زمرہ جات کے محفوظات: ترجمہ

ویلینٹائن ۔ کیرل این ڈفی

ایک سرخ گلاب یا ساٹن کا بنا ہوا دل نہیں ۔

میں تمہیں ایک پیاز دیتی ہوں ۔

یہ خاکی کاغذ میں لپٹا ہوا چاند ہے۔

یہ روشنی دے گا

جیسے محبت کو احتیاط سے بے لباس کیا جائے۔

یہ لو۔

یہ تمہیں آنسوئوں سے اندھا کر دے گا

ایک عاشق جیسا۔

یہ تمہارے عکس کو

غم کی لرزتی ہوئی تصویر بنا دے گا۔

میں راست گو ہونے کی کوشش کر رہی ہوں ۔

ایک خوبصورت کارڈ یا کِسوگرام

باصر کاظمی

سگریٹ (نظم سے اقتباس) ۔ جون ایش

سگریٹ ایک جذبے کی طرح ہے کہ یہ اندر تک اتارا جاتا ہے

اور جسم کی تمام خالی جگہوں کو معمور کرتا محسوس ہوتا ہے،

تاآنکہ،بے شک، یہ جل کے ختم ہو جائے، اور بجھا دیا جائے

پستے کے چھلکوں میں ، یا جو بھی کچرا

قریب ہو، اور ہو سکتاہے جذبہ آثار چھوڑ جائے

جو وقت کے ساتھ بڑھ کے شدیدہو جائیں : وہ جس نے لطف اٹھایاہے

ممکن ہے کئی برس بعد مر جائے، ایک گمنام

ہوٹل یا ہسپتال کے کمرے میں ، ایک سٹینڈ،

بُری تصویر یا خالی مرتبان کی خالی نظروں کے نیچے،

اُس لمحے کو یکسر بھولتے ہوئے، جس نے اعلان کیا تھا

اُس کی موت کے آغاز کا۔

باصر کاظمی

ایک دفعہ کا ذکر ہے ۔ گبریل اوکارا

ایک دفعہ کا ذکر ہے، اے پسر،

وہ دل سے ہنستے تھے

اور اپنی آنکھوں سے ہنستے تھے:

لیکن اب وہ صرف اپنے دانتوں سے ہنستے ہیں ،

جبکہ ان کی برف سی سرد آنکھیں

میرے سائے کے پیچھے کچھ ڈھونڈتی ہیں ۔

بے شک ایک وقت تھا

جب وہ دل سے ہاتھ ملاتے تھے:

مگر وہ وقت جا چکا، اے پسر،

اب وہ بے دلی سے ہاتھ ملاتے ہیں

جس اثنامیں ان کے بائیں ہاتھ تلاشی لیتے ہیں

میری خالی جیبوں کی ۔

’اپنا گھر سمجھو‘! ’پھر آنا‘:

وہ کہتے ہیں ، اور جب میں آتا ہوں

دوبارہ اور محسوس کرتا ہوں

اپنے گھر جیسا، ایک بار، دوبار،

تیسری بار نہیں آئے گی ۔۔

کیونکہ اس کے بعد میں دروازوں کو خود پر بند پاتا ہوں ۔

چنانچہ میں نے بہت کچھ سیکھا ہے ، اے پسر،

میں نے بہت سے چہرے پہننا سیکھ لیے ہیں

ملبوسات کی طرح۔۔ گھر کا چہرہ،

دفتر کا چہرہ، گلی کا چہرہ، میزبانی کا چہرہ،

پارٹی کا چہرہ، اپنی تمام مناسبت رکھتی ہوئی مسکراہٹوں کے ساتھ

ایک آویزاں تصویر کی مسکراہٹ کی طرح۔

اور میں نے بھی سیکھ لیا ہے

صرف اپنے دانتوں سے ہنسنا

اور بے دلی سے ہاتھ ملانا۔

میں نے ’الوداع‘ کہنا بھی سیکھ لیا ہے،

جب میرا مطلب ہوتا ہے ’جان چھوٹی‘:

یہ کہنا کہ’ آپ سے مل کے خوشی ہوئی‘،

خوش ہوئے بغیر؛ اور کہنا کہ

’آپ سے بات کرنا اچھا لگا‘، بیزار ہونے کے بعد۔

لیکن میرا یقین کر، فرزند۔

میں ہونا چاہتا ہوں جو میں کبھی تھا

جب میں تجھ ایسا تھا۔ میں چاہتا ہوں

ان تمام بے صدا کرنے والی باتوں کو بھلا دینا۔

سب سے بڑھ کے، میں دوبارہ سیکھنا چاہتا ہوں

کیسے ہنستے ہیں ، کیونکہ آئینے میں میرا قہقہہ

صرف میرے دانت دکھاتا ہے جیسے ایک سانپ کے عیاں زہری دانت!

پس مجھے دکھا، اے پسر،

کیسے ہنستے ہیں ؛ مجھے دکھا کیسے

میں ہنسا کرتا تھا اور مسکراتا تھا

کبھی جب میں تیرے جیسا تھا۔

باصر کاظمی

مہاجر کا اداس نغمہ۔ ڈبلیو ایچ اوڈن

فرض کرو اِس شہر میں ایک کروڑ لوگ ہیں ،

کچھ حویلیوں میں رہتے ہیں ، کچھ جھونپڑیوں میں :

تاہم، ہمارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، پیارے، ہمارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

کبھی ہمارا ایک ملک تھا اور ہمارا خیال تھا کہ وہ اچھا ہے،

نقشے میں دیکھواور وہ تمہیں وہاں مل جائے گا:

اب ہم وہاں نہیں جا سکتے، پیارے، اب ہم وہاں نہیں جا سکتے۔

گاؤں کے قبرستان میں ایک پرانا سدا بہار درخت لگا ہوا ہے،

ہر بہار میں اس پر نئے پھول آتے ہیں :

پرانے پاسپورٹ ایسا نہیں کر سکتے، پیارے، پرانے پاسپورٹ ایسا نہیں کر سکتے۔

قونصل نے میز پر ہاتھ مارا اور کہا،

’’اگر تمہارے پاس کوئی پاسپورٹ نہیں ہے تم سرکاری طور پر مردہ ہو‘‘:

لیکن ہم ابھی تک زندہ ہیں ، پیارے، لیکن ہم ابھی تک زندہ ہیں ۔

میں کمیٹی کے پاس گیا؛ انہوں نے مجھے کرسی پیش کی؛

مجھے نرمی سے کہا کہ اگلے سال واپس چلے جاؤ:

لیکن ہم آج کہاں جائیں گے، پیارے، لیکن ہم آج کہاں جائیں گے؟

میں ایک عام جلسے میں گیا؛ مقرر کھڑا ہوا اور بولا:

’’اگر ہم انہیں آنے دیں ، وہ ہماری روزی روٹی چرا لیں گے‘‘:

وہ تمہاری اور میری بات کر رہا تھا، پیارے، وہ تمہاری اور میری بات کر رہا تھا۔

مجھے لگا کہ میں نے آسمان میں رعد کو گرجتے سنا؛

وہ ہٹلر تھا یورپ پر، کہہ رہا تھا، ’’انہیں مرنا ہے‘‘:

اُس کے ذہن میں ہم تھے، پیارے، اُس کے ذہن میں ہم تھے۔

ایک پوڈل کتے کو جیکٹ میں دیکھاجو پِن سے بند کی گئی تھی،

ایک دروازہ کھُلتے دیکھااور ایک بلی کو اندرآنے دیتے ہوئے:

لیکن وہ جرمن یہودی نہیں تھے، پیارے، لیکن وہ جرمن یہودی نہیں تھے۔

میں ایک بندرگاہ پہ گیا اور پشتے پہ کھڑا ہوا،

مچھلیوں کو تیرتے دیکھا گویا کہ وہ آزاد تھیں :

