور آنکھوں سے بہے لعل و گہر واپس کر
کیا بھلا تیرے خزانوں کو ضرورت اُن کی
وہ شکستہ مری دیوار وہ در واپس کر
رحمتِ حق کے تصور کا بھرم رکھ ورنہ
اُس سے وابستہ سب اوصاف و ہنر واپس کر
زندگی دی ہے تو پھر اُس کے لوازم بھی ہیں
کھول راہوں کو رفیقانِ سفر واپس کر
اے محافظ مرے اے قادرِ مطلق میرے
دل یہ کہتا ہے عقائد کی سپر واپس کر
مصلحت جو بھی تری ہو مری بربادی میں
یا وہ سمجھا دے مجھے یا مرا گھر واپس کر
ضامن جعفری

غزہ

مَوت کی نیند سے بچّوں کو جگایا جائے
عید کا چاند انہیَں بھی تَو دِکھایا جائے
کوئی اندھوں کو دِکھائے تَو یہ سَیلابِ لہو
شور ان لہروں کا بَہروں کو سُنایا جائے
جب تلک غَزہ میں یہ رَقصِ اَجَل خَتم نہ ہو
عید کا جَشنِ طَرَب خاک مَنایا جائے
دَستِ صہیون ہے دَر پَردۂ خدّامِ حَرَم
وَطَنِ شافعِ محشر کو چھُڑایا جائے
دولتِ زیرِ زمیں پر جو ہیں ظالم قابض
ضامنؔ اَب زیرِ زمیں ان کو بَسایا جائے
ضامن جعفری

شام

میانِ روز و شب چھوٹی سی بستی
بھلا میں کیا ہُوں اُور کیا میری ہستی
تھکی ماندی ،امیدِ صبحِ فردا
سفر سے رایگانی کے بالآخر
مری آغوش میں سر اپنا رکھ کے
اَبھی فردا سے بالکل بیخبر ہے
اور اِس امّید کے معصوم رُخ پر
جمی ہیں مستقل میری نگاہیں
اَگر کچھ دیر کو یہ آنکھ کھولے
کسی طرح سے میں اِس کو بتادوں
مگر اِس کو یقیں آئے نہ آئے
ابھی اِک اور بھی منزل کڑی ہے
نئی امّید کے فردا سے پہلے
ابھی تَو ایک پوری شب پڑی ہے
ضامن جعفری

تَجَسُّس

سَجدَہ مَلائکہ سے کَرایا ہی کیوں گیا
مُجھ کو بلندیوں پہ بِٹھایا ہی کیوں گیا
خَطرَہ نہ تھا بَہِشت میں گَر اِقتدار کو
رائی کا پھِر پَہاڑ بَنایا ہی کیوں گیا
ضامن جعفری

خوابِ جَوانی

قلم سے بیاں ہو نہ ہو مُنہ زبانی
عجب چیز ہوتی ہے آتی جوانی
یہی دل کی ضد ایک گاہے بہ گاہے
میں چاہوں کسی کو کوئی مجھ کو چاہے
محبت کا جویا کوئی دل جو پالوں
دیے سے دیا ایک میں بھی جلا لوں
بیاں مختصر ہو مگر لفظ سچّے
کوئی یہ کہے، آپ لگتے ہیں اچھّے
اِسی کَشمَکَش میں جوانی تھی گُم سُم
کہ اِک دن اچانک نظر آ گئیں تُم
طلسمِ جوانی میں کھوئی ہُوئی سی
’’نہ جاگی ہوئی سی نہ سوئی ہوئی سی ‘‘
نہ منزل تھی کوئی نہ تھی فکرِ جادہ
وَرَق تھا ابھی دل کا سادے کا سادہ
نظر تم نے ملتے ہی فوراً جھکالی
لچک کر جھکے جیسے پھولوں کی ڈالی
یہ لمحہ جو صدیوں کا نعم البدل تھا
ہمیں تحفۂ نقش بندِ ازل تھا
شب و روز پھر احتیاطوں میں گزرے
تخیّل تصور سے باتوں میں گزرے
پھر اِک روزتنہائی میں تُم کو پا کر
کَڑ ا کر کے دل کو ،دبے پاؤں آ کر
جو دل میں تھا سب بر ملا کہہ دیا تھا
تُمہیں یاد ہے کچھ کہ پھر کیا ہُوا تھا
وہ جذبوں پہ صدیوں کی قدروں کا پہرہ
سفید ہو گیا تھا گلابی یہ چہرہ
تَو گھبرا کےچاروں طرف تُم نے دیکھا
مرے مُنہ پہ پھر ہاتھ رکھ کر کہا تھا
خدا کے لئے چُپ رہیں ،لب نہ کھو لیں
کہیِں کوئی سُن لے گا، آہستہ بولیں
ضامن جعفری

