زمرہ جات کے محفوظات: دیباچہ

مانوس اجنبی کی دوسری آمد

میرے نثری ڈرامے بساط ۔۔ 1987 ۔۔کے بارے میں میرے دوست جاوید فیض ۔۔ مرحوم ۔۔ کی رائے تھی کہ یہ شاعری ہے۔ حنیف رامے صاحب نے کہا کہ’’یہ کتاب شاعری کی کتاب بھی ہے، کہانی بھی ہے، لیکن شاعری کرنے اور کہانی کہنے کا اسلوب ڈرامے کے قالب کو بنایاگیا ہے۔‘‘ ایک مذاکرے میں پروفیسر مسز شمیم خیال نے کہا کہ ’’یہ کتاب اس طرح پڑھی جائے گی جیسے آپ شاعری کی کسی کتاب کو پڑھتے ہیں ۔ جملے مصرعوں کی طرح سے مصنف پر وارد ہوئے ہیں ۔‘‘ تقریباَ دس برس پہلے ،میں نے ایک جگہ لکھا تھا کہ نثری نظم کو نظم کہنا کافی ہے۔ پڑھنے والاخود دیکھ لے گا کہ یہ وزن اور بحر سے آزاد ہے۔ اگر اس میں خیال اچھوتا اور الفاظ کی تنظیم متاثرکرنے والی ہے تو یہ اچھی بھی لگے گی اور یاد بھی رہے گی۔ اس کے مقابلے میں ایک گھِسے پٹے مضمون والا یا عیب دار شعر نظرانداز کر دیا جائے گا۔ نظم کو منظم ضرور ہونا چاہیے، اس کا منظوم ہونا ضروری نہیں ۔ ’نثری غزل‘ بھی ’نثری نظم‘ ہی ہوتی ہے، اوزان اور بحور سے آزاد اگرچہ قافیہ ردیف لیے ہوئے۔ میرے دوسرے شعری مجموعے ، چمن کوئی بھی ہو ۔۔ 2008 ۔۔ میں دو نثری نظمیں بھی تھیں ۔ کوئی دو برس ہوئے ،جدید نثری نظم کے نمایاں شاعر جمیل الرحمن کو بساط اتنا اچھا لگا کہ انہوں نے اس پر ایک خوبصورت نظم ’شطرنج‘ لکھی اور بساط کونئے قارئین تک پہنچانے کی باقاعدہ مہم چلائی۔ میرا بھی جی چاہا کہ اسے دوبارہ دیکھوں ، جیسے یہ کسی اور نے لکھا ہو۔مجھے احساس ہوا کہ مکالموں میں جابجا نثری نظمیں پوشیدہ ہیں ۔ اس کے بعد یہ نظمیں ابھر ابھر کر میرے سامنے آنے لگیں اور تقاضا کرنے لگیں کہ میں انہیں اپنے اگلے مجموعے میں جگہ دوں ۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح انہیں زیادہ قارئین مل سکتے تھے۔ مجھے بساط بہت عزیز ہے۔ میں اسے دائم آباد دیکھنا چاہتا ہوں ۔ اسے پسند کرنے والوں کی بھی یہی خواہش ہے۔ سو میں اس کے مکالموں میں نہاں نظموں کی فرمائش کو ٹالتا رہا۔ آخر ایک دن انہوں نے ایک وفد کی صورت میں مجھے گھیر لیا اور اپنا مطالبہ دہرا یا۔

’’تم بساط ‘ میں خوش نہیں ہو کیا؟‘‘ میں نے گھبرا کے پوچھا۔

’’نہیں ، ہمارااصلی گھر تو وہی ہے۔‘‘ ان کے ایک نمائندے نے جواب دیا۔

’’پھر؟‘‘ میں نے کہا۔

’’جیسے مانوس اجنبی بیک وقت شطرنج کی کتاب اور بساط میں رہتا ہے اسی طرح ہم بھی بیک وقت بساط اورشاعری کی کتاب میں رہنا چاہتی ہیں ۔‘‘

’’اوہ۔ یہ تو پوری تیاری کے ساتھ آئی تھیں ۔‘‘ میں نے سوچا۔ اورکچھ دیر بعد میرے دلائل واقعی کمزور پڑنے لگے۔ بالآخر میں یہ سوچ کر انہیں ایک موقع دینے پر راضی ہو گیاکہ ڈرامہ اور شاعری ایسے پڑوسی ہیں جن کے بیچ سرحد نہیں کھینچی جا سکتی ۔’نظمیں ‘ خوش خوش ’اپنے گھر‘ چلی گئیں ۔

میں نے ان نظموں میں سے چند کا انتخاب کیا اور اپنے زیرِ ترتیب شعری مجموعے کے مسودے میں شامل کر لیا۔ یہ بات کسی طرح پوری بساط میں پھیل گئی۔ اب تو آئے دن کوئی نہ کوئی ’نظم‘ کسی مکالمے سے نکل آتی اور ’’سیر کے واسطے تھوڑی سی جگہ اور‘‘ مانگتی۔ میں کہ مساوی حقوق کا پرانا علمبردار تھا، اس کی بات مان لیتا۔ جب پچیس نظمیں ’بن‘ گئیں تو میرے اندر شطرنج کا کھلاڑی پھر سے جاگ اُٹھا۔مجھے پہلی بار تشویش کی بجائے خوشی ہوئی، یہ سوچ کر کہ اگران کی تعداد شطرنج کی بساط کے بتیس مہروں کے برابر ہو جائے تو خوب ہو۔ اب مجھے نئی نظموں کا انتظار رہنے لگا۔ لیکن گلشنِ ناآفریدہ کی نظموں کو جیسے میری خواہش کا علم ہو گیا، سو انہوں نے نخرے دکھانا شروع کر دیئے۔ اب بے تاب و بے صبر ہونے کی باری میری تھی۔ میں نے کچھ مکالموں سے کچھ نظموں کونکالنا چاہا تو انہوں نے صاف انکار کر دیااور کہا کہ وہ جہاں تھیں بس وہیں ٹھیک تھیں ۔ کمال ہو گیایہ تو۔ پھر میں نے بھی کہا کہ نہیں تو نا سہی، مجھے کیا فرق پڑتا ہے۔ میں تو پچیس کے بھی حق میں نہیں تھا۔ لیجیے جناب، ادھر میں بے نیاز ہوا ادھر نظمیں پھر سے متحرک ہو گئیں ۔ کچھ عرصے بعد ایک ریلہ ٓایااور ان کی تعداد پچاس سے تجاوز کر گئی۔ اب مجھے باقاعدہ پریشانی لاحق ہوئی۔ میرے مسودے میں تو غزلیں اور نظمیں اتنی نہیں تھیں ۔ سارا توازن بگڑتا نظر آیا۔

’’چونسٹھ تک ٹھیک ہے ،شطرنج کی بساط کے چونسٹھ خانوں کے برابر ۔ ہر نظم کے لیے ایک گھر۔ تم جانتے ہوبساط کے خانوں کو گھر بھی کہتے ہیں ، گھوڑے کی چال ڈھائی گھر ہوتی ہے۔‘‘ شطرنج کا کھلاڑی بولے چلا جا رہا تھا۔

’’تمہیں تو شطرنج کی بات کرنے کا موقع چاہیے۔ میرا مسودہ خراب ہو رہا ہے۔‘‘ میں نے کہا۔

’’کونسا مسودہ؟‘‘ اس نے معصومیت سے پوچھا۔

’’کونسا مسودہ۔ بھولے مت بنو۔ بتیس چونسٹھ کے چکر سے نکل بھی آیا کرو کبھی۔‘‘ میں نے احتجاج کیا۔

’’میرا مطلب ہے تمہارا کونسا مسود ہ خراب ہو رہا ہے۔ اگر تمہاری مراد اپنی غزلوں اور نظموں سے ہے تو اُن کا اِن نظموں سے کیا لینا دینا؟‘‘

’’کمال ہے،انہیں کے ساتھ شامل ہونے کی تو بات کی تھی ان نظموں نے۔‘‘ میں نے وضاحت کی۔

’’وہ تو بہت شروع کی بات تھی۔اُس وقت انہیں نہ تو اپنی نوعیت کاپتہ تھا نہ تعداد کا۔‘‘ اُس نے کہا۔

’’یعنی؟‘‘

’’یعنی یہ کہ انہیں ایک کتاب چاہیے ،وہ انہیں دے دو۔ باقی اپنی غزلوں نظموں کا جو چاہو کرو۔‘‘

’’اچھا چلو، میری غزلیں نظمیں تو محفوظ رہیں لیکن میری بساط توخالی ہو جائے گی۔ ‘‘ میں نے تشویش کا اظہار کیا۔

’’تمہیں یہ وہم کیوں ہورہا ہے کہ یہ تمہاری بساط کے مکالمے ہیں ۔یہ اُن کے ہمزاد ہیں ۔ ذرا انہیں اُن کے ساتھ رکھ کے دیکھو، فرق نظر آجائے گا۔ اور ان میں استعمال کیے گئے الفاظ کی تعداد بساط کے الفاظ کے دس بارہ فیصد سے زیادہ نہیں ہو گی۔ ڈرامہ کچھ ایسے مکالموں ،جملوں اور الفاظ کا متقاضی ہوتا ہے جو نظم کے لیے زائد ہوتے ہیں ۔ اسی طرح کچھ الفاظ جو نظم کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں ڈرامے میں بے محل لگیں گے۔ اب یہ بات تمہیں میں سمجھاؤں گا؟ شاعر تم ہو کہ میں ؟ بساط زندگی کی بساط ہے۔ اس میں مصوروں کو اپنی تصویریں ، مجسمہ سازوں کومجسمے، موسیقاروں کو نغمے، فلسفیوں کو فلسفے اور شاعروں کو نظمیں ملیں گی۔ زندگی چلتی رہے گی، بساط بچھی رہے گی۔ڈرامہ بساط کے مکالمے اپنی جگہ جم چکے ہیں ۔ انہیں کچھ نہیں ہونے والا۔ ستائیس سال ہو گئے انہیں وجود میں آئے۔ ویسے کے ویسے ہیں اب بھی۔‘‘ اُس نے کہا۔

’’ ستائیس سال۔۔۔‘‘ مجھے کچھ یاد سا آنے لگا۔ میں نے کھلاڑی کو غور سے دیکھا۔’’ارے۔۔۔ تم۔۔۔ ! ؟‘‘

’’ہاں ، میں ۔ میں بھی سوچ رہا تھا کہ آخر تم کب تک مجھے نہیں پہچانتے۔‘‘ مانوس اجنبی نے قہقہہ لگایا۔

’’تم کتنا بدل گئے ہو۔‘‘

’’میں نے تمہیں بتایاتھا کہ میں نے بہت طویل عمر پائی تھی۔ کوئی میری عمر کے جس حصے کے بارے میں سوچے گا، میں اُسے ویسا ہی نظر آؤں گا جیسے میں اُس وقت تھا۔‘‘

’’تم چلے کہاں گئے تھے؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’یہ سوال تم نے تب بھی کیا تھا اور میرا جواب تھا کہ میرا وجود زمان و مکان کی قید سے ماوراء ہے۔ کہاں جانا تھامیں نے۔میں یہیں تھا، تمہارے آس پاس۔‘‘ اُس نے کہا۔

’’ کم از کم یہ تو بتا دیتے کبھی کہ تمہیں شطرنج کی کتاب سے آزاد کرانے کے بعد میں نے تمہارے لیے جو گھر ،بساط،بنایا تھا تم نے اُسے ویسا ہی پایا جیسا تم چاہتے تھے؟ تم اُس میں خوش ہو؟ آرام سے ہو؟اپنی مرضی سے آجا سکتے ہو؟ دوسرے تم سے ملنے آسکتے ہیں ؟‘‘

’’میں چاہتا تھا کہ تمہیں خود سے پتہ چلنا چاہیے۔ اِس گھر میں آنے جانے والے تمہیں بتائیں ۔ ‘‘