صرف دس فٹ دور، پیارے، صرف دس فٹ دور۔

ایک جنگل سے گزرا، درختوں پہ پرندوں کو دیکھا؛

اُن میں کوئی سیاستدان نہیں تھا اور وہ چین سے گا رہے تھے:

وہ انسانی نسل نہیں تھے، پیارے، وہ انسانی نسل نہیں تھے۔

میں نے خواب میں ایک ہزار منزلہ عمارت دیکھی،

ایک ہزار کھڑکیاں اور ایک ہزار دروازے:

ان میں ہمارا ایک بھی نہیں تھا، پیارے، ان میں ہمارا ایک بھی نہیں تھا۔

میں برف باری میں ایک بڑے میدان میں کھڑا تھا؛

دس ہزار سپاہی اِدھر اُدھر مارچ کر رہے تھے:

تمہیں اور مجھے ڈھونڈتے ہوئے، پیارے، تمہیں اور مجھے ڈھونڈتے ہوئے۔

باصر کاظمی

I Shall Return – Claude McKay

میں دوبارہ واپس آؤں گا۔ میں واپس آؤں گا

ہنسنے اور محبت دینے اور حیران آنکھوں سے دیکھنے

سنہری دوپہر میں جنگل کی بھٹیوں کوجلتے،

اپنا نیلا-سیاہ دھواں نیلمی آسمان کو بھیجتے۔

میں واپس آؤں گا ندیوں کے کنارے مٹرگشت کرنے

جو خمیدہ گھاس کی بھوری پتیوں کو بھگوتی ہیں ،

اور ایک بار پھر اپنے ہزاروں خوابوں کو پورا کرنے

جو میں نے پہاڑی دروں سے بہہ کر آنے والے پانیوں کے دیکھے تھے۔

میں واپس آؤں گا وائلن اور بانسری کو سننے

جن پر گاؤں میں رقص ہوتا ہے، محبوب شیریں دھنوں کو سننے

جو دیسی زندگی میں نہاں گہرائیوں کو متحرک کرتی ہیں ،

اور دھندلائی ہوئی دھنوں کے بھٹکے ہوئے نغمے سننے۔

میں واپس آؤں گا۔ میں دوبارہ واپس آؤں گا

اپنے ذہن کے سالہاسال کے دردکو مٹانے ۔

باصر کاظمی

ٹونی او ۔ گمنام

ویران اور بنجر برف میں

ایک آواز پکاری؛

’تم کہاں جا رہے ہو، ٹونی او!

