زمرہ جات کے محفوظات: مجید امجد

جانے اصلی صورت۔۔۔

جانے اصلی صورت کیا ہو، ذہن کی اس اک روکی

جس کے ساتھ بہا کی میری سوچ اور میری عمر اور میری دنیا

بہتے بہتے یوں تو جب بھی دیکھا، میرا دل اک وہ قوت تھی

جس کے آگے پہاڑ بھی تنکا تھے، یہ سب کچھ تو تھا

لیکن سدا یہی میں سمجھا

اک یہ دراڑ جو میرے پیہِ دماغ میں ہے، کون اس کو پھلانگ سکے گا

اک یہ دراڑ کہ جس کے ادھر ٹھٹک کر رہ جاتے ہیں سارے خیال اور سارے ارادے

جس کے ادھر میری ذلت ہے

جس کے ادھر میں اک بےبس قوت ہوں

اک یہ دراڑ کہ جس کے ورے وہ مقدس آگ ہے جس کی لو میں کلیوں کی برکھا ہے

اک یہ دراڑ جو میرے پیہِ دماغ میں ہے، کب اس کو پاٹ سکوں گا

اپنی حدوں کی حد سے آگے کب یہ قدم اٹھے گا

آگے، جہاں وہ سرشاری ہے جس کی کشید بھی اس میرے ہی ذہن میں ہوتی ہے

مجید امجد

جاگا ہوں تو۔۔۔

جاگا ہوں تو جاگتی آنکھیں کہنے لگی ہیں: ’’یہ سب سپنے اپنے ہیں‘‘

جیسے میں ہی تو ہوں اپنے ہر سپنے میں

میں ہی تو ہوں اپنی جاگرتی میں

نیندوں کے اندر بھی، نیندوں کے باہر بھی، جو جو سمے گزرتے ہیں وہ میرے

ذہن میں سب ڈھلتے ہیں

دنیا کا ہر اک دن میرے ذہن میں ڈھل کر اک اور دن ہے

جیسا آج کا دن تھا

رات کو نیندوں میں کچھ اچھے اچھے لوگ ملے تھے، انھی چھتوں کے نیچے

جن کی دیواریں اب کب کی گر بھی چکی ہیں

دن کو میرے جاگنے میں کچھ اور ہی میلی میلی روحیں میرے ساتھ رہی ہیں

روحیں جن کی اونچی چھتوں کے نیچے میرے وجود کی دیواریں ہیں

کیسے کیسے نگر ہیں جو تیرے روز و شب کے پھیرے میں پڑتے ہیں

کیسی کیسی اقلیمیں ہیں میرے دل کے کوٹھے کے اندر، جو ڈھے بھی چکا ہے

آج تو جب سے جاگا ہوں، اپنی بابت اتنا کچھ سمجھ سکا ہوں

کالی گلیوں کی دھوپ اپنے چہرے پر مل کر یہ دنیا والوں سے ملنے والا

مر بھی چکا اب، اپنی نیندوں میں جینے کی خاطر

مجید امجد

کب کے مٹی۔۔۔

کب کے مٹی کی نیندوں میں سو بھی چکے وہ

میری نیندوں میں اب جاگنے والے

ابھی ابھی تو میری دنیا سوئی ہوئی تھی

ان کی جاگتی آنکھوں کے پہرے میں

ابھی ابھی وہ یہیں کہیں تھے، میرے خوابوں کی عمروں میں

ابھی ابھی اُن کے مٹیالے ابد کی ایک ذرا سی ڈالی گھلی تھی

ان میری آنکھوں میں

اور دکھائی دیے تھے، میری خودبیں بینائی میں

وہ سب ٹھنڈے ٹھنڈے سکھ جو

ان کے دلوں کا انس اور پیار تھے، میرے حق میں

ابھی ابھی تو اس میری بےفہمی کی فہمید میں تھا یہ سب کچھ

اور اب میرے جاگنے میں سب کھو گئے وہ میری نیندوں میں جاگنے والے

مجید امجد

دکھ کی جھپٹ میں ۔۔۔

دُکھ کی جھپٹ میں آئے ہوئے دل

اب کہتے ہو

اس دن دکھ کی جھپٹ میں آئے کچھ لوگوں کی فریادوں کو

قرب اس موجودگی کا حاصل تھا

جس کے ہونے کو اس دن تم نے ہی دیکھا اور نہ ان لوگوں نے

اے دل، اب ان لوگوں کی منزل میں آ کر تم سمجھے ہو

ورنہ تم کہتے تھے، ان کی کون سنے گا

اور خود ان کو بھی یہ خبرنہیں تھی، اس دن کس کے قرب میں تھے وہ

اب کہتے ہو ۔۔۔ اب، جب

تم یہ دیکھتے ہو کہ تمہاری ان فریادوں سے باہر ہے وہ موجودگی

اب تو ان کی تلاش کرو جو اک دن اس کے قرب میں تھے اور

جن کو اس کے قرب کا علم تھا

مجید امجد

حرص

اوروں کی کیا کہیے، خود میرا دل بھی انگاروں کا مطبخ ہے

سدا مری آنکھوں میں اک وہ کشش دہکتی ہے جو

سب کو اپنی جانب کھینچ کے میرے وار کی زد میں لے آتی ہے

سب کچھ میری طلب کی تشنگیوں کے دہانے پر ہے

انگاروں کے اس مطبخ میں گرنے کو ہے

گاڑھا، لجز لہو، اک وہ کیلوس جو انگاروں کا استحالہ ہے

اس میرے دل کی کالی قوت ہے، میں جس کے بس میں ہوں

یہ قوت مجھ سے کہتی ہے

دیکھ، مرے انگارے میری تڑپ کا انگ ہیں، اب کچھ تو ان کی خاطر بھی

اور انگارے اگلتی سانسوں کے ساتھ اب میں

اس دنیا کے اندر اپنے شکار کی تلاش میں

اک اک روح کی گھات میں

اک اک روح کے سامنے سوالی بن کے کھڑا ہوں

میرے دل میں انگاروں کے دندانے پیہم جڑتے اور کھلتے ہیں

باہر کسی کرم کی بناوٹ میں ہونٹ ایک انوکھا ٹھہرا ٹھہرا ٹیڑھا زاویہ سا ہیں

کون مجھے اب پہچانے گا

کس طرح ہنس ہنس کر مجھ سے

ملتی ہے دنیا، بدبخت!

مجید امجد

اچھے آدمی۔۔۔

اتنی اچھی صفتیں بھی تو نے اپنا لیں، اچھے آدمی

اور ان صفتوں کی سب تقدیسیں بھی سچی

اور ایمان کی اک وہ زرہ بھی اچھی

جس کو پہن کر تیرا دل اتنا مضبوط اور اتنا طاقتور ہے

اس دنیا اور اس دنیا کی سیاہ ہوائیں سب اس سے ٹکرا کے پلٹ

جاتی ہیں

اس ٹکراؤ میں تیرا سینہ خم نہیں کھاتا

اور اس فتح پر شرمائی ہوئی اک عظمت تیری آنکھوں میں بھر جاتی ہے

اور سانسوں کی کھچی لگاموں کے اندر اک رکا رکا موّاج سمندر

تیرے دل میں امڈ آتا ہے

اس سے زیادہ اور تجھے کیا چاہیے، بندے

چاہے تو ہر اس سچائی کو اپنی نظروں سے گرا دے

جو تیرے پندارمیں کم رفعت ہے

اس سے زیادہ تو اَب حجم نہیں بڑھ سکتا، اس شفاف چٹان کا، جو

اس تیرے سینے میں ہے

اپنی جگہ تو ایک الوہی سی یہ شکم سیری اچھی ہے۔۔۔ لیکن، اچھے آدمی

آخر کوئی خلا تو روح کی خالی بھی رکھ، ہم جیسوں کی افتادوں کے حق میں

مجید امجد

گداگر

چلتے چلتے رک کر، جھک کر، ادھر ادھر بے بس بے بس نظروں سے

دیکھنے والے

کبڑی پیٹھ اور پتھرائی ہوئی آنکھوں والے

بوڑھے بھک منگے، اس اپنی حیرانی کے فریضے میں تو واقعی تو کتنا

حیران نظر آتا ہے

جانے کس کے ارادے کی رمزیں اس تیری بے بسی کی قوت ہیں

پتھریلی روحوں کے صنم کدے میں جانے کون یہ کاسہ بدست کھڑا ہے

تجھ کو دیکھ کے میرا جی اس سے ڈرتا ہے

تیرے ڈرے ہوئے پیکر میں جس کی بےخوفی جیتی ہے

کسی دھیرج سے دھڑکتا ہو گا اس کا قلب کہ تو جس کا قالب ہے

اتنے سکون میں اس کے جتنے قصد ہیں، میں ان سے

ڈرتا ہوں

تیرے وجود کو یہ بےکل پن دے کر کس بےدردی سے وہ

دِلوں میں سچی ہمدردی کے درد جگاتا ہے ۔۔۔ اور

ہم کو ترساں دیکھ کے شاید خوش ہوتا ہے!

ابھی ابھی تو، یہیں کہیں تو میری غفلت میں تھا

اب کہتا ہوں، مجھ کو میری آگاہی میں کب یہ بھیک ملے گی

مجید امجد

دروازے کے پھول

صبح کی دھوپ ان پھولوں کا دفتر تھی، جس میں

روز ان کی اک مسکراہٹ کی حاضری لگتی

شام کے سائے ان کی نیندوں کا آنگن تھے

صبح کو ہم اپنے اپنے کاموں پر جاتے تو اس سبز سڑک کے موڑ پہ

تازہ دم پھولوں کے رنگ برنگے تختے ہم سے کہتے:

’’کرنوں کا یہ دھن سب کا ہے، سب کا، اس میں

جیو، جیو، سب مل کر! سنگت سے ہے رنگت‘‘

پھر جب دن کی روشنیاں تھکتیں

تو اس موڑ پہ نیندیں اوڑھ کے سہمے ہوئے وہ پھول یہ ہم سے کہتے:

’’سب کا بیری ہے یہ اندھیرا

جلد اپنے اپنے اینٹوں سے چنے ہوئے سپنوں میں پہنچو

اچھا، کل کو ملیں گے، کل کو کھیلیں گے!‘‘

لیکن اب وہ تختے اجڑ گئے اور اب اس کوٹھی کے دروازے پر چکنی بجری ہے

اور تھرکتے چمکیلے پہیے ہیں

صاحب، تم نے تو اتنا بھی نہ دیکھا

یہ سب پھول تو خوشیاں تھیں، محنت کش خوشیاں

اور یہ لاکھوں کا حصہ تھیں

تم نے تو اتنا بھی نہ سوچا

اے رے ہم لوگوں کی راحتِ حق کی خاطر لڑنے والے وکیلِ جلیل!

مجید امجد

نئے لوگو!

کچھ ایسی ہی آگیں میرے آگے بھی تھیں

میرے گرد بھی آپس میں جکڑی ہوئی جلتی لپٹوں کے کچھ ایسے ہی جنگلے تھے

جن سے باہر دور ادھر وہ پھول نظر آتے تھے جن پر میرے چہرے کی زردی تھی

میں بھی کہتا تھا ۔۔۔ اور میں اب بھی کہتا ہوں۔۔۔

اک دن شعلوں کی یہ باڑ بجھے گی

اک دن اس پھلواڑی تک ہم بھی پہنچیں گے جس کی بہاریں ہماری روحوں

کے اندر ڈھلتی ہیں

اور میں تو اب بھی آپس میں الجھی ہوئی لپٹوں کے اس جنگلے میں ہوں

جس میں تم ہو

فرق اتنا ہے، تم نے ابھی یہ آگیں ہی دیکھی ہیں

تم نے ابھی جلتی جالیوں سے باہر نہیں جھانکا

ابھی تو ان شعلوں کی نوکیں تمہارے سینے میں پیوست ہوئی ہیں

اور تمہارے ذہن میں تازہ لہو نے غصہ بھری اک چٹکی لی ہے

لیکن میں کہتا ہوں، اک یہ ترنگ ہی توسب کچھ ہے

جو باقی رہتی ہے۔۔۔ اور جو تمہارے پاس ہے!

ورنہ تو میں اور تم اور سب آدمی باری باری انھی چتاؤں میں جل جل جائیں گے

جن کی لپٹیں ہمارے گرد اک جنگلا ہیں ۔۔۔

مجید امجد

اپنے بس میں۔۔۔

اپنے بس میں تو بس اتنا کچھ تھا۔۔۔ اور وہ بھی، سب تیری خاطر

اس دل نے اپنائی، عمر بسر کرنے کی اک یہ نہج بھی، تیری خاطر

اپنی انا کی بھینٹ

تری خاطر تھی

نطق پہ مہریں تھیں سب تیری خاطر

تیرہ ضمیروں سے گزرا ہوں، گلیوں کی دیوار سے لگ کر، تیری خاطر

نخوت کے بازار میں میرے جسم پہ ٹھنڈی ہوا کی ردا بھی، تیری خاطر

شام کو جب ان دو شہروں کو ملانے والی لمبی، سیدھی، دہری سڑک پر

اتنے دیوں کی دوگانہ صفیں اک ساتھ جلی ہیں

اُن کی نیلی نیلی پیلی پیلی لووں کو اپنے جی میں اتار کے

آنکھیں میچ کے تجھ کو یاد کیا ہے، تیری خاطر

اے وہ، میرا سر جس کے نادیدہ پنجے میں ہے

جس کی انگلیاں میری کنپٹیوں میں گڑی ہوئی ہیں، جانے میری ہی کس

کیفیت میں، مجھے پٹخ دینے کو

اب میں کیسے پلٹ کر تیری جانب دیکھوں، اَب میں کیسے تجھے بتاؤں

اب بھی گرم ہے راکھ… مرے قدموں کے نیچے۔۔۔ میرے

دل کے بجھے ہوئے سورج کی!

مجید امجد

موٹر ڈیلرز

ان کی کنپٹیوں کے نیچے

کالی لمبی قلمیں

ان کے رخساروں کے بھرے بھرے بھرپور غدودوں تک تھیں

تھوڑے تھوڑے وقفوں سے وہ زرد گلاسوں کو ہونٹوں سے الگ کرتے۔۔۔

اور پھر دھیمی دھیمی باتیں کرتے

اپنی نئی نئی داشتاؤں کی

جن کے نام اور جن کے نرخ اس دن ہی اخباروں میں چھپے تھے

مجید امجد

عذاب

اپنے ثواب میں نیکی اپنے عذاب سے غافل رہ جائے تو

چھن جاتی ہیں جینے کی سب خوشیاں

ٹوٹ کے رہ جاتا ہے بھروسا اپنا اس نیکی پر

گھل جاتی ہے اپنے آپ سے نفرت میں اپنی ہر اچھائی

اپنے قلب کو اب کوئی چاہے جس قالب میں بھی ڈھالے

اب سب پچھتاوے ٹیسیں ہیں

اب دنیا کی آخری حد تک پھیلے ہوئے ان بادلوں کے نیچے یوں

پلکیں جھکا کر اپنے غموں کی پرستش بے مصروف ہے

باہر اب صرف آنکھیں دیکھتی ہیں۔۔۔ اور

باقی سارے بدن تیزابوں کے تالابوں میں تحلیل ہیں

آنکھیں دیکھتی ہیں۔۔۔ اور اس سے زیادہ کیا دیکھیں گی

سارے خداؤں نے منہ پھیر لیے ہیں

مجید امجد

دل کا چھالا

پہلے آنکھ میں کڑوی سی اک لہر

اور پھر اک جرم

اور پھر یہ سب دکھ

سب دکھ، اس اک پاپ کی جنتا

سارے عذاب ضمیروں کو کجلانے والے

گہری کلنک بھری دکھتی ریکھائیں جن کے الجھاووں میں عمریں بٹ جاتی ہیں

اک ہونی کے کتنے جنموں میں اس پاپ کا لمبا پھیرا پڑتا ہے

دُنیا کو دکھ سے بھر دیتا ہے

اچھا تھا جب دل کا چھالا پھوٹا تھا، ہم اپنے قدموں میں رک جاتے

مجید امجد

جلسہ

آج سحردم میں نے بھی رک کر وہ جلسہ دیکھا

پکی سڑک کے ساتھ، ذخیرے میں، ٹوٹی سوکھی شاخوں کے

چھدرے چھدرے سائبانوں کے نیچے

شیشم کے گنجان درختوں کے آپس میں جڑے تنے، سب

اس جلسے میں کھڑے تھے!