’’لیکن اس سے میری تسلی تو نہیں ہو سکتی تھی۔‘‘

’’یہ تسلی نہ ہونے ہی میں تو لطف ہے۔‘‘

’’پھر آج یہ مہربانی کیسی؟‘‘

’’مجبوری۔ اُس وقت تمہیں اپنی کہانی کا یقین دلانا تھا، آج ان نظموں کے بارے میں تمہاری بدگمانی دور کرنا ہے۔‘‘مانوس اجنبی نے کہا۔ اُس کی باتیں آج بھی میری سمجھ میں آدھی آرہی تھیں آدھی نہیں ۔

جسٹس کارنیلیس نے کہا تھا کہ جیسے قاری کتاب کو ڈھونڈتا ہے اسی طرح کتاب بھی قاری کو ڈھونڈتی ہے۔ اِ س خیال سے کہ میں ان نظموں کی راہ میں رکاوٹ نہ بنوں میں انہیں شاعری کے قارئین کے سامنے پیش کر رہا ہوں ۔ اگر آپ کو ان میں سے چند نظمیں بھی پسند آگئیں تو میں سمجھوں گا کہ ان کی جدوجہد رائگاں نہیں گئی۔میں نے ان کی ترتیب ویسے ہی رہنے دی تھی جس ترتیب سے ان کے ہمزاد بساط میں ہیں اور سب کو ایک مشترکہ عنوان دے دیا : چونسٹھ خانے چونسٹھ نظمیں ۔ بعد ازاں ، جب ساجد علی نے موضوعات کی مناسبت سے ان کی ترتیب بدلی تو مجھے دل سے پسند آئی۔ شکریہ ساجد۔

باصِر سلطان کاظمی،نومبر2013ئ

باصر کاظمی

فیض

میں فیض سے کوئی بیس سال قبل اس وقت متعارف ہواتھا جب وہ ایم ۔اے۔او کالج ، امرتسر میں لیکچرار تھے۔ایک اور پرانے دوست جو اس وقت فیض کے رفیق کار تھے، کل اچانک ایڈنبرا میں دکھائی دیے اور ان سے مل کر مجھے بیتے ہوئے دن یاد آگئے، معلوم یہ ہوا کہ فیض کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ اس قدیم دوست کی ایڈنبرا میں آمد سے مجھے مطلع کریں گے۔لیکن وہ بھول گئے، اس زمانے میں بھی وہ اپنی بھول جانے کی عادت اور غائب دماغی کی وجہ سے خاصے مشہور تھے، لیکن ان کے طالب علم ان کی اس عادت کو آسانی سے درگزر کردیتے تھے۔کیونکہ کوئی پروفیسر یہ بھول جائے کہ اسے طلبا کولیکچر دینا تھا تو انہیں کبھی اس کا افسوس نہیں ہوتا۔اسی طرح تانگہ چلانے والوں کا بھی ان کے ساتھ یہی رویہ تھا، کیونکہ وہ کسی کے گھر جا کر باتوں میں مصروف ہوجاتے اور یہ بھول جاتے کہ باہر تانگہ کھڑا ہوا ہے اور اس طرح تانگے والوں کا کرایہ بڑھتا رہتا تھا۔اور ادبی لوگ انہیں یوں معاف کردیتے تھے کہ وہ اس وقت بھی ایک اہم شاعر تھے۔مجھے یہ معلوم کرکے بڑی مسرت ہوئی کہ اس ہفتے لندن میں ایک ادبی تقریب ان کے اعزاز میں منعقد کی جارہی ہے اور مجھے اس کا افسوس ہے کہ میں خود وہاں حاضر ہونے سے قاصر ہوں۔گزشتہ بار کوئی پانچ سال قبل جب وہ انگلستان آئے تھے تو ایک ایسی ہی تقریب میں شریک ہونے کا مجھے شرف حاصل ہوا تھا۔اس تقریب کے فوراًبعد فیض یورپ روانہ ہورہے تھے تاکہ وطن واپس جا سکیں۔جہاں انہیں جیل میں ڈال کر ان کا پرجوش خیر مقدم کیا گیا، کئی ادبی شخصیتوں کی زندگی میں اس قسم کی خفیف غلط فہمیاں پیدا ہوتی رہی ہیں۔اس بار وہ نسبتاً زیادہ طویل مدت کے لیے انگلستان میں قیام کررہے ہیں تاکہ خوش قسمتی سے ان کے دوستوں کو مستقبل قریب میں اسی قسم کسی اور غلط فہمی کا خوف باقی نہ رہے، نیز کسی محب وطن شاعر کو اپنے وطن سے خواہ کتنا ہی لگاؤ کیوں نہ ہو، یہ امر خاصا دل خوش کن ہوتا ہے کہ بعض اوقات وہ (کسی دوست کی طرح)بہت قریب سے جائزہ لینے کے بجائے چار یا پانچ ہزار میل کے فاصلے سے اپنے وطن کے بارے میں غور و خوض کرے۔یہ امر بلاشبہ افسوسناک ہے کہ فیض مع اہل و عیال ہمارے یہاں کے متعدد پر سکون اور رومان انگیز مقامات مثلاً میرے آبائی شہر مانچسٹر، بالیک ڈسٹرکٹ جہاں ایک زمانے میں اتنے سارے شاعروں نے عروج پایا، سب سے بڑھ کر ایڈنبرا میں رہنے کے بجائے لندن میں سکونت اختیار کررہے ہیں۔اسی شہر میں جو اینٹوں، کہر ، شور و غل اور اہالیان لندن کا ایک دیو ہیکل مجموعہ ہے۔ڈاکٹر جانسن کہا کرتے تھے کہ جب آدمی لندن سے اکتا جائے تو وہ زندگی سے اکتا جاتا ہے۔لیکن یہ اٹھارہویں صدی میں ہوتا تھا، آج تو یہ کہنا زیادہ صحیح ہو گا کہ جب آدمی زندگی سے اکتا جائے تو وہ لندن کا رخ کرتا ہے۔فیض بلا کے سگریٹ نوش واقع ہوئے ہیں، ہ بری عادت لندن کے کہر اور دھند کے ساتھ مل کر کہیں ان کی انتہائی تابناک صلاحیتوں کو ماند نہ کردے تاہم مجھے کامل یقین ہے کہ اپنی بیوی اور بچیوں کی مدد سے وہ اس مسئلے پر قابو پا لیں گے۔نیز یہ کہ ایک ادبی شخصیت کی حیثیت سے اس ملک میں ان کا قیام حقیقی معنوں میں تخلیقی ثابت ہو گا، وہ اب تک بہت کچھ کرچکے ہیں، لیکن انہیں ابھی اور بہت کچھ کرنا ہے۔اور اب جب کہ وہ دوسرے ہنگاموں سے آزاد ہیں، انہیں یقیناً خیال آئے گا کہ ان سے کس قدر زیادہ توقع کی جاتی ہے۔ان بیس برسوں میں مجھے یقین ہے کہ میں نے انہیں اس قسم کے موضوعات پر کم از کم بیس کتابیں لکھنے کا مشورہ دیا ہے۔جدید معاشرے میں فنکار کا مرتبہ، تاریخ ادب اردو یا مغربی تہذیب کے مقابلے میں اسلامی تہذیب کی نوعیت وغیرہ وغیرہ۔

ہر شخص کو جو ان سے واقف ہے، فطری طور پر یہ توقع بھی ہو گی کہ وہ اپنے فرصت کے اوقات میں مزید نظمیں لکھیں گے۔میری ہمیشہ سے یہ خواہش بھی رہی ہے کہ وہ دوسرے ممالک کی بعض نظمیں خصوصاً ہمارے عہد کی ترقی پسند شاعری کا ترجمہ اردو میں کریں۔جو اسی روایت یا عالمی تحریک سے تعلق رکھتی ہو، جس سے خود ان کی شاعری وابستہ ہے۔ویسے جارج بارد، جنہوں نے آئرستان ، ڈنمارک اور دوسرے علاقوں کی شاعری کو انگریزی میں منتقل کرنے کی کوشش کی ہے، اپنی ایک کتاب لیونگرومیں لکھتے ہیں کہ ’ترجمہ زیادہ سے زیادہ ایک بازگشت ہی ہوتا ہے۔‘تمام ترجمہ کرنے والے یقیناًیہی محسوس کرتے ہونگے لیکن کچھ نہ ہونے سے باز گشت بھی بہرحال بہتر ہے۔اور فیض کی پیدا کردہ بازگشت کم از کم مترنم ضرور ہو گی۔گزشتہ دنوں ان سے یہ سن کر میں بے حد متاثر ہو ا کہ خود ان کی بعض نظمیں سواحلی زبان میں ترجمہ ہونے کے بعد مشرقی افریقہ میں پڑھی جارہی ہیں۔جہاں ایک ملک گیر زبان کی حیثیت سے سواحلی کا مستقبل بہت تابناک نظر آتا ہے۔مجھے امید ہے کہ جلد ہی دوسری زبانوں میں بھی ان کے کلام کا ترجمہ ہوجائے گا۔

ایک اسکاٹ خاتون نے جو کئی سال تک افغانستان میں رہی ہیں، فیض کے والد کے بارے میں ایک کتاب لکھی ہے، جو اس زمانے میں وہاں وزیر اعلیٰ تھے(فیض کے والد سلطان احمد خاں افغانستان میں چیف سکریٹری کے عہدے پر فائز تھے۔)مصنفہ کے بیان کے مطابق وہ بڑے پختہ عز م و ارادے کے مالک تھے اور انتہائی انتشار کے ماحول میں نظم و نسق قائم کرنے کی کوشش کررہے تھے۔امرتسر کی آزادانہ زندگی کے زمانے سے فیض بھی دوسرے متعدد باحوصلہ انسانوں کے دوش بدوش اس جد و جہد میں مصروف ہیں کہ ہمارے جدید عہد کے انتشار میں ضبط و توازن قائم کیا جائے۔جو کبھی کبھی افغانستان کے دور قدیم سے زیادہ مایوس کن نظر آتا ہے۔میں ایک اور پشت کو سرگرم عمل دیکھنے کا خواہاں ہوں، اور چشم تصور سے فیض کی بیٹیوں کو اپنی اپنی رغبت کے عظیم کارناموں کی تکمیل میں منہمک دیکھ بھی رہا ہوں، ان میں ایک کو غالباً پاکستان کی پہلی عظیم مصورہ کی حیثیت سے اور دوسری کو شاید پہلی خاتون صدر کی حیثیت سے۔دریں اثنا فیض کے دوستوں کو ہر ہفتے کے خاتمے پر ان سے دریافت کرت رہنا چاہیے کہ کہ انہوں نے کتنے صفحات لکھ لیے ہیں اور ہر روز شام کو معلوم کرتے رہنا چاہیے کہ انہوں نے کتنے سگریٹ نہیں پیے ہیں۔

27، نیلس سٹریٹ ایڈنبر

فیض احمد فیض

فیض از فیض

اپنے بارے میں باتیں کرنے سے مجھے سخت وحشت ہوتی ہے ۔اس لئے کہ سب لوگوں کا مرغوب مشغلہ یہی ہے۔اس انگریزی لفظ کے معذرت چاہتاہوں لیکن اب تو ہمارے ہاں اس کے مشتقات بوریت وغیرہ بھی استعمال میں آنے لگے ہیں۔اس لئے اب اسے اردو میں روزمرہ میں شامل سمجھنا چاہیے۔تومیں یہ کہہ رہا تھاکہ مجھے اپنے بارے میں قیل وقال بری لگتی ہے۔بلکہ میں تو شعر میں بھی حتیٰ الامکان واحد متکلم کا صیغہ استعمال نہیں کرتا،اور ’’میں ‘‘کے بجائے ہمیشہ’’ہم‘‘لکھتاآیا ہوں۔چنانچہ جب ادبی ساغران حضرات مجھ سے یہ پوچھنے بیٹھتے ہیں کہ تم شعرکیوں کہتے ہو تو بات کو ٹالنے کے لئے جو دل میں آئے کہہ دیتاہوں۔مثلاً یہ کہ بھئی میں جیسے بھی کہتاہوں جس لئے بھی کہتا ہوں تم شعر میں خود ڈھونڈواورمیرا سر کھانے کی کیاضرورت ہے۔لیکن ان میں ڈھیٹ قسم کے لوگ جب بھی نہیں مانتے۔چنانچہ آج کی گفتگوکی سب ذمہ داری ان حضرات کے سر ہے مجھ پر نہیں ہے۔

