چلے تو آئے ہو تجدیدِ دوستی کے لیے

یہ لُطف زہر نہ بن جائے زندگی کے لیے
چلے تو آئے ہو تجدیدِ دوستی کے لیے
نحیف ضَو کو عَجب طرح تقویت دی ہے
اندھیرے ڈھونڈ کے لائے ہو روشنی کے لیے
نہ جانے ہو گیا کیوں مطمئن تمھیں پآ کر
بھٹک رہا تھا مرا دل، خود آگہی کے لیے
جنھیں خود اپنی حقیقت پہ اعتماد نہ تھا
تمھارے دَر پہ چلے آئے بندگی کے لیے
چلے تو ایسے چلے جیسے بے نیازِ مقام
رُکے تو ایسے رُکے جیسے آپ ہی کے لیے
تمھاری سہل پسندی نے ہر قدم پہ ، شکیبؔ!
نئے اصُول تراشے ہیں رَہ رَوی کے لیے
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s