صندل کے جنگلوں کی ہوا یاد آ گئی

اس گُل بدن کی بُوئے قبا یاد آ گئی
صندل کے جنگلوں کی ہوا یاد آ گئی
یہ کون زندگی میں نشہ گھولنے لگا
کس کی اداے ہوش رُبا یاد آ گئی
یاد آگئے کسی کے تبسّم تراش لب
کِھلتے ہوئے کنول کی ادا یاد آ گئی
پھر دل کی دَھڑکنوں نے بِچھائی بِساطِ رقص
پھر وہ نگاہِ نغمہ سرا یاد آ گئی
گھبرا کے چاند چھپ گیا بادل کی اوٹ میں
بے ساختہ وہ جانِ حیا یاد آ گئی
تنہائیوں کی گونج نے جب بھی دیا فریب
مجھ کو شکستِ دل کی صدا یاد آ گئی
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s