شعر گوئی کا واحدعذرِ گناہ تومجھے نہیں معلوم۔اس میں بچپن کی فضائے گردوپیش میں شعر کا چرچا دوست احباب کی ترغیب اور دل کی لگی سبھی کچھ شامل ہے۔یہ نقشِ فریادی کے پہلے حصے کی بات ہے جس میں ۹۲۔۸۲ء سے۵۳ء تک کی تحریریں شامل ہیں،جو ہماری طالب العلمی کے دن تھے۔یوں توان سب اشعارکاقریب قریب ایک ہی ذہنی اورجذباتی واردات سے تعلق ہے اور اس واردات کا ظاہری محرک تو وہی ایک حادثہ ہے جواس عمر میں نوجوان دلوں پر گزرجایاکرتا ہے۔لیکن اب جو دیکھتا ہوں تویہ دور بھی ایک دور نہیں تھا بلکہ اس کے بھی دو الگ الگ حصے تھے۔جن کی داخلی اورخارجی کیفیت کافی مختلف تھی۔وہ یوں ہے کہ۰۲ء سے۰۳ء تک زمانہ ہمارے ہاں معاشی اورسماجی طورسے کچھ عجب طرح کی بے فکری،آسودگی اورولولہ انگیزی کا زمانہ تھا،جس میں اہم قومی اورسیاسی تحریکوں کے ساتھ ساتھ نثر ونظم میں بیشتر سنجیدہ فکرومشاہدہ کے بجائے کچھ رنگ رلیاں منانے کا سا اندازتھا۔شعر میں اولاً حسرت موہانی اوران کے بعد جوش،حفیظ جالندھری اوراختر شیرانی کی ریاست قائم تھی،افسانے میں یلدرم اورتنقید میں حسن برائے حسن اور ادب برائے ادب کا چرچاتھا۔نقشِ فریادی کی ابتدائی نظمیں ، ’’خدا وہ وقت نہ لائے کہ سوگوارہوتو‘‘مری جاں اب بھی اپنا حسن واپس پھیر دے مجھ کو‘‘ تہ نجوم کہیں چاندنی کے دامن میں‘‘وغیرہ وغیرہ اسی ماحول کے زیراثر مرتب ہوئیں اور اس فضا میں ابتدائے عشق کا تحیر بھی شامل تھا۔لیکن ہم لوگ اس دور کی ایک جھلک بھی ٹھیک سے نہ دیکھ پائے تھے کہ صحبتِ یار آخرشد۔پھر دیس پرعالمی کساد بازاری کے سائے ڈھلنے شروع ہوئے۔کالج کے بڑے بڑے بانکے تیس مارخاں تلاشِ معاش میں گلیوں کی خاک پھانکنے لگے۔یہ وہ دن تھے جب یکایک بچوں کی ہنسی بجھ گئی‘اجڑے ہوئے کسان کھیت کھلیان چھوڑکر شہروں میں مزدوری کرنے لگے اوراچھی خاصی شریف بہو بیٹیاں بازار میں آبیٹھیں۔گھر کے باہر یہ حال تھااورگھر کے اندر مرگِ سوزِ محبت کا کہرام مچاتھا۔یکایک یوں محسوس ہونے لگا کہ دل و دماغ پر سبھی راستے بندہو گئے ہیں اور اب یہاں کوئی نہیں آئے گا۔اس کیفیت کا اختتام جو نقشِ فریادی کے پہلے حصے کی آخری نظموں کی کیفیت ہے ایک نسبتا غیر معروف نظم پر ہوتا ہے، جسے میں نے یاس کا نام دیا تھا۔وہ یوں ہے:

یاس

بربطِ دل کے تار ٹوٹ گئے

ہیں زمیں بوس راحتوں کے محل

مٹ گئے قصہ ہائے فکر وعمل

برم ہستی کے جام پھوٹ گئے

چِھن گیا کیف کوثر و تسنیم

زحمتِ گریہ و بکا بے سود

شکوہ بختِ نارسا بے سود

ہوچکا ختم رحمتوں کا نزول

بند ہے مدتوں سے بابِ قبول

بے نیازِ دُعا ہے رب کریم

بُجھ گئی شمعِ آرزوئے جمیل

یاد باقی ہے بے کسی کی دلیل

انتظارِ فضول رہنے دے

راز الفت نباہنے والے

بارِ غم سے کراہنے والے

کاوش بے حصول رہنے دے

34ء میں ہم لوگ کالج سے فارغ ہوئے اور 35ء میں میں نے ایم اے او کالج امرتسر میں ملازمت کرلی۔یہاں سے میری اور میرے بہت سے ہمعصرلکھنے والوں کی ذہنی اورجذباتی زندگی کا نیا دور شروع ہوتا ہے۔اس دوران کالج میں اپنے رفقاء صاحب زادہ محمود الظفر مرحوم اوران کی بیگم رشیدہ جہاں سے ملاقات ہوئی۔پھر ترقی پسند تحریک کی داغ بیل پڑی ، مزدور تحریک کا سلسلہ شروع ہوا اور یوں لگا کہ جیسے گلشن میں ایک نہیں کئی دبستان کھل گئے ہیں۔اس دبستان میں سب سے پہلا سبق جو ہم نے سیکھا تھاکہ اپنی ذات باقی دنیا سے الگ کرکے سوچنااول تو ممکن ہی نہیں،اس لئے کہ اس میں بہر حال گردوپیش کے سبھی تجربات شامل ہوتے ہیں اوراگر ایسا ممکن ہوبھی تو انتہائی غیر سودمند فعل ہے کہ ایک انسانی فرد کی ذات اپنی سب محبتوں اورکدورتوں مسرتوں اور رنجشوں کے باوجود بہت ہی چھوٹی سی بہت محدود اورحقیر شے ہے۔اس کی وسعت اور پہنائی کا پیمانہ تو باقی عالم موجودات سے اس کے ذہنی اورجذباتی رشتے ہیں،خاص طور پر انسانی برادری کے مشترکہ دکھ درد کے رشتے۔چنانچہ غمِ جاناں اورغمِ دوراں تو ایک ہی تجربے کے دو پہلو ہیں۔اسی نئے احساس کی ابتداء نقشِ فریادی کے دوسرے حصے کی پہلی نظم سے ہوتی ہے۔اس نظم کا عنوان ہے ’’مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ‘‘

اور اگر آپ خاتون ہیں تو’’مرے محبوب نہ مانگ‘‘

’’مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ

میں نے سمجھاتھا کہ توہے درخشاں ہے حیات

تیرا غم ہے تو غمِ دہر کا جھگڑا کیا ہے

تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات

تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے؟

تومل جائے تو تقدیر نِگُوں ہوجائے

یوں نہ تھا،میں نے فقط چاہاتھا یُوں ہوجائے

اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں محبت سے سوا

راحتیں اور بھی وصل کی راحت کے سوا

ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم

ریشم و اطلس و کمخاب میں بُنوائے ہوئے

جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم

خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہائے ہوئے

جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے

پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے

لوٹ جاتی ہے ادھر کوبھی نظرکیا کیجئے

اب بھی دلکش ہے ترا حسن ،مگرکیا کیجئے

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ

اس کے بعد تیر ہ چودہ برس’’کیوں نہ جہاں کا غم اپنالیں‘‘میں گزرے اورپھر فوج،صحافت ٹریڈیونین وغیرہ میں گزارنے کے بعد ہم چار برس کے لئے جیل خانے چلے گئے۔نقشِ فریادی کے بعد کی دوکتابیں’’دست صبا‘‘اور’’زنداں نامہ‘‘اسی جیل خانے کی یادگار ہیں۔بنیادی طورپر تویہ تحریریں انہیں ذہنی محسوسات اور معمولات سے منسلک ہیں جن کا سلسلہ مجھ سے پہلی سی محبت ،سے شروع ہو اتھالیکن جیل خانہ عاشقی کی طرح خود ایک بنیادی تجربہ ہے،جس میں فکرونظر کا ایک آدھ نیا دریچہ خودبخود کھل جاتا ہے۔چنانچہ اول تویہ ہے کہ ابتدائے شباب کی طرح تمام حسیات یعنی(Sensations)پھر تیز ہوجاتی ہیں اور صبح کی پَو،شام کے دُھندلکے،آسمان کی نیلاہٹ،ہوا کے گذار کے بارے میں وہی پہلا سا تحیر لوٹ آتا ہے۔دوسرے یوں ہوتا ہے کہ باہر کی دنیا کا وقت اورفاصلے دونوں باطل ہوجاتے ہیں۔نزدیک کی چیزیں بھی بہت دور ہوجاتی ہیں اوردور کی نزدیک اورفرداودی کا تفرقہ کچھ اس طور سے مت جاتا ہے کہ کبھی ایک لمحہ قیامت معلوم ہوتا ہے اورکبھی ایک صدی کل کی بات۔تیسری بات یہ ہے کہ فراغتِ ہجراں میں فکرومطالعہ کے ساتھ عروسِ سخن کے ظاہری بناؤ سنگھاؤ پر توجہ دینے کی زیادہ مہلت ملتی ہے۔جیل خانے کے بھی دو دور تھے۔ایک حیدرآباد جیل کا جواس تجربے کے انکشاف کے تحیر کا زمانہ تھا،ایک منٹگمری جیل کا جو اس تجربے سے اکتاہٹ اورتھکن کا زمانہ تھا۔ان دو کیفیتوں کی نمائندہ یہ دو نظمیں ہیں ،پہلی’’دستِ صبا‘‘ میں ہے دوسری’’زندان نامہ‘‘میں ہے۔

زندان نامہ کی ایک شام

شام کے پیچ و خم ستاروں سے

زینہ زینہ اُتر رہی ہے رات

یوں صبا پاس سے گزرتی ہے

جیسے کہہ دی کسی نے پیار کی بات

صحنِ زنداں کے بے وطن اشجار

سرنگوں ، محو ہیں بنانے میں

دامنِ آسماں پہ نقش و نگار

شانہ بام پر دمکتا ہے

مہرباں چاندنی کا دست جمیل

خاک میں گُھل گئی ہے آب نجوم

نُور میں گُھل گئی ہے عرش کا نیل

سبز گوشوں میں نیلگوں سائے

لہلہاتے ہیں جس طرح دل میں

موجِ دردِ فراقِ یار آئے

دل سے پیہم خیال کہتا ہے

اتنی شیریں ہے زندگی اس پل

ظلم کا زہر گھولنے والے

کامراں ہوسکیں گے آج نہ کل

جلوہ گاہِ وصال کی شمعیں

وہ بجھا بھی چکے اگر تو کیا

چاند کو گُل کریں تو ہم جانیں

’’اے روشنیوں کے شہر‘‘

سبزہ سبزہ سوکھ رہی ہے پھیکی زرد دوپہر

دیواروں کو چاٹ رہا ہے تنہائی کا زہر

دور افق تک گھٹتی،بڑھتی ،اٹھتی،گرتی رہتی ہے

کہر کی صورت بے رونق دردوں کی گدلی لہر

بستا ہے اِس کُہر کے پیچھے روشنیوں کا شہر

اے روشنیوں کے شہر

اے روشنیوں کے شہر

کون کہے کس سمت ہے تیری روشنیوں کی راہ

ہر جانب بے نورکھڑی ہے ہجر کی شہر پناہ

تھک کر ہر سُو بیٹھ رہی ہے شوق کی ماند سپاہ

آج مرا دل فکر میں ہے

اے روشنیوں کے شہر

شبخوں سے منہ پھیر نہ جائے ارمانوں کی رو

خیر ہو تیری لیلاؤں کی ،ان سب سے کہہ دو

آج کی شب جب دیئے جلائیں اونچی رکھیں لو

زنداں نامے کے بعد کچھ ذہنی افراتفری کا زمانہ ہے جس میں اپنا اخباری پیشہ چُھٹا ،ایک بار جیل گئے۔مارشل لاء کا دور آیا،اورذہنی گردوپیش کی فضا میں پھر سے کچھ انسداد راہ اورکچھ نئی راہوں کی طلب کا احساس پیداہوا۔اس سکوت اورانتظار کی آئینہ دار ایک نظم ہے’’شام‘‘اور ایک نامکمل غزل کے چند اشعار:

کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہو گی!

