پھر پُھوٹتی ہے سرخ کلی شاخِ زرد سے

میں وہ نہیں جو ہار گیا موجِ درد سے
پھر پُھوٹتی ہے سرخ کلی شاخِ زرد سے
لوگوں کو تھا گمان کہ جاتا ہے قافلہ
رہ رَو تو نکلا ایک ہی دیوارِ گرد سے
جھپٹے نہ میرے بعد کسی بھی چراغ پر
یہ سوچ کر میں لڑتا رہا بادِ سرد سے
دھاگے میں کیا پروئیے ذرّوں کو ریت کے
یوں بھی جُدا رہے گا یہاں فرد فرد سے
واقف کسی سے کون، جہاں ہم طرح ہوں سب
بستی کا حال پوچھیے صحرا نورد سے
پتھر کے بند باندھ کے بیٹھے ہیں کب جری
کرتا ہے چھیڑ موجہِ طوفاں بھی مرد سے
دل میں کُھلا ہے روشنی کا بادباں شکیبؔ
آگے ملوں گا اب میں ستاروں کی گرد سے
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s