پیش لفظ از اقدس رضوی

کلیاتِ شکیب جلالی کے پیش لفظ کو اظہار تشّکر کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ اس کے ذریعے کچھ باتوں کی وضاحت بھی پیش نظر تھی۔ مثلاً یہ بتانا کہ شکیب جلالی کے انتقال کے 38 سال بعد یہ کلیات کیوں شائع ہوئی۔ پھر اب اس کی اشاعت کی تحریک کیسے شروع ہوئی اور کلیات موجودہ شکل میں کن کن مراحل سے گزر کر آپ کے ہاتھوں میں پہنچی۔

۱۹۶۶ میں شکیب جلالی کے انتقال کے بعد ان کا تمام معلوم مطبوعہ اور غیر مطبوعہ کلام بکھری ہوئی صورت میں میری والدہ صاحبہ نے انتہائی مخلص اور محترم جناب احمد ندیم قاسمی کے حوالے کر دیا تھا۔ جس میں سے 7 غزلیں ‘ 21 نظمیں اور کچھ اشعار چُن کر انہوں نے مکتبہِ فنون کے تحت ۱۹۷۲ میں ’’روشنی اے روشنی‘ ‘ کی شکل میں شائع کیا‘ جس کے بعد کئی ایڈیشن ’’ماورا‘ ‘ پبلی کیشنز لاہور نے شائع کیے۔ غالباً اگست ۱۹۷۹ میں والد صاحب کے کلام کا باقی ماندہ پلندہ قاسمی صاحب کے پاس سے واپس والدہ کے پاس آگیا۔ پھر میں اپنی ملازمت کے سلسلے میں ستمبر ۱۹۸۶ کے دوران سرگودھا ‘ فیصل آباد اور ملتان میں تعینات رہا۔ اس دوران یہ تمام کلام اُسی حالت میں میں نے ’’ماورا‘ ‘ کے جناب خالد شریف صاحب کے حکم پر ان کے پاس پہنچا دیا لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر یہ وہاں سے کلیات کی شکل میں نہ چھپ سکا اور بالآخر کئی سال بعد واپس میرے پاس آگیا۔ اس دوران فکرِ معاش اور گردشِ ایّام نے اتنی مہلت نہ دی کہ میں اپنی ا ور بہت سے عاشقانِ شکیب جلالی کی اس شدید خواہش کو عملی جامہ پہنا سکوں۔

دوران ملازمت میں جب کبھی کسی ادب دوست سے ملتا تو ہمیشہ کچھ یکساں باتیں وہ ضرور پوچھتے ‘ جیسے: شکیب جلالی کی زندگی صرف 23برس پر محیط تھی اور وہ معاشی مسائل کا شکار بھی رہے لیکن روشنی اے روشنی کے علاوہ بھی ان کا بہت سا کلام ایسا ضرور ہو گاجو کلیات کی شکل میں شائع ہو سکتا تھا وہ کہاں ہے اور اب تک چھپا کیوں نہیں۔ قاسمی صاحب اور ماورا والوں نے کیوں نہیں چھاپا‘ اب تک آپ نے اس سلسلے میں کیا کیا۔ جلدی کیجیے اُن سے بہت کم زور اور اُن کے ڈکشن سے متاثر شعرا کے دیوان کے دیوان چھپ چکے ہیں۔