فیض

فیض احمد فیض

تقریر

محترم اراکینِ مجلسِ صدارت ، خواتین اور حضرات!

الفاظ کی تخلیق وترتیب شاعر اور ادیب کا پیشہ ہے۔لیکن زندگی میں بعض مواقع ایسے بھی آتے ہیں جب قدرت کلام جواب دے جاتی ہے ۔ آج عجزِ بیان کا ایسا ہی مرحلہ مجھے درپیش ہے۔ایسے کوئی الفاظ میرے ذہن میں نہیں آرہے ، جن میں اپنی عزت افزائی کے لئے لینن پرائز کمیٹی،سوویٹ یونین کے مختلف اداروں ،دوستوں اور سب خواتین اورحضرات کا شکریہ خاطر خواہ طور سے ادا کرسکوں۔لینن امن انعام کی عظمت تو اسی ایک بات سے واضح ہے کہ اس سے لینن کا محترم نام اور مقدس لفظ وابستہ ہے۔لینن جو دور حاضر میں انسانی حریت کا سب سے بزرگ علم بردار ہے اور امن جو انسانی زندگی اور اس زندگی کے حسن وخوبی کی شرطِ اول ہے۔مجھے اپنی تحریر وعمل میں ایسا کوئی کام نظر نہیں آتا جس اس عظیم اعزاز کے شایان شان ہو۔لیکن اس عزت بخشی کی ایک وجہ ضرور ذہن میں آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ جس تمنا اور آدرش کے ساتھ مجھے اور میرے ساتھیوں کو وابستگی رہی ہے یعنی امن اور آزادی کی تمنا وہ بجائے خود اتنی عظیم ہے کہ اس واسطے سے ان کے حقیر اور ادنیٰ کارکن بھی عزت اوراکرام کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔

یوں تو ذہنی طور سے مجنون اور جرائم پیشہ لوگوں کے علاوہ سبھی مانتے ہیں کہ امن اور آزادی بہت حسین اور تابناک چیز ہے اور سبھی تصور کرسکتے ہیں کہ امن گندم کے کھیت ہیں اور سفیدے کے درخت،دلہن کا آنچل ہے اور بچوں کے ہنستے ہوئے ہاتھ،شاعر کا قلم ہے اور مصور کاموئے قلم اورآزادی ان سب صفات کی ضامن اورغلامی ان سب خوبیوں کی قاتل ہے جو انسان اورحیوان میں تمیز کرتی ہے۔یعنی شعور اورذہانت ،انصاف اور صداقت،وقار اورشجاعت،نیکی اور رواداری____اس لئے بظاہر امن اورآزادی اورکے حصول اور تکمیل کے متعلق ہوشمند انسانوں میں اختلاف کی گنجائش نہ ہونا چاہیے۔لیکن بدقسمتی سے یوں نہیں ہے کہ انسانیت کی ابتدارء سے اب تک ہر عہداور ہر دور میں متضاد عوامل اور قوتیں برسرِعمل اور برسرپیکار رہی ہیں۔یہ قوتیں ہیں ،تخریب وتعمیر،ترقی اور زوال،روشنی اور تیرگی،انصا ف دوستی کی قوتیں۔یہی صورت آج بھی ہے اور اسی نوعیت کی کشمکش آج بھی جاری ہے۔لیکن ساتھ ہی ساتھ آج کل انسانی مسائل اور گزشتہ دور کی انسانی الجھنوں میں کئی نوعیتوں سے بھی فرق ہے۔دورِ حاضر میں جنگ سے دوقبیلوں کا باہمی خون خرابہ مراد نہیں ہے۔نہ آج کل امن سے خون خرابے کا خاتمہ مراد ہے۔آج کل جنگ اور امن کے معنی ہیں امنِ آدم کی بقااور فنا۔بقااورفنا ان دو الفاظ پر انسانی تاریخ کے خاتمے یا تسلسل کا دارومدار ہے۔انہیں پرانسانوں کی سرزمین کی آبادی اوربربادی کا انحصار ہے۔یہ پہلا فرق ہے۔دوسرا فرق یہ ہے کہ اب سے پہلے انسانوں کو فطرت کے ذخائر پر اتنی دسترس اور پیداوار کے ذرائع پر اتنی قدرت نہ تھی کہ ہر گروہ اوربرادری کی ضرورتیں پوری طرح تسکین پاسکتیں۔اس لئے آپس میں چھین جھپٹ اور لوٹ مار کا کچھ نہ کچھ جواز بھی موجود ہے۔لیکن اب یہ صورت حال نہیں ہے۔انسانی عقل ، سائنس اورصنعت کی بدولت اس منزل پر پہنچ چکی ہے کہ جس میں سب تن بخوبی پل سکتے ہیں اور سبھی جھولیاں بھرسکتی ہیں۔بشرطیکہ قدرت کے یہ بے بہا ذخائر پیداوار کے یہ بے اندازہ خرمن،بعض اجارہ داروں اورمخصوص طبقوں کی تسکینِ ہوس کے لئے نہیں،بلکہ جملہ انسانوں کی بہبود کے لئے کام میں لائے جائیں۔اورعقل اورسائنس اورصنعت کی کل ایجادیں اورصلاحتیں تخریب کے بجائے تعمیری منصوبوں میں صرف ہوں۔لیکن یہ جبھی ممکن ہے کہ انسانی معاشرے میں ان مقاصد سے مطابقت پیدا ہو اورانسانی معاشرے کے ڈھانچے کی بنائیں ہوسِ ،استحصال اوراجارہ داری کے بجائے انصاف برابری،آزادی اوراجتماعی خوش حالی میں اٹھائیں جائیں۔اب یہ ذہنی اورخیالی بات نہیں،عملی کام ہے۔اس عمل میں امن کی جدوجہد اورآزادی کی حدیں آپس میں مل جاتی ہیں۔اس لئے کہ امن کے دوست اوردشمن اورآزادی کے دوست اور دشمن ایک ہی قبیلے کے لوگ،ایک ہی نوع کی قوتیں ہیں۔ایک طرف وہ سامراجی قوتیں ہیں جن کے مفاد،جن کے اجارے جبر اورحسد کے بغیر قائم نہیں رہ سکتے اورجنہیں ان اجاروں کے تحفظ کے لئے پوری انسانیت کی بھینٹ بھی قبول ہے۔دوسری طرف وہ طاقتیں ہیں جنہیں بنکوں اور کمپنیوں کی نسبت انسانوں کی جان زیادہ عزیز ہے۔جنہیں دوسروں پر حکم چلانے کے بجائے آپس میں ہاتھ بٹانے اورساتھ مل کر کام کرنے میں زیادہ لطف آتا ہے۔سیاست واخلاق،ادب اورفن،روزمرہ زندگی،غرض کئی محاذوں پر کئی صورتوں میں تعمیر اورتخریب انسان دوستی اور انسان دشمنی کی یہ چپقلش جاری ہے۔

آزادی پسند اور امن پسند لوگوں کے لئے ان میں سے ہر محاز اورہرصورت پر توجہ دینا ضروری ہے۔مثال کے طور پر سامراجی اورغیر سامراجی قوتوں کی لازمی کشمکش کے علاوہ بدقسمتی سے بعض ایسے ممالک میں بھی شدید اختلاف موجود ہیں،جنہیں حال ہی میں آزادی ملی۔ایسے اختلافات ہمارے ملک پاکستان اور ہمارے سب سے قریبی ہمسایہ ہندوستان میں موجود ہیں۔بعض عرب ہمساہہ ممالک میں اور بعض افریقی حکومتوں میں موجود ہیں۔ظاہر ہے کہ ان کے اختلافات سے وہی طاقتیں فائدہ اٹھاسکتی ہیں جو امن عالم اورانسانی برادری کی دوستی اور یگانگت کو پسند نہیں کرتیں۔اسلئے صلح پسنداورامن دوست صفوں میں ان اختلافات کے منصفانہ حل پر غوروفکر اوراس حل میں امداددینا بھی لازم ہے۔

اب سے کچھ دن پہلے جب سوویت فضاؤں کا تازہ کارنامہ ہر طرف دنیا میں گونج رہا تھاتومجھے باربارخیال آتا رہا کہ آج کل جب ہم ستاروں کی دنیا میں بیٹھ کر اپنی ہی دنیا کا نظارہ کرسکتے ہیں توچھوٹی چھوٹی کمینگیاں،خود غرضیاں ،یہ زمین کے چند ٹکڑوں کو بانٹنے کو کوششیں اورانسانوں کی چند ٹولیوں پر اپنا سکہ چلانے کی خواہش کیسی بعیدازعقل باتیں ہیں۔اب جبکہ ساری کائنات کے راستے ہم پرکشادہ ہو گئے ہیں۔ساری دنیاکے خزینے انسانی بس میں آسکتے ہیں،توکیاانسانوں میں ذی شعور،منصف مزاج اوردیانت دارلوگوں کی اتنی تعداد موجود نہیں ہے جو سب کو منواسکے کہ یہ جنگی اڈے سمیٹ لو۔یہ بم اورراکٹ ،توپیں بندوقیں سمندر میں غرق کردو اور ایک دوسرے پر قبضہ جمانے کی بجائے سب مل کر تسخیر کائنات کو چلو۔جہاں جگہ کی کوئی تنگی نہیں ہے،جہاں کس کو کسی سے الجھنے کی ضرورت نہیں ہے،جہاں لا محدود فضائیں ہیں اوران گنت دنائیں۔مجھے یقین ہے کہ سب رکاوٹوں اورمشکلوں کے باوجود ہم لوگ اپنی انسانی برادری سے یہ بات منواکررہیں گے۔

مجھے یقین ہے کہ انسانیت جس نے اپنے دشمنوں سے آج تک کبھی ہار نہیں کھائی اب بھی فتح یاب ہوکررہے گی۔اورآخرِکار جنگ ونفرت اورظلم کدورت کے بجائے ہمارے باہمی زندگی کی بناوہی ٹھہرے گی جس کی تلقین اب سے بہت پہلے فارسی شاعر حافظ نے کی تھی

خلل پذیر بود ہر بناکہ می بینی

مگر بنائے محبت کہ خالی از خلل است

فیض احمد فیض

دیباچہ

ایک زمانہ ہوا جب غالب نے لکھا تھا کہ جو آنکھ قطرے میں دجلہ نہیں دیکھ سکتی دیدہ بینا نہیں بچوں کا کھیل ہے۔اگر غالب ہمارے ہم عصر ہوتے تو غالبا کوئی نہ کوئی ناقد ضرور پکار اٹھتا کہ غالب نے بچوں کے کھیل کی تو ہین کی ہے یا یہ کہ غالب ادب میں پروپگینڈا کے حامی معلوم ہوتے ہیں۔ شاعر کی آنکھ قطرے میں دجلہ دیکھنے کی تلقین کرنا صریح پروپگینڈا ہے۔اس کی آنکھ کو تو محض حسن سے غرض ہے اور حسن اگر قطرے میں دکھائی دے جائے تو وہ قطرہ دجلہ کا ہو یا گلی کی بدرو کا، شاعر کو اس سے کیا سروکار یہ دجلہ دیکھنا دکھانا حکیم فلسفی یا سیاستداں کا کام ہو گا شاعر کا کام نہیں ہے۔اگر ان حضرات کا کہنا صحیح ہوتا تو آبروئے شیوہ اہل ہنر، رہتی یا جاتی، اہل ہنر کا کام یقینا بہت سہل ہو جاتا، لیکن خوش قسمتی یا بد قسمتی سے فن سخن (یا کوئی اور فن)بچوں کا کھیل نہیں ہے۔اس کے لیے تو غالب کا دیدہ بینا بھی کافی نہیں۔اس لیے کافی نہیں کہ شاعر یا ادیب کو قطرے میں دجلہ دیکھنا ہی نہیں دکھانا ہی ہوتا ہے۔مزید برآں اگر غالب کے دجلہ سے زندگی اور موجودات کا نظام مراد لیا جائے تو ادیب خود بھی اسی دجلہ کا ایک قطرہ ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ دوسرے ان گنت قطروں سے مل کر اس دریا کے رخ، اس کے بہاؤ، اس کی ہیت اور اس کی منزل کے تعین کی ذمہ داری بھی ادیب کے سر آن پڑتی ہے۔

