زمرہ جات کے محفوظات: مجید امجد

اپنے طغیان کی سزا یہ خیال

مجید امجد ۔ غزل نمبر 193
نئی صبحوں کی سیر کا یہ خیال
اپنے طغیان کی سزا یہ خیال
میّتوں کو لحد میں کلپائے
ہو سکے سجدہ اک ادا، یہ خیال
سب کی روحیں تھیں ریت کے بربط
اک مری زیست میں جیا یہ خیال
اتنے رنگوں میں یہ گلاب کے پھول
اتنے رنگوں میں موت کا یہ خیال
ابر ہیں امجد اور یہ جنتِ برگ
دیکھ سمتوں کو ربط کا یہ خیال
وفات کے بعد نامکمل شکل میں ملی
مجید امجد

سنا ہے میں نے

سنا ہے میں نے کہ شعری ؎۱ تمھاری سمتِ سفر

بساطِ گل پہ بچھی برف کی سلوں میں ہے

تمھارا قافلۂ شوق جاگزیں اب کے

کنارِ کوہ پہ نیلم کے ساحلوں میں ہے

تمھیں تلاش ہے جس عالمِ مسرت کی

وہ سبز کنجوں نہ گل پوش منزلوں میں ہے

تمھارے بعد مجید امجد اور انجم ؎ ۲ نے

بسا لیا وہ سوات ان کے جو دلوں میں ہے

لذیذ پانی پیا، سیب کھائے، شعر پڑھے

اک ایسا دن کہاں دنیا کی محفلوں میں ہے

ہماری روح کی سیف الملوک جھیل کے پاس

ہمارا تذکرہ جنت شمائلوں میں ہے

کبھی کبھی جو ہمارے دلوں میں جھانکتا ہے

کہاں وہ لمحہ زمانے کے محملوں میں ہے

(نوٹ: یہ قطعہ ارتجالاً لکھا گیا تھا۔)

؎۱ مجید امجد کے نہایت عزیز دوست جن کا قیام جھنگ میں تھا۔ انتقال ہو چکا ہے۔

؎۲ پروفیسر تقی انجم، سابق پرنسپل گورنمنٹ کالج جھنگ

مجید امجد

یہ دن، یہ تیرے شگفتہ دنوں کا آخری دن

یہ دن، یہ تیرے شگفتہ دنوں کا آخری دن

کہ جس کے ساتھ ہوئے ختم لاکھ دورِ زماں

چناب چین وہ دنیا، یہ عصر راوی رو

کبھی نہ ٹوٹنے والی رفاقتوں کے جہاں

وہ سب روابطِ دیرینہ یاد آتے ہیں

ترا خلوص، تری دوستی، ترے احساں

مسرتوں میں لہکتے ہرے بھرے ایام

قدم قدم پہ ترا لطفِ خاص ہمدمِ جاں

اور اب یہ تیرگیاں۔۔۔ اب کہاں تلاش کریں

وہ شخص پیکرِ صدق اور وہ فرد فیض رساں

رہِ عدم کے مسافر، ذرا پلٹ کے تو دیکھ

گرفتہ جاں ہے ترے غم میں بزمِ ہم نفساں

ترے کرم کی بہاروں میں سوگوار ہیں، دیکھ

ترے چمن کے گل و سرو و لالہ و ریحاں

امڈ امڈ کے سدا گزرے گی غموں کی یہ موج

دلوں کی بستیوں سے تا بہ ساحلِ دوراں

ابھی ابھی وہ یہیں تھا۔۔۔ زمانہ سوچے گا

انھی گلوں میں ہیں اس کے تبسموں کے نشاں

ابھی ابھی انھی کنجوں میں اس کے سائے تھے

ابھی ابھی تو وہ تھا ان برآمدوں میں یہاں

کوئی یقین کرے گا، اک ایسی عظمت بھی

کبھی تھی حصۂ دنیا، کبھی تھی جزوِ جہاں

ہمی نے دیکھا ہے اس کو، ہمیں خبر ہے وہ شخص

دلوں کی روشنیاں تھا، دلوں کی زندگیاں

ہمیں خبر ہے، بڑے حلم و آبرو والے

ترا مقام کسی اور کو نصیب کہاں

زمانہ سوچے گا، وہ ایک کون تھا تجھ سا

جو ان دیاروں سے گزرا تھا یوں گہر افشاں

اور اب جو تو نہیں، کچھ بھی نہیں، نہ ہم نہ حیات

ہر ایک سمت اندھیرا، ہر ایک سمت خزاں

جگہ جگہ تری موجودگی کو پاتے ہیں

ہمارے دردِ فراواں، ہمارے اشکِ رواں

ترے لیے جھکے مینائے کوثر و تسنیم

ترے لیے کھلیں درہائے روضۂ رضواں

مجید امجد

ہے میرے ساتھ تو اب ختم قرنِ آخر بھی

مجید امجد ۔ غزل نمبر 190
چمن تو ہیں نئی صبحوں کے دائمی، پھر بھی
ہے میرے ساتھ تو اب ختم قرنِ آخر بھی
مری ہی عمر تھی جو میں نے رائیگاں سمجھی
کسی کے پاس نہ تھا ایک سانس وافر بھی
خود اپنے غیب میں بن باس بھی ملا مجھ کو
میں اس جہان کے ہر سانحے میں حاضر بھی
ہیں یہ کھنچاؤ جو چہروں پہ آب و ناں کے لیے
انھی کا حصہ ہے میرا سکونِ خاطر بھی
میں اس جواز میں نادم بھی اپنے صدق پہ ہوں
میں اس گنہ میں ہوں اپنی خطا سے منکر بھی
یہ کس کے اذن سے ہیں اور یہ کیا زمانے ہیں
جو زندگی میں مرے ساتھ ہیں مسافر بھی
ہیں تیری گھات میں امجد جو آسمانوں کے ذہن
ذرا بہ پاسِ وفا ان کے دام میں گر بھی
مجید امجد

دور ایک بانسری پہ یہ دھن: ’پھر کب آؤ گے؟‘

مجید امجد ۔ غزل نمبر 189
صبحوں کی وادیوں میں گلوں کے پڑاؤ تھے
دور ایک بانسری پہ یہ دھن: ’پھر کب آؤ گے؟‘
اک بات رہ گئی کہ جو دل میں نہ لب پہ تھی
اس اک سخن کے وقت کے سینے پہ گھاؤ تھے
کھلتی کلی کھلی کسی تاکید سے نہیں
ان سے وہ ربط ہے جو الگ ہے لگاؤ سے
عیب اپنی خوبیوں کے چنے اپنے غیب میں
جب کھنکھنائے قہقہوں میں من گھناؤنے
کاغذ کے پانیوں سے جو ابھرے تو دور تک
پتھر کی ایک لہر پہ تختے تھے ناؤ کے
کیا رو تھی جو نشیبِ افق سے مری طرف
تیری پلٹ پلٹ کے ندی کے بہاؤ سے
امجد جہاں بھی ہوں میں، سب اس کے دیار ہیں
کنجن سہاؤنے ہوں کہ جھنگڑ ڈوراؤنے
مجید امجد

صحّت کا ایک پہلو مریضانہ چاہیے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 188
ہر وقت فکرِ مرگِ غریبانہ چاہیے
صحّت کا ایک پہلو مریضانہ چاہیے
دنیائے بے طریق میں جس سمت بھی چلو
رستے میں اک سلامِ رفیقانہ چاہیے
آنکھوں میں امڈے روح کی نزدیکیوں کے ساتھ
ایسا بھی ایک دور کا یارانہ چاہیے
کیا پستیوں کی ذلتیں، کیا عظمتوں کے فوز
اپنے لیے عذاب جداگانہ چاہیے
اب دردِ شش بھی سانس کی کوشش میں ہے شریک
اب کیا ہو، اب تو نیند کو آ جانا چاہیے
روشن ترائیوں سے اترتی ہوا میں آج
دو چار گام لغزشِ مستانہ چاہیے
امجد ان اشکبار زمانوں کے واسطے
اک ساعتِ بہار کا نذرانہ چاہیے
مجید امجد

خرید لوں میں یہ نقلی دوا، جو تو چاہے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 187
بنے یہ زہر ہی وجہِ شفا، جو تو چاہے
خرید لوں میں یہ نقلی دوا، جو تو چاہے
یہ زرد پنکھڑیاں جن پر کہ حرف حرف ہوں میں
ہوائے شام میں مہکیں ذرا، جو تو چاہے
تجھے تو علم ہے، کیوں میں نے اس طرح چاہا
جو تو نے یوں نہیں چاہا تو کیا، جو تو چاہے
جب ایک سانس گھسے، ساتھ ایک نوٹ پسے
نظامِ زر کی حسیں آسیا، جو تو چاہے
بس اک تری ہی شکم سیر روح ہے آزاد
اب اے اسیرِ کمندِ ہوا، جو تو چاہے
ذرا شکوہِ دو عالم کے گنبدوں میں لرز
پھر اس کے بعد ترا فیصلہ، جو تو چاہے
سلام ان پہ، تہہِ تیغ بھی جنھوں نے کہا
جو تیرا حکم، جو تیری رضا، جو تو چاہے
جو تیرے باغ میں مزدوریاں کریں امجد
کھلیں وہ پھول بھی اک مرتبہ، جو تو چاہے
مجید امجد

خود ہی لڑے بھنور سے! کیوں زحمت کی؟ ہم جو بیٹھے تھے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 186
پھر تو سب ہمدرد بہت افسوس کے ساتھ یہ کہتے تھے
خود ہی لڑے بھنور سے! کیوں زحمت کی؟ ہم جو بیٹھے تھے
دلوں کے علموں سے وہ اجالا تھا، ہر چہرہ کالا تھا
یوں تو کس نے اپنے بھید کسی کو نہیں بتائے تھے
ماتھے جب سجدوں سے اٹھے تو صفوں صفوں جو فرشتے تھے
سب اس شہر کے تھے اور ہم ان سب کے جاننے والے تھے
اہلِ حضور کی بات نہ پوچھو، کبھی کبھی ان کے دن بھی
سوزِ صفا کی اک صفراوی اکتاہٹ میں کٹتے تھے
قالینوں پر بیٹھ کے عظمت والے سوگ میں جب روئے
دیمک لگے ضمیر اس عزتِ غم پر کیا اترائے تھے
جن کی جیبھ کے کنڈل میں تھا نیشِ عقرب کا پیوند
لکھا ہے، ان بدسخنوں کی قوم پہ اژدر برسے تھے
جن کے لہو سے نکھر رہی ہیں یہ سرسبز ہمیشگیاں
ازلوں سے وہ صادق جذبوں، طیب رزقوں والے تھے
مجید امجد

اک یہ ملک، اور رزق اور گیت اور خوشیاں

مجید امجد ۔ غزل نمبر 185
مل کر سب تعمیر کریں اک ارماں
اک یہ ملک، اور رزق اور گیت اور خوشیاں
جیتی مٹی! تیرے نام کی ٹھنڈک
میرے اک اک گرم آنسو میں پنہاں
گلی کوئی بےنام، مکاں میں بےنمبر
ہے آباد مرا گھر، کنعاں کنعاں
شفق دھلی میزوں کے گرد وہ چہرے
آنکھیں جن میں جییں کسی کے پیماں
دور سے دیکھو، اونچا پل اس شہر کا
پانیوں پر اک لوہے کی یہ کہکشاں
ذکر کا اک پل اس کمرے میں گراں اور
اک بےمصرف سال کا چلّہ ارزاں
لوحیں طاق پہ ہیں اور ان کے نوشتے
تقدیروں میں تڑپنے والے طوفاں
دنیا اک دائم آباد محلہ
اس اینٹوں کے ابد میں سائے انساں
مجید امجد

اور ہمارے وجود۔۔۔

اور ہمارے وجود، ہمارے خیال، ہماری عاجزیاں… سب اس کے لیے ہیں

جس کو ان کی ضرورت بھی نہیں، اپنی منشاؤں میں۔۔۔ اپنے فیصلوں کے وقت

سدا، زمانوں زمانوں، تہذیبوں تہذیبوں، کیسے کیسے تمرد والے قہقہے

اس کو بھلا دینے میں ابھرے ہیں جو ہمارے نسیانوں میں ہمیشہ سے اک جیتی یاد ہے

اپنے آپ کو دیکھوں تو خود بھی اپنے گمانوں کے بارے میں کیسے خیال رکھتا ہوں

میری حد تک فرق اتنا ہے

مجھ کو بھی اوروں کے جھوٹ نے روند ڈالا ہے

اب میں کس پر جھپٹوں، اس سچائی کے بل پر جو مجھ میں ہے اور جس کو جھٹلانے میں

لگی رہی ہیں میرے لہو کی گردشیں

کچھ ہو۔۔۔ اس کے ہست کا اجرا یا اس کے عندیے کی قطعّیت

کچھ ہو ۔۔۔ ہر حالت میں اس کو پسند ہے صرف اک وہ سچائی

جو سب سے پہلے مٹی کے اک پتلے کے دل میں سہمی ہوئی اتری تھی

اک ہی سچا انسان اس کے سامنے رہا ہے، ہر عالم میں، لاکھوں تیرتی ڈوبتی

تہذیبوں کے درمیان

مجید امجد

اے دل اب تو۔۔۔

اے دل، اب تو کچھ ڈر

اپنے یقینوں سے ڈر

اپنے نہ ڈرنے سے ڈر

اب تو تو نے اپنے سپنوں میں خود سن لیے ایسے ایسے بول

ان سنے ۔۔۔ سہانے

چلتی مشین گنوں سے چھدے ہوئے وہ بول، اک ان جانی بولی میں

بول، کہ جو مرنے والوں کی آخری کراہوں میں دم بھر کو جیے تھے

جب چوبی کھمبوں سے

بندھے ہوئے اعضا اس کڑے کساؤ میں آزادی سے تڑپ بھی نہیں سکے تھے

اور کھمبوں سے ڈھلک گئے تھے

گولیوں سے دھنکے ہوئے

ریزہ ریزہ

خوں چکاں!

اور ۔۔۔ وہ ان کے آخری مختصر، بول سہانے

اَن جانے وطنوں کے ترانوں کے وہ ٹوٹتے جڑے ماترے

اپنے اختیاروں میں اتنے بےبس اور اپنے اطمینانوں میں اتنے بےکل

وہ سب اتنے مقدس حرف جو خواب میں ان سب تصویروں کے ساتھ ابھرے تھے

خواب میں کتنے اچھے لگے تھے۔۔۔ اور اب جاگنے میں تجھ کو اپنے آپ پہ حیرت کیوں ہے

اب وہ پنکھڑیاں اس عجلت سے جھٹک بھی دیں تو نے اپنے دامن سے

اے دل، کچھ ڈر

اے دل، کچھ دیکھ

کتنے قیمتی، کتنے نازک ہیں یہ رابطے جن سے نظام ان تیری ٹک ٹک چلتی راحتوں کے

قائم ہیں ۔۔۔

مجید امجد

اے ری صبح۔۔۔

اے ری صبح کی اجلی زرق برق گزرگاہوں پر چیختی، اڑتی، بےبس خوشبو

یہ نفرت کی دولت تجھ کو بھی تو خرید سکتی ہے

تو نے یہ تو دیکھا ہوتا، تیرا نظر نہ آنے والا بدن کن کن بدنوں پہ لباس ہے

تجھ سے اور کیا ہو سکتا تھا

اس طرح اب جن پیرہنوں نے تجھ کو جھٹک دیا ہے

تو نے ان کی سجل کریزوں پر یوں ٹوٹ کے گرنا ہی تھا

کیسی ہیں یہ سپردگیاں جن میں سچ کی رمزوں کی پسپائی ہے

تو نے یہ تو دیکھا ہوتا، تو جن شستہ پہناووں پر یوں لہلوٹ ہے

ان سے ڈھکے ہوئے جثّوں میں پل پل کیسے تریڑے پڑتے ہیں اس زرد لہو کے

جو کالے رزقوں سے کشید ہوتا ہے

اے اس دنیا کی اچھائیوں کے تت ست میں پنپنے والی روحوں کی روح

کبھی تو تو ان باغوں سے بھی گزرتی

جہاں وہ مہکتے پھول نہیں کھلتے جو دوزخوں کی ٹھنڈک ہیں

مجید امجد

کیا قیمت۔۔۔

کیا قیمت اس مٹی کی جو اب مٹی بھی نہیں ہے

آنسوؤں کے پانی سے نمک کا مالیدہ ہے

لاکھوں رُتیں گلابوں کی اس میں کافور ہیں

اس مٹی میں سونے والے نام سدا باقی ہیں دنیا والوں کے حرفوں کے حنوط سے

اس کی اک ڈھیری پر آنکھیں میچ کے ہاتھ اٹھاؤ تو دھیان ایسے ایسے خیالوں

کی جانب جاتے ہیں

جن سے دونوں جہاں زندہ ہیں

لیکن ہائے وہ مٹی جو اب مٹی میں مٹی بھی نہیں ہے

جس پر صدیوں کے گارے کی تہیں ہیں

دیکھو تو یہ مٹی کہاں نہیں ہے، کہاں کہاں یہ ہاتھ اٹھیں گے

کس کو خبر ان ٹھیکریوں سے ڈھکی ہوئی ڈھلوان کے نیچے

ان آہن ریزوں سے چنی ہوئی بنیاد کے نیچے

کس کس سونے والے کے کچے مسکن کی ڈاٹ ہے جس میں دیے ابد کے ٹمٹماتے ہیں

کہاں کہاں یہ ہاتھ اٹھیں گے

چلتے چلتے ذرا ٹھٹک کر سوچو تو، اک جھونکے میں لپٹ ہے ایسے ایسے

خیالوں کی جن سے یہ دونوں جہاں زندہ ہیں

مجید امجد

ہر جانب ہیں۔۔۔

ہر جا نب ہیں دلوں ضمیروں میں کالے طوفانوں والے لفظ۔ ہزاروں گھنی بھنووں کے نیچے

گھات میں

اب تو میرے لبوں تک آ بھی، حرفِ زندہ

ہر جانب گلیوں کے دلدلی تالابوں میں، بےستر، ہراساں کھڑی ہیں روحیں

قدم کھبے ہیں نیلے کیچڑ میں، اور ان کی ڈوبتی نظروں میں اک بار ذرا تیری تھی ان کی زندگی

ابھی ابھی، اک پل کو

اور اب پھر کالے طوفانوں والے لفظ ان کے لیے جانے کیا کیا سندیسے لائے ہیں

ان کو زندہ رکھیو، حرفِ زندہ!

