زمرہ جات کے محفوظات: قطعہ

اُفُقِ عَصر پہ تہذیب کے آثار ہیں ہَم

ہیں رسوماتِ اَزَل زِندہ ہَمارے دَم سے
آج بھی سجدہ و اِنکار کی تَکرار ہیں ہَم
کُچھ نہ ہونے پہ بھی سَرمایہِ تحقیق تَو ہیں
اُفُقِ عَصر پہ تہذیب کے آثار ہیں ہَم
ضامن جعفری

تُو زندگی کے معانی بدل کے دیکھ ذرا

ہمارے کہنے پہ کچھ روز چل کے دیکھ ذرا
تُو اپنے آپ سے باہر نکل کے دیکھ ذرا
بدل کے دیکھے گا تُو کب تک اور کس کس کو
کسی کی ذات میں خود بھی تَو ڈَھل کے دیکھ ذرا
رہِ حیات کٹھن ہی سہی پر اتنی نہیں
تُو زندگی کے معانی بدل کے دیکھ ذرا
ضامن جعفری

اَب اِختیار ہَمیَں دو ہَمارے بَس میں رَہو

ہَمارے دِل سے نِکَل کَر کَہاں بَسو گے بھَلا
اَب اِس پَہ حُکم چَلاؤ کہ اِس قَفَس میں رَہو
خُود اَپنے کہنے پَہ چَل کَر تَو تُم نے دیکھ لِیا
اَب اِختیار ہَمیَں دو ہَمارے بَس میں رَہو
ضامن جعفری

ہم جو سَمجھے ہَیں کہو اِس میں وہی راز ہے کیا؟

ہم نے کھایا نَہیں لہجَوں کی حَلاوَت کا فَریب
دیکھ لیتے ہیں پَسِ پَردہِ اَلفاظ ہے کیا
جَب کہیں مِلتے ہو کَترا کے نکل جاتے ہو
ہم جو سَمجھے ہَیں کہو اِس میں وہی راز ہے کیا؟
ضامن جعفری

یہ لیجئے! ہم نے رَوِشِ آہ بدل دی

ہم قائلِ تقلید نہیں راہِ جنوں میں
دیکھا جو کوئی نقشِ قدم راہ بدل دی
اک بارِ گراں خاطرِ نازک پہ یہی تھا
یہ لیجئے! ہم نے رَوِشِ آہ بدل دی
ضامن جعفری

خُود غَرَض کِتنا ہو گَیا ہُوں میں

ہَر قَدَم سے لپَٹ گَیا اُس کے
وہ یہ سَمَجھا تھا نَقشِ پا ہُوں میں
اُس کے آئینے سے الجھتا ہُوں
خُود غَرَض کِتنا ہو گَیا ہُوں میں
ضامن جعفری

کوئی تو ہے جسے میں نے یہ سب سنایا ہے

ہر ایک غم کو جو ہنس کر گلے لگایا ہے
ہر اِک کے ساتھ ترے نام کا حوالا ہے
فصیلِ قلب و نظر سے پلٹ تو آیا ہوں
ترے حصار میں لیکن شگاف آیا ہے
حسابِ سود و زیاں میں اُلجھ کے کیا دیکھیں
ہمیں یقین ہے، کھویا نہیں ہے، پایا ہے
کوئی تو ہے یہاں میرا بھی رازداں ضامنؔ
کوئی تو ہے جسے میں نے یہ سب سنایا ہے
ضامن جعفری

میں آئینے کو مُسَلسَل نَظَر میں رَکھتا ہُوں

نہیں کہ دِل ہی فقط رَہگُذَر میں رکھتا ہُوں
میں چَشم و گوش بھی دیوار و دَر میں رکھتا ہُوں
تمام رات ہیں اُس کی شکایتیں خُود سے
پھِر اُس کو اپنی دُعائے سحر میں رکھتا ہُوں
وہ کھویا رہتا ہے آرائشِ جمال میں جب
میں آئینے کو مُسَلسَل نَظَر میں رَکھتا ہُوں
ضامن جعفری

اَزَل سے سب مکرّر ہو رَہا ہے

نہ جانے کہہ دِیا ہے عشق نے کیا
کہ حُسن آپے سے باہر ہو رَہا ہے
حواس و ہوش سے کہہ دو کہ جائیں
حسابِ دل برابر ہو رَہا ہے
اَبَد ممکن ہے لائے کچھ تغیّر
اَزَل سے سب مکرّر ہو رَہا ہے
ضامن جعفری

کُچھ مِری فِکر بھی ہے خوں میں شَرابور بہت

نَفسِ لَوّامہ تُو چُپ کیوں ہے مَچا شور بہت
نَفسِ اَمّارا ہُوا جاتا ہے مُنہ زور بہت
حَرفِ حَق گوشِ سَماعَت سے ہُوا ہے محروم
چَشمِ بینا بھی نَظَر آئی مجھے کور بہت
دیتا رہتا ہے دِلاسا مُجھے یُوں میرا ضَمیِر
آرزوئیں تَو مِری بھی ہیں لَبِ گور بہت
خُونِ دِل بھی ہے مِرے اَشکِ رَواں میں ضامِنؔ
کُچھ مِری فِکر بھی ہے خوں میں شَرابور بہت
ضامن جعفری