یوں کہیے کہ شاعر کا کام محض مشاہدہ ہی نہیں، مجاہدہ بھی اس پر فرض ہے۔گردو پیش کے مضطرب قطروں میں دجلہ کا مشاہدہ اس کی بینائی پر ہے، اسے دوسروں کو دکھانا اس کی فنی دسترس پر، اس کے بہاؤ میں دخل انداز ہونا اس کے شوق کی صلابت اور لہو کی حرارت پر۔اور یہ تینوں کام مسلسل کاوش اور جد و جہد چاہتے ہیں۔

نظام زندگی کسی حوض کا ٹھہرا ہوا سنگ بستہ مقید پانی نہیں ہے، جسے تماشائی کی ایک غلط انداز نگاہ احاطہ کرسکے۔ دور دراز، اوجھل دشوار گزار پہاڑیوں میں برفیں پگھلتی ہیں، چشمے ابلتے ہیں، ندی نالے پتھروں کو چیر کر، چٹانوں کو کاٹ کر آپس میں ہمکنار ہوتے ہیں اور پھر یہ پانی کتنا بڑھتا، گھاٹیوں، وادیوں، جنگلوں اور میدانوں میں سمٹتا اور پھیلتا چلا جاتا ہے۔جس دیدہ بینا نے انسانی تاریخ میں زندگی کے یہ نقوش و مراحل نہیں دیکھے اس نے دجلہ کا کیا دیکھا ہے۔پھر شاعر کی نگاہ ان گزشتہ اور حالیہ مقامات تک پہنچ بھی گئی لیکن ان کی منظر کشی میں نطق و لب نے یاوری نہ کی یا اگلی منزل تک پہنچنے کے لیے جسم و جاں جہد وطلب پہ راضی نہ ہوئے تو بھی شاعر اپنے فن سے پوری طرح سرخرو نہیں ہے۔

غالبا اس طویل و عریض استعارے کو روز مرہ الفاظ میں بیان کرنا غیر ضروری ہے۔مجھے کہنا صرف یہ تھا کہ حیات انسانی کی اجتماعی جد و جہد کا ادراک، اور اس جدو جہد میں حسب توفیق شرکت، زندگی کا تقاضا ہی نہیں فن کا بھی تقاضا ہے۔

فن اسی زندگی کا ایک جزو اور فنی جدو جہد اسی جد و جہد کا ایک پہلو ہے۔یہ تقاضا ہمیشہ قائم رہتا ہے اس لیے طالب فن کے مجاہدے کا کوئی نروان نہیں، اس کا فن ایک دائمی کوشش ہے اور مستقل کاوش۔اس کوشش میں کامرانی یا ناکامی تو اپنی اپنی توفیق اور استطاعت پر ہے لیکن کوشش میں مصروف رہنا بہر طور ممکن بھی ہے اور لازم بھی۔یہ چند صفحات بھی اسی نوع کی ایک کوشش ہیں۔ممکن ہے کہ فن کی عظیم ذمہ داریوں سے عہد بر آہونے کی کوشش کے مظاہرے میں بھی نمائش یا تعلی اور خود پسندی کا ایک پہلو نکلتا ہو لیکن کوشش کیسی بھی حقیر کیوں نہ ہو زندگی سے یا فن سے فرار اور شرمساری پر فائق ہے۔

اس مجموعے کی ابتدائی تین نظمیں نقش فریادی کی آخری اشاعت میں شامل ہیں۔یہ تکرار اس لیے کی گئی ہے کہ اسلوب اور خیال کے اعتبار سے یہ نظمیں نقش فریادی کی نسبت اس مجموعہ سے زیادہ ہم آہنگ ہیں۔

فیض احمد فیض

سنٹرل جیل، حیدرآباد(سندھ)

فیض احمد فیض

دیباچہ

ایک زمانہ ہوا جب غالب نے لکھا تھا کہ جو آنکھ قطرے میں دجلہ نہیں دیکھ سکتی دیدہ بینا نہیں بچوں کا کھیل ہے۔اگر غالب ہمارے ہم عصر ہوتے تو غالبا کوئی نہ کوئی ناقد ضرور پکار اٹھتا کہ غالب نے بچوں کے کھیل کی تو ہین کی ہے یا یہ کہ غالب ادب میں پروپگینڈا کے حامی معلوم ہوتے ہیں۔ شاعر کی آنکھ قطرے میں دجلہ دیکھنے کی تلقین کرنا صریح پروپگینڈا ہے۔اس کی آنکھ کو تو محض حسن سے غرض ہے اور حسن اگر قطرے میں دکھائی دے جائے تو وہ قطرہ دجلہ کا ہو یا گلی کی بدرو کا، شاعر کو اس سے کیا سروکار یہ دجلہ دیکھنا دکھانا حکیم فلسفی یا سیاستداں کا کام ہو گا شاعر کا کام نہیں ہے۔اگر ان حضرات کا کہنا صحیح ہوتا تو آبروئے شیوہ اہل ہنر، رہتی یا جاتی، اہل ہنر کا کام یقینا بہت سہل ہو جاتا، لیکن خوش قسمتی یا بد قسمتی سے فن سخن (یا کوئی اور فن)بچوں کا کھیل نہیں ہے۔اس کے لیے تو غالب کا دیدہ بینا بھی کافی نہیں۔اس لیے کافی نہیں کہ شاعر یا ادیب کو قطرے میں دجلہ دیکھنا ہی نہیں دکھانا ہی ہوتا ہے۔مزید برآں اگر غالب کے دجلہ سے زندگی اور موجودات کا نظام مراد لیا جائے تو ادیب خود بھی اسی دجلہ کا ایک قطرہ ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ دوسرے ان گنت قطروں سے مل کر اس دریا کے رخ، اس کے بہاؤ، اس کی ہیت اور اس کی منزل کے تعین کی ذمہ داری بھی ادیب کے سر آن پڑتی ہے۔

یوں کہیے کہ شاعر کا کام محض مشاہدہ ہی نہیں، مجاہدہ بھی اس پر فرض ہے۔گردو پیش کے مضطرب قطروں میں دجلہ کا مشاہدہ اس کی بینائی پر ہے، اسے دوسروں کو دکھانا اس کی فنی دسترس پر، اس کے بہاؤ میں دخل انداز ہونا اس کے شوق کی صلابت اور لہو کی حرارت پر۔اور یہ تینوں کام مسلسل کاوش اور جد و جہد چاہتے ہیں۔

نظام زندگی کسی حوض کا ٹھہرا ہوا سنگ بستہ مقید پانی نہیں ہے، جسے تماشائی کی ایک غلط انداز نگاہ احاطہ کرسکے۔ دور دراز، اوجھل دشوار گزار پہاڑیوں میں برفیں پگھلتی ہیں، چشمے ابلتے ہیں، ندی نالے پتھروں کو چیر کر، چٹانوں کو کاٹ کر آپس میں ہمکنار ہوتے ہیں اور پھر یہ پانی کتنا بڑھتا، گھاٹیوں، وادیوں، جنگلوں اور میدانوں میں سمٹتا اور پھیلتا چلا جاتا ہے۔جس دیدہ بینا نے انسانی تاریخ میں زندگی کے یہ نقوش و مراحل نہیں دیکھے اس نے دجلہ کا کیا دیکھا ہے۔پھر شاعر کی نگاہ ان گزشتہ اور حالیہ مقامات تک پہنچ بھی گئی لیکن ان کی منظر کشی میں نطق و لب نے یاوری نہ کی یا اگلی منزل تک پہنچنے کے لیے جسم و جاں جہد وطلب پہ راضی نہ ہوئے تو بھی شاعر اپنے فن سے پوری طرح سرخرو نہیں ہے۔

غالبا اس طویل و عریض استعارے کو روز مرہ الفاظ میں بیان کرنا غیر ضروری ہے۔مجھے کہنا صرف یہ تھا کہ حیات انسانی کی اجتماعی جد و جہد کا ادراک، اور اس جدو جہد میں حسب توفیق شرکت، زندگی کا تقاضا ہی نہیں فن کا بھی تقاضا ہے۔

فن اسی زندگی کا ایک جزو اور فنی جدو جہد اسی جد و جہد کا ایک پہلو ہے۔یہ تقاضا ہمیشہ قائم رہتا ہے اس لیے طالب فن کے مجاہدے کا کوئی نروان نہیں، اس کا فن ایک دائمی کوشش ہے اور مستقل کاوش۔اس کوشش میں کامرانی یا ناکامی تو اپنی اپنی توفیق اور استطاعت پر ہے لیکن کوشش میں مصروف رہنا بہر طور ممکن بھی ہے اور لازم بھی۔یہ چند صفحات بھی اسی نوع کی ایک کوشش ہیں۔ممکن ہے کہ فن کی عظیم ذمہ داریوں سے عہد بر آہونے کی کوشش کے مظاہرے میں بھی نمائش یا تعلی اور خود پسندی کا ایک پہلو نکلتا ہو لیکن کوشش کیسی بھی حقیر کیوں نہ ہو زندگی سے یا فن سے فرار اور شرمساری پر فائق ہے۔

اس مجموعے کی ابتدائی تین نظمیں نقش فریادی کی آخری اشاعت میں شامل ہیں۔یہ تکرار اس لیے کی گئی ہے کہ اسلوب اور خیال کے اعتبار سے یہ نظمیں نقش فریادی کی نسبت اس مجموعہ سے زیادہ ہم آہنگ ہیں۔

فیض احمد فیض

سنٹرل جیل، حیدرآباد(سندھ)

فیض احمد فیض

فردا

1968 میں مجید امجد’فعلن فعلن’کے آہنگ سے مکمل طور پر مسحور ہو گئے تھے۔اس سے پہلے یہ واردات میر تقی میر پر بھی گزری تھی، جنہوں نے اس بحر میں دو تین سو غزلیں لکھ ڈالی تھیں۔میر کے بعد یہ بحر امجد کے مزاج کو راس آئی۔چنانچہ وہ چھ سات سال تک تمام نظمیں اسی بحر میں لکھتے چلے گئے۔ان نظموں کے بارے میں عام قاری کی رائے ہے کہ یہ ان کی کمزور نظمیں ہیں جبکہ بعض سنجیدہ قارئین اور وسیع المطالعہ ناقدین کے خیال میں یہ ان کی بہترین تخلیقاتت ہیں۔بہرحال یہ مستقبل کی نظمیں ہیں اور ان کی حیثیت کا تعین آنے والا زمانہ کرے گا

خواجہ محمد زکریا

مجید امجد

روزِ رفتہ

مجید امجد نے جو کلام ’’شبِ رفتہ‘‘ میں کسی بھی وجہ سے شریک نہیں کیا تھا اسے اس حصے میں شامل کیا گیا ہے۔ ان میں وہ شاعری بھی ہے جو انھوں نے زمانہ طالب علمی میں کی تھی اور وہ کلام بھی ہے جو شبِ رفتہ میں شمولیت کا مستحق تو تھا مگر کئی وجود کی بنا پر شامل نہیں کیا گیا تھا۔ بعض جگہ یہ فیصلہ کرنا سہل نہیں کہ دونوں میں حد فاضل کس طرح قائم کی جائے اس لیے انھیں یکجا رکھا گیا ہے۔ گویا اس حصے میں ان کی ابتدائی اور زمانہ طالب علمی کی شاعری بھی شامل ہے اور شبِ رفتہ کے دور کی عمدہ شاعری بھی موجود ہے مگر چونکہ یہ سارا کلام ان کے ذہنی ارتقا کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے اس لیے کلیات میں اس کی شمولیت کا کافی جواز موجود ہے۔ اس حصے کو ’’باقیات‘‘ کا عنوان دے کر، کلیات کے آخر میں اس لیے جگہ نہیں دی گئی کہ مجید امجد ان میں سے کئی نظمیں اپنے مجموعہ کلام میں شامل کرنا چاہتے تھے۔ بعض نہایت اہم نظموں کو بالکل آخر میں لگا دیا جاتا تو ان تک رسائی مشکل ہو جاتی اور ان کے نظر انداز ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا

