دیکھ اے دِل

دیکھ اے دِل!

زندگی کے آئینہ خانے میں جتنے عکس ہیں

سب ہی محو رقص ہیں!

اور تو مایوسیوں کے بحر میں کیوں غرق ہے

دیکھ اے دِل!

چرخِ نیلی فام پر یہ رقص کرتی بدلیاں

کتنے ارمانوں کا رس چھلکا رہی ہیں

ٹولیاں چڑیوں کی اڑتی آ رہی ہیں

دور تک کوہِ تمنا پر ہرے اشجار ہیں

اور تجھ کو کس قدر آزار ہیں

بول اے نخچیرِ ظلمت!!

ہر طرف ہی نور ہے

تو بکھرتی روشنی سے دور ہے!

کس قدر مجبور ہے!!

یاور ماجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s