وہ لوگ جن کے سینے میں اک گھاؤ بھی نہیں

تم ان کی محفلوں میں کبھی جاؤ بھی نہیں
وہ لوگ جن کے سینے میں اک گھاؤ بھی نہیں
بارانِ برگِ گُل کہاں اپنے نصیب میں
اب رَہ روانِ شوق پہ پتھراؤ بھی نہیں
یہ کالی رات، گہرا سمندر، ہوا کا زور
اور میرے پاس ٹوٹی ہوئی ناؤ بھی نہیں
تم آدمی ہو، کوئی فرشتہ نہیں ، شکیبؔ!
اس درجہ جرمِ عشق پہ شرماؤ بھی نہیں
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s