مدتوں سے بے یاد ہے تو میرے نسیانوں میں، اے حرفِ زندہ

اب تو میرے لبوں پر آ بھی

اب ۔۔۔ جب میرے دیکھتے دیکھتے کالے طوفانوں والے لفظوں کا آبی فرش اک

بچھ بچھ گیا ہے، دور افق کے پیچھے، کہیں ان پانیوں تک جن پر اک ناخدا پیغمبر کی دعاؤں

کے بجرے تیرے تھے

میرے نسیانوں میں جہندہ، حرفِ زندہ

تیرے معنوں میں موّاج ہیں وہ سب علم جو روحوں کو کھیتے ہیں اس اک گھاٹ کی سمت

جہاں امید اور خوف کے ڈانڈے مل جاتے ہیں

اب تو ساری دنیا میں سے جس اک شخص کو ڈوبنا ہے، وہ میں ہوں

اب تو ساری دنیا میں وہ شخص جو تیر کے بچ نکلے گا، میں ہوں

مجید امجد

یہ ایک صبح تو ہے سیرِ بوستاں کے لیے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 179
بچا کے رکھا ہے جس کو غروبِ جاں کے لیے
یہ ایک صبح تو ہے سیرِ بوستاں کے لیے
چلیں کہیں تو سیہ دل زمانوں میں ہوں گی
فراغتیں بھی اس اک صدقِ رائیگاں کے لیے
لکھے ہیں لوحوں پہ جو مردہ لفظ، ان میں جییں
اس اپنی زیست کے اسرار کے بیاں کے لیے
پکارتی رہی ہنسی، بھٹک گئے ریوڑ
نئے گیاہ، نئے چشمۂ رواں کے لیے
سحر کو نکلا ہوں مینہ میں اکیلا کس کے لیے؟
درخت، ابر، ہوا، بوئے ہمرہاں کے لیے
سوادِ نور سے دیکھیں تو تب سراغ ملے
کہ کس مقام کی ظلمت ہے کس جہاں کے لیے
تو روشنی کے ملیدے میں رزق کی خاطر
میں روشنائی کے گودے میں آب و ناں کے لیے
ترس رہے ہیں سدا خشت خشت لمحوں کے دیس
جو میرے دل میں ہے اس شہرِ بےمکاں کے لیے
یہ نین، جلتی لووں، جیتی نیکیوں والے
گھنے بہشتوں کا سایہ ہیں ارضِ جاں کے لیے
ضمیرِ خاک میں خفتہ ہے میرا دل امجد
کہ نیند مجھ کو ملی خوابِ رفتگاں کے لیے
مجید امجد

کچھ دن پہلے۔۔۔

کچھ دن پہلے کی بارش کے بعد… اب گیلی فضائیں سوکھ کے تڑخنے لگی ہیں

دھول کے ہلکے ہلکے آسمان جھکے ہوئے ہیں پانیوں پر جو

بھرے ہوئے ہیں دھان کی اک کیاری میں، پکی سڑک کے ساتھ ساتھ

سورج گرد کے پیچھے چھپا ہوا ہے

کیسا دن ہے

صرف اک ٹھنڈے سے جھونکے کی کمی ہے جس کا گزر ان آسمانوں میں ہے نہ

خیالوں میں

پکی سڑک پر صدہا پہیے گردش میں ہیں، کالے رزقوں کی سمت، آگ لگی آوازوں کے ساتھ

۔۔۔ اور

اک میں سوچتا ہوں، ہر سو، ہر شے پر، گرد کی تہہ کیوں ہے، موت پر بھی

اور زندگی پر بھی۔۔۔

دل کہتا ہے:

شاید مینہ پھر بھی برسے گا

مجید امجد

مطلب تو ہے وہی ۔۔۔

مطلب تو ہے وہی ۔۔۔ تم چاہے برف کے بلاکوں سے اک بھرے ہوئے رہڑے کو کھینچو۔۔۔

(سامنے پل کی چڑھائی ہے، ہاں، دیکھ کے، بوٹ نہ پھسلیں۔۔۔

اور اب تھم کے، آگے رستہ صاف ہے، عینک کے گیلے شیشوں کو پونچھو ۔۔۔ چلو ۔۔۔ چلو)

یا اک ڈسک پہ جھک کے لفظ تراشو، اپنے دل کی چٹان کو توڑ کے

دونوں صورتیں، ایک ہی بات

تمھیں تو اک اَن دیکھے تازیانے کی بےآواز آواز پر

عدل کی چکی پیسنی ہے اور عدل کی چکی میں خود بھی پسنا ہے

اس چکی سے گرتا گرم سنہرے آٹے کا جھرنا تو جانے کس کس کیفیت میں گندھے گا

اپنے جتنوں میں تم جن رتنوں کو ڈھونڈ رہے ہو، جانے کن پتنوں کے پار ملیں گے

اس دوران میں کُرے پھسلتے رہیں گے

جسموں کی سوجی ہوئی لہروں کا فرش اس دریا پر ٹوٹتا جڑتا رہے گا

کہیں کناری دار آنچل کے بیضوی چوکھٹے میں اک چہرہ

اک لب بستہ چہرہ

اپنے آپ یہ اپنی آنکھیں جھکاتے

سوچے گا: تم اس کی جانب کب دیکھو گے!

اور کہیں ظلموں کی زد میں دکھ کی اک چیخ

اپنے دردوں میں بہہ جائے گی یہ جان کے: تم امداد کو آ نہ سکو گے

ہاں۔۔۔ تو ۔۔۔ ڈر گئے نا تم ۔۔۔ تم اور کر بھی کیا سکتے تھے

اک یہ ڈر ہی تو وہ تمھاری قوت ہے، تم جس پہ بھروسا کر سکتے ہو

اک بار اور اپنی پوری قوت سے توجہ

ورنہ برف کے لفظوں میں سب آگ پگھل جائے گی

مجید امجد

میرے دل میں ۔۔۔

میرے دل میں غم کے دشنے کی دھار اتری ہے

دل کا اک ٹکڑا دل سے کٹ کر گرنے کو ہے

ایسے میں اک مونس سچائی ہنستی ہوئی میرے سامنے آتی ہے

اور میں اک ہاتھ سے اپنے دل کے گرتے ہوئے ٹکڑے کو دل پر جوڑ کے، کس کے

گہرے کرب کی لذت میں مسکا کر

دوسرے ہاتھ سے اس کو بڑھ کے سلام کرتا ہوں

پھر میں دیکھتا ہوں، دنیا والوں کی ملاقاتوں میں ہمیشہ

ہر سچائی کا اک ہاتھ تو صرفِ مصافحہ ہوتا ہے

اور دوسرا ہاتھ اتنی ہی مضبوطی سے اپنے دل کی گرتی ہوئی اک پھانک کو

دل کے ساتھ دبائے ہوئے ہوتا ہے

سچی بات جو دل کو لبھاتی ہے، اک دل سے دوسرے دل تک کس مشکل سے

سفر کرتی ہے

اتنی برکتوں والے مکر کی بھی کیا بات ہے

مجید امجد

صبح ہوئی ہے۔۔۔

صبح ہوئی ہے، صبح جو نیندوں میں جینے والی اک موت سے جاگ اٹھنے کی انگڑائی ہے

سونے والو، تمہاری خاک آلودہ لمبی نیندیں میری اک اک شب کی

نیند کی ہمیشگیاں ہیں

سونے والو، جیسی تمہارے وقتوں میں تھی، اب بھی اسی طرح سے ہے یہ دنیا

صبحیں ۔۔۔ اور ان کے بعد آتی شاموں کے کالے جھونکے جن کے دامن میں

موت ہے نیندوں میں ابدائی ہوئی

اور گلی کی ٹوٹی سلاخوں والی نالی تک آ کر جب اک بوڑھے نے

اپنے کھوکھلے پوپلے سے جبڑے کو عصا کے خم پر رکھ کے جنازہ برداروں سے پوچھا:

’’کون تھا؟‘‘ ۔۔۔ تو گدرایا ہوا اک ماتمی بولا:

’’کوئی مہلت مند تھا، ہم تو کاندھا دینے چل پڑے اس کے ساتھ، کہ وہ سو برس جیا تھا‘‘

اور اک بےآب آنسو کی سسکی جب

بھرے محلے کے دروازوں اور منڈیروں سے گزری تو موت کی لذت سے

سب چہرے تمتما اٹھے

یہ سب اپنے خواب ہیں، سونے والو

خواب ہمارے جن میں تمہاری دنیا جاگتی ہے، اے سونے والو!

ہر روز ان صبحوں میں، اک اک شب کی موت کے ڈھلنے پر، اک اَن دیکھے

طائر کے گیت میں

مرنے والوں کے یہ بول ابھرتے ہیں: ’’جیہو ۔۔۔ جیورے ۔۔۔ جیو جیورے۔۔۔!‘‘

سونے والو، تمہیں خبر ہے

اپنی ان نیندوں سے جاگ کے جب میں تمہارے دھیان میں جیتا ہوں تو

تمہاری نیندوں میں کفنائے ہوئے ارمان

مرے جینے میں جاگتے ہیں

مجید امجد

میں عمر اپنے لیے بھی تو کچھ بچا رکھتا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 174
اور اَب یہ کہتا ہوں، یہ جرم تو روا رکھتا
میں عمر اپنے لیے بھی تو کچھ بچا رکھتا
خیال صبحوں، کرن ساحلوں کی اوٹ سدا
میں موتیوں جڑی بنسی کی لے جگا رکھتا
جب آسماں پہ خداؤں کے لفظ ٹکراتے
میں اپنی سوچ کی بےحرف لو جلا رکھتا
ہوا کے سایوں میں، ہجر اور ہجرتوں کے وہ خواب
میں اپنے دل میں وہ سب منزلیں سجا رکھتا
انھی حدوں تک ابھرتی یہ لہر جس میں ہوں میں
اگر میں سب یہ سمندر بھی وقت کا رکھتا
پلٹ پڑا ہوں شعاعوں کے چیتھڑے اوڑھے
نشیبِ زینۂ ایام پر عصا رکھتا
یہ کون ہے جو مری زندگی میں آ آ کر
ہے مجھ میں کھوئے مرے جی کو ڈھونڈھتا، رکھتا
غموں کے سبز تبسم سے کنج مہکے ہیں
سمے کے سم کے ثمر ہیں، میں اور کیا رکھتا
کسی خیال میں ہوں یا کسی خلا میں ہوں
کہاں ہوں، کوئی جہاں تو مرا پتا رکھتا
جو شکوہ اب ہے، یہی ابتدا میں تھا امجد
کریم تھا، مری کوشش میں انتہا رکھتا
مجید امجد

جن لفظوں میں۔۔۔

جن لفظوں میں ہمارے دلوں کی بیعتیں ہیں، کیا صرف وہ لفظ ہمارے کچھ بھی نہ کرنے

کا کفارہ بن سکتے ہیں؟

کی ا کچھ چیختے معنوں والی سطریں سہارا بن سکتی ہیں ان کا

جن کی آنکھوں میں اس دیس کی حد ویراں صحنوں تک ہے؟

کیسے یہ شعر اور کیا ان کی حقیقت؟

نا صاحب، اس اپنے لفظوں بھرے کنستر سے چلّو بھر کے بھیک کسی کو دے کر

ہم سے اپنے قرض نہیں اتریں گے

اور یہ قرض اب تک کس سے اور کب اترے ہیں

لاکھوں نصرت مند ہجوموں کی خنداں خنداں خونیں آنکھوں سے بھرے ہوئے

تاریخ کے چوراہوں پر

صاحبِ تخت خداوندوں کی کٹتی گردنیں بھی حل کر نہ سکیں یہ مسائل

اک سائل کے مسائل

اپنے اپنے عروجوں کی افتادگیوں میں ڈوب گئیں سب تہذیبیں، سب فلسفے۔۔۔

تو اَب یہ سب حرف، زبوروں میں جو مجلّد ہیں، کیا حاصل ان کا۔۔۔

جب تک میرا یہ دکھ خود میرے لہو کی دھڑکتی ٹکسالوں میں ڈھل کے دعاؤں بھری اس اک

میلی جھولی میں نہ کھنکے

جو رستے کے کنارے مرے قدموں پہ بچھی ہے

مجید امجد

ان کو جینے کی مہلت۔۔۔

ان کو جینے کی مہلت دے، جو تیرے بندوں کی خاطر جیتے ہیں

ورنہ ۔۔۔ تو ۔۔۔ اس نگری کا اک اک نگ کھوٹا ہے

۔۔۔کوئی نہیں جو ناتواں ذرّوں کا راکھی ہو

کون ان کا راکھی ہے، صرف ان کی یہی دو آنکھیں، جن کی نگہداری میں زندہ ہیں

یہ ناتواں ذرّے

ذرّے، جن میں عزتیں ٹمٹماتی ہیں اس اک گھر کی جس پر محجوب اندیشوں

کی چھت ہے

ان آنکھوں میں جلنے والے مقدس ارمانوں کو روشن رکھ

میں ان آنکھوں کے ارمانوں کے دکھ میں جیتا ہوں

یہ دکھ مجھ کو زندگی سے بھی عزیز ہے

ان کو جینے کی مہلت دے جن کے جیتے رہنے میں اس دکھ، اس غم کی عفت ہے

ان کے دن تھوڑے ہوں تو میری زندگی ان کو دے دے

اس ہونی کے ہونے تک تو۔۔۔ اپنے ہونے تک تو۔۔۔ میں ہوں

اس وقفے کو ایسی راحتوں سے بھر دے، کچھ ایسی راحتیں

جو میں ان دو نگہدار آنکھوں کو دے سکوں، حیائیں جن کی زندگی ہیں

مجید امجد

کیسے دن ہیں۔۔۔

کیسے دن ہیں! اب کے تو مجھ جیسی طاغی کو بھی، جس کی غفلت اتنی دوختہ چشم ہے

تو نے دکھائے

اپنے زمانے — جب وہ غیب کدوں سے چھلک کر پت جھڑ کی صبحوں میں جھلک

پڑتے ہیں

اپنے چشمے — جب ان میں بادل بہتے ہیں

اپنی جنتیں — جب وہ دوام کے بور سے لد جاتی ہیں

میں کب اس قابل تھا۔۔۔

دنیا میں کون اس قابل تھا

دیکھ لے، ان راہوں پر تیری دنیا کے لوگ اپنے قیمتی فرغلوں، میلے کمبلوں میں

ڈوبے ہوئے کتنے

بےنسبت پھرتے ہیں ان مست ہواؤں سے جو تیرے لاکھوں جہانوں کی

گردش کا ثمر ہیں

مجید امجد

پھر مجھ پر بوجھ۔۔۔

پھر مجھ پر بوجھ آ پڑتا ہے ان نظروں کا

جو دنیا میں واحد نظریں ہیں جو دنیا کی ہر شے میں مجھ کو دیکھتی ہیں ۔۔۔ اک مجھ کو

اور یوں مجھ کو دیکھنے میں ان آنکھوں کے آنسو حائل نہیں ہوتے، بلکہ پلٹ جاتے ہیں

پھر اس بوجھ کے نیچے میری اپاہج معرفتوں کا بازوبڑھ کے مرے دل کی کھڑکی کو

کھول دیتا ہے

جس کے کواڑوں سے پھر آ کر ٹکراتے ہیں

باہر زور سے چلنے والی غفلتوں کی آندھی کے تیز تیز جھونکے! وہ کھڑکی زور سے بند

ہو جاتی ہے اور

پھر ان سہمی ہوئی پتھریلی مستطیلوں سے ابل پڑتا ہے

اجلی اجلی زندگیوں کا دریا

جس کا پانی اتنا مہین ہے، سونے کے ذرے اس میں تیرتے صاف نظر آتے ہیں

جن میں میرے خیال بھٹک جاتے ہیں

سر سے سارے بوجھ اتر جاتے ہیں

بجلی کے پنکھے کی طوفانی جھنکارمیں

میرے چہرے پر ٹھنڈے جھونکے کی جھالریں بکھر جاتی ہیں

اور پھر یہ بھی نہیں میں سوچتا، میں کس جنت میں دوزخی ہوں

مجید امجد

جب صرف اپنی بابت۔۔۔

جب صرف اپنی بابت اپنے خیالوں کا اک دیا مرے من میں جلتا رہ جاتا ہے

جب باقی دنیا والوں کے دلوں میں جو جو اندیشے ہیں ان کے الاؤ مری نظروں

میں بجھ جاتے ہیں

تب تو یوں لگتا ہے جیسے کچھ دیواریں ہیں جو میرے چاروں جانب اٹھ آئی ہیں

میں جن میں زندہ چن دیا گیا ہوں

اور پھر دوسرے لمحے اس دیوار سے ٹیک لگا کر۔۔۔ اپنے آپ کو بھول کر

میں نے اپنی روح کے دریاؤں کو جب بھی سامنے پھیلے ہوئے خودموج سمندر کی

وسعت میں سمو دیا ہے

میری قبر کی جامد پسلیاں اِک غافل کر دینے والے سانس کی زد سے دھڑک اٹھی ہیں

لیکن اس اک بےبہا غفلت کو اپنانا بھی تو کتنا کٹھن ہے

پھر دیواریں میرے گرد اٹھ آتی ہیں اور۔۔۔

پھرخودآگہی کا دھندلا سا مقدس دیا مری ہستی کی قبر پر ٹمٹمانے لگتا ہے

مجید امجد

بات کرے بالک سے۔۔۔

بات کرے بالک سے۔۔۔ اور بولے رہ چلتوں سے

اک یہ ذرا کچھ ڈھلی ہوئی شوبھا والی کوملتا

اس کے ستے ستے بال اور پیلی مانگ سے کچھ سرکا ہوا آنچل

دکھی دکھی سی دِکھنے کی کوشش کا دکھ

اس کے چہرے کو چمکائے اور اس کے دل کو اک ڈھارس سی دے

بڑے یقینوں میں مڑ مڑ کر دیکھے، جیسے کچھ رستے میں بھول آئی ہو

مڑنے میں وہ بات کرے اپنے پیچھے چلتے بالک سے، لیکن بولے مجھ سے، میری جانب

اپنی بات اور اپنی نظر کو یک جا کر کے!