میں ان تمام باتوں کے جواب میں عرض کرتا رہا کہ انشاء اللہ جلد ہی آپ کلیات کی شکل میں باقی کلام پڑھ سکیں گے۔ آخر کار آج وہ وقت آہی گیا جب میں شکیب جلالی کے تمام معلوم دستیاب کلام کو مجتمع کر کے شائع کر رہا ہوں۔ اس سلسلے میں میں نے اپنے محترم جناب غلام محی الدین صاحب سے مشورہ کیا تو ان کی وساطت سے میری ملاقات معروف ادیب وصحافی جناب احفاظ الرحمن صاحب سے ہوئی اور میں ان کا بے حد ممنون ہوں ‘ اگر وہ میرا ساتھ نہ دیتے او ر میری حوصلہ افزائی نہ فرماتے تو شاید اس کام میں ابھی اور تاخیر ہو جاتی۔ اس کے علاوہ انہوں نے ابو کے کلام کی اصل سے کتابت شدہ شکل کا موازنہ بھی بہت دیدہ ریزی سے کیا جس کی وجہ سے میں اس قابل ہو سکا کہ کتابت کی اغلاط کو درست کروا سکوں۔ اب بھی اگر کوئی غلطی رہ گئی ہو تو اس کی تمام تر ذمے داری میری ہے۔ اس سلسلے میں جب میں نے یہ مسوّدہ محترم ‘ مربی اور ہمیشہ سے اپنے خاندان کے مخلص جناب احمد ندیم قاسمی کو بھیجا تو انہوں نے اس سے کچھ اختلاف کیا اور ابتدائی کلام میں سے جو ۱۹۴۷ سے ۱۹۵۱ (جب شکیب جلالی کی عمر صرف ۱۳ سے ۱۷ سال کے درمیان تھی)کے دوران کہا گیا تھا ‘ کچھ کلام کے علاوہ باقی کلام قلم زد کر دیا اور لکھا کہ ’’میں نے اس کا مطالعہ بہت کڑے انداز میں کیا ہے تاکہ شکیبؔ کی شہرت کو داغ نہ لگے۔ ‘ ‘ میں ہمیشہ کی طرح ان کا بے حد ممنون ہوں۔ اس دوران میں نے محترم جناب شمس الرحمن فاروقی ‘ محترم اسلوب احمد انصاری اور محترم ڈاکٹر وزیر آغا صاحب سے رابطہ کیا تو ان حضرات کی بھی یہی خواہش تھی کہ اب جلدازجلد کلیات چھپ جانی چاہیے جو ارتقائی منازل کو ملحوظ رکھتے ہوئے ترتیب دی جائیں اور اس میں تمام کلام شامل کیا جائے۔ میں نے محترم جناب ڈاکٹر فرمان فتح پوری ‘ محتر م جناب ڈاکٹر محمد علی صدیقی ‘ محترم احمد ہمدانی کو کلیات کو موجودہ شکل میں پیش کیا اور ان سے مشورہ طلب کیا تو نے موجودہ ترتیب کی تا ئیدکی کہ یہ کلام سن وار شائع ہونا چاہیے اور تمام کلام شامل ہونا چاہیے تاکہ شکیبؔ کی شاعری کے ارتقا کی منازل واضح ہوجائیں اور ان کا کلام دیر سے سہی لیکن محفوظ ہو جائے۔ چنانچہ میں نے ممکنہ حد تک کوشش کی ہے کہ ہر غزل اور نظم کے نیچے سنِ تخلیق یا کم از کم سنِ اشاعت شائع کر دوں۔ اس طرح یہ کلیات اب آپ کے ہاتھوں میں ہے۔

یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ شکیب جلالی کی متعدد تخلیقات ایسی بھی ہیں جن کی سنِ تخلیق یا سنِ اشاعت میسّر نہ ہو سکیں۔ ان تمام تخلیقات کو ہر صنف سخن کے آخر میں بلا کسی ترتیب کے شائع کیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ جلد ہی ایک ویب سائٹ آپ کے سامنے www۔shakebjalali۔com کے عنوان سے ہو گی جس میں شکیبؔ کی سوانح حیات ‘ ان کے فن پر مختلف اکابرین کی آراء اور ان کے کیے ہوئے افسانوں کے تراجم اور مضامین شامل ہوں گے۔

آخر میں تمام دوستوں اور معاونین کا ایک بار پھر شکریہ ادا کرتا ہوں ا ور قارئین سے التماس کرتا ہوں کہ اگر کلیات کے مطالعے کے بعد انہیں محسوس ہو کہ شکیب جلالی کی کوئی غزل یا نظم اس میں شامل ہونے سے رہ گئی ہے تو اس کی نقل بھجوا کر ممنون فرمائیں تاکہ آیندہ اشاعت میں اسے شامل کر لیا جائے۔

محترم مشفق خواجہ (مرحوم )کا از حد ممنون ہوں کہ کلیات کی دوسری اشاعت کے موقع پر نظرِ ثانی و صحتِ املا وغیرہ کے لیے اپنے شاگرد محیط اسمٰعیل کی خدمات فراہم کیں جنہوں نے اپنی ذمے داری بہ احسن طریق پوری کی۔

(اقدس رضوی۔ مکتبہ شکیب جلالی)

شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s