خَموشی بولَے تَو پھِر بے تَکان بولتی ہے

نَسَب چھُپاتا ہے جَب کوئی کَم نَسَب اَپنا
رَگوں میں بہتے لہُو کی زبان بولتی ہے
یہ شور ہی ہے جو تھَک کَر خَموش ہوجائے
خَموشی بولَے تَو پھِر بے تَکان بولتی ہے
ضامن جعفری

گُمان ہوتا ہے جِس جا وہیں نہیں ہوتی

میں ہر نَظَر سے زمانے کی خوب واقف ہُوں
کرے جو رُوح میں گھر وہ کہیں نہیں ہوتی
کَہاں کَہاں میں گیا ہُوں تَلاشِ اُلفَت میں
گُمان ہوتا ہے جِس جا وہیں نہیں ہوتی
ضامن جعفری

شاید کوئی کَمال تِرے سَنگِ دَر میں ہے

مَنظَر میں کچھ ہے یا مِرے حُسنِ نَظَر میں ہے
یا کچھ نہیں ہے جو ہے تِری رہگُزَر میں ہے
سَمجھا رَہے ہیں لوگ مِرے دِل کو بار بار
سُنتا کوئی نہیں ہے کہ سَودا تَو سَر میں ہے
سَر پھوڑنے کو آتے ہیں سَب دُور دُور سے
شاید کوئی کَمال تِرے سَنگِ دَر میں ہے
ضامن جعفری

معلوم ہو مجھے بھی کہ کیا کچھ اَثَر میں ہے

منزل میں وہ کہاں ہے مزہ جو سَفَر میں ہے
آنکھیں کُھلیِں تَو زیست کاحاصل نَظَر میں ہے
طوفان کر رہا تھا مِرے عزم کا طواف
دنیا سمجھ رہی تھی کہ کشتی بھَنوَر میں ہے
اسبابِ کائنات کا منکر نہیں ہُوں میں
پِھر کیوں کَشِش شَجَر سے زیادہ ثَمَر میں ہے
ضامنؔ! مری دعاؤں کی قیمت بھی کم نہیں
معلوم ہو مجھے بھی کہ کیا کچھ اَثَر میں ہے
ضامن جعفری

ہوش و خِرَد کے سارے حوالوں سے دشمنی

منزل کی آرزو ہے، تَو راہوں سے دشمنی
تعبیر کی تلاش ہے، خوابوں سے دشمنی
بھٹکوگے روز و شب، رہ و منزل کی چاہ میں
سورج سے تم کو لاگ، چراغوں سے دشمنی
رائے نہ مشورہ کوئی، ایسا بھی کیا شباب
مہنگی پڑے گی، چاہنے والوں سے دشمنی
دَورِ جنوں نواز میں ضامنؔ! ہے لازمی
ہوش و خِرَد کے سارے حوالوں سے دشمنی
ضامن جعفری

خامشی حُسن کی عادت کے سِواِ کچھ بھی نہیں

مثلِ آئینہ مجھے دیکھ! تردّد کیا ہے؟
چشمِ آئینہ میں حیرت کے سِوا کچھ بھی نہیں !
روح، فریاد کُناں ہے تَو سبب ہے اِس کا
قید خانے میں اذیّت کے سِوا کچھ بھی نہیں
وہ توجہ ہو تغافل ہو تبسّم ہو کہ اشک
اُس کا ہر رُوپ محبت کے سِوا کچھ بھی نہیں
اُن کے اسلوبِ نظر سے یہ عیاں ہے ضامنؔ
خامشی حُسن کی عادت کے سِواِ کچھ بھی نہیں
ضامن جعفری

فنا کی قید سے پابندیِ اَزَل سے نکل

مثالِ شُتر نہ بیٹھا رِہ شُتر کیِنہ لیے
تُو کام عَقل سے لے بندشِ عَقَل سے نکل
گر عَقلِ کُل ہے تَو ہر چیز کو اَبَد کر لے
فنا کی قید سے پابندیِ اَزَل سے نکل
ضامن جعفری

دارالبَقا بَنانے کو معمار چاہیے

مانا کہ ظُلم و جَبر سے اِنکار چاہیے
اِنکار کے لیے بھی تَو کِردار چاہیے
کَھلتا ہے چَشمِ ظُلم کو بہتا ہُوا لہو
زَخموں کو کُچھ سَلیقَہِ اِظہار چاہیے
دارِ فَنا کو، کھود کے ہَر ایک بیخ و بُن
دارالبَقا بَنانے کو معمار چاہیے
ضامن جعفری

