زمرہ جات کے محفوظات: متفرق

نظموں کے تراجم کے حوالے سے ایک ضروری نوٹ

میں نے درج ذیل نظموں میں سے بیشتر کے منظوم تراجم بھی کیے لیکن وہ قدرے مصنوعی اور بے تاثیر لگے۔ اِس کے علاوہ،وزن پورا کرنے کے لیے کچھ ایسے الفاظ استعمال کرنا پڑ رہے تھے جو زائد تھے اور اصل متن سے بھی دور کر رہے تھے۔ بعض اوقات نثر کی موسیقی نظم کی غنائیت سے زیادہ موثر ہوتی ہے۔ اس کی ایک انتہائی مثال یہ ہے کہ انجیل اور قرآن کے منظوم تراجم پڑھتے وقت مسلسل ایسا لگتا ہے جیسے کوئی انسان ہم سے مخاطب ہے جبکہ نثری تراجم کی خواندگی میں بہت سے مقامات پر غیبی آواز سنائی دیتی محسوس ہوتی ہے۔

باصر کاظمی

متفرق اشعار

1997

سُورج کا یہ رنگ نہ تھا جو وقتِ شام ہُوا ہے

دیکھو کیسا سَرکش گھوڑا کیسا رام ہُوا ہے

اِنصاف اگر کہیں ہے کچھ

جنّت کا نشاں وہیں ہے کچھ

آ جائیں گے دیکھنے تمہیں ہم

کہنا تو ہمیں نہیں ہے کچھ

ستمبر

حاضری کے واسطے سرکار کا دفتر کھُلا

کتنے چکّر کاٹنے کے بعد یہ چکّر کھُلا

دسمبر

2000

سب حسینوں کا حُسن تجھ میں ہے

اور تِرا حُسن سب حسینوں میں

12 ۱کتوبر

2001

جو منافع نہ مِل سکا باصِرؔ

اُس کو نقصان کیوں سمجھتے ہو

3دسمبر

2003

کھُلتے ہی نہیں کسی صورت

وہ ہونٹ بھی سُرخ فیتے ہیں

ہیں سارے کے سارے آدم خور

شہروں میں جو شیر چیتے ہیں

جنوری

یوں بھی کم تھی اُس کے آنے کی اُمید

اب تو ویسے بھی اندھیرا ہو گیا

28جنوری

نقصان پر جو میرے افسوس کر رہے ہیں

میں جانتا ہوں کتنا اندر سے خوش ہوئے ہیں

9مارچ

نیند میں بھی بھٹک نہیں سکتا

روز کا راستہ ہے یہ میرا

3اپریل

جس نے ماں باپ کو دیا ہو دُکھ

اُس نے اولاد سے نہ پایا سُکھ

4دسمبر

2004

گئے خط بے اثر سارے

اُسے بھیجوں گا اب سی وی

4اپریل

نکل گیا ہے مِری زندگی سے وہ شاید

کئی دنوں سے مِرے خواب میں نہیں آیا

10جون

وہاں جانے سے کیا ڈرنا

جہاں سب جائیں گے اک دن

غلط سمجھے ہیں جو ہم کو

بہت پچھتائیں گے اک دن

13جولائی

جن دنوں روتا تھا تیری یاد میں

رو رہا ہوں اُن دنوں کی یاد میں

3ستمبر

2005

کیا مشورہ کوئی دے اب ایسے آدمی کو

جانے دیا ہو جس نے گھر آئی لکشمی کو

10جولائی

اب آ کے دیکھتے ہیں شجر ہیں وہ سایہ دار

جاتے ہوئے جو بیج یہاں بو گئے تھے ہم

19ستمبر

شفا ہوتی دوا سے معجزہ ایسا تو کیا ہوتا

مگر بیمار کچھ دِن اور جی لیتا تو کیا ہوتا

ابھی اُس کے نہ مِلنے پر عداوت ہے زمانے کو

کسی تدبیر سے وہ ہم کو مِل جاتا تو کیا ہوتا

دسمبر

ہے اِتنا کچھ جہاں دل میں ہمارے ناخداؤں کے

خیالِ خلق بھی ہوتا اگر خوفِ خدا ہوتا

دسمبر

اب آ کے دیکھتے ہیں شجر ہیں وہ سایہ دار

جاتے ہوئے جو بیج یہاں بو گئے تھے ہم

19دسمبر

2006

کسی سبب سے جو وہ دے سکیں نہ میرا ساتھ

نہیں ہے اِس میں بُرا ماننے کی کوئی بات

سلوک اُس کا ترے ساتھ ٹھیک ہے باصِرؔ

کوئی تو ہو جو بتائے تجھے تِری اوقات

16فروری

گزر گئی ہے اِسی کاہلی میں عُمر تمام

یہ سوچتے رہے بس اب کریں گے کل سے کام

یہ سوچ کر کہ مِلے گا ضرور اب کے جواب

نجانے لِکھّے ہیں خط کتنی بار اپنے نام

نومبر

گو شاعری پڑھنے کا اُسے شوق بہت ہے

کیا کیجیے اِس کا کہ وہ بدذوق بہت ہے

دسمبر

ایک دشمن کی کمی تھی باصِرؔ

وہ بھی اِک دوست نے پوری کر دی

8دسمبر

2007

جب چاہیے ہو ملتی ہے تازہ ہَوا مجھے

شاید کبھی لگی تھی کسی کی دعا مجھے

5جولائی

باصر کاظمی

متفرق اشعار

1997

سُورج کا یہ رنگ نہ تھا جو وقتِ شام ہُوا ہے

دیکھو کیسا سَرکش گھوڑا کیسا رام ہُوا ہے

اِنصاف اگر کہیں ہے کچھ

جنّت کا نشاں وہیں ہے کچھ

آ جائیں گے دیکھنے تمہیں ہم

کہنا تو ہمیں نہیں ہے کچھ

ستمبر

حاضری کے واسطے سرکار کا دفتر کھُلا

کتنے چکّر کاٹنے کے بعد یہ چکّر کھُلا

دسمبر

2000

سب حسینوں کا حُسن تجھ میں ہے

اور تِرا حُسن سب حسینوں میں

12 ۱کتوبر

2001

جو منافع نہ مِل سکا باصِرؔ

اُس کو نقصان کیوں سمجھتے ہو

3دسمبر

2003

کھُلتے ہی نہیں کسی صورت

وہ ہونٹ بھی سُرخ فیتے ہیں

ہیں سارے کے سارے آدم خور

شہروں میں جو شیر چیتے ہیں

جنوری

یوں بھی کم تھی اُس کے آنے کی اُمید

اب تو ویسے بھی اندھیرا ہو گیا

28جنوری

نقصان پر جو میرے افسوس کر رہے ہیں

میں جانتا ہوں کتنا اندر سے خوش ہوئے ہیں

9مارچ

نیند میں بھی بھٹک نہیں سکتا

روز کا راستہ ہے یہ میرا

3اپریل

جس نے ماں باپ کو دیا ہو دُکھ

اُس نے اولاد سے نہ پایا سُکھ

4دسمبر

2004

گئے خط بے اثر سارے

اُسے بھیجوں گا اب سی وی

4اپریل

نکل گیا ہے مِری زندگی سے وہ شاید

کئی دنوں سے مِرے خواب میں نہیں آیا

10جون

وہاں جانے سے کیا ڈرنا

جہاں سب جائیں گے اک دن

غلط سمجھے ہیں جو ہم کو

بہت پچھتائیں گے اک دن

13جولائی

جن دنوں روتا تھا تیری یاد میں

رو رہا ہوں اُن دنوں کی یاد میں

3ستمبر

2005

کیا مشورہ کوئی دے اب ایسے آدمی کو

جانے دیا ہو جس نے گھر آئی لکشمی کو

10جولائی

اب آ کے دیکھتے ہیں شجر ہیں وہ سایہ دار

جاتے ہوئے جو بیج یہاں بو گئے تھے ہم

19ستمبر

شفا ہوتی دوا سے معجزہ ایسا تو کیا ہوتا

مگر بیمار کچھ دِن اور جی لیتا تو کیا ہوتا

ابھی اُس کے نہ مِلنے پر عداوت ہے زمانے کو

کسی تدبیر سے وہ ہم کو مِل جاتا تو کیا ہوتا

دسمبر

ہے اِتنا کچھ جہاں دل میں ہمارے ناخداؤں کے

خیالِ خلق بھی ہوتا اگر خوفِ خدا ہوتا

دسمبر

اب آ کے دیکھتے ہیں شجر ہیں وہ سایہ دار

جاتے ہوئے جو بیج یہاں بو گئے تھے ہم

19دسمبر

2006

کسی سبب سے جو وہ دے سکیں نہ میرا ساتھ

نہیں ہے اِس میں بُرا ماننے کی کوئی بات

سلوک اُس کا ترے ساتھ ٹھیک ہے باصِرؔ

کوئی تو ہو جو بتائے تجھے تِری اوقات

16فروری

گزر گئی ہے اِسی کاہلی میں عُمر تمام

یہ سوچتے رہے بس اب کریں گے کل سے کام

یہ سوچ کر کہ مِلے گا ضرور اب کے جواب

نجانے لِکھّے ہیں خط کتنی بار اپنے نام

نومبر

گو شاعری پڑھنے کا اُسے شوق بہت ہے

کیا کیجیے اِس کا کہ وہ بدذوق بہت ہے

دسمبر

ایک دشمن کی کمی تھی باصِرؔ

وہ بھی اِک دوست نے پوری کر دی

8دسمبر

2007

جب چاہیے ہو ملتی ہے تازہ ہَوا مجھے

شاید کبھی لگی تھی کسی کی دعا مجھے

5جولائی

باصر کاظمی

کچھ ٹائٹل پر دیئے گئے شعر کے بارے میں

مری دانست میں نامِ محمد

کلیدِ ہر دو عالم اسمِ اعظم

(ب س ک)

