ایک ہی نظم عمر بھر لکھی

خود قلم بن کے، ٹوٹ کر لکھی
ایک ہی نظم عمر بھر لکھی
اس نے قسمت میں کب سحر لکھی
لکھ بھی دی گر، تو مختصر لکھی
لکھی تقدیر میری بے اعراب
اور نقطے بھی چھوڑ کر لکھی
میرے قرطاسِ عمر پر اُس نے
ہر کٹھن رَہ، سفر سفر لکھی
کیا وہ مانیں گے داستاں تیری؟
دوسرے رُخ سے میَں نے گر لکھی
دیکھنا تو کرن نے سورج کی
بہتے پانی پہ کیا خبر لکھی
مُصحفِ شب پہ ایک دن یاؔور
پڑھ ہی لوں گا کبھی سحر لکھی
یاور ماجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s