مرے اشعار میں اپنے معانی ڈالنے والو

لرزتی ہے سراپا روحِ قرطاس و قلم تم سے
اَدَب کے خون سے نفسوں کو اپنے پالنے والو
تمہیں کس نے دیا یہ حق؟ بھلا تم کون ہوتے ہو؟
مرے اشعار میں اپنے معانی ڈالنے والو
ضامن جعفری

تَسکیِنِ نَظَر تَو ہو گی مَگَر داغَوں کو نُمایاں کَر دیں گے

گَر یہ ہے رَوِش وہ جَب چاہیں گے آئیں گے احساں کَر دَیں گے
اَپنی بھی اَنا ہے ہَم اِظہارِ تَنگیِ داماں کَر دَیں گے
کَے بار خَیال آیا بَیٹھیَں اَوراقِ پَریشاں کو لے کَر
اِک خَوف سا دِل میں بیٹھا ہے اَوراق پَریشاں کَر دَیں گے
اے خواہِشِ دِل چَل دیکھ آئیں پھِر محفِلِ جاناں کے مَنظَر
تَسکیِنِ نَظَر تَو ہو گی مَگَر داغَوں کو نُمایاں کَر دیں گے
ضامن جعفری

لوگ چَلتی ہَوا سے بَد ظَن ہیں

کیسے گلشَن میں رہ رَہا ہُوں میں
پھول بادِ صَبا سے بَد ظَن ہیں
منزلیں قافلوں سے ہیں محروم
لوگ ہر نقشِ پا سے بَد ظَن ہیں
حَبس سا حَبس ہے مگر ضامنؔ
لوگ چَلتی ہَوا سے بَد ظَن ہیں
ضامن جعفری

تیرے اِس خواب کی تَعبیر اِسی خواب میں ہے

کیا کَہوں تُجھ سے بھَلا! سَنگ اُٹھانے والے
تُو بَہَر حال مِرے حَلقۂ احباب میں ہے
خواب میں آ کے چَلے جانے پَر اُس نے یہ کَہا
تیرے اِس خواب کی تَعبیر اِسی خواب میں ہے
ضامن جعفری

جو ہاتھ پَسِ پُشت ہے، اُس ہاتھ میں کیا ہے

کیا صَبر ہے، کیا ضَبط ہے، کیا پاسِ وَفا ہے
کیا جانیے دِل کون سی مٹّی کا بَنا ہے
اِک خَوف سا رہتا ہے مِلائے جو کوئی ہاتھ
جو ہاتھ پَسِ پُشت ہے، اُس ہاتھ میں کیا ہے
ضامن جعفری

یہ میرا نطق ہے اِس کی زباں میں

کہاں یہ عشقِ دنیا اُور کہاں میں
گزارا کر رہا ہُوں بَس جہاں میں
میں اُس ہجرت سے خائف ہُوں کہ جس میں
یقیں بھی جا کے بس جائے گماں میں
یہ حرف اُور میں دلیلِ یک دِگر ہیں
یہ میرا نطق ہے اِس کی زباں میں
ضامن جعفری

جہل ہے آگَہی ہے پھر ہے جنوں

کُشتَہِ آگَہی! مبارک ہو
ہاتھ پھیلائے منتظر ہے جنوں
سرکَشیِ خِرَد، معاذ اللہ!
اَور اتنا ہی مُنکَسِر ہے جنوں
راستہ اِتنا مختصر بھی نہیں !
جہل ہے آگَہی ہے پھر ہے جنوں
ضامن جعفری

فاصلے کِس بَلا کے رکّھے ہیں

کس کے آنے کی ہے یہ تیّاری
زَخم سارے سَجا کے رَکّھے ہیں
چشمِ شوق! انتظار میں کس کے
تُو نے آنسو بچا کے رکّھے ہیں
تُم نے اے عقل و دِل یہ آپس میں
فاصلے کِس بَلا کے رکّھے ہیں
ضامن جعفری

چراغِ حسرتِ دل دوست جل رہے ہیں ہنوز

غمِ حیات کے عنواں بدل رہے ہیں ہنوز
مگر چراغ محبّت کے جل رہے ہیں ہنوز
شکستِ دل کی نمائش بھی دل نے کی نہ قبول
سَرَشکِ غم سَرِ مژگاں مچل رہے ہیں ہنوز
نقوشِ خونِ تمنّا ہیں اب بھی چشم بَراہ
چراغِ حسرتِ دل دوست جل رہے ہیں ہنوز
ضامن جعفری

یہ فَیصلہ تَو مِیاں وَقت کے نَصیِب میں ہے

صلیبِ وقت کے انداز کُچھ عجیب سے ہیں
پَتہ کَرو کوئی عیسٰی کہیِں قَریِب میں ہے
حیات کِس کی اَجَل ہے اَجَل ہے کِس کی حیات
یہ فَیصلہ تَو مِیاں وَقت کے نَصیِب میں ہے
ضامن جعفری

