غم بہ اندازِ شادکامی ہے

قہقہہ آنسوؤں کا حامی ہے
غم بہ اندازِ شادکامی ہے
راہ دشوار ہے نہ منزل دور
جذبہِ رَہ روی میں خامی ہے
وقت کی قید، خواہشوں کے جال
زیست کچھ بھی سہی، غلامی ہے
حُسنِ احساس حُسن کا ہے طِلسم
عشق نظروں کی شادکامی ہے
آپ میں گر وفا نہیں تو کیا
چاند میں بھی تو ایک خامی ہے
ہر گھڑی کچھ نزاکتوں کا خیال
یہ محبت بھی اک غلامی ہے
اب شکیبؔ! آنسوؤں کو پی جاؤ
غم کی معراج شادکامی ہے
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s