طلوعِ سحر

فروغِ سُنبل و ریحاں کا وقت آپہنچا

اُٹھو کہ جشنِ بہاراں کا وقت آپہنچا

پگھل رہے ہیں گراں بار شب کدوں کے ستون

طلوعِ مہرِ درخشاں کا وقت آپہنچا

کوئی حسین سی تعبیر ڈھونڈ کر لاؤ

شکستِ خوابِ پریشاں کا وَقت آپہنچا

شبِ فراق کٹھن تھی مگر تمام ہوئی

وصالِ مہر جبیناں کا وقت آپہنچا

چلو چلو کہ بگولوں کا رقص ختم ہوا

طوافِ کوُچہِ جاناں کا وقت آپہنچا

دلوں کے داغ چھپاؤ‘ ہنسی کو عام کرو

شکستِ کُلفتِ دَوراں کا وقت آپہنچا

مرے رفیقو! ہنسو اور خوب کُھل کے ہنسو

نمایش لب و دنداں کا وقت آپہنچا

صنم کدوں کے درو بام سر بہ سجدہ ہیں

عُروجِ حضرتِ انساں کا وقت آپہنچا

نشانِ عظمتِ جمہور پھر بلند کرو

زوالِ سطوتِ شاہاں کا وقت آپہنچا

شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s