کیا بَڑھ گیا تھا دَست و گریباں کا فاصلہ؟

شَرمندگی سے، آپ کے احساں کا، فاصلہ
یُوں تھا قَضا سے جیسے رَگِ جاں کا فاصلہ
کیوں رہرَوانِ عِشق جُنوں تَک نہ جا سَکے؟
کیا بَڑھ گیا تھا دَست و گریباں کا فاصلہ؟
ضامن جعفری

ہَم کہہ چُکے ہیں تُم بھی ذَرا کہہ کے دیکھ لو

سَیلابِ آرزو میں ذَرا بہہ کے دیکھ لو
کچھ دِن ہَمارے ساتھ رَہو، رہ کے دیکھ لو
سُنتے نہیں کِسی کی یہ دِل کے معاملات
ہَم کہہ چُکے ہیں تُم بھی ذَرا کہہ کے دیکھ لو
ضامن جعفری

کرنی پَڑی ہے ہم کو چراغوں سے معذرت

سب اہلِ ظرف عالی دماغوں سے معذرت
دَورِ خزاں کے عشق میں باغوں سےمعذرت
تاریکیوں سے ربط بڑھانے کے شوق میں
کرنی پَڑی ہے ہم کو چراغوں سے معذرت
ضامن جعفری

حقّا زِ رہروانِ رہِ راستیم ما ۔ قطعہ فارسی

زنہار ہجرِ یار نمی خواستیم ما
ہر آنچہ بگزرد نمی پنداشتیم ما
رفتیم کوبکو کہ ببینیم عکسِ یار
در قلبِ ذات عاقبتش یافتیم ما
دانیم کوئے یار و رہِ مستقیمِ عشق
حقّا زِ رہروانِ رہِ راستیم ما
ضامن جعفری

تلاش کیجیے ضامنؔ یہیں کہیں ہو گا

ڈَسا ہے جِس نے مُجھے، اُس کو کیجیے نہ تَلاش
مَیں مُطمَئِن ہُوں ، کوئی مارِ آستِیں ہو گا
ابھی ابھی وہ یہاں تھے یہیں پَہ تھا دِل بھی
تلاش کیجیے ضامنؔ یہیں کہیں ہو گا
ضامن جعفری

اِس کو فکرِ مآل کیسے دُوں

دل کے ہر زخم میں ہے اِک تصویر
رُخصَتِ اندمال کیسے دُوں
رحم آتا ہے خاطرِ خوش پر
اِس کو فکرِ مآل کیسے دُوں
ضامن جعفری

کچھ اثَر شاید دِکھایا آہِ بے تاثیر نے

دل کو جب تسلیم جاں کی عقلِ با تدبیر نے
تہنیت دی بڑھ کے دامِ حلقہِ زنجیر نے
یاس و حسرت، رنج و غم، سب لکھ دیے میرے لیے
کیا دیا اہلِ جہاں کو کاتبِ تقدیر نے
سُن کے ضامنؔ وہ مِرا احوال تھے تَو مضطرب
کچھ اثَر شاید دِکھایا آہِ بے تاثیر نے
ضامن جعفری

پھینک دوں آئینے تمام؟ شورِ اَنا کا کیا کروں

خُود ہُوں طبیب خُود مریض اپنی دَوا کا کیا کروں
دَستِ ہَوس دَراز ہے دَستِ دُعا کا کیا کروں
خامشیِ درونِ ذات، پوچھ رہی ہے رات دِن
پھینک دوں آئینے تمام؟ شورِ اَنا کا کیا کروں
ضامن جعفری

اُفق پہ یادوں کے سب وہی ہیں ، پرانے قصے پرانی باتیں

خدا ہی جانے کہاں سے سِکھِیں ہمارے دل نے نرالی باتیں
جہاں بھی جس سے بھی جب بھی ملنا تمہارا ذکر و تمہاری باتیں
یہ کیسی تنہائیاں ہیں ضامنؔ، وہی ہے چہرہ وہی صدا ہے
اُفق پہ یادوں کے سب وہی ہیں ، پرانے قصے پرانی باتیں
ضامن جعفری

دل کو آنکھوں کا اعتبار آیا

(مصرعِ طرح:’’ سرِ منصور ہی کا بار آیا‘‘ ۔ میر تقی میر)ؔ
چند لمحے کہیِں گزار آیا
دل پر اک بوجھ تھا اُتار آیا
تیرا آنکھوں میں دل سجا لینا
ذہن میں میرے بار بار آیا
دیکھ کر اُس کو رو بہ رو ضامنؔ
دل کو آنکھوں کا اعتبار آیا
ضامن جعفری

جی بھر کے پھر اپنے کو دعا دی میں نے

جو چاہے اب آجائے صدا دی میں نے
دیوارِ اَنا آج گِرا دی میں نے
خود کو قَفَسِ ذات سے آزاد کِیا
جی بھر کے پھر اپنے کو دعا دی میں نے
ضامن جعفری

