ہمیں مجرم نہیں کہنا

وہی ہیں فاصلے اور قافلے پھر بھی رواں ہیں

انہی میں گم کہیں لمحوں کے، برسوں اور صدیوں کے گماں ہیں

یہ ہم جو ایک بوسیدہ عمارت کے کھنڈر سے پھول چننے جا رہے تھے

ہمارا خواب تھا!

ہم دہر کو خوشبو سے بھرنا چاہتے تھے!

مگر ہم ہڈیوں کی راکھ لے آئے

یہ ہم جو خواب کے دریا سے اِک جھرنا۔۔۔۔۔

بس اِک چھوٹا سا جھرنا چاہتے تھے

جو ہمارے دشت کی بے آب مٹی کو ذرا نم آشنا کر دے

مگر جانے کہاں سے لُو کا ہم طوفان لے آئے

کبھی بھی ہم نے لمبے فاصلوں سے سرخیاں دیکھیں

تو ہم اس سمت کو لپکے

مگر رستوں کے پیچ و خم میں ہی اتنا سمے بیتا

کہ ہم چہرے پہ زردی اور پیلاہٹ لپیٹے لوٹ آئے

وہی ہیں فاصلے قدموں کے منزل سے

وہی ہے راکھ چہرے پر،

وہی لُو کے تھپیڑے ہیں

وہی زردی میں لپٹی نیم وا آنکھیں

شکستہ دِل میں تھوڑا اور جی لینے کی خواہش بھی

مگر عمرِ معین کی بچی پونجی تو بس چند ایک لمحے ہے

یہ سچ ہے ہم کبھی بھی عشق کے معیار پر پورے نہیں اترے

مگر ایسا نہیں کرنا

ہمیں مجرم نہیں کہنا

کہ ہم کوہ مصائب پار کرنے سے کبھی منکر نہیں ٹھیرے

خدایا!!

ہم کو اب تیری گواہی کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔

ہمیں پھر سے تباہی کی ضرورت ہے

یاور ماجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s