غزل گو شکیب جلالی از پروفیسر اسلوب احمد انصاری

وہ راگ خاموش ہو چکا ہے ‘ سنانے والا بھی سو چکا ہے

لرز رہے ہیں مگر ابھی تک شکستہ بربط کے تار دیکھو

شکیب جلالی اردو شاعری کے افق پر شہاب ثاقب کی طرح نمودار ہوئے ‘ اور پھر دیکھتے دیکھتے نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ دور جدید میں ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں میں غزل کے سرمایے میں جن شاعروں نے اضافہ کیا ‘ یعنی اس کے رنگ و آہنگ و کیف و کم میں معتد بہ تبدیلی پیدا کی ‘ ان میں شکیب جلالی اہم حیثیت کے مالک ہیں۔ ان کی غزلیں جو تعداد میں بہت زیادہ نہیں ہیں ‘ ان کی گھائل شخصیت کا بے حجاب عکس ہیں۔ غزل کی شاعری بیش از بیش داخلیت کے ترنم کی شاعری ہے۔ یعنی فکر سے زیادہ جذبے کی شاعری۔ اس جذبے کو جس طرح نکھار کر اور اس کے متضاد اور متنوع پہلوؤں کو جس طرح کھنگال کر شکیب جلالی نے پیش کیا ہے‘ کم شعرا نے کیا ہو گا۔ وہ اس کائنات میں ایک بھٹکی ہوئی‘ درماندہ اور اپنے آپ سے متصادم روح کی طرح اپنی غزلوں میں ہمارے رو برو آتے ہیں۔ ان کا تعلق انسانی معاشرے سے اتنا گہرا نہیں ہے ‘ جتنا فطری کائنات سے ہے‘ جس کی ہرہر لرزش اور ہر ہر آہٹ انھیں چونکا دیتی ہے۔ تنہائی کا آسیب انھیں ہر طرف سے گھیرے رہتا ہے۔ شکیبؔ کے ہاں ترصیع یعنی ARTIFICE کا مظاہرہ نہیں ہے۔ اپنے خیالات کا اظہار کم سے کم شعوری کوشش کے ساتھ ان کا مطمع نظر معلوم ہوتا ہے۔ شکیبؔ اپنے محاکات گرد و پیش کی دنیا سے اخذ کرتے ہیں ‘ جس سے ان کا تعلق گہرا اور قریبی نظر آتا ہے۔ کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپنے غم خانہِ دل سے نظریں ہٹا کر وہ اس وسیع فطری کائنات کی روشنی اور تیرگی‘ اس کے شمس و قمر ‘ اس کی ادلتی بدلتی فضاؤں میں سانس لے کر ہی وہ اپنی عافیت کے جویا ہیں۔ انسان اور فطری کائنات کے مابین ہم آہنگی کا احساس مختلف طریقوں اور زاویوں سے ہوتا رہتا ہے۔ یہ صرف محاکات کی تخلیق تک محدود نہیں۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہو گا کہ فطری کائنات کے بے داغ حُسن اورمتلون اظہارات کا عکس بھی ان کے ہاں ملتا ہے‘ اور اس کی تنزیہی قوت کی طرف بھی ہماری توجہ کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اجمال کے طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ شاعر کو اپنی تنہائیوں کے زنداں خانے میں ایک مانوس آواز سننے کی خواہش رہ رہ کر محسوس ہوتی رہتی ہے کہ اس کے در و دیوار اسے ایک ناقابل برداشت بوجھ لگتے ہیں۔ کیا اس در و دیوار کے پس پشت بھی کچھ ہے‘ جس کی طرف وہ آس لگائے بیٹھا ہے؟اگر انسان کی آواز اس کی مونس و غم خوارنہیں ہے‘ تو کیا پوری فطری کائنات کی آوازیں گونگی ہو گئی ہیں ؟ اس کا دل چاہتا ہے کہ کم از کم ان سایوں کو پکڑنے اور اپنی گرفت میں لانے کی کوشش کرے‘ جو اس بے حس اور غیر ہمدردانہ معاشرے میں ہمہ وقت اس کا پیچھا کرتی رہتی ہیں :

