میں خوش ہوں اس لیے کہ کوئی مہرباں نہیں

بے جا نوازشات کا بارِ گراں نہیں
میں خوش ہوں اس لیے کہ کوئی مہرباں نہیں
آغوشِ حادثات میں پائی ہے پرورش
جو برق پُھونک دے، وہ مرا آشیاں نہیں
کیوں ہنس رہے ہیں راہ کی دشواریوں پہ لوگ؟
ہوں بے وطن ضرور مگر بے نشاں نہیں
گھبرائیے نہ گردشِ ایّام سے ہنوز
ترتیبِ فصلِ گُل ہے یہ دورِ خزاں نہیں
کچھ برق سوز تنکے مجھے چاہئیں، شکیبؔ
جھک جائیں گُل کے بار سے وہ ڈالیاں نہیں
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s