دیکھنے میں شاید میں اتنا بھلا مانس نہیں لگتا

مجید امجد

دو پہیوں کا جستی دستہ۔۔۔

دو پہیوں کا جستی دستہ تھام کے چلتے پھرتے میں نے

سدا اسی اک تول میں اک محسوس نہ ہونے والے چین سے

اس دنیا کو دیکھا

بڑھتے مڑتے، کالے بھنور سڑکوں کے

اور دورویہ وہ تختے پھولوں کے

پھول بلاتے بھی تھے اور میں رک بھی نہیں سکتا تھا

وہ دو پہیے ارض و سما تھے، وہ دو پہیے رک بھی نہیں سکتے تھے

پھولوں کے وہ دورویہ تختے ۔۔۔ اکثر ان کی بابت سوچا

کبھی تو آ کر باہم جڑتے چلے جائیں یہ تختے

ان پہیوں کے ساتھ ساتھ ان میرے قدموں کے نیچے

آگے۔۔۔ دور تک۔۔۔ جہاں بھنور ان سڑکوں کے مڑتے ہیں

مجید امجد

بستے رہے سب۔۔۔

بستے رہے سب تیرے بصرے، کوفے

اور نیزے پر بازاروں بازاروں گزرا

سر ۔۔۔ سرور کا

قید میں منزلوں منزلوں روئی

بیٹی ماہِ عرب کی!

اور ان شاموں کے نخلستانوں میں گھر گھر روشن رہے الاؤ

چھینٹے پہنچے تیری رضا کے ریاضوں تک خونِ شہدا کے

اور تیری دنیا کے دمشقوں میں بےداغ پھریں زرکار عبائیں

سامنے لہو بھرے طشتوں میں تھے مقتول گلابوں کے چہرے فرشوں پر

اور ظلموں کے درباروں میں آہن پوش ضمیروں کے دیدے بےنم تھے

مالک، تو ہی ان سب شقی جہانوں کے غوغا میں

ہمیں عطا کر

زیرِ لب ترتیلیں ان ناموں کی، جن پر تیرے لبوں کی مہریں ہیں

مجید امجد

دوسروں کے بھی علم۔۔۔

دوسروں کے بھی علم سے باہر ہیں

وہ سب وابستگیاں جو میرے علم کی سرشاری ہیں

میرے علم سے بھی باہر ہیں

وہ سب وابستگیاں جو دوسرے کے علموں میں عزیز ہیں

لیکن سب وابستگیاں۔۔۔ سب کی وابستگیاں ان روحوں سے ہیں

جو مٹی میں یکساں، یک منزل ہیں

اک اک قبر پہ جلنے والا دیا گو الگ الگ گھر سے آتا ہے

لیکن سارے دیوں کی روشنیاں مل کر مٹی کے اک ہی عالم میں جھلملاتی ہیں

ایک ہی عالم، اپنے غیبوں میں ہر سو حاضر، حاوی

جس کے الگ الگ ڈانڈے اک اک دل سے ملے ہوئے ہیں

آسمانوں کے پیچھے؟

کہیں مٹی کے نیچے؟

جانے کہاں بہتا ہے آنسوؤں میں لتھڑی ہوئی نسبتوں کا وہ دریا۔۔۔

جس کی اس اک رو کو ہی پہچانتا ہے ہر شخص جو صرف اس کے دل تک آتی ہے

وہ دریا جس کی طغیانیاں ناموجود زمانوں کے ساحل سے چھلک کے ہماری ان

پلکوں سے ٹپکتی ہیں تو

ہم کو ایک ایک دیا اک اک تربت پر الگ الگ جل اٹھتا نظر آتا ہے

سب علموں کی یہ تفریقیں ہیں، ورنہ آنسو کب جانب دار ہوئے ہیں

مجید امجد

اندر سے اک دُموی لہر۔۔۔

اندر سے اک دموی لہر ابھر کے جب ان کے چہرے کی وریدوں میں بھر جاتی ہے اور

جب اس امتلا میں لو گ اپنی گلابی آنکھوں کے بےحرف تبسم سے مجھ کو اپنے دل کی اک

تیکھی بات سناتے ہیں

تو میں کہتا ہوں: ’’مولا، تو نے دیکھا، میں تیری اک کیسی دنیا میں ہوں‘‘

پل بھر آنکھوں کے گوشوں تک آ کے پلٹتی پتلیاں، مجھ کو اچانک سامنے پا کر پہلے

تو دانستہ اچٹ جاتی ہیں

اور پھر دوسرے لمحے ہنستی آنکھوں کی جھیلوں میں تیر کے میری جانب جب کچھ اتنے

تپاک سے امڈ پرتی ہیں

تو میں کہتا ہوں: ’’مولا، تو نے دیکھا، میرے یہ اتنے صادق رابطے تیرے کیسے کیسے

بندوں سے ہیں‘‘

مجھ کو دیکھے بغیر جنھیں سب علم ہے، میں کس عالم میں ہوں، کچھ ایسی آنکھیں جب میری

جانب یوں تکتی ہیں

جیسے دنیا والے اک میّت کو اس کے مرے ہوئے ہونے کے وثوق میں تکتے ہیں

تو میں کہتا ہوں: ’’مولا! ان لوگوں کو میری زندگی کی بھی خبر دے‘‘

باہر گیلی گیلی سڑکوں پر، سرما کے ٹھنڈے محرم جھونکوں کے ساتھ، اس پامال سہانی دھوپ

میں تھوڑی دور چلا ہوں تو اب میرا دل کہتا ہے:

’’مولا، تیری معرفتیں تو انسانوں کے جمگھٹ میں تھیں، میں کیوں پڑا رہا اپنے ہی خیالوں کی

اس اندھیری کٹیا میں اب تک؟‘‘

مجید امجد

کالے بادل۔۔۔

کالے بادل! تیرے خوف میں ڈوب کے میرے دریا رک جاتے ہیں

کالے بادل! تیری رو کے ساتھ امڈتے اندیشوں کی بابت سوچوں یا ان چڑھتے

پانیوں کو دیکھوں

جن پر یہ میری ناؤ رواں ہے ایسے ساحلوں کی جانب جو

میری آنکھوں میں بسنے والے چہروں کی اقلیمیں ہیں

تیری پرچھائیں کی حقیقت سے ڈرنے میں اپنی حقیقت بھی

مجھ کو پرچھائیں نظر آتی ہے

مجھ اک سائے کے یہ خدشے اور تجھ ایک حقیقت کی یہ ہیبتیں

ایک سدیمی ضابطے کی تربیتیں ہیں، جس سے ان دنیاؤں کی نمو ہے

کالے بادل! میرے ڈر کو جانچ اور اپنے دخانوں ہی میں بکھر کے گزر جا

ان دریاؤں کو بہنے دے جن میں میرے خیالوں کے یہ دھارے لہراتے ہیں

دھوپ ان پانیوں پر کھیلے گی تو وہ جزیرے چمکیں گے جو میری آنکھوں میں

بسنے والے چہروں کی اقلیمیں ہیں

مجید امجد

اپنے دکھوں کی مستی میں۔۔۔

اپنے دکھوں کی مستی میں اک وہ خنداں چہرہ، جو میرے لیے خنداں تھا

اور وہ اپنی اک جنبش سے دونوں جہانوں کی سب زنجیروں کو جھٹک دینے والی بےکل پلکیں اور

وہ جذبیلی باغی آنکھیں، جو میری خاطر باغی تھیں

چاندنی میں کفنائے ہوئے ظلموں کی بستی کے ٹوٹے فرشوں پر

ان دو محرم سانسوں کے ادوار ۔۔۔ ان دو مونس قدموں کے زمانے

عجب ارادوں والی رات کے واقعے

جیتے واقعے

جن کے سامنے اپنے دل کی پسپائی کا میں شاہد ہوں

میں شاہد ہوں، جو کچھ بیتا اس سرکش مٹی کی طینت میں تھا

وہ سب کچھ اس طاغی دریا کی اک طغیانی تھی

دریا۔۔۔ جس نے صدیوں پہلے بھی اپنے رستے سے پلٹ کر اپنی ریت کی چادر پر

اک جلتی روح کی خاکستر کو جگہ دی

اک دنیا شاہد ہے، راکھ کی اس ڈھیری کے سامنے آج بھی

ارمانوں کی جبینیں جھک جھک جاتی ہیں، جس طرح میری روح ہمیشہ اس خنداں

چہرے کے دھیان میں جھکی ہے

جب سے میرے دِل کے دریاؤں نے رستے بدلے ہیں

مجید امجد

صدیوں تک۔۔۔

صدیوں تک، اقلیموں اقلیموں، زندہ رہتا ہے ایک ہی جسم

پگھلا ہوا، بےجسم ۔۔۔ اک جسم

اپنے چلن کے چولے میں

ایک یہی پیکر

جس میں روحیں آ آ کر اپنی میعادوں میں چکراتی ہیں، کھو جاتی ہیں

زندہ رہتا ہے صدیوں کے کبڑے گھروندوں میں

زندہ ہواؤں میں

اور جب اس کا زمانہ نیلے دھوؤں میں گہنا جاتا ہے

تو بھی اس کی زندگی لہک لہک جاتی ہے ان آنکھوں میں جو

گھنے گھنے باغوں کی طراوتوں سے بھر جاتی ہیں، جب تانبے کی دیواروں کے جنگل میں کہیں

شہنائی کی دھن بجتی ہے

کالے کھمبوں کی نوکیں جب آسمانوں کے سائبانوں کو چھید دیتی ہیں

تو بھی، سدا اک جیتی سوچ کے سانچے میں ڈھل جاتی ہیں سایوں کی عمریں

جب کالے بادل گھر گھر کر آتے ہیں

لوہے کی لچکیلی پٹڑیاں جب عفریتوں کے قدموں سے کڑکڑاتی ہیں

تو بھی، سدا اِک گہری سانس کی نزدیکی میں سما جاتی ہیں ترستی دوریاں

شام کو جب تاروں کے ابد جل اٹھتے ہیں

مجید امجد

خوردبینوں پہ جھکی۔۔۔

خوردبینوں پہ جھکی آنکھوں کی ٹکٹکی کے نیچے دنیا کے چمکیلے شیشے پر اپنے لہو کی چکٹ میں

کلبلاتے، بےکل جرثومو!

دیکھو، تمہارے سروں پر گرداں خوردبینوں میں گھورتی آنکھیں تقدیروں کی

تم سے کیا کہتی ہیں، سنو تو۔۔۔

’’بھرے کُرے پر جڑجڑ جیتے کرمکو، تم کب تک سورج کی کرنوں کا میٹھا کیچڑ چاٹو گے۔۔۔

گیلا ریتلا سرد اندھیرا ہے آگے تو۔۔۔

آگے تو جو کچھ ہو ۔۔۔

لیکن آج تمہارے جڑے جڑے جسموں کی لپٹوں اور تمہاری گتھم گتھا روحوں کے گچھوں کے

اندر جب میرے دبلے سے دل نے اچانک

اپنے اکیلے پن میں اپنا رخ اپنی جانب دیکھا ہے تو تم میں ہوتے ہوئے بھی میرے دل کو تم پہ

ترس آیا ہے

آگے تو جو کچھ ہو۔۔۔

دنیا کے دھبے میں بھری ہوئی ہم سب بےچہرہ بےکل روحیں، ہم سب کلبلاتے جرثومے

آگے جو کچھ ہو۔۔۔ اِک بار تو خود پہ ترس کھا کر دیکھیں۔۔۔

شاید ہم کو دیکھنے کے لیے تقدیروں کو اپنی خوردبینوں کے زاویے بدلنے پڑیں۔۔۔

مجید امجد

آنے والے ساحلوں پر۔۔۔

آنے والے ساحلوں پر تو جانے کن قدروں کی میزانیں ہیں

لیکن ان سب بھرے جہازوں کو دیکھو، یہ قدآور مستول اور ممتلی بادبان۔۔۔

عرشے عرشے پر یہ بوجھل روحوں، چکنی آنکھوں والے مسافر ۔۔۔

کس نخوت سے، کن اطمینانوں میں تیرتے ہیں یہ بیڑے۔۔۔

جن میں لدے ہوئے یہ خزانے آنے والے ساحلوں پر سب مٹی کے دانے ہیں

اور اس ڈوبنے والے کو دیکھو۔۔۔ اک موج کے بل پر آخری بار ابھر کر

دور سے اس نے بادبانوں کی دھندلی قوس کو کس حسرت سے دیکھا۔۔۔

اور اس کے دل میں وہ دولت تھی، آنے والے ساحل جس کی قیمت ہیں ۔۔۔

اور ان جیتی ہانپتی سڑکوں کے پتھریلے سمندر۔۔۔ مڑتے اور لہراتے۔۔۔

اپنی منجدھاروں اور اپنے ساحلوں کو یوں روز اچھالتے ہیں میری نظروں کے سامنے

دنیاؤں اورعقباؤں کے اس سنگھم پر۔۔۔

اور میں خالی ہاتھوں سوچتا ہوں… کون ایسا ہے جو

ان سنگین تریڑوں کے جب پار اترے تو اس کے پاس وہ سامگری ہو

آنے والے گھاٹ پہ جس کا مول ہے

مجید امجد

برسوں عرصوں میں۔۔۔

برسوں عرصوں میں اب نیندوں میں جاگے ہیں

خواب، جو جاگتے دنوں کے آنسوؤں میں جیتے تھے

خواب، جو کل بیداری میں بھی اپنے نہیں تھے

جو اب نیندوں میں بھی اپنے نہیں ہیں

صرف یہ آنسو ہمیشہ سے اپنے تھے، جن میں ان خوابوں کی جوت جلی تھی

کسے خبر کیسی ہیں دوریوں کی یہ دنیائیں جو برسوں عرصوں ہمارے دلوں سے بعید رہتی ہیں

اور اچانک کبھی ہم اپنی زندگیوں کو ان کے چمکتے مدار میں پاتے ہیں پل بھر کو

پل بھر اتنے قریب تک آ کر پھر وہ دوریاں اپنے سدیمی سفر پر ہم سے دور اور دورتر ہو جاتی ہیں

اور ہمارے آنسوؤں میں ان کے عکسوں کی قربتیں بھی دھندلا جاتی ہیں۔۔۔

کیسے ہیں یہ انجمیں قافلے، جن کا پڑاؤ کبھی برسوں میں پل بھر کو روحوں کے

ساحلوں پر ہوتا ہے

تو وقتوں کے دریاؤں میں روشنیوں کے دودھ بہتے ہیں

اور پھر عمر بھر آنکھیں اپنے آنسوؤں میں ان تسکینوں کو ترستی رہ جاتی ہیں

مجید امجد

سب سینوں میں۔۔۔

سب سینوں میں یکساں بٹے ہوئے ہیں علم اک دوسرے کے سب احوالوں کے

اور سب سینے خالی ہیں ان دانستوں سے

جن میں یک جانی کی نشو و نما ہوتی ہے

اپنی اپنی اناؤں کے ان بےتسنیم بہشتوں میں سب الگ تھلگ ہیں

ان کے علموں کی ڈالی پر استفہاموں کا میوہ نہیں لگتا

سب نے اپنی دانستوں سے ابھرنے والے سوالوں کی جانب دروازے اپنے دلوں کے مقفل کر کے

چابیاں اب دوزخ کے پچھواڑے میں پھینک بھی دی ہیں

ایسے میں اَب کون سنے گا کسی کا شکوہ

اندر تو سینوں میں پہلے سے اتنا غوغا ہے اپنی ہی سانسوں کا

راکھ کے ذرّوں سے زر ریز ے نتھارنے والے اشک آلود خیالو!