ایک گزرتے جھونکے کی جھنکار ذخیرے میں لرزاں تھی

’’آس پاس کی کالی رسموں کے سب کھیت ہرے ہیں

اور یہ پانی تمہاری باری کا تھا

اب کے بادل دریاؤں پر جا کر برسے

ان سے تمہارا بھی توعہدنامہ تھا

اب کیا ہو گا؟۔۔۔

چلتے آروں کےآگے چرتے گرتے جسمو

پاتالوں میں گڑ جاؤ ورنہ‘‘

اس تیکھی حجت میں اتنی سچائی تھی

جثّے ان پیڑوں کے سب اک ساتھ ہلے غصّے میں ۔۔۔

اور میری آنکھوں میں پھر گئے دکھ اک ایسے خیال کے، جس کی ثقافت

جانے کب سے اپنا مسکن ڈھونڈ رہی ہے!

مجید امجد

دامنِ دل

سدا رہے یہ دھلا دھلا اور ستھرا ستھرا

زندہ

اپنے وجود کی اصلیت سے منور

اس پر میل نہ رہنے پائے

اس کو گتھ دے

اس کو سل پہ پٹخ دے

اس کو توڑ مروڑ نچوڑ دے، کس دے

اس کو جھٹک دے

اس کی گیلی شکنیں چن لے

اس کو سچے سُکھ میں سُکھا!

مجید امجد

ہر سال ان صبحوں۔۔۔

ہر سال ان صبحوں کے سفر میں ۔۔۔ اک دن ایسا بھی آتا ہے

جب پل بھر کو ذرا سرک جاتے ہیں میری کھڑکی کے آگے سے گھومتے گھومتے

سات کروڑ کُرے، اور سورج کے پیلے پھولوں والی پھلواڑی سے اک پتی اڑ کر

میرے میز پر آ گرتی ہے!

ان جنباں جہتوں میں ساکن!

تب اتنے میں سات کروڑ کُرے، پھر پاتالوں سے ابھر کر، اور کھڑکی کے سامنے آ کر

دھوپ کی اس چوکور سی ٹکڑی کو گہنا دیتے ہیں

آنے والے برس تک

اس کمرے تک واپس آنے میں مجھ کو اک دن، اس کو ایک برس لگتا ہے

آج بھی اک ایسا ہی دن ہے

ابھی ابھی اک آڑی ترچھی روشن سیڑھی، صدہا زاویوں کی، پل بھر کو جھک آئی تھی

اس کھڑکی تک

ایک لرزتی ہوئی موجودگی اس سیڑھی سے، ابھی ابھی، اس کمرے میں اتری تھی

برس برس ہونے کے پرتو کی یہ ایک پرت اس میز پہ دم بھر یوں ڈھلتی ہے

جانے باہر اس ہونی کے ہست میں کیا کیا کچھ ہے

آج یہ اپنے پاؤں تو پاتالوں میں گڑے ہوئے ہیں

مجید امجد

گدلے پانی۔۔۔

جو بھی بہتے دریا سے اپنا چلّو بھر لے، یہ دریا اس کا ہے

اپنی سب پاکیزگیوں کے ساتھ اس کا ہے

چاہے اس پانی میں جیسے بھی جوہر ہوں

اچھے برے جوہر، جو دریا کی سیال حقیقت میں اک ساتھ پنپ کر

بجھ کر، تپ کر، یوں ظاہرہیں، سب طاہر ہیں

جس کی پیاس کو اس پانی پر حق ہو

اسے بھلا کیوں شک ہو کہ ان قطروں میں مقیّد ہیں، وہ جوہر جو جیّد ہیں

دل میں پانی کی ٹھنڈک یہ کہتی ہے کہ طلب کا جو حاصل بھی ہے طیب ہے

ٹھنڈک پانے والا اسی یقین کے بل پر

اپنے گمان میں خوشیوں کی اس موج سے اپنی روح کے جوہڑ بھر لیتا ہے

جس کی چھلک اس کی آنکھوں کے ڈوروں تک آتی ہے

کتنے چہروں پر ہے اپنے آپ میں کافی ہونے کی اک یہ کیفیت

ان قدروں کی اچھی سی اک دین کہ جن کے مقدس دریا

سب گدلے ہیں!

مجید امجد

اے وہ جس کے لبوں۔۔۔

اے وہ جس کے لبوں کی دعائیں میری زباں تک بھی پہنچی ہیں

اک پستک کے حوالے سے جو

دین تھی ایسے ہاتھوں کی، میں جن کو تھام کے اک دن خواب میں

علم کے سینہ یاب سمندر سے گزرا تھا

آج اس زہریلے پانی کے بھنور میں اپنے پاس یہی

اکھڑے اکھڑے بوسیدہ سے ورق ہیں

اور یہ مٹے مٹے سے لفظ کہ جن پر تیرے ہونٹوں کی مہریں ہیں

تیرے ہونٹوں کے دہرائے ہوئے یہ لفظ مرے ہونٹوں پر جب آتے ہیں

تو اس بھنور میں میرا دل بس سوچتا ہے اک تیری بابت

تیری بابت، تیرے زمانے، تیرے دنوں کی بابت

تو اور بٹے ہوئے رسوں جیسے وہ بازو

ٹکڑے ٹکڑے، اکڑے اکڑے سے وہ تیرے ہات کڑکتی پتواروں پر

— اور وہ تیرے تھکے تھکے سے چہرے پر ان تھک تسکینیں

جیسے دریا سب تیرے ہیں

جیسے لہروں سے لڑنے والے بازو سب تیرے ہیں

مجید امجد

مورتی

کہاں ہے اب وہ جو برسوں پہلے اس ممٹی پر دنیا کے نرغے میں اک مورت تھی

اک مورت، خوابوں کے بچپن جس کی پرستش کرتے تھے

کہاں ہے اب وہ بےکل پلکوں والی پگلی سی اک سچائی

جو اس جھوٹی دنیا کو جھٹلانے آئی تھی

اس مٹی کے نیچے اب بھی اٹل حصاروں سے حجت کرنے والے اس جھونکے کے

پیوند ہماری ان سانسوں میں ہیں

لیکن جانے کہاں ہے اب وہ پگلی سی اک سچائی

یونہی کھنکتے کھنکتے قہقہوں والی ناداں عمریں کالی نیندوں میں کھو جاتی ہیں

کیسی ہیں یہ نیندیں، جن کے سمندر دلوں کے جزیروں کو ریزہ ریزہ کر دیتے ہیں

کیسے ہیں یہ ان نیندوں میں تیرنے والے، پلٹ پلٹ کر آنے والے خواب

۔۔۔ خواب

جن کا بچپن کبھی نہیں ڈھلتا!

مجید امجد

پہلی سے پہلے

دن تو ایک سے ہوتے ہیں سب

لہو رگوں میں جب بہتا ہو

لیکن جانے اَب کے میرے ذہن میں یہ چنگاری سی کیسی چٹکی ہے

اب کے مہینے کے آخر میں یہ جو دن آئے ہیں

کچھ یوں لگے ہیں جیسے

انھی دنوں میں میرے وجود کے ذرّے کے لیے سب سورج چمکے ہوں

سب سورج

سب گردشیں

سب تاریخیں

سارے زوال، جو تہذیبوں کے سایوں میں، انسانوں کو روٹی کے ٹکڑے کے لیے

ترساتے آئے ہیں

سارے خیال جو آنے والوں اچھے دنوں کا دھن ہیں

اور جو موت کی وادی سے ہو کر ذہنوں میں آتے ہیں

مجید امجد

آج تو جاتے جاتے۔۔۔

آج تو جاتے جاتے اس نے مجھے اک ہامی بھرنے والے پیار سے دیکھا

بڑے اقرار سے دیکھا

اس اک آن میں میرے سان گمان میں بھی یہ با ت نہ تھی: یہ سب کچھ تھا

امکان میں

لیکن اس نے تو میری سانسوں کا ادھوراپن پہچان کے، سب کچھ جان کے بھی

یوں مجھے دیے للچاوے اپنی اک مسکان کے جس میں

ہارے ہوئے خود اس کے من کا سنبھالا بھی تھا

اور مجھ جیسے ترسے ہوئے پہ ترس کھانے کی کسک بھی

جاتے جاتے اس کے دل میں جانے کیا بات آئی ہو گی

۔۔۔ اور اک میں تھا

۔۔۔ اور اس دن اک میں تھا جس کے لیے ان کبھی نہ ملنے والی

سب اچھی اچھی خوشیوں میں کبھی نہ ملنے والے سب اچھے اچھے دکھ تھے

مجید امجد

کون ایسا ہو گا۔۔۔

کون ایسا ہو گا جو سب کے دلوں کی ٹھنڈک کا رسیا ہو

ایسے شخص کے من میں آئی ہوئی اک بات تو وہ جھونکا ہے

جو اک ساتھ زمانے بھر میں پھول کھلا دیتا ہے

اور یہ بات کہیں باہر سے تو نہیں آتی

یہ تو دل پر ایک گرہ ہے، جس کا کساؤ کبھی بھی کم نہیں ہوتا

جو بھی اسے محسوس کرے، یہ چوٹ سدا اس کے دل پر ہے

جب بھی کوئی اسے اپنی سانسوں میں ڈھونڈے

اس کی آنکھوں میں بھر جائیں وہ سیال شبیہیں

جن کے دکھ اور جن کے جتن ان بستیوں کے گہنے ہیں

جن کی خوشیوں کے لیے جینا ان بھیدوں میں جینا ہے جو

ازلوں سے ان ذرّوں کی جنبش ہیں

کون ایسا ہو گا جو اپنے دل کی کسک تک پہنچے

اور پھر ایک قدم خود پیچھے ہٹ کر

اپنی پہنچ کو اوروں کے لیے برتے، سب کے دلوں کی ٹھنڈک کے لیے برتے

کون ایسا ہے اس دنیا میں؟

کتنے خطرے دلوں کو دلوں سے ہیں۔۔۔ سوچوں تو میرا دل دُکھتا ہے!

گنگ زبانوں، بولتی آنکھوں والے چہرے قدم قدم پر مجھ سے جب یہ پوچھتے ہیں:

’’کون ایسا ہے؟ ہم کس سے پوچھیں؟‘‘

تو میرا دل دُکھتا ہے ۔۔۔ اور میرے سینے میں بھیدوں کا سب دھن

خاکستر ہو جاتا ہے

مجید امجد

شایرتیرے کرم۔۔۔

شاید تیرے کرم کا اور ہی کچھ منشا ہو

یا اب جو میری حالت ہے، شاید اس میں

امر اک تیری قدرت کا ہو میرے حق میں

لیکن جس تکلیف میں میں ہوں، اس کے ہوتے ہوئے میرا دل تو باور نہیں کرتا

میرا دل تو بس اتنا کچھ مانے، بس اتنا کچھ جانے

تو چاہے تو ہر پانسے کو پلٹ سکتا ہے

عینِ کرم میں

عینِ غضب میں

میں تو اپنے خطروں، اپنی آرزوؤں میں بٹا ہوا اک وہ ذرہ ہوں

جس کے ذرا سے دل کو

ذرا سا ارماں ہے، ان امنوں کا جو تیرے چمنوں میں ہیں

مجید امجد

بندے تو یہ کب مانے گا۔۔۔

بندے تو یہ کب مانے گا، پھر بھی تیرے چہرے کی بھسماہٹ میں جو کچھ

میں نے دیکھا ہے، تجھ سے کہہ دوں

یہ تیراچہرہ! بس بھربھرا سا اور اس پر گزرے دنوں کے چکٹ سے

جیسے راکھ، اور اس کے مسام، اور کالا زرد لہو، اور سب کچھ

میلا میلا سا دکھ

تو جس کو پہلے سے جانتا ہے، وہ رمز اک تجھ سے کہہ دوں

میرا اندازہ ہے، عمر کی اس منزل پہ اگر تو اپنی ان بےچارگیوں پر

جبرکرے تو

یوں تیری آنکھوں میں لپک لپک کے نہ آئے

وہ شعلہ جو تیری روح میں بجھنے کو ہے

تو سمجھے گا، یہ سب شاید تیرے دل کی گلی سڑی سازش ہے

میں یہ تو جانوں، اس سازش کا سب ساز و سامان باہر سے آتا ہے

بندے، یہ تو دنیا ہے جو لوگوں سے کہتی ہے: ’’میری طرف آنکھیں

چمکا چمکا کر دیکھو‘‘

مرنے والا جاتے جاتے اس دھوکے میں آ جاتا ہے

اس دھوکے میں آنے والے کو اک یہ راحت ہے، اپنے آپ کو دھوکا

دے سکتا ہے

اپنی جانب آنے والی موت سے آنکھیں پھیر کے پل بھر اپنی بھول میں جی سکتا ہے

اور وہ ۔۔۔ تیری طرح ۔۔۔ آنکھیں چمکا چمکا کرسدا چمکنے والے چہروں کو

یوں حسرت سے تکتا ہے

بندے، اپنی آنکھوں میں اک یہ گدرائی ہوئی للچاہٹ لے کر مت پھر

اس دنیا میں

تیرے دل کے گڑھے میں تیری لحد کچھ اور بھی گہری ہو جائے گی

مجید امجد

فصلِ گل

تم نے میٹھے مٹروں کی ڈالی سے ڈرتے ڈرتے

تتلی جیسی ایک کلی کو توڑ کے سونگھا ۔۔۔ سوچا

اور پھر آنکھیں میچ کے اپنے آپ میں، خود ہی خود، کُملا گئے تم

اپنے پاگل پن میں اپنے آپ سے روٹھی ہوئی یہ خوشیاں تو سب مندے

کی باتیں ہیں

آخر ہم بھی تو ہیں

کتنا مال ہے اس دنیا کا جس کا بوجھ ہماری پلکوں پر ہے

اور یہ پلکیں ہیں جو پھر بھی تنی ہوئی ہیں

تم اک بار ہماری آنکھوں سے بھی تو دیکھو

اس پرگنے کی اک اک کیاری میں ہر پنکھڑی سونے کی ٹکلی ہے

اب کے ہم نے پہلے تو یہ پگھلی ہوئی سب اشرفیاں اپنی آڑھت میں سمیٹیں

اور پھر ان کی اصلی اوسوں کے ساتھ ان کے ٹرک بھر بھر کے بھیجے

میلے میں، جو اب کے پھولوں کی رت میں آیا ہے

سچ پوچھو تو بڑا لگا اب کے اپنا سیزن پھولوں کا

جانے تم کیوں سب چیزوں کو اپنی روح کے تہہ خانوں میں بھر لیتے ہو

ذرا اس اپنے دل کی کلی کو توڑ کے اپنی نوٹوں والی جیب میں رکھ لو

اور پھر مزے مزے سے پھرو اس پھلواڑی میں

ورنہ ان زرخیز بہاروں میں کُملا جاؤ گے

مجید امجد

دنوں کے اس آشوب۔۔۔

دنوں کے اس آشوب کے ساتھ اک تیرے ذکر کا امن بھی جس کو مل جائے

اس کی خاطر ساری مٹھاسیں تیرے نام میں ہیں

تو ہی جس کی خاطر چاہے اپنے نام میں اپنی کشش رکھ دے

تیرے امر، تری منشائیں جس کے بھی حصے میں آ جائیں

نہیں تو باقی کیا ہے، مٹی میں مل جانے والی عمریں، مجھ جیسی

میں، جس کے دل کی موت میں اک یہ ڈھارس جیتی ہے

شاید یوں ہو، سب کچھ تیرے کرم کی رمزیں ہوں

میرا ایسے ایسے گمانوں میں گم رہنا بھی شاید تیرے کرم کی رمزیں ہوں

اِیسے اِیسے گمان

شاید تو

خود ہی اپنے آپ کو میرے دل سے بھلوا دیتا ہے

اور پھر خود ہی میری بھول پہ مجھ سے خفا ہو جاتا ہے

یوں دھتکارا ہوا میں جا گرتا ہوں، لوہے کی گردن والی ان کاٹھ کی روحوں میں

جن کے آسیبوں سے بچنے کی کوشش پھر مجھ کو تیرے امروں میں لے آتی ہے

اور میری سانسوں میں پھر سے وہ تسبیحیں گرداں ہو جاتی ہیں، جن میں تیرے نام کے دانے ہیں