ستارے سسکیاں بھرتے تھے‘ اوس روتی تھی

فسانہِ جگرِ لخت لخت ایسا تھا

میں لَوٹ آیا ہوں خاموشیوں کے صحرا سے

وہاں بھی تیری صدا کا غبار پھیلا تھا

وہ اس کا عکسِ بدن تھا کہ چاندنی کا کنول

وہ نیلی جھیل تھی یا آسماں کا ٹکڑا تھا

خزاں کے چاند نے پوچھا یہ جھک کے کھڑکی میں

کبھی چراغ بھی جلتا ہے اس حویلی میں

شکیبؔ کو اس بات کا احساس ہے کہ اشیاء کے بارے میں اس کی فہم اور درّاکی اتنی دور رس ہے کہ وہاں تک پہنچنا اور اس کی ہمنوائی کرنا آسان کام نہیں۔

چلو گے ساتھ مرے آگہی کی سرحد تک

یہ رہ گزار اترتی ہے گہرے پانی میں

اور یہ شعور اور آگہی دور رس ہی نہیں ‘ بلکہ اس کا اپنا تشخص اور اس کے طبعی التزامات وقت کی پابندیوں سے ماوراء ہیں :

فصیل جسم پہ تازہ لہو کے چھینٹے ہیں

حدودِ وقت سے آگے نکل گیا ہے کوئی

بہ الفاظِ دیگر وقت و مقام کی حد بندیاں احساسات اور جذبات کی وسعتوں کو قید نہیں کر سکتیں۔ دو شعر جن میں سے پہلا ذہن کو ایک طرح کی زیر زمین مایوسی اور اضمحلال کے احساس سے بھر دیتا ہے‘ اور دوسرا جس میں تنہائی کی خاموشی کو ایک زبان دے دی گئی ہے‘ اس طرح ہیں :

کمرے خالی ہو گئے سایوں سے آنگن بھر گیا

ڈوبتے سورج کی کرنیں جب پڑیں دالان پر

وہ خموشی انگلیاں چٹخا رہی تھی اے شکیبؔ

یا کہ بوندیں بج رہی تھیں رات روشن دان پر

دوسرے شعر میں استعارے کا استعمال نہ صرف خموشی کی تجسیم کر دیتا ہے ‘ بلکہ محیط خاموشی کے احساس کو شعور پر مرتسم بھی کر دیتا ہے۔ ایک شعر میں خارجی اور داخلی حقیقت کو اس طرح پہلو بہ پہلو رکھا گیا ہے :

تارا کوئی ردائے شبِ ابر میں نہ تھا

بیٹھا تھا میں اداس بیابانِ یاس میں

دو اور اشعار میں دو مختلف النوع حقیقتوں کو اس طرح بالمقابل رکھ دیا گیا ہے:

سایہ نہیں تھا نیند کا آنکھوں میں دور تک

بکھرے تھے روشنی کے نگیں آسماں پر

اس کے پردوں پہ منقش تری آواز بھی ہے

خانہِ دل میں فقط تیرا سراپا ہی نہیں

یہاں دونوں شعروں میں بصری اور سماعی پیکروں کو بڑی ہنر مندی سے یکجا کیا گیا ہے

تنہائی کا وہ احساس جس کا سرسری ذکر اوپر گزرا ‘ ایک غزل کے دو اشعار میں اس طرح معرض اظہار میں لایا گیا ہے:

جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے

مری طرح سے اکیلا دکھائی دیتا ہے

یہ ایک ابرکا ٹکڑا کہاں کہاں برسے

تمام دشت ہی پیاسا دکھائی دیتا ہے

ان دونوں اشعار میں سادگی کے ساتھ پرکاری اور رمزیت آمیز کر دی گئی ہے۔ ایک پوری غزل میں جو اس شعر سے شروع ہوتی ہے:

