یہ جانیے کہ ہے وہی پتّھر کا آدمی

گھائل نہیں جو حُسنِ گُلِ تر کا آدمی
یہ جانیے کہ ہے وہی پتّھر کا آدمی
گہرائیوں میں جا کے بھی کیا بات ہے کہ اب
سُنتا ہے شور سطحِ سمندر کا، آدمی
کیسی چلی یہ تیغ کہ ثابت رہا بدن
تقسیم ہو گیا مگر اندر کا آدمی
ہر راہ سے نکلتے ہیں سو اور راستے
اب ڈھونڈتا پھرے گا پتا گھر کا آدمی
شب خوں کے ڈر سے تھا مجھے ہر پیڑ پر گماں
یہ بھی نہ ہو غنیم کے لشکر کا آدمی
تنہائیوں کی بھیڑ ہے گھیرے ہوئے مجھے
اب میں ہوں اپنے شہر میں باہر کا آدمی
دشتِ طلب بھی کیا کوئی شہرِ طلسم ہے
دیکھا جو مڑ کے، ہو گیا پتھر کا آدمی
آنکھیں وہ خود ہی پھوڑ لیں جن کی شعاع سے
لیتا تھا لطف شام کے منظر کا آدمی
پھر آن کر گرے نہ اسی فرشِ خاک پر
اُڑتا ہے کیا ہواؤں میں بے پَر کا آدمی
ٹانگوں میں بانس باندھ کے چلتے ہیں سب یہاں
کیوں کر ملے، شکیبؔ! برابر کا آدمی
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s