اے وہ جس کے نام کے میٹھے ورد میں ازلوں سے وارد ہیں

سارے زمانے، سارے ابد

مجید امجد

اپنے دل میں ڈر۔۔۔

اپنے دل میں ڈر ہو تو یہ بادل کس کو لبھا سکتے ہیں

اپنے دل میں ڈر ہو تو سب رُتیں ڈراؤنی لگتی ہیں اوراپنی طرف ہی گردن

جھک جاتی ہے

یہ تو اپنا حوصلہ تھا

اتنے اندیشوں میں بھی

نظریں اپنی جانب نہیں اٹّھیں اور اس گھنگھور گھنے کہرے میں جا ڈوبی ہیں

اور اَب میری ساری دنیا اس کہرے میں نہائی ہوئی ہریاول کا حصہ ہے

میری خوشیاں بھی اور ڈر بھی

اور اسی رستے پر میں نے۔۔۔ لوہے کے حلقوں میں ۔۔۔

اک قیدی کو دیکھا

آہن چہرہ سپاہی کی جرسی کا رنگ اس قیدی کے رخ پر تھا

ہر اندیشہ تو اک کنڈی ہے جو دل کو اپنی جانب کھینچ کے رکھتی ہے اور وہ

آدمی بھی

کھچا ہوا تھا اپنے دل کے خوف کی جانب، جس کی کوئی رُت نہیں ہوتی

میں بھی اپنے اندیشوں کا قیدی ہوں، لیکن اس قیدی کے اندیشے تو

اک میرے سوا، سب کے ہیں

اک وہی اپنے اپنے دکھ کی کنڈی

جس کے کھچاؤ سے اک اک گردن اپنی جانب جھکی ہوئی ہے

ایسے میں اَب کون گھٹاؤں بھری اس صبحِ بہاراں کو دیکھے گا

جو ان بور لدے اندیشوں پر یوں جھکی ہوئی ہے آموں کے باغوں میں

مری روح کے سامنے

مجید امجد

اپنے لیکھ یہی تھے۔۔۔

اپنے لیکھ یہی تھے، منوا

ورنہ میرا سچ تو سب کا علم ہے اور سب پر ظاہر ہے

میرا سچ تو ہے اس پنجر میں جینے والی اک بےبس آگاہی، جس کو سب

نے پرکھا ہے

میری سچائی کو سمجھنے والے، میرے سچ کے حق میں سچ ہوتے

تو یوں ان کے دلوں میں اک اک قبر نہ ہوتی میرے آنے والے دنوں کی

جیسا کچھ بھی ان کا گمان ان آنے والے دنوں کے بارے میں ہے

پھر میرا دل کیوں نہ دکھے جب میں یہ دیکھوں

میری سچائی کو سمجھنے والے

میری بابت اپنے علم کو جھٹلانے کی کوشش میں، ہر گری ہوئی رفعت کو اپناتے ہیں

پہلے میرے ہونے کو اپنے دل میں دفنا دیتے ہیں

اور پھرمیرے سامنے آ کرمیرے سچ پہ ترس کھاتے ہیں

اور یوں مجھ کو جتاتے ہیں کہ انہیں سب علم ہے، میرا سچ دم توڑ چکا ہے

میری سچائی کو سمجھنے والے بھی جب یوں کہتے ہوں

کون اس وار کو سہہ سکتا ہے

میرے دِل میں میرے سچ کے قدم اکھڑنے لگے ہیں

اب کوئی تو اک اور جھوٹی سچی ڈھارس، منوا

آخر جینا تو ہے

اور جینے کے جتنوں میں زخمی چیونٹی کی بےبس آگاہی بھی عقلِ کل ہے!

مجید امجد

کوہستانی جانوروں۔۔۔

کوہستانی جانوروں برفانوں کی سمور

اس سرما میں تو۔۔۔

اس کم سن فسطائیت کے گورے جسم پہ اب بھی ویسی ہی ہے

جیسی تھی منقوش عباؤں والے گزرے دنوں میں

تب بھی اس مٹی کے دل میں اپنے ہونے کا ڈر ویسا ہی تھا، جیسا اب ہے

ظلم کی اس بازی میں میرا خوف، اس لمبے عرصے کی شطرنجی پر

جانے کن تقدیروں کا پانسہ ہے

جانے اس اک ڈر کی بھی کتنی کڑیاں ہیں، جو سب کی سب میرے لیے ہیں

اور جن کی نسبت سے میری سچی باتیں بھی بےمصرف ہو جاتی ہیں

ورنہ میں تو سچے دل سے چاہوں، کاش اس کھٹ کھٹ چلتی، فربہ فربہ

گوشت کی گتھلی کے ساتھ اک ایسی کم وزنی بھی پروان چڑھے جو

اس مٹی کے ذرّوں کی طینت میں بٹی ہوئی ہے

لیکن زرد سمور میں لپٹا ہوا یہ مٹاپا

اس نے تو اب کس بھی لیے اپنے دل پر قبضے چاندی کے

اس نے تو اَب چھت بھی لیں سب اپنی سوچیں

اب تو اس کے ایک قدم کی پہنچ ہیں مجھ جیسوں کی صدہا عمریں

شاید میری مٹی اسی طرح سے اور ہزار برس ان کالی سرد ہواؤں میں تھرتھر

کانپے گی

روندے جانے کا ڈر اس کو روندے گا۔۔۔

مجید امجد

کل کچھ لڑکے…

کل کچھ لڑکے آپس میں باتیں کرتے جاتے تھے

ہم تو سب کچھ جانیں

سب کچھ، جس کو دنیا جانے، لیکن منہ سے نہ مانے

ری ری ری، ہم سب کچھ جانیں، کیا ہیں خوشیوں کے یہ سارے دکھاوے

یہ سب گھاتیں

میلی میلی گلیوں میں یہ لگتی اکھڑتی قناتیں

چہل پہل کے اک دو دن اور اک دو راتیں

گھی اور گڑ کے قوام سے بوجھل باتیں

سارے لوگ، اک جیسی ذاتیں

باہر، باہر، بڑے گھمنڈ اور بڑی تمکینیں

باہر باہر، خوشیوں کے سات آسمان اور سات زمینیں

اندر اندر، اتی اتی سی جاگیروں کی تسکینیں

اور وہ سب کچھ بھی ۔۔۔ ری ری ری! اچھا، اچھا، ہم نہیں کہتے!

اپنے چہرے ڈھانپ کے چلنے والی یہ سب قدریں اور ان کی تقدیسیں

یوں ہی ہم پر دانت نہ پیسیں

اچھا، اچھا، لو ہم منہ سے کچھ نہیں کہتے

گو ہم سب کچھ جانیں، سب کچھ جانیں

مجید امجد

سبھوں نے مل مل لیں۔۔۔

سبھوں نے مل مل لیں اپنے چہروں پر

مٹیاں اپنی عمروں کی ۔۔۔ اور یوں جو جو شکلیں نتھری ہیں

ان سے ہی اَب ان کی پہچانیں ہیں

عمروں کی اس مٹی میں کرموں کے خمیر کی ابھرن ہیں یہ شکلیں

اپنی اپنی گزرانوں میں مسخ شدہ یہ چہرے فساد ہیں ان احوالوں کا

جن سے ہم سب گزرے ہیں

اک اک شخص کی شکل اس کی اپنی مشکل ہے

کاش اپنی اپنی مشکل کو سمجھ سکتے یہ لوگ کہ جن کی شکلیں

جن کے کرموں کے پھل

ان کی نظروں سے اوجھل ہیں

جن کی اصل مخفی شکلیں تو خود ان کی روحوں کے آئینوں میں بھی ان کے آگے

نہیں اترتیں

جن کی اصلی شکلیں تو حصہ ہیں اس اک بڑی بھری تصویر کا جس کو

ساری دنیا اس نفرت سے دیکھ رہی ہے!

مجید امجد

کہاں سفینے ۔۔۔

کہاں سفینے اس خود موج سمندر میں ان روحوں جیسے

روحیں جن کے خیال سے میں جیتا ہوں

جب دریا چڑھتا ہے اور جب اس کی کوئی سیہ سی لہر اچانک

میرے دل کے ٹھنڈے پانیوں کو اپنے گھیرے میں لے لیتی ہے

تو میں سب پتواریں چھوڑ کے، بے بس ہو کے، اتر جاتا ہوں

ان ہوتے امروں کی منشاؤں میں

اور اس اک وقفے میں، ڈرتے ڈرتے

جلدی سے بھر لیتا ہوں، اپنی آنکھوں کی کشتیوں میں، ان سب لوگوں کو

جن کے خیال سے میں جیتا ہوں

تب میری پلکوں کے سایوں میں یہ روحیں، سب اک ساتھ، اکٹھی

کشاں کشاں، اس کوشش کے محور میں آ جانے کا جتن کرتی ہیں

جس کی کشش سے سب دریا چڑھتے ہیں

کہاں سفینے اس خود موج سمندر میں ان روحوں جیسے

روحیں جو میرے جی میں جیتی ہیں۔۔۔

مجید امجد

سب کو برابر کا حصہ۔۔۔

سب کو برابر کا حصہ ملتا ہے اس میعاد سے جس کو

دن کہتے ہیں

سب کے سروں پر

سورج کی تقدیرِ سفر، یکساں لمبی پٹڑی ہے

کسی کے آگے دن کا قد نہیں گھٹتا

کسی کی خاطر دن کی حد نہیں بڑھتی

سب دن اور سب کے دن کٹ جاتے ہیں

سب گزرے دن، سب کے گزرے دن سب اک جیسے ہیں

کھوئی ہوئی اس اک پونجی میں سب سانجھی ہیں

تیرے دن، جو تیری آنکھوں کی ٹھنڈک میں گزرے

میرے دن، جو میرے دل سے نہ گزرے

آج وہ کیا ہیں، کسی خلا کے خانے، خالی خالی خانے

دیکھیں تو سہی، کھولیں تو سہی، ان خانوں کو

مجید امجد

مینا

جب تو ان کے گھر کے صحن میں اک مینا تھی، چاندی کے پنجرے میں

تجھ کو وہ دن اچھے لگتے تھے نا

تب تو تجھ کو اس کی خبر بھی نہیں تھی، تیرے آب و دانے میں کیا ہے

تجھ کو خبر بھی نہیں تھی۔۔۔

تب تیرا چوگا تو انگوروں کے رس میں گندھا ہوا نمکیلا بھیجا تھا

ان جلتی آنکھوں والی بے تن کھوپڑیوں کا

جن کے مہین خلیوں میں اک وہ چنگاری چٹکی تھی جو سرِ بقا ہے!

تجھ کو وہ دن اچھے لگتے تھے نا

اور اب بھی تجھ کو وہ دن یاد آتے ہیں نا۔۔۔اب بھی

اب جب تلواروں کی نوکیں تیرے گلے پر رکھ کر تجھ کو پیار بھری نفرت

سے یوں چمکارنے والے

اپنے جسموں کی مٹی میں خوابِ فنا ہیں

میری باتیں سن کر مجھ کو ٹک ٹک دیکھنے والی، چوکورآنکھوں والی مینا

ہاں وہ قاتل اچھے تھے نا

اب تجھ کو وہ دن یاد آتے ہیں نا

اب اس وادی کی بھرپور گھنی سبز لتا میں اڑنا اوریوں راتب چننا کتنا

مشکل ہے!

اب یوں اڑنے میں تیرے پر دُکھتے ہیں نا، مینا!

مجید امجد

اور اب یہ اک سنبھلا سنبھلا۔۔۔

اور اب یہ اک سنبھلا سنبھلا، تھکا تھکا سا شخص

اب بھی جس کے جھریوں والے چہرے پر اک پیلی سوچ کا بچپن ہے

ساری عمر اس کی

اپنی اس اک دھن کو بڑھاوا دینے میں گزری:

’’مگن مگن بیٹھیں…

چاندی کی چھت کے نیچے

اس قرنوں کے بچھونے پر

مگ مگن بیٹھیں!

چنیں خود اپنے خیالوں کے کنکر

یہ کنکر مل کر بن جائیں گے لوحیں

لوحیں جن کو دنیا اک دن پوجے گی۔۔۔

اور اب یہ اک شخص

اک جانب کو اس کے قد کا جھکاؤ

اور اسی جانب کے بوٹ کی ایڑی گھسی ہوئی

اور اسی جانب کا کوٹ کا پلو مڑا ہوا، اک جامد بازو کے نیچے

اور وہ خود ساکت

اس کے گرد ہزاروں تیز ہراساں قدموں کا اک لہراتا جنگل

اور وہ ان قدموں کے سفر میں تنہا

جاتے جاتے کسی نے پوچھا: ’’بھائی کیسے ہو؟‘‘

اس کی آنکھوں میں بچپن لوٹ آیا

ہنس کے وہ کہنے لگا:

’’تم تو مجھے پہچانتے ہو، تم جانتے ہو جو زینہ تمھارے دل سے میرے دل تک ہے

تم میرے دل تک آ سکتے ہو

آؤ گے؟

آؤ، بیٹھ کے اپنے خیالوں کے کنکر رولیں

یہ کنکر مل کر بن جائیں گے لوحیں

لوحیں جن کو دنیا اک دن پوجے گی

اور پھر اک دن امڈ پڑے گا زمانہ ہماری طرف‘‘

اور وہ اک لمبے رستے کی شطرنجی پہ اکیلا کھڑا تھا

اور جو قدم اس نے ابھی آگے کو بڑھانا تھا اس ایک قدم کا کرب

اس کے بھربھرے سے چہرے کے میلے مساموں تک رس آیا تھا اور اس کا ماتھا چاندی کا تھا

مجید امجد

تم کیا جانو۔۔۔

تم کیا جانو، مجھ سے پوچھو، میں اس مٹی کی سوکھی پتلی تہہ پر کھیلا ہوں

اس مٹی کی تہہ کے نیچے گدلا گاڑھی گہرا پانی ہے سیلانی سیلابوں کا

پھر وہ دن بھی تھے کچھ بڑے البیلے اور تب علم بھی مجھ کو نہ تھا ان دنوں کا جب

ہر ذرہ سورج بن جاتا ہے

ہر سو مٹی کی اس سوکھی پتلی تہہ پر لوگ نرالے دنوں کی خوشی میں چوکڑیاں بھرتے پھرتے تھے

میری طرح سب کالے ذرے چمکیلے خوابوں میں گم تھے

اور کچھ میں بھی تھا اک ایسی دنیا میں، جس میں سارے لوگ اک جیسے تھے

تم کیا جانو، کن جتنوں سے اب میں ان وقتوں کے سارے کھتان اور ساری دلدلیں

پھاند کے اس دنیا تک پہنچا ہوں، جس میں اب میرے سوا سب کچھ ہے!

تم کیا جانو، تم تو آج اک مجھ سے نفرت کرنے والی شفقت اپنی آنکھوں میں بھر کر آئے ہو

یہ نفرت تو اک مزمن بےعلمی ہے

اور یہ شفقت بھی تو خودافروز دلوں کی اک متعدی بیماری ہے

میری ساری دعائیں تم پہ تصدق، کیا تم یوں میری بے مائیگیوں کا مول چکا سکتے ہو

دیکھو، تم خود مٹی کی اس سوکھی پتلی سی تہہ پر اور کروڑوں آدمیوں کے ساتھ کھڑے ہو

جس کے نیچے سیلانی سیلابوں کا پانی ہے!

