کچھ شرارے بھی رگِ جاں کو جُھلسنے والے

اَبر بن کر مری آنکھوں سے برسنے والے
کچھ شرارے بھی رگِ جاں کو جُھلسنے والے
مُلتفت پا کے تجھے ، ہوش گنوا بیٹھیں گے
یہ تری نیم نِگاہی کو ترسنے والے
کوئی پیکر ہو جھلکتے ہیں انہی کے خدو خال
بن گئے جزوِ نظر ، دھیان میں بسنے والے
دوست داری کا تقاضا ہے کہ میں کچھ نہ کہوں
آستینوں کے مکیں ہیں ، مجھے ڈسنے والے
مُفتیِ شہر کی تقریر سے ڈرنا کیا ہے
کہیں ایسے بھی گرجتے ہیں برسنے والے
طاق مژگان پہ لرزتے رہے اشکوں کے چراغ
کس تکلیف سے بہیے ٗ آج یہ بہنے والے
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s