میں شاعری کیوں کرتا ہوں؟

ندی بہتی ہے تو اتنے مدھر گیت کیوں گاتی ہے؟ بہاریں پژمردہ زمین کو زندگی بانٹتے ہوئے سرخیاں کیوں پرونے لگ جاتی ہیں؟ برگد کے درخت بادِ صبا کے بوسے پاتے ہی لہلہانے کیوں لگتے ہیں؟ دریاؤں کو ایسی کیا دھن پڑی ہے کہ اتنی تیزی سے سمندر کی طرف بھاگتے ہوئے خوبصورت ترانے گاتے چلے جاتے ہیں؟ زندگی کی خاموشیاں بڑھ جائیں تو چلتی ہوا نوحے کیوں سنانے لگتی ہے؟ بادل برستے ہیں تو دھرتی کے سینے سے میٹھی میٹھی خوشبو کیوں نکلنے لگتی ہے، سورج صبح دم جلوہ دینے سے پہلے اور شام کے الوداعی لمحات کے بعد آسمان میں اتنے خوبصورت رنگ کیوں بھرتا ہے، بادل سورج کی کرنوں سے کیوں کھیلتے ہیں؟ ۔۔۔۔۔۔ میں جب بھی اداس ہوتا ہوں تو قلم کیوں اٹھا لیتا ہوں؟

سورج کی روشنی بارش کے کروڑوں قطروں پر پڑتی ہے اور وہ اس کو منعکس کر ڈالتے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی ایک ہی قطرہ ایسا ہوتا ہے جو روشنی کے باطن سے پیارے پیارے رنگوں کو خوبصورتی سے قوسِ قزح کی شکل دے دیتا ہے، شاید میں اپنے آپ کو وہی قطرہ سمجھتا ہوں جو گزرتے لمحات کو، اور اپنے ساتھ پیش آنے والے حالات کو اُچٹتی نظر سے دیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا، جب تک میں روشنی کی کرن کو چیر کر نہ رکھ دوں، مجھے اپنے اندر کچھ کمی کا سا احساس رہتا ہے۔ لفظوں کی حیثیت میرے لیے وہی ہے جو پانی کی ندی کے لیے ہے، سرخیوں کی بہاروں کے لیے، بادِ صبا کے بوسوں کی برگد کے لیے، گونجتے نوحوں کی زندگی کی خاموشیوں کے لیے، زمین کی بھینی بھینی خوشبو کی بارش کے لیے اور افق اور شفق کے رنگوں کی ابھرتے اور ڈوبتے سورج کے لیے۔

احساس کی شدت کی ڈوریوں سے بنا ہوا لباس میری خلعت ہے اور مجھے اس پر فخر ہے۔ میں اپنے آپ کو قدرت کے ودیعت کردہ ترنم کا امانت دار سمجھتا ہوں اور زمانے کو وہی کچھ لوٹانے کی سعی میں مصروف ہوں جو صبح کے وقت پرندے اپنے نغموں سے لوٹاتے ہیں۔ ایک رنگ ہے، ایک ترنگ ہے، ایک توازن ہے جو اس زندگی کے حسن اور بدصورتی نے صدیوں سے بہر طور قائم کر رکھا ہے، میں اپنے آپ کو اور اپنی تخلیقات کو اسی توازن کے تسلسل کا ایک انتہائی معمولی سا نقش سمجھتا ہوں۔

کیا پھول اس لیے کھلتا ہے کہ اس کی خوشبو ساری دنیا کو معطّر کر دے، کیا بارش اس لیے ہوتی ہے کہ اپنی چھن چھن اور جھن جھن سے تمام ارواحِ عالم کو تھرکنے پر مجبور کر دے؟ کیا جگنو اس لیے اڑتے اڑتے جھلملاتا ہے کہ ساری کائنات کے اندھیروں کو ختم کر ڈالے، کیا قوسِ قزح تمام کائنات کو اپنے رنگوں سے بھرنے کے لیے بارش کے قطروں کے بطن سے نمودار ہو جاتی ہے؟ نہیں۔۔ یقیناً نہیں، لیکن کسی ایک پھول کا کھلنا دنیا کے ایک بہت ہی حقیر حصے کو تو ضرور معطّر کرتا ہے، ایک بارش تمام صحراؤں کی پیاس کہاں بجھا سکتی ہے، لیکن اس کائنات کے ایک بے انتہا چھوٹے سے حصے کو تو نئی زندگی بخشتی ہے، ایک جگنو کی ہلکی سی جھلملاہٹ کائنات بھر کے اندھیروں کا منہ چڑانے کے لیے کیا کم ہے؟ قوسِ قزح کی چند لمحوں کی زندگی کتنی ہی بے رنگ آنکھوں کو اپنے حسن کا دان دے جاتی ہے، چاہے باقی تمام کائنات بے رنگی کی کیفیت میں نوحہ خوانی میں مصروف رہے۔ میرے شعر اور میری نظمیں چاہے میری خود کلامی ہی کیوں نہ کہلائیں، زندگی کے وسیع تر تناظر میں کسی بھی طور سے پھول کی خوشبو، جگنو کی روشنی، بارش کی چھم چھم یا قوسِ قزح کے رنگوں بھرے منظر سے کم نہیں۔