کچھ ٹائٹل پر دیئے گئے شعر کے بارے میں

دل لگا لیتے ہیں اہلِ دل وطن کوئی بھی ہو

پھول کو کھِلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو

باصِر سلطان کاظمی کا یہ شعراور اِس کا انگریزی ترجمہ، جو شاعر اور دیبجانی چیٹرجی کی مشترکہ کاوش ہے ،دس دیگر زبانوں کے شعری نمونوں کے ساتھ ،پتھرپہ کندہ کر کے لندن سے ملحقہ شہر سلاؤ ((Slough کے میکنزی سکوائر(McKenzie Square) میں نصب کیا گیا ہے۔ شعراء میں فلسطین کے معروف شاعر محمود درویش بھی شامل ہیں ۔ اِس پروجیکٹ کے لیے آرٹس کونسل آف انگلینڈ نے اوکسفورڈشائر کے سنگ تراش Alec Peevar کی خدمات حاصل کیں ۔

باصر کاظمی

متفرق اشعار

1997

سُورج کا یہ رنگ نہ تھا جو وقتِ شام ہُوا ہے

دیکھو کیسا سَرکش گھوڑا کیسا رام ہُوا ہے

اِنصاف اگر کہیں ہے کچھ

جنّت کا نشاں وہیں ہے کچھ

آ جائیں گے دیکھنے تمہیں ہم

کہنا تو ہمیں نہیں ہے کچھ

ستمبر

حاضری کے واسطے سرکار کا دفتر کھُلا

کتنے چکّر کاٹنے کے بعد یہ چکّر کھُلا

دسمبر

2000

سب حسینوں کا حُسن تجھ میں ہے

اور تِرا حُسن سب حسینوں میں

12 ۱کتوبر

2001

جو منافع نہ مِل سکا باصِرؔ

اُس کو نقصان کیوں سمجھتے ہو

3دسمبر

2003

کھُلتے ہی نہیں کسی صورت

وہ ہونٹ بھی سُرخ فیتے ہیں

ہیں سارے کے سارے آدم خور

شہروں میں جو شیر چیتے ہیں

جنوری

یوں بھی کم تھی اُس کے آنے کی اُمید

اب تو ویسے بھی اندھیرا ہو گیا

28جنوری

نقصان پر جو میرے افسوس کر رہے ہیں

میں جانتا ہوں کتنا اندر سے خوش ہوئے ہیں

9مارچ

نیند میں بھی بھٹک نہیں سکتا

روز کا راستہ ہے یہ میرا

3اپریل

جس نے ماں باپ کو دیا ہو دُکھ

اُس نے اولاد سے نہ پایا سُکھ

4دسمبر

2004

گئے خط بے اثر سارے

اُسے بھیجوں گا اب سی وی

4اپریل

نکل گیا ہے مِری زندگی سے وہ شاید

کئی دنوں سے مِرے خواب میں نہیں آیا

10جون

وہاں جانے سے کیا ڈرنا

جہاں سب جائیں گے اک دن

غلط سمجھے ہیں جو ہم کو

بہت پچھتائیں گے اک دن

13جولائی

جن دنوں روتا تھا تیری یاد میں

رو رہا ہوں اُن دنوں کی یاد میں

3ستمبر

2005

کیا مشورہ کوئی دے اب ایسے آدمی کو

جانے دیا ہو جس نے گھر آئی لکشمی کو

10جولائی

اب آ کے دیکھتے ہیں شجر ہیں وہ سایہ دار

جاتے ہوئے جو بیج یہاں بو گئے تھے ہم

19ستمبر

شفا ہوتی دوا سے معجزہ ایسا تو کیا ہوتا

مگر بیمار کچھ دِن اور جی لیتا تو کیا ہوتا

ابھی اُس کے نہ مِلنے پر عداوت ہے زمانے کو

کسی تدبیر سے وہ ہم کو مِل جاتا تو کیا ہوتا

دسمبر

ہے اِتنا کچھ جہاں دل میں ہمارے ناخداؤں کے

خیالِ خلق بھی ہوتا اگر خوفِ خدا ہوتا

دسمبر

اب آ کے دیکھتے ہیں شجر ہیں وہ سایہ دار

جاتے ہوئے جو بیج یہاں بو گئے تھے ہم

19دسمبر

2006

کسی سبب سے جو وہ دے سکیں نہ میرا ساتھ

نہیں ہے اِس میں بُرا ماننے کی کوئی بات

سلوک اُس کا ترے ساتھ ٹھیک ہے باصِرؔ

کوئی تو ہو جو بتائے تجھے تِری اوقات

16فروری

گزر گئی ہے اِسی کاہلی میں عُمر تمام

یہ سوچتے رہے بس اب کریں گے کل سے کام

یہ سوچ کر کہ مِلے گا ضرور اب کے جواب

نجانے لِکھّے ہیں خط کتنی بار اپنے نام

نومبر

گو شاعری پڑھنے کا اُسے شوق بہت ہے

کیا کیجیے اِس کا کہ وہ بدذوق بہت ہے

دسمبر

ایک دشمن کی کمی تھی باصِرؔ

وہ بھی اِک دوست نے پوری کر دی

8دسمبر

2007

جب چاہیے ہو ملتی ہے تازہ ہَوا مجھے

شاید کبھی لگی تھی کسی کی دعا مجھے

5جولائی

باصر کاظمی

دیباچہ

۔ ۱ ۔

یاں فقط ریختہ کہنے ہی نہ آئے تھے ہم

چار دن یہ بھی تماشا سا دکھایا ہم نے

میرا خیال تھا کہ شعر نہ کہنے پر تو میرا اختیار نہیں لیکن اپنا شعری مجموعہ شائع نہ کرانا شاید میرے بس میں ہے۔ لیکن جس طرح پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے اور اختیار سے مزید اختیار حاصل ہوتا ہے اسی طرح بے بسی بے بسی کو جنم دیتی ہے۔ کچھ دوستوں کی شہ، بزرگوں کی ناحوصلہ شکنی اور شاعری اور شاعری سے ملتی جلتی چیزوں سے محبت کرنے والوں کی توقعات اِن اشعار کو کتابی شکل میں لانے کے محرکات ہیں۔ جہاں تک اِس مجموعے میں ’اصلیت‘ یا ’جان‘ کا تعلق ہے تو اِس کا فیصلہ ظاہر ہے کہ وقت ہی کرے گا اور میں چاہتا ہوں کہ یہ وقت کم از کم اگلے پچاس برس تک تو نہ آئے کیونکہ ابھی مجھے دنیا میں کچھ اور کام بھی کرنے ہیں۔ سو اگر مستقبل (مستقبل قریب ہرگز نہیں) کے قارئین اِس کلام کو جان دار پائیں گے تو یہ اُن کی خوش قسمتی ہو گی اور اگر معاملہ اِس کے برعکس رہا تویہ اُن کی اور بھی زیادہ خوش قسمتی ہو گی کہ اُن کی ایک ایسے شاعر سے جان چھوٹ چکی ہو گی جو کچھ غیر شعری عوامل کی بدولت اپنے بے جان کلام کی داد پاتا رہا۔

بعض لوگوں کے خیال میں یہ میری بد قسمتی ہے کہ میرا موازنہ ناصِر کاظمی سے کیا جائے گا، اپنے ہم عصروں سے نہیں،میں سمجھتا ہوں یہ میری خوش بختی ہے کہ میں مار کھاؤں گا تو ناصِر کاظمی سے۔ لیکن یہ میں نے کیا کہہ دیا۔ ٹی ایس ایلیٹ تو کہتا ہے کہ ہومر سے لے کر آج تک کے تمام شعراء ہم عصر ہیں۔ پاپا بھی میِراور لورکا کو اپنا ہم عصر کہتے تھے اور مجھے بھی نصیحت کرتے تھے کہ اگر میِر اور غالب کے سامنے بیٹھ کراپنی غزل سنانے کی ہمت کر سکو تو شعر کہنا ورنہ کوئی اور کام کرنا۔

فنِ تقریر سیکھنے لگا تو پہلا سبق یہ ملا کہ سامعین کو بے جان مجسمے جانو۔ مشاعرے میں شعر سنانے کا معاملہ بالکل اُلٹ رہا۔ سیدھے سادے، معتقد حاضرین میِرو غالب لگنے لگے۔ لیکن یہ بہت بعد کی بات ہے۔ پہلے پہل تو یہ ہوتا کہ ذرا ہوا چلی اور بادبانِ طبعِ رسا کھُلے۔ پھر جو دل میں آتا کاغذ پہ اُتر آتا اور کاغذ پاپا کی میز پر پہنچ جاتا۔ وہ مسکراتے اور رسماَ حوصلہ افزائی کے کچھ کلمات کہہ دیتے جنہیں میں شاباش سمجھتا۔ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ برخوادار سنجیدہ ہوتا جا رہا ہے تو وہ بھی سنجیدہ ہو گئے۔

پاپا داد دینے کے معاملے میں بہت فیاض تھے۔ کالجوں کے مشاعروں میں صدارت/منصفی کرتے ہوئے جب اُنہیں کسی طالب علم کا کوئی شعر پسند آجاتا تو اپنی تقریر میں اُس کا نام لے کر تعریف کرتے اور بعض اوقات کچھ نقد انعام بھی دیتے۔ بعد میں وہ شعر اپنے دوستوں کو بھی سناتے۔ لیکن اُن کی داد وتحسین کا دوسرا رُخ شیخ صلاح الدین نے اپنی کتاب ناصِر کاظمی: ایک دھیان میں بیان کیا ہے:

’’۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ناصِر کی محفل میں ایک نوجوان بیٹھا کرتا تھاجو ناصِر کی شاعری کا بہت بڑا مداح تھا اور اُس کا بہت احترام کرتا تھا۔ وہ بہت ہی شریف انسان تھا۔ اُن کو شعر کہنے کا لپکا تھا۔ اِدھر اُنہوں نے کسی کی غزل سنی اور اُن کو بھلی لگی تو اُسی زمین میں اگلے دن غزل کہہ لیتے اور سنانے کے لیے چلے آتے اور اِس طرح سناتے جیسے بہت بڑا تیر مارا ہو۔۔۔۔۔۔ میری رائے یہ تھی کہ شاعری اُن کے بس کا روگ نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بات یہ تھی کہ اُن کا تخیلی ہاضمہ بہت ہی کمزور تھا اور اُن پر کوئی ننھا منا سا شاعرچھا سکتا تھااور وہ بھرپور ہو جاتے تھے اور بہہ نکلتے تھے۔ وہ کسی تاثر، خیال، جذبے، آہنگ کی پرورش کرنا نہ جانتے تھے اور اُس میں روح پڑنے سے پہلے ہی بطن سے اُگل دیتے تھے۔ لہذا اُن کے یہاں ہر خیال، جذبہ اور آہنگ مردہ ہی پیدا ہوتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے اشخاص سے ناصِر بہت ہی خوبصورت جھوٹ بولنے کا قائل تھا جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ایسے اشخاص اپنی خود فریبی سے سیر ہو جاتے اور فن اور شاعری سے کنارہ کش ہو جاتے اور کسی دوسری قسم کی زندگی جس کے لیے وہ اہل ہوتے، اُس زندگی میں مصروف ہو جاتے۔‘‘

مجھے بچپن میں مصوری کا بھی بہت شوق تھا۔ سکول میں آٹھویں جماعت تک ڈرائینگ باقاعدہ مضمون کے طور پر سیکھی۔ بیسیوں تصویریں بنائیں۔ اگرچہ ان پر بہت شاباش بھی ملی، خاص طور سے ٹیپو سلطان کی رنگین پورٹریٹ اور قائدِ اعظم اور چرچل کے پنسل سکیچوں پر، لیکن ان میں جو کمی تھی وہ بھی صاف نظر آتی تھی۔

میرے ننھیال منٹگمری (ساہیوال) میں تھے۔ ایک بار جب حسبِ معمول چھٹیوں میں منٹگمری گئے تو میں اپنے ماموں نجم الحسن کی ڈرائنگ کے کچھ نمونے دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ ایک پنسل سکیچ تو قابلِ دید ہی نہیں، ناقابلِ فراموش بھی تھا۔ ایک لڑکی کی تصویر تھی جس کی نگاہیں کسی کی کوتاہیِ قسمت سے مژگاں ہو گئیں تھیں اور جس کی زلفِ گرہ گیر پہ ایک تتلی بھنورے کی طرح بیٹھی تھی:

صبح وہ آفت اٹھ بیٹھا تھا تم نے نہ دیکھا صد افسوس

کیا کیا فتنے سر جوڑے پلکوں کے سائے سائے گئے

ہزار کوشش کی کہ اس طرح کی کوئی تصویر بنا سکوں لیکن ؎ ایں سعادت بزورِ بازو نیست۔ شکلِ خیالی کی کوئی نقل ایسی نہ بن سکی جو میرِ مصوری کو دکھا سکتا۔ عقل نے کہا، ’یہ تیرا میدان نہیں، دخل در معقولات مت کر۔‘ سو کاغذ لپیٹا سامان سمیٹا اور مصوری کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہا۔ اگرچہ شعر کہنا شروع کر چکا تھا لیکن اُس وقت مجھے یہ خیال نہیں تھا کہ باقی عمر لفظوں سے تصویریں بناتے گذرے گی۔

شاعری کا آغاز یوں ہواتھا کہ ایک اتوار کو ریڈیو پر بچوں کے پروگرام میں ایک نظم سنی۔ اُسی زمین میں کچھ شعر لکھے گئے۔ پاپا نے دیکھے تو خوش ہوئے اور اگلی اتوار کو میں اُسی ریڈیو پروگرام میں اپنے اشعار سنا رہا تھا۔ میں اُس وقت چھٹی جماعت میں پڑھتا تھا۔

سجاد باقر رضوی صاحب کو میرے شعر کہنے کا علم ہوا تو کھِل اٹھے۔ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے کسی مصلحت یا اندیشے کے بغیر اِس سلسلے میں میری حوصلہ افزائی کی۔ مذکورہ نظم /غزل پر مجھے باقاعدہ انعام دیا۔ ایک شعر پر تو بہت ہی محظوظ ہوئے:

آپ سا بے وفا نہیں دیکھا

ہم نے طوطا اُڑا کے دیکھ لیا

باقر صاحب اورینٹل کالج میں استاد تھے۔ ساتھ لاء کالج اور اس کی دیوار کے دوسری طرف ہمارا سکول، سینٹ فرانسس ہائی سکول تھا۔ گرمیوں کی ایک دوپہر چھُٹی کے بعد میں اور میرا چھوٹا بھائی حسن بس سٹاپ کی طرف جا رہے تھے کہ باقر صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ وہ اصرار کر کے ہمیں اپنے کالج لے گئے۔ پہلے سیون اپ سے ہماری تواضع کی پھر ہمیں پروفیسر وقار عظیم کے کمرے میں لے گئے۔ہمارا تعارف کرایا اور ساتھ ہی مجھ سے اپنے شعر سنانے کو کہا۔ میں اس بات کے لیے قطعاَ تیار نہیں تھا۔ بہت کہا کہ وہ تو بچوں کے پروگرام کے لیے تھے، اور وہ تو کچھ بھی نہیں تھے، لیکن باقر صاحب کی فرمائش حکم میں تبدیل ہو گئی۔ میں نے کپکپاتی آواز میں جو چار پانچ اشعار تھے سنا دئیے۔ وقار صاحب شفقت سے مسکراتے رہے اور میرا حوصلہ بڑھاتے رہے۔

نویں جماعت میں پہنچ کر مجھے فیصلہ کرنا تھا کہ سائنس پڑھوں یا آرٹس۔ پاپا بہ تکرار کہتے کہ زمانہ سائنس کا ہے۔ چچا عنصر کی خواہش تھی کہ میں بی ایس ای انجینئرنگ کرتا، جبکہ باجی (ہم اپنی امی کو باجی کہتے ہیں) کا مدعا بس اتنا تھا کہ میں ’سیدھا سیدھا‘ ایم اے کروں ، پھر جو مرضی کروں۔ میرے نزدیک سائنس پڑھنے کا مطلب صرف ڈاکٹر یا انجینئر بننا تھا۔ اگرچہ فزیالوجی میرا پسندیدہ مضمون تھا لیکن ڈاکٹری میں جو ’خون خرابہ‘ اور’ چیر پھاڑ‘ ہوتی ہے، اس سے میری جان جاتی۔ انجینئرنگ میں کوئی ایسی بات تو نہ تھی جس سے میں بھاگتا لیکن کوئی ایسی بات بھی نظر نہ آتی جو اپنی طرف کھینچتی۔ سائنس دان بننے کا اگر ہمارے وطن میں کوئی تصور ہوتا تو میں ضرور یہ کوشش کرتا۔ سائنس سے میرے عشق کا یہ عالم تھا کہ آرٹس کے مضامین چُننے کے باوجود فزیالوجی کا بھی انتخاب کیا اور میرے جو دوست فزکس، کیمسٹری پڑھتے تھے ان کی کتابیں مستعار لے کر پڑھتا۔ میں نے اور حسن نے اپنے جیب خرچ سے پیسے بچا بچا کر گھر میں ایک چھوٹی سی لیبارٹری بنا لی۔ موجدوں کی زندگیوں اور ان کی ایجادات کے بارے میں کتابیں اکٹھی کیں۔ ’ Seven Inventors‘ جانے کتنی بار پڑھی۔ ذہن پر یہ بھوت سوار تھا کہ کچھ ایجاد کیا جائے، لیکن کیا؟ سب کچھ تو ایجاد ہو چکا تھا۔

آرٹس کا انتخاب یوں بھی آسان ہو گیا کہ اُ ن دنوں سی ایس پی افسروں کی بڑی دھاک تھی۔ پھر پاپا کے کچھ افسر دوستوں کا ہمارے ہاں آنا جانا تھا۔ مجھے اُن کی زندگی بہت اچھی لگتی۔ جینے کے لیے درکار سہولتوں کے ساتھ ساتھ انہیں شعروادب کے لیے بھی وقت میسر تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ سی ایس پی بننا بہت مشکل ہے کیونکہ بہت مقابلہ ہوتا ہے، لیکن کچھ یہ بھی کہتے کہ یہ کوئی اتنا مشکل بھی نہیں کیونکہ اس کے لیے کسی خاص علم، کسی شعبے میں مہارت درکار نہیں ہوتی۔ بس ہر چیز کے بارے میں تھوڑا تھوڑا ، اوپرا سا علم کافی ہے، وہ بھی امتحان کے دن تک۔ بعد میں چاہے وہ بھی پاس نہ رہے۔ اصل کام تو ماتحتوں نے کرنا ہوتا ہے۔ آپ کوصرف کام کرنے یا نہ کرنے کا حکم دینا ہوتا ہے۔ ’’کیا بات ہے!‘‘ میں سوچتا۔

سکول میں یہ میرا آخری سال تھا جب ٹیلیویژن پر نوجوانوں کے لیے شعروادب کا ایک پروگرام شروع ہوا۔ میں نے بیت بازی کے دو تین پروگراموں میں حصہ لیا اور ایک پروگرام میں اپنی نظم نما غزل سنائی۔ ع دُور سایا سا سا ہے کیا پھولوں میں۔ اس کے بیشتر اشعار پاپا کی اصلاح سے کسی قابل ہوئے۔ اس سے اگلے برس جب میں گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوا تو یہ غزل ’راوی‘ میں چھپی جو ایک اعزاز تھا۔ کالج میں شعرکہنے کے شوق کو گویا پر لگ گئے۔ ’مجلسِ اقبال‘ کے اجلاس بہت بھرپور ہوتے تھے اور ان میں اپنی تخلیقات پیش کرنا بہت بڑا اعزاز تھا۔ بین الکلیاتی مشاعروں میں شرکت کے لیے کالج کی ٹیمیں ملک بھر کے کالجوں میں بھیجی جاتی تھیں۔ ٹرافیاں، تمغے ایک طرف، مفت کی سیر الگ۔ سو میرا شعر کہنا جاری رہا اور پاپا اس لیے اصلاح اور حوصلہ افزائی کرتے رہے کہ یہ تخلیقی عمل میری نشوو نما میں ممد ثابت ہو گا۔ لیکن وہ میری اصل ترقی تعلیمی میدان میں دیکھنا چاہتے تھے۔