تم آج صبح کہاں جا رہے ہو؟‘

’میں جا رہا ہوں جہاں شراب کے دریا ہیں ،

پہاڑی روٹی اور شہدہیں ؛

وہاں سب ملوک اور ملکائیں جانوروں کی نگرانی کرتے ہیں ،

اور ساری دولت غریبوں کے پاس ہے۔‘

باصر کاظمی

بات چیت ۔ ڈی ایچ لارنس

میری خواہش ہے، جب آپ لوگوں کے نزدیک بیٹھیں ،

وہ یہ ضروری نہ سمجھیں کہ بات کریں

اور لفظوں کی ہلکی اور سرد ہوا بھیجیں

جو آپ کی گردن پہ اور کانوں میں اُترے

اور آپ کے اندر خنکی پہنچائے۔

باصر کاظمی

متعدد حویلیاں ۔ ڈی ایچ لارنس

جب درخت پر اپنا توازن برقرار رکھنے کے لیے ایک پرندہ اپنی دُم ہلاتا ہے

وہ کہیں زیادہ خوشی محسوس کرتا ہے، ڈھیروں دولت پانے کے مقابلے میں

یا اپنے لیے ایسا گھونسلا بنانے کی نسبت جس میں غسل خانہ ہو۔۔

لوگ کیوں اِس طرح خوش نہیں ہو سکتے؟

باصر کاظمی

فرصت ۔ ڈبلیو ایچ ڈیوس

یہ کیا زندگی ہے اگر، فکر میں گھرے،

ہمارے پاس وقت نہ ہو کہ رکیں اور دیکھیں ؟

وقت نہ ہو کہ درختوں کے نیچے کھڑے ہوں

اور دیکھیں دیر تک بھیڑوں اور گایوں کی طرح۔

وقت نہ ہو کہ دیکھیں ، جب ہم جنگل سے گزریں ،

جہاں گلہریاں گھاس میں اخروٹ چھپاتی ہیں ۔

وقت نہ ہو کہ دیکھیں ، دن کی کھلی روشنی میں ،

ستاروں سے بھری ندیاں ، جیسے رات کو آسمان۔

وقت نہ ہو کہ پلٹیں حُسن کی نگاہ کی طرف،

اور اُس کے پاوئں دیکھیں ، وہ کیسے ناچ سکتے ہیں ۔

وقت نہ ہو کہ انتظار کریں جب تک اُس کے ہونٹ

اُس مسکراہٹ کو نہال کرسکیں جو اُس کی آنکھوں نے شروع کی تھی۔

یہ ایک کنگال زندگی ہے اگر، فکر میں گھرے

ہمارے پاس وقت نہ ہو کہ رکیں اور دیکھیں ۔

باصر کاظمی

’باغبان‘ سے چار نظمیں ۔ رابندر ناتھ ٹیگور

— 1 —

قاری، تم کون ہوجو اب سے سو سال بعد میری نظمیں پڑھ رہے ہو؟

میں تمہیں بہار کی اِس دولت سے ایک بھی پھول، اُس بادل سے ایک بھی سنہری کرن نہیں بھیج سکتا۔

اپنے دروازے کھولو اور باہر دیکھو۔

اپنے پروان چڑھتے ہوئے باغ سے سو سال قبل مٹ گئے پھولوں کی معطر یادیں جمع کرو۔

اپنے دل کی خوشی میں شاید تم اُس زندہ خوشی کو محسوس کر سکوجو ایک بہار کی صبح نغمہ سرا ہوئی، اپنی پُر مسرت آواز کو سو برس دور بھیجتے ہوئے۔

— 2 —

میرے دل کو، جو طائر بیابان ہے، تمہاری آنکھوں میں اپنا آسمان مل گیا ہے۔

یہ صبح کا پنگوڑا ہیں ، ستاروں کی سلطنت ہیں ۔

میرے گیت ان کی گہرائیوں میں کھو گئے ہیں ۔

مجھے اِس آسمان میں تیرنے دو، اِ س کی غیر آباد وسعت میں ۔

مجھے اِس کے بادلوں میں راستہ بنانے دو، اور اِس کی دھوپ میں پر پھیلانے دو۔

— 3 —

اِیسی نگاہ سے تم کیوں مجھے شرمندہ کرتے ہو؟

میں ایک بھکاری بن کے نہیں آیا۔

میں تمہارے صحن کی بیرونی حد پر، باغ کی باڑھ سے باہر، کچھ دیر کے لیے ٹھہرا تھا۔

اِیسی نگاہ سے تم کیوں مجھے شرمندہ کرتے ہو؟

میں نے تمہارے باغ سے ایک بھی گلاب نہیں لیا، ایک پھل نہیں توڑا۔

میں نے راستے میں سائبان تلے عاجزی سے پناہ لی، جہاں ہراجنبی مسافر ٹھہر سکتا ہے۔

میں نے ایک بھی گلاب نہیں توڑا۔

ہاں ، میرے پاؤں تھکے ہوئے تھے، اور بارش کی بوچھاڑ گر رہی تھی۔

ہوائیں بانس کی جھونکے کھاتی شاخوں میں چیخ اٹھیں ۔

بادل آسمان پہ دوڑ رہے تھے جیسے ہار کے بھاگ رہے ہوں ۔

میرے پاؤں تھکے ہوئے تھے۔

مجھے معلوم نہیں تم نے میرے بارے میں کیا خیال کیا تھا یا تمہیں دروازے پر کس کا انتطار تھا۔