ابھی تو ہوش کو اُڑنا سِکھا رہے ہیں آپ

جنوں کا صرف جنوں سے علاج ہوتا ہے
غضب ہے اس پہ خرَد آزما رہے ہیں آپ
ہر ایک پارۂ دل رقص بھی کرے گا ضرور
ابھی تو ہوش کو اُڑنا سِکھا رہے ہیں آپ
ضامن جعفری

جو ظرف بھی خالی تھا وہ سر بند مِلا

جس دَر پہ بھی دستک دی وہ دَر بند مِلا
ہر شخص خود اپنے میں نظر بند مِلا
میں دولتِ دل بانٹتا کیسے ضامنؔ
جو ظرف بھی خالی تھا وہ سر بند مِلا
ضامن جعفری

ہونا تھا جو وہ ہوچُکا، جیسا بھی فیصلہ ہُوا

جَب کَبھی حُسن و عِشق کا آمنا سامنا ہُوا
جو بھی ہُوا غَلَط ہُوا، جو بھی ہُوا بُرا ہُوا
تُم کو نَوازا حُسن سے مُجھ سے کَہا کہ عِشق کر
ہونا تھا جو وہ ہوچُکا، جیسا بھی فیصلہ ہُوا
ضامن جعفری

اُور عشق میں بھی اب یہ ضرورت نہیں رہی

تھی عشق کو جو حُسن سے نسبت نہیں رہی
اب وجہِ افتخار نجابت نہیں رہی
ذِکرِ بہار قابلِ تعزیر جُرم ہے
کہنا پَڑا بہار سے رَغبَت نہیں رہی
ضامنؔ! ہمیں وفا کے علاوہ بھی کام ہیں
اُور عشق میں بھی اب یہ ضرورت نہیں رہی
ضامن جعفری

برہنہ لوگ مجھ سے لڑ رہے ہیں

تعرّض کیا ہے مجھ گوشہ نشیں سے
جو اہلِ فہم ہیں سمجھے ہوئے ہیں
مِرا ملبوس ہے وجہِ شکایت
برہنہ لوگ مجھ سے لڑ رہے ہیں
ضامن جعفری

تھے ہی قَریبِ مَرگ ہَم آپ نے وار کیوں کِیا

تَذکرہِ خُلوص و پاسِ قَول و قرار کیوں کِیا
ہَم نے خزاں میں جانے یہ ذِکرِ بَہار کیوں کِیا
روزِ اَزَل سے آج تَک، با خَبَر اَور بے نِیاز
حُسن کو دِل نے عِشق کا پَروَردگار کیوں کِیا
رَمَقِ زِندگی حضُور! پہلے ہی تھی بَرائے نام
تھے ہی قَریبِ مَرگ ہَم آپ نے وار کیوں کِیا
ضامن جعفری

میرَفت سُوئے منزل بر دوشِ سوگواراں ۔ قطعہ فارسی

پوشیدہ گر بیائی سُوئے ما گناہگاراں
گویم بتو اے زاہد رہ و رسمِ بادہ خواراں
زَہے شیخِ تو چہ گویم ہمی رفت دوش دیدم
خُم و جامِ مے بَدَستَش سُوئے کوئے گُل عذاراں
چہ زیاں زِ توبہِ ما زِ شکستِ توبہِ ما
کُو وداعِ موسمِ گُل ویں آمدِ بہاراں
آں ضامنِؔ خُجَستہ دیدیم بود خستہ
میرَفت سُوئے منزل بر دوشِ سوگواراں
ضامن جعفری

میری آواز آ رَہی ہے کیا؟

پوچھتی پِھر رہی ہے سب سے اَجَل
زندگی مُسکرا رہی ہے کیا؟
کیا میں قَبروں پَہ جا کے پُوچُھوں اَب
میری آواز آ رَہی ہے کیا؟
ضامن جعفری

کوئی کَشِش مُجھے گُلشَن میں ڈال دیتی ہے

بَلا کی آگ مِرے تَن میں ڈال دیتی ہے
ہر ایک یاد اِک اُلجَھن میں ڈال دیتی ہے
گئے زَمانوں کی زَنجیر کھینچ کَر مُجھ کو
کِسی کی یاد کے آنگَن میں ڈال دیتی ہے
میں سوچتا ہُوں زمانے سے دوستی کَرلُوں
مُنافِقَت مُجھے اُلجھَن میں ڈال دیتی ہے
خزاں رسیدہ ہے لیکن میں کیا کروں ضامنؔ
کوئی کَشِش مُجھے گُلشَن میں ڈال دیتی ہے
ضامن جعفری

کب تَک وداعِ ہوش تَماشا کریں گے ہَم

آئینہِ فراق میں اے عَکسِ حُسنِ یار
دیکھا کریں گے ہم تجھے سوچا کریں گے ہَم
شَوقِ نُمائشِ لَب و رُخسار کچھ سنبھل
کب تَک وداعِ ہوش تَماشا کریں گے ہَم
ضامن جعفری