مجید امجد

گستاپو

باتوں باتوں میں وہ لوگو ں کے ذہنوں سے کوڑا کرکٹ چن لیتا ہے

لوگوں کے ذہنوں سے، اوروں کے بارے میں، ایسی ایسی باتیں چن لیتا ہے

جو دنیا والوں کی کھلی باچھوں میں سفر کرتی ہیں

یہ باتیں اس کی دانست کا سرمایہ ہیں

یہ سرمایہ ایک گھمنڈ ہے کڑواہٹ کا

اس کے رخ پر بکھرا ہوا ہے وہ سب لوہا، جو اس کے دل کا لہجہ ہے

اس کے باہم بھنچے ہوئے ہونٹوں کا دباؤ جب اس کی آنکھوں کو چمکا دیتا ہے

عرش کے محلوں میں فرشتے اپنی شمعیں بجھا دیتے ہیں

میری طرف آج اس نے یوں دیکھا ہے

جیسے میں بھی اس کے غرور کا اک لقمہ ہوں، اس کی دانستوں میں

آخر اس کے پاس اک علم ہے میری بابت

آخر کل ہی تو وہ آسمانوں پر جا کر

اپنے ذہن کی چوپتری پر

آنے والے برے دنوں کا ٹیوا اتار کے لے آیا ہے

مجید امجد

ننھی بھولی۔۔۔

ننھی، بھولی، میلے میلے گالوں والی، بے سدھ سی اک بچی

تیری جانب دیکھ رہی ہے، دیکھ اس کی آنکھیں تیری توجہ کی پیاسی ہیں

اس کی نازک، بے حس ٹھوڑی کو اپنی انگلی کی سنہری پور سے مس تو کر، اور

اس سے اتنا تو پوچھ: ’’اچھی بلو! تو کیوں چپ ہے؟‘‘

اور جب وہ منھ پھیر کے اپنی آنکھیں اپنے ہی چہرے پہ جھکا لے

تو ہی بڑھ کر اس کے ماتھے کو اپنے ہونٹوں سے لگا لے، ہاں ایسے ہی

کیوں، اس جھنجھیلوے نے تجھ سے کہا کیا؟

یہ کیا؟ تیری آنکھیں بھیگ گئیں کیوں؟

اس نے تجھ سے کہا کیا؟

ساتوں آسمانوں کے مالک

اتنے پتلے دل والے مالک! ہم بھی روز اس چہرے کی کتھا سنتے ہیں

ہم تو کڑا کر لیتے ہیں اپنا جی، ایسے موقعوں پر!

مجید امجد

اس برتاؤ میں ہے سب برتا دنیا کی

مجید امجد ۔ غزل نمبر 55
اک اچھائی میں سب کایا دنیا کی
اس برتاؤ میں ہے سب برتا دنیا کی
پھول تو سب اک جیسے ہیں سب مٹی کے
رُت کوئی بھی ہو دل کی یا دنیا کی
اس اک باڑ کے اندر سب کچھ اپنا ہے
باہر دنیا، کس کو پروا دنیا کی!
ان چمکیلے زینوں میں یہ خوش خوش لوگ
چہروں پر تسکینیں دنیا دنیا کی
اجلی کینچلیوں میں صاف تھرکتی ہے
ساری کوڑھ کلنکی مایا دنیا کی
پھر جب وقت بجھا تو ان پلکوں کے تلے
بہتے بہتے تھم گئی ندیا دنیا کی
جم گئے خود ہی اس دلدل میں، اور خود ہی
کریں شکایت، اہل دنیا، دنیا کی
دنیا کے ٹھکرائے ہوئے لوگوں کا کام
پہروں بیٹھے باتیں کرنا دنیا کی
دلوں پہ ظالم یکساں سچ کا پہرا ہے
کوئی تو جھوٹی ریت نبھا جا دنیا کی
مجید امجد

ہم تارے، چاند ستارے ہیں

ہم تارے ہیں

ہم تارے، راج دلارے ہیں

ہم تارے، چاند ستارے ہیں

خوش خصلت ہیں، خوش طینت ہیں

ہم اس پرچم کی زینت ہیں

ہم جگ مگ کرتے تارے ہیں

ہم تارے، چاند ستارے ہیں

ان پیلے سبز دیاروں میں

اس دنیا کے اندھیاروں میں

ہم روشنیوں کے سہارے ہیں

ہم تارے، چاند ستارے ہیں

ہم پھول اور باس اور ہریالی

ہم علم اور امن اور خوش حالی

ہم پاک وطن کے دلارے ہیں

ہم تارے، چاند ستارے ہیں

اس جیتے دیس میں جینا ہے

خوشیوں کا امرت پینا ہے

یہ باغ، یہ پھول ہمارے ہیں

ہم تارے، چاند ستارے ہیں

مجید امجد

دیوں کے جلنے سے۔۔۔

دیوں کے جلنے سے پہلے

شام کی دھندلی ٹھنڈک میں

گھنے درختوں کے پیچھے

کل جب تیرے نام کی زرد سیاہی طلوع ہوئی

اور پھر اس کے بعد

رفتہ رفتہ جب ہر جانب سے

تیرے ذکر کی اک رمزیلی تاریکی ابھری

تاریکی جو تیرے نور کا اک رخ ہے

تو اس دم اک جابر دانائی

روحوں کی ظلمات سے یوں گزری

جیسے اچانک رستہ روک کے کوئی کسی سے کہے:

’’ادھر، ہماری جانب بھی تو دیکھ!

ان مردہ قلبوں کے اندر بجھتے ہوئے بلبوں کی نگری میں پھرنے والے

ہم تو اندھیروں میں بھی تیرے ساتھ ہیں

ہم جو اندھیروں کے اس بھیس میں اپنی روشنیوں میں اجاگر ہوتے ہیں

مجید امجد

اپنی خوب سی اک خوبی۔۔۔

اپنی خوب سی ایک خوبی میں اس کے لیے اک مستی تھی

اور اپنی اس خوبی کے لچھن دیکھے اس نے، سب دنیا سے چھپ کر

اب وہ خوبی بھولا ہوا اک خوابِ خوباں ہے

لوگوں کے ذہنوں میں اس خوبی کی بابت اب اک میٹھی میٹھی نفرت ہے

پھر بھی کون اب ایسی باتوں کے بارے میں بات کرے

سب کی زبانیں چپ ہیں، سب کے دل اس علم پہ نادم ہیں

ساری معرفتیں اب بےبس ہیں

وہ مچھلی بس اک بار اس گندے پانی میں نہائی تھی

اور اب زریں طاق پہ اک شیشے کی صراحی میں لہراتی ہے

اب رنگیں صدفوں میں دھنسی ہوئی وہ سرخ مساموں والے گوشت کی گتھلی

بڑے بڑے لوگوں کی باتوں کے مفہوموں میں

تقدیروں کی کھسرپھسر سے بھرے ڈرائنگ روموں میں

تیرتی ہے، اتراتی ہے

مرغولوں کی باچھوں میں مسکاتی ہے

کیسی خوب سی وہ خوبی اس کو راس آئی ہے

تو کس دنیا سے ٹکرانے آیا ہے

تو کس جگ کی کایا بدلنے آیا ہے

کوڑھی اوگن ہار دِلا!

مجید امجد

گھور گھٹاؤں

گھور گھٹاؤں کے نیچے

پیڑوں کی لچکیلی باہیں

کونپلوں کے کنگن پہنے

جھک جھک کر

جھیل کے پانی پر سے چننے آئی ہیں

پیلے پیلے پتے اور بھورے بھورے بادل

جھیل کی جانب جھکی جھکی

رستے ہی میں جم گئیں شاخوں کی باہیں

جھیل سے کون اٹھا کر دے ان کو

پیلے پیلے پتے اور بھورے بھورے بادل

چاروں اور سے امڈی امڈی گہری چھاؤں، سہانی ہریاول

تھم گئی آ کر زنگ آلود سلاخوں والی اس کھڑکی کے پاس

جانے جھریوں والا کالا چمڑا میرے دل کا کب اس ٹھنڈک کو محسوس کرے

مجید امجد

اک جیون ہار ڈر سا ہے ترے دل کے لیے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 50
ان گنت امروں میں اور کیا ہے ترے دل کے لیے
اک جیون ہار ڈر سا ہے ترے دل کے لیے
رک کے اس دھارے میں کچھ سوچ اک یہ اچھا سا خیال
جو ترے حق میں ہے، کیسا ہے ترے دل کے لیے
اپنے جی میں جی، مگر اس یاد سے غافل نہ جی
جو کسی کے دل میں زندہ ہے ترے دل کے لیے
سب ضمیروں کے ثمر ہیں، پستیاں، سچائیاں
جانے تیرے ذہن میں کیا ہے ترے دل کے لیے
والہانہ رابطوں میں جبر کے پہلو بھی دیکھ
جو بھی دل ہے ایک پنجرا ہے ترے دل کے لیے
تو کہ اپنے ساتھ ہے اپنے بدن کے واسطے
کوئی تیرے ساتھ تنہا ہے ترے دل کے لیے
تیری پلکیں جھک گئیں امجد دیے جب یوں جلے
جانے کس کا ذکر چمکا ہے ترے دل کے لیے
مجید امجد

ورنہ تیرا وجود۔۔۔

ورنہ تیرا وجود تو سچ کے سمندر میں ہے مٹی کا وہ پشتہ

جس کے باطن کی جھوٹی خودبستگیاں ہی اس کو سنبھالے ہوئے ہیں

پھر وہ کون ہے جو خود اپنے فوق سے تجھ کو یہ توفیق عطا کرتا ہے

تیرا ہونا ڈوبنے والوں کی آنکھوں میں ڈھارس بھر دیتا ہے

ورنہ تو تو خود اس ریلے میں ہے اک پشتہ، بہہ جانے والا

پھر وہ کون ہے جو یوں تیری سمت اشارہ کر کے

طوفانوں میں گھری ہوئی روحوں کی بے پتوار نگاہوں سے کہتا ہے:

اس تنکے کا بازو تھام لو، شاید تم بچ جاؤ، ڈوبنے سے بچ جاؤ

بندے، جانے کتنے لوگ ہیں جن کو تیری آس پہ جینا آساں ہے

اور تو خود وہ پشتہ جس کی جڑوں کو بھنور کی درانتی پیہم کاٹ رہی ہے

تو کیا کر سکتا ہے بندے

تو خود اپنے باطن کی جھوٹی خودبستگیوں کے سہارے پر باقی ہے

باقی تو ہے اک یہ سچ کا سمندر جس کی لہریں ہیں تقدیریں

اور ان تقدیروں کے اچھے اچھے دکھاوے

جانے کتنی آنکھوں میں بس جاتے ہیں، تیری نسبت سے!

کتنی آنکھوں میں ہے اک یہ اداس توقع

کتنی آنکھیں جن میں ایک ہی دیکھنے والا تیری جانب دیکھ رہا ہے کب تو اس کی جانب دیکھے

مجید امجد

رکھیا اکھیاں

جھکی جھکی گھنگھور گھٹائیں

ساون، پھوار، ہوا، ہریاول

رس کی نیند میں جاگتی دنیا

کچھ تو بولو۔۔۔ تم کیوں ہنس دیں

پتھر کے چہرے پہ گڑی اکھیو ۔۔۔

دل کہتا ہے، اب کیا ہو گا:

ندی ٹیلوں تک لچکے گی

بہنے والے بہتے بہتے

اپنی ہونی میں ڈوبیں گے

کچھ تو بولو۔۔۔ تم کیوں ہنس دیں

مجھ پہ ترس کھانے والی اکھیو۔۔۔

تم جانو۔۔۔ یہ جھونکے کس کے

عندیے ہیں۔۔۔ اور یہ کن کن

تقدیروں کی برکھا میرے

ڈرے ہوئے جی میں اتری ہے

کچھ تو بولو۔۔۔ تم کیوں ہنس دیں

اپنے بھرم پہ لجائی ہوئی اکھیو۔۔۔

مجید امجد

یہ دو پہیے۔۔۔

یہ دو پہیے ارض و سما ہیں

اور اس اپنی عمر کی سب تسکینیں بچھی پڑی ہیں ان سڑکوں پر

دو پہیوں کے ارض و سما کا جستی دستہ تھام کے میں نے

چلتے چلتے اکثر سوچا ہے، یہ سڑکیں بھی کتنی اچھی ہیں

ان کے باعث میرے دھیان میں آ جاتے ہیں وہ سب اچھے اچھے کام

اور اچھی اچھی باتیں

جن کی خاطر میں نے

ارض و سما کے پہیوں کو اس نیلی پٹڑی پر گرداں رکھا ہے

اور، اک عمر کے بعد، اب یہ سمجھا ہوں: دھوپ کی لو میں تپتی ہوئی یہ بجریلی

سطحیں اچھی ہیں ان لوگوں سے

جو ان پر چلتے ہیں۔۔۔ جن کے غرور کی جھوٹی ٹھنڈک کبھی بھی ان کے دلوں میں

نہیں پگھلتی۔۔۔

چلتے چلتے اکثر میں نے سوچا ہے، میں کن لوگوں کی دنیا میں ہوں

یہ سب کیسے لوگ ہیں، جن کی آنکھوں میں پتھرائے ہوئے پچھتاوے کبھی کبھی کروٹ نہیں بدلتے

لوگ جو اپنے سوا ہر اک شے کی جانب بے رخ ہیں

کس نے دیکھا، میرا دل تو بچھا ہوا ہے ان سڑکوں پر، ان بے رخ قدموں کے نیچے

کس نے دیکھے پہیے ارض و سما کے چلتے ہوئے ان بجریلی سطحوں پر

کس نے پہچانے وہ ہاتھ کہ جن کے بس میں ان پہیوں کی گردش کا ہر رخ ہے

اپنی دھن میں چلتے رہیو

چلتے پہیوں میں چکراتی ہیں جھنکاریں چلتے کُروں کی

پیڈل روک کے دیکھو، زنجیروں کے دندانوں میں کتے بول اٹھتے ہیں

مجید امجد

وہ تلوار ابھی۔۔۔

وہ تلوار ابھی تو اک فولادی خواب ہے تیرے ذہن کی ان تھک کارگہوں میں

اک دن جب یہ اصیل اور جوہردار عمل پارے آپس میں جڑ کر

تیرے دل کی نیام میں ڈھل جائیں گے

پھر جب اک دن یہ تلوار چلے گی۔۔۔

لیکن اس دن کے آنے تک۔۔۔ ابھی تو کچھ دن۔۔۔

لاکھوں روگوں والی نگری میں مٹی کی اس پٹڑی پر

اپنے دامن میں کیچڑ کے ان پھولوں کو لے کر چلنا ہو گا

ابھی تو اور بہت کچھ ہو گا

نیلی ٹین کی یہ چھت کڑکے گی اور سہما سہما وجود پچک جائے گا

باہر جانے کتنی آنکھیں ہنسیں گی اور جبڑے کھنکیں گے

ایسے میں تو گہری بنیادوں والے اک سانس کے بل پر ہی تو

ان سب کالی دنیاؤں کے بوجھ کو اپنے سر سے جھٹک سکے گا۔۔۔

لیکن ابھی تو سب کچھ اک فولادی خواب ہے تیرے ذہن کی ان تھک کارگہوں میں

ابھی تو ہر ہونی ان ہونی نظر آتی ہے

ابھی تو سب کچھ ہو سکتا ہے ۔۔۔

شاید تو تھک بھی جائے

شاید اپنے جی کے اسی جیالے پن میں تو جی بھی لے

مجید امجد

اپنے یہ ارمان۔۔۔

اپنے یہ ارمان تو سب غرضیں ہیں، کھری بھی اور کھوٹی بھی

ان سب غرضوں کی دھن اس کی دھن ہے

اور ہمارے خیالوں کے اندر تو بھونروں کی روحوں کے بھنور ہیں

امڈ امڈ کر اپنی غرض کی سیدھ میں ہم آتے ہیں

جو بھی رستہ کاٹے اس کو ہم ڈستے ہیں

پھر جب من کی باتیں پوری ہوتی نظر نہیں آتیں

ذہن ہمارا دنیا والوں کے بھیدوں کو پرکھنے لگ جاتا ہے

اک یہ پرکھ ہی تو ہے جو یوں نفرت سکھلاتی ہے

اپنی محرومی لاکھوں شاخوں والی اک قدر ہے جس کی

سب سے مقدس ٹہنی پر نفرت کا پھل لگتا ہے

میرا جی تو بھر بھی چکا اس پھل سے

کب تک دیکھوں میں ٹیڑھی پلکوں سے ان لوگوں کو

میری دید سے جو غافل ہیں

کیوں نہ بہا دوں اک تنکے کی طرح اس دنیا کو اس ندی میں جو

تیری روح کے باغوں میں بہتی ہے

منوا، آج تو تو نے یہ کیا سوچا

سدا پھلیں یہ تیری میٹھی سوچیں، مورکھ منوا!