بجلی کے کوندے تمہاری آنکھوں کو چوندھیا رہے تھے۔

مجھے کیسے پتہ چلتا کہ میں جہاں اندھیرے میں کھڑا تھا تمہیں نظر آسکتا تھا؟

مجھے معلوم نہیں تم نے میرے بارے میں کیا خیال کیا تھا۔

دن ختم ہو گیا ہے اور بارش ایک لمحے کے لئے رک چکی ہے۔

میں تمہارے باغکی بیرونی حد پر، درخت کا سایا چھوڑ رہا ہوں اور گھاس کی یہ نشست ۔

اندھیرا ہو چکا ہے؛ اپنا دروازہ بند کر لو؛ میں اپنی راہ لیتا ہوں ۔

دن ختم ہو چکاہے۔

— 4 —

چراغ کیوں بجھ گیا؟

میں نے اسے ہوا سے بچانے کے لیے اپنی چادر سے ڈھک دیا تھا، اِس لیے چراغ بجھ گیا۔

پھول کیوں مرجھا گیا؟

میں نے اسے بیقرار محبت سے اپنے سینے کے ساتھ بھینچ لیا تھا، اِس لیے پھول مرجھا گیا۔

ندی کیوں سوکھ گئی؟

میں نے اپنے استعمال کے لیے اس پر ایک ڈیم بنا دیا تھا، اِس لیے ندی سوکھ گئی۔

بربط کا تار کیوں ٹوٹ گیا؟

میں نے اس سے ایسا سُر نکالنے کی کوشش کی جو اس کے اختیار سے باہر تھا، اِس لیے بربط کا تار ٹوٹ گیا۔

