بالِشتیے

کُرسیوں پر

میز کے چاروں طرف

بیٹھے ہوئے بالِشتیے

سگرٹیں سُلگائے

اپنی عینکوں کے

ملگجے شیشوں سے

اِک دُوجے کو تکتے

چائے کی چینک سے

کپ میں چُسکیاں بھرتے ہوئے

اور چھلکتی چائے کپ سے چاٹ کر

ڈونگرے برسا رہے ہیں داد کے اک بات پر

اور زیرِ لب

سرگوشیوں میں گالیاں بھی بڑبڑاتے جا رہے ہیں

اِن کے اک اک حرف، اک اک بات میں ایقان ہے

۔۔۔۔اور اک اندھا اعتماد

جیسے دُنیاؤں کے خالق نے

انہی کے مشورے سے

زندگی ترتیب دی

گالیوں کے، داد کے اور قہقہوں کے دور میں

چائے کے کپ میں اٹھے طوفاں کے بڑھتے شور میں

پنڈلیوں سے بانس باندھے

اپنا اپنا قد چھپا کر

سب کی پَستہ قامتی کو ماپتے بالِشتیے

اونچی آوازوں میں پورے زور سے

بات ہر اک دوسرے کی کاٹتے بالِشتیے

چائے کے کپ چاٹتے بالِشتیے

یاور ماجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s