موجِ خرامِ عید

عید آئی تو یاد آنے لگے

دُور کے چاند‘ روشنی کے داغ

پیار کے پُھول‘ دوستی کے داغ

ہجر کے گیت‘ خامُشی کے داغ

نِت نئے زخم مُسکرانے لگے

زخم ناداریِ گُلستاں کے

زخم پُرکاریِ نگہباں کے

زخم غم خواریِ بیاباں کے

سیکڑوں تیِر اک رگِ جاں ہے

عِید بھی کیا بہار ساماں ہے

شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s