پاپا کو شاذ ہی کوئی شعر پسند آتا۔ جو غزل میں انہیں دکھاتا، اصلاح کے بعد اس میں باقی کچھ نہ بچتا۔ بے وزن اشعار اور خاص طور سے تلفظ کی غلطیوں پر بہت ڈانٹ پڑتی۔ ’’یہ لفظ ایسے نہیں باندھا جا سکتا،‘‘ وہ کہتے اور پھر اساتذہ کے کلام سے مثالیں دیتے جو میں اپنی ڈائری میں نوٹ کرتا۔ اشعار کی باریکیوں پر اتنی تفصیلی گفتگو کرتے کہ ہیرا تراشنے کا عمل بہت آسان دکھائی دیتا۔ مختلف شعراء کی کتابیں کھُلتیں اور کئی بار آدھی رات ہو جاتی۔ باجی آ کے یاد دلاتیں کہ اِسے صبح کالج بھی جانا ہے۔ پاپا مزید برہم ہو جاتے کہ اپنا وقت بھی برباد کرتا ہے اور میرا بھی۔ کبھی کبھار میرے کسی مصرع کو پسندیدگی کا نشان نصیب ہوتا اور اگر کوئی پورے کا پورا شعر اس کا مستحق قرار پاتا تو یہ ایک واقعہ ہوتا۔ پھر پاپاسب کچھ بھول جاتے اور باجی کو بھی بلا لیتے اور کہتے، ’’آخر میرا بیٹا ہے نا!‘‘ باجی خوش تو ہوتیں لیکن بھرپور کوشش کرتیں کہ اُن کی خوشی ظاہر نہ ہونے پائے۔ کہا کرتیں کہ گھر میں ایک شاعر بہت ہے۔ اگلے ہی لمحے پاپا حقیقت کی دنیا میں واپس آجاتے اور لاڈ سے کہتے، ’’بھاگ جا، اپنی پڑھائی پر توجہ دے۔ یہ راستہ خوشی تو دیتا ہے لیکن بے شمار دُکھ دینے کے بعد۔‘‘ اُس دور کی چند ڈائریاں میرے پاس اب بھی محفوظ ہیں اور میری زندگی کا قیمتی ترین سرمایہ وہ اشعار /مصرعے ہیں جن پر پاپا نے پسندیدگی کے نشان لگائے تھے۔ میں انہیں یہاں نقل کرنا چاہوں گا کہ انہیں کے سہارے میری یہ کتاب آپ تک پہنچ رہی ہے۔

ع ہوا چلی اور خوب چلی پھر

ع میں تری رات کا دیا ہوتا

ع وہی ننھے ننھے پودے تھے گھنے درخت کل کے

………

میں یاد کرتا ہوں تجھ کو جو آج کل اتنا

سبب یہ ہے کہ مجھے اور کوئی کام نہیں

………

جیسے کوئی پکار رہا ہو کہیں مجھے

یہ آدھی رات کس کی صدا یاد آگئی

………

تازہ تھا زخمِ ہجر تو تدبیر کچھ نہ کی

اب لاعلاج ہے تو دوا یاد آگئی

………

آوازِ رفتگاں مجھے لاتی ہے اِس طرف

یہ راستہ اگرچہ مری رہ گزر نہیں

………

اِس چمن کو بنانے والے نے

کیا بنایا تھا بن گیا کیا ہے

………

بعد موت کے روح ہماری

دنیا کو کیا پاتی ہو گی

………

سنو کہ آج تمہیں یاد کے دریچوں سے

صدائے رفتہ نے اک بار پھر پکارا ہے

………

آؤ کہ گِن سکوں گا نہ شامیں فراق کی

یہ انگلیاں تو ختم ہوئیں سب حساب میں

(یہ غزل پاپا کی وفات کے بعد مکمل ہوئی)

اِن کے علاوہ جو اشعار ’ابتدائی کلام‘ کے زیرِ عنوان شائع کیے جا رہے ہیں، پاپا کو جزوی طور پر ٹھیک لگے اور ان کی اصلاح سے بہتر ہو گئے۔

۔۲ ۔

پاپا کی وفات کے بعد میری ترجیحات یکسر بدل گئیں۔ اُن کی زندگی میں صرف برگِ نے شائع ہوئی تھی۔ دیوان، پہلی بارش، نشاطِ خواب، سُر کی چھایا، خشک چشمے کے کنارے، اُن کی ڈائریاں اور کلاسیکی شعراء کے انتخاب، سب شائع ہونا باقی تھے۔ دیوان، اورپہلی بارشکے سوا ساری کتابوں کے مسودے تیار ہونا تھے۔ ریڈیو فیچر، رسالوں کے ادارئیے، مضامین وغیرہ کا حصول اور ترتیب کافی وقت طلب کام تھا۔ ہر اتوار (ہفتہ وار تعطیل) کو ہمارے ہاں پاپا کے دوست آتے، خاص طور سے شیخ صلاح الدین، انتظار حسین، احمد مشتاق، سجاد باقر رضوی، افتخار شبیر، صلاح الدین محمود، ریاض انور اور محبوب خزاں۔ اِس طرح جو ماحول بنتا اور جو باتیں ہوتیں ان کے نتیجے میں ہمارا وقت گویا پاپا کی قربت میں گذرتا۔ اُن کی جدائی تخلیقی قوت میں تبدیل ہوتی گئی۔ شعر کہنے پر بھی طبیعت مائل ہوتی اور کچھ مختلف راہوں کی جستجو بھی رہتی۔ کتابیں پڑھنے کو تو بہت جی چاہتا لیکن غیر نصابی کتابیں۔ ذریعہء معاش کے بارے میں سوچتا تو ہر پیشہ کُل وقتی یکسوئی مانگتا نظر آتا۔ صرف کالج میں پڑھانا ہی ایسا کام لگتا جس میں کچھ فرصت میسر آسکتی تھی۔ افسری کا خیال تو دل سے کچھ یوں بھی نکل گیا کہ جن افسروں پر کبھی رشک آتا تھا اب اُن کی مجبوریاں دیکھ کے اُن پہ ترس آتا۔ گورنمنٹ کالج سٹوڈنٹس یونین کا سیکرٹری منتخب ہو جانے کے باعث اِن افسروں کے افسروں سے بھی ملاقاتیں رہنے لگیں۔ ان میں گو رنر اور وزراء سے لے کر صدرِ مملکت تک شامل تھے۔ رفتہ رفتہ اِن ’اعلی حکام‘ کی چکا چوند بھی ماند پڑتی گئی۔ پتہ چلا کہ آپ اپنے ارد گرد تبدیلی لانے کے لیے عہدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن جب عہدہ مل جاتا ہے تو وہ اُلٹا آپ کو تبدیل کر دیتا ہے۔ اب تبدیلی کی خواہش دوسروں کا دردِ سر ہوتی ہے۔ آپ تو ہر چیز کو اُسی طرح قائم و دائم دیکھنا چاہتے ہیں جیسی وہ ہے کیونکہ عہدہ آپ کو اسی لیے ملا ہوتا ہے۔

میرا سیکرٹری کا انتخاب پاپا کے انتقال سے ڈھائی ہفتے قبل ہوا۔ مجھے انتخابی مہم میں مصروف دیکھ کے وہ بہت سیخ پا ہوتے۔ ایک بار تو باقاعدہ میری پٹائی کر دی اور حسن سے کہا کہ کل سے اس کے خلاف مہم چلاؤ۔ اُن کی دوسری تشویش یہ تھی میں وقت تو ضائع کر ہی رہا تھا، ’بے عزتی‘ بھی کرواؤں گا۔ جب انہوں نے دیکھا کہ میں اپنی ’ہٹ دھرمی‘ سے باز آنے والا نہیں تو اُن کی خواہش یہ ہوتی کہ میں باعزت طریقے سے ہار جاؤں اور اِس طرح اپنی ’بھڑاس‘ نکال لینے کے بعد پڑھائی کی طرف متوجہ ہو جاؤں۔

۔ ۳ ۔

کالج میں پڑھانا اچھا تو بہت لگا لیکن کچھ خوش فہمیاں شروع ہی میں دُور ہو گئیں۔ فرصت واقعی ملتی لیکن اس کا کچھ حصہ تو ویسے ہی اِدھر اُدھر ضائع ہو جاتا اور کچھ اُن دفتروں کے چکروں میں صرف ہو جاتا جن سے بچنا چاہا تھا۔ اِن دفتروں میں حاضری سے صرف وہی لوگ مستثنیٰ ہوتے ہیں جو یہاں کام کرتے ہیں۔ میرے خیر خواہ مقابلے کا امتحان دینے لیے مجھ پر دباؤ ڈالتے رہے۔ ایک نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ’’اگر اِس بُت پرست معاشرے میں عزت کی زندگی گذارنی ہے تو امتحان پاس کر لے:

وہ ایک سجدہ جسے توُ گراں سمجھتا ہے

ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات‘‘

دوسرا انکشاف یہ ہوا کہ اگر آپ کو وقتِ مقررہ پر کسی خاص جگہ پہنچنا ہو، تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی، تو سمجھیں کہ وہ سارا دن ہی گیا۔ انسان مخلوق بھی ہے اور خالق بھی۔ بحیثیت مخلوق اِس کے لیے حدیں ضروری ہیں لیکن تخلیق کے لیے اِسے بھی ایک لامکاں چاہیے۔ شاہینِ تخیل کے شہپر کھُلتے ہی تب ہیں جب وہ چار سُو سے بے نیاز ہواور اس کی پرواز شام و سحر کی بھی پابند نہیں ہوتی۔