کہو تمہیں کچھ سوجھا، اپنے غبار کی اوٹ میں

ہمیں تو پہلے ہی سے پتا تھا

مرنے سے پہلے لوگ اپنے جاننے والوں کےعملوں میں مرتے ہیں

مجید امجد

کبھی کبھی تو زندگیاں۔۔۔

کبھی کبھی تو زندگیاں کچھ اتنے وقت میں اپنی مرادیں حاصل کر لیتی ہیں

جتنے وقت میں لقمہ پلیٹ سے منہ میں پہنچتا ہے۔۔۔ اور

اکثر ایسی مرادوں کی تو پہنچ بھی لقموں تک ہوتی ہے

اور جب ایسی منزلیں بارور ہوتی ہیں تو شہر پنپتے ہیں اورگاؤں پھبکتے ہیں۔۔۔ اور

تہذیبوں کی منڈیوں میں ہرجانب قسطاسوں کی ٹیڑھی ڈنڈیاں، روز و شب تیزی تیزی سے

انسانوں کی جھولیوں میں رزقوں کی دھڑیاں الٹتی ہیں۔۔۔ اور

بھرے سماجوں میں شدھ تلقینوں کی ڈونڈیاں پیٹنے والے بھی اپنی اپنی پیغمبریوں کی

تنخواہیں پاتے ہیں۔۔۔

لیکن کس کو خبر ہے، ایسی بھی ہیں منزلیں جن تک جانے والے رستوں پر نہ دعا کا سایہ

ہے نہ قضا کا گڑھا ہے

کچھ ہے بھی تو بس اپنی سوچوں کی دھجیوں میں سمٹی ہوئی اک بےچارگی، جس کی بےصدا

ہوک میں عمریں ڈوب جاتی ہیں

اور قطبوں سے قطبوں تک اڑ اڑ کر جانے والے تھکے پروں کی کمانیں بھی تو

اک منزل پہ چمکتی آبناؤں کی سمت لچک جاتی ہیں ۔۔۔

لیکن ہائے وہ منزلیں، جن تک ہر سچائی رستہ ہے اور ہر سچائی موت کا جیتا نام ہے

مجید امجد

ہم تو اسی تمہارے سچ۔۔۔

ہم تو اسی تمہارے سچ کے کباڑ میں تمہارے ساتھ یہیں پر کُرم کُرم بستے ہیں

تم کیا جانو۔۔۔

اکھڑی ہوئی جڑوں والی دیواریں گرتے گرتے ماتھے جوڑ کے جس کونے میں ٹھٹک گئی تھیں

وہیں کہیں وہ چھوٹی سی میری دنیا تھی۔۔۔ یہ بسرام تو تیاگ میں مجھ کو ملا تھا۔۔۔

’’اور تمہیں کیا چاہیے۔۔۔ مزے مزے سے بیٹھ کے

اپنے دانت اَب کچکچاؤ تم اندھیروں سے اس بھرے ہوئے چھوٹے سے ڈبے میں

یہ چھت جس پر ڈھکنا ہے

چونک کے میں نے دیکھا، گلتے، بھربھرے کاغذ، اک میری نظم کے سارے حرف

اب ان کے جبڑوں میں تھے

اور تب میں نے سوچا، دھنسی پرانی لحدوں میں بل کھاتے کرمکوں کی خوشدامنیں

دیمکیں سچ کہتی ہیں

جو اس گدلی یکسوئی میں بیٹھ کے کالی روشنائی کے ریزوں کو یوں کُرم کُرم چبتی ہیں

لاکھ حرفوں میں علموں کا جو گودا تھا، اَب وہ ان دانتوں کی کترن ہے۔۔۔

تلواروں کی نوکوں سے لکھے ہوئے لفظوں کی صورت میں سرسراتی زنجیریں اب

ان آنتوں کی اترن ہیں

سارے لیکھک اپنی لکھتوں میں پس گئے ان جبڑوں کے بیچ۔۔۔ ان سب پر

دھوپ کفن تھی

دیمکیں سچ کہتی ہیں۔۔۔ واقعی باہر موت کی شرطوں پر جیتے ہیں جینے والے۔۔۔

اکثر میرے تعاقب میں آئی ہیں ان آنکھوں کی گردش کرتی کرگسی پتلیاں

آنکھیں جو یوں اپنی پلکوں پر میرے لفظوں کو تولنے میں میری نبضوں کے بقایوں کو بھی

گن لیتی ہیں

’’تم رہو ڈرتے عقباؤں سے۔۔۔ ہم سے جو پوچھو تو ہماری ہی سب گوتیں ہیں

جو آخرتوں کے گوشت کدوں میں، زعفرانی ڈوروں والی کافوری خلعتیں اوڑھ کے

مزے مزے سے مٹی چچوڑتی ہیں

تم پڑے یونہی ڈرتے رہو اے لمبی ٹانگوں والے انسانی مکوڑو۔۔۔‘‘

مجید امجد

لیکن سچ تو یہ ہے۔۔۔

لیکن سچ تو یہ ہے، صرف ہمیں جھٹلا سکتے ہیں اپنی جھوٹی سچائی کو

ورنہ اپنا حال تو یہ ہے، ظاہر کرنے کو تو یوں ظاہر کرنا جیسے ہم جیتے ہیں بس کچھ

ایسے خود مست یقینوں میں جو

صرف ہمیں کو اپنے بارے میں حاصل ہیں۔۔۔

لیکن اندر ہی اندر یہ باور کرنا ’’آنے والی اگلی سانس تو بڑی کٹھن ہو گی، جب تک

ہم اپنے اس بہروپ کو ترک نہیں کر دیتے‘‘

زندگیوں کے برتاووں میں اپنے جھوٹ سے ہم لوگوں کو دہلاتے ہیں

اور اپنے سچ سے خود سہمے ہوئے رہتے ہیں

ایسا کون ہے جس کی طلب دنیا میں بے بہروپ ہے

اور خودمست آنکھوں کی ساحر ٹکٹکی اور لب بستہ حلقوموں کی مخفی تلخی

کے پیچھے تو جانے کس کس مجبوری کا عمل ہے

کالی ریت کے جلتے صحراؤں میں شکم کی پیاس انہی خودمست آنکھوں کے روشن

روزنوں سے میٹھے چشموں کی چمک کو سونگھتی ہے

لوگ کسی کو کتنا ہی بےفکر تفکر والا سمجھیں، پر یہ تو اس کا دل ہے

جانتا ہے، میٹھے چشمے کتنے دور ہیں جو لوگوں کو اس کی آنکھوں میں لہراتے نظر آتے ہیں

مجید امجد

اور پھر اک دن۔۔۔

اور پھر اک دن میں اور تم جب ان اونچی نیچی دیواروں کے جھرمٹ میں اترے

جن میں کبھی ہماری روحوں کو زندہ چن دیا گیا تھا۔۔۔

اس وقت آنگن آنگن میں، ترچھی کرنوں نے

دھوپ کے کنگرے سایوں کی قاشوں میں ٹانک دیے تھے

دیکھا ہوا سا کوئی سماں پرانا اس دن ہم نے دیکھا

یوں لگتا تھا جیسے آسمانوں کی روشنیاں جھک کر اس اک قریے کو دیکھ رہی تھیں

اور ہمیں تب وہ دن یاد آئے جب موت ہماری زندگیوں سے گزر رہی تھی، ایسی ہی

صبحوں کی اوٹ میں

ہم ان زینہ بہ زینہ منڈیروں کے جھرمٹ میں تھے اور اس شہر کے لوگ

اب بھی گلیوں میں

خوانچے لگائے اپنی زندگیوں کو بیچ رہے تھے

اور پھر ہم نے سوچا، کون اچھا ہے، ہم جو مردہ چہروں سے جینے کی خواہش

پاتے ہیں، یا وہ جو

ہم کو زندہ دیکھ کے ہماری موت کو مان لیتے ہیں

ابھی ابھی تو میرے ساتھ تھے تم، اے گزرے ہوئے زمانوں کے خیالو! پھر کب لوٹو گے؟

اک دن پھر بھی تمہارے ساتھ اس خاک کے تختے تک جاؤں گا

جس سے ڈھکے ہوئے بے نور گڑھوں میں کچھ نادیدہ آنکھیں

ہم کو دیکھ کے اَب بھی ہنس ہنس اٹھتی نظر آتی ہیں

مجید امجد

اور یہ انساں۔۔۔

اور یہ انساں۔۔۔ جو مٹی کا اِک ذرّہ ہے۔۔۔ جو مٹی سے بھی کم تر ہے

اپنے لیے ڈھونڈے تو اُس کے سارے شرف سچی تمکینوں میں ہیں

لیکن کیا یہ تکریمیں ملتی ہیں

زر کی چمک سے؟

تہذیبوں کی چھب سے؟

سلطنتوں کی دھج سے؟

نہیں۔۔۔ نہیں تو!

پھر کیوں مٹی کے اس ذرّے کو سجدہ کیا اک اک طاقت نے؟

کیا اس کی رفعت ہی کی یہ سب تسخیریں ہیں؟

میں بتلا دوں:

کیا اس کی قوت اور کیسی اس کی تسخیریں؟

میں بتلا دوں:

قاہر جذبوں کے آگے بے بس ہونے میں مٹی کا یہ ذرّہ

اپنے آپ میں

جب مٹی سے بھی کم تر ہو جاتا ہے، سننے والا اس کی سنتا ہے

سننے والا جس کی سنے، وہ تو اپنے مٹی ہونےمیں بھی انمول ہے

مجید امجد

دل تو دھڑکتے۔۔۔

دل تو دھڑکتے آگے بڑھتے قدموں کا اک سلسلہ ہے

دل کا قدم جو گزرتے وقت کی منزل طے کرتا ہے

ساتھ ہی، ایک ہی وقت میں، بیتے وقتوں کی جانب بھی بڑھتا ہے

دل پر وقت کی جو منزل ہے، طے نہیں ہوتی۔۔۔

بس اک انجانی سی آگہی ہے جس کی بیدارمسافت پر سب مرحلے

اک ساتھ اپنی گزرانوں کی نیندوں میں

جاگتے ہیں

بیٹھے بیٹھے آج اس کیفیت سے ڈر اٹھا ہوں، جس کو میں پہچانتا ہوں اورجس کی بابت

جانتاہوں، یہ کیفیت اس وقت ابھرے گی

آنے والے دِن جب گزرے دنوں کی منزل سے گزریں گے

گزرے ہوئے زمانوں کی منزل سے گزرنے والے۔۔۔ آنے والے دنوں کا

خیال آتے ہی

وقتوں کی کچھ سطحیں دل کے دھڑکتے قدموں کے نیچے سے سرک گئی ہیں

دل کو سہارا دینے والا اِک ڈر، من کو لبھانے والی ایک اداسی

جن کا کوئی ابد ہے اور نہ عدم ہے

پل بھر میری زیست کا حصہ رہے ہیں

گزرے دنوں کی خوشیاں آنے والے غموں کا جزو نظرآتی ہیں

مجید امجد

کل۔۔۔ جب۔۔۔

آخرتمہیں بھی سوجھی یوں ہم ڈرے ہوؤں سے ڈرنے کی

نا بھئی، اب ہم پھر نہ کہیں گے بات یہ جینے مرنے کی

ابھی سنی جو تم نے کتھا یہ موت کے مشکل لمحے کی

وہ تو جیتے جی، خود جی سے گزرتی سوچ کی کروٹ تھی

کاہے کو تم گھبرا گئے، یہ تو روپ تھا خود سے لگاوٹ کا

یونہی ذرا کچھ اپنے آپ سے روٹھ کے ہم نے دیکھا تھا

اچھا، مان لیا۔۔۔ ہیں زخم ان بھیدوں کے سب دُکھن بھرے

ہونے اور نہ ہونے کے اس الجھیڑے میں کون پڑے

چھوڑیں بھی وہ جھوٹی سچی بات۔۔۔ ذرا اب دنیا کو

اک نظر ہم اپنی شکم سیر آنکھوں سے بھی دیکھیں تو

تمہیں خبر ہے، تم سچے ہو، دنیا کی یہ انوکھی دھج

صرف اِک سورج سے ہے، وہ بھی تمہارے چہرے کا سورج

تم سچے ہو، جو کچھ بھی ہے جیتے دنوں کا میلا ہے

مٹی جسم ہے، مٹی نور ہے، مٹی وقت کا ریلا ہے

ہرے بھرے میدان، ابلتے قریے، باسمتی کی باس

سانسیں، عمریں، قدریں۔۔۔ سب کچھ سکے، پہیے، چربی، ماس

سب تقدیریں، سب ہنگامے، سب یہ مسائل بھنور بھنور

سب کچھ ایک خنک سا جھونکا، تمہارے رخ کے پسینے پر

اچھا، اب توخوش ہو۔۔۔ اَب بھی سنو تو میرا دل یہ کہے

بھائی، کل کیا ہو گا ۔۔۔ کل جب بیگھے خون میں بھیگ گئے

مجید امجد

عرشوں تک۔۔۔

عرشوں تک اونچے آدرش کے فیضانوں میں بھی

اسی طرح سے ہمیشہ ڈرتے رہے ہیں لوگ ان لوگوں سے جو

اپنے لمبے بازوؤں میں سب تدبیریں رکھتے ہیں

اور یہ کون بتائے، اس اک ڈر کے ناطے کتنے کچے ہیں، کتنے سچے ہیں

تدبیروں والوں کی گردنیں ہل نہیں سکتیں

لیکن ڈرے ہوئے لوگوں کی اک اک التجا کو اپنی پلکوں سے چن لیتی ہیں وہ آنکھیں جو

ان سب موٹی موٹی گردنوں، خودسر کھوپڑیوں سے جھانکتی ہیں، فاتح فاتح، نازاں نازاں

اور یوں طاغی روحوں کو عظمت کی غذا ملتی ہے

اور یوں ناتواں چیونٹیاں قدموں کے نیچے پسنے سے بچ جاتی ہیں

اور میں نے یہ دیکھا ہے روز ان خشت کدوں کے اندر اک اک ہمہماتے چھتے میں

جس میٹھے، مٹیالے شہد کی بانٹ ہے

اس کو نارسا عاجزیاں ان پھولوں سے حاصل کرنی ہیں جو

فرعونوں کے باغوں میں کھلتے ہیں

زینہ بہ زینہ، اک اک بام پہ بت اور ان کی لکھ لٹ آنکھیں، ہنستی، ارذل خوشیاں بانٹتی

روز و شب کی احتیاجوں میں۔۔۔ یوں ہی فرشوں کے دھندے چلتے ہیں

عرشوں تک اونچے آدرشوں کے سایوں میں

مجید امجد

تج دو کہ برت لو، دل تو یہی، چن لو کہ گنوا دو، دن تو یہی

مجید امجد ۔ غزل نمبر 148
اک سانس کی مدھم لو تو یہی، اک پل تو یہی، اک چھن تو یہی
تج دو کہ برت لو، دل تو یہی، چن لو کہ گنوا دو، دن تو یہی
لرزاں ہے لہو کی خلیجوں میں، پیچاں ہے بدن کی نسیجوں میں
اک بجھتے ہوئے شعلے کا سفر، کچھ دن ہو اگر کچھ دن تو یہی
بل کھائے، دکھے، نظروں سے رِسے، سانسوں میں بہے، سوچوں میں جلے
بجھتے ہوئے اس شعلے کے جتن، ہے کچھ بھی اگر کچھ دن تو یہی
میں ذہن پہ اپنے گہری شکن، میں صدق میں اپنے بھٹکا ہوا
ان بندھنوں میں اک انگڑائی، منزل ہے جو کوئی کٹھن تو یہی
اس ڈھب سے جییں سینوں کے شرر، جھونکوں میں گھلیں، قدروں میں تلیں
کاوش ہے کوئی مشکل تو یہی، کوشش ہے کوئی ممکن تو یہی
پھر برف گری، اک گزری ہوئی پت جھڑ کی بہاریں یاد آئیں
اس رُت کی نچنت ہواؤں میں ہیں، کچھ ٹیسیں اتنی دکھن تو یہی
مجید امجد

مجھ کو ڈر نہیں۔۔۔

مجھ کو ڈر نہیں اس کا، آج اگر میں ڈرتا ہوں اس قہقہے سے جو میری اس آواز سے ٹکرایا ہے

یہ میری آواز جو اک اور شخص کے دل سے سدا ابھری ہے۔۔۔

آج اس خوف کا دن ابھرا ہے، اور کل بھی شاید یہ قہقہہ حاوی ہو گا اس آواز پہ جو میری آواز ہے