داند چمن کہ من زِ رقیبَم رمیدہ اَم قطعہ فارسی

اے چشمِ انتظار صدائے شنیدہ اَم
دارم گمان مگر سرِ منزل رسیدہ اَم
زنہار باز می نہ رَوَم زین فضائے خوش
ایمن نشستہ ام زِ درونم رمیدہ اَم
آن بوئے خوش نَیَم کہ بمانم بہ قیدِ گُل
مِثلِ نسیمِ سَحَر بَہ ہر سُو وَزیدہ اَم
ضامنؔ ہزار لالہ و گُل عکسِ یار داشت
داند چمن کہ من زِ رقیبَم رمیدہ اَم
ضامن جعفری

تَو یہ بھی سیکھیں اِسے کس طرح سنبھالتے ہیں

اَنا کا جبر ہے وہ دل میں روگ پالتے ہیں
یہی تَو دُکھ ہے جسے ہم غزل میں ڈھالتے ہیں
وہ دل کو چھیڑنے میں طاق ہیں اگر ضامنؔ
تَو یہ بھی سیکھیں اِسے کس طرح سنبھالتے ہیں
ضامن جعفری

کیا کیفِ بیخودی ہے یہ سَودائیوں میں دیکھ

آغاز و اِختتامِ حیات آئینہ بَنا
رَنگینیِ حیات کی پہنائیوں میں دیکھ
صِدق و صَفا جو چاہے تَو رندوں میں آ کے بیٹھ
کیا کیفِ بیخودی ہے یہ سَودائیوں میں دیکھ
ضامن جعفری

تمہارے ہاتھوں میں خود ہیں خنجر، کہاں ہیں قاتل؟ دِکھاؤ ہم کو

ارے! یہ تم کس سے کہہ رہے ہو؟ کہ راہِ منزل دِکھاؤ ہم کو
ڈبونے والوں سے کوئی کہتا ہے؟ آؤ ساحل دِکھاؤ ہم کو
یقین مانو، تمہارا دشمن بَجُز تمہارے کوئی نہیں ہے
تمہارے ہاتھوں میں خود ہیں خنجر، کہاں ہیں قاتل؟ دِکھاؤ ہم کو
ضامن جعفری

ایک تو ہی تو رہ گیا تھا ساتھ

تو بھی ہو جائے گا جدا، اچھا

گر اِسے کہہ سکیں ہم اک نقصان

تو نے اک دوست کھو دیا اچھا

باصر کاظمی

تجھ سے ملنے کی آرزو کی ہے

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 34
ہر بار تجھ سے ملتے وقت
تجھ سے ملنے کی آرزو کی ہے
تیرے جانے کے بعد بھی میں نے
تیری خوشبو سے گفتگو کی ہے
قطعہ
جون ایلیا

دردِ غربت کا ساتھ دیتا ہے

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 33
کون سود و زیاں کی دنیا میں
دردِ غربت کا ساتھ دیتا ہے
جب مقابل ہوں عشق اور دولت
حسن دولت کا ساتھ دیتا ہے
جون ایلیا

پہلے اک سایہ سا نکل کے گھر سے باہر آتا ہے

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 32
تھی جو وہ اک تمثیلِ ماضی آخری منظر اس کا یہ تھا
پہلے اک سایہ سا نکل کے گھر سے باہر آتا ہے
اس کے بعد کئی سائے سے اس کو رخصت کرتے ہیں
پھر دیواریں ڈھے جاتی ہیں دروازہ گر جاتا ہے
قطعہ
جون ایلیا

وہ برسوں بعد جب مجھ سے مِلا ہے

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 31
عجب تھا اس کی دلداری کا انداز
وہ برسوں بعد جب مجھ سے مِلا ہے
بَھلا میں پوچھتا اس سے تو کیسے
متاعِ جاں! تمہارا نام کیا ہے
قطعہ
جون ایلیا

مجھ پہ یہ قہر ٹوٹ جانے دے

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 30
اپنی انگڑائیوں پہ جبر نہ کر
مجھ پہ یہ قہر ٹوٹ جانے دے
ہوش میری خوشی کا دشمن ہے
تو مجھے ہوش میں نہ آنے دے
قطعہ
جون ایلیا

کیا عجب تھا کہ کوئی اور تماشہ کرتے

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 29
لہو روتے نہ اگر ہم دمِ رخصت یاراں
کیا عجب تھا کہ کوئی اور تماشہ کرتے
چلو اچھا ہے کہ وہ بھی نہیں نزدیک اپنے
وہ جو ہوتا تو اُسے بھی نہ گوارا کرتے
قطعہ
جون ایلیا

