پھر آج بیٹھے ہیں زہر پی کے

شبِ گزشتہ کے زخم سی کے
پھر آج بیٹھے ہیں زہر پی کے
ہمارے دِل کی جو رونقیں تھیں
وہ خواب کیسے تھے زِندگی کے
فضائے محفل! یہ کیا ستم ہے
نہ وہ ہمارا! نہ ہم کسی کے
ندامتوں کے یہ داغ دل پر
یہ وار احساسِ کمتری کے
نکل کے آنکھوں سے بس گئے ہیں
افق پہ سارے یہ رنگ پھیکے
گزشت آنچہ گزشت یاؔور
اٹھاؤ نغمے کوئی خوشی کے
یاور ماجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s