چاندنی گہنا گئی، کجلا گئی

ڈُوبتے سورج کی جب یاد آ گئی
چاندنی گہنا گئی، کجلا گئی
شب کے دَریا میں پڑے ایسے بھنور
چاند کی کشتی بھی غوطہ کھا گئی
کتنے چمکیلے ستارے جل بجھے
پو پھٹے اِک برق سی لہرا گئی
جانے کتنے گُل کدوں کا راز تھی
وہ کلی جو بِن کھِلے مُرجھا گئی
آبلہ پائی کا ہم کو غم نہ تھا
رہ نماؤں کی ہنسی تڑپا گئی
زندگی! تجھ سے شکایت کیا کریں
آج ہم سے موت بھی شرما گئی
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s