حدود بندی

تمھارا کہنا تھا

یوں نہ ہو گا

کہ تم بھی آخر سبھی کے مانند اسی روش پر نکل پڑو گے

کہ جس پہ چلتے تمام دنیا کی عمر بیتی

جو اک ندی تھی

وہ ایک دریا میں ضم ہوئی ہے

تمھاری پہچان گُم گئی ہے

تمھارا کہنا تھا

تم ہو خوشبو!

اِک ایسی خوشبو جو تا قیامت ہوا کے کندھوں پہ

اور انا کے گھنے گھنیرے سے گلستانوں میں ہی رہے گی

کہو ناں!

تم ہی تو کہہ رہے تھے

کہ کوئی سمجھوتا تم کبھی بھی نہیں کرو گے!

مگر ہوا کے بس اِک تھپیڑے سے

اور زمانے کے اِک طمانچے سے تھک گئے ہو!

تم اپنی محفل سے آخرِ شب سرک گئے ہو!

نئے مکاں کی حدود بندی قبول کر لو!

یاور ماجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s