کب آزاد ہے زندگی کا سَفینہ

نہ ساحل پہ مرنا، نہ طُوفاں میں جینا
کب آزاد ہے زندگی کا سَفینہ
لُٹایا جو آنکھوں نے غم کا خَزینہ
عیاں ہو گیا رازِ دل کا دَفینہ
محبت کے آنسو بڑے قیمتی ہیں
چمکتا ہے ان سے وفا کا نَگینہ
نگاہوں کے آغوش میں خود کو پا کر
حیا ہو رہی ہے پسینہ پسینہ
یہ پَت جھڑ کا موسم، یہ سنسان گُلشن
ہو جیسے پریشان حال اک حَسینہ
عزائم کو بیدار کرنے کی خاطر
چٹانوں سے ٹکرا رہا ہوں سَفینہ
اٹھاؤ نہ پردے رخِ آتشیں سے
نگاہوں کو آنے لگا ہے پسینہ
گوارا نہیں ان کی رُسوائی دل کو
نہ دیکھو یہ ٹوٹا ہوا آبگینہ
شکیبؔ! اہلِ دنیا کے اطوار دیکھے
لبوں پر تبسّم، دلوں میں ہے کِینہ
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s