عشق کا احترام کرتے ہیں

وہ نظر سے سلام کرتے ہیں
عشق کا احترام کرتے ہیں
اس قدر وہ قریب ہیں مجھ سے
بے رُخی سے کلام کرتے ہیں
جن سے پردہ پڑے تعلّق پر
ایسے جلووں کو عام کرتے ہیں
منزلیں تو نشانِ منزل ہیں
راہ رَو کب قیام کرتے ہیں
غمِ دوراں سے بھاگنے والے
مے کدے میں قیام کرتے ہیں
اہلِ طوفاں جُمودِ ساحل کو
دور ہی سے سلام کرتے ہیں
کِھنچ کے منزل، شکیبؔ، آتی ہے
خود کو جب تیز گام کرتے ہیں
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s