خوف

اچانک ہی جھٹکے سے میرے بدن کی ہر اک پور میں جیسے کہرام اٹھا

کچھ ایسا لگا جیسے میں اک گڑھے میں کفن اوڑھ کر سو رہا تھا

مگر دھیرے دھیرے پھسلنے لگا ہوں۔۔۔

میں گرنے لگا ہوں

میں گرتا چلا جا رہا ہوں

میں گرتا ہی

گرتا ہی

گرتا چلا جا رہا ہوں

میں گرتے ہوئے اور تیزی سے گرتا چلا جا رہا ہوں

مرے ہاتھ شل ہیں

مرے پاؤں؟

وہ تو یہ سمجھو کہ ہیں ہی نہیں ہیں

مرے بازوؤں میں ذرا دم نہیں ہے

بدن سن ہے،

اور کانوں میں سائیں سائیں

اور اک خوف سا ہے

جو خوں بن کے میری رگوں میں رواں ہے

توازن بھی گویا کوئی چیز ہو گی؟؟

کہاں ہے؟

اور اک کالا سایہ مرے پیچھے پیچھے گرا آ رہا ہے

اور اس کالے سائے کے چہرے پہ آنکھیں

بٹن جیسی آنکھیں

مجھے گھورتی ہیں

اور اس کا دَہَن۔۔۔۔

اس کا خونی دَہَن

چیختا آ رہا ہے

مرے جسم میں، میری پوروں میں جتنی بھی طاقت بچی ہے

اسے جمع کر کے

میں کوشش میں ہوں۔۔ چیخ ماروں۔۔

میں اس کالے سائے کو جو میرے سر چڑھ گیا ہے

اتاروں۔۔

مگر میری آواز ہی گم ہوئی ہے

اچانک کسی کھائی سے ٹن ٹنن ٹن ٹنن کی بہت تیز آواز

کانوں تو کیا

روح تک چھید کرنے لگی ہے

میں کیا دیکھتا ہوں

میں بستر پہ چادر کو مضبوطی سے تھام کر

پیٹ کے بل پڑا ٹن ٹنن ٹن سے بجتے الارم کو دیکھے چلا جا رہا ہوں

گرا جا رہا ہوں

یاور ماجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s