گرچہ دنیا کا یہ حق ہے ابھی تم کو دیکھے

ہم کو اچھا نہیں لگتا کوئی تم کو دیکھے
گرچہ دنیا کا یہ حق ہے ابھی تم کو دیکھے
دیکھنا ہے تو وہ دیکھے تمہیں سر تا بہ قدم
ورنہ کیا دیکھنا گر سرسری تم کو دیکھے
تم ہو اک چاند، میں اک جگنو، تمہیں کیا معلوم
کتنی حسرت سے مری روشنی تم کو دیکھے
جس نے دیکھی نہیں برسات میں پانی کی ہنسی
اس کا تو حق ہے کہ آئے۔۔ کبھی تم کو دیکھے
تم ہوئی جاتی ہو معدوم کسی زندگی میں
اور اک زندگی! اک زندگی۔۔ تم کو دیکھے
دیکھ کے تم کو پرندے ہیں سناتے نغمے
کیا ہو یاؔور کی اگر شاعری!! تم کو دیکھے
یاور ماجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s