مجید امجد

بندے

بندے

جب پلکوں کے جڑے جڑے گچھوں کے نیچے تیری آنکھوں میں اک لمبے گھیرے والے

عندیے کا ہلکا سا پھیرا پڑتا ہے۔۔۔

جب ایسے میں تیرے بھنچے ہوئے ہونٹوں پر ایک ارادے کا بوجھ آ پڑتا ہے

اور وہ ہونٹ آپس میں اور بھی دب جاتے ہیں

اور ٹھوڑی کے نیچے اطمینان کا اک لٹکاوا ابھر آتا ہے

تب تو تیرے گمان میں دنیا کے ہر ذرے پر تیرے چہرے کا سکہ ڈھل جاتا ہے

تب تو ڈرنے والے ڈر جاتے ہیں

اپنے غرور میں جینے والی مٹی کی اس اک مورت کو دیکھ کے

ڈرنے والے ڈر جاتے ہیں

اور میں اس تیری مورت کی بےعلمی سے ڈر جاتا ہوں

جس کو علم نہیں وہ کرنوں کی بوچھاڑ میں ہے اور ان جھالوں میں جھڑ جائے گی

اور یہ میرا ڈر ہی میری سب سے بڑی ڈھارس ہے، میری اس بےاطمینانی میں

تو میری اس ڈھارس سے ڈر، اپنے کالے ارادوں میں جینے والی مٹی کی مورت

مجید امجد

میری عمر اور میرے گھر۔۔۔

میری عمر اور میرے گھر سے باہر

اس دائم آباد محلے… اس اینٹوں کے ابد میں

وہ جو کچھ عمریں ہیں نیچی نیچی چھتوں کے نیچے۔۔۔

ان کی نمود اور ان کی نمو سے میری پلکوں میں ٹھنڈی ٹھنڈی سوجن ہے

ان کو دیکھ کے میں دنیا کو بوجھل بوجھل نظروں سے تکنے لگتا ہوں

کتنے اچھے تھے وہ میرے گزرے دن جو اب ان عمروں میں ہیں

جب یہ عمریں میرے گزرے دنوں سے گزر کر

اک دن میرے نہ ہونے میں ہوں گی

تو جانے میری بابت کیا سوچیں گی۔۔۔

اک یہ خیال آتے ہی میں نے اپنے گھر کی طرف دیکھا ہے

تو ان اینٹوں کی عمروں پر رشک آیا ہے

جیسے آج نقابوں میں یہ نظریں، بجلی کے ریشوں سے بنی ہوئی یہ خانے دار کمندیں

میری روح کو چھو کے پلٹ جاتی ہیں

ویسے ہی کل بھی شاید یہ نظریں اک بار اٹھیں ان اینٹوں کی جانب

اینٹوں کی یہ چادر جس کا اک پلو ہی باہر تیرے گا جب میرا پیکر

گارے کے گرداب میں ہو گا

پھر بھی آج تو سوکھے سوکھے حلق اور سوجی سوجی پلکوں سے

اس دنیا کو دیکھنے میں جو دکھ ہیں، جو ارمان ہیں، یہی تو عمروں کا حاصل ہیں

مجید امجد

زائر

ان کی جیبوں میں ہیں ارض و بقا کی کلیدیں

لیکن ان گچھوں کی ایک بھی چابی ان کے دل کے کالے تالے کو نہیں لگتی

اور وہ ننگے پیروں چل کر تیری چوکھٹ پر آتے ہیں

تیرے جلالت والے چتر کے آگے جھک جاتے ہیں

ان کی روح کے ایک پرانے گڑھے سے خلوص کا لاوا ابل پڑتا ہے

وہ روتے ہیں

تجھ سے مانگتے ہیں وہ سب کچھ، جس کو تو نے تیاگ دیا تھا

اور ادھر اک میں ہوں

کیسے مانگوں تجھ سے وہ دنیا جس کا سورج اک دن تیرے دل سے ابھرا تھا

اپنے پاس تو اس دنیا کی ٹکٹ کے پیسے بھی نہیں ہوتے

جس دن ہوں بھی، اس دن اپنا ارادہ بھی نہیں ہوتا

تیری نورانی مٹی سے باہر جو مٹی ہے

جانے اس مٹی میں کیسے کیسے کافر تیری محبت میں جیتے ہیں

تو نے دیکھا؟

مجید امجد

حضرت سید منظور حسین شاہ

میں نے اس کے ارادوں کا یہ سفر دیکھا ہے

ابھی ابھی وہ اس پُرنور حویلی میں تھا

جس کے گرد سنہرے گلابوں کے تختے تھے

اور اب وہ اس مٹی کے تابوت میں جا لیٹا ہے

میں نے دیکھا

اس نے اپنی اس اک عمر میں جتنی زندگیاں پائی تھیں

آج اس کی میّت کے ساتھ نہیں تھیں

وہ تو اب بھی سب کی سب اس دنیا میں ہیں

جو بھی چاہے ان کو چن لے اور آنکھوں سے لگا لے

مجید امجد

میٹنگ

ان کے جسموں کے پیچاک تو دیکھو

ان کے جسموں پر یہ زرہیں بھی تو دیکھو

سمٹے سمٹے لپیٹوں والی زرہیں

جن سے اپنے گمان میں وہ اپنی روحوں کی رکھوالی کرتے ہیں

سمٹے سمٹے لپیٹوں والی زرہیں

ان کی زرہیں تو ان کی سوچوں کے سمٹاوے ہیں

جن کے ذریعے

ہم پہ جھپٹنے سے پہلے وہ

اپنے آپ کو اپنی روح کے اک کونے میں سمیٹ لیا کرتے ہیں

اور پھر ان کے سب اعضا، سب عضلے

کسے کسے سے نظر آتے ہیں، جیسے رسّے

جیسے ابھی ابھی جب بٹے بٹے سے رسّوں کے یہ مٹّھے

کھل کر بکھریں گے تو اژدر بن جائیں گے

اس دن میں نے دیکھا جیسے

اک اک کرسی پر اک رسّوں کا مٹّھا بیٹھا ہو

مجید امجد

اے رے من ۔۔۔

اے رے من

تیرے بھی تو ہیں کیسے کیسے دکھاوے

آج تو میں نے بالکل واضح دیکھا۔۔۔ اس کا چہرہ

جسے وہ زندہ ہو۔۔۔

دھوپ میں ۔۔۔ چلتے چلتے ۔۔۔ میں نے دیکھا اس کا چہرہ ۔۔۔

چہرہ ۔۔۔ جیسے ہوا کی تہوں کا چھلکا۔۔۔

میں جس دھوپ میں تھا وہ دھوپ تھی اس کے گرد اک چھتری

جس کی چمک میں

چینہ چینہ چیچک سے وہ چہرہ ویسا ہی چترک تھا

جیسا دنیا میں تھا۔۔۔

اور وہ دانے اب بھی چمکتے چمکتے بھلے لگتے تھے

جانے اب وہ کس دنیا میں۔۔۔ کچی اینٹوں کی چھتری والے کون سے گھر میں

کن اندھیاروں میں ہو۔۔۔

وہ… جس کی بابت سوچوں تو سینے میں اک جھلی تپ جاتی ہے

وہ جو مٹی میں اب مٹی کا چھلکا ہے ۔۔۔

۔۔۔ مٹی جس پر بارش کے دانوں کے دھبے ہیں ۔۔۔

شاید تیرا ہی یہ پاگل پن تھا۔۔۔ کون اب اس کو دیکھ سکے گا

اے رے من

تیرے بھی تو ہیں کیسے کیسے دکھاوے

تجھ پر ہنسنے کو جی چاہا

ورنہ یوں کوئی یاد آئے تو آنسو کس سے رک سکتے ہیں

مجید امجد

مرے ہوئے اس اک ڈھانچے۔۔۔

مرے ہوئے اس اک ڈھانچے کے حق میں—

یہی تو ہے بس سارا غم اور سب اندوہ

یہی تو ہے اک دکھ کی صورت، ظاہر میں —

اور سارے مظاہر میں

سامنے والے دانتوں کے اندر کی طرف

جیبھ کی نوک مسوڑھوں کی سوجن کو اک دو بار چھوئے

بڑا کرم ہو اگر آنکھوں پر پلکیں بھی کچھ جھک آئیں

اشکوں کو تو دور سے آنا ہوتا ہے

اور ان کے آنے سے پہلے آپ کو جانے کی بھی جلدی ہے

تو بس اتنا کچھ ہی کافی ہے

اتنا کچھ ہی تو ہوتے ہیں سارے غم اور سارے سوگ

چہرے پر اک لمبی پیلاہٹ

اور ایسے میں جیبھ کی نوک مسوڑھوں سے یوں چپک چپک کے گرے

جیسے اک بے حرف آواز کہے

’’کتنا اچھا آدمی تھا۔۔۔ ‘‘

ذرا سے اپنے اس اک استحقاق کی خاطر آج تو میں نے مر کر بھی دیکھا

ایسا وقت جب آئے تو آپ اتنا کچھ تو کیجیے گا

اپنی اس

کم فرصت رنجوری کے باوصف

مجید امجد

گہرے بھیدوں والے

گہرے بھیدوں والے، تیرا سحر ہی مجھ کو بجھائے یہ اک بات۔۔۔

۔۔۔ بات ایک یہ بات کہ اپنے پاس ہے جو کچھ سب ہے تیری دین

اور پھر ۔۔۔ اک یہ برتا بھی تو تیری دین ہے جس پر ہم

اپنے آپ میں تل کر جیتے ہیں

کبھی کبھی تو اپنے آپ میں بھر جاتے ہیں ایک ہی ٹھنڈی سانس کے ساتھ

میلے من کی بھروائی

تو نے ہم کو سونپا بھی تو اک یہ کیسا کام

بیٹھے ہیں

آنکھیں روح کے بوجھ سے ابلی پڑتی ہیں

کہیں پپوٹوں میں ہے اپنے وجود کے ریزے کا اٹکاؤ سا

اب کیا ہو سکتا ہے، اپنے جواز کے آگے اپنی سب تردیدیں بے بس ہیں

اندر ہی اندر کوئی شے تالو سے ٹکرائی ہے

ہم کہتے ہیں: ’’اب تک ۔۔۔ ٹھیک ہے! ۔۔۔ آگے ۔۔۔ دیکھیں گے!‘‘

جانے یوں کن کن بھیدوں کی کٹھالی میں تو ہمیں پرکھتا ہے

جانے یہ بھی اک کیا بھید ہے، یہ جو میری بابت گمان کا ایک دکھاوا سا

میرے ذہن سے گزرا ہے!

مجید امجد

بہار کی چڑیا

اس کا سرما سارا گزرا دور کہیں اک دھوپ کے گھر میں ۔۔۔

سرما جو اس کا بچپن تھا۔۔۔

اب جب دن بدلے ہیں اور ہوا کی ردا سے برف کے ٹانکے ادھڑنے لگے ہیں

نئی رتوں کی یہ بنجارن بھی دیواروں سے ٹکراتی

آ نکلی ہے، اپنے منگیتر کے ساتھ، اس کمرے میں

اڑتی چہکتی گاتی

چوں چوں، چچ چچ

آہا، یہ بھی کیسا اک بسرام ہے، روزن جن میں خوشیاں پنکھ سمیٹ کے چہکیں

آنگن جن میں پھول اور ریزۂ زر کا ارزن

پل بھر تو اس طاق پہ بیٹھیں، چوں چوں، چچ چچ

لیکن اے ہے، کون ہے یہ اس شیش محلکے میں اس جیسی

کون ہے پہلے سے یہ بیرن

جھپٹ جھپٹ کر اس نے اس چہرے پر کالک مل دی

اور اب وہ اور اس کا منگیتر دونوں

گلے پھلا کر، کتنے تاؤ میں اس بےعکس آئینے کے آگے بیٹھے ہیں

باغی جو ہر دور میں اپنے سائے سے لڑنے آتے ہیں

مجید امجد

اے ری چڑیا

جانے اس روزن میں بیٹھے بیٹھے

تو کس دھیان میں تیری، چڑیا، اے ری چڑیا!

بیٹھے بیٹھے تو نے کتنی لاج سے دیکھا

پیتل کے اس اک تل کو جو تیری ناک میں ہے

اپنی پت پر یوں مت ریجھ، خبر ہے، باہر

اک اک ڈاین آنکھ کی پتلی تیری تاک میں ہے

تجھ کو یوں چمکارنے والوں میں ہے اک جگ تیرا بیری

چڑیا، اے ری چڑیا

بھولی، تو یوں اڑتی، پنکھ جھپکتی

یہاں کہاں آ ٹھہری، چڑیا، اے ری چڑیا

یہ تو میرے دل کا پنجرا ہے، تو اس میں

اپنی ٹوٹی پھوٹی خوشیاں ڈھونڈنے آئی ہے؟

پگلی، یہاں تو ہے ہیرے کی کنی کا چوگا

اور اک زخمی سانس اور پنجرے کی انگنائی ہے!

اڑ اور مہکی ہوئی بن بیلڑیوں میں

جاچن اپنی لے ری چڑیا، اے ری چڑیا!

مجید امجد

اُن لوگوں کے اندر ۔۔۔

ان لوگوں کے اندر جن کے اندر میں بھی ہوں

میرے برعکس، ایسے بھی

ہیں کچھ لوگ

جن کی باتوں کے کچھ سچے روپ ان کے حربے ہیں

لیکن یہ سچ ان کا نہیں ہوتا

یہ سچ اوروں سے چھینا ہوا ہوتا ہے

اپنے جھوٹ اور اپنی بدی کو چھپانے کی خاطر

وہ اوروں کی اک اک اچھائی کو ہتھیا لیتے ہیں

اور پھر اس ہتھیار کو لے کر جب وہ چلتے ہیں

ساری دنیا ان سے ڈرتی ہے

یہ بھی کیسا زمانہ ہے

جب اچھوں کی سب اچھائیاں، بروں کے ہاتھوں میں حربے ہیں

سچے لوگ اگر جیوٹ ہوں، کون ان کے منہ آئے گا

جھوٹ کے اس تالاب کے سب کچھوے

اپنے اپنے خول میں، اپنے اپنے کالے ضمیروں میں

چھپ جائیں گے

مجید امجد

چھٹی کے دن

چھٹی کے دن گھر سے تو وہ اس کارن نکلا تھا

ذرا گلی کے ہٹّی والے سے کچھ سودا سلف خریدے

اور پھر آ کر ترشے ہوئے کرداروں کے میلے میں گھومے ۔۔۔

اس میلے میں وہ سب کچھ تھا

اس میلے کے باہر تو وہ اپنے آپ سے بھی چھپتا تھا

میں بھی اس میلے کے باہر اس سے پہلی بار ملا تھا

اس کے سان گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی، یوں میں اک دن، اتنے قریب سے