جز حریفان ستم کس کو پکارا جائے

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 28
یہ تو بڑھتی ہی چلی جاتی ہے معیاد ستم
جز حریفان ستم کس کو پکارا جائے
وقت نے ایک ہی نکتہ تو کیا ہے تعلیم
حاکم وقت کو مسند سے اتارا جائے
قطعہ
جون ایلیا

کچھ بھی ہو پر اب حد ادب میں رہا نہ جائے

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 27
ہر طنز کیا جائے، ہر اک طعنہ دیا جائے
کچھ بھی ہو پر اب حد ادب میں رہا نہ جائے
تاریخ نے قوموں کو دیا ہے یہی بیغام
حق مانگنا توہین ہے حق چھین لیا جائے
قطعہ
جون ایلیا

اپنی ہٹ پوری کر کے چھوڑو گی

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 26
بات ہی کب کسی کی مانی ہے
اپنی ہٹ پوری کر کے چھوڑو گی
یہ کلائی یہ جسم اور یہ کمر
تم صراحی ضرور توڑو گی
قطعہ
جون ایلیا

میں خود اپنا سوگ نشیں ہوں گنگاجی اور جمنا جی

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 25
مت پوچھو کتنا غمگین ہوں گنگا جی اور جمنا جی
میں خود اپنا سوگ نشیں ہوں گنگاجی اور جمنا جی
بان ندی کے پاس امروہے میں جو لڑکا رہتا تھا
اب وہ کہاں ہے میں تو وہیں ہوں گنگا جی اور جمنا جی
جون ایلیا

لباسِ مفلسی میں کتنی بے قیمت نظر آتی

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 24
جو رعنائی نگاہوں کے لئے فردوسِ جلوہ ہے
لباسِ مفلسی میں کتنی بے قیمت نظر آتی
یہاں تو جاذبیت بھی ہے دولت ہی کی پروردہ
یہ لڑکی فاقہ کش ہوتی تو بدصورت نظر آتی
جون ایلیا

تھا بس اک نارسائی کا رشتہ

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 23
عشق سمجھے تھے جس کو وہ شاید
تھا بس اک نارسائی کا رشتہ
میرے اور اُس کے درمیاں نکلا
عمر بھر کی جدائی کا رشتہ
قطعہ
جون ایلیا

میری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 22
تم جب آؤ گی کھویا ہوا پاؤ گی مجھے
میری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں
میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
قطعہ
جون ایلیا

جانے کس کس کے لیے پیغام ہیں

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 21
یوں تو اپنے قاصدانِ دل کے پاس
جانے کس کس کے لیے پیغام ہیں
جو لکھے جاتے رہے اوروں کے نام
میرے وہ خط بھی تمہارے نام ہیں
قطعہ
جون ایلیا

اک قدم بھی نہیں بڑھوں گا میں

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 20
تیری یادوں کے راستے کی طرف
اک قدم بھی نہیں بڑھوں گا میں
دل تڑپتا ہے تیرے خط پڑھ کر
اب ترے خط نہیں پڑھوں گا میں
قطعہ
جون ایلیا

تھا وہی شخص میرے پہلو میں

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 19
ہر نفس جس کی آرزو تھی مجھے
تھا وہی شخص میرے پہلو میں
اس میں کس کی تلاش تھی مجھ کو
کس کی خوشبو تھی اس خوشبو میں؟
قطعہ
جون ایلیا

ذات میں اپنی تھا ادھورا میں

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 18
سر میں تکمیل کا تھا اک سودا
ذات میں اپنی تھا ادھورا میں
کیا کہوں تم سے کتنا نادم ہوں
تم سے مل کر ہوا نہ پورا میں
قطعہ
جون ایلیا

تم نے سانچے میں جنوں‌ کے ڈھال دیں

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 17
میری عقل و ہوش کی سب حالتیں
تم نے سانچے میں جنوں‌ کے ڈھال دیں
کر لیا تھا میں نے عہدَ ترکَ عشق
تم نے پھر بانہیں‌ گلے میں‌ ڈال دیں
قطعہ
جون ایلیا

تم نے سانچے میں جنوں کے ڈھال دیں

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 16
میری عقل و ہوش کی سب حالتیں
تم نے سانچے میں جنوں کے ڈھال دیں
کر لیا تھا میں نے عہدِ ترکِ عشق
تم نے پھر بانہیں گلے میں ڈال دیں
قطعہ
جون ایلیا

ناز سے کام کیوں نہیں لیتیں

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 15
شرم ، دہشت ، جھجک ، پریشانی
ناز سے کام کیوں نہیں لیتیں
آپ،وہ،جی،مگر ’’یہ سب کیا ہے‘‘
تم مرا نام کیوں نہیں لیتیں
قطعہ
جون ایلیا

میں تو ہر وقت ہی مایوسِ کرم رہتا ہوں

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 14
آپ کی تلخ نوائی کی ضرورت ہی نہیں
میں تو ہر وقت ہی مایوسِ کرم رہتا ہوں
آپ سے مجھ کو ہے اک نسبتِ احساسِ لطیف
لوگ کہتے ہیں ، مگر میں تو نہیں کہتا ہوں
قطعہ
جون ایلیا

