وہ اِک نگاہ جو بیگانہ وار گُزری ہے

حجابِ رنگِ نظارہ پہ بار گُزری ہے
وہ اِک نگاہ جو بیگانہ وار گُزری ہے
بزعمِ عِشق اُبھر کے جو لَب پہ آ نہ سکی
وہ چیخ حُسنِ سماعت پہ بار گُزری ہے
شگُفتہ رنگ اُجالوں کے کارواں تو نہیں
مِری نگاہ فقط سیم بار گُزری ہے
تمھارے غم کا مجھے درد بے سبب تو نہیں
مری حیات بہت سوگوار گزری ہے
وہ ایک رات کہ جَب رَوشنی علیل رہی
وہ ایک رات بصد اِنتشار گُزری ہے
مِری نگاہ بُہت حق پسند ہے شاید
کبھی کبھی مُجھے خود ناگوار گزری ہے
مزاج حُسن بہ تمثیلِ برق کیوں ہے، شکیبؔ
صداے درد تھی سیماب وار گُزری ہے
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s