محترم شان الحق حقّی صاحب

مردِ بزرگ، صاحبِ تحقیق، خضرِ راہ
علمِ لغت کے واحد و بے تاج بادشاہ
تحفہ دیا ہے رحمتِ پروردگار نے
پیدا ہوئے ہیں گیسوئے اردو سنوارنے
عصرِ کہن کی گود کے پالے ہوئے ہیں یہ
تہذیبِ رفتگاں کو سنبھالے ہوئے ہیں یہ
اَوجِ کمال فکر کا ہے دسترس کا ہے
یہ رنگ یہ رچاؤ ستاسی برس کا ہے
جب طبع نے اشارۂ نوکِ قلم کیا
فکر و خیال نے سرِ تسلیم خم کیا
علم و ادب کی جھیل میں کِھلتا کنول ہیں یہ
صِنفِ غزل یہ کہتی ہے حسنِ غزل ہیں یہ
اشعار ہیں بلا کی روانی لئے ہوئے
ہر لفظ ایک گنجِ معانی لئے ہوئے
ایسا وقارِ لفظ و معانی کہاں سے لاؤں
آئینہ کہہ رہا ہے کہ ثانی کہاں سے لاؤں
شان و شکوہ و دبدبہ و آن بان ہے
اِن سے بہارِ گلشنِ اردو زبان ہے
ضامن جعفری

تحلیلِ نفسی

یہ چاہت ہے؟محبت ہے؟جُنونِ عشق ہے؟کیا ہے؟
زمانہ بھر ہے آمادہ، مری تحلیلِ نفسی پرمگر فرصت کسے اِتنی؟
کہ وہ کچھ فیصلہ کرنے سے پہلے، مجھ سے بھی پوچھے
کہ حسن و عشق کے بارے میں میرا کیا تصور ہے؟
کوئی سننے پہ راضی ہو تو بس یہ عرض کرنا ہے
مرے جذبات کی دنیا میں ، جو آئین نافذ ہے
نگاہِ بے ریا،بے لوث دل اور جرأ تِ اِخلاص نے، مل کر بنایا ہے
مری دنیا میں بس اِن تین کی فرماں روائی ہے
نگاہوں میں کوئی خواہش نہیں ہے، اُس کو پانے کی
غبارِ آرزوسےدامنِ دل پاک ہے میرا
خلوصِ عشقیہ رَس گھولتا رہتا ہے، کانوں میں
اگر دل میں اُسے پانے کی خواہش ہے تو یہ ملحوظِ خاطررکھ
کہ خواہش کو محبت کہہ نہیں سکتے
حریر و شعلۂ جوّالہ کو آپس میں کیا نسبت؟محبت اور خواہش کا ہو سنگم!کیسے ممکن ہے؟
گر ایسا ہے، تو پھر ضامنؔ!
ضرورت نےغرض نےیا، ہَوَس نے بھیس بدلا ہے
یہ زک دینے کی سازش ہے،
خلوصِ عشق کو میرے،
مر ے حسنِ محبت کو
ضامن جعفری

پلَیٹَو نِک لَو

۔۔ پہلا رُخ ۔۔
میں نے چاہا تھا تجھےعام رَوِش سے ہٹ کر
خواہشِ لمس سے آزاد تھی چاہت میری
روح کی ،روح سے
پاکیزہ محبت کی طرح
اِک پجاری کی، کسی بت سے
عقیدت کی طرح
جس طرح سے
کسی نغمے پہ سماعت مچلے
دیکھ کر تاج محل
جیسے بصارت مچلے
ذہن میں جیسے کوئی ایسا تصور اُبھرے
حُسنِ صورت سے پرےاحترام اور محبت کو لئے
آرزو جس میں نہ ہو کوئی نہ خواہش کا وجود
جیسے ہر اَنگ میں رس گھول دے لحنِ داؤد
جانے دنیا میں کہیں ایسی لگن ہے کہ نہیں
کبھی سوچا ہی نہیں تیرا بدن ہے کہ نہیں
۔۔ دوسرا رُخ ۔۔
اب جو ٹھکرایا ہے تو نے
تو خیال آیا ہے
تیری دنیا میں
بھلا کام ہی کیا تھا میرا
میں بھٹکتا ہُوا ،کس سمت نکل آیا ہوں
ایک ناکارہ سی سوغات،اُٹھا لایا ہوں
عشق میرا
ترے پندار سے بھی نازک تر
ایک پودا تھا
جسے چھُو لو، تو مر جاتا ہے
اور اُدھر
رسم و روایت کی روا دار ہے، تُو
روح کو چھوڑ کے
پیکر کی پرستار ہے، تُو
تیرا اصرار ہے یوں تجھ کو نہ چاہا جائے
کرلوں تاراج میں خود اپنی ہی دنیائے خیال
تا کہ رسم و رہِ دنیا کو نباہا جائے
میری بے لَوث محبت کا تقاضا بھی یہ تھا
اپنی خوشیوں کو
تری خوشیوں پہ وارا جائے
جب میسر ہی نہ ہوترکِ تعلق کے سوا
کوئی صورت، کوئی راہ
عشق کو
صرف سِپَر ڈال کے ملتی ہے پناہ
سو، یہی میں نے کیا
زندگی بھرتری اِس ضد کو نباہوں گا میں
تجھ کو بھی علم نہ ہویوں تجھے چاہوں گا میں
اِک اَنوکھی سی مسرّت ہےیہ سمجھوتہ بھی
میں بھی خاموش ہوں اِس جھوٹ پہخوش ہے تو بھی
ضامن جعفری