باصر کاظمی

خوش آدمی ۔ جون ڈرائڈن

خوش ہے وہ آدمی، اورصرف وہی خوش ہے،

جو ’آج‘ کو اپنا کہہ سکتا ہے؛

وہ جو، ’ اندر سے محفوظ‘ ، کہہ سکتا ہے،

اے ’کَل‘، برے سے برا کرگزر، کیونکہ میں ’آج‘ جی چکا ہوں ۔

باصر کاظمی

شب بخیر ۔ فرانسس کوارلز

اب تم اپنی آنکھیں بند کر لو، اور چین سے آرام کرو؛

تمہاری روح خاصی محفوظ ہے؛ تمہارا جسم قائم؛

وہ جو تم سے محبت کرتا ہے، جس نے تمہیں رکھا ہے

اور تمہاری پاسبانی کرتا ہے، کبھی نہیں سوتا، کبھی نہیں سوتا۔۔۔۔

باصر کاظمی

قالین باف ۔ محمد اطہر طاہر

Carpet-Weaver

M۔ Athar Tahir

اُن عمارتوں کے درمیان جو بھکاری عورتوں کی طرح

روشنی کے لیے ایک دوسرے کی حریف تھیں

میرا خیال ہے کہ میں راہ بھول کر

جب ایک کُنجِ عزلت میں پہنچا تو اُس سے دوچار ہوا۔

وہ گٹھری بنا ہوا تھا، عمارت کے اندر، اندھیرے کی روشنی میں

اُس کی انگلیاں ، اُون کے کام کے باعث بے حِس،

پرانی کام چلاؤ مشین پر مشقّت کرتی ہیں

چوہے کی سی مختصر تیز رفتار سے

جبکہ یہ اپنی روزی کماتا ہے

فی مربع انچ گِرہوں کے حساب سے

محض مؤذن کی اذان کے فاصلے پر

عظیم بزرگ کے مزار پر

پیشہ ور مانگنے والے

اپنے دھات کے کشکول کھانا لینے کے لیے بڑھاتے ہیں

بے شمار خدا کے پیارے

چاولوں کی دیگیں اور پھولوں کے ہار لے کر

اس سبز گنبد والے ولی کا شکریہ ادا کرنے آتے ہیں ۔

سفارشیں یہاں بھی چلتی ہیں ۔

باصر کاظمی

ناصر کاظمی کے گھر کے لیے ایک دعائے خیر ۔ سائمن فلیچر

A Prayer for the well-being of Nasir Kazmi’s House

Simon Fletcher

’’پیڑ لگانے والا شخص

بیشتر اوقات اس کا پھل کھانے کے لیے زندہ نہیں رہتا‘‘

سفید کبوتر اسی طرح جمع رہیں

چھت پر ناصر کاظمی کے گھر

پتنگ، زعفرانی، چمک دار نیلے،

اُڑتے رہیں اوپر ناصر کاظمی کے گھر

ارغوانی گلاب، پودے، درخت

پھلیں پھولیں ناصر کاظمی کے گھر

سورج چمکے،بارشیں اپنے موسم میں

برستی رہیں ناصر کاظمی کے گھر

۱ہلِ خانہ، حلیم، عالِم

لمبی عمر پائیں ناصر کاظمی کے گھر

باصر کاظمی

ہمدردی کا ایک ننھا سا پُل ۔ سائمن فلیچر

‘A Little Bridge of Sympathy’

Simon Fletcher

(For Basir Sultan Kazmi)

ہم باہمی معاملات پر بات کرتے ہیں ،

جبکہ گفتگو چوکڑیاں بھرتی ہے

مثلِ غزال کمرے میں اور

فرازہ کھانا پکاتی ہے اور وجیہہ

’ریڈرز آف دی لوسٹ آرک( خزانوں کے متلاشی)‘ دیکھتی ہے،

ہماری بات چیت سے اُدھر، دوسرے کمرے میں ۔

تمہارے مرحوم والد، عظیم گفتگو کرنے والے،

لاہور کی گلیوں میں گھومتے ہیں

تمہارے ذہن میں ، اپنے صاف گو دوستوں کے ہمراہ

رات کے پچھلے پہر؛

تمہارے دادا، کلف لگے ہوئے فوجی لباس میں

سُرخی مائل بھوری تصویر میں نظر آتے ہیں ۔

میں تمہیں بتاتا ہوں کھیتوں میں کام کرنا

اپنے والد کے ساتھ، فصل کاٹنا،

پھل توڑنا، ہل چلانے کی مشقّت، جبکہ

میرے دادا چائے پیتے ہیں

ایک خاص سیاست دان کے ساتھ؛ یہ سب کچھ

حافظے کے محدّب عدسے میں سے گزر کر آتا ہے۔

اپنے ’گمشدہ خزانوں ‘ کے متلاشی، ہم

کئی برسوں اور زبانوں کو عبور کر کے پہنچتے ہیں

ہمدردی کے پل بنانے۔

ماضی ایک دوسرا مُلک ہے،

بے شک، اور جو کچھ ہم نے وہاں کیا؛

لیکن اصل بات وہ ہے جو ہم دونوں اب کرتے ہیں ۔

باصر کاظمی

بے ملاوٹ پیغام ۔ سائمن فلیچر

Unmixed Message

Simon Fletcher

(For Basir and Debjani)