جبر و اختیار کی کشمکش ازل سے جاری ہے۔ کچھ کرنے کے لیے کچھ اور کرنا پڑتا ہے اور کچھ اور کرنے کے لیے کچھ اور۔ زندگی عموماَ کچھ اور کرنے میں گذر جاتی ہے، کچھ کرنے کی توفیق کم کم ہی ملتی ہے اور وہ بھی کسی کسی کو۔

۔۴۔

ستمبرئ1990 مجھے برطانیہ لے آیا۔ یہاں ’عالمی‘ مشاعروں میں شرکت کی۔ پاپا کی وجہ سے اور کچھ دوستوں کی بدولت بہت عزت ملی۔ معروف تھیٹروں میں ڈرامے دیکھے۔ پھر اللہ نے یہ سبب بھی بنایا کہ انہی تھیٹروں میں میرے ڈرامے سٹیج ہوئے۔ اور جب مجھے خیال آنے لگا کہ اب میں صرف ڈرامے لکھا کروں گا، شعر کبھی کبھار ہوا کریں گے، میری شاعری کا ایک نیا دور شروع ہوا جو اب شاید غزل تک محدود نہ رہے، اگرچہ غزل اپنی جگہ ایک لامحدود صنفِ سخن ہے۔

۔ ۵ ۔

دیباچے اِس لیے لکھے جاتے ہیں کہ وہ کتابیں شائع ہو رہی ہوتی ہیں جن کے وہ دیباچے ہونا ہوتے ہیں۔ یہ کتاب اِس لیے شائع کی جارہی ہے کہ اِس کے بغیر یہ دیباچہ شائع نہیں ہو سکتا تھا جو لکھا جا رہا ہے۔

عزیز قارئین! آپ سے جو باتیں کرنا تھیں وہ سب ہو گئیں۔ سنانے والے اشعار بھی میں سنا چکا۔ اب آ پ بے شک اِس کتاب کو یہیں بند کر دیں۔ کم از کم اتنا ضرور کریں کہ یہ جو غزلیں اگلے صفحے سے شروع ہو رہی ہیں اِن کا مطالعہ کسی اگلی نشست تک ملتوی کر دیں۔ پھر شاید آپ انہیں بھول ہی جائیں یا کوئی آپ سے یہ کتاب عاریتاَ لے جائے، یا اگر آپ خود یہ کسی سے مانگ کر لائے ہیں تو وہ اِسے واپس لینے آجائے (یعنی ممکن ہے وہ کوئی نومشق شاعر ہو کیونکہ عام طور سے کہنہ مشق شاعر دوسروں کی تو کیا اپنی شاعری بھی نہیں پڑھتے)۔ ایسی صورت میں آپ اُسے یہ نہ کہیں کہ آپ نے یہ کتاب پوری نہیں پڑھی اور اِسے مزید کچھ عرصہ اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں۔ اُس کی امانت اُسے فوراَ لوٹا دیں ۔۔۔ اور میری طرف سے یہ شعر سنا دیں:

اے میرؔ شعر کہنا کیا ہے کمالِ انساں

یہ بھی خیال سا کچھ خاطر میں آ گیا ہے

باصِر سلطان کاظمی

10مارچ 1997

باصر کاظمی

مجید امجد ۔ سوانحی خاکہ

مجید امجد 29 جون 1914 کو جھنگ صدر (مگھیانہ) میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک غریب اور شریف گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ابھی وہ دو برس کے تھے کہ جب ان کی والدہ اپنے شوہر سے الگ ہو کر میکے آ گئیں۔ امجد نے ابتدائی تعلیم اپنے نانا سے حاصل کی جن کا شمار جھنگ کے صوفیا میں ہوتا تھا۔ گھر سے ملحقہ مسجد میں انھوں نے چند سال قرآن، اسلامیات، فارسی، عربی اور طب وغیرہ کی تعلیم حاصل کی۔1930 میں میٹرک اور 1932 میں انٹرمیڈیٹ کے امتحان جھنگ میں دوسرے درجے میں پاس کیے اور پھر 1934 میں اسلامیہ کالج (ریلوے روڈ) لاہور سے بی اے کی ڈگری بھی درجۂ دوم میں حاصل کی۔اس زمانے میں دنیا عظیم اقتصادی بحران کا شکار تھی اس لیے ملازمتیں عنقا تھیں۔ مجید امجد جھنگ میں ایک مقامی ہفت روزہ اخبار ’’عروج‘‘ سے بطور مدیر وابستہ ہو گئے۔ پھر کچھ عرصہ کلرک کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ 1944 میں دوسری عالمی جنگ کے دوران حکومت نے سول سپلائز ڈیپارٹمنٹ قائم کیا۔ مجید امجد ٹیسٹ اور انٹرویو کے بعد منتخب ہوئے اور اسسٹنٹ انسپکٹر سول سپلائز کے عہدے پر فائز ہوئے۔ بعدازاں اس محکمے کو فوڈ ڈیپارٹمنٹ کہا جانے لگا۔ مجید امجد آہستہ آہستہ ترقی کرتے ہوئے اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر ہو گئے۔ انھوں نے بیشمار چھوٹے چھوٹے شہروں اور قصبوں میں کام کیا لیکن ملازمت کا زیادہ عرصہ منٹگمری (موجودہ ساہیوال) میں بسر ہوا۔ جہاں سے وہ 28 جون 1972 کو اٹھائیس سال ملازمت کرنے کے بعد ریٹائر ہوئے۔مجید امجد کی شادی ان کی مرضی کے خلاف ہوئی تھی۔ بیوی سے ان کے تعلقات عمر بھر ’’خنک‘‘ رہے۔ بیوی جھنگ کے ایک اسکول میں پڑھاتی تھی، امجد دوسرے مقامات پر ملازمت کرتے تھے اور شاذ و نادر ہی جھنگ جاتے تھے۔امجد بڑے وسیع المطالعہ تھے بالخصوص فارسی اور انگریزی شاعری پر انھیں عبور حاصل تھا۔ سائنسی علوم کے مطالعے سے بھی شغف تھا۔ بہت کم گو، شرمیلے اور تنہائی پسند تھے۔ اپنی ذات اور شاعری کے بارے میں گفتگو کرنا قطعاً پسند نہیں کرتے تھے۔ حقیقی معنوں میں ان کا کوئی دوست نہیں تھا۔ وہ ملنے جلنے والوں سے ’’ذاتی معاملات‘‘ پر کبھی گفتگو نہیں کرتے تھے۔ انتہائی دیانت دار اور خوددار تھے۔جوانی میں امجد خوش شکل تھے لیکن رفتہ رفتہ بیمار رہنے لگے اور بہت دبلے پتلے ہو گئے تھے۔ لمبا قد تھا اس لیے دبلاپے نے حسن صورت میں کمی کردی تھی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن بہت دیر سے ملی اس لیے نوبت فاقہ کشی تک جا پہنچی۔ اسی عالم میں 11 مئی 1974 کے روز اپنے کوارٹر واقع فرید ٹاؤن ساہیوال میں مردہ پائے گئے۔ تدفین اگلے روز جھنگ میں ہوئی۔ لوحِ مزار پر انھی کا یہ شعر کندہ ہے:

کٹی ہے عمر بہاروں کے سوگ میں امجد

مری لحد پہ کھلیں جاوداں گلاب کے پھول

مجید امجد

فردا نژاد ۔ منظوم پیش لفظ از یاور ماجد

(محترم آفتاب اقبال شمیم کی کتاب فردا نژاد کا دیباچہ جو انہوں نے لکھا اور میں نے اپنے شعری سفر کے اوائل میں منظوم کیا)

شعورووجد میرے مجھ کو ہر دم ہی بتاتے ہیں

کہ دنیا جس میں پیدا میں ہوا ۔۔۔ نا آفریدہ ہے !

میں آیا ہوں عدم تکمیل کے مارے ہوئے ایسے مناظر کو

ذرا تشنہ سی اِک پہچان دینے

کہ میری روشنی کے سب علاقے

مرے اندر، مرے باہر، مرے دائیں، مرے بائیں کہیں ہیں

اور ان کے بیچ میں طرفہ خلا ہے

علاقے یہ کہ جیسے ہوں جزیرے

عجب اِک بحرِ پر اسرار کے اندر

چھپے ہیں، تیرتے ہیں، ڈوبتے ہیں اور ابھرتے ہیں

زِندگی!

مجھ کو مٹا کر پھر بناتی ہے

بنا کر پھر مٹاتی ہے

مگر ہر بار اِک ہی نقش بنتا ہے

کہ جس میں اس کا جوہر

عجب سی لا تعلّق خارجی سچّائی سے دست و گریباں ہے

تو کیا یہ جِنگ دائم ہی رہے گی؟

تو کیا انجام اس کا کچھ نہ ہو گا؟

جو پوچھو مجھ سے تو میں زِندگی کے حق میں کوئی بھی گواہی دے نہیں سکتا

کہ اس کی وسعتیں، گہرائیاں اور سرحدیں

مری پابند سوچوں کے احاطے ہی سے باہر ہیں

مرا ماضی!

مری اپنی فنا کا اور بقا کا اِک حوالہ ہے

مری تاریخ بھی میری فنا کی اور بقا کی جدلیت کی ایک دستاویز سے بڑھ کر نہیں کچھ بھی

نہیں کچھ اس ذرا سے تجربے سے بڑھ کے

جو ماضی سے مستقبل کی صبحیں ڈھونڈتا ہے اور مجھے مصروف رکھتا ہے

مری آزادیوں کے راستوں کو بند کرتا ،

میرے امکانات کا رخ طے شدہ رستے کی جانب موڑتا ہے

وہ رستہ جس میں کتنے ہی حوادث کے ہزاروں موڑ بستے ہیں

میں حاصل ہوں اسی اِک تجربے کا،

اسی رستے کا آئندہ

مگر ان راستوں میں دور اتنا جا چکا ہوں،

کہ پھر سے اپنی خود دریافتی کے سارے امکانات اب معدوم ٹھیرے ہیں

اجتماع !