اس کی زمینی آنکھیں، اس کے نیلے چپٹے ہونٹ اور اس کے رخساروں کے

میلے ڈھیلے گول مسام بھی دیکھ سکوں گا

لیکن وہ نہیں جھجکا

میں ہی اس کے اصلی روپ کو دیکھ کے سہم گیا تھا

اُس کے گرد تو اک وہ مکر کا ہالا ہی اچھا تھا

یہ سوچا اور اس سے رخصت چاہی

اس دن شام کو پھر میلے میں اس سے ملا میں۔۔۔

میں نے اس کو پایا سارے حربوں سے مسلح

چہرے پر اکسائے ہوئے کچھ ایسے تیور

جیسے وہ بس کاٹھ کی روٹی اور پرنور خیالوں پر زندہ ہو

مجید امجد

جدھر جدھر بھی۔۔۔

جدھر جدھر بھی دیکھو۔۔۔

ہر سو پھول ہیں، کانٹے ہیں، کرنیں ہیں، اندھیارا ہے

پھر یہ سب کچھ ۔۔۔ اک اک راحت، اک اک جھنجھٹ ۔۔۔ آپس میں گڈمڈ ہے،

اور یہ سب کچھ مجھ کو گھیرے ہوئے ہے

ہر دم ایک عجیب پریشانی ہے جس کے باعث

اپنے جی میں لہو کے پسینوں کی ٹھنڈک ہے

کتنے اچھے ہیں یہ سب الجھیڑے

سمے کی رو میں دھب دھب چلتے دھندے

کتنی بھلی ہے اک یہ بےمصرف سی مصروفیت

ذہن پہ اک یہ پردہ جس کے اوجھل ہیں وہ باتیں

جن کا دھیان بھی مجھ کو سب خوشیوں سے نا خوش کر سکتا ہے

دھیان ان کا جن کے قدموں کے نیچے میرے باطن کی مٹی ہے

اک دن یہ مٹی ان کے قدموں کے نیچے سے سرک گئی ۔۔۔ تو۔۔۔

مجید امجد

دُور، اُدھر۔۔۔

دُور، اُدھر اس سامنے والے رستے سے جب

آپس میں ٹکراتی آوازوں کی لہر اچھل کر میری جانب والے رستے تک آئی

بیچ میں نیچے پانی تھا ۔۔۔

بیچ میں نیچے اک میدان اور اس میں گھاس اور پودے اور سب کچھ پانی میں تھا

ٹھنڈی رات کے سائے تھے

سامنے والے اس رستے سے آوازوں کی گونج جب اچھلی، نیچے پانی تھا

رات کے سایوں میں اس پانی پر اک چوٹ سی پڑتی تھی

تیزی سے اِک آہٹ ڈبکی بھرتی تیر کے بڑھتی تھی

گیلے گیلے پہناووں کو جھٹکتی کیچڑ میں تھپ تھپ چلتی تھی

مجید امجد

ایک صبح۔۔۔ سٹیڈیم ہوٹل میں

یوں تو اس چوکور تپائی کی اس سادہ سی بیٹھک میں کیا رکھا ہے

لکڑی کی اک عام سی شے ہے، پڑی ہے

یوں تو اس پر رکھے ہوئے گلدان میں کیا رکھا ہے

پیلے پیلے سے کچھ تازہ پھول ضرورہیں اس میں

پھول تو گلدانوں میں ہوتے ہی ہیں

اور پھر اس چوکور تپائی پہ گرنے والا ہوا کا ترچھا جھرنا

جس میں دھوپ کی نازک سی جھلکی سونے کا رنگ بکھیر گئی ہے

خیر، یہ دھوپ کی رنگت بھی تو جگہ جگہ ہے

لیکن یہ سب چیزیں، اور یہ چاروں خالی کرسیاں، اور یہ سب کچھ، مل کر

ایک عجیب آسودہ سی ترتیب ہے، ساکت ساکت

میرا ذہن کچھ اتنا الجھا ہوا ہے، مجھ کو چیزوں کی ترتیب اچھی لگتی ہے

جانے کون یہاں آ کر بیٹھے گا ۔۔۔

سب کچھ اک آنے والے اچھے سمے کا ان ہونا پن ہے!

مجید امجد

بانگِ بقا

ساری نسل پہ گزرا ہے یہ قیامت کا اک دن

ایک ہی دن میں کٹ گئے کیسے کیسے رعنا، مست جوان

اب تو سب پر لازم ہے

حفظِ وجود

سعیِ بقا

جیسے بھی ہو، آج سے اک اک فرد کرے

زائد کام

بڑھ کر، چڑھ کر، گھُٹ کر، گھِس کر، پہلے سے بھی زیادہ کام

اب تو جٹ جائیں، اس کام میں سب کامی

رچ مچ کے اور مل جل کے

اک یہی کام

پس پس کے اور ہل ہل کے

دَم دَم، دُم دُم یہی جتن

کندے تول کے، پنجے جوڑ کے، پیہم اک یہی کام

ہم اس نسل کی رعنائی کے محافظ ہیں

نسلِ بیضا، فخرِ جن و انس و وحش و طیور

اب تو پیہم یہی جتن

جانے پھر کب چوبی تختے بچھ جائیں

اور ہمارے ویروں کے سر کٹنے لگیں

بڑی بڑی توندوں والے عفریتوں کی خاطر

جن کے پاک معطر جسم ہماری ہی روحوں کے فضلے ہیں!

مجید امجد

یہ بھی کوئی بات ہے۔۔۔

یہ بھی کوئی بات ہے کہنے کی

لیکن لو، ہم کہے ہی دیتے ہیں

دوہا، بول، کبت، کیا رکھا ہے ان میں ۔۔۔

زخم بھلا کب سلے ہیں شبدوں سے ۔۔۔

جلتی سطروں سے کب ڈھلی ہیں تقدیریں

بس، یہی، لے دے کے، کچھ عرصے کو

دھیمی دھیمی سی وہ جلن دب جاتی ہے

جو اس وقت ابھرتی ہے

جب دل میں گھن لگتا ہے

آخر ذرا سی اس تسکین کی خاطر کون

سارے جگ کا بیر سہے

کون کہے؟ کیا حاصل ہے اس بات کے کہنے سے؟

بات بھی یہ کہ زمانے میں:

زینہ بہ زینہ بندے پر تو بندے کی تلوار معلق ہے

چھوڑیں بھی اس بات کو، چلو یہی سوچیں

شاید اِک دن کوئی سچ اس سچ کو جھٹلا دے

(اپنا دل تو اگرچہ مشکل سے یہ مانے گا۔۔۔!)

مجید امجد

لوگ یہ۔۔۔

لوگ گہری نپی تلی تدبیروں والے

جانے ان لوگوں کو کیا ہے ۔۔۔

کبھی کبھی یوں دیکھتے ہیں وہ مجھ کو، جیسے وہ کہتے ہوں:

’’آ اور پڑھ لے انھی ہماری آنکھوں میں تقدیریں اپنی‘‘

اور پھر کبھی کبھی تو ان کی نظریں یوں کہتی ہیں:

’’تو کیا چھپے گا ہم سے؟ ہم نے تو پڑھ لیں تیری آنکھوں میں سب تقدیریں تیری‘‘

جانے ان لوگوں کو کیا ہے؟

جانے ان لوگوں کے لہو میں چکنی سی یہ سیاہی کہاں سے آئی ہے جو

مجھ کو دیکھ کے ان کے چہروں کو فولادی رنگ کا کر دیتی ہے

میری قسمت کے یہ دام چکانے والے

میں تو ان کے دلوں کو پڑھ لیتا ہوں

میں تو ان کی روحوں پر چیچک کے داغوں کو بھی گن لیتا ہوں جب وہ

تازہ لہو سے بھر جاتے ہیں

میرے سامنے تو ہے ان کا وجود بس ایک تماشا ۔۔۔

تیرے ارادوں کی نگری میں ان لوگوں کا تماشا

لوگ جو اپنی تدبیروں پر بھولے ہوئے ہیں

مجید امجد

ایک نظمینہ

ٹیڑھے منہ اور کالی باتیں

کانٹے بھرے ہوئے آنکھوں میں

یہ دنیا، یہ دنیا والے

تو مت جا اس اور — باگیں موڑ بھی لے

دلوں کی اس دلدل کے کنارے

روپ گھمنڈ کے پتلے سارے

اک پر دوسرا کیچ اچھالے

اس تٹ پر مت ڈول — باگیں موڑ بھی لے

آگے بِس کی لہر ہے جل تھل

کس کی بابت ماتھے پر بل

اے رے دُکھے ہوئے دل والے

یوں مت، یوں مت سوچ — باگیں موڑ بھی لے

مجید امجد

پھولوں کی پلٹن

آج تم ان گلیوں کے اکھڑے اکھڑے فرشوں پر چلتے ہو

بچو! آؤ تمہیں سنائیں گزرے ہوئے برسوں کی سہانی جنوریوں کی

کہانی

تب یہ فرش نئے تھے ۔۔۔

صبح کو لمبے لمبے اوورکوٹ پہن کر لوگ گلی میں ٹہلنے آتے

ان کے پراٹھوں جیسے چہرے ہماری جانب جھکتے

لیکن ہم تو باتیں کرتے رہتے اور چلتے رہتے

پھر وہ ٹہلتے ٹہلتے ہمارے پاس آ جاتے

بڑے تصنع سے ہنستے اور کہتے:

’’ننھو! سردی تمہیں نہیں لگتی کیا؟‘‘

ہم سب بھرے بھرے جزدان سنبھالے

لوحیں ہاتھوں میں لٹکائے

بنا بٹن کے گریبانوں کے پلو ادھڑے کاجوں میں اٹکائے

تیز ہواؤں کی ٹھنڈک اپنی آنکھوں میں بھر کر

چلتے چلتے، تن کے کہتے:

’’نہیں تو، کیسی سردی

ہم کو تو نہیں لگتی…!‘‘

بچو! ہم ان اینٹوں کے ہم عمرہیں جن پر تم چلتے ہو

صبح کی ٹھنڈی دھوپ میں بہتی آج تمہاری اک اک صف کی وردی

ایک نئی تقدیرکا پہناوا ہے

اجلے اجلے پھولوں کی پلٹن میں چلنے والو

تمہیں خبر ہے، اس فٹ پاتھ سے تم کو دیکھنے والے

اَب وہ لوگ ہیں

جن کا بچپن ان خوابوں میں گزرا تھا جو آج تمہاری زندگیاں ہیں

مجید امجد

دن تو جیسے بھی ہوں۔۔۔

دن تو جیسے بھی ہوں۔۔۔ آخر اک دن

دنوں کی اک اک سچائی کو جھوٹ کے تیشے مقرض کر دیتے ہیں

دیکھو۔۔۔ سوچو۔۔۔

دل کی اس پیچاک میں ہیں جو شکنجے، وہ تو ویسے ہی تھے

اس پیچاک سے نچڑا ہوا وہ گیہوں، جو، زیتون کا رس تو ویسا ہی تھا

جسموں کی سب کارگہیں تو ویسی ہی تھیں

جب یہ سر فرعونوں کے آگے جھکتے تھے، تب بھی

جب اک گورا پلٹن اس سنگھاسن پر پہرا دیتی تھی، تب بھی

اور اب بھی جب ہم نے مستقبل کا سارا بوجھ اپنے شانوں پر بانٹ لیا ہے

گورا پلٹن کی سنگینوں کے سائے میں بھی بھوجن ملتا تھا

فرعونوں کی خدائی میں بھی بندے پتل بھات سے بھر لیتے تھے

اور اب اپنے گھروں میں ہم ہر ایک مثلج آسائش رکھتے ہیں

تو کیا صرف ہمیں سچے ہیں؟

کیا وہ سب جھوٹے تھے؟

یوں تو آج ہم ان پہ ترس کھاتے ہیں

جن کی پتھر ڈھوتی عاجزیاں فرعونوں کے چابک کھاتی تھیں

لیکن کیا اس بات کی ان کو خبرتھی ۔۔۔

کیا اس بات کی ہم کو خبر ہے ۔۔۔

اس دنیا میں جو کچھ بھی ہے، اس کا حاصل تو وہ سچائی ہے جس کو

آخر جھوٹ کے تیشے مقرض کر دیتے ہیں

پھر کیوں یہ سب دریا، چہروں، کھوپڑیوں کے دریا، ان گلیوں میں بہتے ہیں

شہرِ ازل کے اونچے پل کی کھڑی ڈھلان سے لے کر

ان گلیوں، ان دہلیزوں تک بہتے آتے دریا

دریا جن پہ شکن ہے ۔۔۔ چھاپ لہو کی

لہریں جن پہ بھنور ہیں ۔۔۔ لہو کی مہریں

آخر اس ریلے میں کون اچھا تھا ۔۔۔

آخر سچ کے تٹ پر کون اترا ہے۔۔۔؟

اپنی آنکھوں میں یوں کانٹے بھر کر میری جانب مت دیکھو۔۔۔

میں سچ کہتا ہوں، سوچو!

آخر سچ کے تٹ پر کون اترا ہے!

مجید امجد

وہ بھی اک کیا نام ہے ۔۔۔

وہ بھی اک کیا نام ہے جو ہر دم ہے

ہم ہیں اور نہیں ہیں

ہم اور باقی جو کچھ بھی ہے

اس کا ہونا اس کے نہ ہونے کی خاطر ہے

پھر اس اک اک ہونی کا ہے جدا جدا اک نام بھی اپنا

اپنے اپنے نام ہیں چیزوں کے اور آدمیوں کے

نام ان جسموں میں جیتے ہیں

نام ان جسموں میں بےجسم ہیں اور جیتے ہیں

آج تو میں نے دیکھا، میرے جسم میں میرا نام نہیں تھا

جیسے اک احساس کی زد سے

مجھ میں میرا باطن ڈوب چلا ہو

ایسے میں، اس میرے نام سے خالی ہونے والے خلا میں

جب اک نام نے جھانکا، جانے کس کے نام نے جھانکا

پھر سے میرے قدموں کے نیچے میرے باطن کی مٹی تھی

میرے باطن کی مٹی

میرے نام کی جس سے نمود ہے

کیسا نام ہے یہ بھی جو ہر دم ہے

ہم ہی نہیں اس نام سے نامی!

مجید امجد

مریض کی دعا

کل تک تو یہ دنیا

میرے لیے اک آئینہ تھی

جس میں میری نخوت

آنے والے کل کا یقینی چہرہ دیکھ کے اتراتی تھی

تو تو سب کچھ جاننے والا ہے: میں کتنا خویش غرض تھا

اب تک جب بھی تجھ کو یاد کیا ہے

اپنی نخوت کی اس بھول میں تجھ کو یاد کیا ہے

لیکن آج مجھے اس بات کا ڈر ہے:

کل — جب آنے والا کل آئے گا

میرے بےحس سرد مساموں کو وہ کھرچنے والی روشنیاں

اک ڈھیلے ٹاٹ کے جھول میں میرے جسم پہ شاید

جیتے دنوں کی آخری کرنیں ہوں گی

آج یہ میرا عہد ہے تجھ سے:

کل کو آنے والے کل کے بعد، اگر کچھ دن بھی میرے لیے ہیں

تو مرا اک اک دن اس دن کی اطاعت میں گزر جائے گا

تیرے خزانوں میں جو، میرے سمیت، سبھی کے لیے ہے

اور کسی کے لیے بھی نہیں ہے

تیرے غیب میں تو سب کچھ حاضر ہے

کل کے بعد بھی میرے ارادوں کو توفیق کے دن دے

اے وہ جس کے آج میں فرداؤں کے ابد ہیں

مجید امجد

بھائی کوسیجن، اتنی جلدی کیا تھی

بھائی، اتنی جلدی کیا تھی۔۔۔

دن ڈھلتے ہی ہم تو دور نِگر چشمے اپنی آنکھوں سے لگا کر بیٹھ گئے تھے، دیکھیں

کب سورج کے تھال پہ آ کر ٹھہرے تھوڑی دیر کو کالے چاند کا لرزاں دھبا

ہم یہ آس لگائے بیٹھے تھے، دیکھیں کب چاند کے گرد

اچانک چک چک چکراتا گزرے وہ چھوٹا سا اک رکشا

سورج کے چمکیلے گول کنارے کی پٹڑی پر چلتا، گھن سے اوجھل ہوتا، چکر کاٹ کے

سامنے آتا، دور سے دِکھتا رکشا

دل ہی دل میں ہم کہتے تھے، دیکھیں کیسا ہو یہ تماشا

وہ سورج کی آنکھ، اور اس میں چاند اک کالی پتلی، اور پھر اس پتلی کے گرد لڑھکتا

اک وہ سایہ

پھر یہ سب کچھ عکس بہ عکس ہماری آنکھ کی پتلی میں بھی

اک پل کے محور پر گھونے والے تین کرے…

اوہو اب تو آنکھیں بھی دُکھتی ہیں

اے لو، سورج پر سے ڈھل بھی گیا وہ سایہ ۔۔۔ لیکن تم نہیں آئے

سنا ہے تم تو اک دن پہلے کسی سدیمی دوری کے نزدیک خلا میں، وہیں کہیں تھے

اپنے چکراتے رکشا پر

جانے اک دن پہلے ہی تم کیوں لوٹ آئے، بھائی اتنی جلدی کیا تھی۔۔۔

دیکھیں گردشِ دوراں کے دوران تمہاری سواری پھرکب گزرے ان راہوں سے

ایسے میں جب ہوں اک سیدھ میں تین کُرے اور تین زمانے۔۔۔

اس دن ہم بھی تمہارے ساتھ چلیں گے اور اس دن ہم تو لوگوں کا کہنا مانیں گے

مجید امجد

بےربط

اسی کرے کے جوف سے تم نے کشید کیا

انگاروں سے بھرا ہوا سیال غرور

لیکن کس کی تھی یہ مٹی؟ ہم سب کی

اس مٹی کی وریدوں سے یہ کھچا ہوا سیال غرور

سب میں بٹ جاتا

تو یہ دیس دلوں کے سجدوں سے بس بس جاتا

تم نے بجھتے بھڑکتے ان انگاروں کو

اپنی روحوں میں بویا

اور نفرت کاٹی!

