منقبت

ہو کہکشاں سے سوا کیوں نہ خاکِ کو ئے علیؑ

جما لِ آ یہء حق ہے جمالِ رو ئے علیؑ

علی ؑکے دستِ تصرّف میں کبریا کی رضا

وہ کبر یا کا عدو ہے جو عدوئے علیؑ

رسول نے جو سنی ہفت آسماں سے پرے

وہ گفتگو ئے خدا تھی کہ گفتگو علیؑ

نثار با غِ جنا ں تجھ پہ اے دیا رِ نجف

کہ تیری خا ک سے آتی ہے مجھ کو بو ئے علیؑ

امیرِ وقت کو کیا آ پڑی کو مشکل

کہ ہو رہی ہے مدینے میں جستجو ئے علی ؑ

قضا نے وار کیا بھی تو پشتِ سر پہ کیا

کسے مجال تھی آتا جو رُو بہ رُو ئے علیؑ

نہ شاہِ کشورِ نغمہ نہ تاج وارِ سخن

مگر شکیبؔ کو کہیے گدا ئے کو ئے علیؑ

شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s