پھر سن رہا ہوں گزرے زمانے کی چاپ کو

بھولا ہوا تھا دیر سے میں اپنے آپ کو

حافظے میں مجتمع یادوں کو تازہ کرنے کا عمل صاف نظر آ رہا ہے۔

اشکوں کی ایک نہر تھی سو خشک ہو گئی

کیوں کرمٹاؤں دل سے ترے غم کی چھاپ کو

اور بہت سے دوسری غزلوں کی طرح یہاں بھی محیط یا PERVESIVE تنہائی کا احسا س اور اس کی وجہ سے اندوہ گینی غزل کی پوری ہئیت پر صاف طور سے نمایاں ہے۔ قابلِ ذکر امر یہ بھی ہے کہ مقطع سے پہلے کا شعر ‘ جو روایتی انداز کا ہے‘ ہماری توجہ کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے‘ اور وہ روایت بھی ہے جرأت ایسے شاعر کی‘ جس کی شاعری بالعموم جسم کی شاعری ہے‘ اور وہ شعر یہ ہے:

پہلے تو میری یاد سے آئی حیا انھیں

پھر آئینے میں چوم لیا اپنے آپ کو

ایک غیر معمولی غز ل میں جس کا مطلع ہے:

مُرجھا کے کالی جھیل میں گرتے ہوئے بھی دیکھ

سورج ہوں میرا رنگ مگر دن ڈھلے بھی دیکھ

یہاں نکلتے اور ڈوبتے سورج کے درمیان امتیاز انسان کی IDEALIZED فارم اور اس کی مسخ شدہ ہیئت کے درمیان تضاد ہے۔ پوری غزل پر از اول تا آخر فنا اور پراگندگی کا گاڑھا رنگ چڑھا ہوا ہے۔ انسان کی بے بضاعتی کو اس طرح روشنی میں لایا گیا ہے۔

عالم میں جس کی دھوم تھی اس شاہکار پر

دیمک نے جو لکھے کبھی وہ تبصرے بھی دیکھ

بچھتی تھیں جس کی راہ میں پھولوں کی چادریں

اب اس کی خاک گھاس کے پیروں تلے بھی دیکھ

ان اشعار کو پڑھ کر ذہن شکسپیر کے لافانی شاہکار ڈرامے ہملیٹ کی طرف جاتا ہے ‘ جس میں انسان کی افضلیت کا ذکر بھی کیا گیا ہے ‘ اور اس کے ساتھ ہی بالآخر اس کے انجام کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے‘ جو اس کے لیے مقدر ہے‘ اور جس سے کسی بھی طرح مفر ممکن نہیں۔ اس تراشے کی پہلی اور آخری سطریں اس طرح ہیں :

WHAT A PIECE OF WORK IS A MAN

WHAT IS THIS QUINTESSENCE OF DEATH?

لیکن ان پرچھائیوں کے علی الرغم جوپوری فضا کو محیط ہیں ‘ کہیں کہیں بس ایک لمحے کے لیے روشنی کی ایک لرزیدہ کرن بھی نظر پڑ جاتی ہے‘ جو اس اندھیرے کو سراب کا درجہ دینے پر پڑھنے والے کو مجبور کرتی ہے۔ ایسا کم ہی ہوتا ہے‘ لیکن ہوتا ضرور ہے۔ اس اجمال کی ایک غزل کے چند اشعار میں دیکھئے:

اتریں عجب روشنیاں رات خواب میں

کیا کیا نہ عکس تیر رہے تھے سراب میں

پھر تیرگی کے خواب سے چونکا ہے راستہ

پھر روشنی سی دوڑ گئی ہے سحاب میں

کب تک رہے گا روح پہ پیراہنِ بدن

کب تک ہوا اسیر رہے گی حباب میں

گزری ہے بار بار مرے سر سے موجِ خشک

ابھرا ہوں ڈوب ڈوب کے تصویر آب میں

شکیب جلالی افتادگی اور سرافگندگی تو شاید از اول تا آخر کہیں بھی نظر نہ آئے گی۔ لیکن ایک غزل میں جس کے پہلے دو شعر یہ ہیں :