ان انگاروں پہ تم نے اپنے چہرے ڈھالے ٹکسالوں میں

مقصد لوہے اور فولاد کا یہ جنگل تو نہیں تھا، ہونے کو تو، جس کی

اک اک دھڑکن میں تہذیبیں ہیں

کیسی تہذیبیں؟

جب اک لرزش گہری ہو کر اترے گی سنگین چٹانوں میں

اور دھوئیں میں تیریں گی بےجان مقرض قاشیں دنیا کی

تب بھی صرف اک شے باقی رہ جائے گی

تم محسوس کرو تو آج بھی اس کا بوجھ تمہارے دل پر ہے

مجید امجد

گوشت کی چادر

گوشت کی چادر لچکی، اس پر اک دو ترچھے شکن پڑے

اور بیل اَب نالے سے باہر تھا

اس کے لوہے کے بازو اور شانے

اور صاف، سفید سی کھال

اور وہ خم کھائے ہوئے سینگ

اور وہ جثّہ جیسے گوشت کی چادر

اور وہ اس کا وجود۔۔۔

بے پندار

بے پروا

ہل کا اہل

جیوٹ اور مگن

جانے کب سے، جب سے کالی دھرتی پر

جیتے گوشت کی یہ اک چادر لچکی ہے

انسانوں نے سکھ کی فصلیں کاٹی ہیں

مجید امجد

موانست

رات اچانک پھاٹک کا اک پہیہ رینگا

پگڈنڈی پر اک آہٹ نے ٹھوکر کھائی

کالے کالے پروں کو اوڑھ کے سونے والی وحشت

پاس کے پیڑ پہ کندے جھٹک کے چونکی، چیخی

جیسے کوئی اس کی طرف جھپٹا ہو

ڈرتے ڈرتے اس نے نیچے اندھیارے میں جھانکا:

’’اوہو یہ تو ایک وہی سایہ تھا

وہ جو روشنیوں کے پہلے پھیرے سے بھی پہلے

روز ادھر سے گزرتا ہے، اور پہلی کرن کی پینگ کے پڑنے سے بھی پہلے

چلتا چلتا اس باڑی میں کھو جاتا ہے

آج تو جانے کس لرزاں دھبے سے ٹکرایا، وہ پگلا

کویل نے یہ سوچا، پھر بےکھٹکے

پتوں کی اس سیج پہ تھوڑی دیر کو اونگھ گئی وہ

بوئے سحر کے مست بلاوے پر بےساختہ کوک اٹھنے سے پہلے!

مجید امجد

کبھی کبھی وہ لوگ۔۔۔

کبھی کبھی وہ لوگ بھی جن کا ناؤں لکھا ہے

کتنے موضعوں کے پٹواریوں کی کھیوٹ میں

میرے دل کے اندر بیٹھ کے میری باتوں کو سنتے ہیں

پیار سے مجھ کو دیکھتے ہیں یوں جیسے اس گودام میں کاغذ چاٹنے والا اک کیڑا ہوں

مجھے خبر ہے، دشمن اکثرغرانے سے پہلے ممیاتا ہے

لیکن میرا جی نہیں ڈرتا

مجھ پہ جھپٹ کر مجھ سے آخر وہ چھینیں گے بھی کیا

اپنے پاس کوئی رجواڑا لالچ کا نہیں ہے

اک دو حرف ہیں جن کی گرمی میرے لہو میں لہراتی ہے

ان لوگوں کی ریڑھ کی نلکی میں ہے گودا بھی سونے کا

کوئی کیسا ریلا آئے

ان کا پشتیبان وہ پشتہ بہہ نہیں سکتا، جس کے ذرّے آبِ زر سے جڑے ہیں

اے وہ، اپنے دوام کو جس نے حرف کے پیرائے میں دیکھا

تیرے سپرد ہیں میرے ٹوٹے پھوٹے مٹی کے یہ شبد کہ جن میں میری مٹی کی روزی ہے

مجید امجد

فرد

اتنے بڑے نظام میں صرف اک میری ہی نیکی سے کیا ہوتا ہے

میں تو اس سے زیادہ کر ہی کیا سکتا ہوں

میز پر اپنی ساری دنیا

کاغذ اور قلم اور ٹوٹی پھوٹی نظمیں

ساری چیزیں بڑے قرینے سے رکھ دی ہیں

دل میں بھری ہوئی ہیں اتنی اچھی اچھی باتیں

ان باتوں کا دھیان آتا ہے تو یہ سانس بڑی ہی بیش بہا لگتی ہے

مجھ کو بھی تو کیسی کیسی باتوں سے راحت ملتی ہے

مجھ کو اس راحت میں صادق پا کر

سارے جھوٹ مری تصدیق کو آ جاتے ہیں

ایک اگر میں سچا ہوتا

میری اس دنیا میں جتنے قرینے سجے ہوئے ہیں

ان کی جگہ بےترتیبی سے پڑے ہوئے کچھ ٹکڑے ہوتے

میرے جسم کے ٹکڑے، کالے جھوٹ کے اس چلتے آرے کے نیچے!

اتنے بڑے نظام سے میری اک نیکی ٹکرا سکتی تھی

اگر اک میں ہی سچا ہوتا

مجید امجد

پھر جب دوستیوں ۔۔۔

۔۔۔ پھر جب دوستیوں کے سمندر میں دم سادھ کے اترے

اور اک لمبے، گہرے، بے سدھ غوطے کے بعد ابھرے

اپنے دل کا خزف بھی اپنے پاس نہ تھا

باہر دیکھا ۔۔۔ باہر کوئی اور ہی دیس تھا

باہر ۔۔۔ کیسا بازو دار، لہکتا جنگل تھا

جنگل دوستیوں کا۔۔۔

مشفق اجنبیوں کی طرح ہماری جانب دیکھنے والے چہرے دوستیوں کے

جی نے چاہا، اَب تو باقی عمر اسی جنگل میں پھول چنیں گے

جانے کتنے دن یوں جاگ سکیں گے، اس سے پہلے کہ اپنا دل کا سوکھا

پتا ٹوٹ گرے

مجید امجد

’’تینوں رب دیاں رکھاں‘‘

تاروں بھرے دریاؤں جیسی لمبی تانوں والا یہ نغمہ

دور پہاڑوں میں چکراتی ہواؤں جیسی ۔۔۔ پیچاں سی یہ لے

اب بھی جس کی گونج میں ایک مقدس دکھ کا بلاوا ہے

میں جب بھی یہ گانا سنتا ہوں

مجھ کو یاد آ جاتے ہیں وہ لوگ

جن کے لیے اس دن، آگ کی آندھی میں، یہ بول ہماری یادیں لے کر آئے تھے

مجھ کو یاد آجاتے ہیں وہ لوگ، جنھوں نے اس دن، اتنے دھماکوں میں

ان شبدوں کو سنا

اور ہمارے بارے میں سوچا

جو کچھ سوچا ۔۔۔ کر گزرے

ان کی انھی سوچوں کی دین ہیں یہ سب دن، ہم جن میں جیتے ہیں

جن میں جییں گے آنے والے جینے والے بھی

انہی دنوں کا سرگم میرے دل کی سپتک پر چھڑ جاتا ہے

جب بھی میں یہ گانا سنتا ہوں ۔۔۔

مجید امجد

آواز کا امرت

اک اک روح کے آگے اک دیوار ہے اونچی گلے گلے تک

اک دیوار ہے رمزِ دروں کی

اس دیوار کے اندر کی جانب جتنا کچھ بھی ہوتا ہے

جس کے پاس خزانہ، اک دردانہ، یا اک تال مکھانہ

نقدِ باطن یا کم از کم ۔۔۔ آب و دانہ

جتنا کچھ بھی پاس ہو اتنی ہی دیوار یہ موٹی ہوتی ہے اور اس دوری کے باعث

اتنی ہی اس روح کی بات ذرا گھمبیر اور گہری ہو جاتی ہے

اپنے بوجھ سے بوجھل ہو جاتی ہے

دیر سے سننے میں آتی ہے

اپنے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے، روح نہ اس کا کوئی دھندا

اپنے پاس توصرف اک یہ آواز ہے جس کے آگے کوئی بھی دیوار نہیں ہے

سن سے تمہارے پاس پہنچ جاتی ہے

اس آواز میں رمزِ دروں کے سارے غیرمقطّر زہر ہیں، اس کا برا نہ مانو

کبھی کبھی جی میں آئے تو، سن لو

چن لو

رکھ لو

چکھ لو

مجید امجد

اک دن ماں نے کہا

اب وہ لوگ جنھوں نے میرے بیٹوں کا ۔۔۔ خون پیا۔۔۔

(میرے بیٹے تو سب ان کے بھائی تھے)۔۔۔

اپنے وہ لوگ جنھوں نے میرے حصے کے روزینے کو ۔۔۔ اپنے جبڑوں میں ۔۔۔ بانٹ لیا

(میرا حصہ تو تھا صرف اک شیریں نام کا ذکر)۔۔۔

اب وہ اپنے دل میں سمجھتے ہیں ۔۔۔ دنیا ان کی ہے۔۔۔

لیکن کبھی اگر وہ دیکھیں تو ۔۔۔ میری بانہیں نہیں تھکیں ۔۔۔

کبھی اگر وہ دیکھیں تو ۔۔۔ ان کے انھی قدموں کے تلے۔۔۔

میرے الگ الگ دو ہاتھوں کی اک جڑی ہوئی مضبوط ہتھیلی ہے۔۔۔

اسی ہتھیلی پر ہے ان کا سب تن و توش۔۔۔

وہ اپنے قدموں کی طرف اک مرتبہ دیکھیں تو ۔۔۔ انھیں وہ سنگھٹ بھی نظر آئے جو۔۔۔

ان ہاتھوں کے قطع کے درپے ہے۔۔۔

لیکن وہ

دیکھتے ہیں بس اوپر اوپر، اس آکاش کی سمت۔۔۔

وہ آکاش جو ان کی کھوپڑیوں کے نیچے، ان کے بھیجوں پر

نیلے رنگ کی چربی ہے۔۔۔

کس سے کہوں میں

میرے یہ بیٹے بھی کیسے ہیں؟

مجید امجد

یہ سب دن۔۔۔

یہ سب دن

تنہا، نا یکسو

یہ سب الجھاوے

کالی خوشیاں، کالے غم

اے رے دل

رہا ہے تو اب تک

کن بھگتانوں میں

اور اب بھی تو آگے ہے

ایک وہی گذران دنوں کی، جس کی رو

جذبوں اور خیالوں میں چکراتی ہے

ہم جیتے ہیں، ان روحوں کو بھلانے میں

سدا جو ہم کو یاد کریں

سدا جو ہم کو اپنے مشبک غرفوں سے دیکھیں

جیسے، پورب کی دیوار پہ، انگوروں کی بیلوں میں

بڑھتے، رکتے، ننھے ننھے، چمکیلے نقطے

کرنوں کے ریزے

جو ہر صبح

ہر جھونکے کے ساتھ

ان پتوں کی درزوں میں

اے رے دل

تیری خاطر جلتے بجھتے ہیں

کس کی خاطر یہ اک صبح؟

کس کی خاطر آج کا یہ اک دن؟

کیسا دن؟

یہاں تو ہے بس ایک وہی اندھیر دنوں کا جس کی رو

روحوں میں اور جسموں میں چکراتی ہے!

مجید امجد

تب میرا دل…

تب میرا دل بجھ جاتا ہے

میں ہوں جگ جیون کے جوہر ڈھونڈنے والے جوہریوں کا جویا

میرا دل بچھ بچھ جاتا ہے

اس پتلے گیلے گیلے آبی کاغذ پر

جو یوں دور تک اس پانی پر چسپیدہ ہے

جس دن باری کا پانی لگتا ہے

اور سڑک کے ساتھ اک گھنے ذخیرے والی کیاری

تھمے ہوئے اور جمے ہوئے پارے سے بھر جاتی ہے

جب ان سطحوں پر کرنوں کی دھول بکھر جاتی ہے

اور ہوا کا ہلکے سے ہلکا جھونکا بھی ان کو چھونے سے ڈرتا ہے

تب تو ادھر ادھر ہی میرا دل کھنچتا ہے

مجھ کو بھا جاتی ہے

اچھے اچھے خیالوں کی چتریلی چادر اوڑھ کے ان چھتناروں میں یہ

بھٹکنے والی ٹھنڈک

سب کچھ تج کے، میں جب اس ٹھہرے پانی پر

سایوں اور شعاعوں کی جھلمل میں کھو جاتا ہوں

سارا آسمان اسی اجلے پانی پہ اتر کر مجھ کو دیکھ رہا ہوتا ہے

میں ہوں جگ جیون کے جوہر ڈھونڈنے والے جوہریوں کا جویا

مجید امجد

نیلے تالاب

سب اس گھاٹ پہ اک جیسے ہیں

جب سے نیل گگن کی ٹینکی سے پانی برسا ہے

جب سے سات سمندر، سات بھرے ہوئے ٹب پانی کے

اس آنگن میں رکھے ہیں

پہلے بھی سب لوگ اس گھاٹ پہ اک جیسے تھے

اور ۔۔۔ اب بھی، اس کالے نل میں جب سے

کھٹ سے کھچ کر آنے والا پانی

چھک سے گرنے لگا ہے

چکنی اینٹوں والے گھاٹ پہ سارے خدا اور سارے فرشتے اور سب روحیں

اپنے غرور کی اس پھسلن میں اک جیسی ہیں

اے رے شہرِ ابد کے واٹر ورکس کے رکھیا

دِلوں کی صد رخ نلکی میں اپنی سطحیں ہموار نہ رکھ سکنے والے سب پانی

سارے مقدس پانی

کس طرح تیرے نیلے تالابوں میں آ کر یک سو ہو جاتے ہیں

مجید امجد

کمائی

بندے، جب مٹی کے اندر بھر جاتا ہے

لہو کا دھارا …

پھر جب آنکھیں روح کی ٹھنڈی سطح کو چھو کر دیکھتی ہیں دنیا کو

پھر جب یوں لگتا ہے جیسے

اس پنڈے میں کھلی ہے سارے دیس کی سرسوں

پھر جب بانہیں ٹیڑھی ہو کر جھولتی ہیں چلنے میں

پھرجب نفرت ایک ادھورے پیارے دیکھ کے، ہنستی ہے ان پر، وہ جن

کی سچی سوچیں چلہ کش رہتی ہیں

پھر جب دل کہتا ہے: ’’اے رے کرجوے! آج ہمارے لیے تم

کتنے کرمنڈل بھیجو گے امرت جل کے؟‘‘

تب ایسے میں، کون یہ جانے، بندے

کون اس بھید کو پائے بندے!