اپنے ہی زور میں کمزور ہوئی جاتی ہو

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 13
نشہ ءِ ناز نے بے حال کیا ہے تم کو
اپنے ہی زور میں کمزور ہوئی جاتی ہو
میں کوئی آگ نہیں، آنچ نہیں، دھوپ نہیں
کیوں پسینہ میں شرابور ہوئی جاتی ہو
قطعہ
جون ایلیا

جان و دل کے سارے رشتے توڑ دو

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 12
اب مجھے آزاد کر دو چھوڑ دو
جان و دل کے سارے رشتے توڑ دو
جب کوئی منزل نہیں میری تو پھر
رُخ کسی جانب بھی میرا موڑ دو
قطعہ
جون ایلیا

پھر یہی جنس کیوں نہ تولیں ہم

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 11
ہے یہ بازار جھوٹ کا بازار
پھر یہی جنس کیوں نہ تولیں ہم
کر کے اک دوسرے سے عہدِ وفا
آؤ کچھ دیر جھوٹ بولیں ہم
قطعہ
جون ایلیا

متاعِ جاں ہیں ترے قول اور قسم کی طرح

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 10
یه ترے خط تری خوشبو یہ تیرے خواب خیال
متاعِ جاں ہیں ترے قول اور قسم کی طرح
گذشتہ سال انہیں میں نے گن کے رکھا تھا
کسی غریب کی جوڑی ہوئی رقم کی طرح
قطعہ
جون ایلیا

توڑ لو پھول پھول چھوڑو مت

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 9
کتنے ظالم ہیں جو یہ کہتے ہیں
توڑ لو پھول پھول چھوڑو مت
باغباں ہم تو اس خیال کے ہیں
دیکھ لو پھول، پھول توڑو مت
قطعہ
جون ایلیا

دور ہو کر تجھے تلاش کیا

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 8
پاس رہ کر جدائی کی تجھ سے
دور ہو کر تجھے تلاش کیا
میں نے تیرا نشان گم کر کے
اپنے اندر تجھے تلاش کیا
قطعہ
جون ایلیا

خیر یہ راز آج کھول دیا

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 7
تم زمانے سے لڑ نہیں سکتیں
خیر یہ راز آج کھول دیا
وہ اجازت کہ جا رہو ہوں میں
تم نے باتوں میں زہر کھول دیا
قطعہ
جون ایلیا

اک ذرا سا نہ ان میں بل آیا

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 6
سالہا سال اور اک لمحہ
اک ذرا سا نہ ان میں بل آیا
خود ہی اک در پہ میں نے دستک دی
خود ہی لڑکا سا میں نکل آیا
قطعہ
جون ایلیا

اس طرح آج اُن کی یاد آئی

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 5
دور نظروں سے خلوتِ دل میں
اس طرح آج اُن کی یاد آئی
ایک بستی کے پار شام کا وقت
جیسے بجتی ہو شہنائی
قطعہ
جون ایلیا

ان کے سانچہ میں نہ ڈھلو

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 4
ہیں بے طور یہ لوگ تمام
ان کے سانچہ میں نہ ڈھلو
میں بھی یہاں سے بھاگ چلوں
تم بھی یہاں سے بھاگ چلو
قطعہ
جون ایلیا

آگ کی طرح اپنی آنچ میں گم

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 3
تم ہو جاناں شباب و حسن کی آگ
آگ کی طرح اپنی آنچ میں گم
پھر مرے بازوؤں پہ جھک آئیں
لو اب مجھے جلا ہی ڈالو تم
قطعہ
جون ایلیا

صرف افسانے تھے ممکن اور محال

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 2
کچھ نہیں تھا کیا حقیقت کا خیال
صرف افسانے تھے ممکن اور محال
اک عبث میں خونِ دل تھوکا گیا
کوئی بھی حالت نہیں تھی اور حال
قطعہ
جون ایلیا

رنگ رخسار میں سمٹ آیا

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 1
چڑھ گیا سانس جھک گئیں نطریں
رنگ رخسار میں سمٹ آیا
زکر سن کر مری محبت کا
اتنے بیٹھے تھے ، کون شرمایا ؟
قطعہ
جون ایلیا

تو بھی کھانے میں نہیں محتاط شیخ

تو بھی کھانے میں نہیں محتاط شیخ

ہم کریں پینے میں کیوں پھر احتیاط

کوچ کی حالیؔ کرو تیاریاں

ہے قویٰ میں دمبدم اب انحطاط

الطاف حسین حالی

سخن پر ہمیں اپنے رونا پڑے گا

سخن پر ہمیں اپنے رونا پڑے گا

یہ دفتر کسی دن ڈبونا پڑے گا

ہوئے تم نہ سیدھے جوانی میں حالیؔ

مگر اب مری جان ہونا پڑے گا

الطاف حسین حالی