خواجہ محمد زکریا

مجید امجد

نظم اور میں

نظم نے پہلے پہل آنگن کے ایک کونے سے ننھی کونپل کے جیسے سر اٹھایا تو میں اس کے وجود سے یکسر انجان رہی ۔۔۔۔۔ پھر آنگن بدلتے رہے لیکن وہ کونپل ساتھ ساتھ سفر کرتی رہی۔۔۔ ہمیشہ کونوں میں سمٹی ہوئی، دیواروں سے لگی ہوئی ۔۔۔۔ پھر ایک روز میں نے اسے دیکھ بھی لیا ۔۔۔۔ تھوڑی دیر حیرت رہی ۔۔۔ دلچسپی بھی ۔۔۔ اور پھر میں بھول گئی ۔۔۔۔ سفر بہت کڑا تھا ۔۔۔۔ اور درد اپنی بساط سے بھی باہر ۔۔۔۔۔ سارا وقت رشتوں کا ریشم بُنتے نکل جاتا لیکن ہر بار ساری بُنت کھل کر پھر ایک ڈھیر کی صورت اختیار کر جاتی سو یہ کوشش ہی ترک کر دی ۔۔۔۔ اوندھے ، سیدھے دن بے آہٹ بیت جاتے اور کھڑکیوں پر نئے پرانے موسم اپنی تصویریں دھرتے گزر جاتے ۔۔۔ تب نظم آنگن سے نکل کر میرے کمرے میں آنا شروع ہو گئی ۔۔۔۔ دکھتی رگیں سہلاتی ۔۔۔۔ ادھر ادھر کونوں میں سمٹے وجود سے گرد جھاڑتی ۔۔۔۔ سرگوشیاں کرتی ۔۔۔۔ پھرکوئی بارہ برس پہلے جب کھڑکی پر چلچلاتے موسم کی تصویردھری تھی اور میرا وجود درد سے دہراہوا جاتا تھا تو نظم نے مجھے اپنا دوست بنا لیا ۔۔۔۔ یہ بہت محفوظ رشتہ تھا ۔۔۔۔ ایسا ریشم جس کی بُنت کبھی واپس ڈھیر کی صورت اختیار نہیں کرتی تھی ۔۔۔۔ اب کی بار باہر کی دنیا کو ایک مدت بعد دوبارہ دیکھا تو میری یہ دوست میرے ساتھ تھی ۔۔۔ بھیڑ میں کھو جانے کا کوئی خدشہ نہیں تھا کہ اسے سب راستے پتہ تھے ۔۔۔۔ بادلوں ، پیڑوں ، پھولوں ، ہوائوں اور موسموں ، رنگوں اور خوشبوئوں کی باتیں ہمیں اچھی لگتیں ۔۔۔ لیکن اکثر یہ باتیں اندر چھپے کسی خوف یا درد کی ملاوٹ سے بھیگ جایا کرتی تھیں ۔۔۔۔ یہ کچھ ایسے دن تھے جب کبھی کبھی مجھے لگتا کہ نظم میرے وجود سے پھوٹی ہو گی اور کبھی میں سوچتی کہ دراصل میں نے ہی اس کے بطن سے زندگی تلاش کی ہوگی ۔۔۔۔ اس مرحلے پر ہم دونوں شاید ایک ہی تھے ۔۔۔۔ ہمارے پاس کہنے کو زیادہ کچھ نہیں تھا۔۔۔ بس روز مرہ کی زندگی تھی ۔۔۔ حقیقی زندگی ۔۔۔ جہاں ہم دونوں سارا دن کام کاج کی مشقت میں گزارا کرتے اور رات دیر تک پتوں سے لپٹی ہوائوں کی سرگوشیوں میں چھوٹی چھوٹی سوچیں بنا کرتے ۔۔۔۔ اس لیے کہ ہم چھوٹے لوگ تھے جنہیں جو کرنا تھا خود ہی کرنا تھا ۔۔۔۔ ہم تنہا تھے ۔۔۔۔ پورے شہر میں یا کائنات میں یا کائنات سے ادھر ادھر کے سارے زمانوں میں تنہا ۔۔۔۔۔ ہم اداس تھے ۔۔۔۔ زندگی ہمارے لیے درد کا سب سے بڑا استعارہ تھی ۔۔۔۔ ہم خوشیاں نہیں ڈھونڈا کرتے تھے صرف یہ کوشش رہتی کہ درد کی شدت کسی طرح کم ہو جائے اور جس روز ایسا ممکن ہو جاتا ہم دونوں سیلیبریٹ کیا کرتے تھے ۔۔۔۔ زندگی فضول لگتی اور اس کا نظام اس سے بھی فضول ۔۔۔۔۔اور اپنے وجود کا مسئلہ یکسر لاینجل ۔۔۔۔ کئی گتھیاں کھل کر ہی نہیں دیتی تھیں ۔۔۔۔ کتابوں میں محبت اور جذبوں کی باتیں پڑھنا عجیب لگتا تھا ۔۔۔۔ محبت ایسا پھیلا ہوا ، بہتا ہوا جذبہ کیسے قید کرتے ہوں گے لوگ۔۔۔۔ ہم دونوں نے تو اسے جب بھی گرفت میں لینا چاہا یہ ادھر ادھر پھسل جایا کرتا تھا ۔۔۔۔ اور ہمیں تو فورا ہی محبت ہو جاتی ۔۔۔ خزاں رسیدہ پتوں سے لے کر ہنستے ہوئے چہروں تک ہر شے سے ۔۔۔۔ مگر یہ کام اور بھی دردیلا تھا ۔۔۔۔ پتے پیروں تلے مسلے جاتے اور چہروں کی مسکراہٹوں میں تضحیک ابھر آتی ۔۔۔۔ ایسے میں ہم اپنی تکمیل کے لیے اندر کا رخ کیا کرتے ۔۔۔۔ وجود کے اندر کی دنیا کیسی پراسرار لگا کرتی ۔۔۔۔ سوچوں کی شکلیں بنتی بگڑتی رہتیں اور ہم بیٹھے ان سے کہانیاں بُنتے ۔۔۔۔ شعور اور نیم شعور کو گرفت میں لینے کی کوشش کرتے ہوئے ۔۔۔۔ جسم کی سطح پر جیتے ہوئے۔۔۔۔ روح کے اندر گہرا اترتے ہوئے ۔۔۔۔۔ سب تجربے نظم نے کرنے سکھائے تھے ۔۔۔۔ ڈھیرا سا درد سہنا اوربس چلتے رہنا بھی ۔۔۔۔ فضول باتوں پر ہنسنا اور چھوٹے چھوٹے سہارے ڈھونڈنا بھی ۔۔۔۔ نظم کبھی کبھی مجھ سے روٹھ بھی جایا کرتی تھی ۔۔۔ اس کا جی چاہتا بادلوں سے پرے ایک خاص زاویے سے دنیا کو دیکھنے کا لیکن میں زیادہ تر اندر کے سناٹے سے الجھی رہتی ۔۔۔۔ درد رگوں میں گرہیں لگاتا اور میں بیٹھی انہیں کھولتی رہتی ۔۔۔۔۔ نظم کہتی کہ میں لاعلاج ہوں اورضرورت سے زیادہ قنوطیت پسند بھی۔۔۔۔ لیکن مجھے یہ سب پسند تھا ۔۔۔۔ میرے لیے یہی محفوظ راستہ تھا ۔۔۔۔ نظم اپنا آہنگ بلند کرنا چاہتی تھی آسمانوں میں پرواز کے لیے مچلا کرتی اور میں زمین میں اور گہرا دھنسنے کی کوشش کیا کرتی ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ دراصل زندگی گزارنے کا کوئی نظریہ یا ڈھنگ میرے پاس تھا ہی نہیں ۔۔۔۔ بس یونہی جیسے خود رُو پودے ہوائوں کے تھپیڑے اور بارشوں کے شور سہتے سہتے پلتے رہتے ہیں ۔۔۔۔۔ میرے ساتھ رہتے نظم کا نصیب بھی یہی تھا سو یہ بھی بغیر نظریے کے پلتی رہی ۔۔۔۔۔ سارے تھپیڑے سہتی اور شور سنتی ہوئی۔۔۔۔۔ نظم خوبصورت نہیں تھی لیکن اس کی آنکھوں میں سچائی کی چمک تھی ۔۔۔۔ ظالم کا اپنا سحر تھا۔۔۔۔ چپکے چپکے دل پر ہاتھ رکھ دینے والا۔۔۔۔ بے خواب چاندنی راتوں میں رقص کرتے کرتے ۔۔۔ خود فراموشی کے لمحات میں اس کا چہرہ زندگی کی تمتماہٹ سے جگمگا اٹھتا ۔۔۔ ایسے میں مجھے یہ بہت اچھی لگا کرتی تھی۔۔۔۔ پھر کبھی کبھی اس کے طفیل خودفراموشی کے چند لمحات مجھے میسر آ جاتے تو اور بھی اچھا لگتا۔۔۔ بس ہماری یہی کائنات رہی ہے ۔۔۔ سادہ اور چھوٹی ۔۔۔ دنیا کی پیچیدہ سیاست اور بڑے لوگوں کے کارناموں سے شاید ہمیں کبھی دلچسپی نہیں رہی۔۔۔۔ ہاں گلیوں ، محلوں ، دفتروں ، پارکوں ، سینما ہالوں اور سڑکوں پر بہتی ہوئی زندگی سے بارہا متاثر ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔ حاشیے کے اس طرف جینے میں زیادہ مزہ تھا۔۔۔۔ یوں بارہ برس کی اس بے پناہ رفاقت کے صلے میں نظم کو دینے کے لیے میرے پاس اس سے علاوہ کیا ہے کہ میں اسے ایک جسم دے دوں یعنی یہ کتابی شکل ۔۔۔۔ ان سب چھوٹے بڑے خوابوں میں سے ایک خواب جو میں نے دیکھا نظم نے دیکھا اور ہمارے ساتھ کچھ اورآنکھیں بھی تھیں جنہوں نے بجھ جانے میں عجلت سے کام لیا۔۔
گلناز کوثر

انتساب

آپنیاں سانہواں دے سُکھ

خالدہ ماجد دے ناں

گھُلّے ڈاہڈا نھیر جویں ہُن گھلیا اے

بجھیا کلُل جائے پھَٹ جویں ہُن کھلیا اے

جھلّے کوئی نہ تھاں تے ٹکراں ماراں میں

ربّا! اُنج کدوں تینوں چتیاراں میں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

انتساب

آپنیاں سانہواں دے سُکھ

خالدہ ماجد دے ناں

گھُلّے ڈاہڈا نھیر جویں ہُن گھلیا اے

بجھیا کلُل جائے پھَٹ جویں ہُن کھلیا اے

جھلّے کوئی نہ تھاں تے ٹکراں ماراں میں

ربّا! اُنج کدوں تینوں چتیاراں میں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

نام کتاب: ہاسے دا سبھا

پہلی اشاعت: 1978

ناشر: اپنا ادارہ، ڈھوک کھبہ راولپنڈی

انتساب

پروفیسر انور مسعود دے ناں

جھکے ہوئے نے ماجد تیری اکھیاں دے وچ جھڑ

اسیں تینوں جانڑدے آں توں بھانویں رو نہ رو

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

سُونہاں لیندی اکھ

نام کتاب: ’’سُونہاں لیندی اکھ‘‘

شاعر: ماجد صدّیقی

پہلی اشاعت: 1964

ناشر: ماجد نشان پبلشرز

انتساب

کرنال محمد خان دے ناں

زخم پھُل ہوندا

تے میں کالر سجاوندا

پَیڑ رو سکدی

تے نظماں کہن دی کی لوڑ سی؟

۔۔۔۔

منّو بھائی

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

ماجد کی پنجابی غزل ۔ ڈاکٹر ریاض مجید

ماجد کی پنجابی غزل

نئی پنجابی غزل کا ابتدائی کھوج لگانے کے لئے ہمیں بہت دور نہیں جانا پڑتا۔ پچھلی ربع صدی میں پانچ چھ ایسے نام ہمارے سامنے آتے ہیں جنہوں نے پرانی روش سے ہٹ کر پنجابی غزل کو ایک نئی اورنرول راہ سُجھائی ہے غزل کو آج کی زبان دی ہے اور اسے دورِ جدید کے فکر و خیال کے اظہار کے قابل بنایا ہے۔ ان شاعروں نے زمین پر رہتے ہوئے زمین کی باتیں کی ہیں۔ اپنے عہد سے آنکھیں نہیں چرائیں یہ وہ صاحبِ ادراک سخن ور ہیں جو پنجابی غزل کو اُس مقام تک لے آئے ہیں جو مقام‘ عصرِحاضر کی اردو غزل کو حاصل ہے۔

