سب کی دنیا سے ماورا، تنہا

۳ جنوری ۱۹۹۱
سب کی دنیا سے ماورا، تنہا
میَں ہوں تنہا، مرا خدا، تنہا
 
ساتھ اس کے ہجوم چل نکلے
جو بھی رستوں پہ چل پڑا تنہا
 
نوعِ ہر نسل مر گئی آخر
وقت رستوں پہ رہ گیا تنہا
 
اپنی تنہائیوں کی محفل میں
مجھ کو جو بھی ملا، ملا تنہا
 
گرد اِس کو نہ ڈھانپ دے یاؔور
دل مرا ایک آئنہ تنہا
 
یاور ماجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s