کبھی سوچتا ہوں کہ اس دنیا میں کتنی آنکھیں ہوں گی جو ڈوبتے سورج کو دیکھ کر میری آنکھوں ہی کی طرح نم ہو جاتی ہوں گی، کتنی سماعتیں ہوں گی جو بادلوں کی کڑک سن کر یا چلتی ہوا سے ٹوٹتے ہوئے سکوت کو سن کر میری سماعت ہی کی طرح بے چین ہو جاتی ہوں گی، کتنے لب ہوں گے جو برستی بوندوں کی ٹھنڈک محسوس کرتے ہی میرے لبوں کی طرح سلگ اٹھتے ہوں گے، کتنے دل ہوں گے جو کسی درخت پر ایک معصوم پرندے کو دیکھ کر مچل اٹھتے ہوں گے۔ کتنی روحیں ہوں گی جو اپنی اداسی کی چادر اوڑھے میری ہی طرح خوشیوں سے بھاگتی پھر رہی ہوں گی۔

مجھے علم نہیں کہ میری زندگی کی متاعِ کُل پڑھتے ہوئے آپ پر کیا بِیتے گی، ان سادہ لفظوں کے پیچھے کہیں انتہائے محبت سے سرشار زندگی کانپتی ملے گی تو کہیں نفرتوں میں ڈوبی ہوئی ٹوٹتی سانسیں، کہیں اپنی کم مائیگی کا ماتم کرتا ہوا وجدان، تو کہیں اپنی اونچی اڑانوں پر فخر کرتا ہوا ایک پرندہ، کہیں اپنے بڑھاپے کے نوحے سناتا ہوا ایک چھوٹا سا بچہ، تو کہیں بچوں سی معصوم خواہشوں کا اظہار کرتا ہوا ایک بوڑھا، کہیں نہ ختم ہوتے ہوئے دائروں کی رسی پر توازن سے چلتا ہوا ایک بازیگر۔ تو کہیں گرتا سنبھلتا ایک شعلہ جو کسی بھی لمحے بجھنے کے ڈر سے کبھی زمین کو سجدہ کرتا ہے تو کبھی فلک کی طرف گلے بھری نگاہوں سے دیکھتا ہے۔

کہیں کسی ناکردہ جرم کی سزا بھگتتا ہوا ایک قیدی، تو کہیں ایک آزاد ہرن جو زندگی کی خوبصورت وادیوں میں چوکڑیاں بھرتا ہی چلا جاتا ہے۔ کہیں خود سوزی کے نشے میں ڈوبا ہوا ایک نیم جان جسم۔ کہیں فطرت کو اپنی محبوبہ سمجھ کر اس کے عشق میں مبتلا ایک پاگل دیوانہ تو کہیں آنسوؤں سے بھری آنکھیں لیے ہوئے منظروں کی دھندلاہٹ کا شکوہ کرنے والا ایک شخص۔

دیوانگی کی ایسی ہی دھند میں لپٹا ہوا وہ حساس شخص بھی شاید نظر آئے جو معاشرے میں ہونے والی ناانصافیوں پر تڑپ اٹھتا ہے، معاشرتی مساوات کی عدم موجودگی پر کراہتا ہے، ظلم اور ناانصافی سے بھرے ملک سے نکل کر ایک ترقی یافتہ معاشرے کا شہری ہونے کے ناطے اپنے وطن کا درد دل میں لیے کڑھتا ہے اور ان مسائل پر انتہائی دھیمے انداز میں تبصرہ نگاری بھی کرتا ہے۔ ہیجان بھرے معاشرے میں بیٹھے ان شاطر لوگوں سے، کبھی براہِ راست اور کبھی بالواسطہ مکالمہ بھی کرتا ہے اور ان کو آئینے میں ان کا اصل مکروہ چہرہ بھی دکھاتا ہے۔

اگر میری نظمیں اور غزلیں پڑھتے ہوئے آپ کو اپنے دل کی آواز لگیں تو اس کو میں اپنی کامیابی سمجھوں گا۔

یاؔور ماجد – 2012

https://yawarmaajed۔wordpress۔com

https://www۔facebook۔com/YawarMaajedAuthor/

یاور ماجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s