اس امر سے کسے انکار ہو سکتا ہے کہ اردو کے مقابلے میں اہلِ پنجاب کی مادری زبان پنجابی کے ساتھ ہمیشہ سوتیلی اولاد جیسا سلوک کیا گیا ہے۔ جہاں تک اردو غزل کا تعلق ہے۔ اسے لکھاری بھی بہت ملے ہیں اور سرکاری سطح پر بھی ہمیشہ اِس کی حوصلہ افزائی کی جاتی رہی ہے۔ جبکہ پنجابی زبان عوامی قصّوں اور لوک کہانیوں سے کبھی تجاوز نہیں کر سکی مگر اب وہ وقت آ گیا ہے جب پنجابی غزل کو اردو غزل کے برابر لانے کی سنجیدہ کوششوں کا آغاز ہو چکا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجابی لکھنے والوں نے پنجابی غزل کو نیا لب و لہجہ دیتے ہوئے فکر و خیال کے اعتبار سے بھی اسے اردو غزل کے برابر لا کھڑا کیا ہے اور اگر تنگ نظری سے کام نہ لیا جائے تو کہاجا سکتا ہے کہ ہماری موجودہ پنجابی غزل اردو غزل کے ساتھ کندھا ملا کر چلنے کے قابل ہو چلی ہے۔

اردو غزل کی طرح پنجابی غزل پر بھی ابتدا ہی سے فارسی زبان و ادب کی چھاپ چلی آرہی ہے وہی گل و بلبل اور زلف و رخسار کی باتیں زندگی سے ہٹ کر فکر و خیال کے تجربے اور ہوائی کہانیوں کا بیان پنجابی غزل کے موضوعات میں بھی شامل رہے ہیں اور بہت کم شاعر ایسے ہیں جنہوں نے پنجابی غزل کو نئے آہنگ سے ہمکنار کیا ہو۔

اب جبکہ پنجابی غزل کے آنگن میں نئے سورج کی کرنیں پہنچنے لگی ہیں پچھلی ساری کی ساری روایتیں دم توڑتے سایوں کی طرح بھاگتی دکھائی دیتی ہیں اور

فکرِ جدید کی روشن دھوپ جگہ جگہ پھیلتی جا رہی ہے۔ آج کی پنجابی غزل پڑھتے ہوئے گھٹن کا نہیں بلکہ تازگی کا احساس ہوتا ہے۔ اس لئے کہ نئے لکھنے والوں نے پنجابی غزل کو وہ معنوی کشادگی دے دی ہے جو اس سے پہلے کبھی اسے میّسر نہیں تھی ان ہی پنجابی غزل گو شعرا میں ایک نام ماجد صدّیقی کا بھی ہے۔

ماجد صدّیقی کی غزل میں دوسرے جدید شعراکی طرح انسانی کرب و الم کا اظہار ملتا ہے۔ ماجد وقت اور ماحول کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا جانتا ہے۔ وہ جو بات بھی کرتا ہے اس کا مواد اپنے آس پاس کے ماحول ہی سے اخذ کرتا ہے۔ ماجد کے دکھ آج کے عہد کے کسی بھی لکھاری جیسے ہیں جنہیں وہ اپنی پوری کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھتا ہے۔ ماجد کا خاصہ یہ ہے کہ وہ ہر گزرتی پل کو ٹھونک بجا کر دیکھتا ہے اور اس سے وہی اثر قبول کرتا ہے جو اثر کسی سچے فنکار کو قبول کرنا چاہئے۔

اسماناں دل گھورے

ماجد دھرتی جایا

آج کے اہلِ قلم حضرات کو ایک نہیں لاکھوں دکھوں کا سامنا ہے۔ اپنی ذات کا دکھ، زمانے کی بے مہری اور بے حسی کا دکھ، وقت کی بدلتی قدروں کا دکھ،

ہجوم خلائق میں جینے بسنے کے باوجود اکیلا ہونے کا دکھ اور خداجانے اور کیا کیا دکھ ہیں جو صاحبِاحساس لوگوں کو اپنے نرغے میں لئے رکھتے ہیں۔

کی غیراں کی اپنیاں کیتا ماجد کی کچھ دسئیے

اِس دل نوں رَل مِل کے سبھناں وار و واری لُٹیا

آج کے انسان کا المیہ یہ ہے کہ دھرتی سے اُس کا رشتہ ٹوٹتا دکھائی دیتا ہے یوں جیسے زمین اُس کے پیروں تلے سے نکلتی جا رہی ہو۔ آسمان اُس کی پہنچ سے دور ہو اور اسے بار بار اِس احساس کا سامنا ہو جیسے وہ خلا میں لٹکتا جا رہا ہے۔ آج کے انسان کا یہی کرب ماجد کے اِس شعر میں ملاحظہ کیجئے۔

خورے کنی وار میں وچ خلاواں لٹکیا

امبر مینتھوں دور سن‘ دھرتی سی منہ موڑیا

زندگی اور موت کے درمیان یہ طرزِ اظہار اس دشوار گزار گھاٹی کا بیان ہے جب زندگی تو اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہوتی ہے لیکن موت کا آغاز ابھی نہیں ہو پاتا۔ زندگی اور موت کے درمیان یہ ایک گھڑی ایسی گھڑی ہے جسے صدیوں پر بھاری قرار دیا جا سکتا ہے اور اس شعر میں اس قدر تاثیر اور گہرائی ہے کہ ہر پڑھنے والے کو ان دو سطروں میں اپنا احساس صاف صاف دھڑکتا سنائی دیتا ہے۔

احمد ندیم قاسمی کا ایک شعر ہے۔؎

گو مرے دل کے زخم ذاتی ہیں

ان کی ٹیسیں تو کائناتی ہیں

ماجد کے اشعار پڑھتے ہوئے بار بار اس صداقت کا کشف ہوتا ہے کہ ہر بڑے اور اچھے لکھاری کی طرح وہ بھی ذات کے کرب کا اظہار ایسے کھرے انداز میں کرتا ہے کہ اس کی بات اس کی اپنی نہیں رہتی ہماری آپ کی بات بن جاتی ہے۔ ماجد کی غزل میں کرب تو اس کی اپنی ذات کا ہے مگر اس کی چبھن اس کے پڑھنے والے بھی محسوس کرتے ہیں۔ ماجد کا فنی کمال یہی ہے کہ اس نے ہر کسی کو اپنے ذاتی تجربوں میں شامل کر لیا ہے۔ اس کے اشعار پڑھتے ہوئے بار بار یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی فنی استعداد سے اپنے پڑھنے والوں کو اپنے دل کے بہت قریب لاکھڑا کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ماجد کے قارئین اسے لمحہ بہ لمحہ اور زیادہ پیار سے پڑھتے اور اپنے قریب محسوس کرتے ہیں۔

ماجد کے کرب کا کوئی ایک رُخ نہیں ہے۔ وہ ذات اور کائنات کے روایتی دکھ سے بھی دوچار ہے اور اپنے عہد کے نئے نویلے دکھوں سے بھی ۔

اپنی ماں دھرتی سے لگاؤ اور اس سے وابستہ سیاسی بے چینیوں کی کڑواہٹ اس کے شعروں میں جابجا ملتی ہے۔ اس کے یہ زخم بہت گہرے ہیں۔ جو اس کا جینا محال کر دیتے ہیں مگر وہ کیا کرے ان دکھوں سے چھٹکارا بھی تو ممکن نہیں ہے۔ شاید اسی لئے وہ اس امر کا اظہار اس طرح کرتا ہے۔

دکھ متر ہن دوستو نھیریاں کر دے لو

دنیا نے اس کی راہوں میں کانٹے بچھا رکھے ہیں۔ اس کی مسافتوں کو مشکل بنا رکھا ہے اسے کسی منزل پر نہیں پہنچنے دیتی۔ اس کی جھولی میں جتنے پھول اور جتنی کلیاں ہیں دنیا نے وہ سارا کچھ لُوٹ لیا ہے۔ اس کے ساتھ دُنیا کا لٹیروں جیسا سلوک اس کی شاعری کا ایک نمایاں موضوع ہے جو اس طرح کے شعروں کے ذریعے ہمیں ماجد کی اندرونی کیفیات سے آگاہ کرتا ہے۔

کنیاں نوں ادھ راہ اِس رکھیا کنیاں نوں اِس لٹیا

فر وی اِس بے مہر زمانے توں نئیں پلہ چھٹیا

کربِ ذات اور کربِ کائنات کے ساتھ ساتھ ماجد کے شعروں میں یاروں کے دئیے ہوئے دکھوں کا بیان بھی ملتا ہے۔۔۔ مگر قابلِ داد امر یہ ہے کہ ماجد اپنے پیاروں کے دکھ درد کو بھی بچھڑے ہوؤں کی نشانیاں سمجھتا ہے اور جب بھی اکیلا بیٹھتا ہے ان نشانیوں سے اپنا جی بہلاتا رہتا ہے۔

دکھ گنیندے انگلاں اتے بہہ کے کلھ مکلھے

ایہو نشانی یاراں دتی ایہو ہتھاں دے چھلے

ماجد بھی دوسرے لکھاریوں کی طرح اسی دنیا میں جی بس رہا ہے اس کے محسوسات دوسروں سے جداگانہ نہیں مگر۔۔ اندازِ بیان سراسر اس کا اپنا ہے۔

مرزا غالبُ نے کہا تھا۔

رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتاہے رَنج

مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں

ماجد کے لئے بھی دکھ درد کی یہ کڑواہٹ قابلِ برداشت ہو جاتی ہے وہ آلام حیات کا عادی ہو جاتا ہے غم و اندوہ اسے تلخ دکھائی نہیں دیتے بلکہ کہیں کہیں تو ایسا ہے کہ موت کا احساس بھی اس کے لئے خوشی کا سامان فراہم کرنے لگتا ہے۔

کل تیکن تے زہر سی دکھاں دی کڑوان وی

اج میں سمجھاں موت وی ہے اک جام شراب دا

ورہیاں دے نیلے امبراں تے توں ائی ٹمکدا تارا

خوشیاں دیا انملیا سمیاں پل تے کول کھلو

زندگی کی مشکلات نے اس کے حوصلے بلند کر دئے ہیں اور اب ایسا ہے کہ ان مشکلات پر قابو پانے کے لئے وہ جان تک کی بازی لگانے سے بھی گھبراتا نہیں ہے۔

اس مقام پر لوگ چاہے ماجد کو نادان کہیں یا دانا، ماجد اس مقام سے بہت آگے نکل آیا ہے اب اسے نطشے کی طرح ان سچی حقیقتوں کا عرفان ہو چلا ہے۔ جو کچھ بننے کے لئے انسان کو غم و آلام کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ دلاتی ہیں۔ دکھ درد کے حق میں یہ تصور انتہائی صحت مندانہ تصور ہے جو ذاتِ انسانی کو ترفع سے ہمکنار کرتا ہے۔ اسی لئے ماجد اس طرح کے اعلانات کرنے سے بھی بھی نہیں چوکتا۔

میرے اندر کالک دکھ دی میرا مکھڑا چن اشمان

میں آپوں سینہ داغیا مینوں رون مرے ارمان

اب وہ غم و الم سے گھبراتا نہیں انہیں اپنا مِیت سمجھتا ہے اور کھلے بندوں ان کا سواگت کرتا ہے۔ اس کے یہ مِیت اس کی راہوں میں جگہ جگہ چراغ اٹھائے کھڑے ہیں اور اسے قدم قدم پر آگے بڑھنے کا سلیقہ سکھا رہے ہیں۔ ماجد کی شاعری کا یہ پہلو بے حد خوشگوار ہے اس لئے کہ اس نے معروف شاعر ’’وان گو‘ ‘ کی طرح Suffer without complaint کو اپنا اصولِ حیات بنا لیا ہے اب اس پر جو ستم بھی ٹوٹے وہ اسے خاموشی سے اپنی جان پر سہہ لیتا ہے اور شکایت کے لب تک نہیں کھولتا۔