سو ہم کیا کہنے کی کوشش کر رہے ہیں ؟

زمین گھومتی ہے اور کچھ لوگ فائدہ اُٹھاتے ہیں ،

دوسروں کی ترجیح ہے پھُوٹ ڈالنا اور حکمرانی کرنا،

ایک مؤثر منصوبہ جو ہم نے سکول میں سیکھا۔

اِس کا نتیجہ، ہمیں پتا ہے، بے حالی

قحط، خشک سالی اور جنگ اور موت۔

سو ہم مسترد کرتے ہیں اِن جنگجو احمقوں کو

اِن کے دوستوں اورساتھیوں ،پٹھوؤں ،آلۂ کاروں کو،

اور حمایت کرتے ہیں پکنکوں ، پارٹیوں ، کھیلوں کی،

جہاں ہر کوئی حصّہ لے سکتا ہے

اورمحسوس نہیں کرتا خود کو گُونگا اور نظرانداز کیا گیا،

پیغام واضح ہے، پیچیدہ نہیں ۔

باصر کاظمی

ثقافتی مسالا ۔ سائمن فلیچر

سو یہ کیسے ہوا، ہم کیسے مِلے؟

سرائے میں نہیں ، نہ ہی گلی میں ،

مگر ہمارے اندر کی کسی چیز نے ہمیں اکٹھا کیا

تاکہ ہم اپنی محبتوں کے نغمے گائیں ہر موسم میں ۔

مذہب، زبان،مشغلے اور تذکیر تانیث

شاعری نے آمیخت کیے،جیسے کسی بلینڈر میں ۔

لاہورکی نایاب بوٹیاں ؛ خوش ذائقہ، تُرش؛

دہلی کے لذیذ مسالے،جن سے کوئی زبان نہ جلے۔

اور پکوان کو چٹ پٹا بنانے کے لیے،کھانے کا دَور مکمل کرنے کے لیے،

ایک پرانا انگریزی چٹخارہ، وُرسٹرشائرکی چٹنی!

باصر کاظمی

سوسن کا سپنا ۔ THE REVERIE OF POOR SUSAN by William Wordsworth

سوسن کا سپنا

THE REVERIE OF POOR SUSAN

گلی کی نکڑ سے جھانکتا

صبح نو کا چہرہ

اسی جگہ پر چہک رہا ہے

قفس میں گاتا ہوا پرندہ

بلند آہنگ میٹھی تانوں میں

تین برسوں سے مست طائر

غریب سوسن کے راستے میں

حسین نغمے بچھا رہا ہے

مہکتی اور نیم باز صبحوں

کی خامشی میں

پیام خنداں سنا رہا ہے

پر آج سوسن کو کیا ہوا ہے

کھلی نگاہوں میں کسمساتا دبیز منظر

نویلے سپنے جگا رہا ہے

اُدھر کہیں گوشۂ وطن میں

بلند ہوتی ہوئی پہاڑی

یہ پیڑ ، یہ بے لباس کہرے کی سرسراہٹ

یہ وادیوں کے گداز سینوں

میں بہتے دریا

یہ سبز ٹکڑے

اور ان کے قدموں میں

ایک تنہا سی زرد کُٹیا

کہ آشیاں ننھی فاختہ کا

فقط یہی دلنواز کُٹیا

اسے جہاں سے عزیز تر ہے

وہ گُم ہے اپنے وطن کے جنت نظیر

سپنے میں کھو چکی ہے

مگر کہیں عکس ڈھل رہے ہیں

یہ دھند ، دریا پگھل رہے ہیں

پہاڑی کیا سر اُٹھا سکے گی

ندی کو بہنے میں عار ہو گا

کہ اس کی بے بس کھلی نگاہوں

سے رنگ سارے پھسل رہے ہیں …

At the corner of Wood Street, when daylight appears,

Hangs a Thrush that sings loud, it has sung for three years:

Poor Susan has passed by the spot, and has heard

In the silence of morning the song of the Bird۔

Tis a note of enchantment; what ails her? She sees

A mountain ascending, a vision of trees;

Bright volumes of vapour through Lothbury glide,

And a river flows on through the vale of Cheapside۔

Green pastures she views in the midst of the dale,

Down which she so often has tripped with her pail;

And a single small cottage, a nest like a dove’s,

The one only dwelling on earth that she loves۔

She looks, and her heart is in heaven: but they fade,

The mist and the river, the hill and the shade:

The stream will not flow, and the hill will not rise,

And the colours have all passed away from her eyes!

