مدہوش نہیں تشنہ بہ لَب سوچ رہے ہیں

محجوب ہے کیوں بنتِ عَنَب سوچ رہے ہیں
مدہوش نہیں تشنہ بہ لَب سوچ رہے ہیں
بُجھتی ہوئی شمعوں کا دھواں ہے سرِ محفل
کیا رنگ جمے آخرِ شب سوچ رہے ہیں
ٹوٹے ہوئے پتّوں کو درختوں سے تعلّق؟
ہم دُور کھڑے شہرِ طرب سوچ رہے ہیں
تبدیلیِ حالات نے بَدلے ہیں خیالات
پہلے نہیں سوچا تھا جو اب سوچ رہے ہیں
ہم ابھرے بھی، ڈوبے بھی سیاہی کے بھنور میں
ہم سوئے نہیں شب، ہمہ شب سوچ رہے ہیں
ایمان کی شہ رگ ہُوں میں اِنسان کا دل ہوں
کیا آپ مرا نام و نَسَب سوچ رہے ہیں
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s