اپنے منہ سے موت نہ مانگنا۔ توڑ پھوڑ کے آج کے دور میں ایک صحت مندانہ علامت ہے۔ یہ وہ عالی ظرفی ہے جو ہر کسی کے حصے میں نہیں آتی۔

ماجد کی چاروں اور آنکھوں سے اندھی چپ اور برفوں جیسی سردمہری ہے۔ پھر بھی اسے یہ چاؤ ضرور ہے کہ اس کے چاروں طرف پھیلی ہوئی اس خاموشی کا سحر ٹوٹے اور کسی خوبصورت آواز کا چھناکا اس کے جینے کی گھڑیوں کو آسان بنا دے اس طرح کا مثبت طرزِطلب اس کے اکثر شعروں میں جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔

راحت و آسودگی کی تلاش اور سہل انداز سے جینے کی امنگ ماجد کو ہر حال میں کچھ نہ کچھ کرتے رہنے پر مجبور کئے رکھتی ہے وہ چاروں طرف سے منفی قوتوں کے نرغے میں ہونے کے باوجود زندہ رہنے کی راہ نکالنے کی فکر میں رہتا ہے۔

وہ دل کی اندھیر نگری کو روشن کرنے کے لئے کسی نہ کسی اہتمام میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ وہ نئی نئی امنگوں اور آشاؤں کا شاعر ہے جن کا دامن وہ اپنے ہاتھ سے نکلنے نہیں دیتا اور اس کا یہ احساس اس کی پوری پوری غزلوں میں دمکتا دکھائی دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے۔

میں غالب گیت الاپدا جیہی نپی اکو چپ

اج گُنگا وانگ پہاڑ دے میری گُھٹ کے رہ گئی جان

اُٹھ ماجد فکراں کاڑھیا اجے جیون تیرے ہتھ

توں ایس دھرتی دا بالکا تیری چن دے دیس اڑان

’’اُٹھ ماجد فکراں کاڑھیا!‘ ‘ اس مصرعے میں کس قدر توانائی سمائی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے شاعر چند لفظوں میں صدیوں پر پھیلے ہوئے انسانی ارتقا کے حوالے سے ایک نئے حوصلے کی کرن نکالتا دکھائی دیتا ہے۔ ماجد کا ایک اور شعر ہے۔

ماجد چپ دا اوڑھنا کرئیے لیر و لیر

ہسئیے اتھرو روک کے اکھیاں لئیے دھو

اس چھوٹے سے شعر کے تیور بھی دیکھنے اور محسوس کرنے کے قابل ہیں اس کا ایک اور شعر دیکھئے۔

ہمتاں دے راہ دس گئے لوکی ترنا ساڈا وس

صدیاں توں پئی دگدی ماجد درداں بھری جھناں

اس شعر میں خلا کی تسخیر جیسی انسانی کوششیں ابنائے آدم کی ہمت اور حوصلہ اور عزم و ارادہ بھلاکیا کچھ نہیں ہے۔

Psalm of life میں Long fellow کہتا ہے۔

Lives of great men all remind us

We can make our lives sublime

And departing leave behind us

Foot prints on the sands of time۔

ماجدکی زبان ہماری روزمرّہ زبان کے انتہائی قریب ہے۔ وُہ بیشتر شاعروں کی طرح ڈھونڈ ڈھونڈ کر پنجابی کے پُرانے لفظ اپنے شعروں میں نہیں ٹھونستا بلکہ وہی زبان اپنے استعمال میں لاتا ہے جسے ٹکسالی کہا جا سکتا ہے۔ ماجد صدّیقی کے بات کرنے کا اپنا ایک سبھاؤ ہے اس کے لہجے میں شیرینی اور رَس ہے۔ اور زبان میں بے ساختگی۔ یوں لگتا ہے جیسے وہ کسی کو سامنے بٹھا کے ہولے ہولے اُس سے محوِ گفتگو ہو۔ مثلاً دیکھئے۔

ساڈی گل نہ ٹوک

کی آکھن گے لوک

یہ وہ لہجہ ہے جس میں کوئی لاگ لپٹ نہیں ۔شاعر پیار کی شکایت بھی سیدھے سادے انداز میں کرتا ہے۔ وہ بات میں بَل نہیں ڈالتا۔یوں لگتا ہے جیسے

تخلیقِ شعر کے وقت ماجد وہ ماجد نہیں ہوتا جو عام گفتگو کے وقت ہوتا ہے۔ تخلیق کا لمحہ اسے اپنی گرفت میں لیتے ہی ہماری ملاقات اس ماجد سے کرا دیتا ہے جس کے ذہن میں جو خیال جس طرح آتا ہے اسی طرح وہ خیال ہمارے محسوسات تک پہنچ جاتا ہے۔

یہ بات غیر معمولی بھی ہے مگر اسلوب کی یہ صفائی شاعر کی فکری پختگی کا بہت بڑا ثبوت بھی فراہم کرتی ہے۔

نغمگی یا ’’رِدم‘ ‘ ) (Rythemصنفِغزل کی روح قرار پاتے ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ غزل کی عمارت ہی موسیقی پر اُستوار کی جاتی ہے تو شاید غلط نہ ہو۔ ماجد کی غزل میں یہ خوبی بھی بدرجۂ اتم موجود ہے بلکہ اس سے بڑھ کر ایک اور وصف یہ ہے کہ اس کی غزلوں میں بحور و قوافی اور ردیفوں کے ساتھ ساتھ اندرونی قوافی یعنی انٹر رائمنگ ایک اور اضافی حسن کے ساتھ دیکھنے میں آتے ہیں۔ ماجد کا یہ وصف اس کے حسنِبیان کو اور بھی دو چند کر دیتا ہے۔ دو شعر دیکھئے:

کجھ یاداں سن ہانیاں اوہ وی انت پرانیاں

دل دا بوہا کھول کے کونہ کونہ لوڑیا

کجھ تصویراں رنگلیاں کجھ حرفاں دیاں سنگلیاں

غالب مگروں ماجدا اساں وی کیہہ جوڑیا

یہی نہیں بلکہ اس کے یہاں ایسے شعر بھی ملتے ہیں جن میں تین تین اندرو نی قافیے کندھے سے کندھا ملائے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ قافیے نہ صرف موسیقی کو ابھارتے ہیں بلکہ شعر کی معنوی تاثیر کو بھی اور زیادہ گہرا کر دیتے ہیں۔ بات رُک رُک کے آگے بڑھتی ہے مگر ساوَن کی پھوار کی طرح قاری کے فکر و وِجدان میں اُترتی چلی جاتی ہے۔

اکھیاں وچ برسات جیہی سر تے کالی رات جیہی

دل وچ اوہدی جھات جیہی نقشہ بھری دپہر دا

اکو سوہجھ خیال ہی چلدا نالوں نال سی

فکراں وچ ابال سی قدم نئیں سی ٹھہر دا

سینے دے وچ چھیک سی ڈاہڈا مٹھڑا سیک سی

دل نوں اوہدی ٹیک سی رنگ ائی ہور سی شہر دا

آج بہت ساری نئی چیزیں ہماری روزمرّہ زندگی کا جزو بنتی جا رہی ہیں۔ماجِد ایسا شاعر ہے جو زندگی میں در آنے والی کسی بھی تبدیلی سے غیرآگاہ نہیں ہے۔ جس میں نئے نئے الفاظ، نئی نئی علامتیں اور نئے نئے استعارے ہر صنفِ سخن کی Dictionتیار کر رہے ہیں۔ اور یہی ڈکشن نئی شاعری کی ایک PSYCH بن رہی ہے۔

ماجد کی غزل اس نئی ڈکشن سے بھی بے بہرہ نہیں۔ ماجد نے ایسے الفاظ بھی جو ہماری غزل کے لئے اجنبی سمجھے جاتے تھے بڑے سبھاؤ کے ساتھ استعمال کئے ہیں اور نئے دور کے لفظوں، علامتوں اور استعاروں کو بھی اپنے شعروں کا باطن اجاگر کرنے کے لئے اپنے کام میں لانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ یہاں بھی ماجد کا کمال یہ ہے کہ وہ کسی بھی اجنبی یا نئے احساس کو اپنی شاعری کا حصہ بناتے ہوئے اسے ایسی بے ساختگی سے ہمکنار کر دیتا ہے جو بے ساختگی آسانی سے ہر کسی کے ا ختیار میں نہیں آنے پاتی شعر ملاحظہ ہو:

سڑکاں اتوں بھرے بھراتے مکھڑے اُڈ اُڈ لنگھدے نیں

دل وچ پہیے لہہ جاندے نیں پیلیاں چٹیاں کاراں دے

یہ اور اس طرح کے دوسرے بے شمار شعروں میں ماجد نے لفظوں سے رنگوں کا کام لے کر نہ صرف تصویریں پینٹ کی ہیں بلکہ Projective method سے Cinematography کا وہ کمال پیش کیا ہے کہ قاری کی ذہنی بساط جتنی بڑی ہو گی شعر کی تصویر بھی اتنی ہی بڑی بنتی جائے گی۔

توں سیں میرے کول یا انج ائی کوئی تصویر سی

خورے کیہا فریم سی خواہاں وچ اکھوڑیا

ماجد کے یہاں ایسے اشعار کثرت سے ملتے ہیں جو ہماری جیتی جاگتی زندگی کی زندہ تصویریں ہیں۔ اس کے شعروں میں فریم ڈاکیا، اخبار، کاریں، لاریاں، پنسل کاپیاں اور سڑکیں وغیرہ جیسے لفظ عہدِ حاضر کے بیشتر اردو اور پنجابی شاعروں کی طرح قاری کو چونکانے یا الجھانے کے لئے استعمال نہیں ہوتے۔اس لئے کہ وہ ناکارہ جدیدیت کا قائل نہیں۔ وہ لفظ کے استعمال کا سلیقہ جانتا ہے اور چاہے لفظ کتنا ہی اجنبی کیوں نہ ہو۔ اس کے شعر میں پروئے جانے کے بعد وہ لفظ قاری کا پرانا میت بن جاتا ہے۔

ہر ہفتے دی شام نوں دسے منہ اتوار دا

جئیوں بن چٹھیوں ڈاکیہ ہسے پیار جتائے کے

سُکے ورقے سٹ جاندا اے ڈاکیہ نت اخباراں دے

کدے نہ آئے جیوندے جاگدے نامے دل دیاں یاراں دے

نئے نئے لفظوں اور نئی نئی علامتوں سے آج کا شاعر اظہار و بیان کی خوبصورتی کے لئے نئی نئی ترکیبیں بھی استعمال میں لاتا ہے اور لفظوں کے نئے نئے پیکر بھی تراشتا ہے۔ ماجد صدّیقی اِس میدان میں بھی غافل دکھائی نہیں دیتا۔ اُس کے بیشتر اشعار پیکر نما ہوتے ہیں وہ images بنانے پر پوری طرح قادر ہے۔

آئیے ماجد صدّیقی کی اس آرٹ گیلری کی تھوڑی سی سیر آپ بھی کر لیں۔

شام پوے تے رات ہنیری دسے شوہ دریا

دل بوٹے تے چڑیاں وانگوں سدھراں شور مچان

اکھر سِکدے رہ گئے تینوں دل ہویا بے تھاں

پنسل کاپی لے کے لکھیا کدے نہ تیرا ناں

لفظ ہو یا ترکیب‘ قافیہ ہو یا ردیف۔ ہر اکائی ماجد کے یہاں پہنچ کر اُس کی شعری فضا سے پوری طرح ہم آہنگ ہو جاتی ہے۔ پنجابی غزل ابھی اس مقام پر نہیں پہنچی جو مقام اسے حاصل کرنا ہے مگر توقع کی جا سکتی ہے کہ اگر اسے ماجد جیسے صاحبِکمال شعرا میسر رہے تو پنجابی غزل بھی نئے عہد کا ایک مکمل آئینہ بن جائے گی۔ اور یہ سارا کچھ یقینا ہو گا اس لئے کہ اسے ماجد جیسے شاعر میسر ہیں جی ہاں جس کے اپنے اعتماد کا عالم یہ ہے۔

کنے لوک نگاہ وچ رہئے سن رنگ بکھیر دے

کوئی کوئی ماں دا لال سی ماجد تیرے جواب دا

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)