بے بسی

ہوا چلتی ہے

گرتے پات گہرے پانیوں میں

ناؤ کے جیسے کہیں ہجرت کو جاتے ہیں

شجر نوحے سناتے ہیں

ہوا دھیرے سے چلتی ہے

ستارے ٹمٹماتے ہیں

کہیں سے چاند کا پرتو

کہیں سے روشنی کی لو

کبھی پانی پہ پڑتی ہے

تو گویا آسماں کی جھلملاتی بے بدل تصویر بنتی ہے

مگر جب بھی کوئی پتا ہوا میں اڑتے اڑتے

پانیوں میں گر کے اپنی آخری ہجرت پہ جاتا ہے

تو سارے عکس بھی گویا فلک سے گر کے آئینے کے جیسے ٹوٹ جاتے ہیں

کنارے پر کھڑا جگنو اداسی سے

خموشی سے

یہ سب کچھ دیکھتا جاتا ہے

کر کچھ بھی نہیں سکتا

یاور ماجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s