اِک ساتھ رہنے کی پناہیں چاہتا ہے،

بکھر کر ٹوٹ جانے کا تصور ہی کچھ ایسا خوف آور ہے

زمانہ اس ارادے کے مہیب اظہار کا دریا سا بن کے

رواں رکھتا ہے اس کو درمیاں اپنے کناروں کے

اجتماع !

مظہرِروئیدگی ء زندگی ہے

اور ٹھٹھرتی منطقوں سے دور رہتا ہے

دہکتی دھوپ میں آجائے تو ہر مرتبہ

نئے اِک روپ کی چھاؤں کی چادر اوڑھ لیتا ہے

فرد!

تو بس زِندگی کا مرکزہ ہے

جسے سرسبزی کی خواہش بہت بے چین رکھتی ہے

حقیقت پوچھتے کیا ہو!

مجھے تو اجتماعوں میں بسے رہنے کی خواہش

اور ان سے ٹوٹ کر دور اور الگ رہنے کی تشنہ آرزوؤں نے

ہمیشہ مضطرب رکھا ہے

میں نے تو ہوائے تند کو اپنی لچک کا بے بہا تاوان بھی بخشا

اور سب کی ہمرہی کو،

راہداری سے گزرنے کی اجازت کو

سسکتی روح کو بھی داغوایا ہے!!

اگر ایسا نہ کرتا تو

بھلا یہ نظم کیسے لکھتا جو اب زِندگی کے سامنے

رکھی ہوئی پتھر کی تختی پر

خود اپنے ہی نہ ہونے اور ہونے کا نظارہ دے رہی ہے

عجب مشکل تو یہ ہے رنج کے اس معرکے میں

مرے مدِّ مقابل اور کوئی بھی نہیں میں خود کھڑا ہوں!!

کبھی خود ہی زمانے کی کوئی دیوار بن کر

کبھی پہچان کے اونچے نکلتے قد کا کوئی سایہء بےکار بن کر

زید اور میں خواب تکتے ہیں

زید ہے وہ فردِ اوّل،

عنصری انسان ایسا جس کی بنیادوں پہ میرا

معاشرتی تشخّص قائم و دائم ہے

وہ اور میں جبر کے شاہی قلعے میں قید ہیں

اور برف پر لیٹے حسیں خوابوں کی دنیا میں اکٹّھے سیر کرتے ہیں

یہیں سے دور کے اس شہر کو حسرت سے تکتے ہیں

جہاں پر داسیاں،

محبت اور آزادی کے مندر میں تھرکتے ناچتے خود اپنی ہی خوشبو میں ڈھل جاتی ہیں

اور

پھر حسن خود کو منکشف کر کے خود اپنے وصل کی خبریں سنا تا ہے

اور اِک فردِ دِگر کی آفرینش،

گزارے سب حوالوں کو مکمل طور سے نابود کر دیتی ہے

ہر لمحہ ہی گویا لمحہء تخلیق بن جاتا ہے

میں اور زید دونوں کرب کے دریا کی لہروں میں

پگھل کر بہتے بہتے اپنی اپنی وسعتوں میں غرق ہو جاتے ہیں

اور یہ سیر گاہِ خواب بے سرحد ،

مکمل طور سے لا منتہی ہے

ہمارے سامنے تقدیر کی مہمیز اپنی سرخیاں،

زمیں کی پسلیوں کے بے بہا رِستے لہو

سے لے رہی ہے

خلاؤں کو سُموں جیسے ستارے

نئے افلاک دیتے ہیں

ہر اِک اٹھتا قدم اگلے فرازوں کی نئی دہلیز بنتا ہے

یہاں اس خوبصورت شہر میں فردا کے باسی رہ رہے ہیں

حسیں ہیں،

اورتوانا اور گنہ سے دور

جو اندر اور باہر کی ہر اک دیوار بالکل توڑ بیٹھے ہیں

جو رفتہ اور آئندہ کے پاٹوں میں نہیں پِستے

جو آزادی کے دریا کو سبھی سمتوں میں چلتا دیکھتے ہیں

جو کل کے شہر کو شعلے دکھا کر

نحوست سے بھرے زرموش کی بیماریاں سب تلف کر بیٹھے

وہاں سب ہی برابر ہیں

وہاں کوئی کسی کے حق کا غاصب ہو نہیں سکتا

محبت بو کے فصلیں روشنی کی کاٹتے ہیں

کہو، کیسی منوّر سی زمیں ہے،

جہاں پر چاہتوں کی باد رقصاں ہے

حسیں سپنوں کی وادی دیکھنے سے

ہمیں بولو تو آخِر کون روکے گا

یہ فطرت تو تخیّل کی دلہن ہے

اوراِس کی بیوگی اب ہم نہ دیکھیں گے

فقط ہم خواب دیکھیں گے

مرے آدرش کا سورج جہاں نکلا

وہ خِطّہ تو سدا اِک کاسئہ پسماندگی تھامے

زمانے سے ذرا سی تیز حرکت کی گدائی کو کھڑا ہے

میں اپنی بستیوں میں بچپنے سے

جہل اور غربت کو رقصاں دیکھتا آیا

کہیں سے دستِ نا معلوم پیادوں کو گھروں میں اور بازاروں میں ہر اِک پل نچاتا ہے

ازل سے اپنا لا یعنی سفر جاری و ساری ہے

یہاں پر کچھ بڑے ہیں

جو کہ بس بے حد بڑے ہیں

باقی سب کے سب ہی چھوٹے ہیں

یہاں بے معنی دنیا داریاں تقدیس کے مہنگے لبادوں میں سجا کر طاقچوں پر رکھی جاتی

ہیں

یہاں اشیاء سے الفت کی بہت تلقین ہوتی ہے

یہاں اِک دوسرے کے درمیاں کے فاصلوں کی وجہ

نامعلوم زور آور کی بے رحمانہ ضرورت ہے

یہاں انساں کو نا انساں بنانے کا عمل صدیوں سے جاری ہے

مگر میں جو کئی نسلوں سے ایسی سرزمیں میں منزلوں کو ڈھونڈتا ہوں

نہیں مایوس بالکل بھی

مجھے تو کل بھی آنا ہے

خبر کیا دکھ کی ایسی یاترا سے جب بھی لوٹوں

مجھے معنی کے، سر افرازیوں کے اس سفر کا

سراغِ خفتہ مل جائے

عمل لفظوں کے جڑنے اور تڑنے کا حرارت خیز ہوتا ہے

مگر صرف اس قدر

کہ شب زارِمعانی میں کوئی چھوٹی سی شمع جل سکے

مرے اور میرے لفظوں کے حواس انمول ہیں

کہ ان میں جرأتِ انکار اور اقرار کی قوّت برابر ہے

یہ سچ کی رَو کو اپنے بیچ سے بہنے بھی دیتے ہیں،

ہماری روح میں گویا جڑوں کی طرح پھیلے ہیں

ہمارے نطق کی شاخوں سے پتوں کی طرح کھِلتے ہیں

جِن میں نصف سچّائی کی ہریالی دکھاتے ہیں

انہی لفظوں کی روشن اور انمٹ سی سیاہی سے

مرے اندر کے شاعر نے یہ ساری نظمیں لکھی ہیں

آفتاب اقبال شمیم

پیش لفظ

میرا وجدان اور شعور اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ میں ایک نیم آفریدہ دنیا میں پیدا ہوں۔ ایک نامکمل منظر کی نامکمل شناخت کرنے کے لئے۔ میری روشنی کے علاقے میرے وجود کے اندر، باہر اور اس کے مضافات میں کہیں کہیں واقع ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ ان کے بیچ میں خلا ہی خلا ہیں۔ یہ علاقے نادریافت شدہ اسرار کے سمندر میں تیرتے ہوئے، اوجھ ہوتے ہوئے، ابھرتے ہوئے جزیرے ہیں۔ زنگی اپنی پہچان کے لئے مجھے مٹا کر پھر بناتی ہے اور بار بار ایک ہی نقش بنتا ہے، جس میں زندگی کا جوہر ایک لاتعلق خارجی یحقیقت سے دست و گریباں نظر آتا ہے۔ کیا یہ جنگ لامتناہی ہے یا ہارجیت کے بعیر ختم ہو جائے گی؟ میں زندگی کے حق میں کوئی گوہی نہیں دے سکتا۔ وقت کی سمتیں اور ان کی طوالتیں میرے ادراک کے احاطے سے باہر ہیں۔

میرا حافظ میری فنا اور بقا کا حوالہ ہے اور میری تاریخ اس فنا و بقا کی جدلیت کو دستاویز ۔۔۔۔ ایک مسلسل تجربہ جو ماضی سے مستقبل کی روشنی تلاش کرتا ہے اور مجھے میرے تصّرف میں رکتھا ہے۔ میری آزادیوں کو مشروط کرتا ہے اور میرے امکانات کا رُخ ایک طے شدہ راستے، جس میں حادثوں کے کہیں کہیں خم ہیں، کی جانب موڑتا رہتا ہے۔ میں اس تجربے کی دریافت ہوں۔ اور استی رتہ کا آئندہ ہوں۔ تاریخ کا جبر کچھ ایسا ہے کہ میں اپنے آپ کو رد کر کے نئے سرے سے دریافت کرنا چاہوں تو شاید نہ کر سکوں۔

