اک دیا تھا یہاں اے زمانے کہاں کھو گیا

چاندنی بجھ گئی، چاند جانے کہاں کھو گیا
اک دیا تھا یہاں اے زمانے کہاں کھو گیا
کون کہتا ہے تیری کہانی مکمل ہوئی؟
ذکر میرا بتا اے فسانے کہاں کھو گیا
ڈھونڈنے کو تو نکلا تھا گم گشتہ منزل کو میں
مجھ سے  میرا پتہ ہی نجانے کہاں کھو گیا
یا خدا! میں تو تھا ہی سراسر گماں کا گماں
وہ جو نکلا تھا مجھ کو گنوانے کہاں کھو گیا
نیند رکھی تھی پلکوں پہ جانے کہاں گم ہوئی
خواب رکھا تھا اپنے سرہانے کہاں کھو گیا
یاور ماجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s