گلناز کوثر

پُل پر سے … Composed upon Westminister Bridge by William Wordsworth

Earth has not anything to show more fair:

Dull would he be of soul who could pass by

A sight so touching in its majesty:

This City now doth، like a garment، wear

The beauty of the morning؛ silent، bare،

Ships، towers، domes، theatres، and temples lie

Open unto the fields، and to the sky؛

All bright and glittering in the smokeless air۔

Never did the sun more beautifully steep

In his first splendour، valley، rock، or hill؛

Ne’er saw I، never felt، a calm so deep!

The river glideth at his own sweet will:

Dear God! The very houses seem asleep؛

And all that mighty heart is lying still!

پُل پر سے …

اس سے سندر پَل دھرتی کے

جیون میں کب آیا ہو گا

بھور سمے کی اُجلی چادر

اوڑھ کے شہر تو چُپ بیٹھا ہے

کوئی اِس پل میں اُترے بِن

دھرتی سے اب کیسے گزرے

گم صُم اونچے مندر،

گول سے گنبد

اور چمکیلے منبر

سجی ہوئی تماشا گاہیں

ساگر کے سینے پر

ٹھہرے ہوئے سفینے

کرنوں کے جھرنے کے نیچے

آنکھیں موندے

گیان دھیان میں کھوئے ہوئے ہیں

ہولے ہولے ہوا کی کوری باہیں

جن کو سہلاتی ہیں

اور جھرنے کی شیتل بوندیں

کب یوں پربت ، ٹیلوں اور وادی کے تن پر

سَر سَر کرتی اتری ہوں گی

دل میرا کب اس سے پہلے

ایسے شانت سمے کو چھو کر

گزرا ہو گا

دریا من مانی موجوں کے

دھیمے سُروں میں

کھویا ہوا ہے

شہر کا گیانی من

اِک مدھم سناٹے میں

سویا ہوا ہے …

گلناز کوثر

تتلی سے ۔ TO A BUTTERFLY by William Wordsworth

Stay near me – do not take thy flight

A little longer stay in sight!

Much converse do I find in thee،

Historian of my infancy!

Float near me: do not yet depart!

Dead times revive in thee:

Thou bring’st، gay creature as thou art!

A solemn image to my heart

My father’s family!

Oh! pleasant، pleasant were th days،

The time when in our childish plays،

My sister Emmeline and I

Together chased the butterfly!

a very hunter did I rush

Upon the prey؛ — with leaps and springs

I followed on from brake to bush؛

But she، God lover her! feared to brush

the dust from off its wing

تتلی سے

ذرا رُکو میری خالی آنکھوں

کے آئینوں میں

تمہی سے روشن ہوئے ہیں

گزرے حسیں دنوں کے چراغ

ٹھہرو، ابھی نہ جاؤ

تمہی وہ خوش رُو ہو

جس سے ماضی کی

مُردہ شاخیں ہری ہوئی ہیں

ہمارے گاتے ، لُبھاتے بچپن

کا شوخ منظر

انہی ہواؤں میں ڈولتا ہے

یہ تم سے بڑھ کر

کسے پتہ ہے

کہ کیسے رنگوں کے لہریوں پر

ہم اپنی حیراں نظر جمائے

تمہارے پیچھے نکل پڑے تھے

میں ایک معصوم دل شکاری

جو اپنی ننھی بہن کی خاطر

یوں جھاڑیوں سے الجھتا کیسے

ہزار جتنوں سے پہنچا تم تک

خداکی اُلفت میں

ننھی کیسی گداز دل تھی

یہ ریشمی رنگ جھڑ نہ جائیں

تمہیں وہ چھونے سے ڈر رہی تھی

گلناز کوثر