اجتماع معاشرت کی پناہیں پسند کرتا ہے۔ بکھر کر بے سمت ہو جانے کا خوف ایسا ہے کہ زمانہ اس کے ارادے کا اظہار بن کر اُسے اپنے کناروں کے درمیان رواں رکھتا ہے۔ اجتماع زندگی کی روئیدگی کا مظہر ہے اور برف پوش منطقتوں سے بچ کر چلتا ہے۔ چلچلاتی دھوپوں میں مفاہمت کی چھاےں اورھ لیتا ہے۔ فرد زندگی کا مرکزہ ہے جسمیں سرسبزی کی خواہش گھمسان مچائے رکھتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اجتماع کے ساتھ رہنے اور اس سے ٹوٹ کر الگ ہو جانے کی آرزو نے مجھے ہمیشہ مضطرب رکھا ہے۔ میں نے تند ہوا کو درخت کی لچک کا تاوان بھی دیا ہے اور دوسروں کے ساتھ ساتھ چلنے کے لئے، راہداری کا پروانہ حاصل کرنے کے لئے اپنی روح کا داغا جانا بھی قبول کیا ہے۔ اگر ایسا ہ کرتا تو اقرارکی یہ نظم کیسے لکھتا جو زندگی کے سامنے رکھی ہوئی لوحِ سنگ پر ہونے، نہ ہونے کا منظر نامہ مرتب کر رہی ہے اور کیسی عجیب بات ہے کہ دُکھ کے معرکہ زار میں، میں خود اپنے مقابل کھڑا ہوں۔ کبھی اپنے سامنے زمانے کی دیوار بن کر اور کبھی اپنی راہ میں پہچان کے قدےکا لمبا سایہ بن کر۔

زید اور میں خواب دیکھتے ہیں۔ زید وہ فدِ اول یا عنصری انسان ہے جس کی بنیاد پر میں نے اپنی معاشرتی شحصیت کی تعمیر کی ہے۔ ہم دونوں جبر کے شاہی قلعے کے زندانی سردف سلوں پر سوتے ہیں اور دُور کے اس شہر کی جانب دیکھتے رہتے ہیں جہاں محبت اور آزادی کے مندر میں داسیاں ناچتے ناچےت خود اپنی خوشبو بن جاتا ہیں۔ حسن منکشف ہو کر وصل کی بشارتیں دیتا ہے اور اک فردِ دگر کی آفرینش گزرے ہوئے حوالوں کو نابود کر دیتی ہے۔ ہر لمحہ تخلیق کا لمحہ بن جاتا ہے۔ ایک کرب جس میں سارا وجود پگھل کر بہتے ہوئے اپنی وسعتیں پا لیتا ہے۔ اور اس خواب کی سیرگاہ بے محیط ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ رخشِ ارض کی پسلیوں سے رستے ہوئے لہو سے تقدیر کی مہمیز سرخ ہے اور خلاؤں کو پھندتے ہوئے سموں سے ستارے اُڑ اُڑ کر نئے آسمانوں کو جنم دے رہے ہیں۔ ہر فراز اگلے فراز کی دہلیز بنتا جا رہا ہے۔

اور ہمارے ملکِ خواب میں فردازاد رہتے ہیں۔ خوب صورت، توانا، معصوم، جو اندر اور باہر کی ساری دیواریں مسمار کر چکے ہیں۔ جو رفتہ و آئندہ کے درمیان محصور نہیں بلکہ آزادیوں کے ارتفاع سے دریا کو ساری سمتوں میں رواں دیکھتے ہیں۔ جو کل کے شہر کو جلا کر زرمُوش کی وبا سے ہمیشہ کے لئے نجات پا چکے ہیں۔ جہاں مساوات ہے، انسان، انسان کا استحصال نہیں کرتا۔ محبت بونے والے روشنیاں اگاتے ہیں۔ کیسی من ہر زمین ہے جہاں ہ خان قوت کی ثقالت ہے نہ کا تعفّن چاہتوں کی نرم ہوا دما دم چلتی رہتی ہے۔ اور خواب دیکھنے سے ہمیں کون روک سکتا ہے! فطرت، تخّیل کی دلہن ہے۔ ہم خواب دیکھتے رہیں گے۔ ہمیں اُس کی بیوگی منظور نہیں۔

جہاں میرے آورش کا سورج طلوع ہوا، وہ یہی خطہءِسبز قبا ہے جو پسماندگی کا کشکول تھامے وقت سے رفتار کی بھیک مانگ رہا ہے۔ میں ساری گزری ہوئی عمر سے اپنی گلیوں میں ناداری اور جہل کو دھمال ڈالتے دیکھ رہا ہوں۔ نامعلوم انگلیاں پیادے کو گھر، بازار اور دفتر کے سفید اور سیاہ خانوں میں نچاتی رہتی ہیں اور بے معنویت کا یکساں سفر جاری ہے۔ کچھ بڑے ہیں، جو بہت برے ہیں۔باقی سب کے سب چھوٹے ہیں۔ دنیاداریوں کو تقدس کے غلاف میں لپیٹ کر اونچے طاقچوں میں سجایا جاتا ہے۔ اشیاء سے محبت کی تلقین کی جاتی ہے۔ منافقت کے رائج الوقت سکے پر بے چہرے فرمانروا کا نقش چمکتا ہے۔ نامعلوم زور آور کی سّفاک ضرورت نے ایک اور ایکایک اور دوسرے کے درمیان فاصلے حائل کر رکھے ہیں۔ انسان کو نا انسان بنانے کا عمل جاری ہے۔ لیکن میں جو گزری ہوئی نسلوں کے ساتھ اپنی اس سرزمین پر قدم بہ قدم چلا ہوں، مایوس نہیں۔ کیونکہ مجھے کل بھی آنا ہے۔ کیا خبر کہ دکھ کی یاترا سے جب لوٹوں تو مجھے معنی کے اور بلندیوں کے سفر کا سراغ مل جائے۔

لفظوں کو توڑنے اور جورنے کا عمل حرارت پیدا کرتا ہے لیکن صرف اتنی کہ اس سے شب زار معنی میں شمع جلا سکیں۔ ہمارے حواس ان کے اور یہ ہمارے حواس کے محتاج ہیں۔ ہاں۔ اس اتبار سے قابلِ قدر ہیں کہ ان میں انکار کی جرأت بھی ہے اور اقرار کی توانائی بھی۔ یہ سچ کی رو کو اپنے اندر سے گزرنے دیتے ہیں۔ یہ ہمارے اندر جڑوں کی مانند پھیلے ہوئے ہیں اور شاخ نطق سے پتّیوں کی طرح پھوٹتے ہیں جن میں نصف سچائی کی ہریالی ہوتی ہے۔ انہی لفظوں کی روشنائی سے میں نے یہ نظمیں لکھی ہیں۔