اور جو اک اور شخص کے دل سے سدا ابھری ہے

اور اس شخص کا دل تو گونجتا زمانہ ہے، اور میرے دل میں کبھی نہیں بیتا وہ دن جب

ان راہوں پر

اس کے تنہا ہاتھ میں مشعل کی لو اور اس کے تنہا قدموں میں زمانوں کی آہٹ

اک ساتھ بڑھی تھی میری جانب

آج اک قہقہے کی کالی قاتل برچھی، جو میرے دل کو کاٹ گئی ہے

اس آواز کے سینے میں پیوست ہے

آج اس قہقہے سے ڈرتا ہوں، لیکن آج کے اپنے ڈر سے میں نہیں ڈرتا

اک دن آئے گا جب وقت اپنی آواز میں جاگے گا، سب کالے قاتل قہقہوں پر حاوی

مجید امجد

تو تو سب کچھ

تو تو سب کچھ جانتا ہے، وہ کیسی کیسی شکستہ کمر توقیریں تھیں جن کی خاطر

تجھ سے طاغی ہو کر ڈوبا رہا ہوں

اس اک گہری ٹھنڈی سانس میں

جس کے چلتے آرے کی یہ دھار اب

میرے دل کو چیرنے لگی ہے

سب کچھ والے، سب کچھ تو تجھ سے تھا

اپنی روح کے اس خاکی سے دکھاوے کی خاطر، اک میں ہی

جھوٹے خیالوں کی یہ کچی تیلیاں جوڑ کے

اپنے گمانوں کے قلعے میں یوں اب تک دربند تھا

ورنہ ساری صولتیں تو اس نام کو حاصل تھیں جو تیرے ظاہر و مخفی وجود سے باہر

تیرا اسم ہے

سچی عزتوں والے، ان سب کائناتوں میں جو کچھ عیاں ہے اس سے بھی بڑھ کر

اظہر ہیں تیری عطائیں، جن کے ستر میں ناموس

ان سب ناموں کے جو سورج کے نیچے جلتے ہیں

یا جو مٹی کے اندر جیتے ہیں

مرے نجس، نکمے، ناری نام کو اپنے کرم کی رمزوں کے زمروں میں رکھنا

مجید امجد

بھولے ہوئے وہ لبھاوے۔۔۔

بھولے ہوئے وہ لبھاوے تب تو کتنے سچے کتنے کھرے تھے

تب تو اپنے وقت کی سچائی تھیں گزری ہوئی وہ جھوٹی خوشیاں

جو اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ کے اک دن سیدھی اس میرے دل میں آئی تھیں

اب تو سچ مچ وہ خوشیاں جھوٹی لگتی ہیں، اب کہتا ہوں، کتنا بھولنہار تھا تب میں ۔۔۔

اب تو اور ہی جھوٹی سی اک اپنی سوجھ کی سچائی پر اتراتا ہوں

جانے اس کروٹ کو آگے چل کر میں اک بھول ہی سمجھوں

شاید سب یہ گزرنے والے دن ہوں دکھاوے ان سب آنے والے دنوں کے

دن اب جن کے لوبھ میں جینا ہو گا

دن جو میرے دل تک میرے جھوٹ کی سیڑھیاں ہیں

میری موت کی سچائی تک

مجید امجد

اور ان خارزاروں میں۔۔۔

اور ان خارزاروں میں چلتے چلتے خیال آتا ہے

سدا ہمارے دلوں میں چٹکنے والی کلیوں کی یہ بہاریں

جن صبحوں اور جن شاموں کا موسم ہیں

وہ دن آئیں گے تو۔۔۔

اور کانٹوں کی ٹوٹتی نوکیں ہمارے قدموں کے نیچے کڑکڑانے لگتی ہیں

اور سانسوں کی لہر میں لوہے کی سیال سی پتری جڑ جاتی ہے

اور زمین کی پیٹھ پر اپنا بوجھ بہت کم رہ جاتا ہے

اب تک ہم نے کیسے کیسے یقینوں کے ان نیلم جڑے پیالوں میں عمروں کا زہر پیا ہے

یوں کتنے دڑبوں میں آس کے چہروں پر اک مٹیالی سی دمک جیتی ہے

آسمانوں کو گونجتی پہنائی میں ہمارے نام کے ذرّے بکھر بکھر جاتے ہیں

کبھی نہ مرجھانے والے پھولوں کے ڈھیر ہمارے من میں

اور یہ سب کچھ۔۔۔

اور یہ سب کچھ ایسے وقت میں جب اپنے دامن میں پیتل کی اک پنکھڑی بھی نہیں ہوتی

مجید امجد

اب بھی آنکھیں۔۔۔

اب بھی آنکھیں ان کو ڈھونڈتی ہیں جو اب بھی آنکھوں میں بستے ہیں

ہر جانب بستے ہیں وہ ۔۔۔ ہم جن کا بھرم تھے جب وہ تھے

اب بھی ہمارے ساتھ ہیں ان کے دکھ، ہم جن کا مداوا تھے جب وہ تھے

اب تو ان کے رابطے

ہماری زندگیوں کے غیاب میں

جینے والے کشف ہیں

کون بتائے اپنے رازوں میں ہیں کتنی بیکراں۔۔۔ یہ بے فاصلہ دوریاں

جانے کن اقلیموں سے آتے ہیں خیالوں کے ہلکے ہلکے سے جھکولے

جو ۔۔۔ چپکے سے ۔۔۔ دھیرے دھیرے ۔۔۔ روحوں کے کنجوں میں سرسراتے ہیں

تو آنکھوں میں بھر بھر جاتی ہیں مٹی ان آستانوں کی۔۔۔

جن کے امٹ نشانوں کے سامنے

ان کے دعا کے ہاتھ ہمارے لیے اٹھے تھے

ان کی سانسوں میں جینے والے زمانے ہمارے دلوں میں جاگتے ہیں۔۔۔ اور اب بھی

ہماری آنکھوں میں بستے ہیں وہ، ہم جن کے ضمیروں میں تھے جب وہ تھے

مجید امجد

اس کو علم ہے۔۔۔

اس کو علم ہے، اب وہ ایک سیاہ گڑھے کے دہانے پر ہے

آگے … اک وہ گڑھا ہے اور اس کا وہ اگلا قدم ہے

اب بھی اس کی بےحس،بے دانت، اوچھی، مسترخی باچھیں ہنستی ہیں

اس کا دل نہیں ہنستا اور اس کی باچھیں ہیں جو ہنستی ہیں

یہ اک پُرتحقیر تلطّف دھار ہے اس تلوار کی جس کی زد اتنی کاری ہے

سب اس وار سے اپنی ذلت کی عظمت پاتے ہیں

اس خوش بخت کو علم ہے، اس کے دن تھوڑے ہیں

اس کو علم ہے، اس کا آخری وار اور اس کا اگلا قدم اک ساتھ پڑیں گے

آگے اک وہ گڑھا ہے اور اس کا وہ اگلا قدم ہے

اب ایسے میں جتنے سانس بھی ہیں اس گڑھے سے باہر

جس سے کبھی کوئی باہر نہیں نکلا

اس کی یہ کوشش ہے، وہ اس وقفے کے اندر بھر لے اپنی باچھوں میں

کچھ گھونٹ اور بھی

خوشیوں کے اس گاڑھے جوشاندے کے

جس میں مظلوموں کا لہو پکتا ہے

مجید امجد

باڑیوں میں مینہ۔۔۔

باڑیوں میں مینہ کا پانی، اور ان کے ساتھ ساتھ آگے تک

کیچڑ کیچڑ ڈھلوانوں کی نم مٹی پہ چمکتی ٹھیکریاں اور تنکے

جن میں کھبے کھبے سے نقش، ان قدموں کے جو

ادھر سے جیسے ابھی ابھی گزرے تھے، زمانوں کے اوجھل!

اب کوسوں خطّوں دور، ان اینٹوں کے گھیرے میں یوں بیٹھ کر سوچنا ان روحوں

کے بارے میں

گونگی، منہمک چیونٹیاں تھیں اپنے اپنے جتنوں میں

اپنی اپنی نارسائی میں

اب اس ٹھنڈی سانس کے قلعے میں یوں بیٹھ کر سوچنا۔۔۔

کتنی بڑی ہزیمت ہے ان آہنی خوشیوں کی جن کی نوکیلی باڑ سے

باہر ہیں ان روحوں کے وہ سب دکھ اور وہ سب

نیکیاں جو زینہ تھیں اس قلعے تک

آج اس ٹھنڈی سانس کے قلعے میں یہ آہنی خوشیاں سب کتنی بے امن ہیں

سارے امن تو ان نازک اندیشوں والی زندگیوں ہی میں تھے

جن کے نقشِ قدم کیچڑ کیچڑ ڈھلوانوں سے جیتی گلیوں تک جاتے تھے

مجید امجد

جس بھی روح کا۔۔۔

جس بھی روح کا گھونگھٹ سرکاؤ… نیچے اک

منفعت کا رخ اپنے اطمینانوں میں روشن ہے

ہم سمجھے تھے، گھرتے امڈتے بادلوں کے نیچے جب ٹھنڈی ہوا چلے گی

دن بدلیں گے۔۔۔

لیکن اب دیکھا ہے، گھنے گھنے سایوں کے نیچے

زندگیوں کی سلسبیلوں میں

ڈھکی ڈھکی جن نالیوں سے پانی آ آ کر گرتا ہے

سب زیرِ زمین نظاموں کی نیلی کڑیاں ہیں!

سب تملیکیں ہیں! سب تذلیلیں ہیں!

کون سہارا دے گا ان کو جن کے لیے سب کچھ اک کرب ہے

کون سہارا دے گا ان کو جن کا سہارا آسمانوں کے خلاؤں میں بکھرا ہوا

دھندلا دھندلا سا اک عکس ہے

میں ان عکسوں کا عکاس ہوں۔۔۔

مجید امجد

ان بے داغ ۔۔۔

ان بے داغ دبیز غلافوں کے عطروں میں یوں تو سب کچھ ہے

۔۔۔جن کو تمھاری آنکھیں چومتی ہیں

ان شفاف چمکتی دہلیزوں میں یوں تو سب کچھ ہے

۔۔۔جن پہ تمھارے سجدے بچھتے ہیں

پُرہیبت دیواروں، میناروں اور گنبدوں کے سایوں میں یوں تو سب کچھ ہے

۔۔۔جن میں داخل ہوتے ہی تمھاری سانسیں

ابد کے بوجھ کے نیچے رک رک جاتی ہیں

تقدیسوں کے اسیرو، تم یہ بھی تو سوچتے

اصل میں سب کچھ تو وہ برتاوے تھے جن کو عمروں کے اس ٹکڑے نے اپنایا جو اب

ان قبروں کی مقدس مٹی ہے

تم بھی اس اک پل کو جگمگا سکتے ہو

جس کا تمھاری عمر اک ٹکڑا ہے

ورنہ یوں ہی ان اپنی سچی سوچوں میں ٹھوکریں کھاؤ گے

مجید امجد

تیری نیندیں۔۔۔

تیری نیندیں جانتی ہیں ری منو ۔۔۔

تیری لمبی بے کھٹکا نیندیں جانتی ہیں کیا۔۔۔

تجھ کو تھپکنے والے ٹھنڈے ہاتھوں کے پیچھے یہ کس کا دل ہے؟

اور یہ جو نیندیں لانے والی کم سن صبحیں آئی ہیں

کتنے اندھیروں کے ساتھ اب اس اک دل میں ابھری ہیں؟

اک دل، تجھ کو تھپکنے والے ہاتھوں کا بازو

گندمی محنت زاروں، دھانی کاجواڑوں اور بے رزق دروں میں

لاکھوں ہاتھ پنگھوڑے جھلانے والے، اور ان کے پیچھے اک یہ دل

اک دل، ان ہاتھوں کا بازو۔۔۔

تجھ کو خبر ہے ری منو، تیری نیندوں کو دیکھ کر

آج تو یہ اک دل کن دنیاؤں میں جاگا ہے جو اس کی آخری دھڑکن سے بھی ورے ہیں

کالے سماج۔۔۔ بلکتے بچپن اور اپاہج عمریں

آج بھی اپنی دھڑکنوں میں یہ اک دل تیرے لیے کیا کر سکتا ہے

کل بھی وقت کا پیکر کیا کر سکے گا، یہ دل جس کا ٹوٹا ہوا بازو ہے

کاش ایسے دن بھی آئیں جب یہ دل تیرے جاگنے میں اک شاداں بہناپے کی

مسکانوں میں جاگے

مجید امجد

زندگیوں کے نازک۔۔۔

زندگیوں کے نازک نازک دکھی دکھی موڑوں پر جو جو لمحے آتے ہیں

اک دن اپنے سارے آنسوؤں سمیت، بھنچے ہونٹوں کے پیچھے، دلوں کی تاریکی

میں مر جاتے ہیں

اُن کو کیوں مرنا تھا؟

یہ جذبے تو اس اک سچائی سے پھوٹتے ہیں جو روحوں کا جوہر ہیں

لیکن یہ دل کیوں ان جذبوں کا مدفن ہے؟

پاؤں پھر بھی ڈگ مگ ڈولتے ہیں، گلیوں کی رسموں میں۔۔۔

مرنے والے ساتھی کے ماتھے کو چومنے والے تھرتھر کانپتے ہونٹ

یہ سب کچھ بھول کے

پھر بھی ان صحنوں کی ریتوں میں ہنستے بولتے جی جاتے ہیں

مند جانے والی آنکھیں مٹی میں سو گئیں، جینے والے اقراروں کے سامنے

بندے، تو ان آنکھوں میں ان سب اقراروں کا شاہد ہے

یہ کس سانحے کے پنجر نے تیرے دل کے مدفن میں کروٹ بدلی ہے؟

تو کیا سمجھا بندے؟

شاید سارے سچ تو اس سچائی میں ہیں جس کا کسی کے ساتھ اقرار نہیں

مجید امجد

دلوں کی ان فولادی ۔۔۔

دلوں کی ان فولادی بیٹھکوں میں کس تک ان مفہوموں کے سب معنی پہنچے ہیں

مفہوم ان حرفوں کے جن کی عبارت کھردرے کاغذ کے میلوں لمبے مسطر پر

روزانہ لاکھوں بھوکی آنکھوں کا ناشتہ ہے

کس کے فہم نے معنی جذب کیے ان سب حرفوں کے

جن کی کالی روشنائی سے لہو رستا ہے

کس نے ان حرفوں سے رستے لہو کو دیکھا

لہو۔۔۔ لہو ہم سب کا، دھانی دیسوں، گدلی آبناؤں میں

کس نے جانا

ان صبحوں میں، ان میزوں پر

ورق الٹتے ہی ہر روز اک خونیں عہد گزرتا ہے

مارملیڈ لگے توسوں کے درمیان ۔۔۔

ورق الٹ کر، لو وہ زوں زوں کرتے گھوم گئے پھر سب دل اپنے اپنے محور پر

اپنے اپنے اطمینانوں میں

اپنا دل تو دیکھے دنوں سے دکھنے لگا ہے

مجید امجد

اپنے آپ کو ۔۔۔

اپنے آپ کو بھولے ہوئے ہونے میں جب اس اپنی بھول کو بھی تم

بھولے رہو گے

تو ان پتھریلے فرشوں پر چلتے چلتے اچانک کبھی کبھی تم یوں محسوس کرو گے

جیسے گہری شاموں کی ہلکی سانسوں میں

جی اٹّھا ہے وہ سب کچھ جو غربِ غروب میں اتنے فاصلوں پر ہے

زمانوں سے بھی باہر

اور تم لوٹ آئے ہو خود اپنی یادوں میں اس کے ہمراہ

اپنے آپ کو بھولے ہوئے ہونے میں بھی۔۔۔

مجید امجد

ساتوں آسمانوں۔۔۔

ساتوں آسمانوں کے عکس اور کنکر آ آ کر گرتے ہیں خیالوں کے خانوں میں

یہ سب کچھ ان الگ الگ خانوں میں اک وہ یکجا مخفی قوت ہے جو

مجھ پر ظاہر تو نہیں لیکن جو یوں ہونے میں میری ہونی کے ساتھ ہے

میرے شعور کو ان کا علم نہیں ہوتا، میں پل پل جن جن وارداتوں میں بہہ جاتا ہوں

اور اپنے ہونے کی جس جس ہونی میں ہوتا ہوں۔۔۔

اور جب کوئی مجھے یوں سنبھالتا ہے جیسے وہ میرے ساتھ ہے

اک یہ خودآگاہ سی بےخبری جو میرے شعور کا جوہر بھی ہے

اور جو میرے شعور کے علم سے باہر بھی ہے

زندگی میں اک زندگی، آسمانوں سے آنے والی مٹی جس کی روح ہے

مجید امجد

پختہ وصفوں کے بل پر۔۔۔

پختہ وصفوں کے بل پر، بےحد قربانیوں کے بعد، اک ایسی منزل آتی ہے

جہاں پہنچ کر اس مقصد کی طمانیت ملتی ہے

جس کی بلندی ایک گراوٹ کی جانب بڑھتی ہے

اور اس لمبے سفر میں اک یہ گراوٹ بھی کیسی منزل ہے!

