زمرہ جات کے محفوظات: سہرا

سہرا

دوست کے سہرے پہ کہتے ہیں سخنور سہرا

ہے ترے سہرے کا اے دوست مِرے سر سہرا

ہم کو ہر دولہا یہ کہتا ہُوا آیا ہے نظر

تاج کیا چیز ہے دیکھو مِرے سَر پر سہرا

کامیابی نہیں ہوتی کوئی اِس سے بڑھ کر

ہے سکندر وہی جس کا ہے مقدّر سہرا

تاکہ تاریکیِ شب مانعِ دیدار نہ ہو

لائے ہیں دھُوپ کے تاروں سے بنا کر سہرا

اِس میں بس جاتی ہے خوشبو جو حسیں یادوں کی

سُوکھ جانے پہ بھی رہتا ہے معطّر سہرا

چشمِ بد راہ نہ پائے گی کسی طور وحید

ہے دعاؤں کا تِرے سہرے کے اُوپر سہرا

اہلِ ذوق آئیں تو ہم اُن کو بتائیں باصِرؔ

دل سے کہتے ہیں تو پھر کہتے ہیں کیونکر سہرا

باصر کاظمی