ادھوری موت

ابھی ابھی جو دھواں سا فضا میں بکھرا ہے

ابھی ابھی جو صدائیں اٹھی ہیں ماتم کی

جلی ہے کیا کوئی خواہش، کوئی خیال جلا

کسی کے لب پہ نہ پہنچا، کوئی سوال جلا

نجانے کتنی تمنائیں جل کے زندہ ہیں

بدل کے جسم ہواؤں میں ڈھل کے زندہ ہیں

یاور ماجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s