جہاں پہنچ کر انساں اپنے وصفوں سے واصف نہیں رہتا

لیکن دنیا والے اس کے پہلے وصفوں ہی کی بنا پر اس کی گراوٹ سے بے دل نہیں ہوتے

اک یہ کیسی منزل ہے جس تک جب کوئی پہنچتا ہے تو اس کے سوجے ہوئے پپوٹوں کے

نیچے اس کی آنکھوں میں پتلیاں کم حرکت کرتی ہیں

اس کی نظریں اپنی کامیابی پر رکی جمی رہتی ہیں

اور وہ بےنسبت ہو جاتا ہے، اس دنیا سے بھی جس کو اس کے سفر کی کہانی یاد ہے

کیسا یہ گھن ہے جو سینہ تان کے چلنے والی تقدیسوں کے پنجر میں سب جوہر چاٹ جاتا ہے

اور ہر جانب اونچے مقصدوں کے سنگین لبادے اوڑھ کے کھوکھلی روحیں

اکڑ اکڑ کے چلتی نظر آتی ہیں

کون انھیں پہچانے، سونے کی تہہ پانی میں ہے اور مٹی کا چہرہ باہر ان سطحوں پر

مجید امجد

اور وہ لوگ۔۔۔

اور وہ لوگ اپنے ناموں کے حرفوں میں اب بھی زندہ ہیں جب وہ نام ہماری زبانوں پر آتے ہیں

ہم۔۔۔ جو اپنی بقا میں موت کا سلسلہ ہیں

ہم سے اچھے ہیں وہ لوگ

پھول ہمارے باغوں میں جن کی قبروں کے لیے کھلتے ہیں

ہم جو گردش کرنے والے کُروں کے پاتالوں کی مٹی میں بے تذکرہ ذرّے ہیں

ہم ہی تو ہیں وہ جیتی مرتی روحیں، جن کے ہونے اور نہ ہونے کا یہ دائرہ ان ناموں کی

بقا کا دائرہ ہے

جن ناموں کے ذکر کی خاطر ہم بےتذکرہ ہیں

سب کچھ دیکھ کے

سب کچھ جانچ کے

اب بھی لمبی بےانت آنتیں یوں دن رات اس موجِ غرور کو کشید کرنے میں لگی ہیں

جن سے ہماری آنکھیں بھری ہوئی ہیں اور

اب بھی ہم ان ناموں سے بےنسبت ہیں جن کی بقا کی خاطر ہم بےتذکرہ ہیں

مجید امجد

سدا زمانوں کے اندر۔۔۔

سدا زمانوں کے اندر۔۔۔

ذہنوں میں بھی، اور زبانوں پر بھی، تیرے ہیں بے جسم وجودوں والے جو جو نام

اُن کے ابد کیسے ہیں، اور کیا ہیں

سب کچھ بس اتنا کہ ہم اب بھی ان ناموں کو دہرا کر اپنے جی کو گدلا کر لیتے ہیں

ورنہ یوں تو جانے کب سے طاقِ جہاں پہ ابد کے مرتبانوں میں ان کے مرتبے

پڑے پڑے سب گلتے ہیں

کبھی کبھی ان مرتبانوں سے ذرا ذرا سا دکھ چکھ کر ہم اپنی روح کا ذائقہ بدل لیتے ہیں

اور اپنے جی کو گدلا کر لیتے ہیں

لیکن اس سے ان جسموں کو اب کیا لابھ ہے جو خود تو اب مٹی ہیں اور جن کے نام

ہمارے ذہنوں میں بھی اور زبانوں پر بھی جاری ہیں

ان سے تو اچھا ہے گتھم گتھا بازاروں میں اس بھرپور طمانیت سے شاپنگ کرنے والا یہ اک شخص

کوئی ابد بھی جس کی قیمتی مٹی کا زنگار نہیں ہے

ایسے میں اب کون ان کو پہچانے، کون اب ان کے ابد کی حقیقت کو جانے

اک اک کر کے کاٹ گئے ظلموں کے ٹوکے جن کی عمروں کو، اک اک کر کے، اک اک کر کے

مجید امجد

ڈھلتے اندھیروں میں۔۔۔

ڈھلتے اندھیروں میں، کچی مٹی پر، کولتار کی سڑکوں پر، ہر جانب

وہی پرانی، کھدی ہوئی سی لکیریں پہیوں کی اور وہی پرانی گرد، عناد

اور جمگھٹ

وہ پرانی روندی ہوئی سی صبحیں۔۔۔

لیکن کہاں سے آئی ہیں یہ دل کے مساموں میں بھر جانے والی مہکاریں

اَن دیکھے پھولوں کی

کانوں کے پردے بجتے نظر آتے ہیں۔۔۔ تھمے ہوئے سب شور اور دل

کے پردے بجتے نظر آتے ہیں۔۔۔

ازلیں بھی ایسی ہی خوشبوؤں میں جاگی ہوں گی

شام کی سڑکیں، وہی پرانے چہرے

سارے دن کی تھکی ہوئی یہ عبودیت

اور بےمہرنگاہوں کے آواز ے ہر سو

سب لوگ اپنے دلوں کی دھرتی پر بےمامن، سب ان راہوں پر بےمنزل

یونہی جانے کب سے۔۔۔

اور بستی کی دیواروں کے ساتھ ساتھ اب کتنے سکون سے نہر میں پانی

دھیرے دھیرے چمکتا چمکتا رواں ہے۔۔۔ اب، جب رات کا سارا کالا بوجھ

ان گھنے گھنے پیڑوں پر آن جھکا ہے

دیواروں کے گھیرے میں اب یہ کیسی نیندیں سلگ اٹھی ہیں جن کے عبیری دھوئیں میں موت

اور زیست کی سرحدیں مل جاتی ہیں

ایک زمانہ ختم ہوا ہے ۔۔۔ اک دن گزرا ہے

مجید امجد

کبھی کبھی تو۔۔۔

کبھی کبھی تو خوداندوزی کی کیفیت میں، جب

میرا کاسۂ سر ٹھوڑی تک اس میرے سینے میں دھنس جاتا ہے

اور جب میری گردن ہل بھی نہیں سکتی، اور ایسے میں جب

اس دنیا کی بابت میرا جھوٹا سچاعلم مری آنکھوں سے اس دنیا کی جانب

جھانکتا ہے تو

مجھ میں اک فوقیّت کا احساس ابھرتا ہے اور میں کس نفرت سے ان سب

لوگوں کو ٹکٹکی باندھ کے دیکھتا ہوں جو

میرے جھوٹے سچے علم اور میری جھوٹی سچی فوقیّت کا ماخذ ہیں

اوروں کے بھیدوں اور ان بھیدوں کے عیبوں سے آگاہی کیسی فوقیت

ہے جس میں

میرا دل اک کبریائی سے بھر جاتا ہے

اور میں اپنے آپ سے غافل ہو جاتا ہوں

اس اک آگاہی میں کیسی کیسی غفلتیں اور بےعلمیاں ہیں، یہ کس کو خبر ہے

لیکن وہ جو اک کیفیّت ہے، جب کاسۂ سر اس طرح سے تھوڑی تک سینے

کے خول میں دھنس جاتا ہے

اور جب گردن ہل بھی نہیں سکتی اور آنکھیں ٹکٹکی باندھ کے

اپنے شکار کی جانب گھورتی ہیں، اک وہ کیفیت تو بندے کے خدا ہونے کی گھڑی ہوتی ہے

ساری گراوٹیں اس جھوٹی فوقیت سے اگتی ہیں

پھر بھی دنیا تو صرف ان لوگوں سے ڈرتی ہےنا جن کی گراوٹیں دوسروں

کے عیبوں کو جانتی ہیں

کون مجھے پہچانے گا؟ کہنے کو تو سب کے دلوں کے دروں خانے میں میرا

صدق گزر رکھتا ہے

مجید امجد

دکھیاری ماؤں نے ۔۔۔

دکھیاری ماؤں نے اپنے دبلے آنسوؤں میں پالا اپنے جن بیٹوں کو

ان بیٹوں کی عفتوں پر سورج بھی پلکیں بچھا دیتے ہیں

جب بھی لہو میں مقدس مٹی کی یہ طینت گھلتی ہے تو کیسی کیسی

سلسبیلیں ہیں جو ان نینوں میں اُمڈ آتی ہیں

لیکن کون ان سادہ سادہ دنیاؤں کی سنے گا

جو ان پلکوں کے سایوں میں حدِ افق تک بالیدہ ہیں

لیکن ان کی کون سنے گا

آگے تو ہر جا ایسی آنکھیں ہیں جن کے پردوں کے پیچھے

ایسے ایسے خدا اَب گھورتے ہیں، سب مجھ جیسے خدا اورسب تجھ جیسے خدا

جو کالی لمبی جریبوں سے اپنے جثوں اور اپنی کبریائی کو ناپ کر

آنے والی تقدیروں کا زائچہ کھینچنے کے عادی ہیں

ہم، جن کی آنکھوں پہ ہمارے ضمیروں کے خمیازوں کا پردہ ہے

کب ان سلسبیلوں کو دیکھیں گے، کب دیکھیں گے ان سلسبیلوں کو

جن پر آسمانوں کے دِل بھی پسیجے ہوئے ہیں

مجید امجد

اس دنیا نے اَب تک۔۔۔

اس دنیا نے اَب تک ہم کو ہمارے جس بھی دکھاوے سے پہچانا

ہم نے اس کی پرستش کی ہے

اور اب اس کی حفاظت کرتے کرتے اس کی حقیقت کو بھی کھو بیٹھے ہیں

سچ تو تھا ہی نہیں کچھ پہلے سے، اور جھوٹ کی جو اک صورت تھی وہ بھی

نہ رہی اب

اب تو دنیا سے چھپ چھپ کر ان دیسوں میں ہم پھرتے ہیں

جن میں کوئی ہمیں پہچاننے والا نہیں ہے

اب تو نہ اپنے سامنے آ سکتے ہیں۔۔۔ اپنا دکھاوا ہی ہم پر ہنستا ہے

اور نہ غیروں ہی کے آگے اپنے اصلی روپ کو لا سکتے ہیں

۔۔۔خیر سے بغیر اس اپنے دکھاوے کے ہم ہیں ہی کیا!

اب انجانے دیسوں میں پھرتے پھرتے اپنے دکھ یاد آئے ہیں

اب ان دکھوں میں جینا، اب اس نامحرم اور مونس دھوپ میں پھرنا

اپنے خلاف عمل کرنا ہے ۔۔۔ اپنے دکھاوے کو جھٹلانا ہے

اپنے لیکھ پہ اب پچھتانا ہی اچھا جس میں سب سچی پہچانیں ہیں

اک یہ روپ ہی جس کی ذلت کی عزتیں اک جیسی ہیں، ہماری نظروں میں بھی اور

غیروں کی نظروں میں بھی!

مجید امجد

اندر روحوں میں۔۔۔

اندر روحوں میں جو اک روشن روشن قوت ہے، وہ تو ہماری ہے اور بےتسخیر ہے

یوں ہی سمجھ لیں

پھر بھی لاکھ بچائیں اپنے دلوں کو، دھبا تو پڑ ہی جاتا ہے

یہ نورانی قوت تو مٹی کے رابطوں سے ہے

چھتیں رکوعوں کی، ڈھالیں سجدوں کی، اور دعاؤں کے سب قلعے

کوئی تمہارے حلق پہ جب مٹی کا انگوٹھا رکھ کر کچھ کہتا ہے

تو سب قلعے گر پڑتے ہیں

چڑیا اپنی پیاس بجھانے سمندر کے ساحل پر آتی ہے تو اپنی ننھی چونچ میں

کتنا پانی پی لیتی ہے!

نیکی بھی تو سمندر ہے جو سب روحوں میں روشن روشن اور مواج ہے

ہم کتنا پانی پی لیں گے اس سے؟

لاکھ بچائیں، دھبا تو پڑ ہی جاتا ہے دل پر

ان پہ سلام کہ جن کے قدموں کی مٹی سے دونوں جہانوں

کی تقدیسیں ہیں

مجید امجد

لمبی دھوپ کے۔۔۔

لمبی دھوپ کے ڈھلنے پر اب مدتوں کے بعد ایک یہ دن آیا ہے

دن جو ایسے دنوں کی یاد دلاتا ہے جو سدا ہمارے ساتھ ہیں

اس کہرے میں، اس جاڑے میں

امڈے ہوئے ان ریزہ ریزہ بادلوں میں وہ سب نزدیکیاں ہیں جو

میرے وجود کا طلسم رہی ہیں

ورنہ کتنے دور ہیں دکھ جو صدیوں کا حصہ ہیں

کتنی دور ہے موت جو ان سب بستیوں پر چھائی ہے، ان سب ہستیوں کا

حصہ ہے

اس لمحے تو دکھ اور موت کی ان نزدیکیوں میں بھی زیادہ قریب ہے

وہ غافل کر دینے والی بے حس زندگی

اور وہ زندہ رکھنے والی جابرغفلت

جو اس میرے وجود کا طلسم ہے

اس ٹھنڈک میں یہ اک دھیمی دھیمی سی مانوس تمازت

ساری بھولیں، سارے خیال، اس کی کونپلیں

میرے گھر میں آم کے پیڑ کے نیچے تو خندق ہے، اب کے کھاد اس کو کیسے ڈالیں گے؟

کب آئیں گے آنے والے دِن اور بور اور کونپلیں؟

کبھی نہ آنے والی رتوں کے دھیان کہ جن پر آج تو نظریں جم جاتی ہیں

اور میں سوچتا بھی نہیں، کیا کوئی کل بھی آئے گا؟

ساری ندامتیں بھول گیا ہوں

اور وہ سب نزدیکیاں جن کو میں نے اَب تک اتنی دوری سے دیکھا ہے

آج تو وہ سب میرے سامنے ہیں، اس جاڑے میں مدت کے بعد آنے

والے اس کہرے میں

مجید امجد

باہر اک دریا۔۔۔

باہر اک دریا پیلی آنکھوں کا لہراتا ہے

آنکھیں، جن میں پتوں کا پانی رس رس آتا ہے

ہم کو دیکھ کے

اب ایسے میں کس کس بوجھ کو سر سے جھٹکیں

دل میں نیکیاں دہل دہل جائیں اور اپنے گن ڈھارس نہ بنیں

ہر جانب سے ذہنوں میں امڈی ہوئی کالی حرصیں

اپنے برچھے تان کے دھیرے دھیرے گھات میں

ہم کو دیکھ کے

اب ایسے میں کون بتائے، کن جتنوں سے ہم نے اپنی دبلی پسلیوں کے نیچے ان

اپنے دِلوں میں سنبھال کے رکھی ہیں یہ اتنی اذیت دینے والی سب تسکینیں

جن کے باعث

ہم پتوں کے پانیوں سے بھری ہوئی ان صدہا آنکھوں کے سامنے ڈرتے بھی ہیں

اور اس ڈر میں جینے کا دکھ خوشی خوشی سے سہتے بھی ہیں

مجید امجد

میلی میلی نگاہوں۔۔۔

میلی میلی نگاہوں کی اس بھیڑ کے اندر اور بھی گھس کر دیکھو

قاتل جبڑوں کے جڑتے دندانوں میں شاید اک رخنہ امن کا بھی ہو

اپنے بچاؤ میں اس سے زیادہ کیسے بچے رہو گے

پہلے ہی سے اس دیوار تک ہٹے ہوئے ہو جس کے آگے ۔۔۔ آگ ہے …

ان شعلوں کے چلتے آروں کے اندر ہی کوئی رخنہ امن کا ڈھونڈو

یہ مامن تو۔۔۔ تمہارے دلوں کے کسی گوشے میں جدا نہیں ہے

یہ مامن تو۔۔۔ تمہاری دنیاؤں کے کسی گوشے میں جدا نہیں ہے

اندر بھی، باہر بھی، ایک ہی لشکر ہے جس کی دو ٹکڑیاں

جنگ میں ہیں آپس میں تمہارے دلوں کی سرحد پر، جس کے اندر کی جانب

اتنی دور تک

تم کو پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔۔۔

اس جمگھٹ میں اب اک بار تو ہلّا بول کے اپنے دلوں کے اندر کا اک وہ

گوشہ امن کا اپنے واسطے ڈھونڈو

جس پر زندگی کے لشکر کی دو باہم متحارب ٹکڑیوں کا مشترکہ قبضہ رہا ہے

اب تک۔۔۔

مجید امجد

8 جنوری 1972

ان سالوں میں

سیہ قتالوں میں

چلی ہیں جتنی تلواریں بنگالوں میں

ان کے زخم اتنے گہرے ہیں روحوں کے پاتالوں میں

صدیوں تک روئیں گی قسمتیں۔۔۔ جکڑی ہوئی جنجالوں میں

ظالم آنکھوں والے خداؤں کی ان چالوں میں

دکھوں، وبالوں میں

قحطوں، کالوں میں

کالی تہذیبوں کی رات آئی ہے اجالوں میں

اور اب ان زخموں کے اندمالوں میں، اپنے اپنے خیالوں میں

چلنے لگی ہیں کروڑوں جبڑوں تھوتھنیوں میں زبانیں

جیبھیں جٹی ہوئی بےمصرف قیلوں قالوں میں

کوئی تو میری بےزبانی کے معنی ڈھونڈے ان حالوں کے حوالوں میں۔۔۔

مجید امجد

چیونٹیوں کے ان قافلوں۔۔۔

چیونٹیوں کے ان قافلوں کے اندر میں وہ مناد ہوں

جس کی آنکھوں میں جب آتی آندھیوں اور طوفانوں کی اک خبر ابھرتی ہے

تو ان آندھیوں اور طوفانوں کی آواز کو قافلے سن نہیں سکتے

لیکن میرے دِل کا خوف، جو میرے علم کی عادت ہے

ان قافلوں کے حق میں اک ڈھال ہے

تقدیروں کی یہ خبریں اور ان کے سب دکھ میرے لیے ہیں

لیکن کس نے میری خبروں کو میری آواز کے پیکر میں دیکھا ہے

کس نے سنی ہے جاننے والی یہ آواز جو سب کے سروں پر ڈھال ہے

سدا جییں ان صحنوں میں یہ دھیرے دھیرے رینگنے والی ننھی ننھی جیتی لکیریں

جن کے ذرا ذرا سے الجھاوے ہی اُن کے کڑے مسائل ہیں

ان دکھوں سے بھی بڑھ کر

جو آسمانوں کے علموں نے مجھ کو سونپے ہیں

مجید امجد

سب کچھ ریت۔۔۔

سب کچھ ریت ۔۔۔ سرکتی ریت۔۔۔

ریت کہ جس کی ابھی ابھی قائم اور ابھی ابھی مسمار تہیں۔۔۔ تقدیروں کے

پلٹاوے ہیں

جل تھل۔۔۔ اتھل پتھل سب۔۔۔ جیسے ریت کی سطحوں پر کچھ مٹتی سلوٹیں

کیسی ہے یہ بھوری اور بھسمنت اور بھربھری ریت

جس کے ذرا ذرا سے ہر ذرّے میں پہاڑوں کا دل ہے

ابھی ابھی ان ذرّوں میں اک دھڑکن تڑپی تھی

ابھی ابھی اک سلطنت ڈوبی ہے

ابھی ابھی ریتوں کی سلوٹوں کا اک کنگرہ ٹوٹا ہے

سب کچھ ریت۔۔۔ سرکتی ریت۔۔۔

مجید امجد

ریڈیو پر اک قیدی …

ریڈیو پر اک قیدی مجھ سے کہتا ہے:

’’میں سلامت ہوں

سنتے ہو۔۔۔ میں زندہ ہوں!‘‘

بھائی ۔۔۔ تو یہ کس سے مخاطب ہے۔۔۔

ہم کب زندہ ہیں؟

اپنی اس چمکیلی زندگی کے لیے تیری مقدس زندگی کا یوں سودا کر کے

کب کے مر بھی چکے ہم

ہم اس قبرستان میں ہیں…

۔۔۔ہم اب اپنی قبروں سے باہر بھی نہیں جھانکتے

ہم کیا جانیں، کس طرح ان پر باہر تیری دکھی پکاروں کے یہ ماتمی دیے روشن ہیں

جن کے اجالوں میں اب دنیا ان لوحوں پہ ہمارے ناموں کو پہچان رہی ہے

مجید امجد

21 دسمبر 1971

رات آئی ہے، اَب تو تمہارے چمکتے چہروں سے بھی ڈر لگتا ہے

اے میرے آنگن میں کھلنے والے سفید گلاب کے پھولو

شام سے تم بھی میرے کمرے کے گلدان میں آ جاؤ ۔۔۔ ورنہ راتوں کو

آسمانوں پر اڑنے والے بارودی عفریت اس چاندنی میں جب

چمک تمہارے چہروں کی دیکھیں گے

تو میرے ہونے پر جل جل جائیں گے اور جھپٹ جھپٹ کر

موت ک تپتے دھمکتے گڑھوں سے بھر بھر دیں گے اس آنگن کو

اب تو تمہارا ہونا اک خدشہ ہے

اب تو تمہارا ہونا۔۔۔ سب کی موت ہے

شاخ سے ٹوٹ کے میرے خود آگاہ خیالوں کے گلدان میں اَب آ جاؤ

۔۔۔اور یوں مت سہمو۔۔۔ کل پھر یہ ٹہنیاں پھوٹیں گی۔۔۔ کل پھر سے پھوٹیں گی

سب ٹہنیاں

آتی صبحوں میں پھر ہم سب مل کے کھلیں گے اس پھلواڑی میں۔۔۔

مجید امجد

ہم تو سدا۔۔۔

’’ہم تو سدا تمہاری پلکوں کے نزدیک رہے ہیں‘‘۔۔۔ آنسو ہم سے کہتے ہیں۔۔۔

’’تمہیں تو تھے جن کی آنکھوں پہ تمہارے بھرے بھرے پھیپھڑوں کے

ٹھنڈے ٹھنڈے دخان تھے

اور تم ہم سے ہو گئے تھے کچھ اتنے بے نسبت

اتنے بے نسبت کہ تم اپنے لہو کو پانی نہیں سمجھتے تھے۔۔۔‘‘

آنسو سچ کہتے ہیں، ہم اب سمجھے ہیں

اب ہم روئے ہیں تو آنسو ہم پر ہنستے ہیں

بہہ گئے نا ہم سب کے لہو پانی کی طرح اس اپنے دیس میں

اس اپنے گھر میں…

آج ہم اپنے جیالے بیٹوں کو روتے ہیں تو

آنسو ہم پر ہنستے ہیں

اس مٹی کے وہ بیٹے ہم نے قیمت ہی نہ جانی جن کے چہروں کی

اور ہم بھرے بھرے

پھیپھڑوں کے

ٹھنڈے ٹھنڈے دخانوں کے پیچھے

یہی سمجھتے رہے کہ ہمارا لہو تو گاڑھا ہے

لیکن ہم بھی اور ہماری عظمت بھی، اب سب کچھ پانی پانی ہے

اب ہم روئے ہیں تو آنسو ہماری آنکھوں میں ہم پر ہنستے ہیں

مجید امجد

اے قوم

پھولوں میں سانس لے کہ برستے بموں میں جی

اب اپنی زندگی کے مقدس غموں میں جی

وہ مائیں جن کے لال لہو میں نہا گئے

صدیوں اَب ان کے آنسوؤں، اکھڑے دموں میں جی

جب تک نہ تیری فتح کی فجریں طلوع ہوں

بارود سے اٹی ہوئی ان شبنموں میں جی

ان آبناؤں سے ابھر، ان ساحلوں پہ لڑ

ان جنگلوں میں جاگ اور ان دمدموں میں جی

پیڑوں سے مورچے میں جو تجھ کو سنائی دیں

آزاد ہم صفیروں کے ان زمزموں میں جی

بندوقوں کو بیانِ غمِ دل کا اذن دے

اک آگ بن کے پوربوں اور پچھموں میں جی

مجید امجد

سائرن بھی، اذان بھی، ہم بھی

مجید امجد ۔ غزل نمبر 114
جنگ بھی، تیرا دھیان بھی، ہم بھی
سائرن بھی، اذان بھی، ہم بھی
سب تری ہی اماں میں شب بیدار
مورچے بھی، مکان بھی، ہم بھی
تیری منشاؤں کے محاذ پہ ہیں
چھاؤنی کے جوان بھی، ہم بھی
دیکھنے والے، یہ نظارہ بھی دیکھ
عزم بھی، امتحان بھی، ہم بھی
اک عجب اعتماد سینوں میں
فتح کا یہ نشان بھی، ہم بھی
تو بھی اور تیری نصرتوں کے ساتھ
شہر میں ٹکا خان بھی، ہم بھی
مجید امجد

مصطفیٰ زیدی

اے وہ جس نے اپنی صدا میں اپنی بقا کو ڈھونڈا

اے وہ جس کی صدا کو بہا لے گئیں کڑکتی کالی آندھیاں خونی ویرانوں کی

مجھ بے دست و پا کا دل دُکھتا ہے، جانے اک وہ کیسی گھڑی تھی

اس دن، ساتوں آسمانوں کی گرتی چھتوں کے نیچے

تو نے جب اپنے جی میں اپنے آخری سانس کی ٹھنڈی چاپ سنی تھی

جانے تو نے ذرا سے اس وقفے میں کیا کیا سوچا ہو گا

اب میں کیسے تجھے بتاؤں

اب بھی ہست کا صحرا اسی طرح خود موج ہے

اب بھی تیرے دل کا منور ذرّہ تیری مٹی سے باغی ہے

کون اب تجھ سے پوچھے

تو نے اپنےغموں کےغم میں خیالوں کے جواب ڈھونڈے تھے

کیا وہ سب اس مٹی سے باہر تھے

جس مٹی کو تیرے ذہن نے اپنے وجود سے جھٹک دیا تھا؟

کس کے پاس جواب ہے اس کا؟

کون بتائے، کس دنیا کے کن ظلموں نے لوٹ لیں۔۔۔

سدا چمکنے والی تیری وہ مشفق آنکھیں اور تیرا انس بھرا وہ چہرا

اور وہ ذہن کہ جس کے طوفانوں میں تو نے عمر بسر کی موت کے ساحل تک

صدیوں تک بھیگی پلکوں سے دنیا چنے گی

موت کے ساحل پر بکھرے ہوئے روشن ذرّے تیری صداؤں کے

مجید امجد

بندے جب تو۔۔۔

بندے، جب تو اپنی سوچ میں کوشاں ہوتا ہے اس زندگی کے لیے

جس کی خاطر تیری روح ڈکارتی ہے تیرے دل کی دھڑکن میں

ٹھنڈے میٹھے پانی

سانس میں روغنی باس۔۔۔ اور

اینٹوں کی عشرت میں نئی قمیصوں کی طنّاز کریزیں

اور اس اپنی سوچ میں کوشاں رہنے پر جب تیری آنکھیں

نئے نئے چمکیلے دکھوں سے بھر جاتی ہیں

تجھے خبر ہے تب تو کتنا قریب آ جاتا ہے اس دِن کے

جس کی روشنیوں پر تیرے دل کے اندھیروں کا سایہ ہے

اور۔۔۔ اس دن کے آگے کیا ہے؟ تجھ کو بتاؤں

تو دیکھے تو آگے تجھ کو زمانے کا وہ ان دیکھا دور دکھائی دے گا

میں نے اپنی عمر میں جس کو مرتے ہوئے دیکھا تھا

کیا تو انھی دنوں کی زنجیروں کو پھر سے پہن لینے پر آمادہ ہے؟

کیسے کیسے خیال مرے دِل میں آتے ہیں

لرزا دینے والے دھیان ان دنوں کے جب لاکھوں لوگوں نے اندھیری

رات کا کالا آٹا

اپنے آنسوؤں میں گوندھا تھا

کالے آٹے ۔۔۔ کالے پانی۔۔۔

نہیں نہیں ۔۔۔ میرا یہ بدن تو میرا بدن ہے جو اس مٹی ہی کے لیے تھا

لیکن۔۔۔ میرا دل۔۔۔ میرا دل تو تیرے سینے کے لیے ہے

مجید امجد

ان کے دلوں کے اندر۔۔۔

ان کے دلوں کے اندر تو نہیں، لیکن ان کے مکانوں کے اندر تو دیکھو

کتنی ویرانی۔۔۔ جس سے ان کے دل بے وقعت ہیں ۔۔۔

کتنی ویرانی۔۔۔ جس سے ان کے چمکیلے آنگنوں کی رونق ہے۔۔۔

چھوٹے بڑے لوگ ان شہروں کے اپنے چھوٹے بڑے مکانوں میں سب اک جیسے ہیں

دیواروں سے پھسل کر آنگنوں کی ڈھلوان تکونوں تک جو دھوپ اتری ہے

سب زردی ہے چہروں کی ان شہر والوں کے

اپنے آپ سے اکتائی ہوئی سب عاجز خوشیاں ہیں جو چہروں اور آنگنوں پر پھیلی ہیں

باہر ۔۔۔ کھوکھلے قہقہے، جن میں ٹین کی روحیں بجتی ہیں۔۔۔

اندر ۔۔۔ کچھ ۔۔۔ کاٹھ کی راحتیں، دیمک کے جبڑوں میں۔۔۔

مجید امجد

سب کچھ جھکی جھکی۔۔۔

سب کچھ جھکی جھکی ان جھونپڑیوں والے میرے دِل کے گاؤں میں ہے

جو میری ان پلکوں کی چھاؤں میں ہے

جب یہ پلکیں میرے دل کی جانب جھکتی ہیں

باہر لاکھوں زندگیوں کے قبیلے

بازو جھٹک جھٹک کر کوسنے والی نفرتیں

کالے جنگل، جن کی جڑیں سب میرے سینے میں ہیں

باہرمینہ برسا ہے

باہر چھتناروں کے دھلے دھلے پہناوے، گیلی گیلی دھرتی اور چمکیلی سڑکیں

اور اندر میرے کمرے میں دیواریں مجھ سے کہتی ہیں:

’’۔۔۔ آج ہمارے پاس بھی بیٹھو۔۔۔

ہم نے تو دیا تمہیں یہ دل، یہ گاؤں، کہ جو اس لمحے تمہاری ان پلکوں کی

چھاؤں میں ہے‘‘

مجید امجد

اب تو دن تھے

اب تو دن تھے

یہی تو دن تھے

دن جو اک شخص کے حق میں جدا جدا تقدیر ہیں

جانے میرے دنوں کا فیصلہ کیا ہو میرے حق میں

لیکن پھر بھی یہی تو وہ دن ہیں جن کی پتھریلی تھاہ میں مل جاتی ہے

غواصوں کو

دولت

دولت بھی ایسے حرفوں کی۔۔۔ جن کے سانچوں میں اسموں کے ابد ڈھلتے ہیں

اب تو دن تھے

پھر تو۔۔۔

پھر تو یہ ذلت تک بھی باقی نہ رہے گی جس میں میری آسائش مجھ کو زندہ رکھتی ہے

اب تو دن تھے، میرے دل میں بسنے والی بڑی پرانی بے دلی

تو اک بار تو میرے قلم کو اپنے بھید عطا کر دیتی

پھر تو ریت کی چادر ابھرے گی اور ڈھانپ دے گی ان زخموں کو جو

تیری مردہ مسکراہٹ نے مجھے بخشے ہیں

مجید امجد

آنکھیں ہیں جو۔۔۔

آنکھیں ہیں جو مجھ پہ گڑی ہیں

چہرے ہیں جو میری جانب جھکے ہوئے ہیں

آنکھیں، جن کو دیکھ کے میرے دل کے تختے دھڑکنے لگ جاتے ہیں

چہرے، جن کے آگے میری روح کے بادباں ڈول جاتے ہیں

آنکھیں گردابوں کی

چہرے طوفانوں کے

اور یہ موجیں

یہ دشمن آنکھوں والے عفریتوں اور ان کے چکراتے وجودوں کے پیچاک، ابھرتے،

بڑھتے، میری سمت امڈتے

سب کچھ ایک ذرا سی جنبش ان سرشار ہواؤں کی جو

ازل سے ابد تک بہتی ہیں اور جن کی لگامیں

ایسے ہاتھوں میں ہیں جن کی ہتھیلیوں پر یہ سارے سفینے ہیں روحوں کے

بجتے تختے۔۔۔ ڈولتے بادبان… اور ڈر اس کا جس کا سہارا ہے

مجید امجد

اپنی بابت۔۔۔

اپنی بابت تو ہم تم یہ جانتے ہیں کہ ہماری منزلت اور ہمارے منصب

مٹی کے رشتے ہیں

لیکن، میں کہتا ہوں: یہ جو سارے ادارے، یہ جو ساری تنظیمیں اور تملیکیں ہیں

یہ سب جگہیں کتنی تکریموں والی ہیں

جو بھی قوت کے ان سرچشموں پر قوت حاصل کر لے

اس کے بس میں ہے ان دنوں میں وہ تقدیریں بھر دے

جن میں لاکھوں انسانوں کے ضمیروں کی خوشیاں مضمر ہیں

لیکن، اَب ان جگہوں پر جن لوگوں کے پنجے ہیں

کیسے ان کے ارادوں کے قبضے ان کی سانسوں پر کسے ہوئے ہیں

اور کتنے آسودہ ہیں وہ اپنے عزمِ ستم پر ۔۔۔

بندے، جانے وہ دن کب آئے گا

جب یہ لوگ بھی جانیں گے کہ سبھی یہ ان کے منصب مٹی کے رشتے ہیں

وہ دن جس کے تقدس کے آگے ہم نے تو ہمیشہ اپنے آپ کو بے قوت پایا ہے

مجید امجد

جب اک بے حق۔۔۔

جب اک بے حق استحقاق کے بل پر ۔۔۔ راحت کی اک دنیا

جینے والی روحوں کے عفریتوں کے حصے میں آ جاتی ہے

تو اک مشکل ابھرتی ہے: عمروں میں ان خوشیوں کا دور آتا ہے

جن کے تقدس کو زندہ رہنے والی سب اچھی قدروں نے تسلیم کیا ہے

ایسے میں اب آخر کوئی کتنا بھی سچا ہو، کیوں وہ الجھے ان لوگوں سے

جن کی اک اک سانس محافظ ہے ان کی جھوٹی راحت کے اس قلعے کی

آخر دنیا تو یہی کہتی آئی ہے، یہ راحت اک وہ حق ہے جو سب دستوروں

کا ثمر ہے

اک وہ حق جس کی خاطر ہر فرد اپنے ہونے کی میٹھی سزا چکھتا ہے

سب کچھ بھول کے اپنی ہستی کی سرمستی میں جیتا ہے

لیکن اپنے حق کے جواز کی بابت کچھ سوچے تو اس کی سوچ میں سیسہ بھر جاتا ہے

اس کی آنکھوں اور چہرے پر اک ٹھنڈی ٹھنڈی پتھریلی چمک بکھر جاتی ہے

کون اس حق سے الجھ سکتا ہے، کون اسے جھٹلا سکتا ہے

میں نے دیکھی ہے جو کچھ اس حق سے ٹکرانے والی حجت کی سزا ہے

میں کہتا ہوں، پھر بھی دِل کو چیرنے والا اپنا یہ دکھ اچھا اس راحت سے

جس میں اس دنیا کو سہارا دینے والی غمگیں نیکیاں سب گہنا جاتی ہیں

مجید امجد

میں کس جگ مگ میں۔۔۔

میں کس جگ مگ میں تھا اب تک۔۔۔

کہاں تھا اب تک اک یہ خیال کہ جس کی روشنی میں آج اپنی بابت سوچا ہے تو

خود کو اک ظلمت کی منزل میں پایا ہے۔۔۔

جو بھی اچھائی ہے، مجھ تک آتے آتے میرا عیب ہے

رستے جہاں تک سب آ کر ملتے ہیں، منزل ظلمت کی ہے میں جس میں ہوں

میں۔۔۔ جو اپنی بے سر و سامانی میں تیرے ذکر کا اہل نہیں ہوں۔۔۔

اندیشوں سے بھرا ہوا یہ سر تو کھڑکھڑاتی ہوئی مٹی کا اک ٹھیکرا ہے جو

تیرے قدموں پر جھک جائے تو بھی

تیری جلالت کا رتبہ نہیں بڑھتا، جو پہلے ہی اوجِ مراتب پر ہے

وہ سب رستے تیرے علم میں ہیں جو

میرے دل کی ظلمت پر آ کرملتے ہیں

اور جو تیری صداقت کے سرچشموں سے پھوٹے تھے

صدہا سمتوں سے آنے والے ان رستوں کے پیچھے

روشنیوں کے ابد ہیں

جن کی اوٹ میں آگے ظلمت کی منزل ہے، میں جس میں ہوں

باقی سب دنیا اب بھی اس جگ مگ میں ہے، جس سے ابھی ابھی میں

باہر آیا ہوں

مجید امجد

کہنے کو تو۔۔۔

کہنے کو تو ہم سب جانے کیا کچھ ہیں ۔۔۔۔

جتنے ذریعے خیر کے ہیں، ہم ان کی جانب کہنے کو تو بڑھتے ہیں

کس کا کلیجہ ہے دنیا کی دیکھتی آنکھوں کے آگے

اپنے دل کی بدی کی سمت بڑھے

لیکن تم نے دیکھا، جب بھی چکناچور ضمیروں والے سماجوں میں

کوئی خیر کی منزل سامنے آتی ہے

تم نے دیکھا، کیسی کیسی اپاہج نیکیاں اپنے بجتے جبڑوں کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں

دیکھنے میں تو اتنے سیدھے صراطوں پر چلنے والی۔۔۔

اور جب ان کی آنکھوں کے رستے ان کے دلوں میں گزر کر دیکھو تو

اندر۔۔۔

اندر۔۔۔ گھات لگائے ان کے ضمیروں میں مضمر ہیں وہ سب تیز نگاہوں والے

کالے ارادے، جو موقع پا کر

خیر کی ہرمنزل پہ جھپٹتے ہیں

روحوں میں جم جانے والے سیسے کی خاطر۔۔۔

مجید امجد

ننھے کی نوبیں آنکھوں۔۔۔

ننھے کی نوبیں آنکھوں میں تارا

اپنے اندر ساری دنیا کے عکس اب بھی اسی طرح لے کر آتا ہے

جیسے کروڑوں برس پہلے کے بچے

بچے انسانوں کے، بچے جانوروں کے، سب لے کر آتے تھے

اپنی آنکھ کے تل میں

اب بھی کوئی چڑیا چشمہ نہیں لگاتی

اب بھی نوبیں آنکھوں والی کھلنڈری ننھی ننھی نئی نویلی نسلیں

دیکھتے دیکھتے دور ان بھرے چوراہوں پر سے

صدہا پہیوں کے جنباں رخنوں کے اندر، اپنے چلتے پیڈلوں، ڈولتے

ہینڈلوں کے ساتھ

کس تیزی سے گزر جاتی ہیں

میرا دل میری عینک کے منفی ہندسوں والے شیشوں کے پیچھے حیران ہے

میں جو بمشکل بہتے ہجوموں کے ساحل پر اپنے اوسانوں کو سنبھالے ہوئے ہوں

کون اس جانب دیکھے گا

جس جانب میں ہوں

جس جانب سب نے جانا ہے

مجید امجد

میرے سفر میں۔۔۔

میرے سفر میں اک اک دن کا سورج اک اک دیس تھا

ان دیسوں کے اک اک باسی کے دل سے گزرا ہوں

میں نے دیکھا ان کے دلوں کے آنگن سونے کے تھے

ان کی مگن آنکھوں میں ڈورے سونے کے تھے

اک اک صبح کو ان کی سواری کے لیے آتی تھی سورج کی رتھ، سونے کی

لیکن آج یہ جس پر میری نظر رکی ہے، کون ہے یہ مٹی کا پتلا ان سڑکوں پر

جس کو دیکھ کے میرے جی میں بھر گئے ہیں وہ آنسو

آنسو جن کے سبب سے سونے کے وہ سب زنگار جو میرے عقیدوں پر

تھے، اترگئے ہیں

اور اَب یہاں کھڑا ہے، میرے سامنے، ننگے پاؤں وہ مٹی کا پتلا کیچڑ میں

کرنوں کے کیچڑ میں

اک وہ جس سے اس کے دیس کے سارے سورج ہم نے چھین لیے ہیں

اور میری نظروں کے سامنے اپنے کرموں کے کیچڑ میں لتھڑی ہوئی نظر آتی ہیں

ساری ملتیں جو اب تک ان دنوں کے دیسوں میں آئی ہیں

میرے سینے کے اندر اک چھوٹا سا کوٹھا گر پڑتا ہے اور

اک چھوٹے سے خیال کی دنیا ان میری آنکھوں میں امڈ آتی ہے

اور میرا دل مجھ سے پوچھتا ہے

جانے ہم اپنی روحوں میں کب اس سورج کو

ابھرا ہوا دیکھیں گے

وہ سورج جو اب تک کبھی نہیں ڈوبا

مجید امجد

اور وہ بھی اک کیسی۔۔۔

اور وہ بھی اک کیسی محویت تھی جس میں سدا صدہا آنکھوں نے اٹھائے

اپنے نازک پردوں پر بوجھ اس موسیقی کے جو روحوں میں لہرا جاتی ہے

اور پھر اک وہ محویت بھی دین تھی کیسی کیسی آسودہ شاموں کی

ان گلیوں میں کیسے کیسے لوگ تھے، جو یوں اپنے دلوں کے گمانوں میں جیتے تھے

اک لمحے میں ابد کو دیکھنے کا احساس، عجب اک مستی تھی وہ

جس کے گمانوں میں جیتے تھے

ان کو اس کی خبر نہیں تھی، یہ گہری محویت

موجِ ابد کی رو سے کٹ کر گرا ہوا وہ ساکت لمحہ ہے جس کے ٹھہراؤ میں

رک جاتے ہیں

وہ سب ذکر کہ جن کو جاری ہی رہنا ہے

باہر دیکھو، اس دوار حقیقت کی جوکھم میں جو بھی پڑا اس کی آنکھوں میں تو بھر بھر گیا بوجھ

اس ذکر کا جو مٹی میں مل کے بھی مٹی نہیں ہوتا

سنبھلو۔۔۔ سوچو۔۔۔ تم کس محویت میں محو ہو لوگو

اپنے ذہن سے خود کو جھٹک کر، اپنے باہر دیکھو

مجید امجد

تو وہ پیاسی توجہ۔۔۔

تو وہ پیاسی توجہ سدا رہی تھی کبھی جو میری طرف ہی

کیا دن تھے، تیرے ہونے میں سپنے تھے میری خوشیوں کے

اور اب میرے دل کے متّصل ہیں وہ فاصلے، جن کا کنارا دور اُدھر تیرے دل کی حد تک ہے

اور یہ فاصلہ بھی تو ہے اس زندگی میں اک موت کا رابطہ

اب اس موت میں جینے سے کیا حاصل

اس لمحے تو ساری دنیا میرے دل کے

اک لا حاصل سے احساس کا حصہ ہے اور

یہ سب کچھ تو شاید۔۔۔

خود اپنی ہی طرف میری وہ توجہ ہے جو اب کے ہوئی ہے

اب جب سارے فاصلے زندگیوں کا فیصلہ بھی کر چکے ہیں

مجید امجد

پچھلے برس ۔۔۔

پچھلے برس جب یہ دن آئے تھے ۔۔۔ دن جو اس سال اَب بھی آئے ہیں ۔۔۔

جب یہ بادل، جب یہ کہرا، جب یہ سرد ہوائیں ۔۔۔ جب یہ سب کچھ تھا

جو اب کے برس ہے

تب تو میرے ساتھ اک اپنے آپ کے گم ہو جانے کی آگاہی بھی تھی

تب تو اس پگڈنڈی پر بادل بھی دھول تھے، جس میں میرے پاؤں کھبے ہوئے تھے

تب تو میں اور یہ بستی اور یہ پگڈنڈی ۔۔۔ بادل ہی بادل تھے

آج اس پگڈنڈی پر چلتے ہوئے وہ اک دن یاد آتا ہے

اس دن بادل میرا پہناوا تھے

میں جب میلی سی اک صبح کی تنہائی میں ادھر سے پچھلے برس گزرا تھا

آج بھی بادل ۔۔۔ گیلی گیلی تہوں میں ڈھیر دھوئیں کے ۔۔۔ ادھر ادھر ہر سو ہیں

ڈھیر دھوئیں کے، قوسوں سے قوسوں تک، پیڑوں پر، کھیتوں میں، کچی دیواروں پر

صرف اک میرا دل ان سے خالی ہے

کیسے کیسے ابد۔۔۔ جو بیت گئے ہیں

مجید امجد

دنیا تیرے اندر۔۔۔

دُنیا تیرے اندر سچائی کی وہ سب طاقت ہے جو کروڑوں جینے والے

جاننے والے ذرّوں سے مل کر بنتی ہے

جانے تیرے اندر کیسی کیسی رمزوں کی طاقت ہے

اتنی طاقت ہے تیرے پاس اور تو کتنی بےہمت ہے!

میں جو آزادی کی اِک انگڑائی بھر کر اتنے کالے چنگلوں سے نکلا ہوں

مجھ پر تیری آنکھوں کے انگارے کیوں ہنستے ہیں؟

میں جو اپنے ساتھ اتنے لمبے عرصے سے جنگ میں ہوں اور میں جو

اپنے آپ سے صلح پہ اب بھی کچھ آمادہ نہیں ہوں

تیرے لبوں پر میرے لیے اتنی زہریلی شفقت والے بول یہ کیوں ہیں؟

تیری اپنے ساتھ جو جنگ تھی تو نے ہار بھی دی اور مجھ کو اس حالت میں

دیکھ کے

اب جو طمانیت تیرے اندر سے چھلک کر تیری آنکھوں اور چہرے پر

بکھر گئی ہے

مجھ کو دیکھ کے، مجھ پر اپنی فوقیت کا یہ احساس کہ جو تیرے دل

میں امڈا ہے

کیا سب اسی لیے تھیں وہ رمزیں جن کی طاقت تیرے بس میں ہے؟

یہ میری نادانی ہے نا، اپنے آپ سے اب بھی جنگ میں ہوں اور اب

بھی اپنی گراوٹ سے لڑتا ہوں

دنیا تیری جامد عظمت مجھ کو دیکھ کے آج اس قہقہے میں کیوں پھڑپھڑاتی ہے؟

اس سے زیادہ بھلائی تیرے ساتھ میں کیا کر سکتا ہوں؟

مجید امجد

طغیان

میرے اپنے ظلم اور میرے اپنے کفر کے آگے، مجھ میں یہ جو عاجزیاں ہیں

ان سے ملوث ہے میری ہستی

میں نے چاہا تھا ان عاجزیوں کی جگہ پر اک سنگین طمانیّت کو اپنے سینے میں رکھ

لوں جس میں نئی نئی کڑواہٹ کی خوشیاں ہوں

میں نے کچھ یہ مہم سر کر بھی لی تھی

لیکن چلتے چلتے ذرا سا ایک خیال آیا ہے

پھر کالی سی اک برگشتگی میرے ذہن میں چکرائی ہے

اور میری پلکوں کی ڈوریاں ڈھلک گئی ہیں

میرے مردہ دنوں کی کھوپڑیوں سے ظلم اور کفر کی میٹھی نظروں نے پھر سے

میری جانب جھانکا ہے

بیتے دنوں والا یہ چہرہ۔۔۔

اس چہرے کو، اس چہرے کی آنکھوں کو، میں بھلا بھی چکا تھا

ان آنکھوں کو اپنے جذب اور اپنی کشش کا علم ہے، اور ان کے اس علم کے آگے

اب پھر میری خودآگاہی ماند ہے

اس طغیان کے آگے اب پھرعاجز ہوں

اب پھر، بصد خوشی اس اپنی عاجزی کے آگے بےبس ہوں

مجھ سے پوچھو۔۔۔ اپنی غرقابی کے اس احساس کی سطحیں بھی کتنی دلکش ہیں

مجید امجد

جب اطوار وطیرہ بن جاتے ہیں۔۔۔

جب اطوار وطیرہ بن جاتے ہیں

اور لوگوں کے عمل میں جب اک رسم کا رس گدلا جاتا ہے

تب روحوں کو چیرنے والے تقاضے

ہوتے ہوتے، اپنے اعادے کےاندر ہی خود اپنی تکذیب میں مٹ جاتے ہیں

اور اچھے عملوں کی تعمیلوں میں اچھے عمل دھندلا جاتے ہیں

اور وہ سارے ظلم جنم لیتے ہیں، جو ہم روز روا رکھتے ہیں

کون بتائے، کتنے ظلم ہیں

جو ان معمولی معمولی باتوں کے معمول میں یوں ہم سے سرزد ہوتے ہیں

جیسے پتلیاں آنکھوں میں بےبس ہو ہو کر اپنے آپ پہ جم جائیں، جب

تھکے تھکے دل کے پیچھے اپنی کچھ اوچھی سوچیں، چلتے چلتے

آستینیں الٹا دیں

جیسے دل کو سیدھی راہ پہ لانے کا عندیہ

بےدھیانی میں، داڑھ تلے پس جائے

جیسے جی کو دُکھانے والی چیزیں سامنے آ آ کر

بےحس نظروں کا روزینہ بن جائیں

مجید امجد

کندن

اپنے اندر جو کندن ہے اس کا لشکارا تو سدا ہماری آنکھوں میں جیتا ہے

سدا ہمارے ذہن میں اک چمکیلی راحت کے لالچ کو اکساتا ہے

لوگ، جب اپنے مطلبوں کی خاطر یوں عجز کی باتیں کر کے ہم کو عاجز کر دیتے ہیں

تو ایسے میں ہمارے اندر جو کندن ہے، ہماری آنکھوں میں آ کر

ایک لجاجت بھری ہنسی ہنستا ہے

اسی ہنسی کے پیچھے تحفظ کا اک ان دیکھا پنجہ بھی جھپٹتا ہے اور

نظر نہ آنے والا ایک تصرف کا جبڑا بھی غراتا ہے

یہ سنگین و ملائم رمز مروّت کی، سارے مفہوم ادا کر دیتی ہے ۔۔۔ اور

اسی کے پردے میں، گہرے بھیدوں کے اندر، زندگیوں کی حفاظت کرنے والی

خودغرضی جیتی ہے

اس سچّے لشکارے والے کھوٹے کندن کی ضو

سدا ہماری آنکھوں میں جیتی ہے

اور اس پر ہم کتنے خوش ہیں

مجید امجد

ان سب لاکھوں کُروں۔۔۔

ان سب لاکھوں کُروں، زمینوں کے اوپر لمبی سی قوس میں، یہ بلوریں جھرنا

جس کا ایک کنارا، دور، ان چھتناروں کے پیچھے، روشنیوں کی

ہمیشگیوں میں ڈوب رہا ہے

جس کا دھارا میرے سر پر چھت ہے

اور میں اس پھیلاؤ کے نیچے

کبھی نہ گرنے والی، گرتی گرتی چھت کے نیچے

ریزہ ریزہ کرنوں کے انبار کے نیچے

اپنے آپ میں سوچوں

ایسی شامیں تو جگ جگ ہیں

آگے تو جانے کیا کچھ ہے

لیکن ان سب ہوتے امروں کے ریلے میں

کہیں کسی امکان۔۔۔ ذرا سے اک امکان۔۔۔ کی اوٹ ایسی بھی تو ہو

جس میں سمٹ سکے یہ میلی میلی سی چھت

اور یہ اترے پلستر والی بوسیدہ دیواریں

جن کی کھڑکیاں میرے دل کی طرف کھلتی ہیں

مجید امجد