اب آپ رہِ دل جو کشادہ نہیں رکھتے

ہم بھی سفرِ جاں کا ارادہ نہیں رکھتے

پینا ہو تو اک جرعہِ زہراب بہت ہے

ہم تشنہ دہن تہمتِ بادہ نہیں رکھتے

سرتابی اور سرکہ جبینی کا دبا دبا انداز خاص طور سے قابل التفات ہے خصوصاً یہ شعر دیکھئے:

یہ گردِ رہِ شوق ہی جم جائے بدن پر

رسوا ہیں کہ ہم کوئی لبادہ نہیں رکھتے

اور مقطع میں یہ رویہ اور انداز زیادہ واضح اور ناقابل تردید بن گیا ہے:

سرخی نہیں پھولوں کی تو زخموں کی شفق ہے

دامانِ طلب ہم کبھی سادہ نہیں رکھتے

اور پھر ایک جگہ یہ بھی کہا:

کتنی گم سم مرے آنگن سے صبا گزری ہے

اک شرر بھی نہ اڑا روح کی خاکستر سے

ایک غزل میں ایک شعر میں بہ اظہار رائے کہا ہے:

بیتی یادوں کا تقاضا تو بجا ہے‘ لیکن

گردشِ شام و سحر کیسے کوئی ٹھیرا دے

لیکن یادوں کی باز آفرینی عبث نہیں ‘ نہ یہ گردشِ شام و سحر کو ٹھیرا دینے کے مترادف ہے‘ بلکہ یہ تسلسلِحیات میں یقین کی علامت ہے اور اس میں شکستگی کے احساس کے بجائے دلدہی اور زندگی کے کاروبار کو نئے سرے سے منضبط کرنے کا جواز اور موقع نکلتا ہے۔ یاد میں خواب بھی ہیں اور عزمِ سفر پر نکلنے کے لیے نئے سرے سے آمادہ بھی کرتی ہیں ‘ ایک غزل جس کا مطلع ہے :

دستکیں دیتی ہیں ‘ شب کو درِدل پر یادیں

کچھ نہیں ہے مگر اس گھر کا مقدر یادیں

یہ شعر خاص طور سے قابلِتوجہ ہے:

عشرتِ رفتہ کو آواز دیا کرتی ہیں

ہر نئے لمحے کی دہلیز پہ جا کر یادیں

اور غزل کا اتمام ہوتا ہے اس شعر پر :

مشعلِ غم نہ بجھاؤ کہ شکیبؔ اس کے بغیر

راستہ گھر کا بھلا دیتی ہیں اکثر یادیں

شکیبؔ کے ہاں غزلِ مسلسل کی ایک غزل کا مطلع ہے:

آئینہ جذباتِ نہاں ہیں تری آنکھیں

اِک کار گہِ شیشہ گراں ہیں تری آنکھیں

اس غزل پر جس کی ردیف ہے ‘ تری آنکھیں ‘ غزلِ مسلسل کا گماں اس لیے ہوتا ہے کہ اس میں ایک مفہوم یا نقش یا تاثر کے مختلف پہلوؤں کو نوع بہ نوع انداز سے سامنے لایا گیا ہے۔ تین شعر خاص طور سے اس ذیل میں جاذب نظر ہیں :

اندازِ خموشی میں ہے گفتار کا پہلو

گویا نہ سہی‘ چپ بھی کہاں ہیں تری آنکھیں

جاؤں گاکہاں توڑ کے زنجیرِ وفا کو

ہر سو مری جانب نگراں ہیں تری آنکھیں

پلکوں کے جھروکوں سے سبو جھانک رہے ہیں

امید گہٖ تشنہ لباں ہیں تری آنکھیں

سات اشعار پر مشتمل اس غزل میں جو تفصیلات سامنے رکھی گئی ہیں ‘ وہ سب مل کر ایک پوری تصویر کو نظروں کے سامنے ابھار دیتی ہیں۔ اس غزل کا تعلق بھی بالواسطہ طور پر اس غزل سے ہے ‘ جس میں ماضی کی یادوں کی تشکیلِ نو کی گئی ہے۔ یادداشتوں کوتازہ دم کرنے کا عمل ایک اور غزل میں بھی‘ جس کا مطلع ہے:

پردہِ شب کی اوٹ میں زہرہ جمال کھو گئے

دل کا کنول بجھا تو شہر تیرہ و تار ہو گئے

یہ خوبی نمایا ں ہے۔ خاص طور پر ان دو اشعار میں جن میں ماضی کے تجربات کو آوازِ باز گشت دی جا رہی ہے‘ اور ان کے تعامل کے نتیجے کو بہ ایں طور پیش کیا گیا ہے:

اک ہمیں ہی اے سحر نیند نہ آئی رات بھر

زانوئے شب پہ رکھ کے سر‘ سارے چراغ سو گئے

دیدہ ورو بتائیں کیا تم کو یقیں نہ آئے گا

چہرے تھے جن کے چاند سے ‘ سینے میں داغ بو گئے

اس پوری غزل میں تلخی کی جو کسک ہے‘ وہ بہت واضح ہے۔ اس کے اظہار کے لیے اظہارِ بیان کی چاشنی کی مطلق ضرورت نہیں۔ یہ سچے جذبے کی زبان ہے‘ جس میں تلخی کا رنگ بھرا ہوا ہے‘ جس کا برملا اظہار مقطع میں موجود ہے:

اہلِ جنوں کے دل شکیبؔ نرم تھے موم کی طرح

تیشہِ یاس جب چلا‘ تودہِ سنگ ہو گئے

ایک اور غزل کے ایک شعر میں تاثر کا براہ راست اظہار اس طرح کیا گیا ہے:

بے نغمہ و صدا ہے وہ بُت خانہِ خیال

کرتے تھے گفتگو جہاں پتھر کے ہونٹ بھی

اسی غزل میں ایک اور شعر:

یوں بھی بڑھی ہے وسعتِ ایوانِ رنگ و بو

دیوارِ گلستاں درِ زنداں سے جا ملی

ہمیں غالب کے اس شعر کی بے اختیار یاد دلاتا ہے:

کیوں نہ فردوس میں دوزخ کو ملا لیں یا رب

سیر کے واسطے تھوڑی سی فضا اور سہی

یہاں یہ اضافہ کیے بغیر نہیں رہا جا سکتا کہ غالب کے ہان اس شعر میں خیال کا جو تجمل یعنی SUBLIMITY اور اس کے اظہار میں جو فنی قدرت نمایاں ہے‘ وہ شکیبؔ کے ہاں نہیں ہے۔

ایک اور غزل جس کا مطلع ہے:

حسنِ فردا‘ غمِ امروز سے ضَو پائے گا

چاند ڈوبا ہے تو سورج بھی اُبھر آئے گا

یہ نہ صرف ایک نوع کی غزلِ مسلسل لگتی ہے بلکہ اس میں اور نظم کے بیانیہ انداز اور تسلسلِ خیال کے درمیان بس ذرا سا ہی فرق رہ گیا ہے۔ اب اس غزل کے ہر شعر کے مصرعِ ثانی پر نظر ڈالیے:

چاند ڈوبا ہے تو سورج بھی ابھر آئے گا

خاک ڈالے سے یہ شعلہ کہیں بجھ جائے گا

طائرِ دل پرِپرواز تو پھیلائے گا

آدمی عرصہِ آفاق پہ چھا جائے گا

وہ حسیں دور بھی آئے گا ‘ ضرور آئے گا

یہاں پیکر نگاری نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہاں امید آفرینی کے سامنے یاسیت اور قنوطیت سرنگوں ہو گئی ہیں۔ آدمی عرصہِ آفاق پر چھا جائے گا‘ اور‘ وہ حسیں دور بھی آئے گا‘ ضرور آئے گا‘ جیسے مصرعے مستقبل سے وابستہ امید آفرینی اور بہجت انگیزی کی ایک جھلک دکھا رہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ غزل کا شاعر نظم کے شاعرکے پہلو بہ پہلو بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں نئے سحر و شام کا استقبال کرنے کے لیے آمادہ اور مستعد ہے‘ لیکن یہ لمحات ایک عارضی وقفے کی یاددہانی کراتے ہیں کہ شکیبؔ بہر حال اپنے محیط موڈ کے تابع معلوم ہوتے ہیں۔ اور وہ موڈ عبارت ہے اپنے اندرون میں غوطہ زنی کرنے اور اپنے زخموں کی راکھ کریدنے سے۔ ان کے ارد گرد درو دیوار بھی احاطہ کیے ہوئے ہیں ‘ اور فضا میں الجھے ہوئے دھوئیں کا عکس بھی انھیں صاف صاف نظر آ رہا ہے۔ وہ بہار سے زیادہ خزاں کے مزاج سے اپنے آپ کو ہم آہنگ پاتے ہیں۔ ان کے لیے زندگی میں فرحت و انبساط اور سکون و قرار تقریباً ناپید ہیں ‘ کہ ہر شے پر خزاں کی افسردگی کا اضمحلال کا رنگ بھرا ہوا ہے اور شعلہ امید کی لَو کی تلاش میں باہر نکلنا ایک ضعیف اور غیر واضح سا خیال ہے۔

ایک غزل کے چار اشعار سے بھی یہی تاثر ابھر کر سامنے آتا ہے:

کچھ دن اگر یہی رہا دیوار و در کا رنگ

دیوار و در پہ دیکھنا خونِ جگر کا رنگ

بھولا نہیں ہوں مقتلِ امید کا سماں

تحلیل ہو رہا تھا شفق میں سحر کا رنگ

الجھے ہوئے دھوئیں کی فضا میں ہے اک لکیر

کیا پوچھتے ہو شمعِ سر رہگذر کا رنگ

دامانِ فصلِ گل پہ خزاں کی لگی ہے چھاپ

ذوقِ نظر پہ بار ہے برگ و ثمر کا رنگ

جیسی مہذب اور کڑھی ہوئی بُنت ان اشعار کی ہے‘ وہ شکیبؔ کی شعرانہ ہنر مندی پر دال ہے۔ وہ رہ رہ کر اپنے مخمصے سے دو چار ہوتے ہیں ‘ اوریہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی داخلی ‘ اندرونی کیفیت اور فضا کے رنگ و آہنگ کے درمیان ایک طرح کی مطابقت پائی جاتی ہے۔ اندیشوں اور وسوسوں میں گھری یہ زندگی کسی کشادگی یا ترخیص کی طرف اشارہ کرتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ ان کی شعری دنیا میں مکالمے یا گفتگو کے لین دین کے لیے بھی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ ایک طرفہ گفتگو ہے اور اس کا مورد و مخرج خو دشاعر ہی کی ذات ہے۔ شکیبؔ کے کسی بھی نقاد اور اور سوانح نگار نے ان کی دل گرفتگی کے اسباب پر روشنی ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔ یہ اسباب غالباً سیاسی اور سماجی مسائل سے دست و گریباں ہونے کے پیدا کردہ نہیں ہیں۔ ان میں زیادہ تر شائبہ ذاتی محرومیوں اور حق تلفیوں کے احساس کا ہو سکتا ہے۔ ان کے ہاں ذاتی جذبات اور رد عمل کا دباؤ شروع سے آخر تک محسوس ہوتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو یکہ و تنہا محسوس کرتے ہیں۔ ان کی کائنات میں پھیلنے اور نمو پانے کے امکانات بہت ہی کم نظر آتے ہیں ‘ سکڑنے اور سمٹنے کے نسبتاً زیادہ۔ ان کی شعرانہ اپچ آئندہ کیا نہج اختیار کرتی ‘ یہ قیاس آرائی نہایت دشوار ہے۔ تخیل کی فراوانی اور تخلیقی قوت کی دور رسی اور تازہ کاری بہرحال ایک بڑا اثاثہ ہے کہ اس کے ذریعے‘ بقول برطانوی رومانوی شاعر کیٹس‘ زندگی کے ناگوار اور بدخط کرنے والے حالات و حوادث یعنی DISAGREEABLES کو گوارا بنایا جا سکتا ہے۔ شکیب جلالی کے بارے میں آپ یہ کہنے میں حق بجانب نہیں ہو سکتے کہ انہوں نے محض اپنی زندگی کی تلخیوں پر اپنی شعری کائنات کی بنیاد رکھی ہے۔ انسان جس معاشرے میں زندگی گزارتا ہے ‘ اس سے تو یقینا بڑی حد تک وہ اثر پذیر ہوتا ہے لیکن برہنہ گوئی‘ چیخ پکار‘ براہ راست طرزِ تخاطب اور شعری شیوہِ گفتار میں بہرحال بہت بڑا فرق ہے۔ سینہ کوبی کسی بیان کو شعری رتبہ عطا نہیں کر سکتی۔ پھر یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ جذبات اور احساسات کی پیش کش میں کچا پن اور اکہرا پن ہے یا پختگی اور ثمر رسیدگی‘ کہ موخرالذکر ہی کے وسیلے سے زندگی اور تجربے کا خام مواد ایک جمالیاتی ہیٔت میں ڈھل سکتا ہے۔

