نظر ہی سے ساقی شراب اٹھتے اٹھتے

یہ کہتا ہے خانہ خراب اٹھتے اٹھتے
نظر ہی سے ساقی شراب اٹھتے اٹھتے
گھٹا جیسے گِھر آئے ماہِ جبیں پر
گری اس طرح سے نقاب اٹھتے اٹھتے
ذرا فلسفہ زندگی کا سمجھتے
کدھر چل دیے یہ حُباب اٹھتے اٹھتے
ابھی سے اٹھائیں تو شاید اُٹھیں گے
قیامت میں مستِ شراب اٹھتے اٹھتے
شبِ وصل بیٹھے ہیں محجوب سے وہ
اٹھے گا مگر یہ حجاب اٹھتے اٹھتے
شکیبؔ! آزمانے کو کشتی کی جرأت
بھنور بن گئی موجِ آب اٹھتے اٹھتے
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s