کون دیکھے لہو کی لہر کا سب روغن تو

اس بھوجن کا رس ہے

وہ بھوجن جو کوڑا کرکٹ ہے اور جس کو کتے بھی نہیں کھاتے

مجید امجد

ڈر کاہے کا

ڈر کاہے کا

جتنا زور تمہارے خیال کی رو سے تمہارے بدن میں ہے وہ سارا زور لگا کر

(اور تمہاری صحت بھی تو خیر سے امڈی پڑتی ہے نا)

اپنے سارے بدن کا زور لگا کر

چھینو۔۔۔

اس سے، حصہ اس کے روزینے کا

اس سے، ہرعکس اس کے آئینے کا

سب سے، حق جینے کا

ڈر کاہے کا

گرجو! اور کالے رسوں کی گرہیں کھل جائیں گی

بپھرو! اور جابر ہاتھوں کی ریکھائیں گھل گھل جائیں گی

جھپٹو! اور سب قدریں اک میزان میں تل جائیں گی

یوں بھی نہ مقصد حاصل ہو تو پھر کیا

دیکھو، تمہارے گٹھیلے جثّے میں ہے ذہن کی جتنی طاقت، اس کو کام میں لاؤ

اس اک حرف کو دیکھو، شکل ہے جس کی اک زنجیر کی صورت

بھرے کٹہرے میں تم میز پہ مکہ مار کے کہہ دو

’’یہ اک حرف تو اس پستک میں نہیں کہیں بھی۔۔۔

پستک جس کے سب حرف اور سب سطریں سیدھی سیدھی ہیں‘‘

تم دیکھو گے، ترازو کا وہ پلڑا جس میں تم ہو، تمہاری جانب جھک جائے گا

رہ گئی اِک یہ مقدس مٹی ۔۔۔ ہمیں تو ہیں اس کے ریزہ چیں

ہم اس کی خاطر جی لیں گے، ہم اس کی خاطر مر لیں گے

مجید امجد

کوہِ بلند

تو ہے لاکھوں کنکریوں کے بہم پیوست دلوں کا طلسم

تیرے لیے ہیں ٹھنڈی ہوائیں ان بےداغ دیاروں کی

جن پر پیلے، سرخ، سنہری دنوں کی حکومت ہے

ایک یہی رفعت

ترے وجود کی قدر بھی ہے اور قوت بھی

تیرا وجود جو اس پاتال سے لے کر اوپر کی ان نیلی حدوں تک ہے

تو اس اونچی مسند پر سے جھک کر دیکھ نہیں سکتا

لیکن اس پاتال کے پاس جہاں میں ہوں

بڑا ہی گدلا اور کٹیلا ۔۔۔ کالی مٹی والا پانی ہے

زہرکدوں سے آنے والی ندیوں کا پانی

جس کی دھار تری پتھریلی دیواروں سے جب ٹکراتی ہے

تو میرے سینے میں دِل کی ٹوٹی کنکری ڈوبنے لگتی ہے

اے رے اونچی مسند والے پہاڑ!

کبھی تو اپنی خاطر میری سمت بھی جھک کر دیکھ

مجید امجد

ایکسیڈنٹ

مجھ سے روز یہی کہتا ہے پکی سڑک پر وہ کالا سا داغ جو کچھ دن پہلے

سرخ لہو کا تھا اک چھینٹا، چکنا، گیلا، چمکیلا چمکیلا

مٹی اس پہ گری اور میلی سی اک پپڑی اس پر سے اتری، اور پھر سیندھوری سا اک خاکہ ابھرا

جو اب پکی سڑک پر کالا سا دھبا ہے، پسی ہوئی بجری میں جذب اور جامد ۔۔۔ ان مٹ!

مجھ سے روز یہی کہتا ہے، پکی سڑک پر مسلا ہوا وہ داغ لہو کا

’’میں نے تو پہلی بار اس دن

اپنی رنگ برنگی قاشوں والی گیند کے پیچھے

یونہی ذرا اک جست بھری تھی

ابھی تو میرا روغن بھی کچا تھا

اس مٹی پر مجھ کو انڈیل دیا یوں کس نے

اوں اوں ۔۔۔ میں نہیں مٹتا، میں تو ہوں، اَب بھی ہوں‘‘

میں یہ سن کر ڈر جاتا ہوں

کالی بجری کے روغن میں جینے والے اس معصوم لہو کی کون سنے گا؟

ممتا بک بھی چکی ہے چند ٹکوں میں

قانون آنکھیں میچے ہوئے ہے

قاتل پہیے بےپہرا ہیں

مجید امجد

اپنی آنکھ پہ۔۔۔

اپنی آنکھ پہ پٹی باندھ کے دیکھو

اپنی اوٹ سے اپنے آپ کو دیکھو

اندھیارے میں سوچو

کس کے ٹھنڈے، مشفق، حکمت والے ہاتھ تھے جن میں

ٹھنڈی، تیز، کٹیلی دھار تھی دکھ کی

چرتی جلد سے گرتی انگارہ سی بوندیں

یہ اک سانس تو شاید۔۔۔

اس اک رکتی رستی سانس کے بعد تو شاید

میلی گیلی کافوری مٹی کا بچھونا۔۔۔

اس بچھونے سے میں اٹّھا

سدا جئیں وہ ٹھنڈے ہاتھ جنھوں نے پٹی باندھی

اب آنکھوں پر پٹی باندھ کے دیکھا، یہ دنیا کتنی اچھی ہے!

تنہا بیٹھ کے سوچا

اس اک اتنی اچھی دنیا میں بھی

کون ادھر کو میری جانب دیکھے گا

جب تک میری آنکھوں پر پٹی ہے!

مجید امجد

دنیا مرے لیے تھی۔۔۔

دنیا مرے لیے تھی اک بےمصرف مصروفیت

جیسے تھا ہی نہیں میں اس دنیا میں

جیسے موت مرے جی میں جینے آئی ہو

پھر جب ان کے کرم سے ان کا نام مرے ہونٹوں پر آیا

سارا زمانہ، سب تقدیریں، دنیائیں اور چاند ستارے

سب کچھ تھا بس ایک تموّج

لہریں میں جن میں بہتا تھا

لہریں جو میرے جی میں بہتی تھیں

میں تو اس قابل بھی نہیں تھا۔۔۔

یہ سب ان کا کرم تھا

وہ مجھ کو یاد آئے تھے

میں نے ان کو یاد کیا تھا

مجید امجد

اس دن اس برفیلی تیز ہوا۔۔۔

اس دِن اس برفیلی تیز ہوا کے سامنے میں کچھ پہلے سے بھی زیادہ بوڑھا بوڑھا سا لگتا تھا

شاید واقعی اتنے ترس کے قابل ہی تھا

اس دن تم نے مجھ سے کہا تھا

اک دن میرے لیے تم اس دنیا کو بدل دو گی، یہ تم نے کہا تھا

اس دن بھری سڑک پر تم نے پیڈل روک کے۔۔۔

اپنے بائیسکل کو میرے بائیسکل کے ساتھ ساتھ چلا کر، مجھ سے کہا تھا:

’’آپ ایسے لوگوں کو بھی روز یہاں پتھر ڈھونے پڑتے ہیں، روٹی کے ٹکڑے کی خاطر‘‘

تھوڑی دور تک بھری سڑک پر، دو پہیوں کے ساتھ وہ دو پہیے ڈولے تھے

دندانوں میں ٹک ٹک کتے بولے تھے، سب دنیا نے دیکھا تھا

اور اس دن میں نے اپنے دل میں سوچا تھا

’’کیسا شہر ہے یہ بھی، ایسی ایسی باغی روحیں بھی اس میں بستی ہیں۔۔۔‘‘

میں تو اسی تمھارے شہر میں اب بھی روز اک میز پہ پتھر ڈھونے جاتا ہوں

کاغذ کے پتھر

لیکن جانے تم اب کہاں ہو، اے ری گول مٹول، سیانی گڑیا

بیٹی! شاید تو تو کہیں کسی دہلیز پہ دو منقوط گلابی گال آنکھوں سے لگا کر

نئی سفید جرابوں والے کسی کے ننھے سے پیروں میں گرگابی کے تسمے کسنے بیٹھ گئیں

اور یہاں، ادھر اب، ساتھ ساتھ جڑے ہوئے میزوں کی ایک لمبی پٹڑی بچھ بھی چکی ہے

حدِ زمیں تک

ظلم کے ٹھیلے روز اس پٹڑی پر بےبس زندگیوں کو دور افق کے گڑھے میں ڈھونے

آتے ہیں!

اور میں، اب بھی تمھارے کہے پر، اس پٹڑی کے اک تختے پر

عمروں کی گنتی کے چھٹے دہے پر

اس دنیا کا رستہ دیکھ رہا ہوں جس میں تمھارے نازک دل کی

مقدس سچائی کا حوالہ بھی تھا

جانے پھر تم کب گزرو گی ادھر سے … اس دنیا کو ساتھ لیے…

مجید امجد

مسلَخ

روز اس مسلخ میں کٹتا ہے ڈھیروں گوشت

دھرتی کے اس تھال میں، ڈھیروں گوشت

اور پھر یہ سب ماس

چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں

بستی بستی گلیوں اور بازاروں میں

لمبی لمبی قطاروں میں

جدا جدا تقدیروں میں

بٹتا جاتا ہے۔۔۔

ہر ٹکڑے کی اپنی آنکھیں، اپنا جسم اور اپنی روح

کہنے کو تو ہر ٹکڑے کا اپنا اپنا نام بھی ہے اور اپنا اپنا دیس بھی ہے

اپنی اپنی امنگیں بھی

… لیکن کچھ بھی ہو

آخر یہ سب کچھ کیا ہے

ڈھیروں گوشت

کھالیں، بھیجے، انتڑیاں

یہ سب خودآگاہ، جیالے لوگ

میں نے آج جنھیں اس برسوں پہلے کی تصویر میں دیکھا ہے

یہ سب جسم

جیتے ریشوں کے کس بل میں سنبھلتے ہوئے یہ دھڑ

آج کہاں ہیں یہ سب لوگ؟

اب تو ان کی بو تک بھی

شہرِ ابد کے تہہ خانوں سے نہیں آتی

باقی کیا ہے ۔۔۔ صرف

سورج کی اک چنگاری۔۔۔

اَور اس چنگاری کے دل میں دھڑکنے والی کلی

جس کی ہر پتی کا ماس

فرد!۔۔۔

عصر۔۔۔!

حیات۔۔۔!

مجید امجد

فردا

1968 میں مجید امجد’فعلن فعلن’کے آہنگ سے مکمل طور پر مسحور ہو گئے تھے۔اس سے پہلے یہ واردات میر تقی میر پر بھی گزری تھی، جنہوں نے اس بحر میں دو تین سو غزلیں لکھ ڈالی تھیں۔میر کے بعد یہ بحر امجد کے مزاج کو راس آئی۔چنانچہ وہ چھ سات سال تک تمام نظمیں اسی بحر میں لکھتے چلے گئے۔ان نظموں کے بارے میں عام قاری کی رائے ہے کہ یہ ان کی کمزور نظمیں ہیں جبکہ بعض سنجیدہ قارئین اور وسیع المطالعہ ناقدین کے خیال میں یہ ان کی بہترین تخلیقاتت ہیں۔بہرحال یہ مستقبل کی نظمیں ہیں اور ان کی حیثیت کا تعین آنے والا زمانہ کرے گا

خواجہ محمد زکریا

مجید امجد

یادوں کا دیس

کیسے جاؤں، کیسے پہنچوں یادوں کے اس دیس

جہاں کبھی اک آنگن کی دیوار پہ چپکے سے

دودھ کا ایک کٹورا رکھ جاتے تھے میرے لیے

غیبی ہاتھ ۔۔۔ جنھیں مٹی کی تہوں نے ڈھانپ لیا

جہاں کبھی اک قبے دار مکاں میں شام ڈھلے

نیلے پیلے شیشوں والے صندوقوں کے پاس

میرے لیے آٹے کے کھلونے توے پہ تلتے تھے

اچھے ہاتھ ۔۔۔ جو مٹی کے کنگن میں گئے پتھرا

شاید ان دو قبروں کے اَب مٹ بھی چکے ہوں نشان

لیکن اس بجریلے پتھر پر اب بھی ہیں میرے ساتھ

وہ دو محافظ روحیں جن کے چار مقدس ہاتھ

ڈھال گئے ہیں انگاروں میں انگ انگ مرا

مجید امجد

اس نے کل مڑ کے مجھ سے دل مانگا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 86
روئے عالم تھا جس کی جولاں گہ
اس نے کل مڑ کے مجھ سے دل مانگا
دھیان میں روز چھم چھماتا ہے
قہقہوں سے لدا ہوا تانگا
دو طرف بنگلے، ریشمی نیندیں
اور سڑک پر فقیر اک نانگا
اب کے تو بک گیا سرِ مسجد
ان سیہ آڑھتوں میں اک بانگا
سبز پتوں کی اک فصیل ابھری
جب بھی گنجان باڑ کو جھانگا
وقت کے گھاٹ پر کسی کو تو ہو
اپنے دل میں اترنے کا ہانگا
پھونک کر بانسری میں آگ اک بار
گانے والے سرودِ باراں گا
مجید امجد

حضرت زینب

وہ قتل گاہ، وہ لاشے، وہ بے کسوں کے خیام

وہ شب، وہ سینۂ کونین میں غموں کے خیام

وہ رات جب تری آنکھوں کے سامنے لرزے

مرے ہوؤں کی صفوں میں ڈرے ہوؤں کے خیام

یہ کون جان سکے، تیرے دل پہ کیا گزری

لٹے جب آگ کی آندھی میں غمزدوں کے خیام

ستم کی رات کی کالی قنات کے پیچھے

بڑے ہی خیمۂ دل میں تھے عشرتوں کے خیام

تری ہی برقِ صدا کی کڑک سے کانپ گئے

بہ زیرِ چتر مطلا شہنشہوں کے خیام

جہاں پہ سایہ کناں ہے ترے شرف کی ردا

اکھڑ چکے ہیں ترے خیمہ افگنوں کے خیام

مجید امجد

کون دیکھے گا؟

جو دن کبھی نہیں بیتا ۔۔۔ وہ دن کب آئے گا؟

انھی دنوں میں اس اک دن کو کون دیکھے گا!

اس ایک دن کو جو سورج کی راکھ میں غلطاں

انھی دنوں کی تہوں میں ہے، کون دیکھے گا

اس ایک دن کو جو ہے عمر کے زوال کا دن

انھی دنوں میں نمویاب کون دیکھے گا

یہ ایک سانس، جھمیلوں بھری، جگوں میں رچی

اس اپنی سانس میں کون اپنا انت دیکھے گا

اس اپنی مٹی میں، جو کچھ امٹ ہے، مٹی ہے

جو دن ان آنکھوں نے دیکھا ہے، کون دیکھے گا

میں روز ادھر سے گزرتا ہوں، کون دیکھتا ہے

میں جب ادھر سے نہ گزروں گا، کون دیکھے گا

دورویہ ساحلِ دیوار، اور پس دیوار

اک آئینوں کا سمندر ہے، کون دیکھے گا

ہزار چہرے خودآرا ہیں، کون جھانکے گا

مرے نہ ہونے کی ہونی کو کون دیکھے گا

تڑخ کے گرد کی تہہ سے اگر کہیں کچھ پھول

کھلے بھی، کوئی تو دیکھے گا ۔۔۔ کون دیکھے گا

مجید امجد

جہاں نورد

سفر کی موج میں تھے، وقت کے غبار میں تھے

وہ لوگ جو ابھی اس قریۂ بہار میں تھے

وہ ایک چہرے پہ بکھرے عجب عجب سے خیال

میں سوچتا تو وہ غم میرے اختیار میں تھے

وہ ہونٹ جن میں تھا میٹھی سی ایک پیاس کا رس

میں جانتا تو وہ دریا مرے کنار میں تھے

مجھے خبر بھی نہ تھی اور اتفاق سے کل

میں اس طرف سے جو گزرا، وہ انتظار میں تھے

میں کچھ سمجھ نہ سکا، مری زندگی کے وہ خواب

ان انکھڑیوں میں جو تیرے تھے، کس شمار میں تھے

میں دیکھتا تھا، وہ آئے بھی اور چلے بھی گئے

ابھی یہیں تھے، ابھی گردِ روزگار میں تھے

میں دیکھتا تھا، اچانک، یہ آسماں، یہ کُرے

بس ایک پل کو رکے اور پھر مدار میں تھے

ہزار بھیس میں، سیار موسموں کے سفیر

تمام عمر مری روح کے دیار میں تھے

مجید امجد