شکیب جلالی کا شعری سرمایہ بہت مختصر ہے۔ لیکن ان مٹھی بھر غزلوں کے متن پر انفرادیت کا نقش مرتسم ہے‘ لب و لہجے کا ایک نیا قرینہ اور انداز۔ غزل کی روایت میں محبوب کا سراپا پیش کیا جانا بھی ایک ہنر سمجھا جاتا تھا۔ اب نظریں خارجی ہیٔت سے ہٹ کر اندرون پر گاڑی جانے لگی ہیں۔ اور عاشق اور محبوب ایک دوسرے سے الگ رہنے کی بجائے یا تو ایک دوسرے سے متصادم نظر آتے ہیں یا ایک دوسرے میں مدغم۔ کیوں کہ شخصیت اور انفرادیت کا تصور اب یکسر بدل گیا ہے۔ روایتی غزل میں ان کا منصب اور اہمیت علاحدہ علاحدہ تھی اور وہ کبھی بھی ایک دوسرے سے آنکھ ملا کر نہیں دیکھ سکتے تھے۔ شکیب جلالی کی غزلوں میں ہمیں ایسی شوخ و شنگ تصویریں نہیں ملتیں جن کی خیرگی نظروں میں چکا چوند پیدا کرے۔ بلکہ یہاں ایک درماندگی کی سی کیفیت ہے۔ اپنے اندرون میں جھانکنے اور اپنے آپ کو ٹٹولنے کی مسلسل ریاضت اور جدوجہد۔ شکیبؔ نہ ہمیں اپنے تجربات اور یادوں میں شریک ہونے اور ان کا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتے ہیں اور نہ کسی کی ہمدردی حاصل کرنے کا انھیں کوئی شوق۔ وہ بس مختلف سیاق و سباق میں اپنے تجربات کی نقش گری کر کے رخصت ہو جاتے ہیں۔ انھیں کسی کی EMPATHY درکار نہیں ‘ نہ وہ اس کے آرزو مند ہیں ‘ اور نہ اس کی عدم فراہمی اور عدم دستیابی کے

شکوہ سنج۔ یہ کہنا بھی صحیح نہ ہو گا کہ انہوں نے کوئی نگار خانہ سجایا یا ترتیب دیا ہے یہ غزلیں تو ایک اداس راگنی کے مختلف اجزا اور عناصر ہیں۔ ان میں ایسی باہمی وحدت اور یک رنگی ہے جو انھیں ملا کر دیکھنے سے ایک جمالیاتی تجربہ معلوم ہوتی ہے۔ کاش ان کی عمر وفا کرتی اور ان کے بربط سے اور بھی دلکش اور دلنواز نغمے نکلتے رہتے۔ 1/1/2004

شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s