ہر سُو کھڑی تھی پانی کی دیوار، یاد ہے

جب چُھٹ گئے تھے ہاتھ سے پتوار، یاد ہے
ہر سُو کھڑی تھی پانی کی دیوار، یاد ہے
پھر پھول توڑنے کو بڑھاتے ہو اپنا ہاتھ
وہ ڈالیوں میں سانپ کی پُھنکار یاد ہے!
وہ بے وفا کہ جس کو بھلانے کے واسطے
خود سے رہا ہوں برسرِپیکار، یاد ہے
اب کون ہے جو وقت کو زنجیر کر سکے
سایوں سے، ڈھلتی دھوپ کی تکرار یاد ہے
چاہا نہیں کسی کو، اسے چاہنے کے بعد
اپنی نگاہ کا مجھے معیار یاد ہے
باقی نہیں بیاض میں ہونٹوں کی سُرخ چھاپ
لیکن مجھے یہ تحفہِ دل دار یاد ہے
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s