خزاں نہ جائے

ہزار راتوں کی بات چھوڑو

کہ ہم تو صدیوں سے اِک تصوّر کو جسم دینے کو رو رہے ہیں!

ہمارے دِل میں جو بے نہایت سی آرزو ہے

یہ جستجو ہے

جسے ابھی تک نجانے کتنی ہی حسرتیں ہیں

مگر وہ لمحہ!

کہ جب سبھی خواہشیں سنور کر،

بس ایک حسرت کے برف پیکر

میں ڈھل کے ماتم کا رنگ اوڑھیں!

تو ایک عالم پہ زنگ چھوڑیں!

بہار خوابوں کے گلستاں سے ہمیں بلائے!

خزاں نہ جائے!

یاور ماجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s