آفتاب اقبال شمیم

مئی ١٩٨٥

آفتاب اقبال شمیم

وُہ اور مَیں

یہ طویل نظمیں شاید اُس طویل نظم کے بیچ بیچ کے حصہ ہیں جو ہمارے دور میں زیرتخلیق ہے۔ جس کے ”ہونے” کا جغرافیہ کسی مخصوص خطہ ارض سے منسوب نہیں بلکہ اس دور کے تہذیب اور ہمارے نفسیاتی علاقوں کی خط کشی کرتا ہے۔ یہ طویل نظمیں کچھ ایسے ہیں جو آج کے خارج و داخل کی منظرکشی اور صدابندی کرتے ہوئے کسی رزمیے کے بجائے المیے کی تالیف کرتی نظر آتی ہیں۔ یوں بھی آج کی نظم میں کسی اخیل، تبریس، سہراب یا ابلیس کیکردارکشی شاید ممکن نہیں رہی۔ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ہم پر اپنی تاریخ کا جو انکشاف اس صدی میں ہوا ہے، اُس نے ہمارے بہت سے رومانی روّیوں کو مسمار کر دیا ہے۔ مشرق و مغرب کی تاریخ اور فلسفہ ہماری اجتماعی میراث ہے۔ ہم نے صدیوں کے عملم یں جیسی بھی انسانی تہذیب کی صورت گری کی ہے۔ اس نے ہمیں یہ شعور ضرور بخشا ہے کہ انسان کو خطوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ زمین، فطرت اور زندگی کے مرتب کردہ منظر نامے میں انسان ایک مرکزے کی حیثیت رکتھا ہے۔ کیا معلوم کہ انسان کی اس حیثیت کے پیچھے کوئی منصوبہ بندی کارفرما ہو۔ لیکن تاحال تو یہی منکشف ہوا ہے کہ اتنی وسیع کائنات میں وہ بے کنارہ وست کی لہروں پر اکیلی ناؤ کی طرح ڈولتے ہوئے بہے چلا جا رہا ہے اور بظاہر اس بے معنی سفر میں وہ بالکل تنہا خود اپنے آپ سے متصادم بھی ہے۔ اُسے اس صورتِ حال کا شعور بھی ملتا جا رہا ہے۔ اس تصادم کے امکانات کیا ہیں؟ وہ اپنے آپ سے آگے بھی نکل سکتا ہے اور خود کو فنا بھی کر سکتا ہے۔ اگ وہ خود کو فنا کر دیتا ہے تو وہ ایک ناقص الوجود مخلوق کی حیثیت سے عناصر کے تجربے کا حصہ بن جائے گا او شاید زندگی آگے چل کر اُس کے مقابلے میں زیادہ بسیط اور مکمل تر مخلوق پیدا کرے اور یہ سلسلہ جاری رہے۔ لیکن لگتا یہی ہے کہ انسان میں امکانات کی اتنی گنجائش ضرور ہے کہ وہ اپنے آپ سے آگے نکل جائے۔ مثلاً یہی چند صدیاں پہلے بستیوں کو تاراج کرنے والوں کو ہیرو قرار دیا جاتا تھا۔ ایسے ہیرو اب بھی پیدا ہوتے ہیں لیکن انہیں مینیک یا وِلین کے لقب سے نوازا جاتا ہے۔ اِسی طرح اِستبداد اور استحصال جو آج بھی بہت عام ہے، مظلوموں کے لئے ایک چیلنج بن چکا ہے آزادی پسند قوتیں ایک ایسے زمانے کا خواب دیکھ رہی ہیں جب جبر و استحصالکا نام نہ رہے گا۔ اب وہ نشہ آور فلسفوں اور ثقافتی افیونوں مثلاً آئیڈیلائزڈ محبت جیسی منشیات کے بارے میں جان چکی ہیں کہ اُن کے بیج سے عالمی نفرت کی فصل اُگتی رہی۔ اُن کے نام پر مظلوموں کو لوریاں دی جاتی رہیں اور انہیں خوابوں کی بافندگی کا پیشہ سونپ دیا گیا۔ اب وہ نیند سے بیداری کے عالم میں ہیں۔ مظلوم اپنی نیم وا آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ زور آور کے معبد میں مورتیں ا بنانے، ان کی غیبی قوت کی تشہیر کرنے پر کون مامور ہے۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ وہ جبر کے بورھے شبدیز کے پہلو سے لٹکے ہوئے ہیں اور ان کی گردن سے قطرہ قطرہ سرخ زندگیح ٹپک رہی ہے۔ انہیں معلوم ہوتا جا رہا ہے کہ زورآور کی سیاست کا قلم ان کیلوح حیات پر جو لکھتا ہے وہی ان کی تقدیر بن جاتا ہے۔ یہ حقیقتیں آشکار تو ہو رہی ہیں لین حقیقت خود ایک معمہ ہے۔ رومان کا عمل آسان سا ہے، وہ شیشے کو سانس سے دھندلا کر چیزوں اور مظاہر کو دیکھ لیتا ہے۔ حقیقت بظاہر پردے اٹھاتی ہے لیکن اس عمل میں تہ اندر تہ حقیقتیں سراب سی نظر آنے لگتی ہیں۔ بہرطور یہ ادراک تو میسر آتا ہے کہ کوئی اخذ شدہ نتیجہ آحری نتیجہ نہیں، کوئی فیصلہ آخری فیصلہ نہیں اور کوئی نظام فکر آحری نظام فکر نہیں۔ محدود لامحدود نہیں ہوتا۔ ہم مشاہدے، فکر اور تور سے معنی کا جو تانا بانا بُنتے رہے وہ زندگی کی جامعیت پر تنگ رہا۔ انسان کو بُرے اور بھلے میں باٹنا معاشرے اور فرد کو متوازن رکھنے کے لئے مفید عمل تو ہو سکتا ہے لیکن اسیا کرنے سے ہم نے فرد کو اُس کو کلیت سے محروم کر دیا۔ اس کے شعور اور لاشور میں فاصلے بڑھا دئیے۔ نصیحتوں ، دھمکیوں اور سزاؤں کی بٹی ہوئی رسی کی جنبشی پر اُسے چلنا اور رکنا سکھایا۔ وہ اپنی فطرت کی اکائی سے الگ ہو کر ایک یا دو دُنیاؤں کی فکر میں اتنا سنجادہ ہو گیا کہ اُس نے اشیاء کی منڈی اور کنشت و کلیسا کے ماورائی ڈھانچے کے درمیان آمدورفت میں ہی صدیاں گزار دیں۔ کیوں نہ ہم ایک سادہ سی، آسان سی زندگی گزارنے پر سمجھوتہ کر لیں ادنیٰ و اعلیٰ اور نیک و بد کی مصنوعات بنانے سے دست کش ہو جائیں۔ ایسے شجر اکھاڑ پھینکیں جن پر استحصال اور جبر کا پھل لگتا ہے۔ فرد کی کلیت کو تسلیم کیا جائے اور فرد انسانی تاریخ میں کھائی ہوئی شکستوں اور فہم خالص کے شعور میں اپنی حدوں کے المیے کا اعتراف کرے۔ ایک درد مشترک کا اُسے وہ اخلاقی بصیرت بخشے کہ وہ اپنی اصل کو پہچان کر انبوہ کے رَواں دھارے میں قطرے کی طرح مدغم ہو جائے۔ ایسے قطروں سے بنا ہوا دھارا یقیناً اپنے آپ سے آگے نکل جائے گا۔ کیا ضروری ہے کہ صدیوں سے کھیلا جانے والا آگ اور خون کا ناٹک جاری رہے۔ کیا ضروری ہے کہ افلاس اور غلامی کی وباء پھیلانے کے لئے ہوس کے گٹروں میں زرموش کی پرورش کی جائے۔ جنسِ قوت تخلیں ہے، اسی کے شبستانوں میں بقا کا خواب پلتا ہے۔ اسے سمٹ سمٹ کر چلنے کا پابند کیوں بنایا جائے۔ سخاوت اور احسان ہی وہ انصاف ہے جو زندگی ہم سے مانگتی ہے۔ کیا یہ کارِ ناممکن ہے؟ نہیں۔ یہ ہماری حدِ اِمکان میں ہے۔

مَیں اپنے گریبان میں کیا جھانکوں۔ یہاں تو ابھی رُفو کا بہت سا کام پڑا ہے یہاں تو ابھی شخصی حکومتیں چل رہی ہیں۔ ابلاغ عامہ کا سرافیل جاگتے ہوؤں کو سلانے اور آذر جمود باطن کے بُتوں کو پختہ کرنے پر مامور ہے۔ یہاں تو ابھی مردنے بیچاریوں کو چادر اور چاردیواری کا تحفظ دینے کی ذمہ داری جبراً اپنے پاس رکھی ہوئی ہے۔ اشتہار اور اشیاء کی چکاچوند میں آنکھیں کیا دیکھیں، اپنے لئے برے دھندے اور اولادوں کے لئے بڑی جائیدادیں یہی ہماری ساری تگ و دو کا مرکز و محور ہے۔ ایک طبقہ ہے جو شاہ کو کج کلاہی کے تیور سکھاتا ہے، گدا کو خانقاہیں چلانے کی سہولتیں بخشتا ہے اور شاعر سے حُب الوطنی کے ثبوت میں ترانے لکھواتا ہے۔ اس کی حکمت و حکومت موقع پرستی اور منافقت کی پشت پناہی کرتی ہے۔ ایک پورا کلچر ہے جو اس کے پیچھے پیچھے کلیشے اور جذباتیت کی بیساکھیوں پر چل رہا ہے۔ اس مکتب شہ گری اور درسگاہ اناشکنی کے ‘ان پڑھ’ دُک۔ اُٹھانے اور رُسوا ہونے کے پرانے عادی ہیں اور صدیوں کی تنبیہ و سزا کے اوجود ان کی یہ عادت نہیں گئی۔ اور یہی ہیں وہ جن پر میری ساری امیدوں کا انحصار ہے۔ یہی ہیں وہ جو اس کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتے ہیں۔ میں خود اِسی قبیلے کا فرد ہوں۔

اور زندگی کی اِس موجود منظر گاہ میں اپنے رُوبرُو کھڑا میں سوچ رہا ہوں کہ وقت، عناصر اور تاریخ کا تیارہ شدہ پیکر اپنی اصل میں کیا ہے؟ میں اُس انبوہ کی پہلی اکائی ہوں جو صدیوں سے بے تغیر چل رہا ہے۔ اس انبوہ کی ایک خردہ شکل میرے اندر بھی موجود ہے۔ مَیں اُس فطرت کا قدیم عکس ہوں جو میرے باہر اور اندر محیط ہے۔ میں اُس پرانی مٹی کی روئیدگی کا ثمر ہوں جسے دھوپوں نے پکایا ہے۔ میں اس تاریخ کا مُرقع بھی ہوں جو خیال کو جبلّت پر حاوی کرتی رہی ہے اور یوں ایک تجربے کا حاصل بھی ہوں۔ میرے اندر شکستوں کے دراز سائے بھی ہیں اور امکان کی دُور نما جھلمل بھی۔ دیکھوں تو میں خود بھی نہیں۔ اپنے آپ سے ملا ہوں، اپنے آپ سے بچھڑا ہوا۔ اپنے آپ میں بہت مضطرب، بہت مطمئن۔ ندی کی روانی بھی اور کنارے کا ٹھہراؤ بھی۔ زندہ و خوبصورت کی بے پناہ چاہت بھی اور خود سے اجنبیت اور بیزاری بھی۔ میں اپنی گھمبیر تنہائی میں ‘زید’ سے ملتا ہوں۔ وہ میرا آسیب یا ہمزاد یا ضمیر نہیں۔ شاید وہ میری اصل ہے۔ ناوقت اور نالفظ میں چھپی ہوئی اصل۔ جس سے گفتگو تو کرتا ہوں لیکن ایک طرفہ۔ وہ میرے سامنے ہوتا ہے لیکن میری پہچان سے باہر رہتا ہے۔ پہچانوں بھی کیسے کہ کئی زمانے نوکِ سوزن سے آنکھ پر کھینچی ہوئی خراشیں چھوڑ گئے ہیں۔ وہ اور میں زندگی کے دو اہم کردار ہیں، ایک دوسرے کی دسترس سے ذرا ہٹے ہوئے۔ اُس کے بہت سے اندھیرے میری حسّیات کے ٹٹولنے کی پہنچے سے باہر ہیں۔ اُس کی بہت سی آوازیں میری سماعت کے منطقتوں سے نیچے یا اوپر رہتی ہیں۔ وہ میرا اور میں اس کا محرم نہیں بن سکتا کہ وہ میری پوری سچائی اور میں اپنی آدجھی سچائی۔ میں اس سے یک طرفہ مکالمہ کر رہا ہوں۔ ذرا سُنیے ہ وہ آپ میں بھی موجود ہے اور یہ گفتگو آپ کی گفتگو بھی ہے۔ اور کیوں نہیں؟ ہم سب اس مہینے، اس سال اوراس صَدی میں اکٹھے زندگی کر رہے ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ میں اگلے جنم میں بھی آؤں گا اور زید سے یہ مکالمہ جاری رہے گا۔

آفتاب اقبال شمیم

اپریل ، ٨٩

آفتاب اقبال شمیم