حفظِ مراتب

احباب و اقربا کا کرم مانتا ہُوں دوست
کس کس کے زیربار ہُوں سب جانتا ہُوں دوست
آئینہ دارِ حفظِ مراتب ہیں زخمِ دل
ہر دست وسنگ و خشت کو پہچانتا ہُوں دوست
بادہ پیماؤں میں نے بادیہ پیماؤں میں
بادہ پیماؤں میں نے بادیہ پیماؤں میں
ہُوں اکیلا ہی میں اَب اَپنے شناساؤں میں
فَرطِ وحشَت میں یہ میری ہی اُڑائی ہوئی ہے
خاک ناپید ہُوا کرتی تھی صحراؤں میں
قحطِ اقدار کے اِس دَور میں حیَرَت کیسی
دھُوپ جیسی ہی تَمازَت ہو اَگَر چھاؤں میں
اِک نظر ڈال دِیا کیجے بَس آتے جاتے
کتنی ترمیم کروں اب میں تمنّاؤں میں
خُود سے بہتر کی نہ تحسیِن پہ مائل ہونا
ناتَوانی کی عَلامَت ہے تَواناؤں میں
ہَم سے مِل لینا کبھی دِل جو پریشان کرے
اُٹّھے بیٹھے ہیں بہت ہَم بھی مسیحاؤں میں
مِل تَو لیتے تھے کَم اَز کَم یُونہی آتے جاتے
ایک پَگڈَنڈی ہُوا کرتی تھی بَس گاؤں میں
مُجھ کو مَنزِل کی لَگَن رُکنے نہ دے گی ضامنؔ
اَب اَگَر پَڑتے ہیں چھالے تَو پَڑیَں پاؤں میں
ضامن جعفری

بندۂ مزدور کے اوقات

جب جب نیند آتی ہے

جاگنا پڑتا ہے۔

کھانے کی مہلت نہیں ملتی

جب لگتی ہے بھوک۔

کھاتے ہیں تو بھوک نہیں ہوتی اُس وقت،

سونے لگتے ہیں تو نیند نہیں آتی۔

باصر کاظمی

راہِ راست

نہیں لازم کہ بیابان میں وحشت کیجے

یا کسی کوہ کے دامن میں مشقت کیجے

آج اک حور شمائل نے کہا عاشق سے

مجھ کو پانا ہے تو گھر جا کے عبادت کیجے

باصر کاظمی

واپسی

چڑھائی کرتی چلی جا رہی ہے فوجِ عدو

نپولین کی طرح۔

وہ بے خبر ہے کہ بدلے گا جیسے ہی موسم

پڑے گی برف

چلے گی ہوا زمستانی،

نہیں ملے گا اُسے واپسی کا رستہ بھی۔

باصر کاظمی

’شاہی محل ‘کے ایک ملازم کی نجی گفتگو

اگرچہ شکوہ مناسب نہیں زباں کے لیے

تڑپ رہا ہے مرا نطق اِس بیاں کے لیے

جہاں سب اپنے ہوں موجود گر وہاں نہ کہوں

سنبھال رکھوں میں یہ بات پھر کہاں کے لیے

ملا ہمیں کہ رعایا بھی چاہیے تھی کچھ

’’بنا ہے ’ملک ‘تجمل حسین خاں کے لیے‘‘

باصر کاظمی

وادی الملوک کے ایک کارکن کی عرض داشت

مالک اگرچہ تُو ہے

رازق بھی تُو مِرا ہے

لیکن تِرا یہ بندہ

اکثر یہ سوچتا ہے

یہ کیا کہ رزق میرا

فرعون سے جڑا ہے

یا مقبرے بنا کے

یا مقبرے دکھا کے

(۔ مصرکی وادی الملوک میں (انقلاب سے تین ہفتے قبل))

باصر کاظمی

تنبیہہ

خیر کی ان سے نہ رکھنا امید

ہیں یہ ابلیس کے دیرینہ مرید

ایک مخلص کی ہے تجھ کو تاکید

دیکھ غفلت نہ ہو اب تجھ سے مزید

اب تو حربے انہیں حاصل ہیں جدید

کچھ بھی کر سکتی ہیں افواجِ یزید

باصر کاظمی

ریفرنڈم

سردار کی نیت کو ٹٹولا نہیں کرتے

بس ہاتھ اٹھا دیتے ہیں بولا نہیں کرتے

’’جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے‘‘

باصر کاظمی

اتحاد

لُوٹنا ہو گا غریبوں کو جبھی ایک ہوئے

ورنہ یہ رہزن و قزاق کبھی ایک ہوئے؟

کامیابی نے تو ڈالی ہے ہمیشہ تفریق

جب کبھی مار پڑی اِن کو تبھی ایک ہوئے

باصر کاظمی